Baaghi TV

Blog

  • چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن تقسیم، سراج الحق نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں کیا کہا؟

    چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن تقسیم، سراج الحق نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں کیا کہا؟

    چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن ایک بار پھر تقسیم ہو گئی، جماعت اسلامی نے قرارداد پر دستخط کرنے کے لئے منعقدہ اجلاس میں شرکت نہیں کی، جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے باغی ٹی وی سی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آبائی علاقے دیر میں ہوں، اجلاس میں نہیں جا رہا،

    چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کب آئے گی،رہبر کمیٹی نے کر لیا فیصلہ

    آج کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ شہباز شریف کی کمر میں درد ہے، مبشر لقمان نے ایسا کیوں کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے لئے سینیٹرز کمیٹی روم پہنچنا شروع ہو گئے ہیں . چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے حوالے سے قرارداد جمع کروانے کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز کا اجلاس آج ہورہا ہے، اجلاس کے لئے سینیٹر کمیٹی روم پہنچنا شروع ہو گئے ہیں .اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کوعہدے سےہٹانے کی قرارداد پردستخط کیے جائیں گے .اجلاس میں ن لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی، نیشنل پارٹی، پختونخواملی عوامی پارٹی، جے یو آئی ف کے ارکان شریک ہیں.

    نیا چیئرمین سینیٹ کون ہو گا؟ صحافی کے سوال پر آصف زرداری نے دل کی بات بیان کر دی

    چیئرمین سینیٹ کو ہٹائے جانے کے حوالہ سے منعقدہ اجلاس میں راجہ ظفرالحق،مشاہد اللہ خان،رحمان ملک،سسی پلیجو ، پرویزرشید،ستارہ ایاز،میرکبیر،بہرمند خان تنگی،مولانا عطاالرحمان اوردیگر سینٹرزبھی شریک ہیں.

    اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں جماعت اسلامی نے ایک بار پھر اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپوزیشن کے آج کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے کیونکہ وہ آبائی علاقہ دیر میں ہیں. باغی ٹی وی کی جانب سے دوسرے سوال کہ کیا آپ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دیں گے ؟ پر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے. جب چیئرمین سینیٹ کے نئے امیدوار کا نام سامنے آئے گا تو پھر ہم مشاورت کے ساتھ فیصلہ کریں گے.

     

    واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ ہوا تھا اور رہبر کمیٹی نے اس فیصلے کی توثیق کی تھی .اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں بھی جماعت اسلامی نے شرکت نہیں کی تھی .

    چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے پاس مطلوبہ اکثریت سے زائد کی تعداد موجود ہے، 104 رکنی ایوان میں سینیٹرز کی موجودہ تعداد 103 میں سے چیئرمین کی نشست کے لئے 53 ارکان کی حمایت درکارہے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کی تعداد 28، پیپلز پارٹی کے 20، نیشنل پارٹی کے 5، جمعیت علماء اسلام ف کے 4، پختونخوا میپ کے 2 اور اے این پی کا ایک رکن شامل ہے۔ ایوان بالا کے قواعد کے مطابق موجودہ چیئرمین (صادق سنجرانی ) کو ہٹانے کے لئے ایک چوتھائی ارکان کے دستخطوں کے ساتھ قرارداد لانے کے لئے تحریک جمع کرائی جائیگی۔ تحریک پر ووٹنگ کے لئے سات روز بعد اجلاس بلایا جائے گا جس میں قرارداد پر ووٹنگ کرائی جائے گی، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں موجودہ چیئرمین عہدہ چھوڑ دیں گے اور اس کے بعد سینیٹ سیکرٹریٹ نئے چیئرمین کے انتخاب کے لئے شیڈول جاری کرے گا۔

  • شندور پولومیچ فائنل چترال نے جیت لیا

    شندور پولومیچ فائنل چترال نے جیت لیا

    شندور پولومیچ فائنل چترال نے جیت لیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شندور پولو فائنل میچ میں چترال نے گلگت کو 5 کے مقابلے میں 6 گول سے ہرا کر فاٸنل اپنے نام کر لیا۔دنیا کے بلند ترین میدان شندور میں 3 روزہ پولو فیسٹول جاری رہا جو آج اختتام پذیر ہو گیا

    بارہ ہزار فٹ پر واقع دنیا کے بلند ترین گراونڈ شندور میں تین روزہ فری اسٹائل پولو ٹورنامنٹ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ آج چترال اور گلگت کی ٹیموں کے مابین پولو میچ کھیلا گیاجو چترال نے جیت لیا۔ بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان گراونڈ میں ثقافتی رنگوں سے سجے اس میلے نے سب کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا ۔ سیاحوں کی بڑی تعداد شندور میں موجود رہی۔

    سالانہ فیسٹول میں شرکت کیلئے دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح شندور کا رخ کرتے ہیں۔ پولو کے علاوہ دیگر روایتی کلچرل شو بھی منعقد کیے جارہے ہیں۔ خطروں کے کھلاڑی پیراگلائیڈرز

  • مریم نواز ،جج ارشد ملک ویڈیو‌لیک سکینڈل،پاکستان بار کونسل کی چیف جسٹس سےسوموٹو ایکشن کی درخواست

    مریم نواز ،جج ارشد ملک ویڈیو‌لیک سکینڈل،پاکستان بار کونسل کی چیف جسٹس سےسوموٹو ایکشن کی درخواست

    اسلام آباد:مریم نواز کی طرف سے جج ارشد ملک کی ویڈیو لیک کا معاملہ شدت اختیار کرگیا ہے .اس معاملے کی تحقیقات کے لیے دیگراداروں کی طرح پاکستان بار کونسل نے بھی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے .پاکستان بار کونسل نے اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا از خود نوٹس لیں اور قوم کے سامنے حقائق پیش کیے جائیں.بار کے تمام اراکین کو ارسال کئے گئے خط میں ایڈوکیٹ راحیل کامران شیخ نے کونسل کو تجویز دی کہ چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی درخواست کی جائے جس کی سماعت سپریم کورٹ کا لارجر بینچ کرے۔

    خط میں کہا گیا کہ اس قسم کے واقعات سے ملک کے عدالتی نظام کی سالمیت اور کریڈیبلٹی پر سوال اٹھ جاتے ہیں جس سے یہی تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ عدلیہ کا ادارہ کمزور ہے جس پر کنٹرول کی جاسکتا ہے۔خط کے مطابق پی بی سی سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن بھی دائر کرے گی جس میں احتساب عدالت کے جج کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کے احکامات کی درخواست کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ہفتے کے حوالے سے مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا دینے کے لیے انہیں بلیک میلنگ کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

    احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے بذاتِ خود ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں بلیک میلنگ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ویڈیو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔اس کے علاوہ جج نے اس اقدام کے پسِ پردہ عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ویڈیو نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ مختلف مواقعوں پر ہونے والی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا

  • اراکین الیکشن کمیشن کی تقرری، قریشی غلطی تسلیم کریں، خورشید شاہ

    اراکین الیکشن کمیشن کی تقرری، قریشی غلطی تسلیم کریں، خورشید شاہ

    الیکشن کمیشن کے اراکین کی تعیناتی پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری پر اتفاق نہیں ہو سکا. پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا موقف تھا کہ ان ناموں پر غور کیا جائے جو پہلے بھجوائے گے .

    بچہ بچہ سمجھتا ہے،ویڈیو کے بعد سچ باہرآ گیا ،خورشید شاہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی تقرری کے لئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا، اجلاس میں حکومت و اپوزیشن میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا.

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا موقف تھا کہ ان ناموں پر غور کیا جائے جو پہلے بھجوائے گے، دوبارہ حکومتی نام وزیر اعظم نے بھجوائے ،خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی صفوں میں ہی اتفاق نہیں ،نام ہٹا کر نئے نام بھجوائے گے ،اپوزیشن نےشاہ محمود قریشی کے نام کمیٹی میں شامل کیے ،ممبر سندھ کیلیےعظیم قریشی ،جسٹس(ر)عبدالرسول میمن،جسٹس(ر) نور الحق قریشی شامل تھے ،ممبر بلوچستان کیلیے ڈاکٹر صلاح الدین مینگل ،محمود رضا خان اور راجہ عامر عباس تھے

    عمران خان بسم اللہ پڑھ کر بھی جھوٹ بولتے ہیں، خورشید شاہ

    انتقامی کارروائیوں سے پیپلزپارٹی کمزورنہیں ہوگی: خورشید شاہ

    حکومت چلانا سیلکٹڈ شخص کا کام نہیں،سمندر سے تیل کی بجائے عوام کا تیل نکال دیا .خورشید شاہ

    خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے بڑا فورم نہیں،20 کروڑ عوام کی نمایندگی کرتی ہے، کمیٹی میں ملک کے لیے بہتر فیصلوں کی توقع ہوتی ہے،الیکشن کمیشن ممبران تعیناتی پر کمیٹی کا اتفاق نہ ہو سکا،پارلیمنٹ ،جوڈیشری کے بعد الیکشن کمیشن بڑا ادارہ ہے،الیکشن کمیشن جمہوریت کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،الیکشن کمیشن میں وہ لوگ جائیں جن کو حکومت اور اپوزیشن تسلیم کرے ،11 مارچ میں حکومت کی طرف سے اپوزیشن لیڈر کو بھجوایا گیا خط ہمیں ملا ،حکومت اراکین نے اس لیٹر اور نام کو ماننے سے انکار کر دیا،ناموں پر ووٹنگ میں اپوزیشن کے6اور حکومت کے5 ووٹ ملے ، اپوزیشن کے جسٹس عبدالرسول میمن کو 6ووٹ ملے ،حکومت ہر مسئلے اور ادارے میں الجھن پیدا کر رہی ہے ،نام بھجوانا وزیراعظم کا حق ہے،شاہ محمود قریشی اپنی غلطی تسلیم کریں ،تو ہم نام واپس لے لیں گے

    خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کہہ دیں کہ جرم میرا تھا تو اپوزیشن پیچھے ہٹ جائے گی .

    وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کمیٹی اجلاس کے بعد کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ناموں پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، کمیٹی منٹس سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے گا۔ جب حکومت اوراپوزیشن کی جانب سےنام آجاتے ہیں توتبدیل نہیں کیے جا سکتے .اپوزیشن کی فرمائش پرہم نے انکے تجویزکردہ ایک نام کی تبدیلی کوتسلیم کیا، شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ممبرکی تعیناتی کےلیےدوتہائی ارکان کامتفق ہوناضروری ہے،میرے ووٹ کو ملا کر حکومت کے بھی چھ ووٹ تھے ،اپوزیشن نے بطور چیئرپرسن میرے ووٹ کو تسلیم نہیں کیا ،حکومت اوراپوزیشن کےدرمیان چھ چھ ووٹوں کےساتھ ڈیڈلاک برقرارہے ،اب پارلیمانی کمیٹی کا کام ختم ہوگیا ہے ،ممبران الیکشن کمیشن کے معاملہ پروزیراعظم کورائے سے آگاہ کریگی

    واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اتفاق رائے سے 3 نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں، اتفاق رائے نہ ہو تو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر الگ الگ 3، 3 نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجواتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کم از کم دو تہائی اکثریت سے 6 میں سے ایک نام کا انتخاب کرسکتی ہے، پارلیمانی کمیٹی میں مجوزہ ناموں پر ڈیڈلاک پیدا ہو جائے تو آئین خاموش ہے۔

  • پشاور:تبدیلی اس کو کہتے ہیں!بی آر ٹی منصوبے کے تکمیل کی تاریخ‌میں‌ایک بار پھر تبدیلی نئی تاریخ سامنے آگئی

    پشاور:تبدیلی اس کو کہتے ہیں!بی آر ٹی منصوبے کے تکمیل کی تاریخ‌میں‌ایک بار پھر تبدیلی نئی تاریخ سامنے آگئی

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کی تبدیلی والی صوبائی حکومت نے تبدیلی ہی کو اپنا مقصد بنا لیا ہے. اپنے وعدوں میں‌بار بار تبدیلی اب کے پی حکومت کی عادت بن گئی ہے. ایسا ہی حال پشاور کی بی آر ٹی بس سروس کا جس کی تکمیل سے متعلق صوبائی حکومت بار بار وعدے کرکے پھر اپنے وعدے سے مکر جاتی ہے اور تبدیلی کو ہی ماٹو بناتے ہوئے بار بار اس کی تکمیل کی تاریخ میں تبدیلی کردیتی ہے. جیسا کہ ابھی ابھی حکومت خیبر پختونخوا نے طویل عرصے سے التوا کا شکار بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کی تکمیل کی ایک اور حتمی تاریخ جاری کردی۔

    منصوبہ مکمل ہونے کے حوالے سے حتمی تاریخ کے متعدد اعلانات کے بعد اب کہا گیا کہ رواں برس کے اختتام تک منصوبہ فعال ہوجائے گا۔ تفصیلات کے مطابق اب تک میگا پروجیکٹ کی مرکزی راہداریوں پر کام 85 فیصد اور بس ڈپوز اور اس سے منسلک سہولیات کا 65 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ منصوبے کے مرکزی کوریڈورز اور منسلک راستے 31 اکتوبر 2019 تک مکمل ہوجائیں گے

    خیال رہے کہ صوبائی حکومت اور بی آر ٹی پر کام کرنے والے ادارے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اکتوبر 2017 میں اس کے آغاز کے بعد 6 ماہ یعنی 20 اپریل 2018 تک اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔تاہم ایسا نہ ہوسکا جس کے بعد منصوبے کے منتظمین بدل بدل کر اس کی تکمیل کی مخلتف تواریخ 20 مئی سے 30 جون، 31 دسمبر سے 23 مارچ 2019 بتاتے رہے۔اس دوران منصوبے کی ابتدائی لاگت بھی 49 ارب روپے سے بڑھ کر 68 ارب روپے تک جاپہنچی ہے۔

  • عمران خان سن لو!اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے ،شہباز شریف کی وارننگ

    عمران خان سن لو!اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے ،شہباز شریف کی وارننگ

    لاہور:کرپشن کیس میں‌گرفتار میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے کبھی مریم اور کبھی شہباز شریف بار بار خدشات کا اظہار کرنے لگے .مریم کی طرح اب اپوزیشن لیڈرمیاں شہباز شریف نے کہاہے کہ نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمے دار وزیر اعظم ہوں گے ۔ مریض کے پرہیزی کھانے پر پابندی فسطائیت اور سیاسی انتقام کی بد ترین مثال ہے۔

    میاں شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں پرہیزی کھانا فراہم نہ کرنے پر سخت احتجاج کیا۔ ان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق نواز شریف کو پرہیزی کھانا فوراً فراہم کیا جائے، اگر نواز شریف کو پرہیزی کھانا فراہم نہ کیا گیا تو اس سے نواز شریف کی صحت بگڑسکتی ہے جس کے ذمہ دار عمران نیازی ہوں گے۔

    اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ نے ثابت کیا کہ عمران نیازی میں نہ تو قوم کی خدمت کی صلاحیت ہے اور نہ ہی سیاسی مخالفت کا ظرف ہے۔عمران نیازی کی نالائقی پر تو شک نہیں لیکن فسطائی ذہنیت میں بھی ثانی نہیں رکھتے۔شہباز شریف نے کہا کہ بہت جلد کالی رات ختم ہونے کو ہے، پھر ان تمام مظالم کا حساب ہوگا۔

  • نواز شریف کا پرہیزی کھانا بند، جیل کا کھانا کھا رہے ہیں یا نہیں، حکام نے بتا دیا

    نواز شریف کا پرہیزی کھانا بند، جیل کا کھانا کھا رہے ہیں یا نہیں، حکام نے بتا دیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے نواز شریف کو جیل میں پرہیزی کھانا نہ دینے کی مذمت کی ہے جبکہ جیل ذرائع کے مطابق نوز شریف نے جیل کا کھانا کھانے سے انکار نہیں کیا.

    جیل پہنچ کر رانا ثناء اللہ بھی ہوئے بیمار، مریم اورنگزیب کی دہائی

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے‌ صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ‎ڈاکٹرزکی ہدایت کے مطابق نوازشریف کو جیل میں پرہیزی کھانا نہ فراہم کرنا عمران نیازی کی قاتل ذہنیت کا ثبوت ہے ، ‎مریض کا پرہیزی کھانا روک کر عمران نیازی سیاسی انتقام کے بدترین درجے پر فائزہوگئے ہیں۔

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کو پرہیزی کھانا فوراً فراہم کیا جائے، ورنہ نتائج کے ذمہ دار عمران نیازی ہوں گے۔

    رانا ثناء اللہ پر بنائے گئے کیس کی سزا موت، آصف زرداری بھی بول پڑے

    رانا ثناء اللہ کو عدالت نے جیل بھجوا دیا

    دوسری جانب جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے جیل کا کھانا کھانے سے انکار نہیں کیا، جیل مینیو کے مطابق قیدیوں کو ہفتہ میں6 روز گوشت دیا جاتا ہے،جیل مینیو میں ہفتہ میں ایک روز سبزی اور دو روز دالیں بھی دی جاتی ہیں،ناشتہ میں انڈہ پراٹھا، آلو انڈے کے سالن اور بریڈ انڈہ کا مینیو ہے، جیل حکام کا نواز شریف کے پرہیزی کھانے سے متعلق بھی محکمہ داخلہ حکام سے رابطہ ہے، ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد نواز شریف کے پرہیزی کھانے کا مینیوترتیب دیا جائے گا،

    واضح رہے کہ چند روز قبل پنجاب حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں گھر سے کھانا منگوانے پر پابندی عائد کر دی ہے،اس سلسلے میں ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ نوازشریف عدالت سے سزایافتہ قیدی ہیں، جیل مینول کے مطابق ان کے ساتھ سلوک ہوگا. مریم نواز نے بھی کھانے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا ہے اور بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے.

  • سعودی عرب نے حوثیوں کا ڈرون طیارہ مار گرایا گیا

    سعودی عرب نے حوثیوں کا ڈرون طیارہ مار گرایا گیا

    سعودی عرب نے حوثیوں نے ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا۔ یہ طیارہ حوثیوں نے سعودی عرب کی سمت بھیجا تھا۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں نے ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا۔ عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں کی جانب ڈرون طیارے بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا مقصد شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔ یہ طیارے اپنے اہداف پورے نہیں کر سکے اور انہیں تباہ کر کے مار گرایا جا رہا ہے۔ حوثی باغیوں کے خلاف بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق سخت ترین جوابی منہ توڑ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    دوسری جانب یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے پیر کے روز حوثیوں کی جانب سے بحر احمر کے جنوب میں ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارت نے آزادی کشمیر مخالف قوتوں کو تحریک کودبانے کے لیے گرین سگنل دے دیا

    مقبوضہ کشمیر:بھارت نے آزادی کشمیر مخالف قوتوں کو تحریک کودبانے کے لیے گرین سگنل دے دیا

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کے لیے حکومت نے تحریک مخالف قوتوں کو کھلی چھٹی دے دی ہے. معتبر ذرائع کے مطابق حکومت نے ایسی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں کہیں بھی دفتر کھولنے کی اجازت دے دی ہے جو شروع دن سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کے سخت مخالف تھے.اس تنظیم کے کارندے حریت لیڈروں کے معمولات زندگی ،اخراجات اور آمدن کی چھان بین کریں گے

    جموں کے ایک مقامی انگریزی اخبار نے اس کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اب ہر دہلی نواز این جی او اور سیمی گورنمنٹ تنیظیم کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ ہر حال میں کشمیر کی تحریک کو روکیں اور حریت قیادت پر سخت چیک لگائیں تاکہ ان کی سرگرمیوں کو محدود سے محدود کیا جاسکے.اس حوالے سے Enforcement Direcrorate اور Directorate of Revenue Intelligence کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے

    یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان تنظیموں کو چندی گڑھ اور نئی دہلی سے ہدایات موصول ہو چکی ہیں‌کہ وہ تحریک کے تمام معاملات پر نظر رکھیں،ان میں‌سے ایک تنظیم کا دفتر سری نگر اور دوسری کاجموں میں‌قائم کیا گی ہے.اخبار لکھتا ہے کہ بھارت کی طرف سے یہ سازش بھی ناکام ہو جائے گی کیوںکہ کشمیری آزادی کے علاوہ اور کسی چیز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں.

  • عدالت نے نواز شریف کے ذاتی معالج پر لگائی پابندی

    عدالت نے نواز شریف کے ذاتی معالج پر لگائی پابندی

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج پر بڑی پابندی لگا دی

    نواز شریف کی ضمانت کی درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تفصیلی فیصلہ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں نواز شریف سے ہفتے میں 2 روز ملاقات کی درخواست پرسماعت ہوئی، محکمہ داخلہ پنجاب نے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو نواز شریف سے مشروط ملاقات کی پیش کش کی .

    مریم صفدر کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ میں چاہتاہوں ڈاکٹر عدنان کو طبی مشاورت کیلیے ملاقات کی اجازت دی جائے، عدالت نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ کیا سیاسی بیان دیتےہیں کہ فلاں بیماری فلاں پارٹی کےوائرس سے ہوئی ، جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عدنان کے ملنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر وہ باہر نکلتے ہی سیاسی بیان دیتے ہیں ،عدالت نے محکمہ داخلہ کی جانب سے پیشکش کے بعد کہا کہ ڈاکٹر عدنان جیل حکام اور سرکاری ڈاکٹر کی موجودگی میں نواز شریف سے ملاقات کریں گے ، عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ڈاکٹر عدنان کوئی سیاسی بیان جاری نہیں کریں گے.

    عدالت نے مریم نواز اور ڈاکٹر عدنان کو جواب الجواب داخل کرانے کی ہدایت کی.

    نواز شریف سے ملاقات کا دن، کتنے افراد کو ملی اجازت؟

    نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا تھا تیسرا ہارٹ اٹیک ،مریم نواز نے کیا پریس کانفرنس میں انکشاف

    نواز شریف کی طبیعت خراب، جیل حکام نےایسا فیصلہ کیا کہ ن لیگی پریشان ہو گئے

    واضح رہے کہ مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف سے ہفتے میں صرف ایک روز ملنے کی اجازت ہے،نواز شریف دل سمیت متعدد عارضوں میں مبتلا ہیں .درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے نوازشریف سے کارکنوں اورپارلیمنٹرینزکی ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی ہے،نواز شریف پر جیل حکام کی جانب سے پابندیاں خلاف قانون اور غیر آئینی ہیں .

    مریم نواز نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کے لیے ہفتے میں 2روز مختص کرنے کا حکم دیا جائے .مریم نواز کی درخواست میں پنجاب حکومت کو بھی فریق بنایا گیا ہے.

    واضح رہےنواز شریف کے مستقبل کا فیصلہ سنا دیا گیا

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    ڈاکٹرعدنان نواز شریف کا ذاتی معالج نہیں بلکہ…..شہباز گل نے کر دیا انکشاف

    واضح رہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے طبی بنیادووں‌پر نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی لیکن اس کے بعد ضمانت میں توسیع نہیں ہوئی، نواز شریف نے طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی