Baaghi TV

Blog

  • مقبوضہ کشمیر:حریت پسند کارکن اور قیادت سخت مشکلات ہیں ہیں،وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی خوش فہمی

    مقبوضہ کشمیر:حریت پسند کارکن اور قیادت سخت مشکلات ہیں ہیں،وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی خوش فہمی

    سرینگر:بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کشمیر کے حوالے سے اپنی حکوت کو طفل تسلیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کو قیادت کا بحران درپیش ہے اور سیکورٹی فورسز نے اُن پر مکمل گرفت بنا رکھی ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے راجناتھ نے کہا کہ فروری14کے پلوامہ حملے میں این آئی اے کی تحقیقات جاری ہے۔

    پلوامہ حملے کے بارے میں راجناتھ نے ایک سوال پر جواب میں‌ کہا کہ ” جونہی این آئی اے کی تحقیقات مکمل ہوگی اُس کے بعد ہی اس سوال کا جواب فراہم کیا جائے گا۔”راجناتھ نے تاہم کہا”جموں کشمیر کے اندر ہماری فوج، مرکزی آرمڈ فورسز ، جموں کشمیر پولیس اور سراغرساں ادارے مکمل کارڈنیشن میں کام کررہے ہیں”۔راجناتھ نے ایوان کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز جنگجوئوں کی سرگرمیوں کو قابو میں رکھی ہوئی ہیں۔”راجناتھ نے کہا”میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت جنگجوئوں کو قیادت اور وسائل کے بحران کا سامنا ہے”یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی کئی بار بھارتی وزراء کشمیر کے بارے میں غلط بیانی کرتے رہے .

  • نئے پاکستان میں میڈیا بھی آزاد نہیں، مولانا فضل الرحمن کی چینلز کی نشریات بند کرنے کی مذمت

    نئے پاکستان میں میڈیا بھی آزاد نہیں، مولانا فضل الرحمن کی چینلز کی نشریات بند کرنے کی مذمت

    سربراہ جمعیت علماءاسلام مولانافضل الرحمان نے مختلف نیوزچینلزکی نشریات کی بندش کی شدید مذمت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپور‌ٹ‌ کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں میڈیا بھی آزاد نہیں ہے. سلیکٹڈ حکومت چاہتی ہےکہ ٹی وی چینلزحقائق سےعوام کوآگاہ نہ کریں، جے یوآئی میڈیا پرپابندی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی،

    مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سلیکٹڈحکومت میں کوئی ادارہ خودمختارنہیں، سلیکٹڈوزیراعظم چینلزکی بندش کافیصلہ واپس لے، ادھر پی بی اے نے بھی اب تک،24 نیوزاورکیپیٹل ٹی وی کی نشریات بند کرنے کی مذمت کی ہے.

  • اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    گزشتہ روز ہم اور پروفیسر سلیم ہاشمی یو ایم ٹی کے ماہانہ ادبی ناشتے میں بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔ لیکن پروفیسر سلیم ہاشمی بوجہ علالت کے اتنی شاندار تقریب میں شرکت نہ کر سکے ۔لیکن انہوں نے مجھے بطور خاص ہدایت کی ان کی نمائندگی درویش صفت تحریک ‘ قومی سوچ کے حامل’ ماہر اقتصادیات ‘ ماہر تعلیم سابق اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی رہنما جناب جمیل بھٹی صاحب کریں۔ جمیل بھٹی صاحب ایک سابق بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مالیات سے متعلق بہت سی انگریزی کتب کے ترجمے بھی کر رہے ہیں ۔ آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ انگریزی کے سابق سربراہ مرحوم اسمعیل بھٹی کے انتہائی لائق فرزند ہیں ۔ آپ نے حاضرین کو اپنی ملازمت کے دوران کےبہت سے اجلاس کا حال سنایا کہ بیوروکریسی میں تمام اجلاسوں اردو میں ہوتے ہیں لیکن ان کی کاروائی انگریزی میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تعلیم مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب سے بیگانہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میری انگریزی شاعری کی دو کتب چھپ چکی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود میں اردو اور پنجابی میں اپنے خیالات کھل ڈھل کر بیان کرسکتا ہوں”
    ہم نے اپنے خطاب میں مرزا الیاس اختر کا بہت شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے ہم سے اس تقریب کو منعقد کرنے کا ایک پرانا وعدہ اہداء کیا۔اگر چہ یہ وعدہ ادھورا ہے۔ کیونکہ ان کا ہم سے وعدہ تھا کہ وہ نفاذ اردو کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ انہوں نے پھر ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
    ہم نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بس! پاکستان میں اتنی اردو نافذ کردیں!
    جتنی برطانیہ میں برطانوی انگریزی
    ایران میں فارسی
    چینی میں چینی
    فرانس میں فرانسیسی
    جرمن میں جرمنی!
    اور انگریزی کو اتنی اختیاری حیثیت دے دیں جو ان ممالک نے دے رکھی ہے۔۔
    ہم نے حاضرین سے درخواست کی کہ نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جہاں بھی نفاذ اردو فیصلے کی توہین ہورہی ہے۔ہر پاکستانی اس توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے”
    یہ بہت خوش آئند بات تھی کہ تقریب میں دو انگریزی میڈیم اداروں کے سر براہان اور نوجوان بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہماری باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سنیں۔ انگریزی میڈیم ادارے نے ہمیں اپنے ادارے میں نفاذاردو کا لیکچر دینے کی دعوت دی۔
    الحمداللہ! نفاذ اردو کے حوالے سے نوجوانوں میں بہت شعور پیدا ہورہا ہے جو ایک روشن صبح کی امید ہے۔ معروف ادیبہ اور شاعرہ تسنیم کوثر نے ہمارا یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا۔ ” فاطمہ قمر کی تقریب ہو اور میں نہ جاؤں”
    اصل میں یہ تسنیم کوثر کی خود اردو سے محبت کا ثبوت ہے۔
    میجر ریٹائرڈ خالد نصر ہمیشہ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ اور بہت جذبے اور شوق کے ساتھ وقت پر تشریف لائے۔۔آپ ادبی لحاظ سے بہت سر گرم ہیں۔
    گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کی سابق پرنسپل محترمہ ساجدہ پروین اور فوزیہ محمود فروا نے ہماری دعوت پر بطور خاص پروگرام میں شرکت کی۔ اور ایک صاحب سیدھا اسلام آباد سے تقریب میں شرکت کرنے پہنچے۔
    بہت سے لوگوں کے انباکس میں پیغامات آئے کہ انہوں نے پیغام دیر سے دیکھا جب تقریب ختم ہوچکی تھی۔۔
    اتنی پروقار تقریب کا انعقاد کرنے پر ہم مرزا الیاس اختر اور یو ایم ٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
    پروفیسر سلیم ہاشمی کو تقریب میں شرکت نہ کرنے کا بہت افسوس رہا ۔اپ کے الفاظ ہیں ” کہ یو ایم ٹی کے فورم سے نفاذاردو کی بات کرنا میرا خواب رہا ہے”
    ان شاءاللہ! اللہ کی ذات سے یقین کامل ہے کہ وہ پروفیسر سلیم ہاشمی اور ہم سب کا نفاز اردو کا خواب شرمندہ تعبیر کرے گا! ان شاءاللہ
    ان تمام معزز مہمانوں کا شکریہ جنہوں نے ہماری دعوت پر اس تقریب میں شرکت کی۔

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک

  • کوئٹہ کسٹم افسر پر تشدد کے الزام میں تین افراد گرفتار.

    کوئٹہ کےعلاقے سیٹلائیٹ ٹاون میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کلیکٹر کسٹم عبدالقدوس شیخ پر حملہ کرنے والے مبینہ اسمگلر کو دو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا ڈپٹی کلکٹرعبدالقدوس شیخ کو چار روز قبل سریاب روڈ پر مسلح افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وہ اس وقت تشویشناک حالت میں سی ایم ایچ کوئٹہ میں زیر علاج ہیں اور پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر سیٹلائیٹ ٹاون میں کاروائی کی گئی جس کے نتیجے میں حملہ کرنے والے اسمگلر کو دو ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا۔
    گرفتار افراد میں صادق، طوفان اور احمد شاہ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھیوں سے واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

  • مسلم لیگ ن نے ورکرز کنونشن کے شیڈول کا اعلان کر دیا

    مسلم لیگ ن نے ورکرز کنونشن کے شیڈول کا اعلان کر دیا

    پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ورکرز کنونشن کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے. منگل 9 جولائی کو سہ 4 بجےجہلم ،شام 6 بجے گجرات میں کنونشن ہوں‌ گے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بدھ 10جولائی کو صبح 10بجےحافظ آباد،شام 7 بجےسانگلہ ہل میں کنونشن ہونگے، جمعرات 11 جولائی کی شام ٹیکسلا میں ورکرزکونشن ہوگا، جمعہ 12جولائی کو فیض پورانٹرچینج ضلع شیخو پورہ میں سہ پہر4 بجےورکرز کنونشن ہوگا،

    مریم اورنگزیب نے بتایا کہ جمعہ 12 جولائی کوہی گوجرانوالہ میں شام7 بجےورکرزکنونشن ہوگا،

  • کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.

    اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.

    کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.

    جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.

    مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.

    آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.

    دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.

    مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.

    دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.

    یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد

  • ورلڑکپ 2019 ،پاکستان ٹیم کی خراب کارکردگی ،مکی آرتھر اپنی کوچنگ بچانے کے لیے حرکت میں آگئے

    ورلڑکپ 2019 ،پاکستان ٹیم کی خراب کارکردگی ،مکی آرتھر اپنی کوچنگ بچانے کے لیے حرکت میں آگئے

    لاہور:ورلڈکپ 2019 میں خراب کارکردگی پرجہاں بہت سے کھلاڑیوں کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئ ہے وہاں اس کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی اس وقت سخت پریشان ہیں کہ اب ان کا کیا بنے گا.اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی پاکستان کرکٹ کونسل سے اپنے کنٹریکٹ کو ختم ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اب اپنی کوچنگ کو بچانے کے لیے بڑے سرگرم دکھائی دے رہے ہیں.

    ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کوچنگ بچانے کے لئے کوششوں کا آغاز کردیا اورچیئر مین پی سی بی احسان مانی سے ملاقات کے خواہش مند ہیں. پی سی بی کرکٹ کمیٹی کے اہم رکن وسیم اکرم مکی آرتھر کی سپورٹ کے لئے سرگرم ہو گئے.وسیم اکرم مکی آرتھر کے معاملے پر ایم ڈی وسیم خان سے بھی مشاورت کریں گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مکی آرتھر پاکستان ٹیم کے ساتھ مزید دوسال کا معاہدہ کرنے کے خواہش مند ہیں.کیسینو سکینڈل فیم معین خان اور ان کے بھائی ندیم خان کو بھی بورڈ میں اہم عہدہ ملنے کا امکان ہے.کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں وسیم اکرم کھل کرمکی آرتھر کی حمایت کریں گے ۔وسیم اکرم ورلڈ ٹی ٹونٹی تک مکی آرتھر اور سرفراز احمد کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں ۔کرکٹ کمیٹی کے رکن سلیکشن کمیٹی کو تبدیل کرنے کو حق میں ہیں ذرائع

  • میرے پاس اور بھی دو تین ویڈیوز ہیں، سپریم کورٹ بھی جانا پڑا تو جاؤں‌ گی، مریم نواز

    میرے پاس اور بھی دو تین ویڈیوز ہیں، سپریم کورٹ بھی جانا پڑا تو جاؤں‌ گی، مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ میرے پاس دو تین آڈیوز اور ہیں، بے گناہ کو سزا دینے کابوجھ بہت بڑا ہوتاہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق مریم نواز نے کہاکہ جج نے دو بار میسیج دیے کہ دو بار عمرے کیلیے گئے ، ہم نے بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا،ہر دفعہ فیصلہ نئی سزا کی صورت میں سامنے آیا ، قانونی مشاورت جاری ہے ،معاملہ سپریم کورٹ یا کسی بھی فور م پرہوا تولے کر جاؤں گی،

    مریم نواز نے کہاکہ حکومت نے ویڈیو کی فارنزک کرالی ہے جس سے انہیں پتا چل گیا کہ یہ اصلی ہے. واضح رہے کہ آج مریم نواز نے نواز شریف کا گھر سے آنے والا کھانا بند کرنے کا بھی دعویٰ‌کیا اور کہا ہے کہ اگر اس کی اجازت نہ دی گئی تو وہ کوٹ لکھپت جیل کے باہر بھوک ہڑتال کریں گی.

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کوکشمیریوں سے بچانے کے لیے 1 لاکھ 86 ہزار جیکٹوں کی ضرورت ہے. وزارت دفاع

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کوکشمیریوں سے بچانے کے لیے 1 لاکھ 86 ہزار جیکٹوں کی ضرورت ہے. وزارت دفاع

    مقبوضہ کشمیر:تمام تر ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود بھارتی افواج کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نہ صرف دبانے میں‌ناکام ہوئی ہے بلکہ خود کشمیری حریت پسندوں کی مزاحمت کے دباو میں آگئی ہیں. بھارت وزارت دفاع کی دستاویزات اور حکومت سے مطالبے نے بھارتی فوج کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے. معتبر ذرائع کے مطابق بھارت فوجیوں نے اپنے جرنیلوں سے کشمیری حریت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے بلٹ پروف جیکٹوں کا مطالبہ کردیا ہے.

    بھارتی فوج کے مطالبے کے بعد بھارت وزارت دفاع نے کہا ہے کہ پہلے ہی بھارتی فوج کو کشمیر میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے .وزارت دفاع کے مطابق اس وقت کشمیر میں بھارتی فوج کو حریت پسندوں سے بچانے کے لیے 1 لاکھ 86 ہزار بلٹ پروف جیکٹوں کی شدید ضرورت ہے جس پر 6 ارب 39 کروڑ روپے خرچ آئیں گے .وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایوان کو بتایا کہ بلٹ پروف جیکٹیں بنانے کے لیے چین سے خام مال لینے کے حوالے سے سپلائرز کی طرف سے معاہدے کے مطابق کام نہ کرنے کی شکایات مل رہی ہیں. اگر اب ایسا ہوا تو پھر ان کے ٹینڈرز منسوخ کردیئے جائیں گے.

    وزیر دفاع نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ ایسے ہی 2009 میں بھی ساڑھے تین لاکھ جیکٹوں کمی تھی . 2016 میں 1 لاکھ 87 ہزار جیکٹیں آر ایف پی کو فراہم کی گئی تھیں.تاہم موجودہ ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے اور جس کو پورا کرنے میں وقت لگے گا اور اپریل 2020 تک یہ جیکٹیں فراہم کردی جائیں گی

  • ٹی وی چینلز کی نشریات بحال نہ کی گئیں تو ملک گیر احتجاج کریں‌ گے، صدر لاہور پریس کلب و دیگر

    ٹی وی چینلز کی نشریات بحال نہ کی گئیں تو ملک گیر احتجاج کریں‌ گے، صدر لاہور پریس کلب و دیگر

    ںلاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، صدر پی یو جے شہزاد حسین بٹ اور جنرل سیکرٹری اشرف مجید نے مختلف نیوز چینلز کی نشریات بند کئے جانے کی شدید مذمت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور پریس کلب، پی ایف یو جے اور پی یو جے نے پیمرا کی جانب سے کیبل آپریٹرز سے
    ابتک نیوز، کپیٹل نیوز اور ٹوئنٹی فور نیوز کی نشریات کی زبردستی بندش کروانے کی بھر پور مذمت کی ہے.

    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، صدر پی یو جے شہزاد حسین بٹ اور جنرل سیکرٹری اشرف مجید نے کہا ہے کہ ٹی وی چینلز کی نشریات کی بندش آزادی صحافت پر حملہ ہے. ان تمام چینلز کی نشریات کو فی الفور بحال کیا جائے اگر نشریات فوری بحال نہ کی گئی تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی ۔