Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سینیٹ اجلاس، ارکان کا فوجی عدالتوں کے حق میں منظور قرارداد واپس لینے کا مطالبہ

    سینیٹ اجلاس، ارکان کا فوجی عدالتوں کے حق میں منظور قرارداد واپس لینے کا مطالبہ

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت شروع ہوا اجلاس کی کاروائی شروع کرنے کے ساتھ ہی تمام ایوان میں موجود سینیٹرز نے شدید احتجاج شروع کردیا اور کہاکہ کل سینیٹ نے قرارداد پاس کی ہے جو کہ رولز کی خلاف ورزی کرہے پاس کی گئی ہے اس پر بات کرنے کی اجازت دی جائے اس کے بعد کارروائی جائی جائے ڈپٹی چیئرمین نے کہاکہ 15منٹ میں ایجنڈا مکمل ہوجائے گا اس کے بعد بات کرنے کی اجازت دوں گا ۔اسی احتجاج کے دوران ایک سینیٹر نے کورم کی نشاندہی کردی ۔

    سینیٹر سعدیہ عباسی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل سینیٹ نے قرارداد پاس کی جب صرف 12 ارکان ایوان میں موجود تھے، ایجنڈا میں جو چیز شامل نہیں تھی اسے پیش کیا گیا ،یہ قرارداد جمہورئت کی نفی ہے، جمہوریت پر شب خون مارا گیا ،ایوان نے قواعدوضوابط سے ہٹ کر جو کام کیا ہم اسے سپورٹ نہیں کرتے ،ایوان کو استعمال کرکے ایسے قرارداد پاس کرائی گیی جو جمہوریت کی نفی ہے ،کیا ایوان کل یہ قرارداد لے آے گا کہ ملک میں مارشل لاءگا دیا جائے تو کیا مارشل لاء لگا دیا جائے گا،یہ طریقہ کار نفی کرتا ہے پارلیمانی روایت کی،موجودہ حالات میں ایسی قرارداد سے جمہوریت مضبوط ہو ،یہ قرارداد واپس لیں،یہ قرارداد اس ایوان کی عکاس نہیں ہے

    سینیٹر رضا ربانی، طاہر بزنجو، تاج حیدر ، سینیٹر مشتاق نےبھی نشتوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا،سینیٹر رضا ربانی اور مشتا ق نے کہا کہ ہم اس معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں، مرزا آفریدی نے کہا کہ سینیٹ ایجنڈا مکمل کرکے میں آپ کو بات کرنے کی اجازت دیتا ہوں،سینیٹر سیف اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے ایوان کا ریپ کیا ، ایوان کو تباہ کر دیا ہے

    سینیٹر رضا ربانی اور سینیٹر مشتاق احمد سمیت ارکان نے قراداد سے متعلق بولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جانب سے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان میں شورشرابا ہوا،ن لیگ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ارکان نے گزشتہ روز منظور ہونے والی قرارداد پر بات کرنے کے لیے وقت کا مطالبہ کیا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نےپہلے ایجنڈے کی کارروائی مکمل کرنے پر اصرارکیا،سینیٹر مشتاق احمد نے ڈائس سامنے آکر احتجاج کیا،ایوان میں کورم کی نشاندہی کردی گئی ،سینیٹ میں کورم پورا نہ نکلا،سینیٹ کا اجلاس جمعہ ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا

    واضح رہے کہ کل جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور ہوئی تو اس وقت ایوان میں 15 سینیٹرز موجود تھے، 9 سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں اور تین نے قرارداد کی مخالفت کی, تین خاموش رہے۔ آج سینیٹ اجلاس شروع ہوا تو پی ٹی آئی، ن لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی اور جماعت اسلامی نے قرارداد منظوری کے عمل پر اعتراض کیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس ہی ملتوی کردیا۔

    گزشتہ روز سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 نومبر تک سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا. اسٹے نا دینے کی اٹارنی جنرل کی استدعا اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردی، اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے پراسیکوٹر نے بار بار استدعا کی کہ سماعت کل تک ملتوی کر دیں اسٹے نا دیں ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جمعرات کے لیے کیس رکھ رہے ہیں سارا ریکارڈ لے کر آئیں کیوں جیل ٹرائل کر رہے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے عمران خان کے خلاف سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیا. اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست ہی مسترد کر دی تھی جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اے ٹی سی جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے پر بھی سوال اٹھا دیا! جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کا آغاز وفاقی حکومت نے کیا.چیف جسٹس کی رائے لی گئی لیکن حتمی فیصلہ بھی وفاقی حکومت نے ہی کیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اوپن کورٹ سماعت اور جج آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کردیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیازنے کیس کی سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی بھی عدالت میں پیش ہوئے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کے چند افراد کو سماعت میں جانے کی اجازت کا مطلب اوپن کورٹ نہیں ، جس طرح سے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کی گئی اسے بھی اوپن کورٹ کی کارروائی نہیں کہہ سکتے ،اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو ٹرائل کی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا اور کہا کہ وفاقی کابینہ نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل کی منظوری دی ، وفاقی کابینہ کی جیل ٹرائل منظوری کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کر دیں گے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ نوٹیفکیشن ہم دیکھیں گے اس میں کیا لکھا ہوا ہے ، تمام ٹرائلز تمام ٹرائلز اوپن کورٹ میں ہوں گے اس طرح تو یہ ٹرائل غیر معمولی ٹرائل ہو گا ، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے کیا غیر معمولی حالات تھے کہ یہ ٹرائل اس طرح چلایا جارہا ہے ؟آپ نے ہمیں بتانا ہے کہ دراصل ہوا کیا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تمام متعلقہ اداروں سے ریکارڈ لیکر عدالت کے سامنے رکھ دوں گا، عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کب کن حالات میں کسی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوا کہ جیل ٹرائل ہو گا ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پانچ گواہ اس وقت بھی جیل میں بیانات ریکارڈ کرانے کے موجود ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے، وفاقی کابینہ نے دو دن پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دی، کیا وجوہات تھیں کہ وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کی منظوری دی؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ منظوری سے پہلے ہونے والی عدالتی کارروائی کا سٹیٹس کیا ہو گا؟

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • شمالی وزیرستان:سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، 2  جوان شہید

    شمالی وزیرستان:سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، 2 جوان شہید

    خیبرپختونخوا : شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 2 جوان شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کےمطابق میرعلی میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان 12اور 13 نومبر کی رات فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو جوان بھی شہید ہوگئے جن میں سپاہی عبداللہ اور سپاہی محمد سہیل شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے بتایاکہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا مؤثر انداز میں پتہ لگایا جبکہ علاقے میں دیگر دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے کلیرنس آپریشن جاری ہے سکیورٹی فورسزدہشتگردی کی لعنت ختم کرنےکیلئے پرعزم ہیں، ہمارےبہادرجوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارا عزم مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    القادر ٹرسٹ،توشہ خانہ کیس میں نیب کا عمران خان کو گرفتارکرنے کا فیصلہ

    توہین الیکشن کمیشن،اڈیالہ جیل میں اگلی سماعت ہونے کا امکان

    سینیٹ اجلاس میں ملٹری کورٹس بنانے کے حوالے سے قرارداد منظور

  • القادر ٹرسٹ،توشہ خانہ کیس میں نیب کا عمران خان کو گرفتارکرنے کا فیصلہ

    القادر ٹرسٹ،توشہ خانہ کیس میں نیب کا عمران خان کو گرفتارکرنے کا فیصلہ

    نیب نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے,

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے دونوں کیسوں میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے،چیئرمین نیب کی جانب سے وارنٹ جاری کرنے کے حکم کی تعمیل کے لئے نیب نے احتساب عدالت سے رجوع کیا،احتساب عدالت نے قانون کے مطابق وارنٹ کی تعمیل کی اجازت دے دی،۔احتساب عدالت کےجج محمد بشیر نےسماعت کی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو رہے ہیں.

    دوسری جانب عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نیب ملیوڈی آفس سے واپس روانہ ہو گئی ہیں، نیب کی جانب سے بشری بی بی کو 11 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا ہے، نیب کی جانب سے بشریٰ کو 11 سوالوں کے جوابات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 9 اکتوبر کو توشہ خانہ نیب کیس اور القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی ضمانت بحالی کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کیے تھے آج 13 نومبر ہے اس نقطے پر فیصلہ نہیں ہو سکا ضمانت بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ،سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ احتساب عدالت نے عدم پیروی پر ضمانت کی درخواستیں خارج کیں، دس اگست 2023 کا احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، درخواستوں پر فیصلہ آنے تک چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت منظور کی جائے،درخواست میں چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے ،توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد احتساب عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستیں عدم پیروی پر خارج کی تھیں

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • توہین الیکشن کمیشن،اڈیالہ جیل میں اگلی سماعت ہونے کا امکان

    توہین الیکشن کمیشن،اڈیالہ جیل میں اگلی سماعت ہونے کا امکان

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیسز کی سماعت ہوئی

    معاون وکیل نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل غیر حاضر، تھوڑی دیر میں پہنچیں گے،ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے آنا ہے؟ ہم نے حلقہ بندیوں کی بھی سماعت کرنی ہے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی خدشات ہیں تو سماعت جیل میں نوٹیفائی کرسکتے ہیں؟ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن حکام جیل جانا چاہتے ہیں تو نوٹیفائی کرسکتے ہیں، وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں، ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیا قانون الیکشن کمیشن کو جیل میں سماعت کرنے کی اجازت دیتا ہے؟سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت پر وزارت قانون سے رائے لے لیتا ہوں،

    پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کمیشن میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار ملاقات کی اجازت ملی، ملاقات کے دوران کاغذ پینسل تک لیکر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، کمیشن مناسب آرڈر دے ، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ ہم خود ہی اڈیالہ جیل چلے جاتے ہیں ، جب ہم جائیں گے آپکو تمام سہولیات مل جائیں گی،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں جلسے کی اجازت نہیں دی جا رہی، لیول پلینگ فیلڈ‌بھی نہیں دی جا رہی،تحریری طور پر بھی کمیشن کو آگاہ کیا ہے،

    فوادچوہدری کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سابق وفاقی وزیر جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں،ممبر سندھ نثار درانی نے استفسار کیا کہ فوادچوہدری کس جیل میں ہیں؟فواد چوہدری کے وکیل نے کہا کہ وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں،ممبر سندھ نثار درانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے اس پرآرڈرکردیتے ہیں، اسد عمر کی جانب سے کوئی بھی الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوا۔صائمہ جنجوعہ نے بتایا کہ اسد عمرکے وکیل نےالتوا کی درخواست کی ہے، الیکشن کمیشن نے کیسز کی سماعت 6 دسمبرتک ملتوی کردی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں سماعت،سمری منظور

    سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں سماعت،سمری منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جیل ٹرائل کے لیے وزارت قانون کی سمری منظور کر لی گئی

    نگران وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کے لیے وزارت قانون کی سمری منظور کرتے ہوئے جیل ٹرائل کی منظوری دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل 14 نومبر کو ہوگی ،عدالت نے 14 نومبر کو اٹارنی جنرل سے دلائل طلب کر رکھے ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی قریشی کےخلاف 14 نومبرکوسائفرکیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی،چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف سائفرکیس کےجیل ٹرائل کی منظوری کیلئےوزارت قانون کی وفاقی کابینہ کوسمری ارسال کی گئی،سمری میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کے جج ابوالحسنات نےجیل ٹرائل کی سفارش کی،چیئرمین پی ٹی آئی کودرپیش سیکیورٹی خدشات پر جیل ٹرائل کی سفارش کی گئی،

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کہانی سفاک درندے، سفاک خاندان، مظلوم عورت کی ہے، یہ کہانی پاکستان میں ہر اس عورت کی ہے جو مظلوم ہے، میں درندے کا ذکر کر رہا ہوں، شہید نورمقدم کا ذکر کر رہا ہوں، درندے کی درخواست منظور ہو گئی ہے اسکو رہائی مل جائے گی اور وہ امریکہ چلا جائے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہماری بے حسی بحیثیت قوم نور مقدم اور ہر لڑکی کے ظلم کا حصہ بنتی ہے جب ہم اسکے لئے آواز نہ اٹھائیں، جب ہمارے وجود سے عورتیں خوفزدہ رہیں، جب معاشرے میں مرد جلاد کا رخ اختیار کرے، اور جب عورت بھیڑ بکری کی طرح استعمال کیا جائے، ایسی داستانیں تقریبا ہر گھر میں ملتی ہیں، شاہ خاور پاکستان کا ایک معتبر نام ہیں، قابل احترام ہیں، شاہ خاور پہلے دن سے نورمقدم کا کیس لڑ رہے ہیں، انہوں نے اس کیس میں کسی قسم کی فیس نہیں لی،انہوں نے پہلے دن عہد کیا کہ پیسوں کے لئے نہیں بلکہ بیٹی کے لئے کیس لڑ رہا ہوں، جیل میں درندے کو بڑی سہولیات ملی ہوئی ہیں، گھر سے کھانا آ رہا ہے، سگریٹ جا رہے ہیں، ملاقاتی آ رہے ہیں، اگر کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا کرتے تو سمجھ آتی لیکن درندے کے ساتھ ایسا کیوں؟

    مبشر لقمان کا کہناتھا کہ انکی اپیل ،ظاہر جعفر کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع ہو چکی ہے اور کسی وقت بھی سماعت ہو سکتی ہے، اسکے دلچسپ گراؤنڈ ہیں، 25 صفحات پر اپیل ہے، جو ان کی گزارشات ہیں وہ آسان الفاظ میں بتاؤں گا،پہلے ا سلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں نے ٹرائل میں شواہد کا جائزہ نہیں لیا، بنیادی خامیوں‌کی نشاندہی نہیں کی گئی، غلطیوں سے بھر پور ایف آئی آر پر سزا ملی، مقتول نور مقدم کی گمشدگی ،ایف آئی آر میں اہم معلومات کو چھوڑ دیا گیا ،ایف آئی آر سنی سنائی باتوں پر دی گئی، یعنی نور مقدم نے گھر سے جانے کی اجازت نہیں لی، نہ ہی دوستوں کا نام بتایا، دونوں عدالتوں میں اس پر آبزرویشن نہیں دی گئی، میں پہلے سے ہی کہہ رہا ہوں کہ بچی کو مار دیا، عصمت دری کی، اسکو ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا، اس پر کیا گزری میں اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے،یہ اب اسکے کردار پر انگلی اٹھا رہے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارا مرا ہوا معاشرہ ہے، دس ہزار سے زائد بچیوں‌کو تیزاب سے جھلس دیا گیا مگر کسی تیزاب پھینکنے والے کو سزا نہیں ہوئی، صرف ایک کو ہوئی کیونکہ کیس میڈیا پر آ گیا تھا.

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر عام پر آگیا

    لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر عام پر آگیا

    اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی فرنٹ پرسن اور سابق خاتون اول کی دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر عام پر آگیا-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق غیر قانونی طریقے سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کو ایک غیر معروف ملک وینا تاؤ کاخفیہ پاسپورٹ بنا کر دیا گیا،دسمبر 2021 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ممکنہ کامیابی کے پیش نظر عمران خان اور بشری بی بی نے ملک کے ایک معروف پراپرٹی ٹائیکون کے بیٹے کو اپنی فرنٹ پرسن فرح گوگی کیلئے خفیہ انٹرنیشنل پاسپورٹ خریدنے کا ٹاسک سونپا اور اس پراپرٹی ٹائیکون نے ایک اور معروف بزنس مین کو خفیہ پاسپورٹ بنانے کیلئے ایک لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر فراہم کئے۔

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کی اکٹھی کی گئی دولت کو دنیا کے مختلف ممالک میں چھپانے کی غرض سے اس سے خریدے پاسپورٹ پر فرح گوگی کے بیرون ملک دورے کئے، 28 مارچ 2022 کو فرح گوگی کیلئے خریدے جانے والا وینا تاؤ کا خفیہ پاسپورٹ بشری بی بی کے حوالے کر دیا گیا، اور 3 اپریل 2022 کو عمران خان کی حکومت جانے سے 6 دن قبل فرح گوگی کو پاکستانی پاسپورٹ پر ملک سے فرار کروا کے دبئی بھجوا دیا گیا۔

    فرح گوگی اور محمد شاہ رنگیلے کی ہوش ربا داستان، نیا اسکینڈل، ملک ریاض گٹھ …

    عمران خان اور بشری بی بی نے پاکستان سے لوٹی گئی کثیر رقم کو ٹھکانے لگانے کیلئے فرح گوگی کے خفیہ بین الاقوامی دوروں اور بینک اکاؤنٹس کو وینا تاؤ کےخفیہ پاسپورٹ سےممکن بنایا دبئی کےبعد باقی تمام سفر وینا تاؤ کےپاسپورٹ پہ کروائے گئے تاکہ تحقیقاتی ادارے اس نقل و حرکت سے آگاہ نہ رہیں-

    بشریٰ بی بی بھی جلد جیل میں‌ہوں گی

  • سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کا غیر معمولی اسلامی سربراہی اجلاس سعودی عرب میں ہو رہا ہے

    سعودی ولی محمد بن سلمان اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، صدارتی خطاب میں محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہمیں غزہ میں ایک انسانی تباہی کا سامنا ہے، غزہ کی صورتحال سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی مظالم کو روکنے میں ناکامی کی گواہی ہے،غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کا رویہ دوہرے معیار کو ثابت کرتا ہے،

    اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اجلاس میں ایرانی صدر، ترک صدر، پاکستانی وزیراعظم سمیت دیگر شریک ہیں،

    غزہ میں جنگ کا جاری رہنا سلامتی کونسل کی ناکامی ہے،محمد بن سلمان
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے موجودہ واقعات کے آغاز سے ہی مسلسل کوششیں کی ہیں اور جنگ کو روکنے کے لیے دنیا کے موثر ممالک سے مشاورت اور ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہم ایک انسانی تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے میں ناکامی کو نمایاں کرتا ہے۔خطے میں سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ قبضے، محاصرے اور تصفیہ کو ختم کرنا، فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو یقینی بنانا، اور مشرقی یروشلم کے ساتھ ان کی آزاد ریاست کا قیام ہے۔ سعودی عرب غزہ کے رہائشیوں کے خلاف جاری جارحیت اور جبری بے گھر ہونے کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ ہم قابض اسرائیلی حکام کو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔محمد بن سلمان نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے۔ہم فوری طور پر فوجی آپریشن بند کرنےکا بھی مطالبہ کرتے ہیں.اسرائیل غزہ میں لوگوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے،نہتے مسلمانوں کا عام روکا جائے اور انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دی جائے، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنا بڑا جرم ہے،اس کو فوری روکا جائے

    اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطینی صدر
    فلسطینی صدر محمود عباس کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، فلسطینیوں پر روزانہ بمباری کی جارہی ہے،اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطین کے شہری اپنی زمین کے مالک ہیں،اسرائیلی قابض فوج نے دو ریاستی حل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے،سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطین کو مستقل رکنیت دی جائے،غزہ فلسطین کا جزو ہے – اسرائیل نے غزہ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے – بچوں عورتوں کو قتل کیا جارہا ہے – فلسطین قضیہ حل کیا جائے تاکہ یہ قتل عام روکا جائے

    فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،ترک صدر
    ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کے حالیہ ظلم اور تشدد کی مثال نہیں ملتی،ہم فلسطینی کاز کی واضح حمایت کا اعلان کرتے ہیں،غزہ میں امداد کے لیے ایک کارگو شپ روانہ کیا ہے،فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،غزہ کے اسپتال معصوم بچوں کی لاشوں سے بھر گئے، غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،اسرائیل نے بے گناہ فلسطینیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے ،پیرس میں چند لوگوں کے قتل پر سربراہ مملکت نے احتجاج کیا تھا ،آج فلسطین میں ہزاروں بچے شہید ہو رہے ہیں کسی نے روکنے کی کوشش نہیں کی،اسرائیلی انتظامیہ 7 اکتوبر کے واقعے کا بدلہ غزہ کے بچوں، معصوم فلسطینی بچوں اور خواتین سے لے رہی ہے،غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،امید ہے اجلاس امت مسلمہ کے لیے مثبت ثابت ہوگا،غزہ میں ہزاروں بچوں کے قتل عام پر کوئی سربراہ مملکت آواز اٹھانے کو تیار نہیں،اسرائیل اور اس کے حکمرانوں کے خلاف جنگی جرائم کی عدالت میں جانا ہوگا، فلسطین میں ہونے والے اسرائیلی مظالم کبھی نہیں بھولیں گے، بچوں کو گود میں اٹھا کر لے جانے والی ماؤں کو مارا جارہا ہے،اسرائیل کے جوہری ہتھیار پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں، اسرائیل غزہ جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرے،اسرائیل ایک بگڑا ہوا بچہ بن چکا ہے جو ہرموقع پر اپنے ہر جرم اور تباہی کی ادائیگی سے بچ جاتا ہے۔ اسرائیل کو کی گئی تباہی کا اب معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ ہم فلسطین میں اپنے بہن بھائیوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ او آئی سی کو غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو یقینی بنانے کے لیے ایک فنڈ بنانا ہوگا،مغربی ممالک نے غزہ جنگ بندی کی بھی مخالفت کی ہے،جو آج غزہ مظالم پر خاموش ہے وہ بھی ظلم میں برابر کا شریک ہے، مغرب امریکا انسانی حقوق کے علمبردار ہیں لیکن غزہ میں زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں،اسرائیل کے ایٹم بموں کی تحقیقات کی جائیں اور ایٹم بم رکھنے پر پابندیاں لگائی جائیں

    اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا،امیر قطر
    امیر قطر نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ناقابل قبول ہے، فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل یکجہتی کرتے ہیں،اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا، بین الاقوامی برادری کب تک اسرائیل کے ساتھ ایسا سلوک کرے گی جیسے وہ بین الاقوامی قانون سے بالاتر ہو؟ کس نے سوچا ہوگا کہ 21ویں صدی میں ہسپتالوں پر کھلے عام بمباری کی جائے گی اور اندھا دھند بمباری کے ذریعے خاندانوں کا صفایا ہو جائے گا؟”

    غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،ایرانی صدر
    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے او آئی سی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اسلامی اور انسانی اقدار کا عکاس ہے،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،غزہ میں معصوم فلسطینیوں کا خون بہایا جارہا ہے، اسرائیل غزہ میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے،خطے کی تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے،غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ہے۔غزہ کے لوگ 20 سال سے جیل میں زندگی گزار رہے ہیں،غزہ کے عوام امت مسلمہ کے ہیرو ہیں،اسرائیل صیہونی ایجنڈے کے تحت نسل کشی کر رہا ہے،یہ جنگ فلسطینیوں کی عظمت اور اسرائیل کے کمینے پن کا ثبوت ہے، اسرائیل کی حمایت میں امریکا نے جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں،مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والوں کو صیہونی ریاست سے بچانا ہے،تین ہزار سے زائد فلسطینی بچے اور خواتین ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، امریکا اسرائیل کی حمایت کر کے جنگی جرائم میں شریک ہے،

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کروا کر حملے روکے جائیں، غزہ کا محاصرہ ختم کر کے امداد بھیجی جائے، اسرائیلی فوجی غزہ سے نکل جائیں، اگر نہیں نکلتے تو اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے، اسرائیلی فوج کو دہشت گرد قرار دیا جانا چاہئے.اسلامی ممالک کو فلسطین کی مدد کرنی چاہئے، اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے،آج ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کس طرف کھڑے ہیں ،امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے، روزانہ اسرائیل کو ہتھیار دے رہا ہے،

    مصری صدر السیسی نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی مذمت کرتے ہوئے غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیل کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسیاں ناقابل قبول ہیں اور اپنے دفاع یا کسی دوسرے دعوے سے ان کا جواز نہیں بن سکتا۔ انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے، غزہ میں جنگ کو ختم کرنے میں ناکامی کا نتیجہ خطے کے باقی حصوں تک پھیلنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو خونریزی کو روکنے اور تنازع کی جڑوں سے نمٹنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔


    اسرائیل غاصب ملک،غزہ میں‌قتل عام بند کیا جائے،نگران وزیراعظم
    پاکستان کے نگران وزیر اعظم انور الحق کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال قبل اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین کو اپنی قرارداد کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔غزہ پر اسرائیلی بمباری سے اسپتال، اسکول اور اقوام متحدہ کے دفاتر بھی محفوظ نہیں۔غزہ میں قتل عام فوری بند کیا جائے۔غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل غزہ میں قتل عام کو روکنے کی ذمہ دار ہے۔ناانصافی اور معصوم شہریوں کا قتل عام مزید تنازعات کو جنم دے گا۔پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت قرار دینے کی حمایت کرتا ہے۔اسرائیل ایک غاصب ملک ہے۔وزیراعظم نے غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی میں مصر کی کوششوں کو سراہا۔اور کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے۔غزہ کی صورتحال کے حوالے سے فوری طور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے مسائل حل کرے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • او آئی سی اجلاس،ایرانی صدر سعودی عرب پہنچ گئے

    او آئی سی اجلاس،ایرانی صدر سعودی عرب پہنچ گئے

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئے سعودیہ عرب پہنچ گئے ہیں

    ایرانی صدرابراہیم رئیسی او آئی سی ے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے لیے ریاض پہنچ گئے ہیں،مارچ میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر اتفاق کے بعد ان کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہے،ایرانی صدر کے طیارے سے اترنے کے بعد ہوائی اڈے پر سعودی حکام نے انکا استقبال کیا

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کا او آئی سی سربراہی اجلاس کے لیے ہال پہنچنے پرسعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے استقبال کیا۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا،

    ایرانی صدر کی امیر قطر سے ملاقات ہوئی، اس موقع پر امیر قطر نے ایرانی صدر سے کہا کہ "آپ کیسے ہیں؟” ایرانی صدر نے جواب میں کہا کہ غزہ کی صورتحال سے ہم اور مسلمان قومیں اچھی نہیں لگ رہی.

    ترک صدر رجب طیب اردوان بھی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، ترک صدر کا کانفرنس ہال پہنچنے پر سعودی ولی عہد نے استقبال کیا .

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ اللہ کریم کااحسان ہے کہ آ ج امت مسلمہ کی قیادت ریاض مملکت سعودی عرب میں اہل فلسطین کی حمایت میں جمع ہیں، ایرانی صدر پہنچ گئے ہیں، ترک صدر راستے میں ہیں،

    گزشتہ روز نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں،ریاض کے ڈپٹی گورنر پرنس محمد بن عبدالرحمن نے نگران وزیراعظم کا استقبال کیا،نگران وزیراعظم فلسطین پر منعقد ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں شرکت کریں گے،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فلسطین کی موجودہ صورتحال پر طلب کیا گیا,نگران وزیراعظم او آئی سی رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے .

    غزہ کی صورتحال پر عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دنیا کے مختلف حصوں سے رہنما ہفتے کے روز ریاض پہنچنا شروع ہو گئے ہیں،ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور عرب رہنما بشمول فلسطین کے صدر محمود عباس، مصر کے عبدالفتاح السیسی، شام کے بشار الاسد اور عراق کے عبداللطیف راشد ہفتے کے روزریاض پہنچے ہیں،ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور لیبیا کی صدارتی کونسل کے صدر محمد المنفی بھی آنے والوں میں شامل ہیں

    ایرانی صدر نے سعودی عرب کے دورے سے قبل کہا کہ "غزہ الفاظ کا میدان نہیں ہے۔ یہ کارروائی کے لیے ہونا چاہیے، آج اسلامی ممالک کا اتحاد بہت ضروری ہے۔

    سعودی عرب نے مسلسل مقبوضہ علاقوں میں خونریزی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سعودی-افریقی سربراہی اجلاس میں جمعہ کو اپنے ابتدائی کلمات میں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کی طرف سے "غزہ میں اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی مذمت” کا اعادہ کیا۔مملکت ہفتہ اور اتوار کو دو غیر معمولی سربراہی اجلاسوں، او آئی سی سربراہی اجلاس اور عرب لیگ سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے والی تھی۔ لیبیا کی صدارتی کونسل کے صدر محمد المنفی نے کہا کہ سعودی افریقی سربراہی اجلاس "مملکت کی بے پناہ صلاحیتوں اور باوقار حیثیت کے پیش نظر، اقتصادی تعاون کے پل بنانے میں مدد کرے گا۔آئیوری کوسٹ کے صدر الاسانے اواتارا نے کہا کہ سربراہی اجلاس افریقی ممالک کی ترقی میں مدد کے لیے مملکت کے ٹھوس عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا امن پر بھی زور دیا۔

    قبل ازیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور قطر کے امیر کی ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض کے ال یمامہ پیلس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بات چیت کی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات پر زور دیا گیا، مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور اضافہ کے راستے تلاش کیے گئے۔اہم بات چیت میں غزہ کی پٹی میں جاری پیش رفت، جارحیت کو روکنے، شہریوں کی حفاظت، اور امداد کی تیزی سے فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔مزید برآں، رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر غور کیا۔اجلاس میں کئی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان