Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • حماس،اسرائیل  عارضی جنگ بندی کا آغاز

    حماس،اسرائیل عارضی جنگ بندی کا آغاز

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین چار روزہ عارضی جنگ بندی شروع ہو گئی ہے

    عارضی جنگ بندی کے دوران قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا، غزہ میں سامان بھجوایا جائے گا، قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان مجید الانصاری کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے دوران حماس کے پاس موجود 13 اسرائیلی یرغمالیوں کے پہلے گروپ کو رہا کیا جائے گا،جنگ بندی کے ایام میں روزانہ کی بنیاد پر یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا اور 4 دنوں میں مجموعی طور پر 50 یرغمالی رہا ہوں گے،

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ یرغمالی اسرائیل پہنچیں گے تو حماس کے قیدیوں کو چھوڑا جائے گا، حماس کے کتنے قیدی رہا کئے جائیں گے، اسرائیل نے بتانے سے انکار کیا،

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت میں شہداء کی مجموعی تعداد 14 ہزار 854 ہوگئی ہے جس میں 6 ہزار 150بچے اور 4 ہزار خواتین شامل ہیں

    حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے حوالہ سے ہونیوالے معاہدے کے تحت حماس پچاس اسرائیلی خواتین قیدیوں اور بچوں کو رہا کرے گا، وہیں اسرائیل 150 خواتین اور قیدی بچوں کو رہا کرے گا،غزہ میں امداد بھی مصر سے جانے دی جائے گی، ایندھن بھی پہنچایا جائے گا، روزانہ 300 ٹرک سامان کے جائیں گے

    جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق اسرائیل نے حماس کے مطالبے پر رہا ہونیوالے قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے،ابتدائی طور پر اسرائیل 150 قیدیوں کو رہا کرے گا تاہم اسرائیل نے 300 قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے، اسرائیل جن قیدیوں‌کو رہا کرے گا ان میں سے 287 افراد کی عمریں 18 برس سے کم ہیں، انہیں ہنگامہ آرائی، پتھراؤ کے الزامات کی وجہ سے اسرائیل نے گرفتار کیا تھا،13 خواتین بھی اس فہرست میں شامل ہیں،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 4 روزہ عارضی جنگ بندی کے آغاز کے بعد مصر سے براستہ رفح کراسنگ 8 ٹینکر جنوبی غزہ میں داخل ہو گئے ہیں،اسرائیلی فوج کے مطابق 4 ٹینکر ایندھن اور 4 ٹینکر کوکنگ گیس کے داخل ہوئے ہیں،عرب میڈیا کے مطابق آج کم از کم 200 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونے کی توقع ہے،

    الجزیرہ کے مطابق، جنگ بندی کا عمل شروع ہوا تو آدھے گھنٹے بعد غزہ میں شہری گھروں سے باہر نکلے تا ہم ابھی تک وہ ڈرے ہوئے ہیں، کہ اسرائیل کہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کردے،کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں بمباری نہ کی ہو.ایک فلسطینی شہری زاک ہانیہ جو بے گھر ہو چکی کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہم جنگ بندی سے خوش ہوں یا غمگین، ہمارا تو سب کچھ ختم ہو چکا، گھر ملیا میٹ ہو گئے، ہمارے دل ٹوٹ گئے، اب سب کچھ ختم ہونے کے بعد جنگ بندی،نہیں پتہ زندگی کیسے گزرے گی،ہانیہ کا کہنا تھا کہ ہم گھر نہیں جا سکتے ،ملبے تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیلی فوج اجازت نہیں دے گی.ہم اب یہی دعا کر رہے ہیں کہ جنگ بندی قائم رہے

  • عمران خان پھنس گئے، الیکشن خطرے میں،ملک ریاض کا انٹرویو کون کریگا؟

    عمران خان پھنس گئے، الیکشن خطرے میں،ملک ریاض کا انٹرویو کون کریگا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ تین دن سے اب بہت ہی ملک ریاض کے انٹرویو کا چرچا ہو رہا ہے، اس میں کیا ہو گا کیا نہیں میرا خیال ہے کہ پہلے پیغامات دیئے جا رہے ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ کیا کیا ہو سکتا ہے، کرنا ہے یا نہیں، یہ انٹرویو انیکر کون کرے گا،یہ ایک اہم سوال ہیں، خاور مانیکا کا انٹرویو ایسا نہیں تھا کہ مہمان لائن اپ ہو اور وہ آئے انٹرویو دے کر چلا جائے، یہ روٹین کا نہیں تھا، نہ ہی صداقت عباسی، شیخ رشید،عثما ن ڈار، کسی کا بھی روٹین کا انٹرویو نہیں تھا، یہ جیل سے سٹوڈیو میں چلے گئے ، ملک ریاض کا معاملہ مختلف ہو سکتا ہے وہ دبئی میں ہیں، ایک تو وہ پھٹ پڑیں کہ جو ہو گا دیکھی جائے گی، یا وہ پریشر نہ لے سکیں، مالی نقصان وہ بہت زیادہ اٹھا چکے ہیں، بحریہ کراچی میں قیمتیں نیچے جا رہی ہیں، کمرشل فلائٹس کے لئے لوگ کھڑے ہیں لیکن خریدار نہیں، میں قیاس آرائی کروں گا، کس اینکر کے ساتھ ہو سکتا ہے انٹرویو،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل سے خبریں آ رہی ہیں کہ الیکشن لیٹ ہو سکتے ہیں،وہ حلقے جنہوں نے الیکشن کروانے ہیں وہ عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ کو سیریس لیتے ہیں، نگران وزیراعظم جب امریکہ گئے تھے تو پہلے الیکشن کا اعلان کیا گیا تھا، جب الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تو اس وقت آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کے اندر موجود تھی،کل میری ملاقات جے یوآئی کے کچھ رہنماؤں سے ملاقات ہوئی وہ سیریس تھے کہ ہم حلقوں میں نکل ہی نہیں سکتے، دہشت گردی کا خدشہ ہے،لوگ جلسوں کے لئے انکار کر دیتے ہیں، کسی کے گھر کارنر میٹنگ رکھیں تو لوگ انکار کر دیتے ہیں، اب مولانا کے بیانات وہ بھی دہشت گردی کا عندیہ دے رہے ہیں،میرا خیال ہے نواز شریف بھی الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،الیکشن مہم میں مشکلات، سردی، یوں سمجھیں دسمبر کے آخری ہفتے میں بلی تھیلے سے باہر آ جائے گی، اگر الیکشن ہونے ہیں تو دسمبر میں الیکشن شیڈول آ جانا چاہئے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کا مقصد عالمی اداروں کا منہ بند کرنا اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہیں، اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو پھر کتنی دلچسپی ہو گی کروانے والوں کی، اس الیکشن میں کھیل ابھی بہت باقی ہے، ابھی تو سمجھیں ٹریلر چلا ہے، انٹرویو کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ہے، ابھی بہت انٹرویو آنے ہیں جس کا فائدہ نئے لاڈلے کو ہو گا،نقصان پرانے لاڈلے کو ہو گا، عمران خان کے گرد اب گھیرا تنگ اور ہو رہا ہے، ہو سکتا ہے الیکشن کمیشن اس کی پارٹی پرسوالیہ نشان دے، فارن فنڈنگ کیس پر بہت کچھ ہو جاتا ہے.

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ملک میں تاریخ کا بہت بڑا سیکورٹی بریج ہوا ہے، اور حکومت گھوڑے بیچ کر سوئی ہوئی ہے، نگران وزیراعظم، سابق وزراء اعظم، وزیر دفاع،یہاں تک کہ آئی ٹی کا وزیر، جن کا کام ڈیٹا کا تحفظ ہے ،سب کا ڈیٹا لیک ہو چکا ہے،سارا ڈیٹا اس وقت مفت میں دستیاب ہے، پاکستان میں اگر کوئی سائبر اٹیک ہوتا ہے تو ایک بھی پاکستانی خود کو نہیں بچا سکتا، پانچ سو روپے دیں ایک کلک کی دوری پر شناختی کارڈ نمبر، فون نمبر، ایڈریس سب کچھ مل جاتا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیک ڈیٹا سب شہریوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے،گزشتہ دنوں ایک صارف نے ٹویٹر پر ایک صارف نے سکرین شاٹ لگایا کہ یہ ویب سائٹ کسی بھی شناختی کارڈ کی تفصیلات بتا سکتی ہے،اس پر عمر سیف نے لکھا کہ ہم نے یہ ویب سائٹ بلاک کر کے رکھی،اس تک رسائی ممکن نہیں، تا ہم میں نے چیک کیا کہ وی پی این کے ذریعے رسائی ممکن ہے، وی پی این ڈاؤنلوڈ کر کے پاکستان میں ممنوعہ سائٹ دیکھی جا سکتی ہیں، اس ڈیٹا تک رسائی بہت آسان ہے، کسی کا بھی شناختی کارڈ نمبر، سمز، حساس نوعیت کی ذاتی معاملات تک بھی رسائی مل جاتی ہے، کئی بار پانچ برسوں میں نادرا کے ڈیٹا بیس میں چوری کی گئی بلکہ ایف بی آر کی ویب سائٹ بھی سائبر اٹیک ہوا، اس وقت ایف بی آر کی ویب سائٹ پر موجود تمام ٹیکس پیرز کی معلومات چوری کر لی گئیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نومبر 2020 میں پی آئی اے کا ڈیٹا لیک ہوا، پی آئی اے میں کون کون سفر کرتا ہے، کس نے کتنا سفر کیا، یہ سب ڈیٹا چار سو ڈالر میں ڈارک ویب پر بک رہا تھا، پاکستان ریلوے کا بھی آئی ٹی سسٹم بھی ہیک ہوا، اسوقت پاکستانی آئی ٹی کی وزارت خاموش بنی رہی، اس وقت اس ویب سائٹ پر کسی کا بھی ڈیٹا چاہئے وہ اس پر مل جائے گا،حکومت اس پر فوری ایکشن لے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جیسے موسم سر د ہو رہا ہے ویسے ہی سیاسی موسم گرم ہو رہا ہے، بڑی ملاقاتیں ہو رہی ہیں، فیصلے ہو رہے ہیں،نوا ز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی کل ملاقات ہوئی، ابھی تک نواز شریف نے مولانا سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا تھا،نواز شریف کو جب احساس ہوا کہ پانی بہت گزر چکا ہے، اور خود سے ن لیگ کے حکومت بنانا آسان نہیں تو انہیں الائنس چاہیے ہوں گے، اسکے بعد نواز شریف نے نکل کر ملاقاتیں شروع کر دیں، اس سے قبل نواز شریف کی مرضی تھی ملیں یا نہ ملیں، اب نواز شریف کو نکلنا پڑا، ملاقات کے بعد مولانا نے بلاول پر طنز کے تیر برسائے،تاہم بلاول جو باتیں کر رہا ہے وہ کسی حد تک درست ہیں، ایک شخص آتا ہے تو دوسرے پر کیس بنا دیتا ہے دوسرا آتا ہے تو پہلے کو جیل میں ڈال دیتا ہے، کسی کے پاس کوئی سیاسی نظریہ نہیں،اگر بابے پاکستانی سیاست سے دور ہوں تو بارہواں کھلاڑی کون ہو گا؟ بلاول نے چترال میں کہا کہ وہ آصفہ کو کہیں گے کہ وہ چترال سے الیکشن لڑیں، آصفہ ایک کی پوزیشن میں ہو گی،پاکستانی سیاست کا بارہواں کھلاڑی آصفہ ہو سکتی ہے، اس میں شہید بینظیر کی ایک جھلک بھی نظر آتی ہے،

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ ،بحریہ ٹاؤن عدم ادائیگی کا معاملہ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کا فیصلہ لکھوایا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاون کے وکیل نے بتایا انہیں عدالتی فیصلے کی روشنی میں سولہ ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ملنا تھی، اکیس مارچ 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بحریہ ٹاون کی رضامندی پر تھا،بحریہ ٹاؤن نے سات سال میں 460ارب روپیے ادا کرنا تھے،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق زمین مکمل نہ ملنے پر ادائیگیاں روکی،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق جو زمین دی گئی اس پر ہائی پاور بجلی کی تاریں گیس پائپ لائنز، نالے اور کئی گوٹھ ہیں،سندھ حکومت نے لندن سے سپریم کورٹ کو موصول رقم پر بھی دعویٰ کردیا اور کہا کہ برطانیہ سے آئی رقم بھی سندھ حکومت کو دی جائے،سروے رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کا تین ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ ہے۔ بحریہ ٹاؤن نے یکطرفہ طور پر اقساط کی ادائیگی روک دی،بحریہ ٹاؤن نے اضافی زمین پر بھی قبضہ کررکھا ہے۔متعلقہ حکام کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔سرکاری حکام نے عوام اور صوبے کے مفاد کو سرینڈر کیا۔سرکاری حکام نے اپنے آفس کا غلط استعمال کیا۔سرکاری حکام کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ایڈوکیٹ جنرل یقین دہانی کروائی کہ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے متفق ہیں یہ رقم سپریم کورٹ اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی درخواستیں مسترد کر دیں،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ کل 65ارب میں سے بیرون ملک سے آئے 35 ارب وفاقی حکومت کو ملیں گے،بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع 30 ارب روپے سندھ حکومت کو ملیں گے،سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب سات سال میں ادا کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم برقرار رکھا، ترمیم کی بحریہ ٹاؤن کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی.

    بحریہ ٹاؤن کیس کے دوران 190ملین پاؤنڈز سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے خارج کر دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب پہلے ہی اس کیس کی انکوائری کر رہا ہے، عدالت کی آبزرویشن نیب تحقیقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے، نیب کو آزادانہ تحقیقات کرنے دیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ سے آئے 190 ملین پاؤنڈ ملک ریاض کے نہیں عوام کے ہیں،عوام کا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کا تعلق صرف 460 ارب روپے کی ادائیگی سے ہے،سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ جانے اور عدالت جانے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ درخواست گزار نے معلومات دینی ہیں تو نیب کو دے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ نے ملک ریاض کا ویزا منسوخ کرکے داخلے پر پابندی عائد کی، برطانیہ نے 140 ملین پاؤنڈ اور نو بنک اکاؤنٹ منجمند کیے،منجمند کیے گئے اثاثوں میں پچاس ملین پاؤنڈ کی جائیداد بھی شامل تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رقم جمع کرانے والوں کو نوٹس کر چکے ہیں،درخواست گزار کا حق دعوی نہیں بنتا، درخواست میں سپریم کورٹ کو معزز عدالت لکھا ہوا ہے،یہ معزز عدالت نہیں سپریم کورٹ آف پاکستان ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جج جج ہوتا ہے جج صاحب نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ساتھی جج لگتا ہے مجھے چھیڑ رہے ہیں،

    قبل ازیں سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی بینچ میں شامل تھے،سپریم کورٹ کی احکامات کی روشنی میں کمشنر کراچی کی سربراہی میں 10 رکنی سروے ٹیم نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے،مشرق بنک کے وکیل راشد انور روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے خط کے مطابق لندن کے ویسٹ منسٹر عدالت کے مجسٹریٹ نے اکاؤنٹ فریزنگ آرڈر کالعدم قرار دیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اکاونٹ ہولڈر کون ہے؟ وکیل مشرق بینک نے کہا کہ اکاونٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک، ملک ریاض کی بہو ہیں، اکاؤنٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک نے رقم نیشنل کرائم ایجنسی کے کہنے پر نہیں بلکہ خود سے پاکستان بھجوائی تھی،مبشرہ علی ملک نے مشرق بنک لندن برانچ سے 19 ملین سے پاونڈز سے زائد رقم سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں منتقل کرائی،وکیل راشد نور نے کہا کہ مبشرہ علی ملک نے 6 نومبر 2019 کو 19 ملین پاونڈ سے زائد رقم برطانیہ سے پاکستان بھجوائی، تفصیلات حاصل ہونے پر عدالت نے مشرق بنک کی حد تک معاملہ نمٹا دیا،عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ مشرق بنک کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی،متفرق درخواست 18 اکتوبر کے عدالتی حکمنامے کی روشنی میں دائر ہوئی، مشرق بنک کے وکیل نے عدالت کو بتایا لندن کے مجسٹریٹ کے حکم کی روشنی میں نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نے اکاؤنٹ بحال کیا،اکاؤنٹ بحالی کے بعد بنک نے 190ملین پاؤنڈ کی رقم مبشرہ علی ریاض کے اکاؤنٹ میں آئی، مبشرہ علی ریاض کے زریعے رقم رجسٹرار سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی، مشرق بنک کے وکیل نے کہا بھیجی گئی 190ملین پاؤنڈ کی رقم بینک کا کوئی دعویٰ نہیں ہے،مشرق بنک کی مزید نمائندگی درکار نہیں ہے، عدالت نے مشرق بنک کو نوٹس دینے کی حد معاملہ نمٹا دیا

    بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پڑھ کر سنا دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سرکاری زمین کی بات کر رہے ہیں یا اس میں بحریہ ٹاؤن کی نجی زمین بھی شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نجی زمین بحریہ ٹاؤن کے پاس موجود بھی ہے یا نہیں،جو اضافی زمین ہے اس پر ڈپٹی کمشنر سے پوچھیں اس کی ملکیت کس کی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر آپ ریاست کے افسر ہیں سیدھا جواب دیں،ڈپٹی کمشنر صاحب صاف بتائیں کتنی زمین سرکاری ہے اور کتنی پرائیویٹ ، ڈی سی ملیر نے عدالت میں کہا کہ 1775 ایکڑ زمین سرکاری ہے جبکہ 37.2 ایکڑ نجی زمین اضافی زمین میں شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کی زمین پر کوئی نشان لگے ہوئے ہیں کہ کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ ڈی سی ملیر نے کہا کہ باؤنڈری وال زمین پر موجود ہے،

    سروے آف پاکستان کے حکام عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں تکنیکی طور پر بتائیں سروےکیسے کرتے ہیں۔ حکام نے کہا کہ ہم گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم سے سروے کرتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس سروے ریکارڈ سے مطمئن ہیں؟ حکام نے کہا کہ جی ہم اس سروے سے مطمئن ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بحریہ ٹاون نے نیشنل پارک کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو مسئلہ ہی نہیں ہے، نیشنل پارک پر قبضہ کے خلاف درخواست دائر کرنے والے شہریوں کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین صاحب سروے کہہ رہا نیشنل پارک کی زمین پر کوئی قبضہ نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ میں اس سروے رپورٹ کا تقابلی جائزہ لوں گا،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان اسلم بٹ کو روسٹرم پر بلا لیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کے سامنے ایک غلط الزام لگایا تھا،آپ نے کہا کم زمین ملی لیکن آپ کے پاس تو زیادہ زمین نکلی ،آپ درخواست لائے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ کے پاس زیادہ زمین ہونے کی اس سروے رپورٹ کو کس بنیاد پر مسترد کریں،آپ کے پاس کیا شواہد ہیں کہ آپ کو کم زمین ملی،چیف جسٹس نے وکیل بحریہ ٹاؤن کی سرزنش کر دی

    وکیل بحریہ ٹاؤن نےمیمو گیٹ کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں سیاسی تقریر نہ کریں،ہم آپ سے بحث کرنے نہیں بیٹھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے شواہد فائل کرنے دیں گے تو کچھ کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین چار سال گزر گئے ہیں آپ کب فائل کریں گے، آپ اپنی جو درخواست لائے تھے اسے اب آگے چلائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اجازت دیں تو میں آپ کا آٹھ نومبر کا آرڈر پڑھوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو مرضی پڑھیں،اب اگر آپ نے جازت دیں کے الفاظ استعمال کیے تو میں جرمانہ کروں گا،ہم تھک گئے ہیں یہ الفاظ سن سن کر،ہم سن رہے ہیں آپ سنائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے اس سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی کم زمین دینے کی درخواست خارج کر دینگے، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ دلائل سنے بغیر درخواست کیسے خارج کی جا سکتی ہے؟رپورٹ پر اعتراض کرنا ہر فریق کا حق اور قانونی طریقہ ہے، میمو کمیشن رپورٹ پر بھی اعتراضات جمع ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی تقریر باہر جا کر کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ یہ سیاسی تقریر نہیں قانونی بات ہے،وکیل سلمان بٹ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ بول لیں پھر جواب دوں گا، آپ کا احترام کرتا ہوں اس لئے درمیان میں نہیں بولوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ احترام چھوڑیں قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائیں،

    وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عدالتی آڈرکے مطابق سرے 16 ہزار 8 سو ایکڑ کا ہونا تھا وہ ملی یا نہیں،رپورٹ کے مطابق وہ سروے تو کیا ہی نہیں گیا،میرا حق ہے مجھے سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیا جائے، میں نے ابھی رپورٹ پڑھی بھی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے سامنے ہم نے یہاں رپورٹ پڑھی آپ کہہ رہے ہیں ابھی نہیں پڑھی، آپ خود اس کیس میں عدالت آئے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ نے کوئی چیز فائل نہیں کی ہم نے اس پر سروے کروا لیا،اعلی سطح کی ٹیم نے وہ سروے کیا آپ اسکا حصہ تھے،دس حکومتی افسران نے رپورٹ پر دستحط کئے کیا ساری دنیا آپ کے خلاف ہے؟ آپ بس ہر چیز پر اعتراض کررہے ہیں،عدالت آپ کو کوئی اضافی وقت نہیں دے گی، بات ختم،کئی سالوں سے عملدرآمد کیس مقرر نہیں ہوا تو آپ نے جلد سماعت کی درخواست کیوں نہیں دائر کی؟ بحریہ ٹاون کو اس کیس کے مقرر ہونے میں کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ کئی ایسے کیسز جانتا ہوں جہاں سو سو جلد سماعت کی درخواستیں دائر ہوئیں لیکن مقرر نہیں ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ روز جلد سماعت کی درخواست کرتے تو بوجھ عدالت پر ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ حکومتی اداروں نے وقت لگا کر سروے کیا،آپ اس مشق کا حصہ تھے آپ نے تب اعتراض کیوں نہیں کیا؟اب ایک چیز آپ کے خلاف آگئی تو آپ اس پر اعتراض کررہے ہیں۔وکیل نے کہا کہ ایک رپورٹ آگئی ہے مجھے اس پر جواب کا وقت دیں صرف یہ گزارش ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں عدالت آپکو مزید وقت نہیں دے گی۔وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ آپ میرا فئیر ٹرائل کے تحت حاصل کیا ایک حق پھر ختم کردیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضروری نہیں ہم اپ کی ہر بات سے اتفاق کریں۔وکیل نے کہا کہ میں نے چالیس سال وکالت میں ایسا واقع نہیں دیکھا،ایک رپورٹ آئی ہو اس پر اعتراضات داخل کرنے کا وقت بھی نہ دیا جائے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اعتراض بھی صرف اس پر کررہے ہیں کہ آپ نے نجی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔آپ کے پاس دستاویزات ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکاونٹس میں آئے پیسے مزید رکھے نہیں جا سکتے، اگر کوئی بھی فریق سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آئی رقم کا دعوی نہیں کرتا تو حکومت پاکستان کو ٹرانسفر کر دیں گے، پیسہ سرکار کے پاس جائے تو سرکار جانے اور بحریہ ٹاون جانے، سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی مد میں آئے پیسے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنے اکاونٹ میں یوں پیسے رکھنا غیر آئینی عمل ہے.وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ یہ پیسہ زمین مالکان کو جانا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مثال ہے جس کا آپ برا نہ منائیے گا، ایک ڈاکا پڑتا ہے اور ڈاکو پیسے بحریہ ٹاون کی جگہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ڈال دیتا ہے،کیا سپریم کورٹ ڈاکے کے پیسے رکھ کر شریک جرم بن سکتی ہے؟ جو پیسے مشرق بنک کے ذریعے آئے وہ تو ضبط شدہ رقم تھی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ابھی تک کوئی جرم ثابت ہی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کی نہیں کر رہے ایک مفروضے کی بات کر رہے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن ے کہا کہ برطانیہ سے وہ رقم ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے لیے آئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ رقم آپ کی نہیں تھی وہ ضبط ہوئی تھی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ نہیں میں وہ آرڈرز پڑھ دیتا ہوں ایسا نہیں ہوا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےوکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ باتوں کو بار بار مت دہرائیں،آپ کسی چیز سے رنجیدہ ہیں تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں،آپ سینئر وکیل ہیں پیچھے بیٹھے جونیئر وکلا نے بھی آپ سے سیکھنا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں آپ جس فیصلے پر عملدرآمد کروا رہے ہیں وہ درست نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم عملدرآمد نہیں کروا رہے آپ خود اس معاہدہ میں شامل ہوئے تھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس رضامندی سے ہوئے معاہدہ کو ختم کر دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے ایک لفظ کو بھی نہیں بدل سکتے،وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے وہ کسی بھی فیصلے کو واپس کرسکتی ہے، وکیل بحریہ ٹاون نے دوہزار پندرہ کے فیصلے کا حوالہ دیاجس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ نظرثانی کے دائرہ اختیار میں ہوسکتا ہے،وکیل نے کہا کہ کہیں کسی کےساتھ زیادتی ہورہی ہو تو عدالت خود فیصلہ واپس لے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی،آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے،پوری بات سن لیں،آپکے پاس کوئی شواہد نہیں کہ آپکے ساتھ زیادتی ہوئی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں نے دستاویز لگا رکھے کہ معاہدے کے مطابق زمین ہمیں نہیں ملی،

    دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان بٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ آہستہ آواز میں بات کریں تو جواب دوں گا، مجھے یہ گوارا نہیں کہ عدالت سمیت کوئی بھی مجھ پر چلائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں چلانے پر مجبور کر رہے ہیں، ہم چلا نہیں رہے تحمل سے سوال پوچھ رہے ہیں، سینئر وکلاء کا یہ رویہ ہے تو وکالت کے شعبہ پر ترس آ رہا، جج پر انگلی اٹھانا آسان اور اپنی غلطی تسلیم کرنا سب سے مشکل کام ہے، بحریہ ٹاؤن نے کم زمین ملنے کا دعویٰ 2019 میں کیا تھا،درخواست کےساتھ جو شواہد دکھا رہے ہیں وہ 2022 کے ہیں،جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب نے کارروائی شروع کی تو بحریہ ٹائون 460ارب روپے پر آمادہ ہوا، بحریہ ٹائون نے 460 ارب پر رضامندی کچھ سوچ سمجھ کر ہی دی ہوگی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سرکار کے منظور کردہ نقشوں سے ثابت کر رہا ہوں کہ پوری زمین نہیں ملی، معاہدے کے تحت 16896 ایکڑ کا قبضہ ملنا تھا لیکن 11547 ایکڑ زمین ملی، انصاف کا تقاضا ہے کہ سروے رپورٹ پر موقف سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انصاف کی باتیں باہر میڈیا پر جا کر کریں، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میڈیا پر کبھی بولا نہ ہی کبھی میڈیا کیلئے عدالت میں بات کرتا ہوں، مناسب ہوگا کہ آج مزید سماعت نہ کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت آج ہی مکمل کرینگے، اتنے عرصے بعد درخواستیں مقرر ہوئی ہیں تو کیس چلائیں،وکالت کے دوران سندھ میں مقدمہ مقرر ہونے پر ہی ہم بہت خوش ہوتے تھے، مقدمہ کا فیصلہ جو بھی ہو وہ بعد کی بات ہوتی تھی،مجھے قانون کے شعبے سے وابستہ ہوئے 41 سال ہو گئے ہیں،کچھ عزت دیں ،آپ ایسے ہی جاری رکھیں گے تو نتائج کیلیے بھی تیار رہیں،آپ کو ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کے آوٹ منظوری کا خط کب جاری کیا؟ وہ خط جاری نہیں کر رہے تھے تو آپ انہیں لکھ دیتے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ 16 ہزار ایکڑ زمین سے متعلق دوبارہ آرڈر کردیں اس کا جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اور کوئی آرڈر نہیں دیں گے،آج ہی کیس مکمل کریں گے،ہم رات تک بیٹھے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں مزید کھڑا نہیں رہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپکو کرسی دے دیتے ہیں،بیٹھ کر دلائل دے دیں،چیف جسٹس نے عدالتی اسٹاف کو وکیل سلمان اسلم بٹ کو کرسی دینے کی ہدایت دی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کرسی کی آفر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی کرسی نہیں چاہیے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ آپ یہاں قانون کی بات کریں،باقی باتیں کرنی ہیں تو باہر میڈیا پر جاکر کریں،سلمان صاحب پلیز دلائل دیں کیوں اس کو پیچیدہ بنارہے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کیا جارہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو بات سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق نہیں وہ ہم نہیں سنیں گے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ نہیں سننا چاہتے تو میں بند کر کے بیٹھ جاتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں بے شک، وہ زمانے گئے جب کیس اپنی مرضی سے چلایا جاتا تھا،آپ کہتے ہیں کسی اور کو زمین مفت دے دی تو آپ کو بھی حکومت مفت دے،آپ کو زمین مفت نہ ملی تو کیا یہ آپ سے غیر منصفانہ ہو گیا،وکیل نے کہا کہ درخواست ہے کہ باہر سے آئی رقم پر نیب تحقیقات کر رہا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جس معاملے پر نیب تحقیقات کر رہا ہے تو مناسب ہو گا اس پر ہم بات نہ کریں،وکیل نے کہا کہ بس میری بھی یہ ہی استدعا تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج آپ ایک سچ بول دیں کہ حکومت سندھ بہت کمزور ہے،کرپٹ عناصر مضبوط ،کرسیوں پر لوگ صرف مال بنانے بیٹھے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 16 ہزار ایکڑ سے زیادہ جس زمین پر تجاوز کیا گیا وہ آپ واپس لے لیتے،ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم قانون کیمطابق کارروائی کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سندھ میں ایک مختار کار بھی حکومت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہےکیا ہم اپنے بچوں کو یہ معاشرہ دینا چاہتے ہیں ،سندھ حکومت شاید لوگوں کی خدمت نہیں کرنا چاہتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ریاست الیٹ کی خدمت کیلئے ہیں،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے نمائندے کو روسٹرم پر بلا لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب کوئی پلاٹ خریدے تو اسے کیا دیتے ہیں،نمائندہ بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ الاٹمنٹ دیتے ہیں اور مکمل ادائیگی پر قبضہ بھی دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیگل ایڈوائزر پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کسی چیز کی تنخواہ لیتے ہیں،؟ دنیا میں حکومتوں کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔یہاں حکومت کا مقصد شاید افسران کو امیر بنانا ہے، ایک شیخص پلاٹ خریدے اسے کاغذ کا ایک ٹکڑا ملتا ہے،کل کوئی دوسرا کہہ دے یہ پلاٹ میرا ہے سندھ حکومت اسے کیا تحفظ دے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے لیگل ایڈوائیزر ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہہمارے لیگل جسٹس سسٹم کی ریٹنگ 130 نمبر پر درست ہی ہوئی ہے،ہمارے ملک میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیا جاتا،بڑے آدمی کا گھر ریگولرائز ہوجاتا ہے عام آدمی کی جھونپڑی گرا دی جاتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی ڈویلپر ایک پلاٹ کی الاٹمنٹ دو سو لوگوں کو دے کر نکل جائے تو کیا تحفظ ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہاکہ بحریہ ٹاون الاٹمنٹ کا ایک کاغذ کا ٹکڑا دیتا ہے جس کا ریکارڈ بھی بحریہ کے پاس ہی ہوتا ہے،کئی لوگ پلازے پہلے بیچ دیتے ہیں،اور زمین پھر الاٹمنٹ سے حاصل پیسے سے بعد میں خرید رہے ہوتے ہیں،ججز مشاورت کیلئے کمرہ عدالت سے اٹھ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مشاورت کے بعد فیصلہ تحریر کریں گے

    بینک نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرادیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار

    تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے دیا.

    تحریک انصاف کےانٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے دیئے گئے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

    الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی کو 2 اگست کو نوٹس جاری کیا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو بلے کے نشان کے لیے نااہل کیوں نہ کیا جائے،سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے بتایا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین میں ترمیم سے پہلے ہوئے، بعد میں ہم نے ترامیم واپس لے لی ہیں، الیکشن کمیشن کی ڈی ڈی لاء صائمہ جنجوعہ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ کیس میں پی ٹی آئی کو درگزر کر دے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق 13 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کریں گے، تحریک انصاف
    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا، بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے بہت افسوس ہوا ، الیکشن کمیشن نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے، الیکشن کمیشن نے یہ نہیں کہا تھا کہ پارٹی الیکشن آئین کے مطابق نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ڈاکومنٹس پورے نہیں ہیں، آج کے فیصلے سے بڑا دکھ ہوا ،کسی خاص مقصد کیلئے اس فیصلے میں تاخیر کی گئی ، بلے کا نشان ہمارے پاس رہے گا ، اس آرڈر کو ہم مناسب فورم پہ چیلنج کریں گے،

    تجزیہ کاروں کے مطابق عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات 20 روز میں ہر صورت کرانے ہونگے،توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے باعث عمران خان چئیرمین کے عہدے کیلئے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،انٹرا پارٹی انتخابات 20 دن میں کروانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے سے عمران خان پارٹی سربراہی بھی جائیں گے۔ سزا یافتہ شخص پارٹی کا سربراہ نہیں رہ سکتا ، نواز شریف کے معاملے میں عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔بلا بچانا ہے تو تحریک انصاف کو عمران خان کی جگہ کسی اور کو پارٹی کا سربراہ بنانا ہوگا.

    انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروائے تو تحریک انصاف عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی
    سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے نجی ٹی وی سےبات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل میں کہاکہ انٹراپارٹی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن دو سال سے تحریک انصاف کو نوٹس جاری کر رہاتھاعمران خان جب پاکستان کے وزیراعظم تھے اس وقت بھی جون 2021میں الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیلئے نوٹس جاری کیا تھا،کہ آپ انٹراپارٹی انتخابات کروا لیں ورنہ آپ کی پارٹی کو غیرقانونی قرار دے دیں گے،اس وقت پی ٹی آئی نےایک سال کی مہلت مانگی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ کورونا وبا ہے ہمارے ارکان جمع نہیں ہو پا رہے،کورونا کی وجہ سے آپ ریلیف دے دیں،جس پر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو ریلیف دے دیا،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے انٹراپارٹی انتخابات کرانے کیلئے اعظم سواتی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن تشکیل دیا،اس کے باوجود انہوں نے انتخابات نہیں کرائے، جب یہ پارٹی اقتدار سے محروم ہو گئی تھی،اس وقت بھی الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیا کہ انٹراپارٹی انتخابات کرائے جائیں ، نوٹس کے باوجود پی ٹی آئی نے انتخابات نہیں کروائے اور ٹال مٹول سے کام لیا،الیکشن کمیشن دو ڈھائی سال سے پی ٹی آئی کو ریلیف دیتا آر ہا ہے،آج کے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو 20روز کا ریلیف دیا ہے، انکو چاہئے کہ اس دوران متبادل قیادت سامنے لے آئیں الیکشن ایکٹ کی دفعات میں انٹراپارٹی انتخابات اہم شق ہے،پی ٹی آئی نے انتخابات نہ کروائے تو انتخابات میں حصہ لینے کی مجاز نہیں ہوگی.

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • سفیروں کی ملاقاتیں،دفتر خارجہ کو بریف نہیں کیا جاتا،ترجمان دفتر خارجہ

    سفیروں کی ملاقاتیں،دفتر خارجہ کو بریف نہیں کیا جاتا،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے برکس بلاک 2024ء میں شمولیت کیلئے درخواست دے دی ہے

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے یہ فیصلہ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں برکس سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لینے کے بعد کیا،امید کرتے ہیں کہ برکس کی طرف سے ہماری درخواست پر عمل کیا جائے گا،ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم اور پاکستان کے سیاسی قیادت کے درمیان ملاقاتوں کی تفصیلات کے حوالے سے دفتر خارجہ کو بریف نہیں کیا گیا، بین الاقوامی سفیروں کی پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتوں کے بارے علم نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں بریف کیا جاتا ہے،

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے پاکستان ڈنمارک، فن لینڈ اور سوئیڈن سے سیاسی مشاورت کر رہا ہے،ڈنمارک کے ساتھ سیاسی مشاورت 21 نومبر کو منعقد ہوئی سوئیڈن کے ساتھ سیاسی مشاورت آج منعقد ہو رہی ہے جبکہ فن لینڈ کے ساتھ مشاورت کل ہوگی، نگراں وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ یکم اور 2 دسمبر کو متحدہ عرب امارات میں کاپ 28 میں شرکت کر کے موسمیاتی تغیر پر پاکستانی تصور پیش کریں گے

    ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان غزہ میں جنگ بندی کا شدت سے انتظار کر رہا ہے جنگ بندی ہو تاکہ غزہ میں انسانی امداد کی رسائی ممکن بنائی جا سکے،ہم سمجھتے ہیں کہ امن صرف بات چیت سے ممکن ہے، غزہ میں 6 ہزار سے زائد بچے شہید ہوئے جو کہ غزہ کی آبادی کا 40 فیصد ہیں.پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی اور اقتصادی تعلقات نہیں ہیں پاکستان فلسطینی زمین پر اسرائیل کے منصوبے پر سنجیدہ تحفظات رکھتا ہے، ہم یہودی آباد کاری کو غیر قانونی سمجھتے ہیں، یہ غیر قانونی آباد کاری فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے رستے میں شدید رکاوٹ ہے

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ہیں،پاکستان کو افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر تشویش ہے، پاکستان افغان انتظامیہ کے ساتھ دہشتگروں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں پر رابطے میں ہے، افغان انتظامیہ سے رابطے میں ہیں تاکہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے،پاکستان متعدد بار ٹی ٹی پی کی کاروائیوں سے افغانستان کو آگاہ کر چکا ہے، انٹیلی جینس سے متعلق کوئی معلومات شیئر نہیں کر سکتی لیکن افغان حکومت سے کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں پر کارروائی کی توقع رکھتے ہیں

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • غزہ میں نہتے لوگوں کا قتل عام انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے،امام کعبہ

    غزہ میں نہتے لوگوں کا قتل عام انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے،امام کعبہ

    امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خادمین الحرمین الشریفین اور علما سعودی عرب کا سلام آپ کو پیش کرتا ہوں،

    امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید کا کہنا تھا کہ انسانی جان کا قتل حرام ہے،غزہ میں انسانی حقوق کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے،غزہ میں نہتے لوگوں کا قتل عام انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے،بین الاقوامی طاقتیں انسانی جانوں کی حرمت کا پاس رکھیں اور غزہ میں جرائم کو رکوائیں،رب کریم ظالموں کو سخت ترین سزا دے،فلسطین کے مسلمانوں کی سختی کے خاتمے کی دعا کرتا ہوں

    امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی اور اسلامی یونیورسٹی کی خدمات قابل ستائش ہیں،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی تعریف کرتا ہوں کہ اہم ترین موضوع پر کانفرنس کا اہتمام کیا،اسلامی فقہ اکیڈمی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا جاری تعاون اہم ہے،مسلم ممالک کے تعلیمی و تحقیقی ادارے باہمی اشتراک و تعاون پر توجہ دیں،پاکستان مہمان نواز ملک ہے،انسانی جان کی حرمت پر اسلام میں خصوصی توجہ دی گئی،شریعت اسلامی میں دین اور انسانی جان کی عقیدہ کی تفریق کے بغیر خاص اہمیت ہے،رب کریم نے انسانی جان کی قسم تک اٹھائی ہے،دین اسلام انسانی جان کے ضیاع کو سختی سے منع کرتا ہے،انسانی جان کو بلاوجہ قتل کرنے والے کے لیے جہنم کی وعید ہے،امید ہے کہ کانفرنس کے موضوع پر مقالات اور سکالرز کے ذریعے اہم تجاویز اور سفارشات سامنے آئیں گی

    اس موقع پر نگران وزیرتعلیم مدد سندھی نے کہا کہ پورا پاکستان آپ کا دورے پر مشکور ہے،نوجوان امت مسلمہ کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ساتھ تعاون جاری رہےگا،آج امت مسلمہ فلسطین کی حالت زار پر مغموم ہے،انسانی جان کی حفاظت پر کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے ،اسلام پر امن بقاے باہمی اور امن کا درس دیتا ہے،سیرت النبی کے موضوع پر اسلامی یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کریں گے.

    واضح رہے کہ امام کعبہ صالح بن عبداللہ بن حمید 6 روزہ دورے پر گزشتہ روز پاکستان پہنچے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی، وزیر تعلیم مدد علی سندھی،وزیراعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور سعودی سفیر نواف بن سید المالکی نےامام کعبہ کا استقبال کیا،امام کعبہ اپنے دورے کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، امام کعبہ فیصل مسجد میں نماز جمعہ بھی پڑھائیں گے.

    سابق امام کعبہ کو سزا سنا دی گئی، 2018 میں آئے تھے پاکستان

    جمعہ کے خطبہ کے دوران امام کعبہ پر حملہ کی کوشش

    امام کعبہ کی طرف سےخطبہ جمعہ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی استواری کے اشارے:یروشلم پوسٹ کادعویٰ‌ 

    مفتی عبدالقوی کے امام کعبہ کو چیلنج پر صارفین کی شدید تنقید

  • سائفر کیس،عمران خان کو 28 نومبر کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    سائفر کیس،عمران خان کو 28 نومبر کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کیخلاف سائفر کیس کی سماعت ہوئی،

    شاہ محمود کے وکیل علی بخاری اور خالد یوسف عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی کاپی کدھر ہے؟ اس پر عدالتی عملے نے سائفرکیس سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی کاپی جج کو دی، جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے وکیل علی بخاری سے مکالمہ کیا کہ بخاری صاحب آپ کے لیے تو بڑی کامیابی ہوئی ہے، اس پر علی بخاری نے کہا کہ ہم تو پہلے دن سے یہی کہہ رہے تھے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 28 نومبر کو عدالت پیش کرنے کا حکم دےدیا۔

    عدالت نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا ٹرائل اب 29اگست سے پہلے کی اپوزیشن سے آگے بڑھے گا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے حکم جاری کیا،

    عدالت نےعمران خان کے 3 اور شاہ محمود قریشی کی 2 مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی کی تین ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سماعت کی،پراسیکیوٹر نے دلائل کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، وکیل خالد یوسف نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے آرڈر جاری کیا تھا اسٹیٹ آج دلائل دے گی ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کیسز کی سماعت جیل میں ہو رہی ہے ، آٹھ آٹھ ماہ تو ان کی وجہ سے تاریخ پڑتی رہی ہے ،وکیل خالد یوسف نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر آرڈر کیا تھا آج ہر حال میں فیصلہ ہو گا ،پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ خود کہتے رہے ہیں اب ملزم کو بھی بلا لیں ان کی موجودگی میں بحث ہو جائے گی ،عدالت اس کیس میں دلائل کے لئے ایک تاریخ دے دے ، عدالت نے کہا کہ میں دیکھ لیتا ہوں ،

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • ملک ریاض کا انٹرویو  ریکارڈ ہو گیا؟

    ملک ریاض کا انٹرویو ریکارڈ ہو گیا؟

    لاہور: سینئیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا ملک ریاض کے انٹرویو کی ریکارڈنگ کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر کہنا ہے کہ چئیرمین بحریہ ٹاؤن کا کو کوئی انٹرویو ریکارڈ نہیں ہوا-

    باغی ٹی وی : سینئر صحافی و اینکرجاوید چوہدری نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے دھماکہ خیزانٹرویو سے متعلق اہم انکشافات کئے تھے،جاوید چوہدری نے ملک ریاض کے دھماکہ خیزانٹرویو کے حوالے سے پھیلی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک ریاض نے پہلی مرتبہ زبان کھولنے کا فیصلہ کیا ہے یا انہوں نے زبان کھول لی ہے،یہ 2 چیزیں ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو ریکارڈ ہوچکا ہے تاہم ملک ریاض سے رابطہ کیا تو نہ انہوں نے ’ہاں‘ کی اور نہ ہی ’’ناں‘ کی‘ ،ملک ریاض نے انٹرویو کے مواد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ، ’ہاں، یہ بات درست ہے‘،ملک ریاض کا انٹرویو 3 چیزوں پر مبنی ہے، نمبر ایک یہ کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی مد میں عائد کیے جانے 460 ارب روہے کے جرمانے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکا کیا کردار تھااور انہوں نے ملک ریاض سے کیا کیا مراعات حاصل کی تھیں۔

    پی ٹی آئی کیخلاف دائر انٹراپارٹی کیس کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    تاہم اب سینئیر صحافی مبشر لقمان کا اپنے یوٹیوب پر جاری ویڈیو پیغام میں کہنا ہے کہ ملک ریاض نے ابھی تک کوئی انٹرویو ریکارڈ نہیں کیا-انہوں نے کہا کہ میرا یہ خیال ہے کہ ابھی تک ملک ریاض کا انٹرویو ریکارڈ نہیں ہوا جتنا میں سمجھتا یا جانتا ہوں انہیں،میرا خیال ہے کہ ملک ریاض کا انٹرویو ریکارڈ ہونےوالا ہے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ انٹرویو میں کیا بات کریں گے،اور کس کس پہلو کے اوپر بات کریں گے ملک ریاض بڑے عاجز بیک گراؤنڈ سے اوپر آئے ہیں انہوں نے بڑی محنت کی ہے نہ صرف وہ خود بنے بلکہ انہوں نے اپٔنی فیملی اور اپنے دوستوں کو بھی بنایا بلکہ انہوں نے پورے پاکستان کو بنایا کچھ باتوں کا میں بھی گواہ ہوں جو باتیں ہر کسی کو نہیں پتہ-

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کوشوکاز نوٹس جاری

    سنگا پور اور یو اے ای کی حکومتیں ملک ریاض کے پیچھے پڑی ہوئی تھیں اور آج سے بہت سال پہلے کی بات ہے جب یہ دونوں حکومتیں بیک وقت ان کے پیچھے پڑی تھیں کہ وہاں پر وہ ڈویلپمنٹ کا کام کریں ،لیکن انہوں نے منع کر دیا کہا کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستان کے لئے کام کروں گا،انہوں نے پاکستان میں بہت کا م کیا اس میں کچھ غلط بھی ہوں گے لیکن اس کے باوجود بحریہ نے پاکستانیوں کی جو لائف اسٹائل دیا وہ نہ پہلے کبھی پاکستانیوں نے دیکھا تھا نہ سُنا تھا شاید سنا ہو لیکن تجربہ نہیں کیا تھا،بحریہ میں چلے جائیں تو باہر جانے کی ضرورت نہیں رہتی وہاں ہر چیز ہے اسپتال اسکولز مالز وغیرہ سب ہیں،سب سے بڑی بات لائٹ نہیں جاتی مسجدیں اور پارکس وغیرہ بھی بنائیں،انہوں نے صرف پلاٹبیچنے پر پیسے ہی نہیں بنائے بلکہ انہیں کنورٹ بھی کیا یہ سار اسفر ان کا بہت مشکل بھرا تھا اورسب سے زیادہ ان کےگلے میں جو چیز پڑی تھی وہ بہت سال پہلے صحافی سلیم صافی کو انٹرویو کیا تھا کہ پاکستان میں آپ کی جو مرضی فائل ہو اس کو پہیے لگانے پڑتے ہیں اس کے بغیر وہ فائل آگے نہیں چلتی یہی چیز ان کے گلے پڑ گئی اس کے بعد جو بھی حکومت میں آیا پاکستان میں جو بھی طاقت یا اقتدار میں آیا اس نے کہا کہ میں تو اس فائل پر بیٹھا ہوں پہیے لگائیں اور ہر ایک کی اپنی سوچ ہے پہیے لگانے کی-

    وفاق تمام صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے،نگران وزیراعظم کی ہدایت

    https://x.com/TeamKharaSach/status/1727306658525880486?s=20

  • بلوچ طلبا گمشدگی کیس، آئندہ سماعت پر نگراں وزیراعظم طلب

    بلوچ طلبا گمشدگی کیس، آئندہ سماعت پر نگراں وزیراعظم طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ جبری گمشدگی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آبا دہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،عدالتی حکم پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ دوگل صاحب پہلے تو آپ کو بتا دیں کہ یہ کیس ہے کیا تاکہ صورتحال واضح ہو جائے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آج اس کیس کی 21ویں سماعت ہے،اس سے قبل جسٹس اطہر من اللہ جو چیف جسٹس تھے ان کے پاس تھا یہ کیس،عدالت کے حکم پر کمیشن بنا، اس میں سوالات پیش کئے گئے،جبری گمشدگیوں کا معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا گیا، صرف ایک کا نہیں 55بلوچ طلبہ کا معاملہ تھ ہہم نے ملک کے وزیراعظم کو معاملہ بھیجا تھ، وزیراعظم کو خود احساس ہونا چاہئے تھا، ہم سمجھے وہ آ کر کہیں گے یہ ہمارے بچے ہیں،اگر ان کے خلا کوئی کرمنل کیس تھا تو رجسٹرڈ کرتے،آپ رپورٹ پڑھیں جو ہمیں پیشی کی گئی ہے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ جو بھی معاملہ ہو متعلقہ وزارت دیکھتی ہے یا سب کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے ،کمیٹی پھر معاملہ وزیراعظم اور کابینہ کے ساتھ شیئر کرتی ہے،عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم وزارا کمیٹی کی رپورٹ مسترد کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر 29نومبر کو وزیراعظم کو طلب کرلیا،عدالت حکم دیا نے کہاکہ وزیر دفاع، وزیر داخلہ، سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ بھی پیش ہوں،عدالت نے کہاکہ 55لاپتہ افراد پیش کریں ورنہ وزیراعظم پیش ہوں

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کمیشن بنا کر پاکستان میں لاپتہ افراد کو تلاش کرے، آپ ملک اور اداروں کی بدنامی کروا رہے ہیں، پہلے بھی سیکریٹری ڈیفنس اور داخلہ کو کروڑ کروڑ روپیہ جرمانہ ہوا مگر دو رکنی بنچ میں عمل درآمد رک گیا اور لوگ بھی بازیاب نہیں ہوئے، وزیر اعظم نے کیوں آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ یا تو لاپتہ طالب علم کو یہاں لا کر کھڑا کر دیں اور جیسے کہ ہو رہا ہے وہ آ کر کہہ دیتا ہے کہ میں غلطی سے چلا گیا تھا اور عدالتوں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذاق ہو رہا ہے

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ