Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سپریم کورٹ، فیض آباد دھرنا کیس،عام انتخابات،نیب ترامیم کیس،اگلے ہفتے مقرر

    سپریم کورٹ، فیض آباد دھرنا کیس،عام انتخابات،نیب ترامیم کیس،اگلے ہفتے مقرر

    سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا گیا،

    آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر پانچ بنچ مقدمات کی سماعت کریں گے ،بنچ ایک چیف جسٹس قاضی فائز عیسی،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین پر مشتمل ہوگا ،بنچ دو میں جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک ہونگے ،بنچ تین جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ہوگا ،بنچ چار میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہونگے ،بنچ پانچ جسٹس منیب اختر،جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہوگا

    نیب ترامیم فیصلے کیخلاف وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت منگل کو ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کرے گا،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہونگے ،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی لارجر بنچ کا حصہ ہونگے

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا ,90 روز میں انتخابات کرانے سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات کو ہوگی،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس، شیخ رشید نے بھی درخواست واپسی کی استدعا کر دی
    دوسری جانب سپریم کورٹ،فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس،چیئرمین عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، شیخ رشید نے جواب میں کہا کہ میرا تحریکِ لبیک یا ان کے شرکاء سے کوئی تعلق نہیں ہےمیرا تحریک لبیک کیساتھ کوئی رابطہ نہیں،سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، میں اپنی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ یکم نومبر کو سماعت کرے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے گزشتہ سماعت پر تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کیا تھا،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، الیکشن کمیشن، آئی بی سمیت دیگر نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے

  • ہر ہفتے بیٹوں سے بات کروائی جائے،عمران خان کی درخواست دائر

    ہر ہفتے بیٹوں سے بات کروائی جائے،عمران خان کی درخواست دائر

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ہر ہفتے اپنے بیٹوں سے بات کرنے کے لئے درخواست دائر کر دی

    عمران خان کی کی جانب سے ان کے وکلا نے درخواست آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے عملے کو جمع کرائی ،عمران خان کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے بات کرانےکا حکم دیا. سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرائی گزشتہ ہفتےکی طرح آج چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات نہیں کرائی جارہی،عمران خان کا اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے بات کرنا حق ہے لہٰذا ہرہفتے کے روز چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانےکا حکم دیا جائے

    عمران خان کے وکیل نے بات کروانے بارے درخواست عدالتی عملے کو جمع کروائی،عدالت کےجج ابوالحسنات کی عدم دستیابی کے باعث درخواست پر کارروائی نہ ہوسکی.

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی تھی،عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا.عمران خان سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان پر فر د جرم عائد ہوچکی ہے، آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوں گے.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • نگران حکومت کا وفاقی دارالحکومت کے دونوں بڑے ہسپتال فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

    نگران حکومت کا وفاقی دارالحکومت کے دونوں بڑے ہسپتال فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد(محمداویس)وفاقی وزارت قومی صحت کا وزارت کے زیر انتظام اداروں میں کام کرنیوالے افسران پر عدم اعتماد، شہر کے دونوں بڑے ہسپتالوں میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے انتظامی عہدوں پر مستقل تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کو خط لکھ دیا،فوج سے دو حاضر سروس افسران مانگ لئے ۔

    باغی ٹی وی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق وزارت قومی صحت نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ہسپتال(ایف جی پی سی) میں مستقل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے عہدوں پر تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کو خط لکھ کر قابل اور اہل افسران کی تعیناتی کیلئے مدد مانگ لی ہے،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت دفاع کو لکھے گئے خط میں وزارت صحت حکام نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ہسپتالوں پمز اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک میں مستقل بنیادوں گریڈ اکیس کے قابل اور اہل افسران کی ضرورت ہے جو کہ وزارت صحت میں میسر نہیں ہے وزرات دفاع دونوں انتظامی افسران کی تعیناتی کیلئے افسران نامزد کرے

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے دونوں ہسپتالوں میں وزارت قومی صحت کے تحت کام کرنیوالے تجربہ کار قابل اور ماہر افسران موجود ہیں تاہم وزارت صحت کیجانب سے اپنی وزارت کے ماتحت کام کرنیوالے افسران پر عدم اعتماد کا اظہار اور کسی دوسری وزارت کو خط لکھ کر مدد طلب کرنے کی یہ نرالی منطق ناقابل فہم ہے

    بڑے ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی ریکروٹمنٹ رولز کے مطابق ہو گی ،ترجمان وزارت صحت
    دوسری جانب خبر کے ایک دن بعد ترجمان وزارت صحت کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی ریکروٹمنٹ رولز کے مطابق ہو گی ،اس سلسلے میں مروجہ طریقے کار کے مطابق سختی سے عمل کیا جائے گا ، اس سلسلے میں انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں ، یہ فیصلہ وفاقی وزیر صحت کی سربراہی میں25 اگست 2023 ایک اجلاس میں ہوا تھا ،حکومت بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ پر سختی سے عمل کرنے کا عزم رکھتی ھے ،اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات /مفروضوں پر دھیان نہ دیں، کوئی غیر مصدقہ اطلاع اور مہم ہمیں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے مشن سے نہیں روک سکتی،وزارت صحت عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے بہترین امیدواروں کے انتخاب کا عزم رکھتی ھے

    ترجمان وزارت صحت سے جب سوال پوچھے گئے تو انہوں نے خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا، ترجمان وزارت صحت سے پوچھے گئے سوالوں میں کہا گیا تھا کہ ساجد شاہ صاحب ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی نہیں ہونی تعیناتی ہو گی اور وہ بھی گریڈ اکیس کے افسر کی جسکی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کو ہے، وزارت نے کس انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں ؟ اور یہ بھی واضح کر دیں اس ردعمل کے بعد ہم یہ سمجھیں کہ وزارت نے جو خط وزارت دفاع کو لکھا وہ منسوخ ہوگیا یے؟ کیونکہ یہ مروجہ طریقہ کے تحت نہیں،میڈیا اور سوشل میڈیا پر تو وزارت کا جاری کیا گیا خط وائرل ہے کیا وہ مفروضہ اور غیر مصدقہ ہے ؟

    دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی اسلام آباد کا ہنگامی اجلاس ،وزارت صحت کی طرف سے وفاقی دارالحکومت کے 2 بڑے ہسپتال پمز اور پولی کلینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی اسامیوں پر فوجی افسران کی تعیناتی کیلئے سیکرٹری دفاع کو لکھے گئے خط کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔پی ایم اے اسلام آباد کے ڈاکٹر میاں رشید ،ڈاکٹر ریاض شہباز جنجوعہ ،ڈاکٹر محمد اجمل ،ڈاکٹر عابد سعید،ڈاکٹر عمر فاروق ،ڈاکٹر رانا جاوید اور دیگر نے کہا کہ ایسوسی ایشن ایسے کسی بھی اقدام کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ وزارت صحت کو متنبہ کرتی ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہے۔پی ایم اے اسلام آباد کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام سول ڈاکٹرز کی توہین ہے ۔وزارت نے خط لکھ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔وزارت صحت کے اس اقدام سے سول سوسائٹی اور ادارے کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔پی ایم اے اسلام اپنے اداروں پر مکمل اعتماد کرتی ہے،ہمیں مکمل یقین ہے کہ مذکورہ ادارہ بھی وزارت صحت کے اقدام کا خیر مقدم نہیں کرے گا ۔پی ایم اے اسلام آباد کے مطابق ایسوسی ایشن ایسے کسی بھی اقدام کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    letter

  • اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری،جنگ بندی کی اپیلیں بے سود

    اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری،جنگ بندی کی اپیلیں بے سود

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، 22 دن گزر گئے ، آٹھ ہزار سے زائدغزہ میں اموات ہو چکی ہیں،بچے، خواتین بھی مرنے والوں میں شامل ہیں، اسرائیل بمباری روکنے کا نام نہیں لے رہا، عالمی دنیا احتجاج کر رہی، جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی لیکن اسرائیل نے حملے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں.

    اسرائیل کی زمینی فوج غزہ میں داخل ہو چکی ہے تو وہیں اسرائیلی بحریہ کی بھی غزہ پر بمباری جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں مزید تین سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیںَ،حملوں میں اقوام متحدہ ریلیف ایجنسی کے اب تک 53 اہلکار مارے جا چکے ہیں،اسرائیلی حملوں میں ایک دن میں اقوام متحدہ ریلیف ایجنسی کے 15 افراد کی موت ہوئی،21 ہزار سے زائد شہری اسرائیلی حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں،

    اسرائیلی حملوں کو ناکام بنایا، حماس کا دعویٰ
    حماس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کا تین طرفہ حملہ ناکام بناتے ہوئے اسرائیلی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے،حماس کے رہنما علی براکہ کا کہنا تھا کہ رات بھر اسرائیلی فوج نے غزہ پر زمینی حملے کے ساتھ ساتھ بمباری بھی کی تاہم حماس نے اسرائیلی حملے کو ناکام بنایا،مقابلے میں دشمن فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اسرائیلی حملے کے مقابلے میں حماس نے روسی ساختہ ٹینک شکن میزائل اور مقامی تیار کردہ یاسین میزائل استعمال کئے،

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رات بھر کی زمینی دراندازی کے دوران اسرائیلی فورسز کے درمیان کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، انہوں نے مزید کہا کہ افواج ‘اب بھی میدان میں ہیں.

    اسرائیلی میڈیا چینل 14 سے بات کرتے ہوئے، ایک فوجی تجزیہ کار نے کہا کہ "بظاہر غزہ میں پہلا فیلڈ ٹیسٹ مایوس کن تھا۔ نیتن یاہو حکومت جوئے کی میز پر فوجیوں کی جانوں پر شرط لگا رہی ہے،

    گزشتہ شب اسرائیل نے غزہ پر حملہ کرتے ہوئے سب سے پہلے غزہ کو بڑی حد تک دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اب تک کی شدید ترین بمباری شروع ہو ئی،اس کے بعد اسرائیلی فوج نے یقینی طور پر زمینی کارروائی کا آغاز کیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے رات اعلان کیا کہ لینڈ فورسز ایک فعال کردار ادا کریں گی اور اندر بھرپور خدمات انجام دیں گی، اسرائیلی ذرائع نے فوجیوں سے بھرے ٹرکوں کے بارڈر کی طرف جانے کے بارے میں لکھا اور موساد نے پیغامات اور تصاویر بھی شائع کیں، جن میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ غزہ کے اندر ٹینک ڈیوٹی پر ہیں۔ اور پھر علاقے سے مختلف اطلاعات آنا شروع ہو گئیں۔ اطلاعات موصول ہوئیں کہ اسرائیلی ٹینک جن کی تعداد 1 سے 30 تک تھی، تباہ ہو گئے۔

    حماس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل ایک جال میں پھنس گیا، ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اور یہاں تک کہ اس کے کچھ فوجی پکڑے بھی گئے۔حماس کے رہنماؤں نے بھی ان کی تصدیق کرتے ہوئے پیغامات شائع کی،الجزیرہ اور اے ایف پی غزہ سے مسلسل براہ راست نشریات کر سکتے ہیں لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں کر پا رہے، القسام بریگیڈز نے بار بار زمینی، سمندری اور فضائی بمباری کے باوجود سرحد پار پیش قدمی کی کوشش کرنے والی اسرائیلی قابض افواج کو پسپا کردیا ہے

    فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرہ
    فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، نیویار کے گرینڈ سنٹر ل سٹیشن کو مظاہرین نے بند کر دیا ، سینکڑوں شہری گرینڈ سنٹرل سٹیشن کے پاس جمع ہوئے اور اسرائیلی بربریت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج جیوش وائس فار پیس نے کیا، مظاہرین نے احتجاج کے دوران کالے رنگ کی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں، مظاہرین نے جنگ بند ی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ کو بند کیا جائے، مظاہرین نے فلسطین کی آزادی کے لئے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے، مظاہرین نے مزید ہتھیار نہیں، مزید جنگ نہیں کےنعرے بھی لگائے،

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قراردادمنظور
    دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قراردادمنظور کر لی گئی،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں اردن نے 22 عرب ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے جنگ بندی کی قراردادپیش کی،قرار داد کے حق میں 195 میں سے 120 ووٹ حق میں آئے، اراکین نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا،فرانس نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، اسرائیل، امریکا،آسٹریا سمیت 14 اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی، جرمنی، برطانیہ، اٹلی سمیت 45 اراکین غیر حاضر تھے،

    جنرل اسمبلی میں جنگ بندی قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل سیخ پا
    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قرار داد منظور ہوئی ، اس قرارداد میں حماس کا ذکر نہیں تھا جس پر اسرائیل سیخ پا ہو گیا، اسرائیل نے جنگ بندی کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ دھمکیاں دیں، اسرائیلی مندوب گیلاد ایردن کا کہنا تھا کہ آج کا دن اقوام متحدہ کے لئے ایک بدنما دھبہ ہے،اقوام متحدہ کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی، اسرائیل حماس کے خلاف ہر حد تک جائے گا اور ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے،جنرل اسمبلی اجلاس میں امریکی نمائندے نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں سا ت اکتوبر کے حماس کے حملے کا جہاں ذکر نہیں وہیں یرغمالی کا لفظ بھی قرارداد سے غائب ہے،

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، اسرائیلی فوج غزہ کے عام شہریوں پر حملے کر رہی ہے، اسرائیل غزہ پر حملے فی الفور بند کرے .اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک،امداد پہنچائی جائے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • غزہ  پر اسرائیل کا بڑا حملہ؛ دنیا سے رابطہ مکمل کٹ گیا

    غزہ پر اسرائیل کا بڑا حملہ؛ دنیا سے رابطہ مکمل کٹ گیا

    غزہ میں اسرائیلی زمینی افواج کی کارروائیوں میں توسیع کی گئی ہے اور اطلاعات ہیں کہ غزہ پر اسرائیل نے بہت بڑا حملہ کیا ہے جبکہ دنیا سے مکمل طور پر رابطہ کٹ آوٹ ہونے کی وجہ سے صحیح معلومات نہیں مل پارہی ہیں، الجزیرہ کے مطابق ان کے نمائندہ خصوصی طارق ابو عزوم غزہ میں خان یونس سے سیٹلائٹ کے ذریعے وقفے وقفے سے براہ راست نشریات بھیجنے کے قابل ہیں، لیکن الجزیرہ کا نیوز ڈیسک بمباری سے متاثرہ علاقے میں تقریبا مواصلاتی بلیک آؤٹ کی وجہ سے ان سے براہ راست رابطہ کرنے سے قاصر ہے۔

    الجزیرہ لکھتا ہے کہ اس وقت زمینی اور فضائی آپریشن جاری ہے اور بڑے پیمانے پر بمباری کی جارہی ہے لہذا غزہ کی پٹی اس وقت جو کچھ دیکھ رہی ہے وہ بڑے پیمانے پر بگاڑ ہے۔ ہم 2.3 ملین سے زیادہ فلسطینیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو اب دنیا سے الگ تھلگ ہیں۔ وہ اپنے رشتہ داروں یا ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے سے قاصر ہیں۔ اب ہم غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ بہت غیر متوقع ہے اور صورتحال ایک نظر میں بدل سکتی ہے۔ براہ مہربانی دوستو، اگر آپ ہمیں سن سکتے ہیں، تو ہم ابھی نیوز ڈیسک کے ساتھ کسی بھی قسم کا رابطہ کیے بغیر بات کر رہے ہیں اور صرف ان کے بات چیت کا انتظار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. ہمارے پاس کسی بھی قسم کے فون رابطے نہیں ہیں – ہم کسی بھی وقت یہ [کنکشن] کھو سکتے ہیں۔


    پی آئی اے کے لیے 8 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری
    جبکہ زمین پر جو کچھ ہو رہا ہے اسے 23 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے لیے اجتماعی سزا سمجھا جاتا ہے۔ غزہ کی پٹی اس وقت دنیا سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے جس کے نتیجے میں مواصلاتی بلیک آؤٹ ہو گیا ہے جبکہ محصور علاقے میں زمینی کارروائیوں کو وسعت دینے کا عہد کیا گیا ہے۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رکن ممالک تنازعے کے حل پر ووٹنگ کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • اسد قیصر مولانا سے کیوں ملے؟ بڑا سیاسی سیٹ اپ،ہلچل مچ گئی

    اسد قیصر مولانا سے کیوں ملے؟ بڑا سیاسی سیٹ اپ،ہلچل مچ گئی

    سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست میں حتمی بات کوئی نہیں ہوتی ،سیاسی جماعتوں کو انکا وجود خطرے میں نظر آ رہا ہے، نواز شریف لاڈلا نہیں بلکہ لاڈلا پلس بن گیا ہے، دوسری پارٹیوں نے بھی ہاتھ پاؤں مارنے ہیں، وہ بیٹھ کر دیکھ تو نہیں سکتے، دیکھیں کیا ہوتا ہے آگے، سیاست میں کسی نے کسی کی ذاتی مرغی نہیں چوری کی ہوتی، اگر تحریک انصاف والے پہلے مل لیتے، جب انکی حکومت تھی تو انکی حکومت نہیں جانی تھی، جب آپ ملتے جلتے ہیں تو افہام و تفہیم ہوتا ہے، کبھی کسی سیاسی کے دوسرے سے ملنے پر انگلی نہیں اٹھانی چاہئے اعتراض نہیں کرنا چاہئے، پاکستان اس نہج پر آ گیا ہے کہ پاکستان کی ہر پارٹی کو مل کر بیٹھنا ہے، چارٹر آف اکانومی بنانا ہے،اس پر ہر پارٹی رضامندی کرے گی،جس کی مرضی حکومت آئے ، میرٹ پر گورننس ہو گی، اس طرح ملک کی بہتری ہو گی، لاڈلا پلس کو جو پروٹوکول مل رہا، عدالتوں میں سلوک ہو رہا ہر بندہ کہ رہا کہ یہ اگلا وزیراعظم ہے، باقی کہہ رہے کہ ہم الیکشن میں کیوں جائیں، کیوں پیسے خرچ کریں، اس وقت انکو افہام وتفہیم چاہئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلی ملاقات میں صف بندی نہیں ہوتی، اسکے لئے طویل مشاورت کرنی ہوتی ہے، تحریک انصاف کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مین لیڈر جیل میں ہے،اگر کوئی دو پارٹیاں مل رہی ہوں کوئی فیصلہ کر رہی ہوں‌تو وہیں کر سکتی ہیں لیکن جب لیڈر ہی موجود نہ ہو تو پھر آنا جانا لگا رہے گا، اس طرح سے نظام چلے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے کہہ دیا تھا کہ نواز شریف کیس میں کچھ نہیں ہو گا، نیب پراسیکیوٹر جنرل کو شہباز شریف نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب لگایا تھا، انکے سامنے محسن کا خاندان ہے، جس نے پروموشن دیں اور سب کچھ کیا، میاں صاحب بڑے ذہین آدمی ہیں انکو پتہ ہے کہ وہ انتہائی قابل قبول ہیں لیکن مقبول عام نہیں،الیکشن کی نواز شریف کو جلدی نہیں کیونکہ وہ ابھی بھی وزیراعظم کا پروٹوکول لے رہے ہیں، انہی چیزوں کے لئے تو انہوں نے الیکشن لڑنا ہے، اگر لیٹ بھی ہو گیا تھوڑا تو کوئی بات نہیں،قوم کے مجرموں کے احتساب کا بھی نواز شریف نے کوئی جواب نہیں دیا تھا،سویلین بالادستی کے سوال کا جواب بھی نہیں دیا.

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں

  • سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

    سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیرصدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں ججز کیخلاف زیرالتوا شکایات کا جائزہ لیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجازالاحسن شریک ہوئے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان بھی شریک ہوئے،رجسٹرار سپریم کورٹ اور اٹارنی جنرل بھی اجلاس میں شریک ہوئے،

    اجلاس میں سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایات موصول ہوئی تھیں اور یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اٹھایا گیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.جوڈیشل کونسل اجلاس میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کیخلاف مس کنڈکٹ کی شکایات کا جائزہ بھی لیا گیا

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    یاد رہے کہ گزشہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس بھجوایا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی تھی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں ان فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہےسپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ، گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ، سینٹ جون پارک لاہور کینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ اور گوجرانوالہ الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری مسلسل جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں سات ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 19 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،مرنیوالوں میں تین ہزار سے زائد بچے اور 1700 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،

    اسرائیلی بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ہزار کے قریب شہری لاپتہ ہیں، امکان ہے وہ ملبے تلے دبے ہوں گے.اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، گزشتہ شب حملوں میں مزید 21 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا،غزہ کے الزیتون محلے میں چار منزلہ مکان پر بمباری سے 10 افراد کی موت ہوئی،خان یونس مہاجر کیمپ میں گھر پر بمباری سے تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے،

    اسرائیل جنگ بندی کریگا تو اسرائیلی شہری رہا کریں گے، حماس
    حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو غزہ کے ساتھ جنگ بندی کے لئے مشروط کر دیا،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق روسی دارالحکومت ماسکو میں حماس کا وفد موجود ہے، وفد میں شامل ابو حامد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کو اسوقت تک رہا نہیں کیا جا سکتا جب تک اسرائیل جنگ بندی نہ کرے،اسرائیلی شہریوں کو مختلف گروپس لے کر آئے ہیں، سب اسرائیلی شہریوں کو ڈھونڈنے میں بھی وقت لگے گا

    حماس کا ایک وفد 26 اکتوبر کو روسی دارالحکومت ماسکو پہنچا تھا، ابو حامد کا کہنا 200 سے زائد اسرائیلی شہریوں کو پکڑا گیا ہے جن میں فوجی بھی شامل ہیں،اسرائیلی شہری غزہ میں مختلف مقامات پر قید ہیں، ہمیں انکو تلاش کرنا ہے اسکے بعد رہائی ہو گی،اگر بمباری جاری رہی تو تلاش نہیں ہو سکتی، قیدیوں کی تلاش کے لئے امن کی ضرورت ہے،ابو حامد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی بمباری سے اب تک 50 قیدی جو اسرائیلی شہری تھے ہلاک ہو چکے ہیں، اگر اسرائیل نے بمباری نہ روکی تو دیگر کی ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے،حماس نے اب تک چار قیدیوں کو رہا کیا ہے،

    تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس کے راکٹ حملے
    دوسری جانب اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس نے راکٹ حملے کیے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے پہلی بارمسلسل تین دن تک کئی بار تل ابیب کو نشانہ بنایاہے،حماس کے حملوں سے تل ابیب، یافا اور دیگر اسرائیلی شہروں میں تباہی ہوئی، حماس نے حملے اسوقت کئے جب اسرائیل عسکری کونسل کا اجلاس جاری تھا، حملوں کی وجہ سے اجلاس کو تھوڑی دیر کے لئے روکنا پڑا،القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر تازہ حملے اسرائیلی بمباری کا جواب ہیں.

    اسرائیلی بمباری سے ایک طرف اموات ہیں تو دوسری طرف جو لوگ زندہ ہیں انکی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں، خوراک، پانی کی قلت،ادویات کی کمی بڑے مسائل ہیں تو وہیں کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے،لاکھوں لوگ کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں خواتین، بوڑھے بچے سب شامل ہیں، ریلیف کیمپوں میں خواتین کی حالت بارے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ خواتین زیادہ پریشان ہیں، غزہ میں 50 ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جنہیں علاج، خوراک کی سہولیات میسر نہیں،حاملہ خواتین زیادہ تکلیف اور خوف میں رہتی ہیں، گھر ملیامیٹ ہو چکے ، ریلیف کیمپوں میں انکو وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئے،33 سالہ خاتون نیوین الباری جو حاملہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، وہ شدید پریشان ہیں، مسلسل بمباری کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے بچے کا کیا بنے گا، انکی کمر اور پیٹ میں درد رہتا ہے مگر کوئی انکا علاج کروانے والا نہیں، وہ کیمپ میں رہ کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں،نیوین کا کہنا ہے کہ میں صرف اس امید سے جی رہی ہوں کہ میرا بچہ محفوظ رہے،نیوین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر ہے تاہم یہاں اسے ادویات نہیں مل رہیں.اسرائیلی حملوں سے قبل وہ باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تھیں اور اپنا علاج کروا رہی تھیں لیکن اب تو اپنے خاندان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، خاندان کے باقی افراد کہاں ہیں کس حال میں ہیں وہ کچھ نہیں جانتی،

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین
    غزہ کے ریلیف کیمپ میں زندگی گزارے والی نیوین کہتی ہیں کہ میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بمباری ہو رہی ہے، کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،ہمیں نہیں معلوم کب کہاں بم گرے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،میں یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ میں اور میرا بچہ محفوظ رہے،

    الجزیرہ کے مطابق نیوین اکیلی اس مسئلے کا شکار نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں 50 ہزار حاملہ خواتین ہیں، کئی ایسی ہیں جو حمل کے آخری ماہ میں ہیں اور انکا باقاعدگی سے معائنہ بھی نہیں کیا جا رہا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق تقریبا 50 ہزار حاملہ خواتین علاج معالجہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں،

    نیوین کا کہنا ہے کہ زخمیوں لاشوں کو دیکھتی ہوں تو خوفزدہ ہو جاتی ہوں، روز دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے تا کہ میرے دنیا میں آنے والے بچے کو میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں کے میڈیکل کنسلٹنٹ ولید ابو حاتب کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے صحت کے مراکز تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس،دفتر خارجہ کے افسران کے بیانات سے واضح ہے کہ اس میں کوئی غیر ملکی سازش شامل نہیں،تحریری فیصلہ

    سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت اور اخراج مقدمہ کی درخواست مسترد ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا،دفتر خارجہ کے سابقہ اور موجودہ افسران بالخصوص سائفر بھیجنے والے اسد مجید کے بیانات ریکارڈ پر ہیں،دفتر خارجہ کے افسران کے بیانات سے واضح ہے کہ اس میں کوئی غیر ملکی سازش شامل نہیں،اس بات سے انکار نہیں کہ شفاف ٹرائل ملزم کا بنیادی حق ہے آرٹیکل 10 اے کے تحت ملزم کو شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے ٹرائل کورٹ کی آبزرویشنز سے کسی قسم کا تعصب ظاہر نہیں ہوتا،عدالت میں پیش دستاویزات کے مطابق دفتر خارجہ کی پالیسی واضح ہے پالیسی کے مطابق سائفرکلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ ہے جسےغیرمجازافراد سے شیئرنہیں کیا جا سکت سائفر کو کچھ وقت کے بعد واپس فارن آفس جانا ہوتا ہے وکیل کےمطابق ملزم پابند تھےکہ حکومت گرانےکی غیرملکی سازش عوام کو بتاتے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ حکومت گرانے کی سازش سے عوام کو آگاہ کرنے دلیل میں وزن نہیں ،عمران خان بطوروزیراعظم فرائض انجام دینے کے بجائے سیاسی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے،آئین کاآرٹیکل248 بطو روزیراعظم فرائض کی ادائیگی پر استثنیٰ سے متعلق ہے پٹیشنرکا سائفر سے متعلق سیاسی اجتماع سے خطاب بطور وزیراعظم اداکی جانے والی ذمہ داریوں میں نہیں آتا،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اخراج مقدمہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

    سائفر کیس سننے والی خصوصی عدالت برائے آفیشل سیکرٹ ایکٹ نے پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا

    سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،ایف آئی اے سپشیل پراسیکیوٹر رضوان عباسی
    کیس کی سماعت کے دورا ن اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہاکہ سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں،یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں، اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے ،سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،نعمان سائفر اسسٹنٹ کے پاس سائفر آیا ، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد ، حسیب بن عزیز ، سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا 161 بیان ہے ، شاموں قیصر وزیر اعظم ہاؤس میں سائفر آفیسر ، ڈی ایس پی ایم آفس حسیب گوہر کا 161 کابیان ہے ،ساجد محمود ڈی ایس وزیر اعظم آفس اور اعظم خان کا 161 کا بیان ہے ،اعظم خان کبھی بھی اس کیس میں ملزم نہیں تھے بلکہ وہ گواہ ہیں ان کے ایک اعتراض کی وضاحت کر دوں ، ان کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر تھانہ کوہسار میں درج ہوئی تھی کچھ دنوں بعد انہوں نے اس کیس کے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا کہا پیس آف مائنڈ کے لیے کچھ عرصہ کے لیے وہ کہیں چلے گئے تھے پھر انہوں نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سیالکوٹ:  چارواہ سیکٹر پربھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری

    سیالکوٹ: چارواہ سیکٹر پربھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرشاہدریاض)بھارتی فوج نے سیالکوٹ کے چارواہ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی ہے جبکہ پاکستان نے بھی اس کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔

    اطلاع کے مطابق سیالکوٹ کے چارواہ سیکٹر پر بھارتی سرحدی فوج نے علی الصبح بلااشتعال فائرنگ اور گولا باری کا سلسلہ شروع کردیااس سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم گولہ باری اور فائرنگ سے لوگوں کی املاک اور مویشیوں کو نقصان پہنچا ہے،

    بھارتی جارحیت پر رینجرز کے جوانوںٕ نے بھی ملک کے دفاع میں کوئی کسر باقی نہ رکھی اور بھرپور جوابی کارروائی کرکے بھارتی بندوقوں اور توپوں کو خاموش کرادیا۔

    سیالکوٹ جموں ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ کے بعد پاکستان رینجرز بھر پور جوابی کارروائی کر رہی ہے۔ اے سی پسرور قمر محمود مَنج نے فوری طور پر تحصیلدار پسرور عثمان غنی چودھری، ریسکیو 1122 اور محکمہ صحت کے عملہ کو بارڈر ایریا میں پہنچ کر ریسکیو کارروائیاں کرنے کا حکم دے دیا۔

    سابق ایم پی اے رانا لیاقت علی نے اپنے بھائی رانا شوکت علی، سابق چیرمین یونین کونسل چاروہ رانا افتخار حسین اور اپنے سیکرٹری وسیم سلہری کو ہدایت کی ہے زیرو پواٸنٹ کے قریب واقع تمام دیہات کے لوگوں سے رابطہ کریں اور انہیں ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے راجپوت رائس ملز بھی متاثرین کے لیے کھولنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    ریسکیو1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کے مطابق سبز پیر سیکٹر میں ایمرجنسی وہیکلز تعینات کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا ۔

    سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری سیکٹر ہرپال اور اس کے اردگرد انڈیا نے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارٹر بم برساناشروع کر دئیے ہیں۔ہیوی مشین گن اور مارٹر گولوں کا استعمال ، متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں.

    سیالکوٹ ورکنگ باونڈری معراجکے اور چارواہ سیکٹر پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ علاقے میں شدید خوف ہراس پاکستان رینجرز کی طرف سے بھرپور جوابی کارروائی جاری دہی اکھنور اور مراجکے میں مساجد میں اعلانات کرواے جارہے ہیں

    بجوات میں بھی شروع ہو گئی جن میں لونی اور خیری گاؤں پر مارٹر گولے برسائے جا رہے ہیں۔ پاک رینجرز کی بھرپور جوابی کارروائی جاری ہے کچھ سویلین کی شہادت کی بھی اطلاعات ہیں۔

    محکمہ صحت تحصیل پسرور کے ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر عثمان ارشد کی ہدایت پرمیڈیکل کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں کسی بھی ایمرجنسی صورت میں ان نمبرز پر رابطہ کریں 03000836261صدام حسین فارمیسی ٹیکنیشن بی ایچ یو بینی سلہریاں 03069696723وارث سلہری سلمان لیاقت 03127757958فیض رسول فارمیسی ٹیکنیشن 03004553341

    دوسری طرف فاطمہ ویلفئیر فاؤنڈیشن(رجسٹرڈ ) نے حسب روایت فی سبیل اللہ ایمبولینس ریسکو آپریشن کیلئے روانہ کردی ہیں اور کسی بھی ایمرجنسی ہیلپ کیلئے ان نمبرز پر فوراً اطلاع کریں03107181122-03307181122

    واضح رہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارتی فوج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر مسلسل اشتعال انگیزی جاری ہے۔