پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز کو نور مقدم کی ظاہر جعفر سے بچنے کی کوشش کی لیک ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج نچر کرنے پر پابندی لگادی۔
باغی ٹی وی :پیمرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیمرا آرڈینسس 2002 کی دفعہ 27 کے تحت نور اور ظاہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج نشر کرنے پر پابندی ہے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز (خبروں، حالات حاضرہ/علاقائی زبان) کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مذکورہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو فوری طور پر نشر کرنا بند کر دیں۔
ریگولیٹر نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 29، 30 اور 33 کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب نور کے حق میں بنائے گئے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود ٹی وی چینلز کی جانب سے سی سی ٹی فوٹیج نشر کرنے کی مذمت کی۔
Absolutely shocked & shattered. Its only been a day since the CCTV footage was given to the defense legal team.The Judge told them that it shouldn't be leaked at all. Now it's out there. No regard of what this would be like for Noor's loved ones. Havent they been through enough.
ٹوئٹ میں کہا گیا کہ انتہائی حیرت اور صدمہ، وکیل دفاع کو سی سی ٹی وی فوٹیج ملے صرف ایک دن ہوا تھا اور جج نے انہیں کہا تھا کہ یہ لیک نہیں ہونی چاہیے لیکن اب وہ لیک ہوچکی ہے، اس کی کوئی پرواہ نہیں کی گئی کہ نور کے چاہنے والوں کے لیے یہ کیسا ہوگا، کیا ان کے لیے اتنا صدمہ کافی نہیں؟
واضح رہے کہ یاد رہے کہ 9 نومبر کو نور مقدم قتل کیس میں استغاثہ نے جائے وقوع کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا ٹرانسکرپٹ اسلام آباد سیشن کورٹ میں جمع کرایا تھا جسے عدالت نے فوٹیج وکیل دفاع کو مہیا کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اسلام آباد : ایک کالج کے عملے اور طلبہ کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں معروف صحافی/ٹی وی اینکر کے بیٹے سمیت چار افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز ایف-11/3 کے پرنسپل ڈاکٹر اسد فیض کی شکایت کے جواب میں شالیمار پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا مقدمے میں دفعہ 506 (مجرمانہ دھمکی کی سزا)، 355 (شدید اشتعال انگیزی کے علاوہ کسی شخص کی بے عزتی کرنے کے ارادے سے حملہ یا مجرمانہ طاقت)، 354 (عورت پر مجرمانہ طاقت کے ساتھ اس کی عزت کو مجروح کرنے کے ارادے سے حملہ) اور پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی 542 (غلط قید کی سزا) دفعات لگائی گئی ہیں۔
بعدازاں پولیس نے چاروں افراد کو عدالت میں پیش کیا جہاں سے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
واضح رہے کہ معروف شخصیت جاوید چوہدری کے بیٹے کی کالج اساتذہ اوردیگرعملے سے بدتمیزی اورپھردھمکیوں کا معاملہ اہم صورتحال اختیارکرگیاملزمان گارڈ سے گالم گلوچ کرکے زبردستی کالج میں داخل ہوئے،ان کے نام علی فیضان، محمد فائز جاوید، حارث، اور فضل خان ہیں-
دوسری جانب ایس پی صدر زون نوشیروان علی نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ہفتے کی صبح ایک فون کرنے والے نے پولیس ہیلپ لائن کو اطلاع دی کہ ویگو میں سوار کچھ افراد ایف-11مرکز پر ایک لڑکی کو ہراساں کر رہے ہیں فون کرنے والے نے پولیس کو گاڑی کے رجسٹریشن نمبر سے بھی آگاہ کیا اطلاع ملنے کے بعد فوری طور پر ایک پولیس ٹیم ایف-11 مرکز بھیجی گئی۔
اسی دوران تقریباً صبح 9 بجے پولیس کوایک اور کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ کچھ افراد اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز میں گھس آئے ہیں اور عملے اور طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں جب پولیس وہاں پہنچی تو دیکھا کہ طالبعلموں اور ان کے والدین کا ایک ہجوم اکٹھا ہے، بعدازاں 4 افراد کو حراست میں لے کر ویگو سمیت شالیمار پولیس تھانے منتقل کردیا گیا حراست کے وقت وہ افراد شراب کے نشے میں تھے جن کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا تھا
صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہر کمالیہ میں ایک 80 سالہ ضعیف خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق واقعے کا مقدمہ کمالیہ صدر پولیس تھانے میں گاؤں کھوکھراں والی کی رہائشی بیوہ خاتون کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر میں مدعیہ نے بتایا کہ وہ رات کو اپنے گھر میں سو رہی تھیں کہ جب گاؤں چھا راجے والی کا رہائشی ملزم آدھی رات کو ان کے گھر میں گھس آیا اور ملزم نے ان پر قابو پا کر ان کی گردن میں رسی ڈال کر انہیں باندھا اور اس کے بعد مبینہ طور پر ریپ کردیا۔
بعدازاں پولیس نے معمر خاتون کو طبی معائنے کے لیے کمالیہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا پولیس نے اس گھناؤنے جرم میں ملوث ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
اس سے قبل لاہور میں 10 سالہ بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا،ڈی آئی جی آپریشنز احسن یونس کی ہدایت پر 10 سالہ بچے سے بدفعلی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتارکر لیا گیا،شاد باغ پولیس کی بروقت کاروائی کی وجہ سے اب ملزم سلاخوں کے پیچھے ہے بچے کے والد کی درخواست پر فوری کاروائی کرتے ملزم کو گرفتار کیا گیا ملزم عبدالشکور نے بچے کو چیز دینے کے بہانے اپنی دوکان پر زیادتی کا نشانہ بنایا ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ تفتیش جاری ہے،ایس پی سٹی رضوان طارق کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں کا جنسی استحصال اور تشدد کرنے والے درندہ صفت انسان کسی رعائیت کے مستحق نہیں-
قبل ازیں ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد افضال احمد کوثر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ آدھی رات کے بعد گھروں میں گھس کر گن پوائنٹ پر فیملیز کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کرنے والا غنی گینگ گرفتارکرلیا،
ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے سیکٹرزکے قریب نالوں میں رہائش رکھی ہوئی تھی،ملزمان واردات کرنے کے بعد اسی رات افغانستان فرار ہوجاتے تھے،اس گینگ کا سرغنہ عبدالغنی عرف عبدالوحد عرف عثمان پولیس کو گزشتہ 15 سال سے مطلوب تھا جس نے غنی گینگ بنارکھا تھا، ساتھی ملزمان میں عبدالوہاب، حضرت خان،خدئے رام،جنت گل،محمد کریم،عامر خان اور عزیز اللہ شامل ہیں، ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپے کی نقدی ڈائمنڈ سیٹ سمیت 60 تولے طلائی زیورات ،قیمتی موبائلز، برآمد کئے گئے ہیں،ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ و ایمونشن بھی برآمد کیا گیا تھا-
صو بہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں راغگان ڈیم کے نزدیک پولیس اہلکاروں کو ریمورٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید ہوگئے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او قابل شاہ نے بتایا کہ باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے راغگان ڈیم میں سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا، اور دھماکے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جب کہ دھماکے کی شدت اور آواز سے دور دور تک خوف و ہراس پھیل گیا۔
ڈی پی او صمد خان نے کہا کہ صبح ساڑھے 10 بجے کے قریب اہلکاروں کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا دھماکے کے بعد پولیس اور فورسز کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا، جبکہ ایک اضافی چوکی بھی قائم کردی گئی۔
انہوں نے کہا کہ لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل عبدالحیان اور کانسٹیبل سراج کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعہ کی فوری تحقیقات شروع کردی ہے ۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ضلع باجوڑ میں گزشتہ روز21 اکتوبر کو ریموٹ کنٹرول دھماکے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کے 4 اہلکار شہید ہوگئے تھے ‘آئی ایس پی آر’ کے مطابق باجوڑ کے علاقے ڈبرائی میں آئی ای ڈی دھماکا سیکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران ہوا-
دھماکے کے نتیجے میں ایف سی کے 28 سالہ لانس نائیک مدثر اور 26 سالہ سپاہی جمشید شہید ہوئے دھماکے میں 2 پولیس کانسٹیبلز سپاہی عبدالصمد اور سپاہی نور رحمٰن بھی شہید ہوئے تھے۔
سات سالہ گھریلو ملازمہ کو استری سے جلا دیا،ملزمان میاں بیوی گرفتار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں گھریلو ملازماؤں پر تشدد کا سلسلہ کم نہ ہو سکا
لاہور کے علاقےمیں سات سالہ گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، استری سے جلایا گیا جس سے گھریلو ملازمہ کی حالت غیر ہو گئی، لٹن روڈ کے علاقہ میں سات سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کا معاملہ ڈی آئی جی آپریشنز کے حکم پر لٹن روڈ پولیس نے فوری کاروائی کی،ملزمان افضل عرفان اور بیوی مزدفعہ عرفان کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ 7سالہ مصباح بطور گھریلو ملازمہ کام کرتی تھی۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ کا اندراج عمل میں لایا جارہا ہے۔ ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ بچی کو ضروری قانونی کاروائی کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا گیا۔ ٓڈی آئی جی آپریشنز احسن یونس نے بچی کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں
7سالہ بچی کینال ویو سوسائٹی میں بطور گھریلو ملازمہ کام کرتی تھی۔ بچی کے چہرے اور سر پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ کو استری سے بھی جلایا گیا۔ pic.twitter.com/w1HU3szBca
سپیشل کوآرڈینیٹر وزیراعلٰی اور چئیرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی ہدایت پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے کاروائی کی اور تشدد کا شکار 7 سالہ گھریلو ملازمہ کو تحویل میں لے لیا۔چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا تھا کہ چائلڈ ہیلپ لائن 1121 پر بچی پر تشدد کی اطلاع ملی۔زخمی حالت میں 7 سالہ گھریلو ملازمہ مصباح کو زخمی حالت میں سمن آباد ہسپتال میں لایا گیا۔7سالہ بچی کینال ویو سوسائٹی میں بطور گھریلو ملازمہ کام کرتی تھی۔بچی کے چہرے اور سر پر تشدد کے نشانات موجود ہیں تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ کو استری سے بھی جلایا گیا۔تشدد کا شکار 7 سالہ گھریلو ملازمہ مصباح کو مکمل طبی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔تشدد کا نشانہ بنانے والے مالکان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نےگھریلو ملازمہ پر تشدد کے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی، وزیراعلیٰ پنجاب نے ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہر صورت انصاف فراہم کریں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد افضال احمد کوثر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آدھی رات کے بعد گھروں میں گھس کر گن پوائنٹ پر فیملیز کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کرنے والا غنی گینگ گرفتارکرلیا،
ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے سیکٹرزکے قریب نالوں میں رہائش رکھی ہوئی تھی،ملزمان واردات کرنے کے بعد اسی رات افغانستان فرار ہوجاتے تھے،اس گینگ کا سرغنہ عبدالغنی عرف عبدالوحد عرف عثمان پولیس کو گزشتہ 15 سال سے مطلوب تھا جس نے غنی گینگ بنارکھا تھا، ساتھی ملزمان میں عبدالوہاب، حضرت خان،خدئے رام،جنت گل،محمد کریم،عامر خان اور عزیز اللہ شامل ہیں، ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپے کی نقدی ڈائمنڈ سیٹ سمیت 60 تولے طلائی زیورات ،قیمتی موبائلز، برآمد کئے گئے ہیں،ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ و ایمونشن بھی برآمد کر لیا گیا ہے،
ملزمان نے سابقہ وفاقی سیکرٹری کے گھر ڈکیتی کی واردات کا انکشاف کیا، ملزمان سے لوٹا ہوا مال برآمد کر لیا گیا،ملزمان نے تھانہ گولڑہ، شالیمار، کھنہ، شہزاد ٹاون، آبپارہ اور بنی گالہ کے علاقوں میں وارداتوں کا انکشاف کیا ہے،سی آئی اے پولیس ٹیموں نے دن رات انتہائی محنت کرکے اس خطرناک گینگ کو گرفتار کیا ہے،ملزمان کے خلاف درج شدہ مقدمات میں مزید تحقیقات کا آغاز شروع کردیا ہے سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے،
مقامی صحافیوں کو کان پکڑوا کر تشدد کروانے والا ملزم پولیس نے گرفتار کرلیا
ویڈیو وائرل ہونے پر ڈی آئی جی آپریشنز احسن یونس نے واقعہ پر نوٹس لیا ،ایس پی سٹی رضوان طارق کی قیادت میں شاد باغ پولیس نے کاروائی کی اور اب ملزم سلاخوں کے پیچھے ہے،ملزم اکرام نے مقامی صحافیوں اکمل،افضال بٹ اور ان کے ساتھی اسکے ساتھیوں پر تشدد کروایا،واقعہ کی ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے صحافیوں کو مرغا بنایا ہوا ہے اور گندی گالیاں بھی دے رہا ہے، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،مزید تفتیش جاری ہے ایس پی سٹی رضوان طارق کا کہنا ہے کہ ویڈیو وائرل ہونے پر ملزمان کو تلاش کر کے گرفتار کرنے پر ایس ایچ او شاد باغ اور ٹیم کو شاباش دی،کوئی بھی قانون سے بالا تر نہ ہے,پرتشدد واقعات پر فوری کاروائی عمل میں لائی جائے گی ,قانون کی بالا دستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا,
@MumtaazAwan
قبل ازیں تین روز قبل وارڈنز سے بدتمیزی، بدکلامی، ہاتھا پائی اور غلط شناخت بتانے والا حوالات میں بند کر دیا گیا، واقعہ لاہور میں پیش آیا،سی ٹی او لاہور منتظر مہدی کےحکم پر عرفان ہاشمی نامی ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،والٹن چوک پر ڈیوٹی پر تعینات وارڈن نذر الحق نے تیزرفتاری پر کمسن بچے کو روکا،چالان کرنے پر بچے کا والد ملزم عرفان ہاشمی موقعہ پر پہنچ گیا، غلطی تسلیم کرنے کی بجائے چالان کرنے پر وارڈن سے الجھ پڑا، ملزم نے وارڈن کو دھکے دئیے، وردی پر ہاتھ ڈالا اور چیختا چلاتا رہا، ملزم صحافت جیسے مقدس پیشے کی غلط شناخت کرواتا رہا ،ملزم کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، روڈ بلاکنگ اور پیمرا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ،مقدمہ تھانہ فیکٹری ایریا لاہور میں درج کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے جو بدتمیزی کی اسکی ویڈیو بھی موجود ہے،
سی ٹی او لاہور منتظر مہدی کا کہنا ہے کہ وردی کی عزت نہ کرنے والوں کی کوئی عزت نہیں جائے گی، کیس کی مکمل پیروی کرتے ہوئے ملزم کو اس کے کئے کی سزا دلوائی جائے گی، ہم شہریوں کے تحفظ کیلئے موجود، ایسیا رویہ ناقابلِ برداشت ہے،
واضح رہے کہ ٹریفک وارڈن کی جانب سےلاہور کی سڑکوں پر شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں، بلا جواز چالان اور شہریوں کو ہراساں کیا جاتا ہے،ہیلمٹ پاس ہونے کے باوجود موٹر سائیکل سواروں کا چالان کر دیا جاتا ہے، کئی مقامات پر ٹریفک وارڈن کو دوران ڈیوٹی شہریوں کو تنگ کرتے دیکھا گیا ہے
گیسٹ ہاؤس پر چھاپہ.غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث 18 مردوزن گرفتار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کیخلاف ڈاؤن جاری ہے
لاہور میں تقریبا ایک ماہ سے پولیس نے فحاشی کےا ڈوں کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے، اس دوران پولیس نے کم از کم پانچ سو سے زائد مردوخواتین کو گرفتار کیا ہے، اب پولیس کی تازہ کاروائی سامنے آئی ہے،لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں پولیس نے کارروائی کی ہے اور گیسٹ ہاؤس کے نام پر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث 18 مرد و زن گرفتار کر لئے،گرفتار ملزمان میں 08مرد اور 10خواتین شامل ہیں ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن عمران انوار کا کہناہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انہیں حوالات میں بند کر دیا گیا ہے، ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیزکا کہنا ہے کہ غیر اخلاقی و غیر قانونی سرگرمیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی، معاشرے کو بگاڑ سے بچانے میں شہری بھی اپنا کردار ادا کریں،
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر شہر بھر میں سٹاپ اینڈ سرچ کا سلسلہ جاری ہے ماڈل ٹاؤن ڈویژن سنٹرل پارک ڈولفن نے اپنی جان پر کھیل کر شہری عقیل سے ہونے والی واردات کو ناکام بنادیا۔ ڈولفن کو اطلاع موصول ہوئی کہ سنٹرل پارک گیٹ پر ڈاکو گن پوائنٹ پر شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔ پٹرولنگ پر مامور ڈولفن ٹیم فورا موقع پر پہنچ گئی۔ ڈولفن ٹیم کو دیکھتے ہی ڈاکو فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہوئے،ڈولفن نے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری رکھا۔ تعاقب کے دوران ڈولفن اہلکار گھٹنے پر چوٹ لگنے سے زخمی ہو گیا،ڈاکو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بدوکی جنگل کیطرف فرار ہوگئے۔ ڈولفن ٹیموں کی مقامی پولیس کے ہمراہ ملزمان کی تلاش جاری ہے
آئی جی اسلام آباد کا دورہ،کئی تھانوں کے ایس ایچ او معطل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی آپریشنز کے ہمراہ تھانہ کھنہ،کورال اور کراچی کمپنی کا اچانک دورہ کیا
دورہ کے دوران تھانوں میں قائم فرنٹ ڈیسک کا جائزہ لیا،تھانوں میں آئے ہوئے سائلین سے پولیس کے رویے کے بارے میں آگاہی حاصل کی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی آپریشنز کو ناقص کارکردگی اور جرائم کے خلاف موثر حکمت عملی اپنانے میں ناکام رہنے والے تمام ایس ایچ اوز اور اہلکاروں کو فوری تبدیل کرنے کا حکم دیا،ایسے تمام ایس ایچ اوز اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا بھی حکم دیا، زونلز ایس پی اور ایس ڈی پی اوز کو ہیومن ریسورسز، انٹیلی جینس کی بنیاد پر سٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم میں ملوث گینگز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت کی، فری رجسٹریشن آف کرائم کی پالیسی کو اپناتے ہوئے شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ کرنے کی ہدایت کی،.زیر تفتیش مقدمات اور زیر التواء چالان جو جلدازجلد یکسو کرنے کی ہدایت کی،
آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کا اندراج ہر شہری کا بنیادی حق ہے،ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور شہریوں کے ساتھ نامناسب رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،ایسے اقدامات سے ناصرف شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال ہوگا بلکہ عوام میں پولیس کا مثبت امیج اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے
آئی جی اسلام آباد کے دورہ کے بعد ناقص پرفارمنس پر چار تھانہ جات کے ایس ایچ اوزمعطل کر دیئے گئے، اسلام آباد کے 06 تھانوں میں نئے ایس ایچ اوز تعینات کردئیے گئے، ایس ایس پی آپریشنز نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ تھانہ سہالہ، تھانہ کھنہ، تھانہ کورال اور تھانہ کراچی کمپنی کے ایس ایچ اوز معطل کر دیئے گئے،تھانہ سیکرٹریٹ اور تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ اوز کو ریسکیو15رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز میں انسپکٹر تصدق حسین کو ایس ایچ او تھانہ سہالہ تعینات کردیا گیا۔ انسپکٹر سہیل احمد ایس ایچ او تھانہ کھنہ، سب انسپکٹر شاہد زمان ایس ایچ او تھانہ کراچی کمپنی، سب انسپکٹر فضل خالق ایس ایچ او کورال، سب انسپکٹر ندیم طاہر ایس ایچ او سیکرٹریٹ اور سب انسپکٹر بلال احمد کو ایس ایچ او تھانہ آبپارہ تعینات کردیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر کا کہنا تھا کہ ہمیں اللہ کریم نے لاکھوں لوگوں میں سے عوام الناس کی خدمت کے لئے چنا ہے،اگر ہم اپنے فرائض احسن طریقے اور نیک نیتی سے ادا نہیں کرسکتے تو ہمیں یہ وردی پہننے کا کوئی حق نہیں،نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز اپنے فرائض نیک نیتی، شہریوں کی خدمت کے جذبے کے ساتھ سرانجام دیں،
نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا عدالت میں ایک اور ڈرامہ
نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر نے ایک مرتبہ پھر قانونی نمائندگی کے حصول کے لیے وکالت نامے پر دستخط سے انکار کردیا ہے اور ان کا اصرار ہے کہ انہیں اپنی پسند کا وکیل چاہیے۔
بدھ کو مقدمے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے وکیل ملک امجد کو ملزم سے وکالت نامہ پر دستخط کرانے کا حکم دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ظاہر اس سے قبل عدالت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سرکاری وکیل کی خدمات بھی لینے سے انکار کر چکے۔ جج کی ہدایات کے باوجود ظاہر جعفر نے وکالت نامے پر دستخط نہ کیے اور ملک امجد کو اپنا وکیل تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ ملزم نے کہا کہ یہ میرے وکیل نہیں، میں وکالت نامے پر دستخط نہیں کروں گا، میرے وکیل بابر ہیں جو بیرسٹر ہیں اور وہ آرہے ہیں ظاہرجعفر کے انکار پر جج نے ریمارکس دیئے کہ مرکزی ملزم کے وکیل موجود نہیں ہیں، ملزم نے کہہ دیا ہے وہ وکالت نامے پر دستخط نہیں کریں گے، اب جیل ہی سے دستخط کروائیں گے
نور مقدم قتل کیس،،تھراپی ورکس کے زخمی ملازم نے استغاثہ دائر کر دیا،سیشن کورٹ اسلام آباد میں نور مقدم قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،تھراپی ورکس کے زخمی ملازم نے انسپکٹر عبدالستار اور ظاہر جعفر کے خلاف استغاثہ دائر کر دیا استغاثہ وکیل کے ذریعے تھانہ کوہسار کے علاقہ مجسٹریٹ میں دائر کیا گیا استغاثہ انسپکٹر عبدالستار اور ظاہر جعفر کے خلاف دائر کیا گیا اور کہا گیا کہ تفتیشی افسر عبدالستار اور ظاہرجعفر کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، جوڈیشل مجسٹریٹ نے درخواست ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کو بھیج دی ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی 13 نومبر کو استغاثہ کی درخواست پر سماعت کرینگے
قبل ازیں گزشتہ روز سیشن کورٹ اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی عدا لت نے نور مقدم قتل کے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج ملزمان کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا،ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے سی سی ٹی وی ویڈیو فراہم کرنے کا حکم جاری کیا ،عدالت نے کہا کہ سی سی ٹی وی ویڈیو کو یو ایس بیز میں ڈال کر ملزمان کے وکلاکو فراہم کی جائیں کیس کے تفتیشی افسر نے سی سی ٹی وی ویڈیو کو ڈی سیل کرنے کی درخواست دی
قبل ازیں گزشتہ سماعت پر سیشن کورٹ اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس سے متعلق شواہد جمع کرائے گئے تھے ،پراسیکیوشن نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا ٹرانسکرپٹ سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں جمع کرایا ،ٹرانسکرپٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی وی آر کیمرے کا وقت پاکستان معیاری وقت سے 35 منٹ آگے ہے،18جولائی کو رات10 بجکر 18 منٹ پر نور مقدم فون سنتے ظاہرجعفر کے گھر داخل ہوئی،19جولائی رات 2بجکر 39 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم بیگ لیکر گیٹ سے نکلتے نظر آتے ہیں،رات گھر کے مین گیٹ کے باہر ٹیکسی میں سامان رکھ کر دوبارہ گھر میں داخل ہوئے،2بجکر41منٹ پر نور مقدم گھبراہٹ اور خوف میں ننگے پاوں گیٹ کی طرف بھاگ کر آتی ہے، نور مقدم کے باہر آنے پر چوکیدار افتخار گیٹ کو بند کرتا نظر آتا ہے ظاہر جعفر گھر سے جلدی میں گیٹ پر آ کر نور مقدم کو دبوچ لیتا ہے،نور مقدم ہاتھ جوڑ کر ظاہر کی منت سماجت کرتی نظر آتی ہے، ظاہر جعفر نور مقدم کو زبردستی کھینچ کر گھر لے جاتا ہے،دونوں گیٹ سے باہر گلی میں سامان والی ٹیکسی میں بیٹھ کر چلے جاتے نظر آتے ہیں، رات 2 بجکر 52 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم بیگ لیکر گھر میں مین گیٹ سے داخل ہوتے ہیں مین گیٹ پر افتخار چوکیدار گھر کے صحن میں ہے، کالے رنگ کا کتا بھی نظر آتا ہے،20جولائی کو شام 7 بجکر 12منٹ پر نور مقدم فرسٹ فلور سے چھلانگ لگا کر جنگلے پر گرتی نظر آتی ہے نور مقدم کے ہاتھ میں موبائل فون تھا وہ لڑکھڑاتی ہوئی بیرونی مین گیٹ پر آئی، نور مقدم باہر جانا چاہتی تھی گیٹ پر چوکیدار افتخار اور مالی گیٹ بند کرتے نظر آیا، ظاہرجعفر گھر کے فرسٹ فلور کے ٹیرس سے چھلانگ لگا کر گراونڈ فلور پر آتا نظر آتا ہے،ظاہر جعفر دوڑ کر نور مقدم کو پکڑ کر گیٹ پر بنی کیبن میں بند کرتا نظر آتا ہے، ظاہر جعفر نور مقدم کا کیبن کھول کر موبائل فون چھین لیتا نظر آتا ہے، ظاہر جعفر نور مقدم کو کیبن سے نکال کر گھر میں گھسیٹ کر لے جاتا نظر آتا ہے، 20جولائی 8 بجکر 6 منٹ پر تھراپی ورکس کی ٹیم گھر کے گیٹ سے اندر آتی ہے،تھراپی ورک ٹیم 8 بجکر 42 منٹ پر گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے،آٹھ بجکر55 منٹ پر تھراپی ورکس ایک زخمی کو گیٹ کی طرف لے جاتے نظر آتے ہیں،
@MumtaazAwan
واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے
پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،