باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل میں ایک ریکارڈنگ کے لئے گیا تھا لوگ کہتے ہیں کہ آج کل آپ کی سوچ کیا ہے، اپنے دشمن کیوں بنے ہوئے ہیں،آج کل جو اقتدار میں ہوتا ہے اسکی حمایت صحافت کو چار چاند لگا دیتی ہے لیکن آپ کو دیکھتے ہیں تو سمجھ نہیں آتی کبھی آپ کینٹینر پرہوتے ہیں تو کبھی خلاف ہو جاتے ہیں، ابھی انکے بھی خلاف ہیں،2018 تک تو شریف خاندان حکومت میں تھا اس پر تنقید کرتے تھے ،ہر روز کرپشن دکھاتے تھے، کل منصور نے بھی یہ سوال کیا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سن لیں ایون فیلڈ کے کاغذات سب سے پہلے ہم نے سکرین پر دکھائے، رائیونڈ کی کرپشن ہم نے سب سے پہلے بے نقاب کی،اتفاق فاونڈیز کے درجنوں کیسز سامنے لے کر آئے، کبھی چینل سے نکالے گئے تو کبھی عدالت کے حکم پر آف ایئر کر دیئے گئے ، کبھی مقدمات میں گھسیٹا گیا کبھی دھمکیاں دی گئیں، کبھی پولیس نے گھر پر چھاپے مارے، کبھی گاڑیوں کو ٹکر ماری گئی، کینٹیر پر عمران خان کی تبدیلی کا پہلا جو ہوا کا جھونکا وہ بھی ہماری ذمہ داری ہے، عمرا ن کی حکومت آئی تو ہمارے لئے گرم ہوا چلنی شروع ہو گئی تین ماہ بعد ہی ہمیں آف کر دیا گیا،دو سال بعد عمران حکومت کی دھجیاں بکھیرنے لگ گئے، معید پیرزادہ جیسے مفاد پرست کروڑوں لے گئے، ڈھائی سال ہم نے عمران خان کے ہر غلط کام کو بے نقاب کیا، جو لوگ آج پریس کانفرنس میں کر رہے یا انٹرویو کروا رہے وہ ہم نے پہلے کردیا تھا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف میرا وی لاگ سننا شروع ہو گئے تھے،یہ بھی حقیقت ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے، جو کچھ ہو رہا یہ پہلی دفعہ تو ہو نہیں رہا،آپ بھول گئے 2014 میں جب میں عمران خان کو سپورٹ کر رہا تھا تو میرے اوپر مقدمے بنے،ابھی تک ہیں، کیسے زبان بندی ہوئی، کیسے آف ائر کیا گیا، کیسے ای سی ایل میں ڈالا گیا، یہ ایک کھیل کا حصہ ہے، ایک بات بتا دوں کہ جو سمجھتے ہیں کہ مجھے آف ایئر کر کے اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے یہ ان کی بڑی بھول ہے،دو ما ہ بعد الیکشن ہیں، میں دو ماہ میں جو کچھ سامنے لانے والا ہوں اسکا اندازہ بھی نہیں کر سکتے، سب حیران ہوں گے اور ڈوریاں ہلانے والے پریشان ہوں گے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں کوئی ہوا میں تیر نہیں چلا رہا، سالہا سال کا کیریئر ہے، تکلیف دوں گا تو کتنی دوں گا مجھے ہے حکم اذاں ،لاالہ الااللہ. ہر کوئی سوال کرتا ہے یہ تو میں نے سوچھا کھل کر بتا دوں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستا ن کے حالات کیوں ٹھیک نہیں ہوتے، یہاں ہر روز ایک نیا جادوگر لانچ ہوتا ہے،کسی بھی وزیراعظم نے مدت پوری نہیں کی،بحیثیت قوم ہمارا کردار اہم ہے، مسیحا آتے ہیں یا لائے جاتے ہیں،جو بھی آتا ہے قوم کے مسائل کے حل کے لئے آتا ہے لیکن پھر عمر بھی اقتدار چاہتے ہیں، اگر نواز شریف امیر المومنین بننے کی کوشش نہ کرتے تو شاید انہیں نہ نکالا جاتا، اگر عمران خان بھی اس طرح نہ کرتے تو انہیں بھی شاید نہ نکالا جاتا.جب ترقی کے لئے کسی کو لایا ہی نہیں جاتا تو پھر بعد میں رویا کیوں جاتا ہے، ملک کبھی مذہب، کبھی بھارت کی دشمنی، کبھی ضد، کبھی برداری، کبھی بریانی کی پلیٹ پر برباد کیا گیا،پھل وہی ملے گا جو بویا ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ جس چیز کا انتخاب ہی نہ کیا ہو وہ مل جائے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اگلے چند سالوں میں پاکستان میں ہزاروں بچے مر جائیں تو یہ ویڈیو آپ کے لئے نہیں ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں ایسے مریض ہوں جنکی بیماریاں قابل علاج تھیں لیکن علاج نہیں کرنا اور زندہ مار دینا پھر اس ویڈیو کو دیکھنے کی ضرورت نہیں، چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر، طبی عملے کا حال یہ ہو کہ وہ ہاتھوں میں مردے دے رہے ہوںتو یہ ویڈیو آپ کے لئے نہیں ہے
مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ لیکن اگر آپ یہ نہیں چاہتے کہ معصوم بچوں کی جانیں چلی جائیں، لوگ سسک سسک کر تکلیف سے مرتے جائیں اور ان کی زندگی کا دورانیہ تھوڑا ہو جائے، تو یہ ویڈیو آپ کے لئے ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھ لیں کہ عام الفاظ میں بتا رہا ہوں، میں یہ نہیں سمجھ رہا کہ کون اس ویڈیو کو دیکھ رہا، میں چاہتا ہوں مائیں، باپ ، حکومت کے لوگ اس ویڈیو کو دیکھیں، 24 کروڑ عوام کے بچے ایک آزمائش میں پڑ گئے ہیںَ اس ملک کے حکمرانوں کی بے حسی بتانا چاہتا ہوں ،انکی کرپشن کی کہانی بتانا چاہتا ہوں، انسان کا خون بھی پی کر انکی ہوس نہیں ختم ہوتی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی ایک ادارہ ہے، پاکستان میں ڈینٹل پالیسی ہے ہی نہیں کوئی بھی، کہنے کو ہم پی ایم سی، پی ایم ڈی سی،پی ایم اے کر دیتے ہیں، ہماری پالیسی جن لوگوں نے بنانی ہوتی ہے، جو ذمہ دار ہیں، جو سیکرٹری ہیلتھ بنتے، ڈریپ کے ہیڈ بنتے یا ایسے جتنے بھی ادارے، انکو پتہ ہم نے پیسے کیسے بنانے ہیں، اور جب انکے علاج کی باری آتی ہے تو فوری ایک نسخہ لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انکا علاج پاکستان میں ممکن نہیں اور ایک فلائٹ سے بیرون ملک چلے جاتے ہیں،سوال یہ ہے کہ یہاں پر لوگ اپنے بچوں کی لاشیں کب تک دیکھیں، میں ایک بیماری کی بات کر رہا ہوں، ٹی بی، سمجھتے ہیں ٹی بی عام نہیں ، ہر تین کے بعد چوتھا آدمی اسکا شکار ہے،دنیا میں نوے فیصد لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ انکو ٹی بی ہے،جب تک اسکی تشخیص نہیں ہوتی علاج نہیں ہوتا، اسکے لئے ٹیسٹ ہوتے ہیں کسی بیماری کے تو سامنے آتا کہ ٹی بی بھی ہے، اسکا علاج کیسے ہو گا؟ لاہور میں کیسے علاج ہو گا، جہاں سموگ ہی سموگ ہے، دنیا کی بدترین فضا ہے، سانس لینے سےجہاں اچھا خاصا آدمی بیمار ہو رہا ہے، ٹی بی کی دوائیاں بھی خاص ہیں ،اسکا را میٹریل بھی کٹھن طریقوں سے امپورٹ کرنا پڑتا ہے، مشنیری نہیں ہے، ٹیکنالوجی نہیں،ہیومن ریسورس نہیں جو آ کر بنا لے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا میں دو ارب ٹی بی کے مریض ہیں، اسکی آگاہی ہونی ضروری ہے، علاج کے متعلق بھی آگاہی ضروری ہے، پاکستان میں کیا مسئلہ ہوا، یہ لمبی کہانی ہے، چالیس سال سے چل رہی ہے، ہماری جو ڈریپ اور وزارت صحت ہے، جنتی کرپٹ ہے، او ر قاتل وزارت ہے، چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملے میں پڑیں پتہ چلے کہ یہ کتنے بڑے قاتل ہیں، انکے علاج تو باہر ہوتے ہیں، سیاستدانوں، افسروں کے علاج باہر ہونے ہیں، انکی دوائیاں آ جانی ہیں، لیکن اگر میرے کسی رشتے دار بچے کو دوائی چاہئے تو کہاں سے لے گا، ٹی بی کی جو دوائیاں بناتے ہیں،27 نومبر سے یہ فیکٹریاں پاکستان میں بند ہو جائیں گی اور ارباب اختیار کل کی تاریخ میں بھی اپنے فیصلے کو لے کر بیٹھے ہیں، سوچ و بچار کر رہے ہیں،پاکستان میں وہ جتنا سوچیں گے اتنے بچوں کی موت ہو گی، پاکستان میں ہر ایک منٹ میں بچہ مر رہا ہے، اسکی کئی وجوہات ہیں،ہماری مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بچے مر رہے ہیں، ہم ڈاکٹر سے لڑائیاں کرتے ہیں، ان پر تابڑ توڑ حملے کرتےہیں جب کوئی موت ہو، ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکتے، انکو پتہ ہے کہ آپ انکو مریض دیں گے تو وہ لاش واپس کریں گے کیونکہ ان کے پاس دوائی ہی نہیں ہو گی، پاکستان میں پیر سے یہ دوائیاں بننی بند ہو جائیں گی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوائیاں مہنگی ہونے کی اور وجوہات ہیں، انہی کی چوری کی وجہ سے مہنگی ہوتی ہیں،پاکستان میں دوائیوں کے پلانٹ ڈبلیو ایچ او تصدیق کرتی ہے، اب یہ ہو رہا ہے کہ ہماری حکمت عملی خواہ وہ کوئی بھی حکومت ہو ،کسی کی سیاست کی بات نہیں کر رہا، جب اکانومی کو کنٹرول نہیں کرتے، ڈالر بڑھ جاتا ہے، تین سال پہلے پاکستان میں ٹی بی کی دوائی بنانے کے لئے ساٹھ کروڑ کی لائنز لگانی ہیں،اب ڈالر بڑھ چکا ہے، تو حساب لگائیں اس پر کتنی مالیت چاہئے ہو گی،
جب ملک بھر میں سیاسی ہنگامہ آرائی جاری ہے تو ایک صنعت خاموشی سے تباہی کے دہانے پر اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے جس سے پاکستان میں کمزوروں خصوصاً بچوں کے لیے تباہ کن نتائج کا خطرہ ہے۔پاکستان کے معروف تحقیقاتی صحافی اور ٹاک شو کے میزبان مبشر لقمان کو لکھے گئے خط میں فارماسیوٹیکل کمیونٹی نے اپنی زندگیوں کی جنگ لڑنے والے بہت سے بچوں کی صحت کو ترجیح دینے کی کوشش میں، فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنا معاملہ پیش کیا۔ فارماسیوٹیکل کمیونٹی جو پاکستان میں 1951 سے کام کر رہی ہے، خط کے ذریعے پاکستان کی صحت کی دیکھ بھال اور ادویات سازی کی صنعت کی حمایت میں اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے، کمیونٹی نے ٹی بی (تپ دق) کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ دوا تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
خط میں کہا گیا ہے، ٹی بی ایک ایسی بیماری ہے جس سے روزانہ ہزاروں افراد ہلاک ہوتے ہیں لیکن حکام اس حقیقت سے "غافل” رہتے ہیں کہ "نسلیں تباہ ہو رہی ہیں” جس کے نتیجے میں ملک میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام تباہ ہو رہا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان کو دنیا کا 5واں بوجھ والا ملک قرار دیا گیا ہے جہاں "مارکیٹ میں کوئی دوا فروخت کے لیے نہیں ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ پہلے سے ہی ایک متزلزل معیشت میں جکڑے ہوئے ملک کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث کیوں بن رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کے اعدادوشمار کے مطابق صرف 2022 میں تقریباً 1.3 ملین جانیں ٹی بی کی وجہ سے ضائع ہوئیں جن میں سے 167,000 ایچ آئی وی پازیٹیو تھے۔
اگرچہ 2030 تک ٹی بی کی وبا کا خاتمہ اقوام متحدہ (UN) کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کا صحت کا ایک لازمی ہدف ہے، لیکن پاکستان اس کی گہرائی میں گرتا جا رہا ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔ صرف گزشتہ چند سالوں میں، ملک 7ویں سے 5ویں نمبر پر آگیا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ جیسا کہ خط میں بجا طور پرکہا گیا ہے، ملک میں ٹی بی کی ادویات کی تیاری مہنگی ہے، اس کے خام مال کو ڈالر میں درآمد کرنے کی ضرورت ہے، پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے، اور ڈبلیو ایچ او کی فارمولیشنز کے مطابق معیار کی لاگت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جو اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ٹیبلٹ مینوفیکچرنگ لائن قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کی لاگت تین سال قبل 580 ملین ڈالر تھی۔ جو اب بالترتیب 800-900 ملین ڈالر کے درمیان پہنچ گئی ہے.
لیکن ان پیداواری سہولیات پر اتنی لاگت کیوں آرہی ہے جس کے نتیجے میں پوری صنعت ختم ہو جائے گی؟ خط میں دلیل دی گئی ہے کہ اس کی وجہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین پر توجہ مرکوز کرنے والی پالیسی اور نظام کے باوجود، خاص طور پر پچھلے چند سالوں میں اس پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔ 2022 کے جنوری-فروری میں، صنعتوں نے ضروری مصنوعات کی قیمتوں پر غور کرنے کے لیے ایک کیس جمع کرایا جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس وقت، ڈالر 176 PKR پر تھا، اور وکلاء اور ریگولیٹری محکمے بغیر کسی پیش رفت کے گھنٹوں عدالتوں کے باہر گزارتے تھے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس دسمبر 2022 میں بلایا گیا، ایک سال بعد جب ڈالر 226 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ معاملہ کابینہ کے پاس چلا گیا۔ تب سے، فارماسیوٹیکل کمیونٹی انتظار کر رہی ہے۔
ای سی سی کے مسترد ہونے سے اسے ڈریپ کو نظرثانی کے لیے موخر کر دیا گیا ہے جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس عمل میں، ڈالر بڑھ کر 308 PKR اور واپس 282 PKR پر پہنچ گیا ہے لیکن اس کے باوجود قومی دواسازی کی صنعت کو کوئی ریلیف نہیں ملا ہے جو ملک بھر میں ضروری صحت کی دیکھ بھال اور ادویات کی بہتر پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل حکومت سے ریلیف کی تلاش میں ہے۔خط میں انکا کہنا ہے کہ واحد حل سالانہ افراط زر اور امریکی ڈالر کی اتار چڑھاؤ کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ PKR کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافے کو طے کرنا انڈسٹری کے لیے اب ممکن نہیں رہا۔
خط کے مطابق نہ صرف مینوفیکچرنگ لائنوں اور اس سے منسلک صنعتوں کا خاتمہ اور بندش ناگزیر ہے۔ فارماسیوٹیکل کمیونٹی کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس علاج کے بغیر مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ وہ زور دیتے ہیں، کہ بچوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر جوابدہ ہونے کے لیے کسی کو فلسطین جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو پاکستان میں بچوں کی ٹی بی اس سال کافی بچوں کو ہلاک کر دے گی۔ہم کئی سالوں سے خاموش ہیں لیکن معصوم بچوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کا عدت میں نکاح میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے
بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کر لیا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا کی استدعا کردی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی نے میری بیوی بشری مانیکا کو ورغلایا،اس سے ناجائز تعلقات رکھے، مجھ سے چھین کے عدت میں نکاح کیا اور میری زندگی تباہ کی، یہ جرم بنی گالہ اسلام آباد میں ہوا،تصدیق شدہ ناجائز تعلقات کی بناء پر بشریٰ بی بی کو طلاق دینے پر مجبور ہوا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی استدعا کردی
اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر خاور مانیکا کی درخواست میں عمران خان اور بشری بی بی کے یکم جنوری 2018 کے نکاح کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے،خاورمانیکا نے غیرشرعی نکاح، زنا سے متعلق دفعات کے تحت درخواست دائر کی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہوئے اورشکایت درج کرادی،درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی
درخواست میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سے 1989 میں شادی ہوئی، ہماری شادہ شدہ زندگی پر سکون جارہی تھی جب تک چیئرمین پی ٹی آئی نے مداخلت کی،پیری مریدی کے چکر میں چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے گھر داخل ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی گھنٹوں بشریٰ بی بی کے گھر رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی اور میری شادی شدہ زندگی میں مداخلت شروع کردی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کو بے عزت کرکے کئی بار گھر سے نکالا،ایک بار رات گئے گھر آیا تو زلفی بخاری کو اپنے کمرے میں پایا،زلفی بخاری چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے گھر آنے جاتے رہتےتھے، چیئرمین پی ٹی آئی،زلفی بخاری کا اس طرح گھر پر آنا غیر اسلامی تھا،بشریٰ بی بی کا چیئرمین پی ٹی کے گھر بھی آنا جانا شروع ہوگیا،بشریٰ بی بی گھنٹوں چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر رہتی تھیں،بشریٰ بی بی کے ساتھ میری تلخ کلامی بھی ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کےکہنے پر بشریٰ بی بی کو فرح گوگی نے الگ موبائل دیا،بشریٰ بی بی کو کئی بار روکا لیکن وہ ہمیشہ بہانے باننا شروع کر دیتی تھیں، مجھے میرےنوکر نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے ناجائز تعلقات بھی ہیں، بہت کوشش کی رشتہ قائم رہےلیکن 14نومبر2017 کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے غیرشرعی نکاح فروری 2018 میں کیا، فرح گوگی نے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا اور زبردستی کی، میں نے فرح گوگی کی بات رد کی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے دوبارہ نکاح کیا، میری شادی شدہ زندگی چیئرمین پی ٹی آئی نے برباد کی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی زنا کے مرتکب ہوئے،دوران عدت نکاح کیا، گناہ کیا، فراڈ پر مبنی شادی کی،
خاور مانیکا کی درخواست پر عدالت نے تین گواہوں کو نوٹسز جاری کر دیے،گواہوں میں عون چوہدری، مفتی سعید، خاور مانیکا کا ملازم شامل ہے،عدالت نے سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی، واضح رہے کہ ایک شہری محمد حنیف کی طرف سے دائر غیر شرعی نکاح کیس واپس لیا گیا تھا،غیر متعلق ہونے کی بناء پر پہلے والی درخواست واپس ہوئی،خاور مانیکا کی جانب سے مدعی بننے پر غیر شرعی نکاح و مبینہ ناجائز تعلقات کا کیس اہمیت اختیار کر گیا
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لوگ قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ بلاول اور آصف زرداری کی لڑائی ہوئی،پہلے بلاول دبئی گئے تو پھر آصف زرداری بھی دبئی پہنچ گئے پیپلز پارٹی والے کہہ رہے ہیں کہ ملنے گئے ہیں، کوئی اہم میٹنگ ہے، دو چار دن میں سب واپس آ جائیں گے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی میں شدید قسم کی لڑائی چل رہی ہے، اسکے پیچھے کئی محرکات ہیں، پیپلز پارٹی کا انٹرنل انفراسٹرکچر آمنے سامنے کھڑا ہے، کل فرحت اللہ بابرنے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استفعیٰ دیا، وہ جنرل سیکرٹری تھے،الیکشن شیڈول اگر فرض کریں کہ دسمبر میں آنا ہے اور وہ ابھی استعفیٰ دے رہے تو یہ بڑا مسئلہ بن گیا ہے، یہ الیکشن کمیشن میں جائے گا، پارٹی جس نے الیکشن لڑنے ہیں، ا س کے جو ٹکٹ ہوں گے وہ سیکرٹری جنرل بھیجتا ہے کہ یہ فلاں فلاں ہمارا امیدوار ہے اسکو پارٹی نشان دیں، اگر الیکشن شیڈول سے دس دن قبل سیکرٹری جنرل استعفیٰ دیتا ہے تو اسکا طریقہ کار ہے.آپکو پارٹی کا الیکشن کرانا پڑے گا، لیکن اس کی بھی ایک ٹائم لائن ہوتی ہے، کاغذ جمع ہوں گے ، سکروٹنی ہو گی، اور پھر فیصلہ ہو گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فرحت اللہ بابر کا استعفیٰ ، پیپلز پارٹی کی فور پی جماعت کے سیکرٹری جنرل تھے، کچھ سال پہلے کی طرف جائیں، سال، ڈیڑھ برس قبل بلاول نے قومی اسمبلی میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ بزرگ گھر بیٹھ جائیں اب پچھلے ایک ہفتے سے وہ مسلسل یہ کہہ رہے تھے، مولانا فضل الرحمان سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا بلاول کے والد بھی بزرگ ہیں و ہ اپنے والد کو کہہ رہے ہیں،مولانا نے اشارہ بتا دیا کہ گھر میں لڑائی ہو ہی ہے، مجھے پتہ چلا ہے کہ جو وجہ بنی ہے کہ آصف زرداری سمجھتے ہیں کہ ان پر بہت زیادہ پریشر ہے کہ نواز شریف سے الحاق کرنا چاہئے، اس سے کم از کم وہ سندھ بچا لیں گے، اگر سندھ بچا لیں گے تو وفاق میں بھی سیٹیں لے سکتے ہیں، انکو کہا جا رہا ہے کہ حکومت بچائیں لیکن بلاول بالکل اس کے الٹ چل رہے ہیں، بلاول نے نواز شریف پر سیاسی جملے کہے، مہنگائی لیگ کہا،
پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر میجر (ریٹائرڈ) عادل فاروق راجہ پر فوجی اہلکاروں میں بغاوت پر اکسانے کا جرم ثابت ہو گیا
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن (ریٹائرڈ) حیدر رضا مہدی پر بھی فوجی اہلکاروں میں بغاوت پر اکسانے کا جرم ثابت ہوا،دونوں ریٹائرڈ فوجی افسران کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزا سنادی،سزا کے مطابق 21 نومبر 2023 سے دونوں افسران کے رینک ضبط کر لیے گئے ہیں، عادل راجہ کو 14 سال قید، کیپٹن ریٹائرڈ مہدی کو 12 سال قید بامشقت کی سزا سُنا دی گئی،سزا کے مطابق 21 نومبر کو دونوں افسران کے رینک ضبط کر لیے گئے ہیں، دونوں آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، دونوں پر ریاستی تحفظ اور مفاد کے خلاف منفی سرگرمیوں کی دفعات کا اطلاق کیاگیا،سزا میں فرائض کی انجام دہی،
عادل راجہ اورحیدر مہدی کا غیر حاضری میں ٹرائل کیا گیا،ملزم عادل راجہ کو 14سال جبکہ ملزم حیدر مہدی کو 12سال قید بامشقت کی سزا سنادی گئی،دونوں ملزمان کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ1923کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزا ئیں سنائی گئیں ،عادل راجہ اور حیدر مہدی کو فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اُکسانے، جاسوسی اورقومی سلامتی کے لئے خطرے سے متعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی بعض دفعات کی خلاف ورزی پرسزا سنائی گئی
ملزم عادل راجہ کے خلاف 7مئی 2023کو تھانہ جنوبی لاہور کینٹ میں مقدمہ درج کیا گیا،18جون 2023کو عادل راجہ کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائی کی گئی،عادل راجہ کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران عدالت کی جانب سے پہلا سمن 19جون2023کو جاری کیا گیا، عادل راجہ کو سمن کی وصولی سفارتی ذرائع کے ذریعے کرائی گئی،عادل راجہ کو دوسرا سمن22اگست2023کو جاری کیا گیاجبکہ عدالت پیش ہونے کے لئے 30دن کا وقت دیا گیا،مسلسل عدالت سے غیر حاضری پرعادل راجہ کو7اکتوبر2023کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی
اس کے علاوہ دوسرے ملزم حیدر مہدی کے خلاف بھی 7مئی2023کو تھانہ جنوبی لاہور کینٹ میں مقدمہ درج کیا گیا،ملزم حیدر مہدی کو 26جون2023کو پہلا سمن جاری کیا گیا،سمن بذریعہ کینیڈا ڈاک رجسٹرڈ میل کے ذریعے بھیجا گیا جس میں عدالت نے ملزم حیدر مہدی کو 27جولائی2023 کو طلب کیا مگرسمن وصول کئے بغیر واپس بھیج دیا گیا،دوسرا سمن 28اگست2023کو بھیجا گیا جس میں عدالت نے ملزم کو29ستمبر2023کو طلب کیا،دوسرا سمن بھی بغیر وصولی کے ہی واپس کر دیا گیا،مقدمے میں مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے حیدر مہدی کو پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 131 کے تحت 12 سال قید بامشقت کی سزا سنا ئی،دونوں ملزمان کو قانون کے مطابق کونسل بھی مہیا کی گئی تھی،عادل فاروق راجہ اور حیدر رضا مہدی پر پہلے ہی پاکستان پینل کوڈ (PPC 1860)، پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ ( PECA 2016) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA 1997) کے تحت بغاوت، ہتک عزت، ریاست کے خلاف جرم، اکسانے کے جرم میں فرد جرم عائد کی گئی تھی،دونوں ملزمان کو بغاوت، دہشت گردی اور تشدد پر اکسانے اور عدالت کی طرف سے مفرور، اشتہاری قرار دیا گیا تھا ،عدالت کی ہدایات کے تحت مفرور افراد کے خلاف پہلے ہی درج ذیل کارروائیاں کی جا چکی ہیں ،اس کے علاوہ دونوں ملزمان کی ذاتی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کر لی گئیں تھیں ،اس کے ساتھ ساتھ دونوں ملزمان کے بینک اکاؤنٹس منجمد،پاسپورٹ اورشناختی کارڈ منسوخ اور دونوں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ای سی ایل میں بھی ڈال دیا گیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج کرانے کی درخواست 28 نومبر کو سماعت کے لئے مقرر کردی
راولپنڈی کے شہری عاطف علی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سماعت کریں گے، ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی رکاوٹ توڑنے اور مختلف ایونٹس کو غلط اور من گھڑت طریقے سے بیان کرنے کے الزام پر مقدمہ اندراج کی درخواست میں عدالت نے ایف آئی اے ، جنرل ر قمر جاویدباجوہ ، جنرل ر فیض حمید ، صحافی جاوید چوھدری ، شاہد میتلا ، پیمرا اور پریس ایسوسی ایشن آف پاکستان کو نوٹس جاری کر رکھا ہے، شہری درخواست گزار کے مطابق ایف آئی اے کو مقدمہ درج کی درخواست کے بعد بار بار استدعا کی ، پیمرا کو بھی پابندی کی استدعا کی لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا ، ایف آئی اے کو حکم دیا جائے کہ جنرل ر قمر جاوید باجوہ ، جنرل ر فیض حمید ، صحافی جاوید چوھدری اور شاہد میتلا کے خلاف مقدمہ درج کرکے کاروائی کرے
جاوید چوھدری اور شاہد میتلا نے صرف ویورشپ کے لئے دو آرٹیکل لکھے جس کا سوسائٹی پر نیگیٹو اثر ہوا ، جاوید چوھدری اور شاہد میتلا کے آرٹیکلز کو پٹیشن کا حصہ بنایا گیا,درخواست میں کہا گیا کہ جب میں نے آرٹیکلز دیکھے تو حیران رہ گیا کیسے مافیا سوسائٹی کو پرگندا کر رہا ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کرمنل رویہ سامنے آیا اس سے مقدمہ اندراج کی درخواست دی ، کرمنل ایکٹ باجوہ اور فیض حمید کی ملی بھگت سے ہوا ایف آئی اے سخت ایکشن لے ، جنرل باجوہ اور جنرل فیض قانونی رکاوٹ عبور کرکے سنگین جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں ، غلط اور من گھڑت طریقہ سے مختلف ایونٹس کو ظاہر کرکے داغدار کیا گیا ،توجہ حاصل کرنے کے لیے صحافت کی آڑ میں آرٹیکلز سے ریاستی ادارے کی نگیٹیو تصویر پیش کی گئی۔ ان واقعات کے تناظر میں جاری مہم عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش ہے ،
اسلام آباد ہائیکورٹ،بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی سے متعلق قائم کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کا کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر انسانی حقوق کو طلب کر لیا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کوبھی 29 نومبر کو گیارہ بجے عدالت میں طلب کر لیا
جسٹس محسن اختر کیانی نے گزشتہ سماعت کا پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ مختلف یونیورسٹیوں کے 69 بلوچ طلبہ کی نسلی پروفائلنگ، ہراساں اور جبری گمشدہ کیا گیا، ریکارڈ کے مطابق کچھ لاپتہ طلبہ گھروں کو لوٹ آئے لیکن کم از کم پچاس اب بھی غائب ہیں، سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے بلوچ طلبہ کے تحفظات کے ازالے کیلئے کمیشن تشکیل دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ ریاستی اداروں کی جانب جبری گمشدہ بلوچ طلبہ اب بھی لاپتہ ہیں،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس مسئلے پر کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا، اکیس سماعتوں کے باوجود اس مسئلے پر مثبت بتائج نہ آنا آئین پاکستان کی توہین ہے،عدالتیں مظلوم کیلئے امید کی آخری کِرن ہوتی ہیں، ریاستی عہدیداروں کے اس سُست رویے نے اعلی عدالتوں پر عوامی اعتماد متزلزل کر دیا ہے، الارمنگ ہے کہ ریاستی اداروں پر بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی کا الزام ہے اور وہی انکو بازیاب کرانے میں بے بس ہیں،عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے سے غیرسنجیدگی سے نمٹ رہی ہے،
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار حکومتِ پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روک نہیں پا رہی، عدالت کے پاس وزیراعظم، وزیر دفاع اور داخلہ کو طلب کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، وزیر انسانی حقوق، سیکرٹری داخلہ اور دفاع بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز پیش ہو کر بتائیں کہ معاملے کو اہمیت کیوں نہیں دے رہے؟کمیشن رپورٹ کے مطابق یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا، امید ہے وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز ٹھوس نتائج کے ساتھ عدالت میں پیش ہونگے، امید ہے عدالت کو بتایا جائے گا کہ لاپتہ طلبہ اپنے گھروں میں واپس پہنچ گئے ہیں، کوئی طالبعلم ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہو تو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے، ناکامی کی صورت میں سمجھا جائے گا کہ مندرجہ بالا افراد ریاستی مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، سمجھا جائے گا کہ یہ افراد اس سسٹم کا حصہ ہیں جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، یہ افراد اپنی موجودگی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی تصور ہونگے،
پاکستانی ماضی کی نامور اداکارہ حاجرہ خان نے کہا ہے کہ دس سال پہلے ہم نے عمران خان کو سپورٹ کیا، لوگوں کو کہا سب ٹھیک ہوجائے گا، آج میں ان سب سے معافی مانگتی ہوں
وفاقی دارالحکومت اسلام آبا د میں کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر حاجرہ خان کاکہنا تھا کہ میں عمران خان کے لئے لوگوں سے لڑتی تھی کہتی تھی تبدیلی آئے گی، ہم سپورٹر تھے،لیکن اب میں سب سے معافی مانگتی ہوں، احتساب اپنے آپ سے شروع کرتی ہوں، ہم نے اسے مسیحا بنایا تھا دوستوں کو کہتی تھی کہ اچھا ہو گا تبدیلی آئے گی.
حاجرہ خان کا کہنا تھا کہ نو سال میرے اوپر کیا گزری، میں نے تو نہیں کہا تھا کہ پاکستان کی بلڈنگ پر حملےکریں، جو بھی کیا انہوں نے خود کیا،حکومت میں موجود لوگوں سے مقابلہ نہیں کر سکتے، اس مقام پر آتے آتے مجھے نو سال لگے،میرا کتنا نقصان ہوا، مجھ پر کیا گزری،عمران خان کے ساتھ ایک حادثاتی ملاقات تھی ایک ایونٹ پر،عمران خان نے سائیکل پر آفس آنا تھا، وہ سائیکل کہاں ہے؟ کسی نے دیکھی ہے، میں اپنی کتاب پر قائم ہوں ، جو فیصلے لیے ہیں ان پر قائم ہوں ، اپنے والد کو تحریک انصاف میں لانا میرے ضمیر پر بہت بڑا بوجھ ہے کہ کیوں میں انکو اس جماعت میں لیکر آئی،کسی اور کی ڈیمو کریٹک خواہشات کیا ہیں مجھے اس سے کچھ نہیں، میں اپنا سب کچھ بیان کر رہی ہوں، زندگی کی بڑی چیزیں میں نے بریک ہیں، اسکا میری زندگی پر بڑا منفی اثر ہو گا لوگ تو بڑی آسانی سے بات کر لیتے ہیں کہ یہ اداکارہ ہے، عمران خان کی انا پرستی بہت بڑا مسئلہ ہے،اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ عورتوں کا ریپ اسلئے ہوتا ہے کیونکہ مرد روبوٹ نہیں ہوتے تو یہ بات ذاتی نہیں رہتی وہ بات میری سیکیورٹی پر آجاتی ہے۔میں ساڑھی پہن رہی ہوں تو میں نے یہ ساڑھی توشہ خانہ سے نہیں لی میں ٹیکس دہندہ ہوں اور یہ میں نے اپنے پیسوں سے خریدی ہیں،جس دن میں حکومت میں ہوں تب سوال کیجیے گا کہ دن کو جو بھاشن دیئے تھے اس پر کیا، پھر سوال کیجیے گا، کوئی کتنا ہی خوبصورت، ہینڈسم یا لبھانے والی باتیں کرتا ہو بچیوں کو خود کو بچانا چاہیے زندگی میں بچیوں کو احساس کرنا چاہیے انہیں کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے،
حاجرہ خان کا کہنا تھا کہ یہ کتاب نو برس پہلے لکھی تھی لیکن تب پبلش نہیں ہوسکی اور اب یہ جاکر پبلش ہو رہی ہے، نو سال بعد سب تک پہنچ رہی ہے، پاکستان مجھے واپس آنا پڑا تو جتنے بھی میرے اکاؤنٹس تھے سب ہیک کئے گئے،اور آج تک ری سٹور نہیں ہوئی،میری جدوجہدہے، آج بھی لوگوں سے بات کرتے ہوئے ڈر فیل ہوتاہے، میری کتاب میرے تجربات پرمبنی ہے، میں نے کوئی جھوٹ نہیں لکھا بلکہ سچ لکھا ہے
اسلام آباد سے صحافی صبیح الحسن جو کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک تھے وہ ٹویٹر پر کہتے ہیں کہ ہاجرہ خان کی کتاب رونمائی میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ محترمہ اپنی گفتگو میں فرماتی ہیں کہ میں ساڑھی پہنوں یا جیسا میک اپ کروں یہ میری چوائس ہے اور خود موصوفہ نے عمران خان کی نجی زندگی پر پوری کتاب لکھ ڈالی۔ کہتی ہیں 2014 میں کتاب چھاپنے سے برطانیہ میں پبلشر نے روکا تھا۔
واضح رہے کہ ماضی کی معروف اداکارہ ہاجرہ خان پانیزئی کی کتاب کی تقریب رونمائی آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی،سوشل میڈیا پر وائرل کتاب کے ایک صفحے میں ہاجرہ خان نے عمران خان بارے انتہائی شرمناک الزام عائد کیا اور کہا کہ عمران خان نے جانوروں کے ساتھ بھی جنسی عمل کیا، کتاب میں کتے کے بارے میں لکھا گیا ہے،سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے صفحے میں کہا گیاہے کہ"مجھے یاد پڑتا ہے اس وقت ایک بیوہ خاتون تھی اس نے مجھے بتایا کہ میں نے عمران خان کو کتے کے ساتھ جنسی عمل کرتے ہوئے دیکھا اور میں اس کی عینی شاہد ہوں ، اس کتے کی نسل لیبراڈور تھی اوروہ مادہ تھی میں دنگ رہ گئی تھی، پاکستانی معاشرے میں جانوروں کے ساتھ جنسی عمل اور وہ بھی عمران خان جیسی شخصیت کی جانب سے ،اس وقت اس خاتون پر یقین کرنا بہت مشکل تھا ، لیکن اس کے انکشاف پر آج یقین کرنا آسان ہے .
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے امام کعبہ کی ملاقات ہوئی ہے
ڈی جی آئی ایس پی آرکے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دورہ پاکستان پر امام کعبہ کو خوش آمدید کہا،
اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ امام کعبہ کا پاکستان آنا پاکستانی عوام کے لیے اعزاز کی بات ہے،دنیا بھر کے مسلمان حرمین شریفین کے لیے بے پناہ عقیدت اور احترام کرتے ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق معزز مہمان امام کعبہ صالح بن عبداللہ کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے،اسلام کی غلط تشریحات کی کوئی گنجائش نہیں۔معززین نے غزہ تنازعہ میں جاری مظالم اور مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی مذمت کی اور فلسطین اور کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ آخر میں امام کعبہ نے امت کے امن، استحکام اور اتحاد کے لیے دعا کی۔
قبل ازیں امام کعبہ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید کی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کے رہائش گاہ آمد ہوئی،وزیر داخلہ نےامام کعبہ کا پر تپاک خیر مقدم کیا اور کہا کہ آپ کی میرے گھر آمد میری خوش قسمتی اور میرے پورے خاندان کیلئے باعث سعادت ہے، پاکستانی عوام سرزمین حجاز سے بے حد پیار کرتے ہیں اور خادمین حرمین شریفین سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں، پاک سعودی تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ اور عوامی روابط پر محیط ہیں،پاکستان سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے
واضح رہے کہ امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید 6 روزہ دورے پر گزشتہ روز پاکستان پہنچے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی، وزیر تعلیم مدد علی سندھی،وزیراعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور سعودی سفیر نواف بن سید المالکی نےامام کعبہ کا استقبال کیا،امام کعبہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے،
نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے امام کعبہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ صالح بن عبداللہ بن حُمَید کی ملاقات ہوئی ہے،
وزیرِ اعظم نے پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں ترقی کیلئے سعودی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔وزیرِ اعظم نے غزہ میں جاری نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور بچوں کے قتلِ عام کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے فلسطینیوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کیلئے فوری طور پر راہداری کے قیام پر بھی زور دیا۔
وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور تقافت پر ڈاکیومینٹریز کو مختلف زبانوں میں نشر کیا جائے تاکہ دنیا کے ہر کونے میں لوگوں تک اسلام کا صحیح سیاق و سباق پہنچانے میں مدد مل سکے۔امامِ کعبہ نے پاکستانی افرادی قوت کے سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار کی تعریف کی اور پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مثالی قرار دیا۔
امام کعبہ الشیخ صالح بن عبداللہ فیصل مسجد اسلام آباد میں جمعہ مبارک کا خطبہء پڑھ رہے ہیں pic.twitter.com/XBgXz9EpIk
قبل ازیں امامِ کعبہ صالح بن عبداللّٰہ بن حمید نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فیصل مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیا اور امامت کروائی،اس موقع پر فرزندانِ اسلام نے بڑی تعداد میں امامِ کعبہ کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کی، نماز جمعہ کے خطبہ میں امام کعبہ کا کہنا تھا کہ آخرت کی بہتری کے لیے خود کو بہتر کریں،مسلمانوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں،آپس میں اخوت، محبت اور مساوات کو فروغ دیں،مسلمانو، فلسفہ تقویٰ پر سختی سے کاربند رہو،
امام کعبہ شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید کی فیصل مسجد نماز جمعہ پر آمد کے موقع پر اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے،سینئر افسران تمام تر انتظامات کا ازخود جائزہ لے رہے تھے۔ ٹریفک کی روانی کیلئے بھی خصوصی نفری تعینات کی گئی تھی،
قبل ازیں خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبد اللہ نے اسلام آباد میں پاکستان کے چار روزہ دورے پر آئے ہوئے امام کعبہ شیخ صالح بن عبدللہ بن حمید سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
قبل ازیں امام کعبہ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید کی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کے رہائش گاہ آمد ہوئی،وزیر داخلہ نےامام کعبہ کا پر تپاک خیر مقدم کیا اور کہا کہ آپ کی میرے گھر آمد میری خوش قسمتی اور میرے پورے خاندان کیلئے باعث سعادت ہے، پاکستانی عوام سرزمین حجاز سے بے حد پیار کرتے ہیں اور خادمین حرمین شریفین سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں، پاک سعودی تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ اور عوامی روابط پر محیط ہیں،پاکستان سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے
واضح رہے کہ امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید 6 روزہ دورے پر گزشتہ روز پاکستان پہنچے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی، وزیر تعلیم مدد علی سندھی،وزیراعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور سعودی سفیر نواف بن سید المالکی نےامام کعبہ کا استقبال کیا،امام کعبہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے،