Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کیا بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی مسلمان تھیں؟

    کیا بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی مسلمان تھیں؟

    آج 31 اکتوبر 2023 اور وقت بھی قریب صبح کے نو بجے ہے لیکن آج ہم آپ کو اکتوبر 31، 1984 کی صبح قریب 9 بجے کے وقت آج سے ٹھیک 39 سال پہلے کا بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ جس میں بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی کو انہی کے پراعتماد محافظ نے قتل کردیا جس پر انہیں بے انتہاء اعتماد تھا ۔ یہ کہنا ہے صحافی ملک رمضان اسرا کا جنہوں نے اپنے یوٹیوب ولاگ میں مزید کہا کہ سورج ابھر چکا تھا اور پرندے اڑان بھر چکے تھے لیکن اندرا گاندھی کو کیا پتا تھا کہ آج کے اس بدقسمت دن ان کی روح بھی پروا ز کرجائے گی؟
    https://www.youtube.com/watch?v=rCv98DXPL00&t=283s
    ملک رمضان اسراٰ مزید کہتے ہیں کہ "ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی ون صفدر یارجنگ روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ کے گیٹ سے باہر نکلتی ہیں اور پاس ہی موجود اپنے دفتر کی طرف جارہی ہوتی ہیں اس دوران وہ اپنے سیکرٹری آر کے دھاون سے باتیں کررہی ہوتی ہیں کہ ان کی نظر اچانک چائے کی ٹرے اٹھائے ایک ملازم پر پڑتی ہے جو آئے ہوئے مہمانوں کے لیے چائے لے جا رہا تھا۔ تاہم اندرا گاندھی انہیں مہمان کے لیے اسے کوئی خوبصورت ٹرے لانے کو کہا اور آگے بڑھ گئی تاہم وہ جیسے ہی گیٹ کے نزدیک گئی تو ان کے پراعتماد سکھ محافظ بینت سنگھ تیزی سے ان کی طرف لپکے اور اپنی پستول نکال کر اس کا رخ سیدھا اندرا کی طرف کرکے گولیاں چلا دی جبکہ اس دوران انہوں نے دوسرے سکھ محافظ ساتھی کو بھی آواز دی جس کا نام ستونت سنگھ تھا ن انہوں نے زمین پر گری ہوئی اندرا گاندھی پر اپنی سٹین گن کی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

    جبکہ اس کے بعد بینت سنگھ پنجابی میں چلایا کہ؛ اسی جو کجھ کرنڑا سی کرلیا ہنڑ تسی جو کرنڑے کرلو اور اپنے ہاترھ اوپر اٹھا لئے، اور ہتھیار پھینک کر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس موقع بدقسمتی سے بھارتی وزیر اعظم کیلئے موجود ایمبولینس تو موقع پر موجود تھیں مگر ان کا ڈرائیور پراسرار طور غائب تھا، لیکن آر کے دھاون نے گھائل اندرا گاندھی کو ایک کار میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا۔ آپریشن تھیٹر میں پہنچنے سے قبل ہی وہ دم توڑ چکی تھیں۔ شام چار بجے کے سرکاری اعلان میں ان کی موت کی تصدیق سے قبل ساری دنیا میں میڈیا کے ذریعے ان کی موت کی خبر پہنچ چکی تھی۔ وہ قتل ہونے والی صبح کی گزشتہ رات اڑیسہ کے دورے سے واپس آئی تھیں ۔ اور انہوں اس صبح نامور اداکار پیٹرا سٹینوف کے ساتھ عوامی دربار میں لوگوں سے ملاقات کی فلم بندی کروانی تھی اور انہیں انٹرویو دینا تھا۔

    اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا کہ آخر اندرا گاندھی کو اپنی ہی سکھ محافظوں نے قتل کیوں کردیا؟

    تو اس جواب یہ ہے کہ انتہا پسند سکھوں کے ہاتھوں اندرا گاندھی کی موت دراصل ان کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل پر کیے جانے والے فوجی آپریشن ’بلیو سٹار‘ کا انتقام لینا تھا۔ نامور ہندوستانی صحافی کلدیپ نایر کے مطابقاس قتل سے قبل سیکیورٹی اداروں نے ان کے سکھ محافظوں کو تبدیل کرنا چاہا مگر اندرا گاندھی انہیں برقرار رکھنا چاہتی تھیں اور ان کا پر اعتماد بھی جبکہ دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتی تھیں کہ اس طرح محافظوں کو ہٹانے سے سکھ برادری پر برا تاثر جائے گا اور سمجھا جائے گا پوری کمیونٹی سے نفرت کی جارہی ہے۔ جبکہ ان سکھ محافظوں کا تعلق موجودہ خالستان موومنٹ سے تھا جو خالستان تحریک چلا رہے ہیں آزادی خالستان کیلئے۔

    اب آتے ہیں اندرا گاندھی کی ذاتی زندگی کی طرف اور آپ کو بتاتے ہیں کہ کیا اندرا گاندھی نے ایک مسلمان سے شادی کی تھی اور کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا؟

    معروف سوئڈش صحافی برٹل فوک اپنی کتاب ’فیروز خان ۔دی فارگٹن گاندھی‘ میں لکھتے ہیں کہ کمالہ جو اندرا گاندھی کی ماں تھیں نے اپنے خاوند اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے ٹی بی کے باعث اپنی موت سے قبل کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی اندرا گاندھی کے مستقبل کے بارے میں کافی فکرمند ہیں اور اس حق میں بھی قطعی نہیں ہیں کہ وہ فیروز خان سے شادی کرے کیونکہ وہ اسے اپنی بیٹی کے لائق نہیں سمجھتی تھیں۔

    اندرا گاندھی کی ماتا کمالہ کا 1936 میں دہانت ہوگیا، مگر تب تک فیروز خان اور اندرا کی زندگی کافی آگے بڑھ چکی تھی۔ ادھر جواہر لال نہرو کو ان دونوں کے معاشقے کا پہلے سے علم تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ اس بات کی نوبت شادی تک بھی پہنچے گی۔ بعد ازاں دونوں نے لندن کی ایک مسجد میں جا کر شادی کرلی اور اندرا نے اپنا اسلامی نام میمونہ بیگم رکھ لیا تھا۔ لیکن نہرو خاندان کے لیے اندرا کا غیر ہندو سے شادی پر اصرار کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے قبل نہرو کی بہن وجیہ لکشمی پنڈت کی ایک مسلمان کے ساتھ شادی نے بھی طوفان برپا کیا تھا۔ وہ اپنے والد کے اخبار انڈیپنڈنٹ کے ایڈیٹر سید حسین کے دام الفت میں گرفتار ہو گئی تھیں۔ دونوں نے نہرو خاندان کے علم میں لائے بغیر نہ صرف شادی کر لی بلکہ لکشمی نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔

    تاہم جب جواہر لال نہرو کو اس شادی کا پتہ چلا تو وہ کافی پریشان ہوگئے کیونکہ نہرو کو فیروز خان پر نہیں بلکہ ان کے مذہب پر اعتراض تھا۔ لیکن اندرا نے بالآخر اپنے باپ کو منا لیا اور بعد میں انہوں نے فیروز خان کے ساتھ ہندوستان آکر 26 مارچ 1942 کو اپنی شادی ہندو طریقے سے کر لی جو اصل میں ہندو انتہاء پسندوں اور سیاست میں کسی قسم کی کنٹرورسی سے بچنا تھا۔ فیروز خان کا خاندانی نام فیروز خان گھندے تھا اور وہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں مہاتما گاندھی کے کردار سے بہت متاثر تھے اور انہیں اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔گاندھی بھی ان کی بہت قدر کرتے تھے۔

    ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر مجھے فیروز خان کی طرح کے سات افراد مل جائیں تو ہندوستان سات روز میں آزاد ہو جائے۔ فیروز خان جو پہلے اپنا خاندانی نام گندھے استعمال کرتے تھے، انہوں نے محبت میں گاندھے کو گاندھی سے بدل دیا۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ نہرو نے ان کی مذہبی شناخت کو چھپانے کے لیے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ لفظ گاندھی لکھیں۔ اس طرح شادی کے بعد اندرا کے نام کے ساتھ بھی لفظ گاندھی آ گیا۔ یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ اندرا کے نام کے لاحقے ’گاندھی‘ سے عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے موہن کرم چند گاندھی سے عقیدت کی وجہ سے اسے اپنے نام کا حصہ بنایا مگر حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ اس کی نسبت اندرا کے شوہر فیروز گاندھے کی وجہ تھی جو خود بھی بعد میں فروز گاندھی بن گئے۔

    کتاب پرسنز ، پیشنز اینڈ پالیٹکس‘ کے مصنف یونس خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سنجے جو اندرا کے بیٹے ہیں کے ختنے ہوئے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ ایک مسلم روایات کا خاصا ہے۔
    شادی کے بعد فیروز خان، جواہر لال نہرو کے اخبار ’دی نیشنل ہیرالڈ‘ کے ایم ڈی بن گئے۔آزادی کے بعد 1950 سے 1952 کے درمیان وہ صوبائی اسمبلی کے رکن نامزد ہوئے۔ 1952 میں جب بھارت میں پہلے عام انتخابات ہوئے تو وہ رائے بریلی اتر پردیش سے لوک سبھا کے ممبر بھی منتخب ہو گئے۔

    اس الیکشن مہم میں اندرا گاندھی نے خصوصی طور پر دہلی سے جاکر ان کی الیکشن مہم میں حصہ لیا تھا۔ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اور معروف بینکر رام کشن ڈالمیا کا پردہ چاک کیا تھا جبکہ 1957 میں جب وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو انہوں نے حکومتی انشورنس کمپنی میں مالی بے ضابطگیوں پر آواز اٹھائی جس کی وجہ سے نہرو حکومت کی شفافیت نہ صرف سوالیہ نشان بن گئی بلکہ ان کے وزیر خزانہ کو مستعفی بھی ہونا پڑا۔ اب اس کے بعد یہیں سے ان کی اور نہرو خاندان کے چپقلش کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔

    1958 میں فیروز خان کو دل کو دورہ پڑا۔ اندرا گاندھی اس وقت اپنے والد کے ساتھ وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام پذیر تھیں۔لیکن انہیں جب فیروز خان کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنے والد کے ساتھ بھوٹان کے دورے پر تھیں، وہ وہاں سے واپس آئیں اور فیروز خان کو لے کر کشمیر چلی گئیں تاہم 1960 میں انہیں دل کا دورا پڑا اور وہ دہلی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

    فروز خان گاندھے یا گاندھی کی وفات کے چھ سال بعد اندرا بھارت کی وزیراعظم بن گئیں۔ رائے بریلی کی وہ سیٹ جس سے وہ الیکشن لڑا کرتے تھے، بعد میں اسی حلقے سے راجیو گاندھی کی بیوی اور ان کی بہو سونیا گاندھی نے الیکشن لڑنا شروع کردیا۔ فیروز خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ان کی شادی اندرا سے نہ بھی ہوتی اور زندگی ان کے ساتھ وفا کرتی تو وہ بھارت کے صدر یا وزیراعظم بنتے کیونکہ ان کی صلاحیتوں سے خود نہرو بھی خائف رہتے تھے۔

    ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک کے دنوں میں جب دونوں کی شادی کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اگست 1942 میں انہیں گرفتار کرکے ایک سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے دو بیٹے راجیو اور سنجے 1944 اور 1946 میں پیدا ہوئے۔معروف بھارتی سکالر کے این راؤ اپنی کتاب ’دی نہرو ڈائنسٹی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’راجیو گاندھی کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد اندرا گاندھی کے اپنے شوہر فیروز خان سے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور دونوں الگ الگ رہنے لگے لیکن باقاعدہ طلاق بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران اندرا حاملہ ہوئی اور سنجے پیدا ہوا گیا.

    این کے راؤ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ سنجے گاندھی فیروز خان کا بیٹا نہیں تھا بلکہ ایک اور مسلمان یونس خان کا بیٹا تھا، جو پیشے کے لحاظ سے سفارت کار تھے اور انہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ ناجائز تعلقات پیدا کرلیے تھے۔ بعد میں وہ اندرا گاندھی کے مشیر بھی رہے۔ این کے راؤ: مزید لکھتے ہیں کہ اندرا گاندھی اپنے باپ نہرو کی طرح دل پھینک عاشقہ تھیں۔ فیروز خان سے اگرچہ انہوں نے اپنی پسند کی شادی کی تھی اور وہ لندن میں فیروز خان کے ساتھ گزرے اپنے ایام کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتی تھیں لیکن اپنی ذات میں جابرانہ مزاج کی وجہ سے ان کی کسی سے بن نہیں پاتی تھی۔ لہذا فیروز خان نے جب دیکھا کہ ان کی حیثیت ایک نوکر جیسی ہے جبکہ ہندو دھرم میں خاوند کو دیوتا جیسا رتبہ حاصل ہوتا ہے تو وہ خود ہی الگ ہوگئے۔

  • غیر قانونی طور پر بسنے والے افراد کو31 اکتوبر تک پاکستان سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن

    غیر قانونی طور پر بسنے والے افراد کو31 اکتوبر تک پاکستان سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن

    نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر بسنے والے افراد کو31 اکتوبر تک پاکستان سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے ، انخلاءکا معاملہ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف ہے، کسی مخصوص گروہ کے خلاف نہیں، غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو قریبی بارڈر تک پہنچایا جائے گا،وہ پاکستانی جنہوں نے غیر قانونی مقیم افراد کو گھر کرایہ پر دے رکھے ہیں، وہ بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں،ایسے افراد کے لئے موقع ہے کہ وہ غیر قانونی مقیم افراد کے بارے میں اطلاع فراہم کریں ۔ وہ پیر کو نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی ، نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم ، وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ اورنمائندہ وزارت صحت کے ہمراہ پی آئی ڈی میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ د ے رہے تھے ۔

    نگران وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہم نے غیر ملکیوں کو ملک سے نکلنے کے لئے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی تھی ۔ اس دوران رضا کارانہ طور پر اپنے ملک واپس جانے والوں کو ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کی گئی ۔ اب چند گھنٹے باقی ہیں جو مقررہ وقت تک پاکستان نہیں چھوڑے گا اور اس کے پاس کارآمد ویزہ اور پاسپورٹ نہیں ہوگا اسے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تعداد میں افغانستان کے لوگ ہیں اور ہم 40 برس سے ان کی میزبانی کر رہے ہیں ، یہ تاثر غلط ہے کہ صرف افغانستان کے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انخلاءکے دوران خواتین اور بزرگوں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے، بچوں کے ساتھ شفقت والا سلوک کیا جا رہا ہے، تقریباً دو لاکھ کے قریب غیر قانونی افراد دو ماہ کے دوران واپس گئے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ غیر قانونی مقیم افراد واپس اپنے ملکوں کو جائیں، قانونی دستاویزات حاصل کر کے واپس آ سکتے ہیں،ویزا لے کر یہاں آ کر کاروبار کر سکتے ہیں، دوستوں سے مل سکتے ہیں۔نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے وفاقی ہسپتالوں کی سربراہی سے متعلق وائرل چٹھی سے متعلق ایک سوال کےجواب میں بتایا کہ ہم قانون کے مطابق سب کچھ کر رہے ہیں، بھرتیوں کا عمل شفافیت کے ساتھ مکمل ہوگا ۔ جہاں قانون اور میرٹ کی خلاف ورزی ہو میڈیا اسکو اجاگر کر سکتا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ گریڈ 1 تا 21 قانون کے مطابق عوامی ضروریات کے مطابق کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قلیل عرصہ ملا ہے ،د و مہینوں میں ہم اصلاحات لیکر آئے ہیں، ایم آر آئی مشین کئی ماہ سے خراب تھے اور ہم نے چند دنوں میں ایم آر آئی مشین فراہم کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر پر بھی ہم نے کام شروع کر دیا ہے ، بی ایچ یوز جو سیلاب یا کسی آفت میں تباہ ہوئے ان کی بحالی ڈبلیو ایچ او کی مدد سے کرنے جارہے ہیں ، جلد وزیراعظم اس منصوبے کا افتتاح کریں گے ۔وزارت مذہبی امور کے نمائندے نے بتایا کہ سیکرٹری کا کرنٹ چارج ایڈیشنل سیکرٹری کو سونپ دیا ہے ،550 ملین روپے پی آئی اے کو آج ہی ادا ہوجائیں گے ۔

    حج پالیسی 2024 کو جب سب کمیٹی کلیئر کرے گی تب نافذالعمل ہوگی ، سرکاری سکیم میں 25 ہزار اور پرائیویٹ سکیم میں 44 ہزار عازمین جاسکیں گے ، اگر کوئی بیرون ملک میں ہے تو وہ ڈالرز میں ادائیگی کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حج پالیسی پر دو سوالات اٹھے تھے جو کمیٹی کو ریفر کر دیئے گئے ہیں ۔

    ایک سوال کے جواب میں نگران وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ نے کہا کہ افغانستان میں سب سے زیادہ موسیقار ہیں ،اگر وہ قانونی طریقے سے آتے ہیں تو انھیں سہولت فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مجاہدین اور طالبان نے بے شمار فنکاروں کو بے دردی سے قتل کیا ، اب بھی افغانستان میں وہ نہیں رہ سکتے ۔ پاکستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے طبقات کا خیال رکھے ۔

  • ایک ساتھ دو جنازے اٹھ گئے

    ایک ساتھ دو جنازے اٹھ گئے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میڈیا کی اصلیت بتانا چاہتا ہوں، لیکن سب سے پہلے دیکھیں کہ مولانا طارق جمیل ہمارے بڑے شفیق دوست، مہربان ہیں، دیندار ہیں، انکے بیٹے کی جنازیں کی خبریں عام ہیں، اسکے ساتھ ساتھ ایک اور جنازہ بھی نکلا ہے وہ ہے میڈیا کی اخلاقیات کا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس نے زندگی کا مزہ چکھا اسکو موت آنی ہے، یہ ہر مسلمان کا ایمان ہے، کل شام مجھے افسوسناک خبر ملی کہ مولانا کے‌صاحبزادے عاصم جمیل وفات پا گئے، جیسے ہی خبر آئی پورا نیشنل میڈیا، پورا سوشل میڈیا سب اسکے پیچھے لگ گئے، بغیر کسی تحقیق کے ایسی ایسی باتیں کی گئیں، جس کی شاید مثال نہ ملے،پاکستان میں عموما ایسے ہوتا ہے کہ فضول خبریں پہلے گردش کررہی ہوتی ہیں پھر اگر مولانا طارق جمیل کے بارے میں خبر آئی تو جو ماضی میں آ چکی ہیں کہ مولانا کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے آ گئے، میں نے مولانا کا انٹرویو کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اولاد سے بڑا دکھ کوئی اور نہیں ہو سکتا، یہ انسان کی کمر توڑ دیتا ہے، انسان کو حواس باختہ کر دیتا ہے، اسکی ساری زندگی کی خواہشات اولاد کی وجہ سے ہوتی ہیں، ایک دم سے ایسی ناگہانی خبر ملے تو ..کل جو خبریں آئیں پہلے کہا گیا کہ مولانا طارق جمیل کی ذاتی دشمنی تھی، پھر کہا گیا نامعلوم افراد آئے اور فائرنگ کی، گاڑی میں ہی عاصم جمیل انتقال کر گئے، یہ سب ٹی وی اور سوشل میڈیا پر رپورٹ ہو رہا ہے، پھر خبر آئی کہ مرحوم نے جان خود لی، کسی نے کہا کہ مولانا کے خاندان کا آپس میں تنازعہ تھا کسی نے کہا کہ عاصم اپنا کاروبار کرنا چاہ رہے تھے وہ نہیں کرنے دیا گیا، جس کے دل میں جو آیا اس نے اتنا ہی زہر اگلا، حقیقت کسی نے نہیں بتائی، بات یہاں تک پہنچ گئی کہ اتنے دکھ اور کرب کے وقت بھی بھائی کو میڈیا پر ویڈیو بیان دینا پڑا، اللہ نے اسکو کتنا حوصلہ دیا، انہوں نے واضح کیا کہ عاصم جمیل نفسیاتی مسائل کا شکار تھے، حالات یہاں تک پہنچ گئے تھے کہ انکو الیکٹرک شاٹ دیئے جا رہے تھے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پھر نئی بحث شروع ہوئی، فضول بحث سوشل میڈیا پر خاندان کو اذیت دے رہی ہے، ناگہانی تکلیف کوئی کم ہے کہ ہم اوپر سے خود سے نشتر چلائی جائیں، اس سے انکے درد، تکلیف میں اضافہ ہو گا، لوگوں کی تکلیف میں مرہم نہیں لگا سکتے تو جلتی پر تیل کا کام نہ کریں،

    مولانا یوسف جمیل کا ویڈیو پیغام آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عاصم جمیل نے خود کشی ہی کی ہے

  • انضمام الحق نے استعفیٰ دے دیا

    انضمام الحق نے استعفیٰ دے دیا

    قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے استعفیٰ دے دیا ہے، انھوں نے اپنا استعفیٰ چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکا اشرف کو ارسال کر دیا۔ انضمام الحق چئیرمین پی سی بی سے ملنے آئے تھے لیکن ملاقات نہ ہو سکی

    انضمام الحق کا کہنا تھا کہ بورڈ سے کال آئی ہم نے پانچ لوگوں کی کمیٹی بنادی ہے ، میں نے کہا ٹھیک ہے پہلے کمیٹی تحقیقات کرلے ، میں یہ سمجھتا ہوں سلیکٹر کا عہدہ جج والا ہوتا ہے ،ٹیم سلیکٹ کرتا ہوں اگر کوئی سوال اٹھے گا تو بہتر ہے سائیڈ پر ہوجاوں ،تحقیقات کے بعد پی سی بی سے بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہوں ، بغیر تحقیق کے باتیں کرنے سے تکلیف ہوتی ہے ،پی سی بی سے کہا ہے آپ اس معاملے کی تحقیقات کریں ،میرا پلیئر ز ایجنٹ کمپنی سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے ،

    واضح رہے کہ چیف سلیکٹر انضمام الحق پلیئرز ایجنٹ کی برطانوی کمپنی کے شیئر ہولڈرتھے،پی سی بی نے معاملے کا نوٹس لیا تھا،انضمام الحق ہی نے کھلاڑیوں سے مذاکرات کر کے انھیں تاریخ میں پہلی بار آئی سی سی کی آمدنی سے بھی شیئر دلایا جبکہ تنخواہوں میں بھی 202 فیصد تک اضافہ کرایا تھا،انضمام الحق ،محمد رضوان اور پلیئرز کے ایجنٹ ایک ہی کمپنی ’’یازو انٹرنیشنل لمیٹیڈ‘‘ کے مالکان میں بھی شامل ہیں،

    انضمام الحق رواں برس، سات اگست کو دوسری بار قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سیلکٹر تعینات ہوئے تھے،پی سی بی سینئر اور جونیئر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق پاکستان کرکٹ بورڈ سے ناخوش تھے اور پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے ہیڈ کوچ کی تقرری پر اختلافات پیدا ہو گئے تھے،

    انضمام الحق کیسے مال بنا رہے تھے؟ مبشر لقمان نے انکشاف کر دیا
    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف سیاستدان نہیں بکاؤ بلکہ جس کو ملک عزت دیتا ہے وہ سب بکاؤ ہے، کرکٹ ٹیم کیسی ہے؟ بڑا سادہ ہے، ساؤتھ افریقہ کے میچ میں کیا ہوا، ساؤتھ افریقہ کی ٹیم وہ ٹیم ہے جسکے ساتھ آخری وکٹ تک پھنسا کر بیٹھے تھے، حالانکہ اس کی پرفارمننس دیکھیں،کیسی ہے، اسکی وجہ کیا ہے، انضمام الحق اور بابر اعظم ان دونوں کی لالچ ، پیسے کی بھوک نہ ختم ہونے والی ہے، کہنے کو یہ لوگ اللہ والے ہیں حرکیتں دیکھیں تو ملک کو چھریاں مار رہے ہیں، آج میرے پاس ثبوت ہیں ورلڈ‌کپ سے کچھ عرصہ پہلے انضمام، بابر، رضوان نے کس طرح پی سی بی کو بلیک میل کیا، سنٹرل کنٹریکٹ میں انکو چالیس لاکھ ہر کھلاڑی کو مل رہا ہے، انضمام الحق نے یو کے میں کمپنی بنائی اور اس کمپنی کی تفصیل موجود ہے، اسکا رجسٹرڈ ایڈریس بھی ہمارے پاس ہے، اسکا کنٹری ریجن یونائیٹڈ کنگڈم دیا گیا ہے، تین مین پارٹنر انضمام، محمد رضوان، اور طلحہ رحمانی ہیں، اسکے سیکرٹری انضمام کے بھائی انتصار الحق ہے، کمپنی یازو انٹرنیٹشنل سپورٹس منیجمنٹ کا کام کرتی ہے.جو بھی کھلاڑی اس کمپنی کے ساتھ ہے اسکو کنٹریکٹ ملیں گے،ایک ایوریج ایڈورٹائزمنٹ کا کنٹریکٹ 25 سے 30کروڑ کا ہے، کم سے کم تین لاکھ ڈالر کا ہے، یازو انٹرنیشنل سارے کھلاڑیوں سے اسکا کمیشن لیتی ہے 30 فیصد،انکو گارنٹی یہ دی جاتی ہے کہ یہ پلیئر ٹیم میں کھیلے گا، کیونکہ چیف سیلکٹر انضمام ہے اور کپتان بابر اعظم جب یہ دونوں ڈیل کریں گے تو اسی طرح ہو گا، عماد نے انکار کیا ، کمپنی کے ساتھ سائن نہیں کئے تو وہ ٹیم سے آؤٹ ہو گیا،انہوں نے طے کر لیا تھا ٹیم میں وہی کھیلے گا جو کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ کرے گا،

    ایک اور وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انضمام الحق، بابر اعظم، رضوان یہ پاکستانی ٹیم کو تباہ کرنے میں شامل ہیں، انکی لالچ کتنی ہے سیاستدانوں کی کرپشن کو بھول جائیں گے جب انکا پتہ چلے گا، انضمام الحق نے اصل گیم کیا کی، ورلڈ کپ میں شکست ہارنے کے دو لوگ انضمام اور بابر مجرم ہیں، کھیل نے انکو عزت دی لیکن یہ اسکے حقدار نہیں ہیں. انضمام الحق نے یوکے میں کمپنی کھولی، رضوان بھی اسکا پارٹنر ہے، انضمام کا بھائی کمپنی سیکرٹری ہے، بابراعظم، شاداب، حسن علی نے کنٹریکٹ کیا، ان ساروں نے جب ایکا ہو گا تو انضمام نے چابی دی اور کہا کہ ہمارے پاس موقع ہے ہم ورلڈ کپ سے پہلے ارب پتی بن سکتے ہیں،

  • آڈیو لیکس کیس ، عدالت نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیدیا

    آڈیو لیکس کیس ، عدالت نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی، عدالت نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیدیا،

    عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاملہ وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ ایک ماہ میں اپنا تحریری جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائیں، دوران سماعت جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیئے کہ،یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے دفتروں اور چیمبروں میں ہماری گفتگو بھی ریکارڈ ہو رہی ہو، میں آپکو مناسب وقت دونگا مگر قانونی دائرہ کار متعلق جواب جمع کرایا جائے.

    اٹارنی جنرل نے آڈیو لیکس کیس کی سماعت ان کیمرہ کرنے کی استدعا کی، جس پرجسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا تحریری جواب جمع کرائیں پھر اسکو دیکھتے ہیں، یہ پاکستان کی تاریخ ہے ، بینظیر بھٹو کیس سے اب تک یہ چیزیں ریکارڈ پر ہیں .کیا آفسز میں یہ ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر اس سے بلیک میل کیا جاتا ہے ؟ آڈیوز پر جو کمیشن بنا اس کے ٹی او آرز میں یہ تھا ہی نہیں کہ یہ آڈیوز ریکارڈ کون کرتا ہے ،اگر ہمارے فون کی نگرانی کی جارہی ہے تو ہمیں پتہ ہونا چاہئیے کہ ایسا کون کررہا ہے؟ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کی فیملی کی آڈیو لیک ہوئی، آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ یہ کسی دشمن ایجنسی نے کیا ہے؟ ریاست پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر ایسا کرنا خوفناک فیصلہ ہے،آڈیو لیکس کے معاملے پر مقصد الزام تراشی نہیں بلکہ شھریوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ انکے حقوق کیا ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ خفیہ اداروں کے پاس نجی فون گفتگو،آڈیو ریکارڈ کرنے کے لامحدود اختیار نہیں اور اس حوالے سے انکی صلاحیت متعلق اِن کیمرہ بریفنگ دی جا سکتی ہے.

    دوران سماعت جسٹس بابر ستار اور اٹارنی جنرل کے درمیان ایک مکالمہ ہوا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن آڈیوز کا ذکر ہے ان کے حوالے سے ابھی تک کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں ، ابھی تک پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ حکومتی ایجنسی نے ریکارڈ کیں ہیں یا نہیں ؟ یہ چیز واضح ہو لینے دیں آڈیوز کس نے ریکارڈ کیں ہیں ،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ خفیہ اداروں کے روزانہ کے معاملات نہیں دیکھتا ، بے نظیر بھٹو (فون ٹیپنگ) کیس بھی ہماری تاریخ ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن خفیہ اداروں کے پاس یہ صلاحیت ہے اس سے متعلق ان کیمرہ کاروائی میں بتا سکتے ہیں ،

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • 24 ویں روز بھی اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری،ایک اور مسجد شہید

    24 ویں روز بھی اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری،ایک اور مسجد شہید

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا، اسرائیلی بمباری آج بھی جاری ہے، 24 دن گزر چکے ، اسرائیل نے غزہ کو کھنڈرات بنا دیا، عمارتیں ملیا میٹ ہو گئیں، مساجد شہید ہو گئیں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں پر بمباری کی گئی، ہر طرف لاشوں کے ڈھیر، زخمیوں کی آہ و بکا، قبرستان بھر گئے لیکن اسرائیل امریکی شہہ کی وجہ سے بمباری سے باز نہیں آ رہا.

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں ہزاروں اموات ہو چکی ہیں، بچے، خواتین بھی مر رہے ہیں،7 اکتوبر سے اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 8 ہزار، زخمیوں کی 20 ہزار تک جا پہنچی ہے، کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو چکی ہیں، بھوک کی وجہ سے خواتین، بچے نڈھال ہو چکے، تاہم اسرائیل بمباری روکنے کا نام نہیں لے رہا.گزشتہ روز اسرائیل نے دیر البلا کی مسجد بلال بن رباح بمباری کر کے شہید کر دی، مسجد کے ساتھ والے مکانات جہاں بے گھر افراد مقیم تھے وہ بھی ملیا میٹ ہو گئے،غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفاپر بھی بمباری کی گئی،

    حماس نے اسرائیلی فوج کا زمینی حملہ پسپا کر دیا
    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ٹینکوں کے ذریعے غزہ میں زمینی کاروائی کی ہے تاہم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج کا زمینی حملہ پسپا کر دیا ہے،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ شہر کے نواح میں پہنچ کر اہم راستے بند کر دیئے تھے،اسرائیلی فوج کے ٹینک صلاح الدین سٹریٹ تک جا پہنچے تھے ،اس مقام پر شدید جھڑپ ہوئی، ایک مقامی شہری نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی ٹینک ہر گزرنے والی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے،

    غزہ میں حماس رہنما کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک غزہ کے نواح سے جا چکے ہیں، حماس نے بھر پور جوابی کاروائی کی ہے،اسرائیل کو غزہ میں زمینی پیشرفت کے حوالے سے ابھی تک مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے،صلاح الدین سٹریٹ میں چند ٹینک پہنچے تھے جن کو بھگا دیا گیا ہے،اسوقت وہاں کوئی ٹینک موجود نہیں اور شہری آمدورفت معمول کے مطابق ہو رہی ہے،

    ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز کے مطابق اسپتال زخمیوں سے اور مردہ خانے لاشوں سے بھرے پڑے ہیں، شمالی غزہ کا علاقہ ملیا میٹ ہوچکا ہے،غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے ایک روز پہلے دنیا میں آنے والا بچہ بھی شہید ہوگیا ہے

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے 33 امدادی سامان کے ٹرک رفاہ کراسنگ سے غزہ میں داخل ہوئے ہیں،امدادی ٹرکوں میں پانی، خوراک اور ادویات اقوام متحدہ کی جانب سے پہنچائی گئی ہیں،اقوام متحدہ حکام کے مطابق 21 اکتوبر کے بعد یہ امدادی ٹرکوں کی سب سے بڑی کھیپ ہے جو آج داخل ہوئی، اس سےقبل 20 ٹرک غزہ پہنچے تھے،

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، اسرائیلی فوج غزہ کے عام شہریوں پر حملے کر رہی ہے، اسرائیل غزہ پر حملے فی الفور بند کرے .اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک،امداد پہنچائی جائے،

    فلسطینی اسلامی جہاد گروپ کے مسلح ونگ القدس بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں ان کے دو جنگجو شہید ہوگئے ہیں، اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگجو اتوار کی شام شمالی اسرائیل کے علاقے ہنیتا میں آپریشن کرتے ہوئے شہید کیے گئے ہیں۔

    امریکی نائب صدر کمالا حارث کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا اسرائیل یا محصور غزہ کی پٹی میں امریکی فوجی بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، سی بی ایس کو ایک انٹرویو دیتے کمالا حارث نے کہا کہ اسرائیل کو شہریوں کا تحفظ کرنا چائیے، کمالا حارث کا مزید کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اندازوں کے مطابق کم از کم 1,400 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں اور اسرائیل بغیر کسی سوال کے اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

    جینین میں حالات مزید کشیدہ،فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک چار افراد شہید اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ چھاپے کے نتیجے میں جینین پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات بھی ہیں، فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے کارروائی میں ڈرون کا استعمال کیا ہے۔

    غزہ حکومت کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 مساجد اور 7 گرجا گھر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ غزہ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 203 اسکول اور 80 سرکاری دفاتر کو بھی تباہ کیا گیا ہے، حکومتی دفتر کے ڈائریکٹر سلامہ معروف نے ٖغیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ "بڑے پیمانے پر اسرائیلی بمباری سے 220,000 مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور 32,000 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں ہیں، اس سے قبل غزہ میں حکومت کے میڈیا آفس نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی فوج نے ایک آرتھوڈوکس ثقافتی مرکز اور ایک اسکول پر بمباری کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں 1500 سے زیادہ بے گھر لوگ پناہ لے رہے ہیں۔

    غزہ میں پیدائش سے پہلے موت کے سرٹیفیکیٹ بٹنے لگے شہدا میں ایک دن کے بچوں کی بڑی تعداد شامل جن کا برتھ سرٹیفکیٹ تو نہ بن سکا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا ،سینکڑوں فرشتوں کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی جنت مل گئی جن کا بھی نام رکھنا تھا والدین انہیں بے نام دفنانے پر مجبور اسرائیلی بمباری سے غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 3400 سے تجاوز کر گئی اسپتالوں میں نو مولود بچوں اور ماں کی جان بچانے کے لیے وسائل ختم ہونے لگے ہزاروں معصوم زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • آواران،دو دہشت گرد جہنم واصل، دو زخمی

    آواران،دو دہشت گرد جہنم واصل، دو زخمی

    بلوچستان کے علاقے آواران میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آواران میں سیکورٹی فورسز کا دہشت گردوں سےٹکراؤ ہوا، فائرنگ کے مقابلے میں دو دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ دو زخمی بھی ہوئے، فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو جوان بھی شہید ہو گئے، نائب صوبیدار آصف عرفان اور سپاہی عرفان علی نے جام شہادت نوش کیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے. سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

  • یہودی لابی نے جس ایجنٹ عمران   کو پاکستان بھیجا اسے شکست دے دی. مولانا فضل الرحمان

    یہودی لابی نے جس ایجنٹ عمران کو پاکستان بھیجا اسے شکست دے دی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہودی لابی نے جس ( عمران خان ) ایجنٹ کو پاکستان بھیجا تھا اس کو شکست دے دی اب اسرائیل کو بھی شکست دیں گے اور فلسطین کی آزادی تک جنگ جاری رہےگی ، فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف جمعیت علمائے اسلام نے کوئٹہ میں طوفان اقصیٰ کانفرنس کا انعقاد کیا جس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، آزادی کی جنگ میں فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، جنگ میں برابر کے شریک ہونے کا اعلان کرتے ہیں، ہم اپنے مجاہدین کے ساتھ جنگ کیلئے تیار ہیں۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ دنیا میں آج واضح نظریاتی تقسیم ہے، جنہیں تم دہشت گرد کہتے ہو ہم انہیں مجاہدین کہتے ہیں، امریکا اب سپر پاور نہیں رہا، اپنے حکمرانوں سے کہتا ہوں امریکا کی غلامی چھوڑ دو، آج پھر بزدلی کا مظاہرہ کیا توعوام آپ کے مقابلےمیں کھڑے ہوں گے واضح رہے کہ سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ حکمران غیرت کا مظاہرہ کریں، یہودی لابی نے جس ایجنٹ کو پاکستان بھیجا اس کو شکست دے دی، اسرائیل کو بھی شکست دیں گے، آج وہ ایجنٹ مکافات عمل کا شکار ہے جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کھل کر اسرائیل کی حمایت کررہا ہے، ہمارے حکمرانوں میں ہمت ہی نہیں ہے، محلوں میں عیش و عشرت کرنے والےعوام کے نمائندے نہیں۔

    خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کیا دنیا کو فلسطین میں ہونے والے مظالم ںظر نہیں آرہے، ہم نے پاکستان کو بھی غلامی سے نکالنا ہے، ہم نے پاکستان انگریزوں کی غلامی کیلئے حاصل نہیں کیا تھا، ہمارے بزرگ انگریزوں کےخلاف لڑے ہیں اور اسمبلیاں جے یو آئی کی کمزوری نہیں ہے، اسمبلیوں میں رہیں نہ رہیں ، سڑکوں پر رہیں گے، ہم نے اپنے جذبے کو زندہ رکھنا ہے، اوآئی سی کا اجلاس بلایا جائے اور متفقہ مؤقف لیا جائے، ہم اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

  • مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے ماری خود کو گولی،ہسپتال میں چل بسے

    مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے ماری خود کو گولی،ہسپتال میں چل بسے

    میاں چنوں معروف عالم دین عالمی شہرت یافتہ مولانا طارق جمیل کا بیٹا گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا

    ڈی ایس پی میاں چنوں کا کہناہے کہ مولانا عاصم جمیل نے اپنے سینے پر گولی ماری ، مولانا عاصم جمیل کو تشویشناک حالت میں تلمبہ رورل ہیلتھ سنٹر پہنچایا گیا ،ہسپتال میں مولانا عاصم جمیل دم توڑ گیا، مولانا عاصم جمیل کی خود کشی کی وجہ سامنے نہ اسکی

    مولانا طارق جمیل کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ انا للہ وانا الیہ راجعون،آج تلمبہ میں میرے بیٹے عاصم جمیل کا انتقال ہوگیا ہے. اس حادثاتی موت نے ماحول کو سوگوار بنا دیا۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اس غم کے موقع پر ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں. اللہ میرے فرزند کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا نوٹس، آر پی او ملتان سے رپورٹ طلب کر لی،آئی جی پنجاب نے کہا کہ شواہد اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں موت کی وجوہات کا تعین کیا جائے،ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پی او خانیوال، سینئرپولیس افسران موقع پرموجود، شواہد اکٹھے کر لئے گئے،

    مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کے فائر لگنے سے جان بحق ہونے کا معاملہ،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رانا عمر فاروق نےواقعہ کا نوٹس لے لیا،واقعہ کی اطلاع پاکر پولیس رولر ہیلتھ سنڑ تلمبہ پہنچ گئی،کرائم سین یونٹ اور فرانزک لیب کی ٹیمیں شواھد اکٹھے کرنے کے لیے روانہ ہو گئی، واقعہ کی باریک بینی سے تفتیش کی جارہی بعد اصل حقائق حسب ضابطہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مولانا طارق جمیل کے بیٹے کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے انہوں نے مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

    مولانا طارق جمیل نے کوئی غلط بات نہیں کی، رحمت ہی رحمت رمضان ٹرانسمیشن میں مبشر لقمان نے مزید کیا کہا؟

    مساجد میں جانے سے اگر بیماری پھیلتی ہے تو جان کی حفاظت بھی ہمارے دین کا حصہ ہے، مولانا طارق جمیل

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

  • ڈنگ ٹپاؤ، مٹی پاؤ ،تے فیض بچاؤ، مہارانی مریم کو بھگتنے کیلئے تیار ہو جاؤ

    ڈنگ ٹپاؤ، مٹی پاؤ ،تے فیض بچاؤ، مہارانی مریم کو بھگتنے کیلئے تیار ہو جاؤ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مریم نواز کے اگلی وزیراعلیٰ پنجاب کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بغیر تجربے کے مریم کے والد بھی بن گئے تھے، چچا بھی بن گئے تھے، عمران خان وزیراعظم بن گئے تھے،بزدار، محمود خان بھی وزیراعلیٰ بن گئے تھے، تجربے کی ضرورت ہی نہیں،تجربے کی اس ملک میں کس کو پرواہ ہے،مریم کے حق میں جو باتیں کر رہے ہیں وہ اس لئے کہ مریم نے بہت بڑے جلسے کئے، ن لیگ میں میاں صاحب کے علاوہ مریم بڑا جلسہ کر سکتی ہے،مریم نواز نے اپنی ہی پارٹی کو ڈیوائیڈ کر کے چھوڑ دیا، میرا نہیں خیال کہ مریم نواز وزیراعلیٰ بنیں گی، اس سے پارٹی رہ جائے گی اوپر باپ نیچے بیٹی،پہلے بھی اسی طرح ہوتا رہا، یہ شریف لمیٹڈ بنے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ فیض آباد دھرنے کے حوالہ سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ڈنگ ٹپاؤ، مٹی پاؤ ہے، کورٹ نے جو احکامات دیئے اس پر وہ عمل کر رہے، ابھی کمیٹی بنی، 15 دن کا انکو میںڈیٹ ملا، انکوائری ہو گی،سپریم کورٹ اوپر کھڑی ہے، نگران حکومت کام کر رہی ہے،پھر گواہ نہیں ملیں گے، کوئی پاکستان سے باہر، کوئی فوت ،کسی کی طبیعت خراب ہو گی اور اسکے بعد ایک رپورٹ دو مہینےبعد جمع کروا دیں گے،کہ ہم کام کر رہے ہیں مزید ٹائم چاہئے اسکی تفصیلات کے لئے

    مبشر لقمان کا جسٹس مظاہر نقوی کو شوکاز نوٹس پر کہنا تھا کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا، جب نقوی ہائیکورٹ میں جج تھے تب بھی ایسا ہوتا رہا تھا تب بھی وہ بڑی مشکل سے بچے تھے، اب انکو کہا گیا کہ گجرانوالہ میں پلازہ کی ملکیت ظاہر نہیں کی، کینٹ لاہور میں 35 کروڑ کا پلاٹ کیسے خریدا، کیسز مینج کرنے کے حوالہ سے ایک آڈیو بھی سامنےہے،گلبرگ میں بھی ایک پلاٹ نکل آیا ہے، سپریم کورٹ میں آنے کے بعد کہا جا رہا ہےکہ انکے اثاثے کئی جگہ بڑھ چکے ہیں، اگر میں مظاہر کی جگہ ہوتا تو استعفیٰ دے دیتا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ 28 جنوری کی جو تاریخ انتخابات کے حوالہ سے چل رہی اس سے دو ہفتے بعد بھی ہو سکتے ہیں، میاں صاحب کے آنے کے بعد لگتا ہے کہ الیکشن مزید تاخیر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں جس طرح انکو ریلیف مل رہا وہ اپنی آفیشیلی مہم بھی اسی دن شروع کر دیں گے جس دن انکو اشارہ مل جائے گا کہ وہ الیکشن لڑ سکتے ہیں اور وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں،الیکشن جنوری یا فروری میں ہو سکتے ہیں

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں