Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کے مستقبل کا فیصلہ عدالتی کیسز کی روشنی میں ہوگا. انوار کاکڑ

    عمران خان کے مستقبل کا فیصلہ عدالتی کیسز کی روشنی میں ہوگا. انوار کاکڑ

    نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسوں پر پابندی کی کوئی پالیسی نہیں ہے چیئرمین پی ٹی آئی ک عمران خان ے مستقبل کا فیصلہ عدالتی کیسز کی روشنی میں ہوگا اور 9 مئی کے بعد میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کیا، میں نے 2013 اور 2018 میں چیئرمین پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میں اس ملک کا شہری ہوں، دوبارہ پریس کانفرنس کی تو الفاظ شاید مختلف ہوں، پریس کانفرنس میں موضوع یہی رکھوں گا، میں نے ورکنگ جرنلسٹس کے مسائل کو بھی اجاگر کیا تھا، سینیٹ کی انفارمیشن کمیٹی کا ممبر تھا وہاں بھی بات کی۔

    واضح رہے کہ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں غیرقانونی مقیم افراد جاچکے ہیں، ڈیڈ لائن ختم ہونے پر غیرقانونی افغانوں کو پکڑ کر نکالا جائے گا، غیرقانونی افراد کی واپسی کے حوالے سے افغان حکومت بھی تیار ہوگئی ہے اور انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بہت اہم کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ کی جانب جاسکتے ہیں، نئے چیئرمین نادرا کی سربراہی میں کمیٹیز بن چکی ہیں، غیرقانونی مقیم افراد کے لیے فلٹریشن کا ایک پورا عمل ہے، غیرقانونی مقیم افراد کو پکڑ کر ڈی پورٹ کریں گے، افغان حکومت بھی اپنے شہریوں کو لینے کے لیے تیار ہے۔

    خیال رہے کہ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی راستہ موجود ہے اس سے پاکستان آسکتے ہیں، ہم کوئی افغانستان سے اپنا رشتہ ختم نہیں کرنے جارہے، افغان سائیڈ سے پاکستان کے لیے کبھی اچھے جذبات نہیں دیکھے، افغانی بارڈر لائن اور ڈیورینڈ لائن کو نہیں مانتے، ہم نے 50 لاکھ لوگوں کی 50 سال کے قریب مہمان نوازی کی ہے، نگراں وزیراعظم نے کہا کہ میرے بیٹے کو پتہ ہے افغانستان سے ٹی ٹی پی کی تشکیل ہوتی ہے، ٹی ٹی پی کے حملوں کا افغانوں کے بھیجے جانے سے گہرا تعلق ہے، ٹی ٹی پی کے لوگوں کی کوئی قانونی حیثیت ہے تو بتا دیا جائے، بہت ساری جگہوں پر خاموشی ایک ہتھیار ہوتی ہے، پاکستانیوں کی جان کی حفاظت کے آپشنز سے نہ شرمائیں گے نہ جھکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنا ممکن ہوا شفاف الیکشن کروانا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ ہونی چاہیئے، عوام نے جس بھی جماعت کو چاہے مینڈیٹ دینا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیئے اور انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے جس جلسے پر ریڈ کا کہہ رہے ہیں تو معلومات لے لوں گا، اگر 9 مئی سے قبل ایسا ماحول ہوتا تو کوئی بھی جواز نہ ہوتا، کسی بھی سیاسی جماعت کی حوصلہ شکنی ہماری پالیسی نہیں، لیول پلیئنگ فیلڈ، پیپلزپارٹی میں کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
    پی ٹی آئی، مولانا ملاقات؛ "مقصد ہمیں الیکشن لڑنے دیا جائے” . جاوید چودھری
    عمران خان کی ٹرائل روکنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردی
    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال
    پی ٹی آئی کا اعلیٰ سطحی وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پہنچ گیا
    پیٹرول مہنگا جبکہ ڈیزل سستا ہونے کی توقع مگر کیسے؟
    جبکہ نگراں وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج سے 6 ماہ قبل بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے لیے ایسا تاثر تھا، تاثر تھا بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے لیے تیاری کی جارہی ہے، ہر سیاسی جماعت الیکشن کے لیے ایسا تاثر بناتی رہتی ہے، میں اس چیز کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا، الیکشن کمیشن نے الیکشن کنڈکٹ کرنا ہے ہم نے ساتھ دینا ہے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایک اقلیتی پارٹی والے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کو 1996 میں انہوں نے آرٹیکل لکھا تھا تب سے فالو کررہا ہوں، 9 مئی کے بعد میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کیا، میں نے 2013 اور 2018 میں چیئرمین پی ٹی آئی کو ووٹ دیا،

  • دہشت گردی کے ناسور کا  بہت ہی بہادری سے مقابلہ کررہے. آرمی چیف

    دہشت گردی کے ناسور کا بہت ہی بہادری سے مقابلہ کررہے. آرمی چیف

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جاری ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ 25 ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا ہے جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کا بہت ہی بہادری سے مقابلہ کررہی ہے اور اس میں پاکستانی عوام کے مسلسل تعاون سے ہمیں اس میں کامیابی مل رہی ہے اور مزید بھی کامیابیاں ہمارا مقدر ہوگیں جبکہ ہر پاکستانی کی حفاظت اور سلامتی ہمارے لیئے بہت ہی اہم ہے اور کسی بھی قیمت پر اس معاملے پر سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جاوے گا۔

    جبکہ اس موقع پر نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے اور شرکاء کو عالمی اورعلاقائی سیکیورٹی اور قومی سلامتی کی صورتحال پربریفنگ دی گئی جبکہ اس موقع پر آرمی چیف نے نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دانشوروں اور سول سوسائٹی کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہماری عوام، خصوصی طور پر نوجوان نسل پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف جاری پروپیگنڈے کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں اور اس کا مقابلہ کریں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شرکاء کو غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے جس میں اسمگلنگ، بجلی چوری، منشیات کا پھیلاؤ، بارڈر کنٹرول کے اقدامات اور پاکستان سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی شامل ہیں اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی اور ملک بدری کے موضوع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک پاکستانی کی حفاظت اور سلامتی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    پی ٹی آئی وفد میں موجود رہنماؤں نے عمران خان کے مولانا بارے بیانات پر شرمندگی کا اظہار کیا

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال
    پی ٹی آئی کا اعلیٰ سطحی وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پہنچ گیا
    پیٹرول مہنگا جبکہ ڈیزل سستا ہونے کی توقع مگر کیسے؟
    آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ جنرل عاصم منیر نے معیشت کی بہتری کے لیے کیے گئے متعدد فعال اقدامات جس میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے نتیجے میں معیشت پر مثبت اثرات کو بھی اجاگر کیا اور مزید کہا کہ فوج پاکستان کے عوام کی بہتری کے لیے ریاست کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں قومی اور صوبائی سطح پر پوری طرح مصروف عمل ہے، ہم ایک مضبوط قوم ہیں جس نے امن اور استحکام کے حصول کے لیے بہت سی آزمائشوں کو برداشت کیا ہے۔
    واضح رہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی سالانہ نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ میں تمام مکاتب فکر کے نمائندگان شریک ہوتے جبکہ 25ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ میں پارلیمنٹرینز، سول اور مسلح افواج کے سینئر افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت 98 شرکاء شرکت کر رہے ہیں۔

  • سائفر کیس کا ٹرائل روکا جائے گا یا نہیں؟   اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    سائفر کیس کا ٹرائل روکا جائے گا یا نہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سائفر کیس میں فرد جرم کی کاروائی کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر موجود تھے،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات دور کر دئیے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے دس دن لگے ضمانت میں دلائل دینے میں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی اسی وجہ سے دس دن لگے ، میں نے آپ کو کہا تھا اس قسم کا معاملہ پہلی دفعہ سامنے آیا ہے ، دونوں طرف سے اچھے طریقے سے دلائل دئیے گئے تھے اس لئے مجھے بھی وقت لگ رہا ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کاپیز تقسیم ہونے کے بعد چھ دن بعد مجھے پر فرد جرم عائد کر دی گئی ،سائفر نا چالان نا فائل کا حصہ ہے جس کا الزام ہے ، الزام تھا سائفر کے الفاظ تبدیل کئے گئے اب نہ تو تبدیل شدہ نہ ہی اصل سائفر ہمیں فراہم کیا گیا ،

    سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم کےخلاف درخواست پر سماعت میں وکیل سلمان صفدر نےریلیف کی استدعا کی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریلیف آپ کو کل بھی مل جاتا لیکن دوسرے جج صاحب مانے نہیں ،

    سائفر کیس کا ٹرائل کل رکے گا یا جاری رہے گا ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسٹے کی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی، عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مدعی مقدمہ یوسف نسیم کھوکھر اور ریاست کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق مقدمہ کی نقول تقسیم کرنے کے سات دن بعد چارج فریم کیا جا سکتا ہے، ٹرائل کورٹ نے سات دن کے قانونی تقاضے کو بھی مدنظر نہیں رکھا،ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں فردجرم عائد کی اور ٹرائل بھی جلدبازی میں مکمل کرنا چاہتی ہے، اعلی عدلیہ کی جانب سے ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر سماعت یا جلد مکمل کرنے کی کوئی ہدایت نہیں، جلدبازی میں ٹرائل آگے بڑھانے سے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوں گے، مرکزی ثبوت سائفر ٹیلی گراف کی عدم موجودگی میں ٹرائل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا 23 اکتوبر کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وکیل سلمان صفدر اور خالد یوسف کے ذریعے درخواست دائر کی

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عمران خان کی اہلیہ سے ملاقات میں کوئی پرائیویسی نہیں دی جاتی،وکیل

    عمران خان کی اہلیہ سے ملاقات میں کوئی پرائیویسی نہیں دی جاتی،وکیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی وکلاء اور فیملی سے ملاقات کی درخواست نمٹا دی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ سپریٹنڈنٹ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کا نیا شیڈول بنایا ہے،سپریٹنڈنٹ جیل نے نئے شیڈول میں تھوڑا ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی مرضی سے ملاقات کیلئے کچھ لوگوں کے نام شامل اور نکالے گئے ہیں، ہمیں دس وکلاء کی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے،ہم نے ہفتے میں چھ دن ملاقات کا کہا تھا لیکن دو دن وکلاء اور ایک فیملی کو دیا گیا ہے،ہماری استدعا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ سے ملاقات بھی دو دن کر دی جائے، چیئرمین پی ٹی آئی نے مجھ سے ملاقات میں ایک شکوہ کیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ سے ملاقات میں کوئی پرائیویسی نہیں دی جاتی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ طریقے پرانے دور کے ہیں، بےنظیر بھٹو اور دیگر کے ساتھ ایسا کیا جاتا تھا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملاقات کا پھر غلط استعمال نہ کیا جانا چاہئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ شوہر اور بیوی کا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ میں وکلاء کی ملاقات سے متعلق کہہ رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ پھر کہہ رہے ہیں کہ وکالت ناموں پر دستخط نہ کروا لیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل میں ملاقات کو باہر آ کر سیاسی طور پر استعمال نہ کیا جائے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات بامقصد اور بامعنی ہونی چاہیئے جس میں لیگل ایڈوائس دی جائے،

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف  اپیلیں بحال

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال کردی ہیں، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا تا ہم بینچ نے خود فیصلہ نہیں سنایا، عدالتی عملے نے ن لیگی قانونی ٹیم کو آگاہ کیا کہ آپ کی اپیلیں بحال کر دی گئیں ہیں ، جس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے

    نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل خصوصی بینچ سماعت کر رہا ہے،سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وزیر اعظم شہباز شریف دیگر لیگی رہنماؤں کیساتھ کمرہ عدالت میں موجود ہیں،پراسیکیوٹر جنرل نیب احتشام قادر شاہ، نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز روسٹرم پر موجود ہیں،

    نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے پراسیکیوشن جنرل نیب کو کلئیر موقف کا کہا تھا ،پراسیکیوٹر جنرل نیب روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ریفرنس واپس لینے کی گنجائش صرف اس صورت میں ہے جب فیصلہ نہ سنایا گیا ہو، مجھے عدالت نے حکم دیا تھا کہ چیئرمین نیب سے درخواستوں پر رائے لی جائے، ہم نے تفصیل میں نواز شریف کی درخواستوں پر تبادلہ خیال کیا ہے، ہم نے دونوں اپیلوں کے حقائق اور قانون کا مطالعہ کیا ہے، پہلے ایون فیلڈ کیس سے متعلق بتانا چاہتا ہوں، اس اسٹیج پر ریفرنس قانونی طور پر واپس نہیں لے سکتے ، فرد جرم عائد ہونے سے پہلے یا بعد میں ریفرنسز واپس لئے جا سکتے ہیں سزا کے بعد نہیں،نواز شریف نے عدالت میں عبوری ریلیف مانگا گیا اور ہم نے اس سے اتفاق کیا، میڈیا پر ایسا تاثر گیا کہ جیسے نیب نے سرینڈر کر دیا، ایسا نہیں ہے،موجودہ صورتحال میں نواز شریف کے خلاف ریفرنسز واپس نہیں لے سکتے،ایون فیلڈ ریفرنس سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں دائر کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی بھی قائم کی گئی تھی،چیئرمین نیب کی منظوری سے ریفرنسز دائر کیے گئے تھے،احتساب عدالت نے کیسز پر فیصلہ سنایا تو اس کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں، ریفرنسز واپس لینے کی گنجائش ٹرائل کے دوران موجود تھی، پاکستان کے قانون کے مطابق اگر فیصلے کے خلاف اپیل ایڈمٹ ہو جائے تو کیس واپس نہیں ہو سکتا، اگر اپیل دائر ہو جائے تو اس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، عدم پیروی پر بھی خارج نہیں ہو سکتی، اگر ان اپیلوں کو بحال کریں گے تو پھر انہیں میرٹس پر دلائل سن کر فیصلہ کرنا ہو گا، پراسیکیوٹر کی ڈیوٹی ہے کہ وہ اعلی معیار کی پراسیکیوشن کرے،پراسیکیوٹر کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی شہادت ملزم کے حق میں جائے تو اسے بھی نا چھپائے،بطور پراسکیوٹر جنرل میں قانون کے مطابق چیئرمین نیب کو ایڈوائس دینے کا پابند ہوں پراسکیوٹرز نے ریاست کے مفاد کو دیکھنے کے ساتھ انصاف کی فراہمی بھی دیکھنی ہے،اعلی معیار کی پراسکیوشن کرنا پراسکیوٹر کی ڈیوٹی ہے ، پراسکیوٹر کی زمہ داری ہے کہ اگر کوئی شواہد ملزم کے حق میں تو اسے بھی نہ چھپائے،نواز شریف کی دو اپیلیں زیر سماعت تھیں، عدم پیروی پر خارج کی گئیں، اس عدالت نے آبزرو کیا تھا کہ جب اشتہاری سرینڈر کرے اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہو،ملزم قانون میں موجود تمام ریلیف کا حقدار ہوتا ہے اگر وہ قانون کی پاسداری کرے،چیئرمین نیب اور میں متفق ہوں کہ نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے پر اعتراض نہیں ،نیب کا جامع موقف ہے کہ نواز شریف کی اپیلیں بحال کی جائیں،نیب کو نواز شریف کی سزا کیخلاف اپیلیں بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے آپ کو کہا تھا کہ آپ اس متعلق مزید غور بھی کریں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ ججمنٹ کے حق میں دلائل دیں گے؟نیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہم اپیلیں بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے،اپیلیں بحال ہو گئیں تو پھر شواہد کا جائزہ لے کر عدالت میں موقف اختیار کریں گے، ہم دلائل دینگے، کچھ تحفظات ہیں، عدالت اپیلیں سنےتووہ عدالت کےسامنےرکھوں گا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپیلوں کے نتیجے میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی حمایت میں موقف دیں گے؟ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ابھی اپیلوں کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس سے بریت کے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا ہے،عدالت نے کہا نیب کو بارہا مواقع دیے گئے مگر تین مرتبہ وکلا کو تبدیل کیا گیا،عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نیب نواز شریف کا کردار بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا، عدالت نے کہا کہ نیب اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا ہے،عدالت نے قرار دیا کہ نواز شریف کے کردار کا جائزہ لیے بغیر باقی دو ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ ناممکن ہے،عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کردیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی نیب نہیں ہے ، جہاں تک گرل (مریم نواز) کا معاملہ ہے اس کا اس کیس میں کردار نہیں تھا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مریم نواز کا حوالہ دیتے ہوئے گرل کا لفظ استعمال کیا.

    اعظم نذیر تارڑ نے اپیلیں بحال کرنے سے متعلق اعلی عدالتوں کے فیصلے پڑھ کر سنا ئے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے 30 سالہ کیرئیر میں ایسا کوئی کیس نہیں کہ اشتہاری ملزم عدالت میں آ کر کھڑا ہوگیا ہو اور اسکا اسٹیٹس بحال نہ ہوا ہو،جب ملزم عدالت میں آجاتا ہے تو اس کے وارنٹ اسی وقت منسوخ کردیئے جاتے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپکو کیا خدشہ ہے، نیب نواز شریف کو گرفتار ہی نہیں کرنا چاہتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نیب کو نواز شریف کی اپیلیں بحال ہونے پر کوئی اعتراض نہیں؟نیب حکا م نے کہا کہ ہمیں اپیلیں بحال ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا آپ اپیل کنندہ نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اس متعلق میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہمیں گرفتاری نہیں چاہئے، پٹیشنر نے جس لمحے سرینڈر کیا اس نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ سے بطور عدالتی معاون پوچھ رہے ہیں کہ اپیل بحال ہوئی تو ضمانت کا سٹیٹس کیا ہو گا؟ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ آپ اپیل کنندہ سے دوبارہ ضمانتی مچلکے لے لیں،

    نواز شریف کی اپیلیں بحال ہوں گی یا نہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد نواز شریف کمرہ عدالت میں ہی بیٹھے رہے، نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف اور ن لیگی رہنماؤں، قانونی ٹیم سے مشاورت کرتے رہے، اس موقع پر صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ الیکشن کی تاریخ کا مطالبہ کریں گے ؟ نواز شریف نے عدالت کی طرف سے اشارہ کرکے جواب دیا کہ پہلے یہاں سے تو فری ہو جائیں ، صحافی نے سوال کیا کہ قوم کے مجرموں کاحساب ہو گا یا نہیں ؟ نواز شریف نے جواب نہیں دیا اور مسکرا دئیے ،صحافی نے سوال کیا کہ سویلین بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ؟ نواز شریف نے کہا کہ 1947 میں بھی سویلین بالادستی تھی تو ہم آزاد ہوئے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواستوں پر سماعت کا معاملہ،پولیس اور بی ڈی ایس نے کمرہ عدالت کی سکیورٹی کلیئر قرار دے دی،رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری پاسز کے حامل افراد کو کمرہ عدالت کے اندر داخل کردیا گیا،سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کمرہ عدالت پہنچ گئے،سابق وزیر قانون اور نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کمرہ عدالت میں پہنچ گئے،ن لیگی رہنما ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کمرہ عدالت میں پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کا معاملہ ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی نفری تعینات کر دی گئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر 1200 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیںَ,اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر اور احاطہ عدالت میں پولیس و ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں،ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات ہیں ، بغیر کارڈ ہائی کورٹ کے تیسرے فلور پر جانے کی اجازت نہیں ، عدالت کے باہر صرف پولیس اور رینجر اہلکار موجود ہیں ، رجسٹرار آفس نے کمرہ عدالت کے لئے 108 کارڈ جاری کیے نون لیگ کے لیے 54 کارڈ ، کورٹ رپورٹرز کو 30 کارڈ ، لا افسران ، لیگل ٹیم کے لیے 24 کارڈ جاری کئے گئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    دوسری جانب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کئی سیاسی رہنما آئے،چییرمین تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں ملک کی معیشت کا جنازہ نکال دیا، مجھے کسی وزارت کی کوئی خواہش نہیں ،ایک کینڈیڈیٹ کے طور پر انتخابات میں حصہ لوں گا، میرا یہ کہنا آن ریکارڈ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب نواز شریف کی منت ترلے کر کے لایا جائے گا،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • بین الاقوامی برادری مسئلہ فلسطین کے دو طرفہ حل کےلیے کردار ادا کرے،پاکستان

    بین الاقوامی برادری مسئلہ فلسطین کے دو طرفہ حل کےلیے کردار ادا کرے،پاکستان

    تر جمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی ایس سی او کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کریں گے،پاکستان اس فورم کی صدارت سنبھالے گا،پاکستان آج کونسل کی صدارت سنبھالے گا،

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فورم کا مقصد تجارت، اقتصادی امور، مائنگ،آئی ٹی میں فروغ ہے، پاکستان ،فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی پر زور مذمت کرتاہے، فلسطین میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالیاں جاری ہیں،بین الاقوامی برادری مسئلہ فلسطین کے دو طرفہ حل کےلیے کردار ادا کرے، فلسطینیوں کی طرح جموں و کشمیر کی عوام بھی بھارتی جارحیت کا شکار ہے،آج جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت کو 75 سال ہو گئے،پاکستان کشمیریوں کی سپورٹ جا ری رکھے گا،

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ فلسطین کی صورتحال پرپاکستان کو سخت تشویش ہےچھ ہزار سے زائد فلسطینی شہادتوں پر تعزیت کرتے ہیں، یو این سیکیورٹی کونسل فلسطینیوں پر مظالم بند کرانے میں مکمل ناکام رہی. اسرائیل کی حمایت کرنے والے جنگ بندی میں کردار ادا کریں

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

  • جانبدار کابینہ، الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا

    جانبدار کابینہ، الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا

    جانبدار ارکان کو وفاقی کابینہ سے ہٹانے کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان پیش ہوئے،الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیا آپ احد چیمہ ، توقیر شاہ اور فواد حسن فواد کی نمائندگی کر سکتے ہں ، کمیشن کی معاونت کریں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ جوابدہ چار کو نوٹس بھجوا دیں ،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نگراں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کریں ، کیس کی سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی،الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کردیا

    درخواست گزار نے نگران وفاقی وزیر فواد حسن فواد، مشیر احد چیمہ کو ہٹانے کی درخواست کی تھی۔درخواست میں استدعاء کی گئی ہے کہ وزیر اعظم کے سیکرٹری توقیر شاہ سابق وزیر اعظم کے سیکرٹری رہے، آرٹیکل 218 کے مطابق نگران سیٹ اپ غیر جانبدار ہونا چاہیے،

    اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا بل 2020 قائمہ کمیٹی نے کیا مسترد

    سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق عملدرآمد کیس کی سماعت،عدالت کا بڑا حکم

    سپریم کورٹ میں فراڈ کرنیوالے نے چیف جسٹس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے، کیا کہا؟

    سپریم کورٹ نے قتل کے 80 سال کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری پر فیصلہ سنا دیا

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ ،نگران حکومت میں الیکشن کمیشن کے حکم پر افسران کا تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک سابق حکومت کے لگائے کتنے وفاقی سیکریٹری کام کر رہے ہیں ؟الیکشن کمیشن ٹرانسفر سے متعلق اپنے نوٹیفکیشن پر بلاامتیاز عمل کرائے،اگر منگل تک الیکشن کمیشن کے حکم پر بلاامتیاز عمل نہ ہوا تو آرڈر معطل کر دیں گے، الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن میں پولیس کا خاص طور پر لکھا کتنے ٹرانسفر ہوئے؟

  • سویلین سے آرمی ایکٹ کے  تحت نمٹا جاسکتا ہے. عرفان قادر

    سویلین سے آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جاسکتا ہے. عرفان قادر

    فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ ڈٹ گئی ہے جبکہ اس حوالے سے صحافی مبشرلقمان نے سوال جبکہ عرفان قادر سے سوال کیا تو انہو ں نے کہا کہ جس میں جماعت کی میں نمائندگی کررہا ہوں وہ اب اس کو واپس لینا چاہتی ہے اور انہوں نے درخواست بھی دی مگر چیف جسٹس صاحب نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے، اس پر سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹ کو نہ کردی اور اس پر بھی اپیل کو مستردکیا جائے گا یا قبول؟


    اس پر عرفان قادر جو کہ معروف وکیل اور سابق اٹارنی جنرل ہیں نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں تو واضح لکھا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے، لیکن عدالت عظمیٰ اس کو غیر آئنی قرار دے دیا ہے اور یہ منطق بھی غلط ہے جس میں اتفاق نہیں کرتا ہوں.

    انہوں نے مزید کہا کہ فوج کا رول بہت رہا ہے گورنمنٹ سازی وغیرہ میں اور اب بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ اس رول کو کم کردیا جائے، لہذا اگر آپ نے فوج کے رول کو کم کرنا ہے تو یہ عدالت کا کام نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ یہ کرسکتی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈوپ ٹیسٹ پازیٹو آنے پر 4 ایتھلٹس پر پابندی عائد کردی گئی
    ہمارے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف ہی ہیں۔ اسحاق ڈار
    زلفی بخاری کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    مبشرلقمان نے کہا کہ ہمارا عدالتی نظام دقیانوسی ہے اور اس میں تو جو دہشتگردی ہیں وہ تو چھوٹ جائیں گے جبکہ ان کا تو ٹرائل تو ملٹری کورٹ میں ہونا چاہئے اس پر سینئر وکیل نے کہا آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ ایسا ہے اور میرا بھی یہی خیال ہے اس لیئے یہ جو عدالت نے فیصلہ دیا ہے وہ غلط ہے.

  • سوشل میڈیاٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پرویپگنڈہ،پی ٹی آئی نے کیا سرکاری وسائل کا استعمال

    سوشل میڈیاٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پرویپگنڈہ،پی ٹی آئی نے کیا سرکاری وسائل کا استعمال

    تحریک انصاف کے عہد اقتدار میں سرکاری سوشل میڈیا ٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پراپیگنڈہ کا انکشاف سامنے آیا ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کا جعلی امیج گھڑنے کا منصوبہ بے نقاب ہو گیا، سرکاری وسائل کے بل بوتے پر پی ٹی آئی قیادت کی جعلی تشہیر اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا بھی بے نقاب ہو گیا، مخالفین کی کردار کشی اور ہرزہ سرائی کیلئے سوشل میڈیا ٹیموں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، سرکاری منصوبوں کی تشہیر کے بجائے زہریلا پراپیگنڈا کیا جاتا رہا. سرکاری وسائل غیر قانونی سیاسی تشیہری مہم کیلئے استعمال، پی ٹی آئی دور کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آ گیا،

    سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی آڑ میں سوشل میڈیا ٹیموں کو پی ٹی آئی کے مذموم بیانیے کو پھیلانے کا ٹاسک دیا گیا، جعلی سوشل میڈیا ٹیموں کو شخصیت پرستی اور جھوٹ کے پرچار کیلئے استعمال کیا گیا، ان اکاؤنٹس کو پی ٹی آئی کے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے، پروپیگنڈہ مہم، ڈس انفارمیشن، سازشی بیانیہ سازی اور عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے استعمال کیا گیا، سرکاری پیسوں سے ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کی مکروہ حرکت بے نقاب ہوئی، معاشرے میں نفرت انگیز بیانئے سے عدم استحکام کو فروغ دیا گیا، پراپیگنڈا اکاؤنٹس کے فالورز سرکاری وسائل سے بڑھائے گئے لیکن اختتام پر یہ اکاؤنٹ پی ٹی آئی کے سیاسی کارکنان استعمال کرتے رہے، مجموعی طور پر اس پروجیکٹ کی لاگت 870 ملین رکھی گئی تھی،مزید تحقیق میں پی ٹی آئی کے مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کا انکشاف ہوا جس میں سوشل میڈیا ٹیمز کو پی ٹی آئی نے غیر قانونی طور پر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا،▪ ان ملازمین کی تنخواہ 25ہزار – 40 ہزار روپے تھی اور سرکاری فنڈز سے ان سوشل میڈیا ٹیموں پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، پی ٹی آئی کے اس ریاست مخالف پروپیگنڈے میں شامل 800پہلے سے موجود اکاؤنٹس کی جب تحقیق کی گئی تو چشم کشا حقائق سامنے آئے۔ ان ملازمین میں سے 72.5 فیصد اکاؤنٹس کا 2021 سے پہلے پی ٹی آئی کی طرف کوئی سیاسی جھکاؤ ہی نہیں تھا،جون 2022 کے بعد 86فیصد اکاؤنٹس نے اپنا سیاسی جھکاؤ تبدیل کر لیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پی ٹی آیی کا بیانیہ پوسٹ کرنا شروع کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر من گھڑت بیانیے کی وجہ سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلا کرنے کی سازش کی گئی،فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر دو دہائیوں کی سیاست نے ملک کی قومی وقار کو مجروح کیا ہے،بے بنیاد من گھڑت بیانیے کی وجہ سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلا کرنے کی سازش کی گئی،نوجوانوں کے ذہن کو آلودہ کر نے کا بیانیہ ترتیب دیا گیا،ملک کی سیاست کا رکھ رکھاؤ اور رواداری کو پامال کیا گیا،معاشرے کو انتشار کا شکار کیا گیا،خاندانوں کے اندر تفریق پیدا کی گئی، ایک شخص کی امیج بلڈنگ اور اسکے بیانئے کو آگے بڑھانے کے لئے کے پی کے حکومت کے اے ڈی پی کے فنڈ میں870ملین روپے رکھے گئے،
    آٹھ سو اکاؤنٹ ایسے کھولے گئے جہاں پیسے ٹرانسفر کئے گئے، ان پیسوں کا استعمال ریاست اور عوام کے درمیان دراڑین ڈالنے کے لئے کیا گیا،قومی اداروں کو کمزور کرنے کے لئے ان پیسوں کا استعمال کیا گیا، نوجوانوں کے ذہنوں کو بارود سے بھر کر ریاستی اداروں کے لئے استعمال کیا گیا،تحقیقات میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے تانے بانے زمان پارک اور بنی گالا تک جاتے ہیں،سوشل میڈیا ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے اداروں کے خلاف بیانئے کو پرموٹ کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے کے پی کے میں میڈیا سیل بنا کر اپنے ٹاپ ٹرینڈ کی خواہش کو پروان چڑھایا،

    شہداء لسبیلہ کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم میں کون تھا ملوث؟ سب سامنے آ گیا

    خیبرپختونخواہ حکومت کا کمال،تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، سوشل میڈیا انفلونسرز کیلئے 87 کروڑ مختص

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

    ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی کا کبھی کوئی نظریہ تھا ہی نہیں ، یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جو کہ ریاست پاکستان کے خزانے سے پیسے دے کر کروائی جا رہی تھی۔ غریبوں کی خون پسینے کی کمائی سے دیئے گئے ٹیکس کا پیسہ جو پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پروپیگنڈے کے لئے جھونک دیا،پی ٹی آئی نے پارٹی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کیا اور ان کا ایسا استعمال کیا جواخلاقیات اور شرافت کے اصولوں کے خلاف تھا، عوام کے پیسوں پر ریاست مخالف مواد پھیلایا گیا،▪ ان اکاؤنٹس نے 9 مئی واقعات میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور عوام کو اشتعال دلانے، تشدد پر بھڑکانے اور ممکنہ طور پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا اور عوام اور اداروں میں نفرت پھیلا کر درڑیں ڈالنے کی کوششیں کیں، جعلی سوشل میڈیا ٹیموں کی بھرتی کا عمل غیر قانونی اور فراڈ پر مبنی تھا

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     ثاقب نثار کے بیٹے نے بھی پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کی لوٹ سیل لگا دی ،آڈیو لیک

    سرکاری خزانے سے معاوضہ دے کر اداروں کے خلاف بیان بازی کی گئی،عطا تارڑ
    رہنما مسلم لیگ ن عطا تارڑ نےپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف حکومت نے سوشل میڈیا ٹرولز بھرتی کئے ،ہمارے پاس تفصیلات ہیں کہ سفاکانہ طریقے سے عوامی پیسے کو بے دردی سے لوٹا گیا،2019 میں خیبرپختونخوا حکومت نے سوشل میڈیا انفلوئنشرز کے طور پر 1100 لوگ بھرتی کئے،ان ٹرولز کو بھرتی کرنے کا مقصد صحافیوں، سیاستدانوں کو گالیاں دینا تھا،اس منصوبے پر کل 87 کروڑ روپے خرچ ہونا تھا ،اس معاملے پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے،کیا یہ نوکریاں تحریک انصاف کی ملکیت تھیں؟پارٹی کی تشہیر کے لئے پارٹی فنڈز سے پیسے جاری ہونا چاہئیے تھے،غریب عوام کا 87 کروڑ روپیہ خرچ کیا گیا ،غریب سے دوائی، روٹی اور تعلیم کا حق چھینا گیا،سرکاری خزانے سے معاوضہ دے کر اداروں کے خلاف بیان بازی کی گئی،جن مجرمان نے ان 1100 لوگوں کو بھرتی کیا ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے،ایسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا قومی فریضہ ہے،اس گھناؤنے عمل پر کل ایک ارب سے زائد پیسہ خرچ کیا گیا

  • سیل کی دیوار تڑوا دی، کیا اب  کمرہ بھی تڑوا دوں؟ عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    سیل کی دیوار تڑوا دی، کیا اب کمرہ بھی تڑوا دوں؟ عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    سائفر کیس، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان قانونی امور نعیم پنجوتھہ پیش ہوئے، وکیل نعیم نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے آرڈرز پرعملدرآمد نہیں ہوتا، جیل میں وکلاءکوچیئرمین پی ٹی آئی سےنہیں ملنےدیاجاتا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹیو معاملات ہیں، جیل مینوئل کے مطابق جیل میں معاملات چلتےہیں، وکیل نعیم نے کہا کہ آپ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو جو کہیں گے، ویسا ہی وہ کریں گے، جج نے کہا کہ اگر زیادہ وکلاء کی چیئرمین پی ٹی آئی سے میٹنگز ہوں گی تومعاملات دیکھنےپڑتےہیں، وکیل نے کہا کہ سائفرکیس سیکرٹ طریقہ کار سے چلایاجارہاہے، صحافیوں کو بھی کوریج کی اجازت نہیں، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائفرکیس ہے ہی سیکرٹ ایکٹ کے تحت، ہم نے تو نہیں بنایا، قانون 1923 کا ہے، وکیل نے کہا کہ صحافیوں کو نہیں لیکن کم سے کم وکلاء کو تو جیل میں سماعت سننے کی اجازت دی جائے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے صحافیوں سے سائفرکیس کور کرنے پر کوئی مسئلہ نہیں، صحافی قابل احترام ہیں،

    وکیل نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت بہت چھوٹا ہے،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کی دیوار تڑوا دی، کمرہ بھی تڑوا دوں کیا؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کرنے پر بہانے بنائے جارہے، سپرٹنڈنٹ جیل جان کو خطرے کا بیان دیتاہے، جج نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت تو ہیں، اُن کی زندگی کو تحفظ دینا ضروری ہے، وکیل نے کہا کہ انہی اداروں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی نہیں دی، ہائیکورٹ میں معاملہ پینڈنگ ہے، نوازشریف کو تو انہوں نے پوری سیکیورٹی دی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی اپنی سیکیورٹی خود لاتےتھے، عطاتارڑ آجاتا ہے، بوتلیں بھی پھینکی گئیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی دینا انتظامیہ کا کام ہے، انتظامیہ نہیں دے رہی سیکیورٹی، جج نے کہا کہ قانون کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی زندگی کو تحفظ دینا ہے،میری اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے گھنٹہ بات ہوئی، انہوں نےکہا میں جیل میں محفوظ محسوس کررہاہوں،آپ جا کر پوچھیں چیئرمین پی ٹی آئی سے کہ انہوں نے کیا جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے سے مجھے نہیں کہا؟ چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو بھی سپرٹنڈنٹ جیل نے دیکھناہے، ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ دے کر کیس بہت آسانی سے چل رہاہے، میں نے بیس سال وکالت کی، وکالت کرنا آسان ہے، جج کی کرسی پر بیٹھنا مشکل ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی ڈائریکشن ملی؟ وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہمارے معاملات پینڈنگ رہتےہیں، جج نے کہا کہ مجھے کوئی ایک ایسی ملاقات سے متعلق درخواست بتا دیں جو میں نے مسترد کی؟ وکیل نے کہا کہ آپ نے درخواستِ ضمانت مسترد کی، فردجرم روکنے کی درخواست مسترد کی، جج نے کہا کہ قانونی درخواستوں کی بات نہ کریں، میں ملاقات سے متعلق درخواستوں کا کہہ رہاہوں، میں نے سپرٹنڈنٹ جیل کو شٹ اپ کال دی تھی، سائکل اسی وقت چیئرمین پی ٹی آئی کو مہیا کروائی، آپ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو کر رہےہیں، جج ابوالحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات سے متعلق سپرٹنڈنٹ جیل کو ہدایت جاری کردیں

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات