Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

    اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

    سات اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی، ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا، اسرائیل کی بمباری جاری ہے، ہسپتالوں‌سکولوں، ایمبولینس گاڑیوں،امدادی قافلوں سمیت کوئی جگہ ایسی نہیں بچی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، ایسے میں امریکی صدر جوبائیڈن نے یکجہتی کے لئے اسرائیل کا دورہ کیا، امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کے تین دورے کر چکے ہیں،ا مریکہ نے اسرائیل کو اسلحہ بھی فروخت کیا، دوسری جانب دنیا بھر میں اسرائیلی بربریت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، امریکہ میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تا ہم امریکی حکومت اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بربریت کی حمایت کی وجہ سے جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھو رہے ہیں، انکی حمایت میں کمی ہو رہی ہے،امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی کے نوجوان ہامی اب کہنے لگ گئے ہیں کہ اسرائیلی بربریت کی حمایت کر کے جوبائیڈن غلطی کر رہے ہیں، اس ضمن میں یونیورسٹی آف میری لینڈ میں ایک سروے کیا گیا جس میں نوجوان طلبا کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بہت زیادہ اسرائیل نواز ہو گئے ہیں، یونیورسٹی میں ان طلبا کی تعداد دوگنا زیادہ ہو گئی ہے جن کا صرف ایک ماہ کے اندر جوبائیڈن کے خلاف ذہن بدلا،سات اکتوبر سے قبل جوبائیڈن کی حمایت کرنے والے نوجوان اسرائیلی حملوں کی حمایت کے بعد اب جوبائیڈن کے خلاف ہو رہے ہیں،نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ امریکہ کا جھکاؤ فلسطین کی طرف ہونا چاہئے جو بربریت کا شکار ہیں

    رائے شماری کے ڈائریکٹر پروفیسر شیبلی تلہامی کا کہنا ہے کہ حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں نوجوانوں کی ایسی تعداد جن کی عمر 35سال سے کم ہے ان میں ایسے نوجوانوں کی تعداد کم ہوتی چلی جارہی ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھ دے،پروفیسر تلہامی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے بائیڈن کو اسرائیل کو نواز کہا، اب نوجوان فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،اسرائیلی حملوں کے بعد نوجوان ناراض ہیں، اسی وجہ سے جوبائیڈن عوامی حمایت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ساتھ ملا ہوا ہے، غزہ کے لوگوں سے اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ جبری نقل مکانی کروا رہاہے، حماس کے میڈیا بیورو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ انروا کے حکام کو غزہ میں انسانی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے،اس ادارے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور زبردستی لوگوں‌کو علاقے سے نکال رہے ہیں، واضح رہے کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام کو شمالی غزہ سے نکل کر جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کرنے کا کہہ رکھا ہے۔انروا کے ترجمان نے حماس کے الزام کا کوئی جواب نہیں دیا،

    اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری سے دس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،اسرائیلی بمباری سے 39 صحافی بھی مارے جا چکے ہیں جن میں سے 34 فلسطینی ہیں جبکہ چار اسرائیلی اور ایک لبنانی صحافی مارا گیا ہے،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    ‏اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔

    باغی ٹی وی: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات کے دوران کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ،قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ،فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ،امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ،حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ،ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ،اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ، مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ، آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ، کیا ان کو یاد نہیں کہ نازیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ،اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ،ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ،سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ، فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ،جے یو آئی کا اوّل روز سےموقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ،پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ،امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہر ے ہوئے ہیں ،ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ،انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ،اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ،کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ،ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ،جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ،نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے،برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ،پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ،حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں-

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ،کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ،دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔

  • ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ،سابق وزیراعظم نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کردی،درخواست میں استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے،عدالت سپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے،درخواستگزار چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں سے ایک ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتا ہے، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے،سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں،ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے،

    عمران خان کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایک تکلیف دہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ریاستی مشینری جعلی مقدمات بنانے کے لیے قابلِ اعتراض مقصد کے تحت استعمال کی جا رہی ہے، درخواست گزار کے معاملے میں ایف آئی اے میں آزادی اور انصاف پسندی کے عنصر کی نمایاں کمی نظر آتی ہے، فارن فنڈنگ کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کا سارا فوکس سائفر کیس پر مرکوز ہو چکا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششوں سے ادارے کی ساکھ اور غیر جانبداری سے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، ہائیکورٹ کے فیصلے میں سپیشل کورٹ کے عبوری حکم کو چیلنج کرنے میں ناکامی پر زور دیا گیا ہے، ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کر درخواست گزار کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا، سپیشل کورٹ نے قانون کے مطابق دستاویزات کی فراہمی اور چارج فریم کرنے کے درمیان 7 روز کی مہلت دی، ایک سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کا پیچیدہ کیس بنایا گیا، ایک صدی پرانے قانون کے اطلاق کے معاملے میں تمام فریقین بشمول درخواست گزار، جج اور وکلا کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے،ٹرائل کورٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کی،کیس میں عجلت سے درخواست گزار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کیس میں عجلت کی وجہ سے شفاف ٹرائل کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی، عقلمندی کا تقاضا ہے کہ الزامات کو سمجھ کر جواب جمع کرانے کا مناسب موقع ملنا چاہیے، چارج فریم کرنے کی کاروائی نے سنگین سوالات کو جنم دیا جائے،سپیشل کورٹ نے درخواست گزار اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں نامعلوم وقت پر نوٹ لکھا، درخواست گزار کے خلاف پورا ٹرائل غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم کی تفصیلات طلب کر لیں،سپریم کورٹ نے اپنے اکاؤنٹنٹ کو فوری طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کو نوٹسز جاری ہوئے وہ کہاں ہیں،ملک ریاض حسین کے وکیل سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کے بیٹے اور بیوی کے وکیل کون ہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میں صرف ملک ریاض کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پہلے معلوم کر لیں کیونکہ ایک ہی خاندان کے سب افراد ہیں،ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور بعد میں کوئی اعتراض آجائے،چیف جسٹس پاکستان نے ملک ریاض کے وکیل کو اپنے موکل سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور انکے حقوق متاثر ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہر صورت ہونا ہے،ایسا ممکن نہیں کہ عدالت اپنے حکم سے پیچھے ہٹ جائے، گارنٹی دینے والوں کیخلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی دوستی ہوگئی ہے،رقم کا ایک حصہ بحریہ ٹاؤن نے جمع کرایا دوسرا بیرون ملک سے آیا، ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت دونوں کہتے تھے پیسے انہیں دیے جائیں،اب دونوں کا اتفاق ہے کہ رقم سندھ حکومت کو منتقل کی جائے،کیا ایم ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کو تمام متعلقہ منظوریاں دی تھیں؟ وکیل ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے کہا کہ سولہ ہزار 896 ایکڑ کے مطابق لے آؤٹ پلان کی منظوری دی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟ زمین عوام کی تھی ایم ڈی اے کی ذاتی نہیں،

    مشرق بینک کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ بینک کو نوٹس دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی،بینک نے اگر رقم منتقل کی بھی ہے تو کسی اکائونٹ ہولڈر نے ہی دی ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کہ بینک والے بتا دیں رقم کس نے منتقل کی تھی، وکیل مشرق بینک نے کہا کہ بینک کو تفصیلات فراہم کی جائیں تو شاید کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوں، روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنزہوتی ہیں اس لئےفی الوقت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کابحریہ ٹاون کراچی سےمتعلق فیصلہ حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہو صورت ہونا ہے،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہر صورت ہوگا ورنہ عدالت اس کیس کے ذریعے مثال قائم کرے گی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ملک کا قانون بالاتر ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا قانون سے بالاتر ہے؟وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو،جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں یہ آپ کا ذاتی کیس نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ بحریہ ٹاون کراچی کا پراجیکٹ ختم ہو جائے، 2019 سے فیصلہ ہوا ہے اور ہمیں آج بحریہ ٹاون کا نقشہ دکھا رہے ہیں، کسی نے بحریہ ٹاون کے سر پر بندوق رکھی تھی کہ فیصلے کو تسلیم کرو؟جو آپ کر رہے ہیں یہ بالی وڈ یا لالی وڈ میں قابل قبول ہوگا آئینی عدالت میں نہیں، یہ اچھا ہے کہ معاہدے کے تحت پیسے نہیں دینے تو بہانے بناو، آپ فیصلے کے تحت ہوئے معاہدے کے مطابق رقم ادا کریں گے؟ ہاں یا ناں؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اگر زمین کی قیمت کا تخمینہ دوبارہ لگا لیا جائے تو میں ادائیگی کرنے کو تیار ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فیصلے پر عمل نہیں کرنا، فیصلے پر عمل نہ کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے،فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے نیب بحریہ ٹاون کراچی کے خلاف کاروائی کرے گا، بحریہ ٹاون کا معاہدہ دکھا دیں، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا معاہدہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آج میں نے دو چیزیں سیکھ لیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر انداز ہو سکتا ہے اور فیصلہ معاہدہ ہوتا ہے، یہ بتا دیں کہ عدالت کس قانون کے تحت اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد کرانے بیٹھی ہے؟ وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اصل دائرہ اختیار کے تحت ہی فیصلے پر عملدرآمد کرا سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے اور دائرہ اختیار کے تقدس کو پامال نہ کریں،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بحریہ کو جو زمین ملی اسکا آڈٹ ہوا،چار سال تک کیس کیوں سماعت کیلئے مقرر نہ ہوا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر عملدرآمد کا فورم کیا ہے،معاملہ سندھ کا تھا تو آپ نے سندھ ہائیکورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر آئین کو دیکھیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی نہیں تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ججز کا آئینی خلاف ورزی کرنا تو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،کیا سپریم کورٹ نے مس کنڈکٹ کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ایسے دلائل نہ دیں پھر،

    بحریہ ٹاؤن کے وکیل نےیوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ابھی توہین عدالت کی کاروائی چلانے کا فیصلہ نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے دلائل سے تو آپ اپنے ہی موکل کیخلاف جا رہے ہیں، آپ جذباتی نہ ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ سے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ناراض ہو رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن کی حیثیت زمین کے مالک کی نہیں بلکہ بلڈر کی ہے،

    سپریم کورٹ نےسندھ حکومت کو بحریہ ٹاون کراچی کے زیر قبضہ زمین کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جن 12 ہزار ایکڑ کا قبضہ بحریہ کے پاس ہے وہاں سے منافع کما رہا ہے،جکیا ایف بی آر نے بحریہ ٹاون کا آڈٹ کیا ہے؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بحریہ ٹاون کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خبر آپ بنوا چکے ہیں اب قانون کی بات کریں،بحریہ ٹاون نے 460 ارب کی پیشکش خود کی تھی، بحریہ ٹاون اگر برے سودے میں پھنس بھی گیا ہے تو ذمہ داری اسکی اپنی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سرکاری زمین نیلامی کے بغیر کسی کو دی جا سکتی ہے؟ بحریہ ٹاون نے نیب سے بچنے کیلئے 460 ارب کی پیشکش کی تھی،
    بحریہ ٹائون کیلئے عدالتی احکامات کی اہمیت ہی نہیں ہے، نیب کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرکے ریکوری کرنے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جو رقم بیرون ملک سے آئی وہ بحریہ کے کھاتے میں کیسے ایڈجسٹ کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بیرون ملک سے آئی رقم کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی رقم سندھ حکومت کو ملنی چاہیے یا ایم ڈی اے کو؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ زمین سندھ حکومت نے دی ہے تو رقم بھی انہیں ملنی چاہیے، پیسے کس کو ملنے چاہئیں یہ بحریہ ٹاون کا ایشو نہیں ہے،
    رقم ان متاثرین کو ملنی چاہیے جنہوں نے بحریہ کو ادائیگی کی اور رقم نہیں ملی،

    وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ میرے موکل نے 55 لاکھ روپے ادا کیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا تو ہم کچھ نہیں کر سکتے،وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ہیں تو کسی اور فورم پر کیسے جائیں؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بحریہ کراچی کا منصوبہ بلوچستان کے بارڈر تک پہنچ چکا ہے،بحریہ ٹاون چالیس ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کر چکا ہے، اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کر دی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ این سی اے سے آنے والے190 ملین پائونڈ حکومت کو ملنے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرون ملک سے سپریم کورٹ اکاونٹ میں 44 ملین ڈالرز اور 136 ملین پائونڈز آئے ہیں،سپریم کورٹ کو رقم یو اے ای، لندن اور ورجن آئی لینڈ سے آئی ہے،عدالت آئندہ سماعت پر رقم اپنے پاس نہ رکھنے کے حوالے سے حکم جاری کرے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیسے تعین ہوا ہے کہ برطانیہ والے 190 ملین پاونڈز ہی سپریم کورٹ کو ملے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ مشرق بینک کے وکیل کے مطابق رقم بھیجنے والی تفصیل ڈیٹا ملنے پر ہی فراہم کی جا سکتی ہے،مشرق بینک متعلقہ معلومات ملنے پر رقم بھیجنے والے کی تفصیلات فراہم کرے،بحریہ ٹاون اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے، عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے کو زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا نمائندہ بھی سروے ٹیم کے ہمراہ ہوگا،سروے میں سرکاری زمین پر بحریہ ٹاون کے قبضے کے الزمات کا بھی جائزہ لیا جائے،

    بحریہ ٹائون کے زیر قبضہ زمین کتنی ہے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن نمائندہ کیساتھ زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا،

    سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق درخواستیں 23 نومبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے،درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ افغان عبوری حکومت آنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد اضافہ ہوا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ خودکش حملوں میں ملوث افراد میں 15 افغان شہری ملوث تھے،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا واضح ذکر کیا گیا ہے،دہشتگردوں کی فہرست بھی افغان عبوری حکومت کو بھیجی گئی، پاکستان نے اب داخلی معاملات کو اپنی مدد آپ کے تحت درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے، تمام غیر ملکی خاندانوں کو عزت کے ساتھ واپس جانے کے مواقع فراہم کیے ہیں،ہم توقع کرتے ہیں افغان حکومت بھی واپس جانے والوں کیلئے احسن اقدامات کرے گی،

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ افغان عبوری حکومت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ دونوں ریاستیں خود مختار ہیں،
    الزام تراشی نے پاکستانی غیور عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے،افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اپنے ملک سے بھی غیر قانونی مقیم پاکستانیوں کو ہمارے حوالے کرے،ہم افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو جاری رکھیں گے،اب تک واپس جانے والوں کی تعداد 2 لاکھ 52 ہزار کے قریب ہے، رضاکارانہ طور پر ڈھائی لاکھ افراد کا واپس جانا معمولی بات نہیں،
    اُمید ہے ان اقدامات کے بعد ہمارے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی،پاکستانی پشتونوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا پنجابی، بلوچی، سندھیوں کا ہے، پاکستان کے اوپر کسی قسم کا دباؤ نہیں یہ ذہن سے نکال دیں کہ امریکا یا کسی اور ملک کا پاکستان پر دباؤ ہے، پاکستان نہ کسی کا دباؤ لیتا ہے نہ لے گا، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی 4 دہائیوں تک میزبانی کی تاہم گزشتہ 2 سال میں افغان سرزمین سے دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا،گزشتہ 2 سال میں سرحد پار دہشت گردی کی وجہ سے 2 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے،پاکستان سے وزیر دفاع کی سربراہی میں اعلیٰ سطح پر وفد افغان حکومت سے ملاقات کے لئے گیا جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ بھی موجود تھے جب کہ اس سے قبل بھی رسمی اور غیر رسمی طریقے سے مختلف وفود بھی افغانستان جا چکے ہیں، اگر اس کے باوجود وہاں سے مثبت اشارے یا اقدامات نہ آئیں تو پاکستان بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کرے گا،ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی دونوں ممالک کے حق میں ہے،

  • اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    یمن کے حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی اہداف کی طرف مسلح ڈرونز فائر کئے ہیں

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری کا کہنا تھا کہ ڈرونز کی ایک کھیپ گزشتہ گھنٹوں میں حساس اسرائیلی اہداف پر فائر کی گئی ہے،اسرائیل میں نشانہ بنائے گئے مقامات پر نقل و حرکت روک دی گئی ہے لیکن اس حملے کی مزید وضاحت نہیں کی گئی ،ترجمان کا کہنا ہےکہ اسرائیل جب تک غزہ پر حملہ بند نہیں کرے گا ہم ڈرون حملے جاری رکھیں گے،اسرائیلی فوج کے ترجمان نے حوثیوں کے ڈرون حملوں کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی

    اسرائیل نے نصر ہسپتال، القدس اور کمال عدوان کے قریب بمباری کی
    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کر رہا ہے، اسرائیلی حملوں میں10 ہزار سے زائد فسلطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے،اسرائیل گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، مساجد، چرچوں پر بھی بمباری کر رہا ہے، اسرائیلی حملے میں کوئی بھی محفوظ نہیں، صحافیوں، اقوام متحدہ کے امدادی اہلکاروں کی جانیں بھی جا چکی ہیں، ایمبولینس گاڑیوں‌پر بھی بمباری کی گئی ہے، گزشتہ شب اسرائیل نے نصر ہسپتال، القدس اور کمال عدوان کے قریب بمباری کی، اسرائیل نے بچوں کے ہسپتال کو خالی کرنے کی دھمکی بھی دی ،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتالوں میں حماس کے ٹھکانے ہیں اور وہ خودکو ہسپتالوں میں محفوظ سمجھتے ہیں،

    اسرائیلی حملوں کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق انکی 97 پناہ گاہوں میں تین لاکھ سے زائد بے گھر افراد موجود ہیں، چھ سو کے قریب افراد ایک بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور ہیں، پانی کی قلت ہے، صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ ہے،

    اسرائیلی حملوں میں 222 سکول مکمل تباہ،56 مساجد شہید
    اسرائیل نے ایک ماہ میں تقریبا تیس ہزار ٹن بارود غزہ پر برسایا ہے،اسرائیلی حملے کے بعد پچاس فیصد ہسپتال، 62 فیصد طبی مراکز اسرائیلی بمباری یا ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ،ایک ماہ میں 2 لاکھ سے زائد رہائشی عمارتوں کو اسرائیل نے نشانہ بنایا جس میں دس ہزار مکمل طور پر ملیا میٹ ہو چکی ہیں،اسرائیلی حملوں میں 222 سکول مکمل تباہ ، جبکہ ساٹھ تعلیمی ادارے جزوی تباہ ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں،اسرائیلی بمباری سے 56 مساجد شہید ہو چکی ہیں جبکہ 192 مساجد کو جزوی نقصان پہنچا ہے، تین گرجا گھر بھی ملیا میٹ ہو چکے ہیں

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کے غزہ پٹی پر نئے طویل مدتی قبضے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے،امریکی نیشنل سکیورٹی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکی صدرجو بائیڈن اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے غزہ پر طویل مدتی قبضے کے منصوبے کی حمایت نہیں کرتے، غزہ پر اسرائیل کا دوبارہ قبضے کاعمل درست عمل نہیں ہوگا,، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی حمایت نہیں کرتا ہمارا نقطہ نظر ہے کہ فلسطینیوں کو ان فیصلوں میں سب سے آگے ہونا چاہیےہم سمجھتے ہیں کہ غزہ فلسطینی سرزمین ہے امریکا غزہ پر دوبارہ قبضے کی حمایت نہیں کرتا،

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے کہا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل غیر معینہ مدت کیلئے غزہ پٹی کی سلامتی کی مجموعی ذمہ داری سنبھالے گا

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    فلسطینی بچوں کی الشفا ہسپتال کے باہر عالمی دنیا کا ضمیر جگانے کے لئے پریس کانفرنس
    اسرائیلی بمباری میں غزہ میں بچوں کی بڑی تعداد شہید ہو چکی ہیں وہیں زندہ رہ جانے والے بچوں نے اسرائیلی بربریت کے خلاف پریس کانفرنس کی ہے،الشفا ہسپتال جس پر اسرائیل بمباری کر چکا ہے کے باہر فلسطینی بچوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پوری دنیا کے سامنے ہم پر بمباری کر رہا ہے، 10 سالہ بچے کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے اور وہ ہمیں بمباری کے ساتھ ساتھ بھوکا مارنا چاہتا ہے،بچوں کا کہنا تھا کہ اسرائیل جھوٹا ہے وہ حماس سے نہیں لڑ رہا بلکہ شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے، اسرائیلی حملے بچوں پر بھی ہو رہے ہیں،بچوں نے اپنی پریس کانفرنس کا اختتام امن، زندگی، تعلیم، علاج اور کھانے کے ساتھ اسرائیل سے بدلے کے مطالبہ کرتے ہوئے کیا.

    نیتن یاہو سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی کے ذمہ دار ہیں، سابق اسرائیلی وزیراعظم
    اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے صیہونی ریاست کے لیے خطرہ قرار دے دیا، میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کا کہنا تھا نیتن یاہو سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی کے بعد سے نروس بریک ڈاؤن کی حالت میں ہیں،نیتن یاہو غیر معینہ مدت کیلئے غزہ کی سکیورٹی کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کرکے غلط اندازہ لگا رہے ہیں وہ اب اسرائیل کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، غزہ کی سلامتی کی نگرانی کرنا اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے کے مقابلے میں مختلف طریقے سے اپنا دفاع کر سکیں.

  • لیفٹیننٹ کرنل محمد حسن حیدر شہید کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    لیفٹیننٹ کرنل محمد حسن حیدر شہید کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    راولپنڈی: لیفٹیننٹ کرنل محمد حسن حیدر شہید کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: تیراہ کے علاقے میں جام شہادت نوش کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل محمد حسن حیدر کی نماز جنازہ آج چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں ادا کی گئی،شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا، نماز جنازہ میں وزیراعظم پاکستان، وزیر دفاع،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف اور اعلیٰ سول و فوجی افسران، فوجیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی-
    pak army
    نائیک خوشدل خان ، نائیک رفیق خان اور لانس نائیک عبدالقادر کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے کراچی میں ادا کی گئی
    pak army
    آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ مسلح افواج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہیں، مادر وطن سے دہشتگردی کاخاتمہ ہر قیمت پر کیا جائے گا۔
    rawalpindi

  • ہمارے خلاف جو الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ان سب کو ویلکم کرتے ہیں،آصف زرداری

    ہمارے خلاف جو الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ان سب کو ویلکم کرتے ہیں،آصف زرداری

    گھوٹکی میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے سابق صدر آصف زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں دیکھ رہا تھا ان سے حکومت نہیں چل رہی تھی، آج دل کرتا ہے کہ سندھی یا سرائیکی میں بات کروں،میں سمجھتا ہوں کہ اردو میں بات کر کہ مخالفوں کو میسیج دوں

    آصف زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ترقی نہیں ہو رہی تھی اس کو ہٹانامجبوری تھی ،روہڑی کینال سے انشاء لائننگ شروع کریں گے آپ کا پانی مسئل حل ہوگا ،آج فلسطین میں ظلم ہو رہا ہے پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر آواز اٹھائے گی،ہمارے خلاف جو الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ان سب کو ویلکم کرتے ہیں،میری تجویز نہ ماننے سے پاکستان کو پانچ دس ارب ڈالر کا نقصان ہوا، ہمارے مخالفین الیکشن میں کھڑے ہوں ہم ان کو ویلکم کہتے ہیں،سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، آج کے دور میں مارشل لا لگانا آسان نہیں،اس وقت فون ہر جگہ سے چل رہے ہیں، بڑی انفارمیٹو ٹیکنالوجی آ گئی ہے، اور جو مخالف الیکشن میں آ رہے ہیں انکو بسم اللہ، جمہوریت ہو گی ،مقابلہ ہو گا تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے،ہم نے پاکستان کے لیئے اپنی لیڈرشپ اور سیکڑوں کارکنوں کی قربانی دی اب بھی دینے کے لیئے تیار ہیں، اپنا حق کسی کو غصب نہیں کرنے دیں گے.ہمیں ملک میں عوام کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے ،ہم نے سندھ میں ترقیاتی کام کرنے ہیں ،پیپلزپارٹی غریبوں کی جماعت ہے ،اپنے دور میں تمام پاورز پارلیمان کو دی تھی،اگرہم نے صدر کے اختیارات کم کیے تھے تو اس کے پیچھے سوچ تھی،ہماری سیاست ذوالفقار علی بھٹو اور بےنظیر بھٹو کی سیاست ہے

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کا عام انتخابات مل کر لڑنے کا اعلان

    مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کا عام انتخابات مل کر لڑنے کا اعلان

    مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے

    ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہماری آپس میں بات چیت ہوئی ، دونوں جماعتوں کے رہنما موجود ہیں ، ملک میں جو حالات ہیں ان کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ، پہلے بھی جب پی ڈی ایم نے جماعتوں کے ساتھ کام کیا وقت اچھا گزرا ، دونوں جماعتوں کے مابین یہ طے پایا کہ ہم الیکشن میں مل کر کام کریں گے ، تمام معاملات میں مل کر مشاورت کی جائے گی، ہم سمجھتے ہیں مسلم لیگ ن ، ایم کیو ایم مل کر لڑیں گے، فنکشنل لیگ سے بھی بات ہو گی، جے یو آئی سے بھی بات ہو گی،مختلف امور پر مشاورت کی جائے گی ،دونوں جماعتوں کی جانب سے کمیٹیوں کا اعلان کیا جائے گا، بات چیت کے لئے دروازے کھلے رکھے جائیں گے

    اس موقع پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سیاسی اور معاشی حالات کا مقابلہ کرنا بنیادی مسئلہ ہے،

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ، جس میں کہا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم۔ کیو۔ایم) کے وفد نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ، جس میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال شامل تھے، نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف آرگنائزر مریم نواز، سیکریٹری جنرل احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، ایاز صادق، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ اور مریم اورنگزیب بھی موجود تھے۔

    دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا کہ پاکستان کے عوام کو موجودہ مسائل سے نکالنے اور پاکستان کو دوبارہ ترقی کی راہ پہ گامزن کرنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گی۔ دونوں جماعتوں نے چھ رکنی کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا جو صوبہ سندھ بالخصوص اس کے شہری علاقوں کے مسائل کے حل کے لئے جامع چارٹر تیار کریں گی۔ کمیٹی دونوں جماعتوں کے درمیان اشتراک کے لئے حتمی تجاویز قیادت کو 10 روز میں پیش کریں گی۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری