Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سائفر کیس، کچھ دفعات میں سزا 2 سال ،کچھ میں سزائے موت ،عمر قید ہے، جسٹس سردار طارق مسعود

    سائفر کیس، کچھ دفعات میں سزا 2 سال ،کچھ میں سزائے موت ،عمر قید ہے، جسٹس سردار طارق مسعود

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنیچ کا حصہ ہیں ،چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر موجود تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے ایف آئی آر پڑھ کر سنا دی ، جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ کب کا ہے،؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ 2022 کا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے

    ایف آئی اے تفتیشی کے بغیر نوٹس پیش ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ کو کس نے بلایا ہے،پیچھے جا کے بیٹھ جائیں،سلمان صفدر نے انکوائری رپورٹ اور مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی پر لگے الزامات پڑھ کر سنائے اور کہا کہ الزام لگایا گیا ہے کہ چیئرمین نے اعظم خان کو سائفر کو غلط رنگ دینے کا کہا ،مقدمہ کا بہت سارا ریکارڈ تو فراہم ہی نہیں کیا گیا، الزام لگایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بل واسطہ یا بلا واسطہ ریاست کو نقصان پہنچایا،اعظم خان اور اسد عمر بھی ملزم تھے لیکن انکے خلاف کارروائی نہیں ہوئی،جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ شریک ملزمان کے کردار کا تعین ہوا؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسد عمر کو چھوڑ دیا گیا اور اعظم خان کو ملزم سے گواہ بنادیا گیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے کیس پر کہا گیا کہ اعظم خان ملزم ہیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسد عمر کو ضمانت قبل از گرفتاری مل چکی ہے، ایف آئی آر کے مطابق اعظم خان نے بنی گالہ میٹنگ کے منٹس تیار کئے تھے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اعظم خان کے حوالے سے تفتیشی افسر نے کیا حتمی رائے دی؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کے حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دی گئی، اعظم خان لاپتہ ہوگئے تھے اہلخانہ نے مقدمہ بھی درج کرایا ، اعظم خان اچانک بازیاب ہوئے اور ملزم سے گواہ بن گئے، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ ایسے ہی سامنے آتا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کے بیان کے مطابق انہیں بار بار مانگنے پر سائفر کی کاپی نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی عمر 71 سال اور سابق وزیراعظم ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اعظم خان ملزم سے استغاثہ کا گواہ بن چکا ہے،ماتحت عدالت کے سامنے کئی گھنٹے دلائل دئیے،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مقدمات کو سیاسی طور پر چلائیں گے تو یہی ہو گا،کسی نے کہا تھا کہ اخراج مقدمہ اور ضمانت کو ایک ساتھ چلائیں،ملزم 60 سال سے کم نہیں ہے اور کیس مزید انکوائری کا ہے تو اس طرف لائیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے کیس کی مرکزی گراونڈز کیا ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ کیس بنتا ہی نہیں،جو دفعات لگائی گئیں وہ جاسوسی جیسے جرائم پر لگتی ہیں،تحقیقات میں کہیں نہیں بتایا گیا کہ کہاں جاسوسی ہوئی یا کسی دشمن ملک کو فائدہ پہنچا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں آپ نے سائفر کا کوڈ کمپرومائز کردیا،کوڈ اگرچہ تبدیل ہوتا رہتا ہے کئی بار ہفتے بعد بھی تبدیل ہو سکتا ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سائفر ایک سیکرٹ دستاویز تھا،یا نہیں ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد سیکرٹ دستاویز نہیں تھا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ڈی کلاسیفائی ہونے سے پہلے کیا سائفر کو ملزم نے دکھایا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس دوران سائفر کسی کو نہیں دکھایا گیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کو ہوا میں لہرا کر بتادیا جائے اس میں یہ لکھا ہے تو کیا وہ ابلاغ کے زمرے میں نہیں آتا؟جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم الزامات کا ٹرائل نہیں کر رہے صرف الزامات کو دیکھ رہے ہیں،کیا ہیں،

    سائفر کیس، عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ سماعت غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کر دی گئی

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • حماس،اسرائیل جنگ ، عارضی جنگ بندی کا اعلان

    حماس،اسرائیل جنگ ، عارضی جنگ بندی کا اعلان

    حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی،معاہدہ طے پا گیا، قطر نے اعلان کر دیا

    قطر کی کوششوں سے حماس اور اسرائیل کے مابین عارضی جنگ بندی کی گئی ہے،قطر کی وزارت خارجہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ کیا جائے گا، جنگ بندی کا آغاز 24گھنٹے کے اندر ہوگا، معاہدے کے تحت درجنوں فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا

    دوسری جانب اسرائیلی کابینہ نے بھی جنگ بندی کی منظوری دی جو عارضی ہو گی، اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ مشکل لیکن درست ہے،اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کی قید میں موجود 50 افراد کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور عارضی جنگ بندی کےمعاہدے کی منظوری دے دی ہے،اسرائیل نے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں حماس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا

    حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے حوالہ سے ہونیوالے معاہدے کے تحت حماس پچاس اسرائیلی خواتین قیدیوں اور بچوں کو رہا کرے گا، وہیں اسرائیل 150 خواتین اور قیدی بچوں کو رہا کرے گا،غزہ میں امداد بھی مصر سے جانے دی جائے گی، ایندھن بھی پہنچایا جائے گا، روزانہ 300 ٹرک سامان کے جائیں گے

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدہ انسانی بنیادوں پر ہوا، معاہدے کے تحت امدادی سامان غزہ لے جانے کی اجازت ہو گی، امدادی سامان میں ایندھن کی ترسیل بھی شامل ہے، پہلےمرحلے میں قید خواتین اور بچوں کی رہائی کا تبادلہ شامل ہے، 4 روزہ جنگ بندی میں 50 اسرائیلی خواتین بچوں کی مرحلہ وار رہائی ہو گی،حماس مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عہد کرے تو جنگ بندی میں توسیع ہو سکتی ہے

    جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق اسرائیل نے حماس کے مطالبے پر رہا ہونیوالے قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے،ابتدائی طور پر اسرائیل 150 قیدیوں کو رہا کرے گا تاہم اسرائیل نے 300 قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے، اسرائیل جن قیدیوں‌کو رہا کرے گا ان میں سے 287 افراد کی عمریں 18 برس سے کم ہیں، انہیں ہنگامہ آرائی، پتھراؤ کے الزامات کی وجہ سے اسرائیل نے گرفتار کیا تھا،13 خواتین بھی اس فہرست میں شامل ہیں،

    حماس رہنما کا پوتا اسرائیلی بمباری میں شہید
    دوسری جانب اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا پوتا اسرائیلی بمباری میں مارا گیا ہے،اسرائیلی بمباری سے غزہ کی کوئی جگہ محفوظ نہیں، سکولوں، ہسپتالوں،ایمبولینس گاڑیوں، پنا ہ گزینوں‌کے کیمپوں، مساجد، چرچ پر بھی اسرائیل نے بمباری کی،اسرائیلی بمباری سے 14 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ،گزشتہ روز کے ایک حملے میں اسماعئل ہنیہ کا پوتا جمال محمد ہنیہ بھی نشانہ بن گیا، گزشتہ دنوں اسماعیل ہنیہ کی پوتی رؤی ہمام اسماعیل ہنیہ بھی اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں تھیں

    دوسری جانب اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی قرار داد 28 کے مقابلے میں 90 ووٹوں سے منظورکرلی،اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے لیبر رہنما کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ بھی جنگ بندی کی حمایت کریں

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

     اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

     حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

  • سپریم کورٹ،سائفر کیس، فردجرم کیخلاف اپیل،عمران خان کے وکیل کو التوا مل گیا

    سپریم کورٹ،سائفر کیس، فردجرم کیخلاف اپیل،عمران خان کے وکیل کو التوا مل گیا

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر فرد جرم کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل حامد خان نے عدالت سے التوا مانگ لیا،وکیل حامد خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینا چاہتا ہوں، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تو نیا آرڈر آیا ہے،جس آرڈر کے خلاف آپکی یہ اپیل ہے اسے ہم ابھی بھی سن سکتے ہیں، وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے ہائیکورٹ کا انٹراکورٹ اپیل کا فیصلے کا جائزہ لینے کا التوا دے دیں، عدالت نے حامد خان کی استدعا منظور کرکے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بینچ میں شامل تھے

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کردی،درخواست میں استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے،عدالت سپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے،درخواستگزار چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں سے ایک ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتا ہے، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے،سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں،ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل ایک انٹرویو آیا خاور مانیکا کا، شاہزیب خانزادہ نے انٹرویو کیا، میں کل نہیں دیکھ سکا تھا، آج دیکھا، پہلے شاہزیب خانزادہ کے بارے بتاؤں کہ اس نے کافی عرصہ میرے ساتھ کام کیا ہوا ہے، یہ انتہائی نفیس اور شریف ہیں، یہ پرسنل نہیں جاتے، خبر، سٹوری پر رہتے ہیں، خاور مانیکا نے شاہزیب خانزادہ کا انتخاب اسی لئے کیا کہ وہ شریف آدمی ہے ورنہ کوئی اور ہوتا تو شروع میں ہی مانیکا کا کہ دیتا کہ تم کتنے بے شرم آدمی ہو، کتنے بے ضمیر ہو، جس طرح کی باتیں کر رہے ہو، دو دو گھنٹے بیوی نامحرم کے ساتھ ، 28 سال شادی کو اور تمہیں پتہ ہی نہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس انٹرویو کی دو سائیڈ ہیں، ایک سائیڈ کہ عمران خان اور پنکی کو کیا نقصان ہے، دوسرا پی ٹی آئی کو کیا فائدہ ہے، میرے خیال میں پی ٹی آئی کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے، شاہزیب نے پہلے چار پانچ منٹ ایک پوائنٹ پر لگائے کہ پانچ سال سے رابطہ کر رہے تھے اب کیوں آئے، مانیکا کے پاس جواب نہیں تھا کیونکہ اس وقت وہ فائدے اٹھا رہا تھا، اب خاموشی توڑ دی، خاور مانیکا نے کچھ باتیں بتائی ہیں کہ عمران خان اور بشریٰ کا رابطہ کیسے ہوا، مانیکا نے سارا گنداچھار کر بشریٰ، گوگی پر ڈال دیا،جاتے جاتے زلفی بخاری کا بھی تڑکہ لگا گیا، زلفی بخاری اور بشریٰ کی جو آڈیو سنی تھی اس سے اب سمجھ آ رہی کہ کس قسم کی قربت تھی، جو باتیں خاور مانیکا نے نہیں بتائیں وہ یہ کہ بشریٰ بی بی کا ڈیرہ کہاں تھا، مریدوں کو ملتی کیسے تھی، کیا وہ ایک ہی شخص کے لئے پیرنی بنی ہوئی تھی یا کوئی اور مرید بھی تھے، عام آستانے پر جاتے ہیں تو دو تین درجن لوگ موجود ہوتے ہیں، کئی جگہوں پر لوگ زیادہ ہوتے ہیں، ہر وقت بھیڑ ہوتی ہے، بشریٰ بی بی کا آستانہ کہاں تھا، یہ اس نے گھر کے اندر جو گند شروع کیا تھا وہ سب کو پتہ تھا، نہ میاں سے شرم تھی نہ اولاد سے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب خاور مانیکا معصوم بن گیا ہے، راتوں کو باتیں ہوتی تھیں اسوقت سمجھ نہیں آتی تھی، نوکر سے عمران خان کو دھکا دلوایا، خود نہیں دھکا دے سکتا تھا، اتنا کمزور ہو گیا تھا، روٹی کو چوچی کہنے والوں سے مجھے سخت چڑ ہے،خاور مانیکا آنکھیں نیچے کر کے بات کرتے ہیں،اینکر کو دیکھیں وہ کٹ تھرو کر کے پوائنٹ پر آیا ہوا ہے،یہ آرام سے جواب دے رہا ہے، آخر میں کبھی کبھی انگریزی میں بات کرنے کی کوشش کی،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • نوازشریف اور  شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر آمد

    نوازشریف اور شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر آمد

    اسلام آباد: قائد مسلم لیگ ن نواز شریف اور شہباز شریف امیر جمیعت علما اسلام مولانا فضل الرحمن کے گھر پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : قائد مسلم لیگ ن نواز شریف اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے، اور ملاقات کی دونوں رہنماؤں کی اہم ملاقات جاری ہے، ملاقات میں ، مریم نواز، اسحاق ڈار بھی شریک ہیں، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،

    ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں مسلم لیگ ن کیساتھ مل کر چلیں گے،میاں صاحب میرے پاس دعا کرنے آئے تھے، ہم نے مل کر لمبی جدوجہد کی ہے اور ہم حکومت میں اکٹھے رہے، ایک ناجائز حکومت کے خلاف بھی ہم اکٹھے رہے ہیں، انتخابی معاملات میں بھی ایڈجسٹمنٹ کریں گے، کسی کو کسی کے پارٹی کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہئے، ہم نے پیپلز پارٹی کے خلاف انتہاء پسندانہ رویہ اختیار نہیں کرنا، بچے اور بڑے کی بات میں فرق ہوتا ہے، ہم آئندہ الیکشن کو متنازع نہیں کرنا چاہتے، میڈیا نے میرے بیان کو ایسا چلایا جیسے ہم انتحابات نہیں چاہتے،میرا پیغام لیڈران تک پہنچ گیا،چاہتے ہیں تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، امریکی سفیر جب کسی سے ملتا ہے تو اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے،میری نظر میں پی ٹی آئی کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے،مجھے دکھ ہے میری نوجوان نسل گمراہ ہورہی ہے،ہماری ہمدردیاں نوجوانوں کے ساتھ ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے حوالے سے ہمارا مؤقف واضح ہے،میں خود قطر گیا وہ پاکستان کے مؤقف کو سراہتے ہیں،ایک مسلمان کی حیثیت سے سب کو آواز اٹھانی چاہئیے،ایسے وقت مسلم سربراہان کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے،ہم ایک فلسطین کی بات کرتے ہیں،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    نواز شریف ،مولانا ملاقات،مل کر چلنے پر اتفاق، انتخابی اتحاد پر بھی مشاورت
    سابق وزیراعظم نواز شریف اور جے یو آئی قائد مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان میں پنجاب کے علاوہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سیاسی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی،جے یو آئی ایف کی طرف سے سابقہ ڈیڑھ سالہ اتحاد کے انداز میں آگے بڑھنے کی تجویز دی گئی،ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ملک جن مسائل میں ہے، ایک جماعت تمام مسائل حل نہیں کرسکتی،مستقبل میں مل کر چلنے پر اتفاق، سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا انتخابی اتحاد پر مزید مشاورت ہوگی،خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں جے یو آئی ن لیگ کی پنجاب میں مکمل حمایت کرسکتی ہے،پیپلز پارٹی خصوصاً سابق صدر آصف علی زرداری کا حالیہ بیان بھی زیر غور آیا،آج کی ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کے علاوہ معاشی صورتحال بھی زیر غور آئی،

  • پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی مہلت کی استدعا منظور

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی مہلت کی استدعا منظور

    سپریم کورٹ،سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کی سزا سے متعلق مختلف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو گزشتہ سماعت میں عدالت نے ہدایات جاری کی تھی، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف جب تک زندہ تھے تب تک رابطے میں تھے، انکی خواہش تھی کہ اپیل سماعت کیلئے مقرر ہوجائے،چار سال تک پرویز مشرف کی اپیل سماعت کیلئے نہ لگ سکی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے آپ مجھے اسکا ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہ میری نہ درخواستگزار کی کوئی اس میں غلطی تھی،مشرف کی عمر 76سال تھی جب اپیل دائر کی ، پرویز مشرف کے اہلخانہ سے 8سے 10بار رابطے کی کوششیں کی، مجھے پرویزمشرف کے اہلخانہ کی جانب سے اب تک کوئی ہدایات نہیں ملی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو آپ کو پرویز مشرف کے وراثی کی جانب سے نمائندہ تسلیم کر رہے تھے،اپیلوں میں دلچسپی نہیں تو ہم خارج کر دیں گے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پرویز مشرف کے وارثی اپیلوں کی قانونی اہمیت کو سمجھ نہیں رہے،

    پرویز مشرف کے وکیل نے واضح ہدایات لینے کیلئے مزید ایک ہفتے کہ مہلت مانگ لی،جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پرویز مشرف کی فیملی سے دو ہی ہدایات لے سکتے ہیں ،ایک تو وہ کہیں گے ہم خصوصی عدالت کے فیصلے سے مطمئن ہیں،دوسری صورت میں کہیں گے کہ وہ اپیل آگے چلانا چاہتے ہیں،آپ کی پرویز مشرف نے خود خدمات حاصل کی تھیں،آپ اپنے طور پر اپیل چلانا چاہیں تو ہمیں اعتراض نہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں ان اپیلوں کی پیروی نہیں کرنا چاہتا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان صفدر صاحب اس فیصلے کے مستقبل کی نسلوں پر اثرات ہوں گے،پرویز مشرف کی پینشن اور دیگر مرعات بھی متاثر ہوں گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ ایک مجسٹریٹ والا برتاؤ نہ کریں ،

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی مہلت کی استدعا منظور کر لی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے ایک استدعا دینے کی زحمت نہیں کی،ہم کل شام نو بجے تک یہاں ایک اور معاملہ سننے کیلئے بیٹھے تھے،آپ التوا پر زور دے رہے ہیں تو ہم ملتوی کر دیں گے،ہم یہ التوا خوشی سے نہیں دیں گے،آپ بتائیں آپ کو کتنا وقت چاہیے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت نہیں چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پہلے کہتے تھے کہ چار سال اپیلیں نہیں لگیں،اب التوا مانگ رہے ہیں، آپ ہفتے کے بعد یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ اپیل واپس لے لوں گا،آپ ورثا کا پتہ بتائیں کہ جس پر نوٹس بھیجا جا سکتا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کا ایڈریس ہی ان کی فیملی کا ایڈریس ہے،وکیل سلمان صفدر

    کورٹ سٹاف نے چک شہزاد والے پتے پر بھیجے نوٹس کی تعمیلی رپورٹ پڑھ کر سنا دی،رپورٹ میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کی فیملی بیرون ملک ہے چک شہزاد کوئی مقیم نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وفاقی حکومت لاہور ہائیکورٹ فیصلے کو سپورٹ کرتی ہے یا مخالفت ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرے گی،وفاقی حکومت نے تو پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت فیصلے کی اہلیت نہیں رکھتی ؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ واضح بتائیں لاہور ہائیکورٹ فیصلے کا دفاع کریں گے یا نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم لاہور ہائیکورٹ فیصلے کو سپورٹ نہیں کریں گے ،وکیل حامد خان نے کہا کہ ہم نے لاہور ہائیکورٹ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر اپ کیس کے میرٹس پر جائیں گے تو پھر اسکا اثر اپیل پر ہوگا یا اپ دائرہ اختیار تک کیس محدود رکھیں گے ؟وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے دو حکمناموں کو مد نظر نہیں رکھا گیا ،سپریم کورٹ کے حکم پر خصوصی عدالت قائم اور مشرف کا ٹرائل ہوا۔سپریم کورٹ نے سنگین غداری کا ٹرائل بلا تاخیر مکمل کرنے کا حکم دیا۔خصوصی عدالت نے 21 نومبر 2014 کو غداری کیس میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس حمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کو ملزم بنانے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کا یہ فیصلہ کالعدم قرار دیا۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • سائفر کیس:عمران خان کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس:عمران خان کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ غیر معمولی حالات میں ٹرائل جیل میں کیا جاسکتا ہے،قانون کے مطابق جیل ٹرائل ان کیمرہ یا اوپن ہوسکتا ہے، سائفر کیس میں جیل ٹرائل کا 29 آگست کو نوٹیفکیشن کالعدم قراردے دیا گیا.اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے جیل ٹرائل کے خلاف عمران خان کی اپیل منظور کرلی۔

    جسٹس گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی کو درست قرار دیا،

    قبل ازیں سائفر کیس میں عمران خان کی جج تعیناتی اور جیل ٹرائل کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی.سائفر کیس میں جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا ،چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل بھی مکمل ہو گئے،وفاق سے اٹارنی جنرل منصور اعوان اور ایف آئی اے پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہو گئے،

    قبل ازیں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز سماعت کر رہے ہیں دوران سماعت سائفر کیس میں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کیا-سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں جیل ٹرائل کا پراسس عدالت کے سامنے رکھا کہ سی آر پی سی کی سیکشن 352 کے تحت جیل ٹرائل کے لئے ٹرائل جج نے کچھ وجوہات کے ساتھ یہ اختیار استعمال کرنا ہوتا ہے ، پھر ریکوئسٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (کمشنر) کے ذریعے وفاقی حکومت کو جاتی ہے ، کابینہ کے سامنے یہ معاملہ رکھنا ہوتا اور ہائی کورٹ کو بھی آگاہ کرنا ہوتا ہے یہ پراسس ہے ،سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے لیے جج کو جیل ٹرائل سے متعلق جوڈیشل آرڈر پاس کرنا چاہئے تھا جو آج تک نہیں ہوا –

    سائفر کیس سماعت 24 نومبر تک ملتوی

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کابینہ کے فیصلے کے اثرات پر دلائل میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کا ماضی پر اطلاق نہیں ہوتا ، جیل ٹرائل کیلئے سب سے پہلے ٹرائل جج نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے ، حکم جاری کرنا ہوتا ہے ، ٹرائل کورٹ کے جج کے خط کو فیصلہ /حکمنامہ نہیں کہہ سکتے ، جج اپنا مائنڈ فیصلے سے ظاہر کرتا ہے ، مان بھی لیا جائے کہ بارہ نومبر سے کابینہ کی منظوری کیلئے طریقہ کار پر عمل کیا گیا تو پہلے کی کارروائی غیر قانونی ہوگی –

    فیض آباد دھرنا کیس: سابق ن لیگی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے پاس جنرل …

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل ٹرائل عام لوگوں کو سننے کے لئے نہیں،جیل ٹرائل میں فیملی ممبران کو بیٹھنے کی اجازت ملی ہے، خاندانی افراد کا ٹرائل میں بیٹھنے کے بعد نہیں سمجھتا کہ جیل ٹرائل چل رہا،یہ بات درست ہے کہ ماضی میں ملزمان کے اہل خانہ کو جیل ٹرائل دیکھنے کی اجازت نہیں ملی، اس کی وجہ یہ تھی کہ جیل میں ٹرائل کے لیے کورٹ کو ملنے والا کمرہ بہت چھوٹا اور گنجائش محدود تھی،اب اس متعلق سنگل بنچ نے بھی آرڈر پاس کر دیا ہے، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا،عدالت نے کہا کہ پانچ اور ساڑھے پانچ بجے کے دوران فیصلہ سنایا جائے گا ،

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

  • عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا۔خاور مانیکا

    عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا۔خاور مانیکا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

    خاور مانیکا نے انکشاف کیا کہ بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح گوگی نے عمران خان کے کہنے پر انھیں خفیہ فون نمبر فراہم کیے، ان کی موبائل فون پر چھپ کر باتیں ہونے لگیں بنی گالہ میں میرا اپنا گھر تھا، بشریٰ مجھے بتائے بغیر وہاں سے عمران خان کے گھر چلی جاتی تھی،شادی سے 6 ماہ پہلے بشریٰ بی بی مجھ سے علیحدہ ہو کر اپنے گھر چلی گئی، میں پاکپتن اس کے میکے گیا اور اپنے ساتھ چلنے کا کہا، بشریٰ بی بی نے جواب دیا، میاں صاحب ابھی نہیں، پھر ایک دن فرح گوگی نے مجھے موبائل پر پیغام بھیجا کہ پنکی کو طلاق دے دیں، میں بشریٰ کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا تم طلاق چاہتی ہو؟ اس نے سر جھکا لیا اور کوئی جواب نہیں دیا،

    خاور مانیکا کا کہنا تھا کہ میں نے 14 نومبر 2017 کو طلاق نامہ فرح گوگی کے ہاتھ بشریٰ بی بی کو بھجوایا، بعد میں فرح گوگی نے فون کر کے کہا کہ طلاق کی تاریخ تبدیل کردیں، زلفی اور فرح کے فون آئے کہ عمران نے وزیراعظم بننا ہے، آپ خاموش رہیں میں نے پنکی کو طلاق 14 نومبر 2017 کو دی، اس کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی اس نے عمران خان سے شادی کر لی، اس شادی کا مجھے اور میرے بچوں کو علم ہی نہیں تھا اس لیے جیو اور دا نیوز نے جب شادی کی خبر بریک کی تو اس کی تردید کی تھی.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • کوہلی آؤٹ ہونے سے 15 منٹ پہلے خبر کیسے لیک ہوئی؟

    کوہلی آؤٹ ہونے سے 15 منٹ پہلے خبر کیسے لیک ہوئی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل ہم نے خبر دی تھی کہ انڈیا ہار جائے گا اور آسٹریلیا جیت جائے، رات میچ کے بعد انڈیا سے بھی فون آ رہے تھے کہ آپکو کیسے پتہ، جس پر میں نے کہا کہ انڈیا کے چار کھلاڑی بک تھے اور ہمیں وہ ٹپ مل گئی تھی،ہارنے کے لئے انہوں نے پیسے کھائے، کھلاڑیوں کا نام انہوں نے پوچھا تو میں نے کہا کہ خود اندازہ لگائیں،وہ مان نہیں رہے تھے، میں نے کہا تھا کہ سات وکٹ سے آسٹریلیا نے جیتنا ہے، مجھے جو ٹپ ملی وہ پوری ہوئی، مظہر شیخ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں.

    آسٹریلیا سے سپورٹس تجزیہ کار مبشر شیخ کا کہنا تھا کہ انڈیا نے سارے میچز جیتے ایک تو ہارنا ہی تھا، ایک وکٹنگ سینس اور ایک باہر سے جو آیا وہ سینس، کرکٹ میں سارے کہتے ہیں کہ بہت پیسہ ہے، کوئی شک نہیں بہت پیسہ ہے، جو سپانسر ہوتے ہیں انکی ریٹرن آف انویسمنٹ کیسے ہوتی ہے، پہلے یہ پتہ لگنا چاہئے کہ کونسا فنانشل ماڈل ہے کہ اربوں روپیہ فنانسرڈال رہا ہے،کل جو کرکٹ کھیلی گئی، آسٹریلیا نے باؤلنگ کروائی، دو ایسے باؤلر تھے جو 145 کراس کرتے تھے، باؤلنگ میں ایئر سپیڈ ہوتی ہے،

    مبشر شیخ کا کہنا تھا کہ کیپٹن کو پہلے ہی پتہ تھا کہ کمپرومائز کرنا پڑتا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹپ کیسے نکلتا ہے ،جب بکیز کو کنفرمیشن ہوتی ہے کہ اتنا پیسہ کھلایا ہوا ہے تو اتنے پر ہی ٹیم نے لڑھکنا ہے، اگر اوپر کے تین بندے کمپرومائز ہو گئے تو باقی ٹیم تو گئی، مبشر بخاری کا کہنا تھا کہ یہ باکسنگ میں بھی ہے، ہر جگہ ہے، فنانسنگ ماڈل کیا ہے؟ جو بورڈ میں انویسٹ کرتے ہیں انکو کچھ نہ کچھ تو چاہئے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کو صحیح طرح مارکیٹ نہیں کیا گیا، مودی آیا اور ٹرافی دی چپ کر کے، کراؤڈ بھی خاموش ہو گیا، مبارکباد کا میسج نہیں دیا، سرمنی سے پہلے کراؤڈ چلا گیا، یہ سب انڈیا کے لئے بہت برا تاثر ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مکمل وی لاگ سننے کے لئے یہاں کلک کریں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    مبشر لقمان کا نواز شریف کو گھر بدلنے کا مشورہ

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

  • سائفر کیس،دستاویزا ت کے مطابق سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،عدالت

    سائفر کیس،دستاویزا ت کے مطابق سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس گل حسن کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،،اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور لیگل ٹیم کے ارکان اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو قریشی عدالت میں موجود تھیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے،جج کی تعیناتی کے معاملے پر سائفر کیس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان اہم مکالمہ ہوا، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں سینکڑوں ماتحت عدلیہ کے ججز موجود ہیں حکومت نے ایک مخصوص جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دیدیا ، جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کیا تھا ہم نے دستاویزات دیکھے ہیں تعیناتی کیلئے کارروائی کا آغاز اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہوا، وکیل عمران خان نے کہا کہ ہمیں تو وہ دستاویزات بھی نہیں دکھائے گئے،عدالت نے کہا کہ ہمارے ذہن میں بھی یہی سوال تھا لیکن دستاویزات دیکھنے کے بعد صورتحال واضح ہوئی، آپ پہلے اٹارنی جنرل کے اپیل ناقابلِ سماعت ہونے کے اعتراض کا جواب دیں.

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 16 اگست کو اوپن کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کا ریمانڈ دیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے انکی عدم موجودگی میں ریمانڈ ہوا،بعد میں سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، 29 اگست کو سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، میڈیا کو عمران خان کا نام لینے سے بھی روک دیا گیا،یہ سب عمران خان کو عوام میں لانے سے روکنے کیلئے کیا گیا،شاہ محمود قریشی ریمانڈ کے وقت کمرہِ عدالت میں موجود تھے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپکے یہ دلائل بعد کے ہیں پہلے اپیل قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کچھ دستاویزات دکھائیں جس میں سپیشل رپورٹس بھی ہیں سی سی پی او کا لیٹر بھی ان دستاویزات کا حصہ ہے سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے اس لیٹر کا تب پتہ چلا ہے جب اٹارنی جنرل نے دستاویزات جمع کرائی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن میں لائف تھریٹ کا ذکر بھی موجود نہیں نا ہی وزارت داخلہ کی اسپیشل رپورٹ کا ذکر ہے ،اٹارنی جنرل کے دستاویزات کے مطابق سی سی پی او نے خط لکھا کہ عمران خان کو لاحق سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے ٹرائل جیل میں کیا جائے لیکن اس وقت تو ٹرائل شروع بھی نہیں ہوا تھا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہا کہ حکومت جیل ٹرائل کے لیے پراسیکیوشن کے ذریعے بھی درخواست دے سکتی ہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل ٹرائل کی درخواست آئے تو عدالت نوٹس کر کے دوسرے فریق کو سننے کے بعد فیصلہ کر سکتی ہے،سیکشن 9 کے تحت جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا،اِس سیکشن کے تحت عدالت کا وینیو تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن جیل ٹرائل کا ذکر نہیں،یہ سزائے موت یا عمر قید کا کیس ہے اس میں سختی سے قانون کے مطابق چلنا چاہیئے، جسٹس ثمن رفعت امتیار نے استفسار کیا کہ اگر سیکیورٹی خدشات ہوں تو حکومت کو کیا کرنا چاہیئے تھا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت کو یہ معاملہ متعلقہ جج کے سامنے رکھنا چاہیئے تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب، آپ اپیل قابلِ سماعت ہونے پر اپنے دلائل دیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جج کی جانب سے دو اکتوبر کو لکھا گیا خط بھی پڑھنا چاہتا ہوں جو بہت اہم ہے،جج نے اس خط میں پوچھا کہ کیا ملزم کو پیش کرنے میں کوئی مشکلات تو نہیں؟جج اس خط کے ذریعے پوچھ رہا کہ آپ مناسب سمجھیں تو جیل ٹرائل کے لیے تیار ہوں، جج نے کہا کہ جو آپ کا حکم وہی میری رضا، وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی درست نہیں ، یہ بھی کنفیوژن ہے کہ جیل ٹرائل کا مقصد کیا ہے؟ ایسا سیکورٹی خدشات کے باعث ہے یا حساس کیس سے پبلک کو اس سے دور رکھنا مقصد ہے،اوریجنل آرڈر کے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابلِ سماعت ہوتی ہے، سیکشن 9 سیشن عدالتوں کے وینیوز تبدیل کرنے سے متعلق ہے جیل ٹرائل کا نہیں لکھا ہوا ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 14 کے حوالے سے پراسیکیوشن کی درخواست ٹرائل کورٹ نے مسترد کی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کے بعد ہم اٹارنی جنرل نے جوابی دلائل سنیں گے، عدالت کیس قابلِ سماعت ہونے پر اپنا مائنڈ کلیئر کرنا چاہتی ہے،یقین دہانی کراتے ہیں کہ آپ نے دلائل دینے ہوئے تو دوبارہ موقع دیا جائے گا، آپ تھوڑا وقفہ کر لیں ہم اٹارنی جنرل کو قابلِ سماعت ہونے پر سن لیتے ہیں

    وکیل سلمان اکرم راجہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہونے سے شروع ہوا، اس سے پہلے کی تمام عدالتی کارروائی پری ٹرائل پروسیڈنگ تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سیکیورٹی تھریٹس سے متعلق رپورٹ ٹرائل کورٹ کے جج کے سامنے رکھی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں، وہ وہ رپورٹ ٹرائل کورٹ کے جج کے سامنے نہیں رکھی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے کس مواد کی بنیاد پر پہلا خط لکھا ؟ اگر میرٹ پر دلائل سنتے ہیں تو آپ کو اِس نکتے پر عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ بات عمومی طور پر پبلک ڈومین میں تھی اور عدالت کو بھی اس کا علم تھا،

    جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج تبدیل کیا جائے، عمران خان کے وکیل کی استدعا،سماعت میں وقفہ
    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل سماعت کے نوٹیفیکیشنز جاری ہوتے رہے اور جج تیزی سے کاروائی آگے بڑھاتے رہے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس اہم ترین معاملے میں ہماری درخواست پر کئی ہفتوں کیلئے فیصلہ محفوظ رکھا،سماعت مکمل ہونے کے ایک ماہ بعد تک فیصلہ محفوظ رکھا گیا ،اس دوران یہ سارے ایونٹس ہوئے جن کا ذکر کیا گیا ، ٹرائل کورٹ کی کارروائی بھی جاری رہی ،سائفر کیس میں پندرہ نومبر تک کی تمام کارروائی غیر قانونی تھی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہمیں ابھی تک نہیں پتہ کہ سائفر کیس میں الزام کیا ہے؟ہم صرف جیل میں ٹرائل اور جج کی تعیناتی کے معاملے پر قانونی نکات دیکھ رہے ہیں ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی کو بھی جیل ٹرائل دیکھنے کی اجازت نہیں ملی، پھر یہ کہہ رہے ہیں کہ جیل ٹرائل اوپن ٹرائل ہے،میری استدعا ہو گی کہ اگر جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج کو تبدیل کیا جائے،

    کابینہ منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے،وکیل عمران خان کی استدعا
    سلمان اکرم راجہ نے 1947کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جیل ٹرائل کے قواعد پورے نہ کرنے پر جج کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیاگیا تھا ،عدالت نے قرار دیا کہ جیل ٹرائل جاری رہے لیکن کوئی اور جج کارروائی کو آگے بڑھا سکتا ہے ،عدالت نے نوٹ کیا کہ ہے کہ 25ستمبر کے نوٹیفکیشن میں وزارت قانون نے لفظ جیل شامل نہیں کیا ،عمران خان کے جیل ٹرائل کو اِن کیمرہ ٹرائل بنا دیا گیا ہے،اِس ٹرائل میں فیملی ممبرز کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس عدالت نے ایک سوال اپنے پہلے تحریری آرڈر میں بھی رکھا تھا،وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والے ٹرائل کا سٹیٹس کیا ہوگا؟آپ اپنے دلائل میں واضح کر دیں کہ آپ اس ٹرائل سے متعلق کیا چاہتے ہیں؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل خلاف قانون ہے، کابینہ منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا آپ ڈکلیئریشن چاہ رہے ہیں؟پبلک کو عدالتی کارروائی سے باہر رکھنے کا اختیار متعلقہ جج کا ہے،اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ جج کی طرف سے پبلک کو باہر رکھنے کا کوئی آرڈر موجود نہیں،اٹارنی جنرل کے مطابق ایسا آرڈر نہ ہونے کے باعث اسے اوپن ٹرائل تصور کیا جائے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پراسیکیوشن نے ٹرائل کورٹ میں پبلک کو ٹرائل سے باہر رکھنے کی درخواست دائر کی، جج نے آرڈر میں لکھا کہ ابھی تو پبلک کیس کی سماعت میں موجود ہی نہیں،جج نے لکھا کہ جب پبلک موجود ہوئی تو پھر اس معاملے کو دیکھیں گے،چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل فیملی اور پبلک کو دور رکھنے کیلئے ہی کیا جا رہا ہے،میڈیا،فیملی اور پبلک کو ٹرائل سے دور رکھنامحض بےضابطگی نہیں،استدعا ہے کہ پہلے ہو چکا ٹرائل کالعدم قراردیاجائے،عمران خان پر فرد جرم سے پہلے کچھ بہت اہم ہوا ، کچھ ایسا اہم ہوا کہ ہمیں دستاویزات تک فراہم نہیں کیے گئے، بغیر دستاویزات فراہم کئے فرد جرم عائد کی گئی اسے معمولی بے ضابطگی نہیں کہہ سکتے،

    سائفر کیس جیل ٹرائل اور جج تعیناتی معاملے میں اہم موڑ آ گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار ہائیکورٹ سردار طاہر صابر کو طلب کر لیا ، رجسٹرار عدالت کے سامنے پیش ہو گئے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ آپ سے صرف دو سوالات پوچھنے ہیں 20 جون 2023 کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزارت قانون کے سیکرٹری کے نام کا لیٹر ہے کیا جج کی تعیناتی کا یہ پہلا لیٹر ہے ؟ یا وزارت قانون نے پہلے ریکوئسٹ بھیجی؟ چیک کرکے بتائیں ، دوسرا سوال یہ ہے کہ جیل ٹرائل سے متعلق کسی بھی اسٹیج پر ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کو کبھی بتایا ہے چیک کرکے بتائیں ،

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس کی حالت زار پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم
    سائفر کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس کی حالت زار پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم ، عدالت نے اٹارنی جنرل منصور اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں اسپیشل کورٹس کا ایڈمنسٹریٹو جج تھا تو مجھے شکایات موصول ہوئیں تھیں ،جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس میں تعینات کردہ اسٹاف وزارت قانون کا ہے وہ اسٹاف نہ ججز کی سنتا ہے نہ وہ ججز ،اس اسٹاف کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لے سکتے ہیں وزارت قانون کے تعینات کردہ اس اسٹاف کو کم سے کم ان ججز کی تو سننی چاہیے بار بار ، بار بار وزارت قانون کو لیٹرز لکھے گئے لیکن وزارت قانون نے کچھ نہیں کیا ،اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے میں اس کو دیکھ لوں گا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ تین احتساب عدالتیں گزشتہ حکومت کے دور سے خالی پڑی ہیں ، ہم نے تین ججز کی تعیناتی کا کہا لیکن وہ بھی نہیں لگائے گئے ، یہ جو کہہ رہے ہیں ہمارے پاس کنٹرول ہے یہ ایسے اپنا کنٹرول استعمال کرتے ہیں ، اگر آپ ان معاملات کو دیکھیں تو وفاقی دارالحکومت کی عدالتوں کے لیے بڑی سروس ہو گی ، اٹارنی جنرل نے حکومت کے سامنے معاملہ رکھنے کی یقین دہانی کروائی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم میں کل دن گیارہ بجے تک توسیع کردی ہے،عمران خان کی جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی.

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں