سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں آپریشن کیا
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی ہو گئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے سے آپریشن کو لیڈ کرنے والے کرنل محمد حسن حیدر ، نائیک خوش دل خان، نائیک رفیق خان اور لانس نائیک عبدالقادر شھید ہوگئے ہیں
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کسی بھی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے آپریشن کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
لیفٹیننٹ کرنل محمد حسن حیدر کی عمر 43 برس تھی اور وہ اسلام آباد کے رہائشی تھے، نائیک خوشدل خان کی عمر 31 برس اور وہ ضلع لکی مروت کے رہائشی تھی،نائیک رفیق خان کی عمر 27 سال، اورڈسٹرکٹ چارسدہ کے رہائشی تھے اور لانس نائیک عبدالقادر (عمر: 33 سال، ضلع مری کے رہائشی تھے.
سابق صدر آصف علی زرداری نے لیفٹیننٹ کرنل محمد حسن حیدر سمیت چار فوجی جوانوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا،آصف علی زرداری نے نائک رفیق خان ‘نائک خوشدل خان اور لاس نائک عبدالقادر کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ قوم اپنے بہادر جوانوں کی قربانی رائیگاں ہونے نہیں دیگی ،دھرتی کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے سوات جیسا آپریشن ضروری ہے، دہشت گرد ملک دشمن ہیں ان کا خاتمہ ضروری ہے
سابق وزیراعظم نوازشریف اور سابق صدر آصف زرداری کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے
آصف زرداری نے وطن واپسی پر نوازشریف کو مبارکباد دی، دونوں رہنماؤں نے آپس میں اتفاق کیا کہ ریاست کوبچانے کیلئےہم سب مل کراپنا کردار ادا کریں گے،معاشی مشکلات اورعوام کو ریلیف دینےکیلئے اہم فیصلے کرنے پراتفاق کیا گیا،دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے کوملاقات کی دعوت دے دی، نواز شریف اور آصف زرداری کے مابین ملاقات جلد ہوگی،
واضح رہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس آئے تو آج پہلے دن پارٹی سیکرٹریٹ آئےجہاں نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں، نواز شریف آنیوالے دنوں میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے والے ہیں، نواز شریف کی سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں ہوں گی،نواز شریف سب صوبوں کا بھی دورہ کریں گے
سابق وزیراعظم نواز شریف لندن سے واپس آئے تو مینار پاکستان جلسہ سے خطاب کیا، عدالت پیش ہوئے تو عدالت نے نواز شریف کو ضمانت دے دی، دو ریفرنسز جن میں نواز شریف اشتہاری ہو چکے تھے، عدالت نے ان میںنواز شریف کی اپیلیں بحال کر دی ہیں، نواز شریف عدالت پیشی کے لئے اسلام آباد آتے تھے تاہم پھر مری روانہ ہو جاتے تھے،نواز شریف مری سے واپس آئے، نواز شریف کی صدارت پارٹی اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نواز شریف سب صوبوں کا دورہ کریں گے، منشو ر کمیٹی کا سربراہ عرفان صدیقی کو بنایا گیا ہے، الیکشن لڑنے کے لئے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں.
نواز شریف لاہور سے لندن گئے تھے تو وہ بیمار تھے اور عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دی تھی، نواز شریف واپس آئے تو عدالت میں کہا گیا کہ نواز شریف بیمار ہیں اسلئے انہیں عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے، احتساب عدالت میں ن لیگ کی جانب سے یہ درخؤاست دائر کی گئی تھی.
فرانس کے سفیر نکولس گیلی نے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر سے وزارت دفاع میں ملاقات کی۔
وزیر دفاع نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان فرانس کے ساتھ اپنے تعلقات کو دو طرفہ اور یورپی یونین کے تناظر میں بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔وزیر دفاع نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کے لیے پرعزم ہے اور خاص طور پر افغانستان اور بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان دوطرفہ دلچسپی کے تمام امور پر فرانس کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں تعاون ہمارے دوطرفہ تعلقات کا اہم حصہ ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔
معزز مہمان نے علاقائی استحکام میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو یقینی بنایا۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی قطر کے دورے پر پہنچے جہاں سراج الحق نے دوحہ میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سے ملاقات کی اور فلسطین کے ایشو پر اپنی حمایت کا اعادہ کیا.ملاقات میں فلسطین کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر حماس قیادت نے فلسطینیوں کےلیے آواز بلند کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق چار روزہ دورہ پر ایران پہنچ گئے، ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کے مطابق سراج الحق ایران کے سیاسی ومذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، سراج الحق ایران کے رہنماؤں سے مسئلہ فلسطین پر تبادلہ خیال کریں گے، امیر جماعت امت کے اتحاد سے متعلق پروگرامز میں شرکت اور خطاب کریں گے،نائب امیر کے پی صابر اعوان، ڈائریکٹر امور خارجہ آصف لقمان قاضی امیر جماعت کے ہمراہ ہیں، سراج الحق کی غیر موجودگی میں لیاقت بلوچ قائم مقام امیر جماعت ہوں گے،
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے جاری سراج الحق کے بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی صدر بائیڈن پچاسی سال کی عمر میں تل ابیب جا سکتا ہے تو اگر میں وزیراعظم ہوتا تو فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے غزہ ہوتا اور مسلمان حکم رانوں کو اکھٹا کر کے فلسطینی مسلمانوں کی پشت پر کھڑا کرتا۔
اگر امریکی صدر بائیڈن پچاسی سال کی عمر میں تل ابیب جا سکتا ہے تو اگر میں وزیراعظم ہوتا تو فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے غزہ ہوتا اور مسلمان حکم رانوں کو اکھٹا کر کے فلسطینی مسلمانوں کی پشت پر کھڑا کرتا۔ pic.twitter.com/JVfNNKzFOD
آڈیو لیکس کیس ، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے عدالتی سوالات پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرا دیا، جواب میں کہا گیا کہ شہریوں کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے
اینٹلی جنس ایجنسیز جو اندرونی و بیرونی محاذ پر ملکی دفاع میں مصروف ہیں وزیراعظم آفس کا حساس اداروں کے آپریشنز اور ان کردار کی تفصیل میں جانا قومی مفاد میں نہیں وزیراعظم آفس حساس اداروں سے آئین اور ملکی قانون کے مطابق عوامی مفاد میں کام کی امید رکھتا ہے . آڈیو لیکس کیس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا
جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے پوچھا ہے کہ کس ایجنسی کے پاس شہریوں کی فون کالز ریکارڈ کی صلاحیت موجود ہے ؟ وزیراعظم آفس اینٹلی جنس ایجنسیز کے روز مرہ کے حساس کاموں میں مداخلت نہیں کرتا ، وزیراعظم آفس اینٹلی جنس ایجنسیز کے کلیدی ورکنگ میں مداخلت نہیں کرتا ، شہریوں کی ٹیلی فونٹ گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک موجود ہے، فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 قانون نافذ کرنے والے اور اینٹلی جنس اداروں کو ریگولیٹ کرنے کا فریم ورک فراہم کرتا ہے
جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال پوچھا کہ قانون کے مطابق ریکارڈ کی گئی ٹیلی فونک گفتگو کو خفیہ رکھنے کے کیا سیف گارڈز ہیں ؟ انوسٹی گیشن فار فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 شہریوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت دینے کا میکنزم فراہم کرتا ہے شہریوں کی قانون کے مطابق ریکارڈ کی گئی گفتگو کو خفیہ رکھنا اور لیک ہونے سے روکنے کو یقینی بنانا ضروری ہے اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ریکارڈ کی گئی گفتگو کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نا کیا جا سکے ، ٹیلی گراف ایکٹ 1885 میں بھی پیغامات پڑھنے کے لیے وفاقی یا صوبائی حکومت سے اجازت کو لازم قرار دیا گیا ہے ، پیکا آرڈی نینس اور رولز کے تحت بھی حاصل کیے گئے ڈیٹا یا ریکارڈ کو خفیہ رکھنا لازم ہے ،
جواب میں کہا گیا کہ عدالت نے سوال پوچھا کہ شہریوں کی گفتگو کس نے ریکارڈ اور لیک کیں؟ تحقیقات کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ؟شہریوں کی ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو ریکارڈ کر کے لیک کرنے کا معاملہ وفاقی حکومت کے علم میں ہے ، وفاقی حکومت نے سینئر ججز پر مشتمل اعلی سطح کا انکوائری کمیشن قائم کیا ، انکوائری کمیشن لیک کی گئی آڈیوز کے مصدقہ ہونے کی انکوائری کرے گا
سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملےکے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری کو ایک ماہ ہو گیا، اسرائیلی بمباری سے غزہ میں دس ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں.
عالمی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، امریکہ جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں آ رہے، غزہ قبرستان بن چکا ہے، خوراک، پانی سب کچھ ناپید، ہسپتالوں میں بمباری سے ہسپتال بھی ملیا میٹ ہو گئے، تعلیمی اداروں پر بھی بم برسائے گئے،مساجد، چرچ بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہ رہے،اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ میں تیسری مرتبہ مواصلات اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے 9770 افراد میں سے 4800بچے شامل ہیں جب کہ 26 ہزار فلسطینی زخمی ہیں
دوسری جانب امریکی سی آئی اے چیف ولیم برنس اسرائیل پہنچ گئے ہیں، وہ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے،
اسرائیلی فوج کا کہنا ہےکہ فلسطینی سرزمین کو 2 حصوں جنوبی اور شمالی غزہ میں تقسیم کردیا،اس کے علاوہ انہوں نے حماس کے خلاف اہم کامیابیوں کا دعویٰ بھی کیا، اسرائیلی بربریت کے جواب میں حماس کے تل ابیب پر راکٹ حملے کیے جارہے ہیں راکٹوں کو نشانہ بنانے والا آئرن ڈون کا میزائل خرابی کا شکار ہوگیا اور اسرائیل ہی میں گرگیا
امریکی وزیر خارجہ جنہوں نے اسرائیل کا تیسرا دورہ کرنے کے بعد اردن میں عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اسکے بعد ترکی پہنچ گئے انکا کہنا ہے کہ امریکا ایران سے جنگ نہیں چاہتا اور اپنے فوجیوں پر حملے برداشت نہیں کریں گے،انٹونی بلنکن نے عراق کا بھی دورہ کیا،سائپرس بھی گئے اور اب ترکی میں ہیں،امریکی وزیر خارجہ کی آمد سے قبل ترکی میں انکے خلا ف بھر پور مظاہرے کئے گئے
گزشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں المغازی کیمپ پر فضائی حملہ کیا جس میں ترک خبر ایجنسی کے فوٹو گرافر محمد علاؤل کے 4 بچے، 4 بھائی اور ان کے بچے شہید ہو گئے، اسرائیلی بمباری میں اب تک 40 صحافیوں سمیت مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب ملازمین شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں
اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینی سیاسی جماعت الفتح کے رہنما رفت اولیان کو براہ راست انٹرویو کے دوران گرفتار کر لیا ، رفت اولیان مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے گھر سے لائیو انٹرویو دے رہے تھے، اسرائیلی فوج نے توبس سے ایک خاتون صحافی کو بھی گرفتار کیا ہے،خاتون صحافی سمیہ سات ماہ کی حاملہ ہیں، انکو الفارع کیمپ سے حراست میں لیا گیا،
اردن کی ملکہ رانیہ العبداللہ نے غزہ کی پٹی میں "تباہ کن انسانی صورت حال” کی مذمت کی اور تمام لوگوں سے فوری طور پر جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ملکہ رانیہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،وہ علاقے بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں اسرائیلیوں نے لوگوں کو پناہ لینے کے لیے کہا تھا۔ ملکہ رانیا نے نشاندہی کی کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں تقریباً 10,000 شہید ہو چکے ہیں،جس میں نصف بچے ہیں،
زیادہ تر جنوبی سرحدی دیہاتوں میں الفا مواصلاتی نیٹ ورک کی مکمل بندش مسلسل دوسرے دن بھی جاری ہے۔ان علاقوں کے لوگوں نے وزیر مواصلات اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ نیٹ ورک کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں،
غزہ، اردنی فیلڈ ہسپتال کو پیراشوٹ کے ذریعے امداد پہنچائی گئی
غزہ میں اردن کے فیلڈ ہسپتال میں طبی سامان بھیجنے کے عمل کے لیے پیچیدہ لاجسٹک انتظامات کی ضرورت تھی، اور یہ آسان عمل نہیں ہے، پیر کے روز المبیدین نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اردن کےغزہ میں فیلڈ اسپتال کا مقام مشکل ہے لیکن جو چیز اردن کے لیے اہم ہے وہ غزہ کے لوگوں کے درد کو کم کرنا اور اس کی حمایت کرنا ، اسرائیل ہسپتالوں کے ارد گرد بمباری کر رہا ہے،
شاہ عبداللہ دوم نے پیر کو کہا کہ مسلح افواج کے فضائیہ کے ارکان غزہ کی پٹی میں اردن کے فیلڈ ہسپتال کو فوری طبی اور دواسازی امداد پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔غزہ میں اردنی فیلڈ ہسپتال کو پیراشوٹ کے ذریعے امداد پہنچانے کا عمل مکمل کیا گیا ،
حماس کے کمپاؤنڈپر ہم نے قبضہ کر لیا، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے حماس کے ایک کمپاؤنڈ کا کنٹرول سنبھال لیا اور رات بھر کی کارروائی میں 450 سے زیادہ فضائی اہداف کو نشانہ بنایا،اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق نشانہ بنائے گئے کمپاؤنڈ میں مشاہداتی چوکیاں، تربیتی علاقے اور زیر زمین سرنگیں شامل ہیں،حماس کے کارکن بھی حملے کے دوران مارے گئے ہیں.
اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کو "خوفناک” قرار دیا لیکن کہا کہ "غزہ میں اس سے بھی زیادہ شہریوں کی ہولناک ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس کے بعدفلسطینیوں کو خوراک، پانی، ادویات، بجلی اور بجلی سے محروم کر دیا گیا ہے،
ہمارے چالیس شہری مارے گئے اور سات لاپتہ ہیں، فرانس
فرانسیسی وزیر اعظم نے پیر کو کہا کہ اسرائیل کے خلاف 7 اکتوبر کو حماس کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے چالیس فرانسیسی شہری مارے جا چکے ہیں۔جبکہ آٹھ لاپتہ ہیں انکے بارے میں امکان ہے کہ حماس نے انکو یرغمال بنایا ہوا ہے،پیرس نے پورے تنازع میں اسرائیل کی مضبوطی سے حمایت کی ہے، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کا دورہ کیا تھا،
امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے لئے متحرک ہیں، انٹونی بلنکن نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کے بعد عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب وزراء خارجہ سے ملاقات کی، سعودی عرب، یو اے ای سمیت دیگر ممالک کے وزرا خارجہ اجلاس میں موجو د تھے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب رہنماؤں نے جنگ بندی کے لئے اور غزہ کی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے تعاون طلب کیا ہے،امریکی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں عرب ممالک کا کردار اہم ہے،بلنکن نے عمان میں حکام سے ملاقاتیں کیں،انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ سے بھی ملاقات کی اور غزہ میں انسانی امداد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا، اقوام متحدہ کے تقریبا 70 اہلکاروں کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت ہو چکی ہے، اقوام متحدہ کے پاس خوراک،ادویات کی کمی ہو چکی ہے،امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے عرب رہنماؤں سے ملاقات کی تو عرب رہنماؤں نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی عوام کو سزا نہ دی جائے،ایک طرف غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری ہے ایسے میں امریکی وزیر خارجہ کو عربوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسرائیل حماس کو کچلنے کے لئے چار ہفتوں سے مسلسل حملے کر رہا مگر اسے ناکامی ہوئی،عرب رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کے وزیر خارجہ کو غصےکی بڑھتی لہر کا سامنا کرنا پڑا،بلنکن نے غزہ میں جنگ بندی کی بات کی تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اسکو رد کر دیاہے، عمان میں بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ ان تمام کوششوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر توقف کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے گی
مصری وزیر خارجہ سامح شکری، جن کا ملک غزہ کی پٹی سے وہاں جانے کے لیے امداد کے واحد راستے کے طور پر کام کر رہا ہے، نے "فوری اور جامع جنگ بندی” کا مطالبہ کیا۔
حماس نے ہفتے کو دیر گئے کہا کہ غزہ سے دوہری شہریوں اور غیر ملکیوں کا انخلاء اس وقت تک معطل رکھا جا رہا ہے جب تک کہ اسرائیل کچھ زخمی فلسطینیوں کو رفح پہنچنے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ وہ مصر میں ہسپتال میں علاج کے لیے سرحد عبور کر سکیں۔
اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے ہفتے کے روز غزہ کے سب سے بڑے شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کے بعدعلاقے کا دورہ کیا اور اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی۔وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے اندر لڑ رہی ہیں۔اسرائیلی فوج غزہ شہر کو "حماس کا مرکز” کے طور پر بیان کرتی ہے، لیکن امدادی معاونت کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے کہا کہ شہر اور ملحقہ علاقوں میں 350,000 سے 400,000 کے درمیان شہری مقیم ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے 7 اکتوبر سے لے کر اب تک فلسطینی سرزمین پر 12,000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے،
امریکی وزیر خارجہ ترکی بھی جائیں گے اور ترک صدر سے ملاقات کر یں گے،ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیاہے،ترک وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل حملوں کے بعد ترکی نے پنے سفیر کو مشاورت کے بعد واپس بلایا ہے، ترکی میں موجود اسرائیلی سفیر بھی سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیل واپس جا چکا ہے،غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکی ملک ہونڈرورس،چلی، کولمبیا اپنے سفیر اسرائیل سے واپس بلا چکے ہیں،سفیر واپس بلائے جانے کے اقدام کا فلسطین نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ دیگر ممالک سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کوبین الاقوامی جرائم کی عدالت میں لے کر جائیں گے،صحافیوں سے گفتگو میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیلئے لکیرکھینچ دی ہے ان سے اب کوئی بات نہیں ہوسکتی، نیتن یاہو ناقابل بھروسہ ہیں نیتن یاہو جوکچھ کررہےہیں اس کی بائبل، توریت اورنہ ہی زبور اجازت دیتی ہے، نیتن یاہو اسرائیلی عوام کی حمایت کھوچکےہیں
حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے کچھ دن قبل کے دورہ ایران کی خبر سامنے آئی ہے، اسماعیل ہنیہ نے دورہ تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی،حماس کے عہدیدار اسامہ حمدان نے اسماعیل ہنیہ کے دورہ ایران کی مزید تفصیل نہیں بتائی
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حماس حملے کی ذمہ داری کیوں لینی چاہئے؟
سات اکتوبر کو ہفتے کے دن حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا،اس حملے کو تقریبا چار ہفتے ہو چکے،حملے میں تقریبا 1400 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، سینکڑوں افراد کو حماس نے یرغمال بنا لیا، اب بھی حماس کے حملوں میں اسرائیلی فوجی جہنم واصل ہو رہے ہیں، دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں جا رہے، یرغمالیوں کی رہائی کے لئے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف تل ابیب میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تاہم اسرائیلی وزیراعظم خاموش ہیں،
یروشلم پوسٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو،انتہائی بے حس، لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،حماس کے حملوں میں چودہ سو اسرائیلیوں کی جانیں گئیں لیکن نیتن یاہو نے کسی ایک شخص کے جنازے میں شرکت نہیں کی، سینکٹروں یرغمال بنائے گئے ابھی تک اسرائیلی وزیراعظم نے یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں کی،حماس کے حموں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ان میں سے کئی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں تا ہم نیتن یاہو نے کسی بھی زخمی کی ابھی تک عیادت نہیں کی،حماس کے مسلسل حملوں کے بعد اسرائیل میں 21 ہزار کے قریب افراد بے گھرہوئے لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے کسی بھی بے گھر افراد کا حال تک نہیں پوچھا،نیتن یاہو نے یرغمال بنائے گئے افراد میں سے صرف 13 خاندانوں کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں ،لیکن انکی رہائی کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا، 227 سے زائد افراد حماس کے قبضے میں ہیں، انکے خاندان اذیت کا شکار ہیں لیکن نیتن یاہو حملوں پر حملے کروا رہے ہیں
یروشلم پوسٹ لکھتا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس ابھی تک تین الفاظ ہیں: "میں ذمہ دار ہوں” – حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع سمیت فوجی حکام نے ناکامی کا سہرا اپنے سر لیا، اور کہا کہ ہم ناکام ہوئے،انٹیلی جنیس چیف، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ،اوسی سدرن کمانڈ سمیت سب نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا،یہاں تک کہ وزیرخزانہ تک نے بھی کچھ انٹرویو میں کہا کہ حماس کے حملوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن اب الزام تراشی کا وقت نہیں،نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ہم سب کو فی الوقت جواب دینے کی ضرورت ہے
نیتن یاہو کس طرح ایک اور سانحے کا الزام اپنے سر لینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں ذمہ دار ہوں لیکن اسکے ساتھ ہی کہا کہ اسرائیل کے مستقبل کی سلامتی کے لیے،نیتن یاہو واضح کر رہے تھے کہ وہ ماضی کے لئے نہیں بلکہ مستقبل کی بات کر رہے ہیں،اور سوچ رہے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد اگلے دن کیا ہو گا،نیتن یاہو کی اپنے دور حکومت میں ہونے والی ہر آفت سے دور رہنے کی ایک طویل تاریخ ہے، جن میں سے تازہ ترین 2021 میں ماؤنٹ میرون پر مہلک ہجوم کا کچلنا تھا، جس میں 45 افراد کی جانیں گئیں۔ گزشتہ سال اس آفت کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے سرکاری کمیشن کے سامنے اپنی گواہی میں وزیر اعظم سے پوچھا گیا تھا کہ ‘جو شخص گزشتہ 12 سالوں سے حکومت کا سربراہ تھا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ عوامی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں؟ اس آفت کے لیے؟” اس پر نیتن یاہونے جواب دیا، "کسی کو اس چیز کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔”
اسی طرح کی ذہنیت میں، نیتن یاہو جنگ کے بعد کی انکوائری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور اس لیے وہ "میں ذمہ دار ہوں” کے الفاظ کہنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ یہ مخصوص الفاظ کبھی بھی کسی پروٹوکول میں ریکارڈ نہ ہوں۔ نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک، نتن ایشیل نے اس ہفتے صحافیوں کو ایک تفصیلی پیغام بھیجا جس میں براہ راست ذمہ داری اور وزارتی ذمہ داری کے درمیان قانونی فرق کی وضاحت کی گئی،پیغام میں کہا گیا کہ "اگر کوئی سپاہی محافظ ڈیوٹی کے لیے حاضر ہونے میں ناکام ہو جاتا ہے اور دہشت گرد آرمی بیس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا تو کیا وزیراعظم ذمہ دار ہیں؟
اگرچہ نیتن یاہو ذمہ داری لینے سے گریز کرتے ہیں، اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے جنگ ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اس کی سیاسی پروپیگنڈہ ٹیم پہلے دن سے ہی ناکامی کو دوسروں پر ڈالنے کی کوشش میں کام کر رہی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، جنگ کے آغاز پر، وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو ہدایت کی کہ وہ آئی ڈی ایف اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سینئر رہنماؤں کے بیانات کے اقتباسات جمع کریں، دونوں عوامی ذرائع کے ساتھ ساتھ خفیہ سیکیورٹی میٹنگوں سے، جس میں انہوں نے خطرے کی شدت اور حماس کی صلاحیتوں اور ارادوں کو کم کیا۔ ان ذرائع کے مطابق، جن لوگوں کے بیانات اور گفتگو کو جانچنے کی ہدایت کی گئی تھی ان کی فہرست طویل ہے، اور اس میں آئی ڈی ایف کے موجودہ اور سابق چیف آف اسٹاف، جیسے بینی گانٹز اور گاڈی آئزن کوٹ شامل ہیں، جو دونوں اس وقت ہنگامی جنگ کا حصہ ہیں۔ماضی کے وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپڈ، وزرائے دفاع،اس طرح کے لوگ شامل ہیں جن کے بیانات کو دیکھا جا رہا ہے تا کہ کسی بھی طرح نیتن یاہو کو حماس کے حملوں کی ذمہ داری سے بچایا جا سکے اور اگر انکوائری ہو تو اس میں ان بیانات کو پیش کر کے فوج کی طرف اور انٹیلی جینس اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جنہوں نے حماس کے حملوںکی وارننگ، اطلاع کو نظر انداز کیا .
ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی نمائش منسوخ کر دی گئی،
اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش استنبول میں ہونا تھی جسے منسوخ کر دیا گیا ہے، ترک منتظمین نے اسرائیلی فنکاروں کو اس حوالہ سے آگاہ کر دیا ہے،سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش منسوخ کی گئی ہے،اسرائیلی فنکار گور ایری کی نمائش "شکل دی بیوٹی” کو ہٹا دیا گیا، تاہم، طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کی فنکارہ لیلا احمد زئی، جو فی الحال جرمنی میں مقیم ہیں ، نمائش کی جگہ پر موجود ہیں۔فینارو نے دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ "تمام ترک فنکار جن سے ہم ملے وہ ایک ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ پچھلے دو سالوں میں ہم ترک فنکاروں کو یہاں اسرائیللائے تھے، جسے ترک ثقافتی اسٹیبلشمنٹ نے سراہا تھا۔
اسرائیلی فنکاروں بوز کازمین، انجلیکا شیر، اور فینارو، اور حنان ابو حسین کے فن پارے اس وقت نمائش کے لیے پیش ہونا تھا،فینارو نے کہا، "اسرائیل اور اس کے فنکاروں کو اب تنہائی کا سامنا ہے،” ہمیں اپنی آواز سنانے اور اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ہر موقع کا استعمال کرنا چاہیے۔
اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کی تجویز پاگل پن ہے،ریپبلکن سینیٹر
فلوریڈا کے ریپبلکن سینیٹر رک سکاٹ نے اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کے کسی بھی مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے ایسی تجویز کو "پاگل اور خطرناک” قرار دیا۔سکاٹ نے حماس کے ایک اہلکار کی ایک ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شیطانی دہشت گردانہ حملوں کو دہرائیں گے، جیسا کہ اکتوبر کے اوائل میں اسرائیلی شہریوں پر کیا گیا تھا، اس لیے جنگ بندی کا مطالبہ پاگل اور خطرناک ہے،‘‘ سکاٹ نے کہا۔ حماس کے ارکان دہشت گرد ہیں جو اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اس گھناؤنے خطرے کو ختم کر دینا چاہیے۔‘‘
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کی تردید کی ہے کیونکہ اسرائیل غزہ میں حماس پرحملے جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیل میں جنگ کے بارے میں، سکاٹ نے جی سیون ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اکتوبر کے ابتدائی دہشت گردانہ حملے کے لیے ایران پر پابندیاں لگائیں، جس میں مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی تھی۔سکاٹ نے ایک خط میں کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ حماس اور فلسطینی جہاد کے دہشت گردوں کی طرف سے معصوم شہریوں پر کیے جانے والے وحشیانہ حملوں کے پیچھے ایرانی حکومت کا ہاتھ ہے۔” "امریکہ اور ہمارے اتحادی اس حقیقت کو ایک سیکنڈ کے لیے نظر انداز نہیں کر سکتے۔”سکاٹ نے ستمبر میں امریکی-ایران قیدیوں کے تبادلے میں ایرانی حکومت کے 6 بلین ڈالر کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر بائیڈن انتظامیہ پر بھی تنقید کی ہے۔فلوریڈا کے سینیٹر نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سب سے زیادہ "اسرائیل نواز” امریکی صدر قرار دیا تھا۔سکاٹ نے کہا، "امریکہ نےداعش کو شکست دی، امریکی سفارت خانے کو یروشلم میں اپنے صحیح گھر میں منتقل کیا.
اسرائیلی ماں نے انکشاف کیا کہ اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور شوہر کو لے جایا گیا
ایک اسرائیلی ماں جس کی بیٹی کو حماس نے اس کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور جس کے شوہر کو اغوا کر لیا گیا تھا، اس نے جو کچھ ہوا اس کا ایک ہولناک بیان شیئر کیا ہے۔خاتون نے فیس بک اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ حماس نے جب حملہ کیا تو اسکے سامنے اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور اسکے شوہر کو حماس اہلکار ساتھ لے گئے، وہ خاموش تھی لیکن اب خاموش نہیں رہ سکتی، اسرائیلی وزیراعظم میرے شوہر کو بازیاب کروائیں
اسرائیل کا حماس رہنما کے گھر پر میزائل حملہ
اسرائیل نے حماس کے رہنما کے گھر پر میزائل داغا ہے،حماس سے وابستہ الاقصیٰ ریڈیو نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے غزہ کے گھر پر میزائل داغا ،یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس کے خاندان کا کوئی فرد اس وقت گھر میں موجود تھا جب حملہ کیا گیا،حماس کے سیاسی سربراہ ہنیہ 2019 سے غزہ کی پٹی سے باہر ہیں، جو ترکی اور قطر کے درمیان مقیم ہیں۔دوسری جانب غزہ شہر کے شمال میں اسامہ بن زید بوائز اسکول میں، اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "دہشت گردوں کا خاتمہ” کیا ہے اور گزشتہ روز شمالی غزہ میں سرنگوں کی تلاش کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے ہتھیار برآمد کیے ہیں۔اسرائیلی فوجیوں نے 15 عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیا، ان میں سے کئی کو ہلاک کیا اور حماس کے تین مشاہداتی مراکز کو تباہ کر دیا،
برسوں تک نیتن یاہو نے حماس کو سہارا دیا،ٹائمز آف اسرائیل کا دعویٰ
برسوں سے، بنجمن نیتن یاہو کی زیرقیادت مختلف حکومتوں نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان طاقت کو تقسیم کر دیا – فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ایسی حرکتیں کیں جس سے حماس گروپ کو تقویت ملی۔خیال یہ تھا کہ عباس یا فلسطینی اتھارٹی کی مغربی کنارے کی حکومت میں شامل کسی اور کو فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش قدمی سے روکا جائے۔اس طرح، عباس کو نقصان پہنچانے کی اس کوشش کے دوران، حماس کو محض ایک عسکری گروپ سے ایک ایسی تنظیم میں تبدیل کر دیا گیا جس کے ساتھ اسرائیل نے مصر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کیے، اور جس کو بیرون ملک سے نقد رقم وصول کرنے کی اجازت تھی۔
حماس کو اسرائیل نے غزہ کے مزدوروں کو دیے گئے ورک پرمٹ کی تعداد میں اضافے کے بارے میں بات چیت میں بھی شامل کیا، جس سے غزہ میں پیسہ بہایا جاتا رہا،
اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اجازت نامے، جو غزہ کے مزدوروں کو انکلیو سے زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، امن برقرار رکھنے میں مدد کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہیں۔ 2021 میں نیتن یاہو کی پانچویں حکومت کے خاتمے کے بعد، تقریباً 2,000-3,000 ورک پرمٹ غزہ کے باشندوں کو جاری کیے گئے تھے۔ یہ تعداد 5,000 تک پہنچ گئی اور بینیٹ لیپڈ حکومت کے دوران تیزی سے بڑھ کر 10,000 تک پہنچ گئی۔جنوری 2023 میں نیتن یاہو کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، ورک پرمٹس کی تعداد تقریباً 20,000 تک پہنچ گئی ہے۔
مزید برآں، 2014 کے بعد سے، نیتن یاہو کی قیادت والی حکومتوں نے غزہ سے آگ لگانے والے غباروں اور راکٹ فائر کی طرف عملی طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔دریں اثنا، اسرائیل نے پٹی کے حماس کے حکمرانوں کے ساتھ اپنی نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے، 2018 سے لاکھوں قطری نقدی رکھنے والے کو اپنی کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔
زیادہ تر وقت، اسرائیلی پالیسی فلسطینی اتھارٹی کو بوجھ اور حماس کو اثاثہ سمجھتی تھی۔ انتہائی دائیں بازو کے MK Bezalel Smotrich، جو اب سخت گیر حکومت میں وزیر خزانہ اور مذہبی صیہونیت پارٹی کے رہنما ہیں، نے 2015 میں خود ایسا کہا تھا۔
مختلف رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے 2019 کے اوائل میں ایک اجلاس میں بھی ایسا ہی نقطہ نظر پیش کیا تھا، جب ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ جو لوگ فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں انہیں غزہ میں رقوم کی منتقلی کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے درمیان علیحدگی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ غزہ میں ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ میں حماس فلسطینی ریاست کے قیام کو روکیں گے۔اگرچہ نیتن یاہو اس قسم کے بیانات عوامی یا سرکاری طور پر نہیں دیتے ہیں، لیکن ان کے الفاظ اس پالیسی کے مطابق ہیں جو انہوں نے نافذ کی تھی۔اسی پیغام کو دائیں بازو کے مبصرین نے دہرایا، جنہوں نے اس معاملے پر بریفنگ حاصل کی ہو یا لیکوڈ کے اعلیٰ افسران سے بات کی اور پیغام کو سمجھا۔
اس پالیسی سے تقویت پا کر، حماس مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا، اسرائیل کا "پرل ہاربر”، جو اس کی تاریخ کا سب سے خونریز دن تھا – جب عسکریت پسندوں نے سرحد پار کی، سینکڑوں اسرائیلیوں کو ذبح کیا اور ہزاروں راکٹوں کو برسایا.بڑی تعداد میں شہریوں کو اغوا کر لیا۔
ابھی چند روز قبل، کان پبلک براڈکاسٹر کے ایک رپورٹر اسف پوزیلوف نے مندرجہ ذیل ٹویٹ کیا: "اسلامک جہاد تنظیم نے سرحد کے بالکل قریب ایک شور مچانے والی مشق شروع کی ہے، جس میں انہوں نے میزائل داغنے، اسرائیل میں گھسنے اور فوجیوں کو اغوا کرنے کی مشق کی۔ ”
اسلامی جہاد اور حماس کے درمیان فرق اس وقت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ جہاں تک ریاست اسرائیل کا تعلق ہے تو یہ علاقہ حماس کے کنٹرول میں ہے اور وہاں کی تمام تر تربیت اور سرگرمیوں کی ذمہ دار وہی ہے۔حماس مضبوط ہو گئی اور اس نے امن کے ان خوابوں کو استعمال کیا جس کے لیے اسرائیلی اس کی تربیت کے لیے بہت زیادہ ترس رہے تھے، اور سینکڑوں اسرائیلیوں نے اس بڑے پیمانے پر کوتاہی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔اسرائیل میں شہری آبادی پر ہونے والی دہشت گردی اس قدر زبردست ہے کہ اس سے لگنے والے زخم برسوں تک مندمل نہیں ہوں گے، یہ ایک چیلنج غزہ میں اغوا ہونے والے درجنوں افراد کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہے۔
نیتن یاہو نے گزشتہ 13 سالوں میں جس طرح سے غزہ کا انتظام کیا ہے، اس سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ آگے جا کر کوئی واضح پالیسی ہو گی۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انتخابات کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا-
باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےانتخابات کیس کا حکم نامہ تحریر کیا، حکم نامہ کے مطابق آگاہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کے خط کا کوئی جواب نہیں دیا، صدر اور الیکشن کمیشن سمیت سب کو وہی کرنا چاہیے جو آئین کی منشا ہے، کوئی ادارہ دوسرے کی آئینی حدود میں مداخلت کرے تو نتائج سنگین ہوں گے، صدر اور الیکشن کمیشن کا تنازع غیر ضروری طور پر سپریم کورٹ لایا گیا۔
تحریری حکم نامہ کے مطابق عدالت نے صدر اور الیکشن کمیشن کے امور میں مداخلت نہیں کی، پورا ملک انتخابات کی تاریخ کیلئے تشویش میں مبتلا تھا انتخابات کی مقررہ تاریخ 8 فروری پر تمام فریقین متفق ہیں، آئین اور قانون میں عدالت کا الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار نہیں، صدر نے آرٹیکل 186 کے تحت عدالت سے رجوع نہیں کیا، صدر کے خط اور الیکشن کمیشن کے موقف سے عدالت مشکل میں آگئی، آئین پر عمل کرنا کوئی آپشن نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، آج سے پندرہ سال پہلے تین نومبر کو آئین پر شب خون مارا گیا تھا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کو خدشہ تھا شاید انتخابات ہوں گے ہی نہیں، آئین کے تحت سپریم کورٹ ایسا اختیار استعمال نہیں کر سکتی جو اسے حاصل نہ ہو، عدالت ن ے صدر اور الیکشن کمیشن کو تاریخ کے تعین میں سہولت کاری کی، آئینی عہدہ جتنا بڑا ہوگا ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی، آئین پر عمل کرنا ہر شہری کا بنیادی فرض ہے آئین پاکستان کو پچاس سال ہوچکےہیں، صدر، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان آئین کے تحت کیے گئے حلف کے پابند ہیں، کسی آئینی ادارے یا عہدیدار کے پاس آئین سے آشنا نہ ہونے کا کوئی عذر نہیں، آئین پر شب خون مارنے کے ہمیشہ دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں، تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ عدالتیں غیر ضروری طور پر ایسے تنازعات کا حصہ نہ بنیں کہ ان پر وقت ضائع کریں، ماضی قریب میں انہی صدر مملکت نے اسمبلی اس وقت تحلیل کی جب وزیراعظم عدم اعتماد کا سامنا کر رہے تھے، آئین واضح ہے کہ عدم اعتماد کی صورت میں اسمبلی تحلیل نہیں ہوسکتی، اسمبلی تحلیل سے تنازع سپریم کورٹ آیا اور عدالت کو اس کا فیصلہ کرنا پڑا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس مظہر عالم نے قرار دیا کہ غیر آئینی اقدامات پر آٹیکل 6 بھی لگ سکتا ہے، جسٹس مظہر عالم نے آرٹیکل چھ کے اطلاق کا معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑا تھا، ہر آئینی ادارہ آئین پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے، عوام کا حق ہے کہ انتخابات ہوں اور عدالت کو الیکشن یقینی بنانے کا اعزاز حاصل ہوا ایڈووکیٹ جنرلز کے مطابق کسی صوبائی حکومت کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں، سپریم کورٹ میڈیا آرٹیکل 19 کے تحت میڈیا کے رول کا اعتراف کرتی ہے، غلط معلومات دینا جھوٹا بیانیہ بنانا جمہوریت کو نیچا دکھانا ہے، بعض اس آزادی کو عوام کو غلط معلومات دینا اور جھوٹا بیانیہ بنانے کا لائسنس سمجھتے ہیں، غلط معلومات دینا جھوٹا بیانیہ بنانا جمہوریت کو نیچا دکھانا ہے، پیمرا کا قانون ایسے مندرجات سے روکتا ہے اور جمہوریت کے فروغ کیلئے فیئر اظہار کی اجازت دیتا ہے، سپریم کورٹ میڈیا میں ان صحافیوں کو سراہتی ہے جو دیانتداری سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری پوری کرتے ہیں، عدالت نے 90 دن میں انتخابات کیلئے دائر درخواستیں نمٹا دیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے خلاف غیرشرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی,اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی سول جج قدرت اللہ کی عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے وکیل شیرافضل مروت عدالت پیش نہیں ہوئے،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے اعلیٰ عدلیہ کے مختلف حوالے دیے
اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے شیرافضل مروت کی عدم حاضری پر اعتراض اٹھایا ،وکیل شیرافضل مروت کی جانب سے معاون وکیل عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ شیرافضل مروت بیرون ملک ہیں،شیرافضل مروت آیندہ سماعت پر عدالت پیش ہوں گے، پی ٹی آئی معاون وکیل نے سماعت بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی،عدالت نے فریقین کی جانب سے ایک ساتھ دلائل سننے کا حکم دیا.جج قدرت اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین سے دلائل سننے کے بعد کیس آگے چلایاجائےگا، عدالت نے غیرشرعی نکاح کیس کی سماعت 13 نومبر تک ملتوی کردی
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا
سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیل نے القدس ہسپتال کے گردونواح میں بمباری کے بعد غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری کر دی،
اسرائیل نے الشفا ہسپتال پر بمباری کا خود اعتراف کیا اور کہا کہ حماس کے دہشت گردوں کو ہسپتال میں نشانہ بنایا تاہم فسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے زخمیوں کو لے جانی والی ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا،ایمبولینس گاڑیاں زخمیوں کو لے کر جا رہی تھی کہ انکو اسرائیل نے نشانہ بنایا جس میں بڑی شہادتیں ہوئی ہیں.اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایمبولینس گاڑیوں میں حماس جنگجو اور اسلحہ منتقل کیا جا رہا ہے، اسرائیل ابھی تک اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے کوئی شواہد پیش نہیں کر سکا
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال پراس وقت حملہ کیا گیا جب شدید زخمی مریضوں کو ایمبولینس گاڑیوں پر مصر سے متصل رفح کراسنگ منتقل کررہے تھے،ہم نے ہلال احمر کو مطلع کیا، ہم نے پوری دنیا کوبتایا کہ جن پر حملہ کیا گیا وہ متاثرین ان ایمبولینسوں میں قطار میں کھڑے تھے،اسرائیل نے النصر ہسپتال پر بھی بمباری کی ہے
سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں دس ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، چار ہزار کے قریب بچے بھی شہدا میں شامل ہیں، زخمیوں کی تعداد 32 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں جن میں چھ ہزار سے زائد بچے اور پانچ ہزار خواتین ہیں،
اسرائیل سکولوں، ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنا چکا، اب تک اسرائیل کی بمباری سے 136 طبی ورکرز کی موت ہو چکی جبکہ 35 ایمبولینس گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں،اسرائیل نے 126 طبی مراکز پر 50 حملے کئے
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایمبولینسز پر اسرائیل کے حملوں پر خوف کا اظہا رکیا اور کہا کہ الشفا اسپتال کے باہر ایمبولینس کے قافلے پر اسرائیلی حملے سے انتہائی خوف زدہ ہوں،ہسپتال کے باہر لاشوں کو پڑے ہوئے دیکھنا بہت خوفناک ہے،ایمبولینس گاڑیوں کونشانہ بنانے پر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ طبی عملے کو تحفظ ملنا چاہئے،
سابق یونانی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایمبولینس پرحملہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ایمبولینس پر حملےکے بعد کوئی اسرائیل پر جنگی جرائم عائد کرنے کیلئےعالمی فوجداری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائےگا
نہتی عام آبادی، ایمبولنسز، سکولوں ، بیماروں، بچوں اور خواتین پر بم برسانا پرلے درجے کی بزدلی ہے،شہباز شریف
سابق وزیراعظم، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے غزہ میں عالمی نیوز ایجنسی کے دفتر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا پر حملے سچائی اور اسرائیل کے قتل عام کو دنیا تک پہچنے سے روکنے کی مجرمانہ کوشش ہے ، ثابت ہوا کہ ظالم اور قابض صیہونی ریاست صرف مسلمانوں ہی نہیں، سچائی اور اختلاف کی ہر آواز کی دشمن ہے ،ناجائز ریاست ناجائز اقدامات سے اپنے جرائم چھپا نہیں سکتی ،صیہونی ریاست کا ظلم نہ روکا گیا تو مظلوموں کے لہو اور آنسوؤں سے آنے والا ‘طوفان نوح’ سب بہا لے جائے ،نہتی عام آبادی، ایمبولنسز، سکولوں ، بیماروں، بچوں اور خواتین پر بم برسانا پرلے درجے کی بزدلی ہے ،7 اکتوبر کے بعد سے غزہ مقتل گاہ بنا ہوا ہے، بے گناہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ صحافی بھی قتل ہو رہے ہیں ،صحافیوں اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر عالمی اداروں کی بے بسی افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے .صیہونی ریاست عالمی مجرم بن چکی ہے جو عالمی قوانین، جینیوا کنونشن، انسانیت کے ہر ضابطے کو پامال کر رہی ہے.
حماس نے غزہ کا گھیراؤ کرنے والی اسرائیلی فوج کو گھیرے میں لینے کی تیاری کر لی ہے، خبر رساں ادارے کے مطابق حماس نے نتیجہ خیز جنگ کی تیاری کر لی ہے، حماس کی کوشش ہے کہ اپنے دشمن اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے، رائیٹر ز کو حماس کے ذرائع نے بتایا کہ حماس نے اسلحہ،میزائل،خوراک،ادویات بڑی تعداد میں جمع کر رکھی ہیں،حماس نے خندقیں بنا رکھی ہیں اور انکا خیال ہے کہ وہ سرنگوں میں کئی ماہ گزار سکتے ہیں، گوریلا جنگ اسرائیل پر بھاری ثابت ہو گی،اور اسرائیل کو غزہ کا محاصرہ ختم کرنا پڑے گا،اور وہ جنگ بندی پر مجبور ہو گا، حماس یرغمالیوں کی رہائی کے لئے بھی جنگ بندی کی شرط رکھ سکتی ہے ساتھ ہی حماس اپنے قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کرے گی،حماس غزہ کی سترہ سالہ ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے، اسکے علاوہ غزہ میں اسرائیلی بستیوں کی مزید توسیع کو بھی روکنا چاہتی ہے،حماس مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کاخاتمہ بھی چاہتی ہے،