Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کے بعد غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال میں ڈاکٹر ،مریض اور بے گھر افراد ہیں، اسکے باوجود اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا ہے، ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اور ہمارے پاس چھپانے کے لئے بھی کچھ نہیں،الشفا ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں موجود ملازم عمرزقوت نے خبر رساں ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شفا ہسپتال سے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، گرفتاری کے دوران انہیں برہنہ کر دیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوجی امداد کے نام پر گرفتاریاں کرنے آئے تھے، فوج ہسپتال کو مکمل گھیرے میں‌ لے رہی ہے، ہسپتال میں 180 سے زائد لاشیں خراب ہو رہیں ہیں،جو صحن میں پڑی ہیں،ہسپتال کے ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوجی لاؤڈا سپیکرکا استعمال کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے ہیں لیکن ہسپتال میں ڈاکٹر،مریض اور بےگھر افراد ہیں، اسرائیلی فوج نے ہسپتال میں ادویات اور طبی آلات کے گودام کو دھماکے سے اڑا دیا،اسرائیلی فوج نے 30 کے قریب افراد کو گرفتار کیا، جن کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ان کے کپڑے اتار کر انہیں برہنہ کر دیا گیا،غزہ کےہسپتالوں کے چیف نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی الشفا ءہسپتال کی سرجیکل اور ایمرجنسی عمارتوں میں داخل ہو ئے ہیں، سرجن ڈاکٹر احمد المخلاتی نےبتایا کہ اسرائیلی فورسز کے حملے کے بعد اسپتال کے اندر خوف کا ماحول ہے،

    یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ غزہ کے دس لاکھ بچوں کے لیےکہیں بھی محفوظ جگہ نہیں ہے، بہت سے بچے لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ منہدم عمارتوں اور گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں،علاقے میں پانی ختم ہو چکا، خوراک ختم ہو چکی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی دھاوے اور گرفتاریوں کے بعد حماس ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہسپتال میں اسلحہ کے حوالہ سے جھوٹ بول رہا ہے اور دنیا کو دھوکا دے رہاہے،غاصب صیہونی فوج کا یہ دعویٰ کہ اس نے الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں اسلحہ اور سازوسامان پکڑا ہے، سفید جھوٹ اور سستے پروپیگنڈے کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جرم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد غزہ میں صحت کے شعبے کو تباہ کرنا ہے۔ حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے دو ہفتے قبل ایک سے زیادہ مرتبہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہسپتالوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دیں اور اسرائیل کے جھوٹے دعوؤں کا تعین کریں، کیونکہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا ہے کہ متعدد رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیں "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری” کے ذریعے جنوب کی طرف بھاگنے والے شہریوں کی گرفتاریاں کر رہی ہیں،مار پیٹ، برہنہ کرنے اور تشدد کی دیگر اقسام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،

    صحت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی "خوف زدہ” مریضوں اور طبی عملے کو دیکھ کر الشفا ہسپتال میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔غزہ کے ہسپتالوں کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر البرش نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے تہہ خانے اور دیگر عمارتوں میں موجود آلات کو تباہ کر دیا، "وہ اب بھی یہاں ہیں مریض، خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں،انہوں نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ پھنسے مریضوں، عملے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے ایک محفوظ راہداری بنائیں۔اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اندر کم از کم 2,300 مریض، عملہ اور شہری موجود ہیں۔

  • بابر اعظم نے تمام فارمیٹ کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا

    بابر اعظم نے تمام فارمیٹ کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا

    بابر اعظم تینوں کرکٹ کی فارمیٹ کی کپتانی سے دستبردار ہو گئے،بابراعظم نے کہا کہ بطور کھلاڈی تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی جاری رکھوں گا ۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے بابراعظم کا کہنا تھا کہ تمام فارمیٹ کی کپتانی سے دستبردار ہورہا ہوں، تینوں فارمیٹ میں بطور کھلاڑی پرفارمنس جاری رکھوں گا میری کپتانی میں ٹیم نے ون ڈے میں پہلی رینکنگ حاصل کی. ٹیم کے نئے کپتان سے بھرپور تعاون کروں گا،بابراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت کا موقع دینے پر بورڈ کا مشکور ہوں ،کرکٹ میں بطور کھلاڑی تینوں فارمیٹس کے لیے ٹیم کو دستیاب ہوں گا، کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ مشکل تھا مگر فیصلے کا وقت یہی ہے

    بابراعظم کے استعفیٰ کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارف ثاقب ورک نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دنیائے کرکٹ کی نمبرون ٹیم بنانے والے کپتان نے استعفی دے کر تمام مافیا کو امتحان میں ڈال دیا ہے حالانکہ پی سی بی نے بابراعظم کو دورہ آسٹریلیا میں کپتانی کرنے کے لیے کہا تھا جس اعتماد پر انھوں نے شکریہ بھی ادا کیا ہے !!

    ذیشان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ میڈیا مہم کامیاب ہوگیا، بابراعظم کپتانی سے دستبردار ہوگئے۔

    تنویر کا کہنا تھا کہ پہلے سرفراز احمد اور اب بابر اعظم یہ سب ہمارے سابق کرکٹر کی وجہ سے ہوا ہے اور جن لوگوں نے ایجنڈا چلا ہوا تھا جب تک چیئرمین میرٹ پر نہیں آے گا کوئی بھی کپتان ریگولر کپتانی نہیں کر سکتا ،بابر اعظم اللّه آپکو بہت عزت دے گا انشااللہ

    قبل ازیں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم چیئرمین پی سی بی سے ملنے پی سی بی ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے ہیں،چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف بابر اعظم کو پی سی بی ہیڈ کوارٹرز لے گئے،اس سے پہلے بابر اعظم ملاقات کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی پہنچے تھے،پی سی بی کے سی او او سلمان نصیر بابراعظم کی گاڑی میں ان کے ساتھ این سی اے سے نکلے،ذکااشرف اور بابر اعظم نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے روانہ ہو گئے، بابر اعظم کےساتھ سی او او سلمان نصیر بھی تھے،

    کپتان بابر اعظم کی چیئرمین منجمنٹ کمیٹی ذکاء اشرف سے ملاقات ہوئی،ذرائع پی سی بی کے مطابق بابر اعظم کو وائٹ بال کرکٹ کے لیے نیا کپتان لانے کا بتا دیا گیا،اور کہا گیا کہ ریڈ بال فارمیٹ میں آپ کپتانی جاری رکھ سکتے ہیں،میٹنگ میں کپتانی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ،میٹنگ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے گفتگو ہوئی ،بابراعظم نے نے ذکاء اشرف کو ناقص کارکردگی بارے اپنی رپورٹ پیش کی،بابر اعظم نے بائولنگ سمیت تمام شعبوں میں ناقص کارکردگی کو ذمہ دار ٹھہرایا،بابراعظم نے کہا کہ بھارت سے ناکامی کے بعد کھلاڑی مورال ڈائون ہوگیا،جنوبی افریقہ اور افغانستان سے ناکامی سیمی فائنل تک نہ پہنچنے کا سبب بنے،بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ذکاء اشرف کے ساتھ میٹنگ بڑے خواشگوار ماحول میں ہوئی ،چیئرمین ذکاء اشرف نے بابر اعظم کی خدمات کو سراہا

    دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کی منجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکاء اشرف کی پاکستان ٹیم مینجمنٹ کمیٹی سے ملاقات ہوئی،چیئرمین ذکاء اشرف نے کوچز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کر دیا ،ذکا اشرف نے کوچز کو پیغام دیا کہ کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی، تبدیلی کے سوا کوئی چارہ نہیں ،ہو سکتا ہے کہ ہمیں آسٹریلیا کے دورے پر نیا اسٹاف مقرر کرنا پڑے ،یہ بھی ممکن ہے کہ آپ لوگوں سے پی سی بی کوئی اور کام لے لے،اگلے ایک دو روز میں سب کو فیصلہ سنا دیا جائے گا

    بابراعظم کی کپتانی ختم، استعفیٰ نہ دیا تو بورڈ نے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا

    بابراعظم شادی کا جھانسہ دے کر10 سال تک زیادتی کرتا رہا:میں نے بابرکی خاطربڑی قربانیاں دیں :حامزہ نے سارےپردے فاش کردیے

    بابراعظم کس طرح حامزہ کوبلیک میل کرتے رہے:پردے میں ہونے والی گفتگو،رازونیاز کی باتیں سامنے آگئیں

    بابراعظم کی حامیزہ کے ساتھ جنسی زیادتی،بلیک میلنگ:پی سی بی”مٹّی پاو”کہہ کرمظلوم کی بجائےظالم کے ساتھ کھڑی ہوگئی

    بابر اعظم پر الزام عائد کرنیوالی خاتون نے اب کس پر ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا؟

    پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز،لیکن کس چیز کو "مس” کر رہے ہیں؟ بابر اعظم نے بتا دیا

  • سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی،شاہ محمود قریشی نے ضمانت پر رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا

    سائفر کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم
    سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم سامنے آیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا،سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کردیا،سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت مسترد کرنے کا 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں جرم کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے الزامات ہیں، قانون کے مطابق جرم کی معاونت کرنے والے پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی جرم کرنے والے ہر ہوتی ہے، سائفر کیس میں مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، سیکشن 5 کے تحت جرم کے ارتکاب کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے،آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن 9 کہتا ہے کہ جرم پر اکسانے یا معاونت پر بھی وہی سزا ہوگی جو سیکشن 5 میں درج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست 16 اکتوبر کو مسترد کر چکی ہے،شاہ محمود قریشی کی ضمانت بھی مرکزی ملزم سے جڑی ہوئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ بھی مانگا گیا ہے،آرٹیکل 248 شاہ محمود قریشی کے کیس میں لاگو ہی نہیں ہوتا، آرٹیکل 248 کا اطلاق سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے، شاہ محمود قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے 27 مارچ 2023 کو جلسے میں تقریر کے دوران جرم کی حوصلہ افزائی، معاونت کی،ایک جلسے میں تقریر کرنا سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں، لحاظہ آرٹیکل 248 کا اطلاق نہیں ہوتا،شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے،خصوصی عدالت یہ حکم نامہ موصول ہونے کے 4 ہفتوں کے اندر اندر ٹرائل مکمل کرے،

    کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اےکے پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن یہ تو ضمانت کی درخواست ہے ، رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں سرٹیفیکیٹ جمع کروانا ہوتا وہ نہیں ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سرٹیفیکیٹ شریک ملزم کا نہیں ہے لیکن اسکا ریفرنس تو دیا ہوا ہے ،وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کریمنل کیسز میں اگر دس کیسز ہیں تو دس وکیل بھی ہو سکتے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ ایسے معاملات میں دیگر کیسز کو یکجا کردیا جاتا ہے ، ہمارے ہاں بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں ہم اس کو مان لیتے ہیں ، وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے میرے موکل کی ضمانت خارج کردی تھی ،

    وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ کچھ حقائق عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ،9 اکتوبر کو کاپیز کی نقول شاہ محمود قریشی کو دی گئیں تھیں ، 17 اکتوبر کو شاہ محمود قریشی نے 9 اکتوبر کے آرڈر پر دستخط کئے تھے، 23 اکتوبر کو قانونی تقاضے پورے کرکے فرد جرم عائد ہوئی تھی، قانون میں صرف کاپیز فراہم کرنے کا ذکر ہے، ملزم کے وصول کرنے کا نہیں، اگر ملزم تعاون نا کر کے کاپیز وصول نا کرے تو اس سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں، عدالت نے کاپیز سپلائی کر دیں، مقدمہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں تھا مگر لاہور ہائی کورٹ کا ایک سال تک حکم امتناع رہا، ایف آئی اے نے حکم امتناع خارج ہونے پر انکوائری مکمل ہونے پر کمپلینٹ پر مقدمہ درج کیا، کچھ آڈیو لیکس بھی اس کیس میں تھیں، پٹشنرز نے لاہور ہائیکورٹ میں ایف آئی اے کے نوٹسز چیلنج کئے،ایک سال سے اس کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں اسٹے رہا ہے پھر انہوں نے وہ پٹیشن واپس لے لی، اس کے بعد ایف آئی اے نے کاروائی شروع کی ایف آئی اے کے اندراج میں کوئی ڈیلے نہیں ہے، ، شاہ محمود قریشی نے سنگین جرم کیا اور وہ ضمانت کی رعائت کے مستحق نہیں عدالت ضمانت کی درخواست مسترد کرے

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے کہاکہ ہم 15 سے 20 دن میں سائفر کیس کا ٹرائل مکمل کر سکتے ہیں اگر عدالت ہمیں 15 سے 20 روز یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ دے تو ٹرائل مکمل کر دیں گے یہ تو یہ ٹرائل کو آگے نہیں بڑھنے دیتے یہ کہتے ہیں ہر سماعت پر تین تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ جیل ٹرائل ہے، ان کیمرا ٹرائل نہیں ، جیل ٹرائل کس انداز میں چل رہا ہے؟ سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کو بتایا ہے کہ وہ تحفظات دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کا مطلب ہے کہ اوپن پبلک کورٹ پروسیڈنگ نہیں،سپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ جیل ٹرائل میں پبلک کی رسائی منع نہیں مگر محدود ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران تو صرف وہ لوگ ٹرائل پروسیڈنگ دیکھ سکیں گے جنہیں جیل حکام اجازت دیں.

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی؟ چیف جسٹس

    کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی؟ چیف جسٹس

    ٹی او آرز میں شامل کیا جائے گا کہ نظر ثانی درخواستیں دائر کرنا حادثہ تھا یا کسی کی ہدایت،حکمنامہ

    سپریم کورٹ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا کیس کا حکم نامہ لکھوا دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پیش کیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹی او آرز میں شامل کیا جائے گا کہ نظر ثانی درخواستیں دائر کرنا حادثہ تھا یا کسی کی ہدایت، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹی او آرز ایک ہفتے میں شامل کر لیں گے،ہم اب کیس دو ماہ بعد سنیں گے، اٹارنی جنرل سے استدعا کی کہ سماعت 20 جنوری کے بعد کی جائے، کسی کو استثنی نہیں سب کو کمیشن بلا سکتا ہے،کمیشن ابصار عالم کے نام لیے گئے افراد کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،سپریم کورٹ نے شیخ رشید کی نظر ثانی درخواست واپس لینے پر خارج کر دی، شیخ رشید عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نظرثانی کی درخواست آخر دائر ہی کیوں کی تھی،چار سال تک اس کیس کو لٹکائے رکھا، سچ سب کو پتہ ہے بولتا کوئی نہیں کوئی ہمت نہیں کرتا ، وکیل شیخ رشید نے کہا کہ آج کل تو سچ بولنا اور ہمت کرنا کچھ زیادہ مشکل ہو گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل کی بات نہ کریں ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں،یہ معاملہ مذاق نہیں ہے پورے ملک کو آپ نے سر پر نچا دیا، یہ کوئی مذاق نہیں جب چاہے درخواست دائر کی جب دل کیا واپس لے لی، نظر ثانی درخواستیں اتنا عرصہ کیو ں مقرر نہیں ہوئی یہ سوال ہم پر بھی اٹھتا ہے، کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی، سب سے پہلے ہم خود قابل احتساب ہیں، نظرثانی کی درخواست آجاتی ہے پھر کئی سال تک لگتی ہی نہیں،پھر کہا جاتا ہے کہ فیصلے پر عمل نہیں کیا جارہا، کیونکہ نظرثانی زیر التوا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید سے استفسار کیا کہ آپ اب بھی یہ سچ نہیں بولیں گے کہ کس نے نظرثانی کا کہا تھا، شیخ رشید نے کہا کہ نظر ثانی درخواست دائر کرنے کے لیے مجھے کسی نے نہیں کہا تھا،وکیل نے کہا کہ شیخ رشید اپنی درخواست واپس لینا چاہے ہیں، عدالت نے کہا کہ عدالت شیخ رشید کی نظرثانی درخواست نمٹا رہی ہے،آپ نے یہ درخواست دائر کیوں کی تھی؟ ایک ہی دن میں اتنی درخواستیں کیسے داخل ہوئی تھیں؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس پر ابھی ایک کمیشن بنا ہے، یہ کوئی مذاق نہیں، جب درخواست واپس لینی ہے تو دائر کیوں کی تھی؟ ہم تنقید کو برداشت کرتے ہیں لیکن سسٹم کومیناپولیٹ نہیں کرنے دینگے، ہمارا کوئی اور دشمن نہیں ہم خود اپنے دشمن ہیں،
    مومن کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا،کیا آپ کو ملک کی مزید خدمت کرنے کا موقع ملا تو کرینگے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے شیخ رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کسی نے غلط مشورہ دیا تھا کہ نظر ثانی داخل کریں ،آئی ایس آئی کی رپورٹ میں آپ کا ذکر تھا ، فیصلے میں نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے کمیشن کے تشکیل کا نوٹیفکیشن عدالت میں جمع کرادیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نوٹیفکیشن پڑھیں گے؟ وزارت دفاع میں سے کسی کو کمیشن میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت اس کمیشن سے تعاون کرنےکی پابند ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ایم این اے رہ چکے اور وزیر رہ چکے وہ تودھرنے کے ذمہ دار ہیں ناں؟ جلاؤ گھیراؤ کاکہتے ہیں تو اس پر آپ قائم بھی رہیں ناں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کہیں ناں کہ ہاں میں نے دھرنے حمایت کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کو روسٹرم پر آکے بولنے سے روک دیا،کہا کہ آپ سے نہیں پوچھ رہے آپ کے وکیل سے پوچھ رہے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ شیخ رشید ایک سینئر پارلیمنٹیرین ہیں،آپ کے حوالے سے عدالت نے کچھ نہیں کہا،،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی کمیشن یا تو آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ہے یا پھر نئی تاریخ لکھےگا،ہمیں امید ہے کہ انکوائری کمیشن آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرے گا،انکوائری کمیشن اپنا کام مکمل کر لے پھر کوئی رائے دی جاسکتی ہے، ابصار عالم نے کہا کہ انکوائری کمیشن سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابصار عالم صاحب کمیشن پر ابھی سے خدشات کا اظہار نہ کریں،انکوائری کمیشن کو اپنا کام کرنے دیں،آپ نے سابق وزیر اعظم،آرمی چیف اور چیف جسٹس کو خط لکھا تھا،انکوائری کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ سب کو بلا سکتا ہے،ہوسکتا ہے ساٹھ دنوں میں آپکی بات سچ نکل آئے،امید پر دنیا قائم ہے، ہم پہلے سے ہی شک نہیں کرسکتے، سچ تو تفتیشی بھی نکال سکتا ہے، چار سال سے کچھ ہمارے سامنے نہیں آیا 60 دن میں اب رپورٹ آجائے گی،ابصار عالم نے عدالت میں کہا کہ میں بحال نہیں ہونا چاہتا، صرف عدالتی نظام کی بہتری چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی جومرضی ہے کریں لیکن تقریرنہیں کرسکتے، ابصار عالم اپنی برطرفی کیخلاف اپیل بحال کرانا چاہتے تھے،ابصار عالم نے اپنی متفرق درخواست واپس لےلی

    قبل ازیں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی پر عمل درآمد کیلئے کمشین تشکیل دیدیا، تین رکنی کمشین میں سابق آئی جی طاہر عالم، ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ خوشحال خان بطور ممبر ہونگے،وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ آئی جی اختر علی شاہ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا،کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا،وفاقی حکومت نے کمیشن کے 10 ٹی او آرز طے کردیے،فیض آباد دھرنا کے دوران ٹی ایل پی کو کس نے غیر قانونی فنڈنگ یا دیگر سہولیات فراہم کیں،کمیشن دھرنے کے تناظر میں فتوے دینے والوں کے خلاف کارروائی کی تجویز بھی دے گا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان کی ضمانت بحال

    توشہ خانہ کیس، عمران خان کی ضمانت بحال

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ نیب کیس میں عمران خان کی ضمانت بحال کردی

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں گرفتاری کی وجہ سے درخواست غیر موثر قرار ، نیب کی گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ نے درست قرار دے دی،گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے احتساب عدالت کو کہا ہے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت بحال تصور ہو گی احتساب عدالت دوبارہ کیس سن کے میرٹ پر فیصلہ کرے

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے بہت لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس وجہ سے کیس تاخیر کا شکار ہوا، نیب کا یہ رویہ قطعی طور پر درست نہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس پر سماعت کی، عمران خان کی جانب سے انکے وکیل سردار لطیف کھوسہ پیش ہوئے۔لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ18اکتوبر کو ہم نے یہ درخواست یہاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی تھی۔ عدالت کے روبرو نیب نے بیان دیا کہ تاحال چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ عدالت سے فراڈ کیا گیا۔

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • بابراعظم کی کپتانی ختم، استعفیٰ نہ دیا تو بورڈ نے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا

    بابراعظم کی کپتانی ختم، استعفیٰ نہ دیا تو بورڈ نے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا

    بابراعظم کی کپتانی ختم، استعفیٰ نہ دیا تو بورڈ نے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا
    آئی سی سی ورلڈ کپ میں شکست،بابر اعظم کو لے ڈوبی، پی سی بی نے بابراعظم کو کپتانی سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا، نجی ٹی وی کے مطابق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 کپتان بابر اعظم اب بطور کھلاڑی کھیلیں گے،نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعظم بطور کپتان استعفیٰ دینگے تو بورڈ قبول کر لے گا تاہم دوسرے آپشن کے طور پر بورڈ نے بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے،

    دورہ آسٹریلیا میں شان مسعود ٹیسٹ کپتان بننے کے مضبوط امیدوار ہیں جبکہ دورہ نیوزی لینڈ میں ٹی 20 قیادت کیلئے شاہین آفریدی مضبوط امیدوار ہیں، 2024 آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی ہونگے

    بابر اعظم کی کپتانی میں پاکستان آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل کا کوئی ٹائٹل نہیں جیت سکا

    قبل ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ڈائریکٹر میڈیا عالیہ رشید کا کہنا تھا کہ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی تبدیلی سے متعلق ابھی کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا،مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عالیہ رشید کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کل ہمیں بابر اعظم سے خود کوئی فیصلہ سننے کو مل جائے۔

    سابق کپتان شاہد آفریدی نے بابر اعظم کی کپتانی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کی قیادت جاری رکھنے کی حمایت کا بھی اظہار کیا ہے، بالخصوص آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز میں۔ایک مقامی تقریب میں حال ہی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران، آفریدی نے اعتراف کیا کہ لوگوں نے بابر کی کپتانی پر ان کے تبصروں پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ ان کے بہت بڑے مداح ہیں۔تاہم سابق آل راؤنڈر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حمایت کے باوجود 28 سالہ کھلاڑی نے خود کو کپتان اور قائد کے طور پر ثابت نہیں کیا۔

    قبل ازیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق نے بابر اعظم کو خود ہی کپتانی چھوڑ دینے کا مشورہ دیا، انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی نے بھی کپتانی چھوڑ کر اچھا پرفارم کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں عماد وسیم اور محمد عامر نے بھی اظہار خیال کیا۔ عماد وسیم نے بھی کہا کہ جب آپ ورلڈ کپ ہار جائیں تو آپ کو خود کپتانی سے استعفیٰ دے دینا چاہیے، بابر اعظم ہماری ٹیم کا کپتان ہے اُس کی عزت اپنی جگہ ہے۔

    بابراعظم شادی کا جھانسہ دے کر10 سال تک زیادتی کرتا رہا:میں نے بابرکی خاطربڑی قربانیاں دیں :حامزہ نے سارےپردے فاش کردیے

    بابراعظم کس طرح حامزہ کوبلیک میل کرتے رہے:پردے میں ہونے والی گفتگو،رازونیاز کی باتیں سامنے آگئیں

    بابراعظم کی حامیزہ کے ساتھ جنسی زیادتی،بلیک میلنگ:پی سی بی”مٹّی پاو”کہہ کرمظلوم کی بجائےظالم کے ساتھ کھڑی ہوگئی

    بابر اعظم پر الزام عائد کرنیوالی خاتون نے اب کس پر ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا؟

    پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز،لیکن کس چیز کو "مس” کر رہے ہیں؟ بابر اعظم نے بتا دیا

    بابر اعظم پر الزام،خاتون کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم آ گیا

    بابر اعظم پر زیادتی کا الزام لگانیوالی لڑکی پر قاتلانہ حملہ

  • یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے

    مارچ میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شرکا نے بینرز پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں،انکا مطالبہ ہے کہ یرغمالی افراد کو رہا کروایا جائے.اسرائیلی خاندانوں نے تل ابیب سے یروشلم تک پانچ روزہ مارچ کا آغاز کیا،حماس نے تقریبا 240 افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں‌سے چار افراد کو رہا کیا گیاہے، یرغمالیوں کی عمریں نوماہ سے 85 سال کے درمیان ہیں،

    اسرائیلی فوج حماس کو تباہ کرنے کے حکم کے ساتھ غزہ میں مسلسل بمباری کر رہی ہے، ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، ایسے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو یرغمالیوں کے رشتہ داروں کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ ان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے مزید کچھ نہیں کر رہے ہیں۔

    مارچ میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میں بنجمن نیتن یاہو اور کابینہ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ہمیں جوابات اور اقدامات فراہم کریں،میرے 21 سالہ بیٹے عمر کو حماس والے اپنے ساتھ لے گئے تھے،مارچ میں شریک ایک خاتون انتہائی جذباتی تھیں اور وہ اپنے بیٹے کے لئے حکومت سے انکی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں،خاتون مسلسل تم کہاں ہو، تم کہاں ہو،کہہ رہی تھیں، حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید 275 خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے یرغمال بنائے گئے 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کا کہا تھا تا ہم اسرائیل کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اب تک جنگ بندی کی کسی بھی بات کو مسترد کرتے ہوئے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ صرف اسی صورت میں لڑائی کو روکنے کے لیے تیار ہوں گے جب تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے۔ معاہدے کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ حماس پر فوجی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس ساحلی علاقے کا کنٹرول کھو چکی ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 11,100 سے زائد فلسطینی، جن میں سے 40 فیصد کے قریب بچے ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

    غزہ کے عسکریت پسندوں نے اب تک چار یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، اسرائیلی فوج نے منگل کو ایک یرغمال فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی، جس کے بارے میں حماس کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی حملے میں مارا گیا تھا۔

    تل ابیب کے مارچ کرنے والے ہفتہ کو 65 کلومیٹر (40 میل) دور یروشلم میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے اپنا احتجاج ختم کریں گے۔72 سالہ یرغمالی آدینا موشے کے بھتیجے امیت زچ نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ ہم اچھے ہاتھوں میں ہیں۔ ہمیں ایسا نہیں لگتا کہ ہمیں کافی معلومات حاصل ہیں۔ ہم اندھیرے میں گر گئے۔ ہمیں جواب چاہیے،” .”میرے پاس کوئی حل نہیں ہے، لیکن حل نکالنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ میرا کام ہے کہ اپنے خاندان سے واپسی کا مطالبہ کروں،” اسیروں کی تصویریں اٹھائے ہوئے، مارچ کے شرکاء نے نعرے لگائے "انہیں ابھی گھر لے آؤ!” ایک آدمی چلایا: "سب!”

    القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ قطری ثالثوں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے غزہ میں قید 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں،ان دنوں مکمل جنگ بندی اور ہر انسانی امداد کی اجازت ہونی چاہیے،ساتھ فلسطینی خواتین اور بچوں کو بھی رہا کیا جائے جو اسرائیلی جیلوں میں،قبل ازیں ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں، دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا

    حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق
    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں19 سالہ خاتون فوجی کارپورل نوا مارسیانو کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کو اطلاع کر دی،اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کو 7 اکتوبر کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس کے عسکری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون فوجی نوا مارسیانو 9 نومبر کو اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئیں، تاہم اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی

    غزہ میں بارش،فلسطینی شہریوں کے لئے ایک اور امتحان
    علاوہ ازیں غزہ میں بارش برسی ہے، جو فلسطینیوں کے لئے ایک امتحان بن گئی ہے،اسرائیلی بمباری سے گھر ملیا میٹ ہو چکے ایسے میں بارش ،شہری کھلے آسمان تلے بارش میں بھیگتے رہے تو کم سن بچے بارش میں کھیلتےرہے،بے گھر شہریوں‌کے لیے لگائے گئے خیموں میں بھی بارش کا پانی داخل ہو گیا، اس سے شہریون کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، اقوام متحدہ کی 150 عمارتوں میں 7 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں،اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے بارشوں سے کیمپوں میں متعدی بیماریاں پھیلنےکا خدشہ ظاہرکیا ہے

    اسرائیل کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ
    دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی سربراہی کے لئے موزوں نہیں رہے، انہوں نے خطے میں امن کو فروغ نہیں دیا، سب کو کہنا چاہئے کہ غزہ سے حماس کی جان چھڑاؤ،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اسرائیلی وزیر نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی سی آر سی غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرے۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد اردن نے بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کےاستعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا،

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر
    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ہم یرغمالیوں کی بازیابی کیلئے کافی سرگرم ہیں اور بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے ۔ صدرجو بائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کے لیے کوئی پیغام ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ وہیں ٹھہرو، ہم آ رہے ہیں۔امریکی صدر جوبائیڈن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے روزانہ بات چیت میں مصروف ہیں۔ میں ہر دن ملوث لوگوں سے بات کرتا رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہونے والا ہے، لیکن میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا

    دوسری جانب یورپ اور لاطینی امریکہ کے ساٹھ سے زیادہ بائیں بازو کے سیاست دانوں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی سے اسرائیلی لیڈران کی نسل کشی کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ہسپانوی وزیر برائے سماجی حقوق Ione Belarra نے کہا کہ ہم اپنی خاموشی اور تعاون سے نسل کشی کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر آپ بروقت ظلم کو نہیں روکتے ہیں، تو یہ آپ کو اپنے ساتھ گھسیٹ لے گا۔اس پٹیشن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے نام شامل ہیں، ان پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے،پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے پاس نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں،

    اسرائیل کی غزہ پر ایک طرف بمباری جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ٹینکس کمپلیکس میں‌داخل ہوئے ہیں، اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کیا جا رہا ہے، حماس نے الشفا ہسپتال میں اپنا ٹھکانہ بنا رکھا تھا،حماس نے الشفا ہسپتال پر حملے کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دیا، وائیٹ ہاؤس نے بھی اسرائیلی زبان بولتے ہوئے کہا تھا کہ حماس نے غزہ کے الشفا ہسپتال میں ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کررکھا ہے حما س نے وہاں اسلحہ جمع کر رکھا ہے،ترجمان الشفا ہسپتال کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج شفاہسپتال کے بیسمنٹ تک پہنچ گئی اور بیسمنٹ کی تلاشی شروع کردی ہے،شفا اسپتال میں محفوظ راہداری سے گزرنے والوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ بھی کی.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • ریاست کے ادارے ایسے کام کر رہے ہیں جیسے احسان کر رہے ہوں،عدالت

    ریاست کے ادارے ایسے کام کر رہے ہیں جیسے احسان کر رہے ہوں،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،بلوچ جبری گمشدگی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کا کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کی کمیٹی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی درخواست پر سماعت کی ،بلوچ لاپتہ طلبہ کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئیں،وفاق کی جانب سے تین وزراء کی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کیا گیا،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے محسوس ہوتا ہے حکومت اہم معاملے کو روٹین سمجھ کر ڈیل کر رہی ہے،ریاست کے ادارے ایسے کام کر رہے ہیں جیسے احسان کر رہے ہوں، وفاقی حکومت نے دیکھنا ہے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے چلنے والے اداروں پر یہ الزام ہے،

    عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یا تو کابینہ کہے یہ ریورٹ (بلوچ طلبہ کمیشن) جھوٹی ہے پھر ردی کی ٹوکری میں ڈال دے، اگر حکومت نے کچھ نہیں کرنا تو عدالت خود دیکھے گی،اب وزیر اعظم نے ایک اور کمیٹی بنا دی ہے، یہ نہ ہو کہیں یہ معاملہ یو این میں چلا جائے جبری گمشدگیاں ملک پر بدنامی کا داغ ہیں،عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ تو اس اہم معاملے کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، ایک لاپتہ افراد کمیشن ہے جن لوگوں پر الزام ہے وہ خود ہی اس میں بیٹھے ہوتے ہیں، وزیراعظم آفس کو بلوچ طلبہ کمیشن کا معاملہ اس لئے بھیجا تھا کہ وہ دیکھیں،22 فروری 2023 کی رپورٹ ہے آج تک کیا ہوا ہے؟ ادارے جن پر یہ الزام ہے وہ اس کو جھوٹا ثابت کریں یہ انسانی حقوق کا بہت بڑا سوال ہے،کمیٹی کو بتا دیں وزارت دفاع، وزارت داخلہ، وزارت قانون ایک ہفتے میں اجلاس میں بلائیں، رپورٹ دیں،حکومت یا تو پھر کہہ دے یہ ریورٹ غلط ہے یا کہے ٹھیک ہے اور اس پر عمل کرے، اداروں کے سربراہ یا پھر بیان حلفی دیں گے کہ یہ رپورٹ درست نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ کی سفارش پر یہ کمیشن بنا رپورٹ آئی، آج تک کچھ نہیں ہو سکا، ہر آدمی تھوڑے عرصے کے لیے آتا ہے اس نے اپنے حصے کا کام کرنا ہوتا ہے، وگرنا وہ قصہ ماضی بن چاہتا ہے، عدالتیں نہ ان کیسز میں ریلیف دے پا رہی ہیں نہ جبری گمشدگی کمیشن کچھ کر رہا ہے،

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت پر چلیں گے،نواز شریف

    سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت پر چلیں گے،نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور صدر شہبازشریف کی بلوچستان کی اہم سیاسی قیادت سے ملاقات ہوئی

    اس موقع پر نواز شریف کاکہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی ہمیں ہمیشہ سے عزیز رہی ہے،ہم نے بلوچستان میں ہزاروں کلومیٹر سڑکوں کا جال بچھانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہوسکے، گوادر سے کوئٹہ ساڑھے چھ سو کلومیٹر کی سڑک تعمیر کرکے بلوچستان کے عوام کو سفر کی بہترین سہولیات فراہم کیں، گوادر کوئٹہ سڑک کی تعمیر سے دو دن کا سفرکم ہوکر آٹھ گھنٹے رہ گیا ، اس سڑک کی تعمیر کے دوران چالیس سے زائد نوجوان شہید ہوئے تھے، انہیں سلام پیش کرتے ہیں، گوادر سے خضدار اور رتو ڈیرو شاہراہ تعمیر کرکے جنوبی بلوچستان کے علاقوں کو سندھ سے جوڑا گیا، اِن دونوں سڑکوں کی بنیادہم نے 1998-1999 میں رکھی تھی، ہکلہ اور ڈی آئی خان روڈ: ہگلہ اور ڈی آئی خان کی بنیادہم نے رکھی تھی ، اس منصوبے پر چار سال کام رُکا رہا، وزیراعظم شہبازشریف نے دوبارہ کام شروع کرایا،یارک ساگو ژوب شاہراہ کو دورویہ اور بہتر بنانے، این 50 سے ملانے کا کام ہم نے شروع کیا،بسیمہ سے خضدار تک شاہراہ تعمیرکی گئی،یک مچ سے خاران کی سڑک کی تعمیر کا آغاز کیا جو تقریباً تکمیل کے قریب ہے،جاپان کے تعاون سے راکھی گاج سے بے واتا تک سڑک بنائی جو شمالی بلوچستان کو جنوبی پنجاب (ڈی جی خان) سے جوڑتی ہے،ہم نے قلات ، کوئٹہ، چمن ،خضدار، کراچی دورویہ (این 25) پر کام شروع کیا، اس پر کام نہ روکا جاتا تو اب تک مکمل ہوتی، سولہ ماہ کی حکومت میں پھر کام شروع ہوا، ، دوسے تین سال میں مکمل ہوگی،اللہ تعالی کے فضل وکرم سے 1998-1999 میں کوسٹل ہائی وے کی بنیاہم نے د رکھی تھی، گلگت سکردو ہائی وے ہم نے شروع کی، 62 ارب روپے کی لاگت سے ہم نے ہی مکمل کی،

    نوازشریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لئے ترقی اور ڈیویلپمنٹ کا جو کام ہم نے شروع کیاتھا، ہماری حکومت کے بعد وہ سفر روک دیا گیا،ہمارا شوق تھا ہماری محبت تھی ہماری فکر تھی بلوچستان کے لئے،ہم نے 1998 میں گوادر کی ترقی کا سفر شروع کیا تھا یہ آج اور کل کی بات نہیں ہے،دہشت گردی کو ہم نے مکمل طور پہ ختم کیا، لوڈشیڈنگ کو مکمل طور پہ ختم کر دیاتھا، بلوچستان میں 400 سے زائد چھوٹے ڈیم کے منصوبے شروع کئے،بلوچستان اور سابق قبائلی علاقوں کے پانچ ہزار سے زائد طالب علموں کو وظائف دئیے، پسماندہ علاقوں کے ان ہزاروں بچوں نے وظائف پر بہترین تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی، تربت، خضدار، ڈیرہ مراد جمالی، پشین، گوادر، نوشکی اور وڈھ میں یونیورسٹی کیمپس کھولے جہاں ہزاروں نوجوان زیر تعلیم ہیں،ہم گوادر تک پانی پہنچا چکے تھے، بعد میں کام رک گیا، ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلے،سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت پر چلیں گے، سب کے ساتھ تعاون کا رشتہ جوڑا تھا، اس رشتے کو مزید مظبوط بنائیں گے،

    سیاسی قائدین نے نوازشریف کی آمد اور ملاقات پر شکریہ ادا کیا ،سیاسی قائدین نے ملک بالخصوص بلوچستان کی ترقی کے لئے نوازشریف کے جذبے اور سوچ کو سراہا ،قائدین نے مستقبل میں اشتراک عمل اور سیاسی تعاون کرنے پر اتفاق کیا.

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سگی بیٹی کو فحش ویڈیو دکھا کر سفاک باپ سمیت 28 افراد نے کیا ریپ

    موبائل میں فحش مواد ڈال کر دینے والا دکاندار گرفتار

    کوٹی ڈکیت گینگ کے 2 خطرناک ملزمان گرفتار

    بزدار کے لاہور میں طالبہ کے ساتھ دست درازی،ویڈیو سامنے آ گئی

    مسجد کے اندر بچے کیساتھ بدفعلی کی کوشش کرنیوالا قاری گرفتار

    خواتین گروہ کے ہاتھوں درجنوں افراد کے لُٹنے کا انکشاف

    نواز شریف نے بلو چستان کے عوام کے لئے کون سا کام کیا جو عوام انکا ساتھ دیں ، پیپلز پارٹی
    پاکستان پیپلز پارٹی بلو چستان کے ترجمان سر دار سر بلند خان جوگیزئی کا قائد مسلم لیگ ( ن) میاں محمد نواز شریف کے دورہ کوئٹہ پر ردعمل سامنے آیا ہے،سردار سر بلند خان جوگیزئی کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کو بلو چستان صرف جوڑ توڑ کے وقت یا دآتا ہے ، نواز شریف نے بلو چستان کے عوام کے لئے کون سا کام کیا جو عوام انکا ساتھ دیں ، مسلم لیگ ( ن) میں شمولیت اختیار کر نے والے اپنے حلقوں سے مسترد ہو چکے ہیں، مسلم لیگ ( ن) میں شمولیت کر نے والے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ لینے کے قابل نہیں ، 2013سے اب تک کتنی مر تبہ نواز شریف نے کوئٹہ کا دورہ کیا ،انہیں صرف الیکشن کے وقت کوئٹہ یاد آتا ہے ،پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے ووٹ اور انکے فلاح و بہبود کے لئے کام کر نے پر یقین رکھتی ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی ہوا کی رخ نہیں بلکہ عوام کی رخ اور اتحاد پر یقین رکھتی ہے ،انشاء اللہ 8 فروری 2024 کو ہر طرف تیر چلے گے اور جیالے کامیاب ہوکر بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنائیں گے،بلوچستان پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے اور بلوچستان کی عوام کی مدد سے اگلا وزیراعلی جیالہ ہوگا،

    بلوچستان عوامی پارٹی کے وفدنے ن لیگی قیادت سے ملاقات کے بعد بات چیت کی ہے، خالد خان مگسی کا کہنا تھا کہ ایک رسمی ملاقات ہوئی، ہم نے ویلکم کیا انہوں نے اپنے خیالات کااظہار کیا، ن لیگی قیادت سے مزید ملاقاتیں ہوں گی تو کسی سیاسی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے بات ہوگی، میاں صاحب چاہتے ہیں سیاسی عمل بہتر طریقے سے چلے.

    بلوچستان کے عوام ووٹ کسی اور کو ڈالتے ہیں نکلتا کسی اور کے نام ہے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ
    ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، ہم نے اپنے تحفظات سے میاں صاحب کو آگاہ کیا، ،ابھی تک مکمل طور پر ہمیں ووٹ کا حق نہیں ملی، بلوچستان کو سیاسی طور پر ڈیل کریں ،بلوچستان کے عوام ووٹ کسی اور کو ڈالتے ہیں نکلتا کسی اور کے نام ہے،میاں صاحب کیا چاہتے ہیں یہ آپ ان سے پوچھیں،

  • 190 ملین پاؤنڈزکرپشن کیس، جیل ٹرائل کا نوٹفکیشن جاری

    190 ملین پاؤنڈزکرپشن کیس، جیل ٹرائل کا نوٹفکیشن جاری

    190 ملین پاؤنڈزکرپشن کیس، جیل ٹرائل کا نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا

    وزارت قانون کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف نیب کے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس کی سماعت جیل ہی میں کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا، وزارت قانون نے جیل ٹرائل سے متعلق سرکولیشن سمری وزیراعظم کوارسال کی تھی، عمران خان کے خلاف کیس کی سماعت جیل میں کیے جانے کی منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے لی گئی، جس کے بعد وزارت قانون نے باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جیل ٹرائل کی منظوری کی درخواست چیئرمین نیب نے کی تھی،نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں جج محمد بشیر کریں گے، نیب کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی

    واضح رہے کہ نیب نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کرلیا ہے،گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے دونوں کیسوں میں وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے تھے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو رہے ہیں.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی