Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سامنے آنے والے نازیبا ویڈیو سیکنڈل کی متاثرہ لڑکیوں کو تاحال بازیاب نہ کروایا جا سکا

    مبینہ اطلاعات کے مطابق لاپتہ لڑکیاں افغانستان میں ہیں اور ان دونوں لڑکیوں کی والدہ بھی گھر میں نہیں ہیں ، انکی بھی تلاش جاری ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ جلد لڑکیوں کو بازیاب کروا لیں گے، اس ضمن میں صوبائی وزارت داخلہ نے افغان حکام سے بھی رابطہ کیا ہے، ویڈیو سیکنڈل کیس میں قائد آبادتھانے میں بھی دو مزید مقدمات درج کئے گئے ہیں، ایک اور تیسری لڑکی سامنے آئی ہے جس نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نوکری کا کہہ کر بلاتے تھے اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرتے تھے،

    دوسری جانب نازیبا ویڈیو سیکنڈل کے حوالہ سے کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، ریلی میں سول سوسائٹی اور ہزارہ برادری کے اراکین نے شرکت کی، علمدار روڈ پر نکالی جانے والی ریلی کے شرکاء نے ملزمان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے ، مشیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ویڈیو سکینڈل میں ملوث ملزمان کو کوئی طاقتور شخص بھی نہیں بچاسکے گا واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات ابھی سامنے نہیں لاسکتے، ہم تحقیقات کے لیے ہر ادارے کی مدد لیں گے

    نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں، ابھی تک حاصل ہونے والے ویڈیو 200 سے کم ہیں تا ہم مزید ویڈیو بھی ملیں گی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا، ملزمان ویڈیو کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے

    ڈی آئی جی پولیس فدا حسن نے ویڈیو سکینڈل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وڈیواسکینڈل کیس کی خود نگرانی کر رہا ہوں, ملزم ہدایت اللہ اور اس کے بھائی خلیل کو گرفتار کیا ہوا ہے ۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں، ویڈیوز کی جانچ پڑتال کے لیے ایف آئی اے کو شامل کر رہے ہیں ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے نازیبا ویڈیو کے مرکزی ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا ہے

    ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا، سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

  • برقع پہن کر خواتین سے نازیبا حرکات کرنیوالے اوباش نوجوان کی عوام کے ہاتھوں درگت

    برقع پہن کر خواتین سے نازیبا حرکات کرنیوالے اوباش نوجوان کی عوام کے ہاتھوں درگت

    گوجرانوالہ: برقع پہن کر خواتین سے نازیبا حرکات کرنے والا اوباش نوجوان شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ میں برقع پہن کر خواتین سے بدتمیزی کرنے والے اوباش نوجوان کی درگت بنا کر پولیس کے حوالے کردیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ڈسکہ کا رہائشی عمر نامی نوجوان برقع پہن کر بازار میں گھوم رہا تھا اور خریداری کے لئے آنے والی خواتین کو چھیڑتا اور ان کے ساتھ نازیبا حرکات کررہا تھا، تاہم شہریوں اور دکانداروں نے برقع پوش شخص کو پکڑ لیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کردیا-

    تھانہ کوتوالی پولیس نے عمر عدیل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    دوسری جانب بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ویڈیو اسکینڈل، ایک اور لڑکی نے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ، ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے، ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، جو تحقیقات کر رہی ہے، گرفتار ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں،ملزمان خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر انکی نازیبا ویڈیوز بنایا کرتے تھے

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا،سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا. ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں

    ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو…

    ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں ان میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا.

    کراچی میں بیوی شوہر کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد آرام سے سو گئی

    ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ خدارا اب سزا دیں کب تک قانون بنتیں رہیں گے، کب یہ اندھی، گونگی، بہری عدلیہ جاگے گی، کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے، کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے، کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی، خدارا لٹکا ایسے لوگوں کو، ان کے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے-

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ…

  • کمزور دل حضرات مت دیکھیں،آڈیو کے بعد برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ شروع

    کمزور دل حضرات مت دیکھیں،آڈیو کے بعد برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار
    Fitness Trends that Are Shaping This Year accutane australia buy alpha-pharma bodybuilding steroids.
    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے توsuo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    ۔ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ۔ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    ۔ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ ان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے تو
    suo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،مارگلہ نیشنل پارک کی اراضی پر تجاوزات کے کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا، تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ معاون خصوصی ملک امین اسلم کی سربراہی میں عدالتی حکم پر تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی،،کمیٹی کی رپورٹ اسلام آبادمیں قانون کی حکمرانی کی ابتر حالت کی عکاسی کرتی ہے،مارگلہ نیشنل پارک کے تحفظ میں ناکامی کے ماحولیاتی اثرات آنے والی نسلوں پر پڑیں گے رپورٹ میں نقشے میں مارگلہ نیشنل پارک کے غیر قانونی تجاوز کردہ علاقوں کی نشاندہی کی گئی تجاوزات کی گئی جگہوں میں بحریہ ہیڈ کوارٹر اور نیول گالف کلب بھی شامل ہے،مارگلہ نیشنل پارک میں 8603 ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ کی قانونی حیثیت سے مطمئن نہ کروایاجاسکا ،غیر قانونی تجاوزات اور ریگولیٹری اتھارٹیز کی غیر فعالیت نے مفاد عامہ کے اہم سوالات کو جنم دیا،اسلام آبادمیں قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال کی غیر معمولی عکاسی ہے،اٹارنی جنرل، چیئرمین سی ڈی اے اور ملک امین اسلم ذاتی طور پر پیش ہوں، تینوں افراد بتائیں اسلام آباد میں قوانین کا نفاذ کیوں نہیں کیا جا رہا ؟ ایگزیکٹو اتھارٹیز کیوں مارگلہ نیشنل پارک پر تجاوزات کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہیں ریماؤنٹ ویٹرنری اینڈ فارمز ڈائریکٹوریٹ کو 8603 ایکڑ زمین کی مبینہ الاٹمنٹ آئین کی خلاف ورزی ہے،الاٹمنٹس بظاہر سی ڈی اے اور اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس کی بھی خلاف ورزی ہیں کیس کی آئندہ سماعت 11جنوری 2022 کو ہو گی،

    میرا کچرا،میری ذمہ داری،برطانوی ہائی کمشنر ایک بار پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہنچ گئے

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

  • 200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    ویڈیو اسکینڈل، ایک اور لڑکی نے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ، ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے، ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، جو تحقیقات کر رہی ہے، گرفتار ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں،ملزمان خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر انکی نازیبا ویڈیوز بنایا کرتے تھے

    نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں، ابھی تک حاصل ہونے والے ویڈیو 200 سے کم ہیں تا ہم مزید ویڈیو بھی ملیں گی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا، ملزمان ویڈیو کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے

    ڈی آئی جی پولیس فدا حسن نے ویڈیو سکینڈل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وڈیواسکینڈل کیس کی خود نگرانی کر رہا ہوں, ملزم ہدایت اللہ اور اس کے بھائی خلیل کو گرفتار کیا ہوا ہے ۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں، ویڈیوز کی جانچ پڑتال کے لیے ایف آئی اے کو شامل کر رہے ہیں ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے نازیبا ویڈیو کے مرکزی ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا ہے

    ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا، سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا. ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں..

    ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں ان میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا.

    ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہخدارا اب سزا دیں کب تک قانون بنتیں رہیں گے، کب یہ اندھی، گونگی، بہری عدلیہ جاگے گی، کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے، کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے، کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی، خدارا لٹکا ایسے لوگوں کو، انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے

    https://twitter.com/TheAnokhaSipahi/status/1469552448519950337

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

  • ہیلی کاپٹر حادثہ،مزید چھ لاشوں کی ہوئی شناخت

    ہیلی کاپٹر حادثہ،مزید چھ لاشوں کی ہوئی شناخت

    ہیلی کاپٹر حادثہ،مزید چھ لاشوں کی ہوئی شناخت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تامل ناڈو ہیلی حادثے میں مزید چھ اہلکاروں کی لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے’

    چھ اہلکاروں کی شناخت کے بعد انکی لاشیں انکے اہلخانہ کے حوالہ کر دی گئیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، لاشیں ہسپتال سے اہلخانہ کے حوالہ کر گئیں،لاشوں کی شناخت فضائیہ کے ہسپتال میں کی گئی ہے، جن اہلکاروں کی لاش کی شناخت کی گئی ان میں لانس نایک بی سائی تیجا، جے ڈبلیو، ونگ کمانڈ پی ایس چوہان، اسکواڈرن لیڈر کلدیپ سنگھ، جتے ڈبلیو اودا س اور لانس نائک وویک کمار شامل ہیں، باقی مرنے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے

    ہیلی حادثے میں مرنے والوں کی لاشوں کو خصوصی طیاروں کے ذریعے انکے آبائی علاقوں کو بھجوایا جائے گا،جہاں فوجی اعزاز کے ساتھ انکی آخری رسومات ادا کی جائیں گی،حادثے میں کل 13 اموات ہوئیں جبکہ ایک شخص بھارتی فضائیہ کا ونگ کمانڈر زندہ بچا ہے جو ہسپتال میں زیر علاج ہے

    بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کی اہلیہ سمیت ہیلی حادثے میں موت ہوئی ،گزشتہ روزانکی آخری رسومات ادا کی گئیں،جنرل راوت کا آخری سفر دو بجے ان کی رہائش گاہ سے شروع ہوا اور ان کی لاش بھارتی فوج کی ایک بڑی گاڑی میں رکھی گئی تھی جسے پوری طرح پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ اس کے پیچھے گاڑیوں کا بڑا قافلہ چل رہا تھا آخری سفر کے لیے آرمی، بحریہ اور فضائیہ کے دو دو لیفٹننٹ جنرل سطح کے افسر قومی پرچم لے کر چل رہے تھے آخری سفر کے دوران سڑک کے دونوں طرف جنرل راوت اور محترمہ راوت کے پوسٹر لگے ہوئے تھے جن پر لکھا ہوا تھا جنرل راوت اور محترمہ راوت امر رہیں۔ سڑک پر بڑی تعداد میں لوگ ہاتھوں میں جنرل راوت کے پوسٹر لیے ہوئے تھے آخری رسومات کے دوران مسلح افواج کے کل ملا کر 800 افسر اور جوان موجود تھے

    انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

    ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

    ہیلی حادثے میں بچ جانیوالے گروپ کیپٹن کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنیکا فیصلہ، خط بھی وائرل

    ہیلی کاپٹر حادثہ، پائلٹ کا آخری پیغام کیا تھا؟ بھارتی فضائیہ نے روٹ کلیئر کیا تھا یا نہیں؟ سوال اٹھ گئے

    جنرل بپن راوت کے ہیلی کا حادثہ، بھارتی فضائیہ کا تین روز بعد نیا بیان آ گیا

     

  • پولیو ٹیم پر حملہ،ایک اہلکار شہید، ایک زخمی

    پولیو ٹیم پر حملہ،ایک اہلکار شہید، ایک زخمی

    پولیو ٹیم پر حملہ،ایک اہلکار شہید، ایک زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹانک میں پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا ہے

    پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اور ایف سی اہلکاروں پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا ہے، حملہ میں ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے پولیو سیکیورٹی ٹیم پر حملہ کیا ہے۔ حملہ گاؤں چھدرڑ میں کیا گیا ہے۔ زخمی اور شہید اہلکار کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے۔ ڈی پی او ٹانک سجاد احمد کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ حملہ آور فرار ہوگئے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کے روز جی ایچ کیو کی ٹیم نے پولیو کے فارنرز حکام کے ہمراہ مذکورہ علاقے کا دورہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ جمعہ کے روز ٹانک کے گنجان آباد علاقے سے 4 کلو وزنی بم بھی برآمد ہوا تھا جسے پولیس نے ناکارہ بنایا تھا۔

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ٹانک میں نامعلوم افراد کی پولیو ٹیم پر فائرنگ کی مذمت کی ہے، وزیر اعلی نے واقعے میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار تعزیت کیا ہے،وزیر اعلی نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا،شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی گئی وزیر اعلی نے واقعے میں زخمی پولیس کی جلد صحت یابی کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ،وزیر اعلی نے پولیس کو فائرنگ میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی، وزیر اعلی محمود خان نے کہا کہ شہید کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی، پولیو ٹیم پر فائرنگ کرنے والے ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کے دشمن ہیں، صوبائی حکومت صوبے کو پولیو وائرس سے پاک کرنے کے لئے پر عزم ہے،

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک میں پولیو ورکرز کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کی مذمت کی ہے،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے جام شہادت نوش کرنے والے پولیس اہلکار کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے شہید پولیس اہلکار کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے زخمی ہونے والے پولیس اہلکار کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار نے فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا بلند رتبہ پایا۔پنجاب حکومت کی تمام تر ہمدردیاں شہید پولیس اہلکار کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    قبل ازیں 31 اگست کو ڈی آئی خان میں انسداد پولیو مہم کے دوران کئے گئے حملے میں پولیو ٹیم کو سیکیورٹی فراہم کرنے والا پولیس اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تھا ،قبل ازیں یکم اگست کو پشاور کے علاقے داؤد زئی میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے پولیو ٹیم پر فائرنگ کی گئی نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہو گیا پولیس اہلکار پولیو ٹیم کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور تھا۔ رواں برس ماہ جنوری میں خیبر پختونخواہ کے علاقے کرک میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ،نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے،یعقوب شہید تخت نصرتی کے حدود علاقہ گڑدی بانڈہ میں پولیو ٹیم پر فائرنگ ہوئی ،فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار جان بحق ہوا ہے ،شہید پولیس اہلکار جنید اللہ امبیری کلہ میں تعینات تھے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بالعموم اورخیبر پختونخوا میں بالخصوص انسداد پولیو کے لیے کئے جانے والے اقدامات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی رضاکار اور پولیس اہلکار جاں بحق بھی ہوئے ہیں۔

    پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈہ، سات تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی

    سوشل میڈیا پر پولیو مخالف مواد، کتنے اکاونٹس بند ہوئے، حیران کن خبر

    خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    بنوں میں پولیو کا ایک اور کیس، انسداد پولیو مہم جاری

    مجھے پنجاب پولیو سے پاک چاہیے،جس ضلع میں کیس آیا افسران کیخلاف ایکشن ہو گا، وزیراعلیٰ پنجاب

    پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ذمہ دار حکومت،بابر بن عطا کو جیل کو کیوں نہیں بھجوایا گیا؟ شیری رحمان

    پنجاب میں انسداد پولیو مہم کا آغاز،وزیراعلیٰ پنجاب نے دیں اہم ہدایات

     تھانہ لاری اڈا کی حدود میں پولیو ٹیم سے بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

  • سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان بارے بڑا فیصلہ کر لیا گیا

    سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان بارے بڑا فیصلہ کر لیا گیا

    سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان کا ٹرائل جیل میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    امن وامان کی صورتحال کے باعث ٹرائل جیل کروایا جائے گا، جیل انتظامیہ کو انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں پولیس حکام کوجلد از جلد چالان مکمل کرکے عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے

    قبل ازیں وزیرقانون پنجاب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائےل ااینڈ آرڈر کا اجلاس ہوا جس میں سیالکوٹ واقعے کے ملزمان کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کا فیصلہ کرلیا گیا اور ملزمان کا چالان 14 دن میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے اجلاس میں سیالکوٹ اور فیصل آباد واقعات کی شدید مذمت کی گئی جبکہ تمام ڈویژنل آر پی اوز اور کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ دی آر پی او گوجرانوالہ نے سیالکوٹ واقعے پر پیشرفت گرفتاریوں پر بریفنگ دی

    قبل ازیں سری لنکا کی آل سائکلون جمعیت العلماء (کونسل آف اسلامی مذہبی سکالرز) نے چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو تعریفی خط لکھا ہے جس میں سیالکوٹ واقعہ کی مذمت کرنے پر پاکستان کے تمام علمائے کرام اور تمام مذہبی رہنماؤں کاشکریہ ادا کیا گیا ہے ، وزیراعظم کے مشیر علامہ طاہر اشرفی کا علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک بھر میں سانحہ سیالکوٹ کی مذمت کی گئی ہے، توہین رسالت و توہین مذہب کا قانون موجود ہے کسی بھی فرد ، گروہ یا جماعت کو حق حاصل نہیں کہ توہین رسالت و توہین مذہب کے مجرم کو قتل یا نقصان پہنچائے کسی شکایت کی صورت میں قانون اور عدالت کا راستہ اختیار کیا جائیگا سیالکوٹ سانحہ سے اسلام اور پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے چیف جسٹس آف پاکستان توہین رسالت و توہین مذہب کے مقدمات کا فوری ٹرائل کا حکم دیں،مقدمات میں تاخیر سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    واضح رہے کہ توہین مذہب ،قرآن کا مبینہ الزام لگا کر غیر ملکی شہری کو جلا گیا گیا ،واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 132 کلو میٹر دور سیالکوٹ کی تحصیل اگوکی میں پیش آیا جہان‌ایک فیکٹری میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے والے ملازم کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عوامی ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو آگ لگا دی گئی فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا تھا پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے

    مقتول سری لنکن منیجر کی اہلیہ کا پہلا بیان:وزیراعظم عمران خان ہمیں‌ انصاف چاہیے

    بے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    یقین سے کہتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،سری لنکن وزیراعظم کی…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا…

    سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ: لوگوں کو اشتعال دلانے والا دوسرا ملک دشمن،اسلام دشمن…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

    صفائی ستھرائی کے لیے جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پولیس رپورٹ

    سانحہ سیالکوٹ، سری لنکن حکومت کیا چاہتی ہے ؟ وزیر خارجہ نے بتا دیا

    اس دن میرا جذبہ تھا کہ…ملک عدنان نے وزیراعظم ہاؤس میں دل کی بات بتا دی

    پریانتھا کمارا کی نعش کی بے حرمتی کرنے والا ملزم عدالت پیش

  • ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

    ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

    ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بجائے ڈانس کی ویڈیو آئے روز وائرل ہونے لگی ہیں

    اب زکریا یونیورسٹی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک لڑکے کو لڑکیوں کا لباس پہن کر ڈانس کرتے دیکھا جا سکتا ہے، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، ویڈیو میں لڑکے نے لال شرٹ پہن رکھی ہے،میوزک بھی چل رہا ہے اور تماشائی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو ہوٹنگ کر رہے ہیں،

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اہلیان علاقہ نے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس حوالہ سے کوئی درخواست موصول نہیں ہے، ہائیر ایجوکیشن بھی تاحال خاموش ہے، قبل ازیں اسلامیہ یونیورسٹی کی ایک تقریب کے دوران لڑکے کے ڈانس کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس پر یونیورسٹی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ طالب علم کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا تھا۔

    چند روز قبل حاصل پور کے نیشنل کالج میں بھی ڈانس کی ویڈیوز سامنے آئی تھی پنجاب کے شہر بہاولپور کے تعلیمی ادارے میں تعلیم کے نام پر اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی گئیں،حاصلپور نجی کالج میں لڑکیوں اور لڑکوں کے مبینہ مجرے کی ویڈیو وائرل ہو گئی، اساتذہ بھی طلبا کے ساتھ مجرے کو انجوائے کرتے رہے ۔ کالج کے پرنسپل کے ساتھ بھی لڑکیوں نے مبینہ ڈانس کیا، مجرے میں کالج کی مبینہ لڑکی ہوش برقرار نہ رکھ سکی پرنسپل سے لپٹ گئی اور ڈانس کیا ۔ مجرے میں تماشائیوں نے نوٹ بھی اچھالے ۔ مجرے اور ڈانس کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہیں جس کے بعد علاقہ معززین اور شہریوں نے کالج کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے .دوسری جانب حاصل پور نجی کالج میں مجراء کروانے کا نوٹس لے لیا گیا، ڈپٹی کمشنر بہاول پور عرفان علی کاٹھیانے ڈانس ویڈیوز پر نوٹس لیا،اور اسسٹنٹ کمشنر حاصل پور کو 3 دن میں انکوائری رپورٹ بھیجنے کا حکم دیا، کالج بھی سیل کر دیا گیا

    واضح رہے کہ تعلیمی اداروں میں ناچ گانوں اور ڈانس پر پابندی ہے، پنجاب اسمبلی میں بھی ایک بار معاملہ اٹھایا گیا تھا پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کے معاملے پر اسمبلی میں سوال جواب ہوئے، ن لیگ کی کنول پرویز چودھری نے محکمے کے جواب پر عدم اعتماد کا اظہارکر دیا، کنول پرویز چودھری کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ڈانس کروانا افسوسناک ہے،

    پارلیمانی سیکرٹری تعلیم سبطین رضا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نجی وسرکاری تعلیمی اداروں میں پہلے ہی ناچ گانے پر پابندی ہے،تعلیمی اداروں میں مزید سختی کی جارہی ہے ،اگر کسی تعلیمی ادارے کی شکایت ہے تو رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی،غیر نصابی سرگرمیوں اور پڑھائی کے نام پر فحاشی نہیں چلے گی،خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کو بھاری جرمانے کیے جائیں گے

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    کالج میں مجرا، لڑکی ہوش برقرار نہ رکھ سکی پرنسپل سے لپٹ گئی ،ویڈیو وائرل،کالج سیل