Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • احسن اقبال پر لاٹھی چارج، شہباز شریف بھی میدان میں آگئے

    احسن اقبال پر لاٹھی چارج، شہباز شریف بھی میدان میں آگئے

    احسن اقبال پر لاٹھی چارج، شہباز شریف بھی میدان میں آگئے

    رہنما مسلم لیگ ن احسن اقبال نے شہر قائد کراچی کے علاقے ناظم آباد میں گرین لائن بس منصوبے کا علامتی افتتاح کر دیا۔

    گرین لائن افتتاح کے موقع پر رینجرز نے لاٹھی چارج کیا، سابق وزیرداخلہ احسن اقبال پربھی لاٹھی چارج کیا گیا،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال، سابق گورنر سندھ محمد زبیر ، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سمیت دیگر قیادت کو افتتاح سے روکا گیا ن لیگی رہنماوں کی جانب س منصوبے کے علامتی افتتاح کی تقریب میں بد نظمی پھیل گئی ن لیگی ورکرز نے گرین لائن کے پیڈسٹرین کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جس پر رینجرز اہلکاروں نے لیگی ارکان کو لائن کے پل پر جانے سے روک دیا

    احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گرین لائن کراچی منصوبے پر 90 فیصد کام ہماری حکومت نے کیا کہ 90 فیصد کام 2018 سے قبل مکمل ہو چکا تھا موجودہ حکومت نے اس منصوبے پر کوئی کام نہیں کیا ہم نے یہ منصوبہ کراچی کے عوام کے لیے بنایا موجودہ حکومت مسلم لیگ ن کے منصوبوں پر تختیاں لگا رہی ہے

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ اس حکومت کو شرم آنی چاہیے جو نہتے سیاسی کارکنوں پر ظلم کرتے ہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے وفاقی حکومت کی ایما پر کارکنوں اور صحافیوں پر تشدد کیا،میں نے پہلے بھی گولیاں کھائی ہیں آج کراچی والوں کے لیے لاٹھیاں کھائیں اس پر مجھے فخر ہے ۔

    مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں رینجرز کےذریعے احسن اقبال ،پارٹی رہنماوں اور کارکنوں پر تشدد کیا گیا احسن اقبال اور پارٹی کارکنوں پر لاٹھی چارج کے عمل کی مذمت کرتے ہیں احسن اقبال اورکارکنوں پرتشدد اور بدسلوکی افسوسناک ہے، احتجاج کریں گے واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کوقانون کے مطابق سزا دی جائے سیاسی وجمہوری کارکنان پر تشدد ناقابل قبول ہے

    قبل ازیں وفاقی وزیر اسد عمر اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گرین لائن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے گرین لائن بس میں سفر کیا بسوں میں معیاری سہولیات ہیں وزیر اعظم کل گرین لائن بسوں کا افتتاح کریں گے ابتدائی 14 دن تک بسیں آزمائشی طور پر چلیں گی جس کےبعد 25 دسمبر سے لوگ ٹکٹ لے کر بسوں میں سفر کر سکٰیں گے

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

  • عدالت نے دیا فیصل واوڈا کو ایک اور جھٹکا

    عدالت نے دیا فیصل واوڈا کو ایک اور جھٹکا

    عدالت نے دیا فیصل واوڈا کو ایک اور جھٹکا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن میں نااہلی کیس رکوانے کی انٹراکورٹ اپیل بھی مسترد کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ سنایا ،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے الیکشن کمیشن کو نااہلی کیس کا2 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بیان حلفی سپریم کورٹ کے احکامات کے نتیجے میں دیا گیا تھا، الیکشن کمیشن میں کیا پروسیڈنگز چل رہی ہیں جو آپ رکوانا چاہتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ سینیٹ میں فیصل واؤڈا کے مدمقابل امیدوار نے بیان حلفی کی بنیاد پر نااہلی کی درخواست دی ہے،عدالت نے کہا کہ اگر آپ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کراتے ہیں تو بیان حلفی جمع کراتے ہیں،اگر گزشتہ الیکشن میں جمع کرایا گیا بیان حلفی بھی جھوٹا ہو تو وہ امیدوار الیکشن لڑنے کا اہل نہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ فیصل واؤڈا نے جو بیان حلفی دیا تھا کیا وہ درست تھا؟ وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ بیان حلفی درست تھا، ہم نے الیکشن کمیشن میں بھی لکھ کر دے رکھا ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پھر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، بیان حلفی کی تحقیقات مکمل ہونے دیں، ادھر بھی آپ نے ڈیڑھ سال جواب جمع نہیں کرایا، عدالت نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کر دیتے ہیں کہ معاملے کو ایک ماہ میں نمٹائے،

    کیا فیصل واوڈا قانون سے بالا تر ہیں؟ ،عدم پیشی پر الیکشن کمیشن کا اظہار برہمی

    استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں پیش، پھر مہلت مانگ لی

    میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن یہ کام ضرور کریں، فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں بیان

    نااہلی سے بچنے کے لئے فیصل واوڈا نے عدالت میں کیا قدم اٹھا لیا

    فیصل واوڈا نااہلی کیس، جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے پر عدالت کا حکم آ گیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست میں موقف اپنا گیا ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کروایا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیصل واوڈا کو جعلی حلف نامہ جمع کروانے پر نااہل کیا جائے کیونکہ  صادق اور امین نہیں رہے۔ سپریم کورٹ دوہری شہریت رکھنے پر 2 سینٹرز کو نا اہل قراردے چکی ہے

  • نوجوان کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم سہولت کار سمیت گرفتار

    نوجوان کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم سہولت کار سمیت گرفتار

    نوجوان کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم سہولت کار سمیت گرفتار

    پشاور کے تھانہ شاہ پور پولیس نے نوجوان کے قتل میں ملوث ملزم کو سہولت کار سمیت گرفتار کر لیا،

    مرکزی ملزم ملک نادر کا تعلق ضلع نوشہرہ کے علاقہ اکبر پورہ سے ہے جو نواحی علاقہ یاسین آباد میں سابقہ دشمنی کی بناء پر مخالف فریق کو قتل کرنے کے بعد قریبی دیہات میں روپوش ہو کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، پولیس نے واردات کی اطلاع ملتے ہی علاقہ کوارڈن آف کر کے تمام راستوں کی کڑی نگرانی شروع کی جس کے دوران ملزمان کی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ملک نادر کو سہولت کار ملک رضاء سمیت گرفتار کر لیا

    تھانہ شاہ پور پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ یاسین آباد میں ملک عزیر نامی نوجوان کو سابقہ دشمنی کی بناء پر قتل کر دیا گیا ہے جبکہ ملزمان فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر ایس ایچ او تھانہ شاہ پور شکیل خان نے فوری موقع پر پہنچ کر ملزمان کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے یاسین آباد کے اطراف اور فیڈنگ روٹس کی بھی کڑی نگرانی شروع کی جس کے دوران قریبی اراضیات میں ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ملک نادر ولد ملک اکبر کو سہولت کار ملک رضاء سمیت گرفتار کر لیا جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے دوران سابقہ دشمنی کی بناء پر ملک عزیر کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے جن کے قبضہ سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا، دونوں ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

  • کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست،دلائل طلب

    کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست،دلائل طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے نئی قانون سازی کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے سے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کوجواب دیا کہ ایک ایکٹ پاس ہوا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی اٹارنی جنرل سے نئی قانون سازی کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے گئے

    @MumtaazAwan

    وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،

    قبل ازیں اس حوالہ سے وزیرقانون فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل اورکلبھوشن کیس پروضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بل کی مخالفت کرنے والوں نے شاید اسے پڑھا نہیں ،قونصلر رسائی نہ ملنے پر بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیاپاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کا بھرپور دفاع کیا بھارت نے کلبھوشن کی بریت کی استدعا کی تھی،عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کی بریت کی درخواست مسترد کی،عالمی عدالت انصاف نے قونصلر رسائی کی درخواست منظور کی،عالمی عدالت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بل لائے،کلبھوشن کیس ملکی سیکیورٹی کا معاملہ ہے،کلبھوشن کا معاملہ ریڈ لائن ہے،کیسے پارلیمان ہیں جنہیں ملکی مفاد کا ہی پتہ نہیں ،بھارت کے ناپاک عزائم تھے،کلبھوشن سے متعلق قانون سازی پر بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں ،اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوں کو سمجھ نہیں، وہ کیسے سیاستدان ہیں،اپوزیشن کو قومی سلامتی کا ادراک کیوں نہیں،قانون سازی کے معاملے پر ڈس انفارمیشن پھیلائی گئی،پاکستان کلبھوشن کیس جیت چکا ہے،پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے،

    پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

    کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

    کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

    کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

    کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

    کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

    کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    پاکستانی عدالت کلبھوشن کا کیس نہیں سن سکتی، بھارت

    کلبھوشن کیس،وزیر قانون اور ن لیگی رہنما لڑ پڑے،کمیٹی کا چیئرمین نہیں لیکن آپکا نوکر بھی نہیں،فروغ نسیم کا جواب

    بھارت کلبھوشن کے ساتھ اکیلے کمرے میں قونصلر رسائی چاہتا،اٹارنی جنرل،عدالت کا حکم بھی آ گیا

    گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

    کلبھوشن کیس،مناسب ہے بھارت کو ایک اور موقع دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • پچاس سالہ خاتون کو برہنہ گاؤں میں گھمانے والے ملزمان گرفتار

    پچاس سالہ خاتون کو برہنہ گاؤں میں گھمانے والے ملزمان گرفتار

    پچاس سالہ خاتون کو برہنہ گاؤں میں گھمانے والے ملزمان گرفتار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خاتون کو برہنہ کر کے گاؤں میں گھمانے والے سفاک ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے

    واقعہ بھارت میں پیش آیا، بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع سونبھدر کے علاقے رائے پور میں ایک خاتون ندی میں نہا رہی تھی کہ ملزمان نے اسے نہاتے ہوئے ندی سے باہر کھینچا اور برہنہ حالت میں گاؤں میں گھمایا، پولیس کو اطلاع ملنے پر بھاری نفری موقع پر پہنچی اور ملزمان کو گرفتار کیا، پولیس کے مطابق واقعہ پانچ دسمبر کو پیش آیا جب گاؤں کے بدمعاشوں نے ایک پچاس سالہ خاتون کو برہنہ گھمایا، ملزمان نے الزام عائد کیا کہ کھیت میں فصل پڑی تھی جس کو خاتون نے آگ لگا دی تھی تاہم خاتون نے انکار کیا، کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا، پولیس کے مطابق ملزمان نے نہ صرف خاتون کو برہنہ گھمایا بلکہ اس پر تشدد کرتے رہے

    سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا تھا کہ ملزمان نے خاتون کو برہنہ گھمانے کی ویڈیو بھی بنائی تھی جسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا گیا ہے، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، ملزمان میں پریم ناتھ وشوکرما، بابولال وشوکرما، وجئے وشوکرما، روی وشوکرما، آشا اور انیتا بیوی بابولال وشوکرما شامل ہیں جنہیں گرفتار کر کے عدالت پیش کیا گیا عدالت نے انہیں ریمانڈ پرجیل بھجوا دیا ہے

    قبل ازیں بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے ایک گاؤں میں 6 کمسن بچیوں کو برہنہ کرکے گھمایا گیا ہے یہ شرمناک و افسوسناک واقعہ ریاست مدھیا پردیش کے علاقے بندیل کھنڈ کے ایک خشک سالی کے شکار گاؤں میں پیش آیا ہے۔” ہندوستان ٹائمز "کے مطابق بچیوں کو برہنہ گھمانے کی وجہ یہ تھی کہ گاؤں کے افراد بارش کے دیوتا کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جبکہ ریاستی پولیس کا اس ضمن میں مؤقف ہے کہ کمسن بچیوں کو ان کے خاندانوں کی مرضی کے تحت برہنہ کر کے گھمایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خواتین گھروں میں بھی محفوظ نہیں، پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے تو پولیس کاروائی نہیں کرتی،

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 15 سالہ طالب علم سے زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے

    ملزمان نے زیادتی کے ساتھ طالب علم کی ویڈیو بھی بنا لی، مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، واقعہ تھانہ شالیمار کی حدود میں پیش آیا،،تھانہ شالیمار کے علاقے میں 15 سالہ طالبعلم کے ساتھ زیادتی اور ویڈیو بنانے کا معاملہ، ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر نے وقوعہ پر نوٹس لیا اور پولیس نے بچے کے والد ظہور احمد کی درخواست پر فوری طور مقدمہ درج کیا،

    ایس پی صدرِ کی زیر نگرانی پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم تنویر ملک سمیت تینوں ملزمان گرفتار کر لیے، گرفتار ملزمان میں تنویر ملک،محمد فیضان اور حسنین شامل ہیں، متاثرہ لڑکے کے والد نے درخواست دی کہ ملزمان نے میرے بیٹے کے ساتھ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنالی،کسی کو بتانے کی صورت میں ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی بھی دی ،ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی،

    قبل ازیں خواجہ وس کی حدود میں 14 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والا درندہ صفت سفاک ملزم گرفتار کر لیا گیا واقعہ کی اطلاع ملتے ہی خواجہ وس پولیس نے پیشہ وارانہ مہارت سے ملزم تک رسائی کو چند ہی گھنٹوں میں ممکن بنایا،پشاور کے رہائشی عبدالوہاب نے تھانہ خواجہ وس میں رپورٹ درج کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ ملزم داؤد نے ورغلا کر پھسلا کر شہباز خان کورونہ لے گئے تھے اور وہاں پر ملزم نے زور زبردستی اپنی جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر خود موقع سے فرار ہوئے ہیں۔

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

  • ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں ہیلی کاپٹر کریش پر بریفنگ دی ہے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جنرل بپن راوت سمیت تمام لاشیں نئی دہلی لائی جائیں گیہیلی کاپٹر کے حادثے کی سہ فریقی تحقیقات کا حکم دیا ہے، تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ایئر مارشل مانویندر سنگھ کریں گے،انکوائری ٹیم نے گزشتہ روز خود ہی ویلنگٹن پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کیا ہیلی کاپٹر حادثے کی تینوں سروسز کو تحقیقات کا حکم دیا ہے جنرل بپن راوت کی آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی، لوک سبھا میں افسوس کے لئے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی

    بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کا جسد خادی دہلی چھاونی میں لایا جائے گا اور جمعہ کو آخری رسومات ادا کی جائیں گی جسد خاکی ایک فوجی طیارے کے ذریعے دہلی پہنچایا جائے گا ، ہیلی کاپٹر کا فلائٹ ریکارڈ بلیک باکس تلاش کر لیا گیا ہے، بلیک باکس کے ملنے سے تحقیقات میں آسانی ہو گی، بلیک باکس کو ڈھونڈنے کے لئے تحقیقاتی ٹیم نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا، ٹیم کو جائے حادثہ سے تقریبا 300 میٹر سے ایک کلومیٹر کے علاقے کے درمیان سرچ آپریشن کرتے ہوئے بلیک باکس ملا،ونگ کمانڈر آر بھاردواج کی قیادت میں بھارتی فضائیہ کے افسران کی 25 رکنی خصوصی ٹیم نے بلیک باکس برآمد کیا،

    قبل ازیں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت پاکستان کے عسکری حکام نے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ندیم رضا نے تامل ناڈو میں بھارتی فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کی ہلاکت پر اظہار افسوس کیا ہے

    بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے ،بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں، بہن راوت کی اہلیہ بھی ہلاک ہو گئی ہیں، جنرل بپن راوت پہلے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، حادثہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت تمام لیڈروں نے بھی اظہار افسوس کیا ہے ،بھارتی فضائیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے دوسری جانب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سی ڈی ایس بپن راوت کی رہائش گاہ دہلی میں پہنچ گئے ہیں، بھارتی آرمی چیف بھی بپن راوت کے گھر پہنچ چکے ہیں،

    بپن راوت کو زخمی ہسپتال میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا انکو آئی سی یو میں رکھا گیا، بھارتی فوج کے ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی کوشش کی تا ہم انکی موت ہو گئی ،ہندوستانی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ (ر) نے بھی بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کی موت کی تصدیق کی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے موت کی تصدیق کی، انکی ٹویٹ پر صارفین نے تبصرے بھی کئے ہیں

    ہیلی کاپٹرحادثے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں،ہلاک افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے کی جائے گی، بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت بھی ہیلی کاپٹر میں سوار تھے ،بپن راوت کی بیوی بھی ہیلی کاپٹر میں سوار تھیں ، ہیلی کاپٹر جہاں تباہ ہوا امدادی ٹیمیں پہنچ گئی تھیں اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا تھا بھارتی میڈیا کے مطابق جنرل بپن راوت کا عملہ اور گھر کے کچھ افراد بھی سوار تھے، رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت ، انکی اہلیہ، دفاعی معاون، سیکورٹی کمانڈوز اور بھارتی فضائیہ کے پائلٹ سمیت 14 افراد سوار تھے

    مقامی لوگوں نے 80 فیصد جھلسنے والی چار لاشیں مقامی اسپتال منتقل کیں بعد ازاں دیگر لاشین منتقل کی گئیں ،13 افراد کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے تا ہم انکی شناخت ابھی تک سامنے نہیں لائی گئی، بھارتی ریاست تامل ناڈو میں حادثے کے شکار ہیلی کاپٹر میں جنرل بپن راوت کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ مگر ابھی اس کے اعلان سے گریز کیا جارہا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی حکومت کے سرکاری بیان کا انتظار کررہا ہے۔اب تک 14 سوار میں سے 11 کی ہلاکت کا اعلان کیا جاچکا ہے، مگر ان کے نام نہیں بتائے جارہے۔حادثے کی جو ویڈیو سامنے آئی اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کو آگ لگی ہوئی ہے، حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے ،اطلاعات کے مطابق بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت ایک لیکچر سیریز میں حصہ لینے کے لئے جا رہے تھے کہ انکا ہیلی ایم آئی 17 حادثے کا شکار ہو گیا،مقامی فوجی افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے

    بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کا ہیلی کاپٹر تباہ ہونے پر بھارتی وزیراعظم مودی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا، اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارتی وزیراعظم کو ہیلی حادثہ بارے بریفنگ دی، بھارتی وزیر دفاع اعلیٰ حکام کے ہمراہ جائے وقوعہ کا بھی دورہ کریں گے جہاں ہیلی تباہ ہوا ہے ،بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس نا خوشگوار واقعے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع جلد ہی سی ڈی ایس کے ہیلی کاپٹر حادثے پر پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں گے۔

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع بتا رہے ہیں کہ اس بات کے ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کو تامل باغیوں نے نشانہ بنایا ہے، یہ بات صحیح بھی ہوئی تو بھارتی فوج اسکو کبھی تسلیم نہیں کرے گی ،حادثہ کے حوالہ سے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں بیان دیں گے، ذرائع کے مطابق بالاکوٹ حملے کی ناکامی کے بعد بھارتی حکومت بپن راوت سے خوش نہیں تھی جس میں پاکستان کی جانب سے 2 بھارتی جیٹ طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا تھا۔

    دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں ہے، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

    بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت اپنی بیوی اور افسران کے ہمراہ محفوظ ترین ہیلی میں سوار تھے جس کے دو انجن ہیں، ایک انجن میں خرابی آنے کے بعد دوسرے انجن کے ساتھ محفوظ لینڈنگ کروائی جا سکتی ہے ، وی وی آئی پی شخصیات کے لئے اس ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوتا ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد 31 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے جنہیں مودی سرکار نے بھارت کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا تھا جنرل بپن لکشمن سنگھ راوت ہندوستانی فوج کے فور اسٹار جنرل تھے وہ بھارت کے علاقے اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے، انڈین ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے تعلیم حاصل کی، انکے والد بھی فوجی تھے، بھارتی حکومت نے فوج کے حوالہ سے قوانین میں ترمیم کر کے بپن روات کو عہدہ دیا تھا ،اس ضمن میں عمر کی حد بڑھا کر 62 سے 65 برس کی گئی تھی اور آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنایا گیا تھا ،بپن راوت کے والد بھی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے راوت نے 1978 میں فوج کی 11ویں گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں کمیشن کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا جنرل راوت مسلسل کامیابی کی سیڑھی چڑھتے رہے اور مختلف اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے، انہیں یکم ستمبر 2016 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا تھا

    انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

  • رقص کی محفل پر پولیس کا چھاپہ،آٹھ خواتین سمیت 64 ملزمان گرفتار

    رقص کی محفل پر پولیس کا چھاپہ،آٹھ خواتین سمیت 64 ملزمان گرفتار

    تھانہ نوشہرہ کلاں کی بڑی کاروائی۔گزشتہ شب جاری رقص کے محفل پر چھاپہ ۔08 لیڈی ڈانسر سمیت 64 ملزمان گرفتارکر لئے

    گزشتہ شب رات کے تیسرے پہر نوشہرہ کلاں پولیس کو اطلاع ملی کہ میاں جی ہوٹل اسماعیل خیل میں رقص و سرور کی محفل جاری ہے۔جس سے اردگرد آبادی کے آرام میں خلل پڑ رہا ہے۔ہارون خان ایس ایچ او نوشہرہ کلاں نے فوری طور پر نفری کو ہمراہ لیکر حکمت عملی سے کامیاب چھاپہ لگایا۔موقع پر موجود 08 لیڈی ڈانسر کے علاوہ 56 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ملزمان کے قبضے سے 04 عدد پستول اور موقع سے بڑے لاوڈ اسپیکر اور آلات موسیقی برآمد کرکے بطور ثبوت قبضہ پولیس کیا گیا۔ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    قبل ازیں تھانہ نوشہرہ کینٹ پولیس کی اہم کاروائی ۔زبانی تکرار پر نوشہرہ کینٹ بازار میں چھریوں کے وار سے نوجوان کو قتل جبکہ اُسکے 02 ساتھیوں کو زخمی کرنے والے 02 مرکزی ملزمان گرفتار کر لئے، صدام ساکن پشاور نے زخمی حالت میں پولیس کو رپورٹ درج کراتے ہوئے کہا کہ میں اور میرے دو ساتھی سلیمان اور داود ہمارے دوکان کیساتھ کھڑے تھے۔کہ اس دوران جنید اور غفران بمعہ دیگر ساتھیوں آئے اور ہمارے ساتھ بحث و تکرار شروع کی اور ہم پر چھریوں سے گزارات کئے جن سے ہم زخمی ہوئے۔بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے داود ہسپتال میں جانبحق ہوا۔ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان نے بلال احمد ASP کینٹ کی سربراہی میں سرتاج خان پر مشتمل ٹیم تشکیل دیکر کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کا ٹاسک حوالہ کیا۔تفتیشی ٹیم نے جدید طریقہ تفتیش سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔کئی مقامات پر چھاپے لگائے گئے۔ملزمان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے انٹاروگیٹ کیا گیا۔دن رات کی انتھک محنت سے وقوعہ میں ملوث مرکزی ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔ملزمان غفران ولد حضرت اللہ ساکن ڈھیری کٹی خیل اور جنید ولد لطیف اللہ ساکن امانگڑہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ملزمان کو تھانہ نوشہرہ کینٹ منتقل کر دیا گیا۔ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دیکر چھاپے جاری ہیں۔انجمن تاجران نوشہرہ نے ملزمان کی گرفتاری اور تعاون پر نوشہرہ پولیس کی کارکردگی کو سراہا

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    پیشی کے لئے عدالت آنے والی خاتون کے ساتھ والد اور بھائی نے کیا گھناؤنا کام

  • یہ معاشرہ ہے یا جنگل،تین ہولناک واقعات اور ہو گئے

    یہ معاشرہ ہے یا جنگل،تین ہولناک واقعات اور ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

  • پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ
    ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    ۔ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    ۔ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    ۔ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔