Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • میانوالی،پاک فضائیہ کے بیس پر دہشتگردانہ حملہ،3 دہشتگرد ہلاک

    میانوالی،پاک فضائیہ کے بیس پر دہشتگردانہ حملہ،3 دہشتگرد ہلاک

    پنجاب کے شہر میانوالی میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا،
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے میانوالی ٹریننگ ائیربیس پر آج صبح حملے کی کوشش کی جس پر پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا، دہشتگردوں کے حملے پر پاک فوج نے بر وقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پاکستان ائیرفورس ٹریننگ ائیربیس میانوالی پر حملہ ناکام بنایا،آئی ایس پی آر کے مطابق پہلے سے گراؤنڈ کیے گئے 3 طیاروں اور فیول باوزر کو نقصان پہنچا جب کہ جوانوں نے اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مشترکہ کلیئرنگ اور کومبنگ آپریشن آخری مراحل میں ہے اور باقی 3 دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا،پاکستان کی مسلح افواج ہر قیمت پر ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں

    میانوالی ایئربیس پر آپریشن مکمل، تمام دہشتگردوں کو مار دیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق میانوالی ایئربیس آپریشن کا فوری اختتام امن کے تمام دشمنوں کے لئے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمیشہ چوکس رہتی ہیں اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے اور وطن کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں،پی اے ایف ائیربیس میانوالی پر حملہ کرنے والے 9 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے.

    میانوالی ایئر بیس پر دہشت گردوں نے حملے کے لئے سیڑھی کا استعمال کیا، دیوار پر لگی باڑ بھی کاٹی گئی،دیوار کود کر اندر داخل ہوئے تا ہم پاک فوج نے فوری کاروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا.

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    دورانِ مجلس عورتوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارنے والی ملزمہ گرفتار

    فون پر دوستی، لڑکی کو ملنے گھر جانیوالے نوجوان کو پہنائے گئے جوتوں کے ہار اور کیا گیا تشدد

    فون پر برا بھلا کہنے کی رنجش پر امام مسجد قتل کر دیا گیا

     خواجہ سرا امام مسجد کیس میں عدالت نے ملزم کو جیل بھجوا دیا

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نےمیانوالی ٹریننگ ائیر بیس پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہماری سکیورٹی فورسز بہادری سے دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا رہی ہیں ،سکیورٹی فورسز کے افسر اور جوان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے عظیم قربانیاں دے رہے ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے میں قوم کی نجات ہے

    دہشت گردی کی حالیہ لہر پاکستان کو دوبارہ عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ہے،نگران وزیر داخلہ
    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈی آئی خان، پسنی اور میانوالی میں حملہ آور دہشت گردوں کے نام الگ ضرور ہونگے لیکن پس پردہ دشمن ایک ہی ہے۔دہشت گردی کی حالیہ لہر پاکستان کو دوبارہ بے یقینی اور عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ہے،تمام سول اور ملٹری ادارے یک جان ہو کر خون کے آخری قطرے تک ملک کا دفاع کریں گے ، دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےمیانوالی میں ٹریننگ ائیر بیس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا،صدر عارف علوی کا کہنا تھا دہشت گرد ملک اور قوم کے دشمن ہیں، دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے

    نفرت اور تقسیم کی آئیڈیالوجی کو ختم کرنا ہوگا،بلاول
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میانوالی میں پاکستان ائیرفورس کے ٹریننگ ائیربیس پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی ہے،بلاول نے میانوالی ائیرفورس ٹریننگ ائیربیس پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بچے کچھے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم سے قوم کے حوصلے پست نہیں کرسکتے، پاکستان پیپلزپارٹی نے ہر دور میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کیا ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے ملک میں انتہاپسندی، نفرت اور تقسیم کی آئیڈیالوجی کو ختم کرنا ہوگا،

    تحریک انصاف کا ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر اظہارِ تشویش
    پاکستان ائیر فورس ٹریننگ ائیر بیس میانوالی پر دہشتگرد حملےکا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر اظہارِ تشویش کیا ہے، ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ محض دو روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات ریاست کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں ،سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جان پر کھیل کر بروقت کارروائی کے زریعے حملہ ناکام بنانے پر زبردست تحسین کے مستحق ہیں۔الیکشن سے قبل ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر کا سر اٹھانامختلف شبہات کو جنم دیتا ہے،دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے اور مزید سنگین نتائج سے بچنے کیلئے ایک مؤثر قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے،عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے نتیجے میں آنے والی عوام کی نمائندہ حکومت ہی پالیسی فیصلے لینے کا اختیار و مینڈیٹ رکھتی ہے، تحریک انصاف وطن کی راہ میں جرات و بہادری سے لڑتے اور جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے

  • آپ سب کو الیکشن کا چاند مبارک ہو، بلاول

    آپ سب کو الیکشن کا چاند مبارک ہو، بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جے ڈی سی کے تحت فری ڈائیگنوسٹک لیبارٹری کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو الیکشن کا چاند مبا رک ہو،بہتر ہوتا الیکشن کیلئے سپریم کورٹ کو مداخلت نہ کرنی پڑتی،الیکشن کمیشن پہلے ہی خود اعلان کردیتا تو بہتر ہوتا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے موسم بارے سوال پوچھیں میرے حساب سے موسم صحیح ہے، اور تاریخ بھی آ چکی ہے تو اب الیکشن ہوں گے،فلسطین کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اس ایشو پر حکمران خاموش ہوں گے لیکن عوام خاموش نہیں ہیں، ہر ملک میں عوام سڑکوں پر اور فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، تاریخ میں پہلی بار یہ ہو رہا ،ہم سب کچھ سوشل میڈیا پر دیکھ رہے،انسانی حقوق کے علمبرداروں کو احساس ہونا چاہئے، بچوں کو مارا جا رہا ہے،

    بلاول زداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا موقف واضح ہے، انسانی حقوق بارے پی پی کا سخت موقف ہے، قانون پر عملدرآمد ضرور ہو مگر انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے،اصولی طور پر ہر سیاسی جماعت کو لیول پلیئنگ ملنی چاہئے،لیکن جو پی ٹی آئی ہے اسکی بنیاد اس قسم کی سیاست کی ہے کہ انکے لئے لیول پلینگ فیلڈ 2018 میں تھی ،تو اب اگر ایک الیکشن میں انکو کچھ تکلیف ہے تو ویلکم ٹو دی کلب،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ابھی تک کسی پارٹی سے اتحا د کا کوئی فیصلہ نہیں کیا،میثاق جمہوریت پر ساری جماعتوں کو آنا چاہئے، تحریک انصاف کو بھی آنا چاہئے،کوئی ایک الیکشن بتائیں جس میں پیپلزپارٹی کو لیول پلئینگ فیلڈ ملی،امید ہے اس دفعہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی، ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ فروری میں یہ الیکشن ہو رہے ہیں، انتخابات کی تاریخ آنا بہت بڑی کامیابی ہے،پیپلز پارٹی عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے، مشکل وقت میں عوام کو سہولیات فراہم کیں،پاکستان پیپلز پارٹی اپنی بھرپور انتخابی مہم جاری رکھے گی،ہم ماضی میں لیول پلئنگ فیلڈ نہ ہونے کے باوجو د حکومت بنائی، اب بھی بنائیں گے،آج ہم سیاسی باتیں کم کرنے کے لئے آئے ہیں، سیاسی جماعتوں کی مرضی کہ وہ کیا بیانیہ بناتے ہیں،

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • سپریم کورٹ کا42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم

    سپریم کورٹ، خواتین کو جائیداد میں حصہ نہ دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
    سپریم کورٹ نے42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نےمحکمہ مال میانوالی کو متاثرہ بہنوں کو حصہ دینے کا حکم دے دیا.عدالت نے کہا کہ کلاسیکل مثال ہے کہ ریونیو افسران کیوجہ سے کیس التواء میں پڑے رہتے ہیں،

    عدالت نے جائیداد نہ دینے والے پر10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا،سپریم کورٹ نے کہاکہ ہرجانہ نہ دینے پر اسی مالیت کی جائیداد دی جائے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھائی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دو بہنوں کا حصہ مار لیا،بہنیں کتنی شریف ہیں،کیا وہ شادی شدہ ہیں؟ بھائی نے اٹارنی کے ذریعے بیٹے کو ساری جائیداد دے دی،قانون ،دین ،اخلاق اور سماج سب کیس میں آپکے خلاف ہیں،ماتحت عدالت نے اگر بہن کو حصہ نہیں دیا تو یہ عدالت دے گی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے بیٹے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 42سال سے آپ نے دھوکہ دے رکھا ہے،قانون یا عدالتوں کو تو آپ مانتے نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپکے خلاف فیصلہ دیا آپ نظرثانی کے لیے آگئے،کیوں نہ مثالی جرمانہ عائد کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب بہت مضبوط پیغام بھیجیں گے،ایسا فیصلہ کریں گے کہ آئندہ بہنوں کے جائیداد میں حق مارنے جیسے مقدمات عدالت نہ آئیں،وکیل درخواست گزار نے معاملہ نظر انداز کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایبسلوٹلی ناٹ معاملہ نظر اندا ز نہیں ہوسکتا،پاور آف اٹارنی سے بیٹے کو جائیداد منتقلی درست نہیں،بہنوں کو ہتھکنڈوں کے ذریعے سے جائیداد سے محروم کیا گیا،عدالتی کارروائی کے ذریعے سالہا سال اس سے فوائد لیے جاتے ہیں

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے سیکنڈل نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، مجھے شاہد آفریدی کی کال آئی اور کہا کہ آپ بڑے بھائی ہیں، میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کیا کہیں کیا نہ کہیں لیکن ایک بات کہوں گا داڑھی کے بارے میں جو آپ نے کہا وہ صحیح نہیں کیا، داڑھی سنت رسول ہے، شاہد آفریدی تھینک یو،آپ نے صحیح کہا، میری غلطی کی آپ نے نشاندہی کی،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل ڈان نے آج جنگ نے بھی اس پر لکھا ، اب مجھے کالز آ رہی ہیں، انڈیا، انگلینڈ، آسٹریلیا سے کالز آ رہی ہیں، ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں، یہ خوفناک قسم کا اژدھا ہے جس کے کئی منہ ہیں، یہاں تک کہ آج کسی نے مجھے کہا کہ اگر واقعی اس سٹوری کو کرنا ہے تو اپنی سیکورٹی کا انتظام کر لو، کیونکہ پیسہ ہی ان کے لئے سب کچھ ہے،یہ کچھ بھ کر سکتے ہیں اور آوازیں بند کروانے کے ماہر ہیںَ میں نے کہا کہ اللہ خیر کرے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر درجنوں‌نہیں سینکڑوں کمپنیاں ہیں، جو نیٹ پر جوا کروا رہی ہیں، اصل جوا کرکٹ پر ہے،سینکڑوں کمپنیاں چلیں گی کیسے اگر سب سیدھا سیدھا ہو، پاکستان میں دو تین لوگ اسوقت اہم لوگ ہیں، ایک میاں صاحب کے بہت قریب ہیں، میں اسکا کنفرم کر رہا ہوں، جس دن ہو گیا نام سامنے لاؤں گا، کنفرمیشن ضروری ہے، اور دوسرے وہ ہمارے ایک اور بڑے ہی نامی گرامی صاحب، انکے قریبی ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور چیف جسٹس کو مل کر جے آئی ٹی بنانی چاہئے اور سخت تحقیقات ہونی چاہئے،

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

    مولانا یوسف جمیل کا ویڈیو پیغام آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عاصم جمیل نے خود کشی ہی کی ہے

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں

  • 8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات کے منٹس عدالت کو پیش کرنے ہیں ،
    ہم نے منٹس فائل کردیئے ہیں،جواب کے صفحہ دو پر صدر کو لکھا گیا خط ہے،عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے لکھے گئے خط پڑھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خط میں یہ آگسٹ کا لفظ سپریم کورٹ کےلئے کیوں لکھا ہے،آئین میں ایسا کچھ نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ممبران میں نثار درانی سندھ سے، شاھد جتوئی بلوچستان سے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے جواب میں صدر کے دستخط کہاں ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر نے مجھے خط لکھا ہے، وہ تھوڑی دیر میں میرے پاس آجائیگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے آج آپ کو اتنا وقت دیا ہے ،دیکھیں آپ حکومت کے نمائندے ہیں،صدر نے ابھی تک یہ نہیں لکھا کہ میں راضی ہوں یا کچھ اور، آپ کو صدر کی جانب سے جو بھی دستاویز آئے وہ ہمیں بھجوا دیجئے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کیس میں کوئی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے کل کی ملاقات کی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیئے، ہمیں بہتری کی کوشش کرنی چاہیئے،آپ کے پاس جب صدر کا جواب آئے تو بتائیے گا، ہم اٹھ کر جارہے ہیں پھر واپس آئیں گے، صدر کے جواب آنے تک کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل پاکستان ایوان صدر سے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت پہنچ گئے،سماعت سے قبل اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط چیف جسٹس کو دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کمرہ عدالت پہنچ گیا،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط سپریم کورٹ میں پیش کردیا،صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کی انتخابات کی تاریخ دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی، الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن 8 فرروری کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائیگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اس پر کسی کو اعتراض ہے؟ اس پر صدر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بھی مطمئن ہیں؟ کیا آپ سب خوش ہیں، کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کے وکیل سمیت کسی درخواست گزار نے اعتراض نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اس ملک میں انتخابات چاہتا ہے، سب لوگ بیٹھ جائیں آرڈر لکھوانے میں وقت لگے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا، اس نقطے پر بحث پھر کبھی کریں گے، عدالت نے تحریری حکمنامہ شروع کردیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2 نومبر 2023 کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا ، قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو تحلیل ہوئی ، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کی تاریخ پر الیکشن کمیشن اور صدر مملکت میں اختلاف ہوا، وکیل تحریک انصاف علی ظفر کے مطابق صدر مملکت نے 13 ستمبر کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے، صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں، صدر مملکت ملک کا اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے، تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے،

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تمام ایڈووکیٹ جنرلز کمرہ عدالت میں موجود ہین؟ ایڈووکیٹ جنرلز روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراضات تو نہیں؟ایڈوکیٹ جنرلز نے جواب دیا کہ انتخابات کی تاریخ پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، حکمنامہ میں کہا کہ کسی ایڈووکیٹ جنرل نے انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں کیا، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہی، اعلیٰ آئینی عہدہ ہونے کے ناطے صدر مملکت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے،پورا ملک اس شش و پنج میں تھا کہ ملک میں عام انتخابات نہیں ہو رہے، آئین اور قانون پر عملدرآمد ہر شہری پر فرض ہے،ہر آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیاسپریم کورٹ آگاہ ہے ، صدر اور الیکشن کمیشن کے انتحابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا،یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید انتحابات ہوں گے ہی نہیں۔ عدالت کو اداروں کا کردار نہیں اپنانا چاہییے،عدالت نے صدر اور ای سی پی کو کسی نتیجے تک پہنچنے میں سہولت فراہم کی جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی،آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔آئین کو بنے ہوئے پچاس سال ہو چکے ہیں۔حکمنامہ یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے یہ آئین کی سکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے،سپریم کورٹ صرف سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے،یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ہر ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ آئین سے انحراف کا کوئی آپشن کسی آئینی ادارے کے پاس موجود نہیں، آئین کو بنے 50 سال گزر چکے، اب کوئی ادارہ آئین سے لاعلم ہونے کا نہیں کہہ سکتا، 15 سال قبل آئین کو پامال کیا گیا، انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر یا کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے.حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں ،آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ،عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ،قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی ،وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا،اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا ،تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا،عدالت نے سیاسی معاملے پر از خود نوٹس لیا، صدر مملکت نے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کی جو غیر آئینی عمل تھا، تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر، وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا،اس وقت کے وزیر اغظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھااس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی، اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا، چیف جسٹس نے حکمنامہ میں تین نومبر کی ایمرجنسی کا ذکر بھی کر دیا اور کہا کہ آج سے پندرہ سال پہلے آج ہی کے دن آئین پامال ہوا،آئین کی پامالی کا خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑا۔اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا،آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے،غیر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے، صرف عوام کے مفاد میں آئینی ادارے اہم فیصلے کر سکتے ہیں، امید کرتے ہیں تمام آئینی ادارے مستقبل میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے ،وقت پر ہوجانے چاہئیں،اس پر منیر احمد نامی شخص کو پریشانی ہوسکتی ہے،منیر احمد ایسے شخص ہیں جس کے لئے وکلا پیش ہونا چاہتے ہیں،منیر احمد ایک پُراسرار شخص ہیں، ہم نے انتخابات کے انعقاد کیلئے سب کو پابند کر دیا،کوئی رہ تو نہیں گیا،میڈیا پر انتخابات سے متعلق مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعے کارروائی کروائیں،اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے،جس اینکر کو بھی انتخابات وقت پر نہ ہونے کا خدشہ ہے وہ ذاتی محفلوں یا اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں ،اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی ہوگی، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے،کسی اینکر یا رپورٹر کو اجازت نہیں کہ مائیک پکڑ کر عوام کو گمراہ کرے، میڈیا انتخابات پر اثرانداز ہوا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی،میڈیا کو منفی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،انشاء اللہ انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے آپ نظر رکھیں الیکشن کے حوالے سے کوئی منفی خبر چلائے تو ان کے خلاف ایکشن لیں ،یہ کوئی نہ سوچے کہ انتخابات کی تاریخ عدالت نے دی ہے،ہمیں مثبت سوچ رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،لائیٹر نوٹ پر سماعت ختم کررہا ہوں کہ انتخابات بخیر و عافیت سے ہونگے،اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی اعتراض نہیں کیا، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پورے ملک کی تاریخ دے دی، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا،اُمید ہے تمام تیاریاں مکمل کرکے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا،8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت آئین و قانون کی کسی خلاف ورزی کی توثیق نہیں کر رہی،الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ 8 فروری کو انتخابات ہر صورت ہوں، الیکشن کمیشن ہر قدم قانون کے مطابق اٹھائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کا دوستانہ چہرہ دیکھا ہے دوسرا چہرا ہم دکھانا نہیں چاہتے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ کیساتھ تمام درخواستیں نمٹا دیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی تھی ،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے حوالے عدالت کو آگاہ کرے گا ،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عدالت کوگیارہ فروری کے روز انتخابات کرانے کی تاریخ دی ہے ،رات گئے الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کے درمیان عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی

  • صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر  عام انتخابات 8 فروری  کو کرانے پر متفق

    صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات 8 فروری کو کرانے پر متفق

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کرانے پر اتفاق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے وفد نے صدر مملکت سے علیحدہ علیحدہ طویل ملاقاتیں کیں جس میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا اور تفصیلی بحث کے بعد اجلاس نے متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سرابرہی میں ممبران صدر پاکستان سے ایوان صدر میں میں الیکشن کی تاریخ کے سلسلے میں ملاقات کی اعلامیے کے مطابق متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن مورخہ 8 فروری بروز جمعرات منعقد ہوں گے ۔

    سری لنکا کو شکست ،بھارت نےسیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

    خیال رہےکہ آج ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری 2024 کو ملک میں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہےعدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کر کے کل عدالت میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائےسپریم کورٹ کے حکم پر صدر عارف علوی سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان نے ملاقات کی جس میں الیکشن کمیشن کے ارکان بھی موجود تھے۔

    واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف

    ذرائع کے مطابق صدر سے چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں عام انتخابات کے لیے صدر مملکت کے سامنے 3 تاریخیں رکھی گئیں الیکشن کمیشن نے 28 جنوری ، 4 فروری اور 11 فروری کی تاریخوں پر رائے دی، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 فروری کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا گیا،ملاقات کے بعد ایوان صدر سے روانہ ہوکر الیکشن کمیشن پہنچے جہاں انہوں نے صدر مملکت کو خط لکھتے ہوئے ملک میں 11 فروری کو الیکشن کرانے کی تجویز دی۔

    حج 2024 کی پروازوں سے متعلق شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان ملاقات میں الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد اٹارنی جنرل صدر مملکت کا پیغام لے کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس گئے اور صدر مملکت کا مؤقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے رکھا بعد ازاں 8 فروری کو انتخابات کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا-

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

  • سینیٹ اجلاس، نیب ترمیمی آرڈینس میں 120 دن کی توسیع

    سینیٹ اجلاس، نیب ترمیمی آرڈینس میں 120 دن کی توسیع

    سینیٹ نے نیب ترمیمی آرڈینس میں 120 دن کی توسیع کر دی

    نیب ترمیمی آرڈینس میں توسیع کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی، نیب ترمیمی آرڈینس وزیر قانون عرفان اسلم نے پیش کیا،اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اہم قانونی معاملات سیلیکٹڈ بنچز کے سامنے رکھے جاتے تھے،چیف جسٹس نے سارا بنچ بٹھایا،قانون بنانا پارلیمان کا اختیار ہے،آئین نے قانون بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کو نہیں دیا،آج سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون سازی پارلئمنٹ کا اختیار ہے،

    سینیٹر کامران مرتضٰی نے نیب ترمیمی آرڈیننس میں توسیع کی مخالفت کی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ملتوی

    جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس کے جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کےخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی اپیل پر سماعت ہوئی.

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ،جوائنٹ سیکرٹری قانون و انصاف عرفان احمد،جوائنٹ سکریٹری کابینہ ڈویژن منیر صادق اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجودتھے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنی مرضی سے ایک جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کا جج تعینات کر دیا، جج کی تعیناتی کے لیے متعلقہ چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی، وزارت داخلہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن جاری کیا، سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی اور 7 نومبر کو شہادتیں ریکارڈ ہونی ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم وفاقی کابینہ کے فیصلے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہاں آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کا جج تعینات ہوا 27جون 2023 کو وفاقی کابینہ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی تعیناتی کی منظوری دی،وفاقی کابینہ کی منظوری میں کہیں نہیں لکھا ہوا یہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کی جج کی تعیناتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون کی جانب سے سمری بھجوائی گئی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دی،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا،کابینہ کی منظوری کے بعد تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جج کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت ہونی چاہیے،

    سائفر کیس اوپن ٹرائل کی عمران خان کی درخواست میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل سے اہم مکالمہ سامنے آیا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم 2023 میں رہ رہے ہیں ، یہ openness کا دور ہے ، اوپن کورٹ ، اوپن سماعت ، شفافیت کا تقاضا بھی یہی ہے اگر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل میں سزا سنا دی جاتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہونگے یہ سب چیزیں آپ کو دیکھنا ہیں

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس کیس میں پیر کےلئے نوٹس جاری کر رہے ہیں، عدالت نے ایف آئی اے، وزارت قانون و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئےسماعت 6نومبر تک ملتوی کر دی

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی

    سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کروانے سے متعلق سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرہا ہے،پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو میں دلائل کا آغاز کرنا چاہوں گا،وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ میں اس کیس میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی کروں گا،فاروق نائیک وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو اعتراض تو نہیں اگر عدالت فاروق نائیک صاحب کو اس کیس میں سنے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم فاروق ایچ نائیک صاحب کو خوش آمدید کہتے ہیں ،عدالت نے پیپلز پارٹی کو انتخابات کیس میں فریق بننے کی اجازت دے دی

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہاپنی استدعا کو صرف ایک نقطے تک محدود کروں گا،استدعا ہے الیکشن آئین کے مطابق وقت پر ہونے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی 90 دنوں میں انتخابات کی استدعا تو اب غیر موثر ہو چکی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کی رائے جاننے سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے،

    میرا نہیں خیال انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ اب آپ صرف انتخابات چاہتے ہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ہم انتخابات چاہتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا؟ میرا نہیں خیال انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ مخالفت کریں گے ،چیف جسٹس کے سوال پر اٹارنی جنرل نےانکار میں جواب دیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 58 اور 224 پڑھا جا سکتا ہے،انتخابات نہیں ہوں گے تو نہ پارلیمنٹ ہوگئی نا قانون بنیں گے،انتخابات کی تاریخ دینا اور شیڈول دینا دو چیزیں ہیں،الیکشن کی تاریخ دینے کا معاملہ آئین میں درج ہے،صدر اسمبلی تحلیل کرے تو 90دن کے اندر کی الیکشن تاریخ دے گا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تاریخ دینے کیلئے صدر کو وزیر اعظم سے مشورہ لینا ضروری ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ضروری نہیں ہے صدر کا اپنا آئینی فریضہ ہے وہ تاریخ دے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا صدر نے الیکشن کی تاریخ دی ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری رائے میں صدر نے تاریخ دیدی ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق تاریخ دینا صدر کا اختیار نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وہ خط دیکھ سکتے ہیں جس میں صدر نے تاریخ دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدر نے تاریخ دینے کا حکم دینا ہے، حکومت نے اسے نوٹیفائی کرنا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدر نے جس خط میں تاریخ دی وہ کہاں ہے، علی ظفر نے صدر کا خط پڑھ کر سنا دیا

    صدر مملکت ہدایات پر عمل نہ کریں تو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسمبلی 9اگست کو تحلیل ہوئی اس پر تو کسی کا اعتراض نہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی کسی کا اعتراض نہیں،وزارت قانون نے رائے دی کہ صدر مملکت تاریخ نہیں دے سکتے،90 دنوں کا شمار کیا جائے تو 7 نومبر کو انتخابات ہونے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدر مملکت کو الیکشن کمیشن کو خط لکھنے مئں اتنا وقت کیوں لگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا صدر مملکت نے سپریم کورٹ سے رائے لینے کیلئے ہم سے رجوع کیا،وکیل علی ظفر نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر آپ خط ہمارے سامنے کیوں پڑھ رہے ہیں،صدر کے خط کا متن بھی کافی مبہم ہے،صدر نے جب خود ایسا نہیں کیا تو وہ کسی اور کو یہ مشورہ کیسے دے سکتے ہیں،علی ظفر کیا آپ کہہ رہے ہیں صدر نے اپنا آئینی فریضہ ادا نہیں کیا،9 اگست کو اسمبلی تحلیل ہوئی اور صدر نے ستمبر میں خط لکھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین کی کمانڈ بڑی واضح ہے صدر نے تاریخ دینا تھی اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اختلاف کرنے والے بھلے اختلاف کرتے رہیں ،کیا سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کہا کہ صدر تاریخ دیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ صدر مملکت نے تاریخ نہیں دی، اس پہلو کو ایک جانب رکھ کر سپریم کورٹ کو بھی انتخابات کا معاملہ دیکھنا چاہئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ صدر کے خلاف جاکر انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ کیا آئین پاکستان سپریم کورٹ کو تاریخ دینے کا اختیار دیتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ کیا ہم صدر مملکت کو ہدایات دے سکتے ہیں؟اگر صدر مملکت ہدایات پر عمل نہ کریں تو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ کس جماعت کی نمائندگی کرہے ہیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں پاکستان تحریک انصاف کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں صدر مملکت نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیڈر انکے بھی لیڈر ہیں ، تو آپ سپریم کورٹ آنے کی بجائے انہیں کال کریں اور الیکشن کی تاریخ لیں،

    صدر مملکت نے تو تاریخ نہ دے کر خود آئینی خلاف ورزی کی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اب یہ عدالت صدر کے خلاف رٹ جاری کر سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 98 بہت واضح ہے اس پر اس عدالت کا کردار کہاں آتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے مطابق تاریخ دینا صدر کا اختیار ہے،پھر آپ بتائیں کہ کیا اس عدالت کو بھی تاریخ دینے کا اختیار ہے،اگر صدر نے بات نہ مانی تو ہم انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے،وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات ممکن نہیں تو صدر کو کہا جائے 54 روز میں انتخابات کا اعلان کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو کون کہے گا آپ نہیں بلکہ ہم تین ججز ہی کہہ سکتے ہیں،جب ہم آرڈر جاری کریں گے تو ذہن میں رکھیں کہ جو تاخیر کا ذمہ دار ہوگا اس کیخلاف لکھیں گے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ صدر کو انفرادی طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ صدر مملکت کے طور پر دیکھا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر فرد نہیں ادارہ ہے،صدر کو تو تمام طریقہ کار معلوم تھا،صدر کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنی حاصل ہے لیکن آپ بتا دیں کہ انہوں نے تاریخ دی کب؟ صدر مملکت کی گنتی درست تھی کہ اسمبلی تحلیل ہونے سے 89واں دن 6 نومبر ہے، صدر مملکت نے تو تاریخ نہ دے کر خود آئینی خلاف ورزی کی،آئین پاکستان نے ہمیں تاریخ دینے کا اختیار کہاں دیا ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک مرحلے میں مداخلت کر چکی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس وقت سوال مختلف تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد تو اچھی چیز ہے پرابلم نہیں ہے،آپ کے لیڈر صدر کے بھی لیڈر ہیں،صدر کو فون کر کے کیوں نہیں کہا گیا کہ انتخابات کی تاریخ دیں ،جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ کی دلیل تو یہ ہے کہ صدر نے آئین سے انحراف کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بادی النظر میں حکومت ،الیکشن کمیشن اور صدر مملکت تینوں ذمہ دار ہیں،اب سوال یہ ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے،انتخابات تو وقت پر ہونے چاہیں،آئین کی خلاف ورزی تو ہوچکی جس نے خلاف ورزی کی نتائج بھگتنا ہونگے،

    آپ چاہتے ہیں عدالت آئین کی خلاف ورزی کو درگزر کر دے؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پر کہا تھا کہ کوئی حل بتائیں ورنہ تو صدر کیخلاف آپ خود برا وقت لانا چاہتے ہیں،تاریخ جہاں سے آئے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بس انتخابات ہونے چاہیں،آپ کہتے کہ صدر نے تاریخ دینی ہے تو پھر ٹھیک ہے صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہم لکھ دیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت آئین کی خلاف ورزی کو درگزر کر دے؟ عدالت ایک دن کی تاخیر بھی کیوں درگزر کرے چاہے کرنے والا کوئی بھی ہو، عدالت کو نظریہ ضرورت کی طرف نہ لیکر جائیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ اس طرح معاملہ چلتا رہا تو انتخابات نہیں ہوسکیں گے،

    درخواست گزار منیر احمد کے وکیل انور منصور خان عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا درخواست گزار کے وکیل کے طور پر اپ نے درخواست لکھی تھی؟ انور منصور خان نے کہا کہ جناب درخواست میں نے نہیں لکھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منیر احمد پر کل ابصار عالم نے ایک کیس میں سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،عدالتی عملے کی جانب بتایا گیا ہے کہ آپ کا وکالت نامہ اس میں موجود نہیں،آپ اگر ان کے وکیل ہیں تو وکالت نامہ جمع کرائیں ہم آپ کا وکالت نامہ قبول کرتے ہیں، انور منصور خان نے کہا کہ مجھ سے وکالت نامہ دستخط کرایا گیا ، کیوں جمع نہیں ہوا، نہیں معلوم ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اظہر صدیق ایڈوکیٹ سمیت سات وکلا ہیں ان میں سے ایک بھی ہمارے سامنےآج موجود نہیں،عملے نے بتایا ہے عزیر چغتائی کو لاہور رجسٹری کی جانب سے سماعت کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ انور منصور خان آپ اس کیس میں پھنس سکتےہیں، منیر احمد جیسے لوگوں کو بھی فکس کرنا ہوگا،وکیل انور منصور خان نے کہا کہ میں اس کیس میں واک آؤٹ کرتا ہوں،

    آئین معطل کرنے کی سزا پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل عابد زبیری سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ پی ٹی آئی وکیل کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں،وکیل سپریم کورٹ عابد زبیری نے کہا کہ میں علی ظفر سے اتفاق کرتا ہوں مگر میری استدعا الگ ہے،14 مئی کو انتخابات والے فیصلے کو پڑھنا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 14 مئی کو انتخابات والا کیس تو ہمارے سامنے نہیں ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکمنامہ پڑھ رہا ہوں جو ہم سب پر لازم ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی طرف لےجارہے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا انتخابات کا فیصلہ 4 اپریل کا ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر بعد میں آیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جوبھی انتخابات نہیں کروا رہا وہ آئین کومعطل کئے ہوئے ہیں،آئین کومعطل کرنےپرآرٹیکل6بھی لگ سکتاہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ علی ظفر یہ کہہ رہےہیں کہ صدرآئین کی خلاف ورزی کررہے،آج کی تاریخ تک خلاف ورزی موجود نہیں ہے7نومبرسے شروع ہوجائے گی،آپ جو دلائل دے رہے ہیں اس سے تو صدر مملکت پر آرٹیکل 6 لگ جائے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین معطل کرنے کی سزا پر آرٹیکل 6 لگتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری رائے میں ابھی تک آئینی خلاف ورزی نہیں ہوئی،7 نومبر کی تاریخ گزرنے کے بعد آئین کی خلاف ورزی کی بات ہوگی،ہم کوشش کریں گے کہ آج ہی کیس مکمل کر لیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ اتنا چاہتے ہیں ناں کہ انتخابات ہوں تو باقی باتیں چھوڑ دیں،ماضی میں جائیں تو آئین اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوچکی ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ ہے کہ صدر انتخابات کی تاریخ دے سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ وہ کام ہم سے کرانا چاھتے ہیں جو ہمارا کام نہیں،یہ کام جن کا ہے وہ کریں،عابد زبیری نے کہا کہ یہ جو کام نہیں کررہے ہیں اس لئے تو ہم اپ کے پاس آئےہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب آپ صدر کے خلاف آرٹیکل 6 invoke کروانا چاہتےہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی ہوسکتی ہے،صرف اتنا بتا دیں کہ سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے،سپریم کورٹ کیسے انتخابات کی تاریخ بدل سکتی ہے یا 21 ارب دینے کا کیسے کہہ سکتی ہے،
    ہمیں دوسری طرف لیکر نہ جائیں،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات نہیں ہوئے اس لیے سپریم کورٹ نے احکامات دیئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی نے توہین عدالت کی درخواست کیوں نہیں دی،میرا سوال یہ ہے کہ انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے اور اس کی سزا کیا ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی اور کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ صدر کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کروانا چاہتے ہیں،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ جب آئین کی خلاف ورزی ہوگی تو سپریم کورٹ کوئی بھی فیصلہ دے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پنجاب انتخابات کیس کا ہمارے ساتھ لینا دینا ہی نہیں ہے،ہم دوسری درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آخری سماعت پر خود کہا تھا کہ صرف انتخابات کی بات تک محدود رہیں گے،ہمیں پتا ہے آپ چاہتے ہیں کہ یہ بینچ ٹوٹ جائے،آپ پہلے یہ بتائیں علی ظفر سے متفق ہیں یا نہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں اپنی استدعا پڑھوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں آپ کی استدعا سے نہیں آئین سے مطلب ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ چاہتے ہیں مزید آئین کی خلاف ورزی جاری رہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا، عابدی زبیری نے 14 مئی کے الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ فیصلہ کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ اس جھگڑے میں پڑے ہیں تو پھر بتائیں اس کا کورٹ آرڈر کہاں ہے؟ آپ وہ آرڈر دکھا ہی نہیں سکتے کیونکہ اس کا باضابطہ آرڈر موجود نہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دے رہا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب ہم نے نہیں کہا تھا کہ 90 دن میں الیکشن آئین کے تحت ضروری نہیں ہیں،

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نائیک صاحب آپ سینئر وکیل ہے آپ پیچھے جاکر بیٹھ گئے آپ کو تو آگے آنا چاہیے تھا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق لازمی ہونے چاہئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت معاملہ الیکشن کا ہے۔یہ کام کمیشن کا ہے اگر وہ نہیں کراتا تو پھر شاید یہ معاملہ ہمارے پاس آئے، کیا آپ علی ظفر کے ساتھ متفق ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں علی ظفر سے متفق نہیں ہوں،تاریخ دینے کی زمہ داری صدر کی ہے کمیشن اس کا شیڈول دے گا، پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ انتخابات آئین کے مطابق وقت ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل میں پیپلز پارٹی نے مردم شماری کی مخالفت کی؟ پیپلز پارٹی نے مخالفت نہیں کی، فاروق نائیک نائیک صاحب چھوڑ دیں آپ کی جماعت سمیت سب ذمہ دار ہیں، پیپلزپارٹی سمیت تمام لوگ انتخابات میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں،

    وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری کو عام انتخابات کراسکتا ہے۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی،الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے سپریم کورٹ میں عام انتخابات کی تاریخ دیدی وکیل نے کہا کہ چار فروری کو پہلا اتوار ہے اور دوسرا اتوار گیارہ فروری کو ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت اس سارے عمل میں آن بورڈ ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر سے مشاورت نہیں کی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سو چ سمجھ کر سوالوں کے جواب دیں، آپ کا ادارہ ایک آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن آج ہی صدر مملکت سے مشاورت کرے، الیکشن کمیشن آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، آئین میں واضح ہے کہ انتخابات کی تاریخ صدر دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ابھی جا کر صدر مملکت سے مشاورت کر سکتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندی کے بعد 54 دن کا انتخابی شیڈول ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا صدر پاکستان کو تاریخ سے آگاہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق صدر کو بتانےکے پابند نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ آئین کی خلاف ورزی کی ذمہ داری لے رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن ابھی جا کر صدر سے کیوں نہیں ملاقات کرتا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہدایات لیکر بتا سکتا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی جائیں اور پتا کرکے بتائیں، وہ اتنے بڑے ہیں کہ عدالت نہیں آ سکتے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا صدر کو جواب بظاہر آئین کیخلاف ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کسی خط و کتابت میں نہیں جائے گی،

    الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول سے متعلق سپریم کورٹ کا آگاہ کر دیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 29 جنوری کو حلقہ بندیوں سمیت تمام انتظامات مکمل ہو جائیں گے،11 فروی کو ملک بھر میں انتخابات ہوں گے، 3 سے 5 دن حتمی فہرستوں میں لگیں گے،5 دسمبر کو حتمی فہرستیں مکمل ہو جائیں گی، 5 دسمبر سے 54 دن گنیں تو 29 جنوری بنتی ہے،انتخابات میں عوام کی آسانی کیلئے اتوار ڈھونڈ رہے تھے،4 فروی کو پہلا اتوار بنتا ہے جبکہ دوسرا اتوار 11 فروری کر بنتا ہے،ہم نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا کہ 11 فروری والے اتوار کو الیکشن کروائے جائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم جواب کا انتظار کر لیتے ہیں۔صدر مملکت بھی پاکستانی ہے۔صدت مملکت اور الیکشن کمیشن آپس میں بات کریں۔کسی کو اعتراض ہے اگر الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے۔وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مرتبہ تاریخ آ جائے۔ حلقہ بندیوں کا عمل بھی ہے ، انتخابات کب ہونا ہے یہ آئینی کھلاڑیوں نے فیصلہ کرنا ہے ، ہم چاہتے ہیں انتخابات ہو جائیں، ہم اہک تنازعہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر صدر کیساتھ لازمی ملاقات کرے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کاروائی میں پھر وقفہ کر دیتے ہیں۔سب کو انتخابات چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کہ ادارے ترقی کریں،پارلیمنٹ اپنا کام کرے۔صدر مملکت اپنا کام کرے۔الیکشن کمیشن اپنا کام کرے۔ ہم بھی سوچ لیتے ہیں کیا کریں۔ آرڈر جاری کریں یا نہ کریں۔ہم کسی کا کردار نہیں لینگے،ہم چاہتے ہیں جس کی ذمہ داری ہے وہ پوری کریں۔ ہر کسی کو اپنا کام خود کرنا ہوگا ہم دوسروں کا کام نہیں کرینگے۔ ہو سکتا ہے صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی آج ملاقات ہو جائے۔ ہر ملک کو آگے جانا ہوتا ہے مہذب معاشروں میں بات چیت سے فیصلہ ہوتے ہیں

    سپریمُ کورٹ کا حکم ، الیکشن کمیشن میں مشاورت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر کی قانونی ٹیم اور الیکشن کمیشن حکام سے مشاورت ہوئی، سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غورکیا گیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیاہے کہ صدرمملکت سے مشاورت کی جائیگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ اس سارے عمل میں شامل رہیں ،اس سارے عمل میں کوئی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوگا،آپ اس کو کیسے کرینگے؟ہم اس کیس کو ختم کرنا چاہتےہیں۔ آپ آج مشاورت کرلیں، وکیل نے کہا کہ سر ہم چیک کرتے ہیں کہ صدر کی کیا مصروفیات ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ الیکشن کمشین کے مطابق 30 نومبر کو حلقہ بندی کا عمل مکمل ہوگا، پانچ دسمبر کو حلقہ بندیوں کے نتائج شائع ہونگے، الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندی شائع ہونے کے بعد انتخابی پروگرام جاری ہوگا،
    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی پروگرام 30 جنوری کو مکمل ہوگا،الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات اتوار کے دن ہوں، انتخابی پروگرام کے بعد پہلا اتوار چار فروری بنتا ہے، عوام کی شرکت کیلئے الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات 11 فروری کو ہونگے، الیکشن کمیشن آج صدر سے ملاقات کرکے انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے،صدر اور الیکشن کمیشن کے درمیان جو بھی طے ہو عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، تحریر پر صدر اور الیکشن کمیشن کے دستخط ہونا لازمی ہیں، الیکشن کمشنر اپنے ممبران سے خود مشاورت کرے، آج کے عدالتی حکم پر ابھی دستخط کرینگے،عدالتی حکم کی تصدیق شدہ نقول صدر، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اپنا پروگرام عوام میں لیکر جائیں جسے پسند آئے گا ووٹ دیدیں گے، اعلان کے بعد کوئی درخواست نہیں سنی جائے گی ،انتخابات کی تاریخ پر سب کے دستخط ہوں ۔ فاروق نائیک اور اٹارنی جنرل بھی صدر سے ملنے جاسکتے ہیں

  • انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے، انضمام کہے کہ جو میں نے اسکی کمپنی نکالی وہ غلط ہے،دیکھیں پاکستان کرکٹ بورڈ میں تباہ کن کرپشن ہوئی، تین طریقوں کی کرپشن ہوئی، منیجمنٹ الگ کرپشن کر رہی ہے، کرپشن کے کئی طریقے ہوتے ہیں، سی او وہ ایک ایک مہینے کے لئے ٹور پر چلا جاتا ہے اور ٹی اے ڈی اے لے رہا ہے تو وہ بھی ایک کرپشن ہے کنٹریکٹ، ٹی وی رائٹس میں بھی کرپشن ہوئی، دوسری لیول کی کرپشن کھلاڑی کر رہے ہیں،تیسری ان کے اپنے کچھ مل کر کر رہے ہیں، سٹیڈیم کے اندر اور باہر، پی ایس ایل کے اندر جو یہ کر رہے ہیں وہ بھی غلط ہے،چڑیل عجیب سی تھیوریز دے رہی ہے، وہ کہتی ہے کہ اوپر سارے پیسےکھاتے ہیں، ایشیا کپ پاکستان نے سری لنکا کے کہنے پر کروایا؟ کس کے کہنے پر، انڈیا میں کون ہے جس کو خوش کیا گیا،اسکا ٹکٹ بھی ڈالر میں رکھا گیا، سری لنکا تو دیوالیہ پن سے ابھی نکل رہی ،کیا عام عوام روز ڈالر میں ٹکٹ خرید کرسٹیڈیم بھرے گی؟ انڈیا میں کس کس کو خوش کر نے کے لئے یہ کیا گیا، میں سمجھتا ہوں ملک مفاد میں غبن کر رہے ہیں تو ذاتی مفاد پر کام کر رہے ہیں، اب جو کمیٹی بنی وہ بھی بیکار ہے، یہ پی سی بی کی انٹرنل ہے،یہ کیا کرے گی، اس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی ہونی چاہئے.تا کہ لوگوں کو پتہ چلے جن کے لئے ہم دعائیں کرتے ہیں وہ کتنے بڑےمجرم ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ سیاسی ہماری چھری کے نیچے آ جاتے ہیں، باقی ہمیں لفٹ نہیں کرواتے، بیورو کریٹ ہمارے شو میں نہیں آتے، ریٹائرڈ ججز نہیں آئیں گے، جو آئیں گے وہ صرف تجزیہ دیں گے، خود میڈیا مالکان بھی نہیں آئیں گے، وہ بڑ ے آرام سے کامیڈی شو بنواتے ہیں، ہر ایک کے پتلے بنواتے ہیں، ڈمی بنواتے ہیں ،ذرا میڈیا مالکان کا پتلا بنوائیں پھر پتہ چلے کہ واقعی مذاق ہے، یہ عجیب کلیمز ہیں.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے جملے، نواز شریف کو وزیراعظم نہیں بننے دوںگا، اس پر تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے، میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پی پی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہو سکتا ہے اب ہو سکتا ہے یہ الیکشن سے قبل ہو جائے، مولانا فضل الرحمان سے پی ٹی آئی وفد کی ملاقات ہوئی،پی ٹی آئی والے کے پی میں بھی اتحاد چاہتے ہیں، نواز شریف چار سال بعد واپس آئے،حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف سے کسی کو ہمدردی نہیں ہے، نواز شریف نے جو تقریر کی آ کر وہ کافی بیک فائر ہوئی ہے جس میں انہوں نے والدہ، بیگم کی موت کا تذکرہ کیا، افسوس ہے، اللہ رحم کرے،انہوں نے ہیلی کاپٹر میں شہباز شریف کے ساتھ آئے اور سٹیج پر گلے مل مل کر روہے ہیں، ایسے ملے جیسے پتہ نہیں کیا ہو گیا، میاں صاحب کا امیج کافی ہرٹ ہوا ہے، اگر پہلے اچھا تھا تو اب کم اچھا ہے، اب نواز شریف کی ان پاپولیرٹی کا لیول بے انتہا شوٹ کر گیا ہے، اسکے بعد عدالتوں نے جس طرح انصاف دینا شروع کیا، لندن میں ہائی کمیشن نے پروٹوکول دیا، ایئر پورٹ پر سلامیاں، عدالت جاتے ہیں تو نیب پہلے سے پہنچ جاتا ہے جس کو عدالت نے بلایا ہی نہیں ہوتا،یہ جس آسانی سے کام ہو رہے ہیں یہ میاں صاحب کی مقبولیت کو مزید کم کر رہے ہیں اور لوگ ہر طرف ڈیل کی باتیں‌کر رہے ہیں،

    مولانا یوسف جمیل کا ویڈیو پیغام آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عاصم جمیل نے خود کشی ہی کی ہے