Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ

    آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ

    آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ
    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں عسکری فور کراچی میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روکنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی درخواست ناقابل سماعت ہونے پر مسترد کر دی،سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے درخواست دائر کیے جانے پر سوالات اٹھا دیے ، سپریم کورٹ نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کے قانونی وجود کے بارے آئین، رول آف بزنس 1983 یا کسی قانون میں ذکر ہے؟ کیا وفاقی حکومت کے ادارے اپنے کیسز میں پرائیویٹ وکیل ہائر کر سکتے ہیں؟قانونی وجود نا رکھنے والے کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دینے پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تعجب ہوا،

    سپریم کورٹ نے کہاکہ قانونی وجود نا رکھنے پر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ درخواست دائر نہیں کر سکتی،اگر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ متاثرہ فریق ہو تو وفاقی حکومت کے ذریعے درخواست دائر کرسکتی ہے،موجودہ کیس میں آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے تو وفاقی حکومت، صدر مملکت سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، کیا یہ وفاقی حکومت کا وفاقی حکومت کے ہی خلاف کیس ہے؟آرمی جنرل ہیڈ کوارٹرز ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا حق دعوی ہو ہی نہیں سکتا،آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نا کوئی فلاحی ادارہ ہے نا کارپوریشن، جب ایک ادارہ آئین و قانون میں وجود رکھتا ہی نہیں تو درخواست کیسے دائر کر سکتا ہے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ صدارتی آرڈر 1982 سے وجود میں آیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی آرڈر میں آئین و قانون کا حوالہ کہاں ہے؟ ،جسٹس اطہرمن اللہ نے عابد زبیری کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 245 پڑھیں کیا کہتا ہے، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے مطابق وفاقی حکومت کے احکامات پر افواج ملک کا بیرونی خطرات سے دفاع کرتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ افواج کا آرٹیکل 245 سے باہر کوئی کام نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ انتہائی سینئر وکیل ہیں اور ایک قانونی وجود نا رکھنے والے ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ قانونی وجود نا رکھنے والے درخواست گزار کا کیس نہیں سن سکتے، شکایت کنندگان کے وکیل موئز جعفری اسی لیے کنارہ کش ہو گئے کہ انہیں پتا تھا ان سے سنبھلے گا نہیں،

    عدالت نے شکایت کننگان کے وکیل موئز جعفری کی عدم پیشی پر خصوصی نمائندگی کی درخواست خارج کر دی ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    سندھ ہائیکورٹ نے عسکری فور میں پارکنگ ایریا میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روک دی تھی،ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیلی بمباری سے چھ ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 15 ہزار کے قریب زخمی ہیں، اسرائیلی بمباری سے 2300 سے زائد بچے بھی شہید ہو ئے ہیں، مرنیوالوں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے،

    اسرائیلی فوج نے ہسپتال، سکولوں، مساجد، چرچ کو بھی نشانہ بنایا، پناہ گزینوں کے کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا، غزہ میں عمارتیں ملیامیٹ ہو چکی ہیں، ملبے تلے ابھی تک لاشیں دبی جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ کے قریب گزشتہ روز بمباری کی جس سے چار فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 20 زخمی ہوئے،حماس کے حملے میں کئی اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، تین اسرائیلی فوج کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، حماس نے حملہ اس وقت کیا جب اسرائیلی فوج نے جنین کے قریب حملہ کیا،اسرائیلی فوج نےدعویٰ کیاہے کہ اس نے دو افراد کو گولی ماری ہے ،

    فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری سے ہونیوالی اموات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اب تک چھ ہزار 55 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیںَ،غزہ میں 6 لاکھ کے قریب بے گھر افراد نے عالمی ادارے کے مراکز میں پناہ لی ہوئی ہے

    غزہ کے ہسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر،زخمیوں کی آہ و بکا،پھر بھی طبی عملے کے حوصلے بلند
    اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں ہسپتالیں تباہ ہو چکی ہیں تو وہیں جو باقی رہ گئی ہیں ان میں ضروری طبی سامان کی قلت ہو گئی ہے، بمباری سے شہید و زخمیوں کو ہسپتال لایا جاتا ہے تا ہم ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ چکی ہے،اب تک فلسطینی ہسپتالوں میں 18 ہزار سے زائد شہریوں کو زخمی حالت میں لایا جا کا ہے،10 سے زائد ہسپتال بجلی کی بندش اور ادویات ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں،جو چل رہے ہیں ان میں ادویات کی قلت ہو چکی ہے،غزہ میں موجود ناصر ہسپتال نے ہنگامی منصوبے پر عمل شروع کرتے ہوئے صرف انتہائی نگہداشت کے مریضوں کو داخل کرنا شروع کیا ہے، معمولی زخموں والے مریضوں کو فوری طبی امداد کے بعد بھیج دیا جاتا ہے

    ہسپتالوں میں زخمیوں، لاشوں کے ڈھیر، پھر بھی طبی عملے کا حوصلہ بلند ہے، ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ گیت گا رہے ہیں،طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہم زخمیوں کوچھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے،

    اسرائیل کی شام میں بمباری،آٹھ شامی فوجی ہلاک ہو گئے
    اسرائیل باز نہیں آ رہا، غزہ پر بمباری کے بعد اب شام میں بھی فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں جس میں آٹھ شامی فوجی مارے گئے ہیں، شامی خبر رساں ادارے نے فوجی ذرائع کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں ڈیرہ شہر کے قریب فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حملوں کو اسرائیلی جارحیت کہا گیا، اس حملے میں آٹھ فوجیوں کی ہلاکت اور سات زخمی ہوئے ہیں.گزشتہ شب اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسکے طیاروں نے شامی فوج کے اڈوں کو نشانہ بنایا

    israeli qaidi

    حماس کے اہلکاروں نے ہمارا خیال رکھا، برتاؤ اچھا تھا، رہا ہونے والی اسرائیلی خواتین
    حماس کے جانب سے رہا کی جانے والی اسرائیلی دو خواتین نے دوران قید حماس کے رویئے کی تعریف کی ہے، خواتین کا کہنا تھا کہ حماس نے ہماری ضروریات کا خیال رکھا،حماس نے سات اکتوبر کو حملے کے وقت دو اسرائیلی خواتین کو بھی یرغمال بنایا تھا جس میں سے ایک کی عمر 85 برس تھی، دونوں خواتین کو حماس نے رہا کیا تو انہوں‌نے میڈیا سے بات کی،85 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ جب حماس کے اہلکاروں نے انہیں اغوا کیا اسوقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تا ہم دوران حراست انکے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی گئی اور اچھا سلوک کیا گیا،لفشٹز نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے اہلکار انہیں غزہ لے کر گئے اور وہاں جا کر ایک سرنگ میں بند کیا،دوران حراست انہیں طبی امداد بھی فراہم کی جاتی رہی، انکی حفاظت پر مامور لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ لوگ قرآن پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے،ایک ڈاکٹر روز ہمارا طبی معائنہ کرتا تھا، حماس کے اہلکار اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ جو دوائیاں وہ اسرائیل میں لے رہے تھے قید میں بھی انہیں وہی دوائیاں ملیں

    حماس کی قید سے رہا ہونے والی خواتین کا کہنا تھا کہ دوران حراست انہیں شیمپو،کنڈیشنر وغیرہ بھی دیئے گئے، ہماری سب ضروریات کا خیال رکھا گیا،کھانے میں ہمیں بریڈ،پنیر، کھیرے دیئے گئے،حماس والوں کا رویہ نرم تھا، مجھے اور میرے ہم عمر ساتھیوں کو ہر دو یا تین دن بعد ڈاکٹر بھی دیکھنے آتا تھا،دوران قید ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی.

    دوسری جانب اقوام متحدہ، امریکا اور کینیڈا نے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور پٹی غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی کمی سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی محفوظ ترسیل کی اجازت دی جا سکے

    دبئی کی ایئر لائن کی اسرائیل کے لئے پروازیں منسوخ
    اسرائیل اور حماس میں جاری لڑائی طوالت اختیار کرتی جا رہی ہے، جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہے، خدشہ ہے یہ جنگ باقی علاقوں میں بھی پھیلے گی، اسی جنگ کی طوالت کو لے کر دبئی کی ایئر لائن نے تل ابیب کے لئے اپنی پروازیں معطل کی ہیں، ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، موجودہ صورتحال میں پراوزیں خطرے سے خالی نہیں، متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں تا ہم شہریوں، عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اسی لئے اسرائیل کے لئے تمام دو طرفہ پروازیں 14 نومبر تک منسوخ کی جا تی ہیں، 14 نومبر کو پروازوں بارے دوبارہ فیصلہ کیا جائے گا

    اسرائیل حماس جنگ، اب انسانیت کہاں گئی؟امریکی رکن کانگریس الہان عمر
    اسرائیلی بمباری پر امریکی بھی بول رہے ہیں،امریکی رکن کانگریس الہان عمر جو مسلمان ہیں نے امریکی صدر پر شدید غصت کا اظہار کیا ہے، الہان عمر کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بتائیں حماس اور اسرائیل جنگ میں انسانیت کہاں ہے؟لاشوں کے ڈھیر سامنے ہیں، انکودیکھ کر کیسے دوستیاں برقرار رکھی جا سکتی ہیں،الہان عمر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کو بہت نقصان پہنچایا، امریکہ نے افغانستان میں جتنی بمباری ایک برس میں کی تھی اسرائیل نے دس دن میں غزہ پر اتنی بمباری کی،اب آپ لوگوں کی ہمدردی کدھر گئی، کیا انسانیت مر گئی ہے،

    اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر فلسطینی اداکار گرفتار
    دوسری جانب اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر اسرائیلی پولیس نے مشہور فلسطینی اداکارہ میسا عبدالہادی کو گرفتار کیا ہے، میسا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں حماس کی حمایت کی تھی، اسرائیلی پولیس نے یہ الزام عائد کیا،میسا کو نارتھ سے اسرائیلی پولیس نے گرفتار کیا ہے، حکام کے مطابق میسا نے حماس کے حق میں پوسٹیں کیں،میسا نے اسرائیل اور غزہ کے مابین ٹوٹی ہوئی باڑ کی تصویر پوسٹ کی تھی جس کا عنوان رکھا گیا تھا چلو برلن کے انداز میں چلیں، واضح رہے کہ اسرائیل سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کر رہا ہے اور اسرائیل کے خلاف یا حماس کی حمایت میں پوسٹیں کرنے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے

    اسرائیل ،حماس جنگ، پاکستان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں وسیع اور زیادہ خطرناک تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہےپاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں،

    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو امریکہ، اسرائیل سب نے یہ کہا تھا کہ حماس اکیلے یہ نہیں کر سکتا ایران اس حملے میں ملوث ہے تا ہم ایران کے اس حملے میں ملوث نہ ہونے کے شواہد ملنے پر اب امریکہ نے پھر ایران پر الزام لگانا شروع کر دیئے ہیں،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایران پر الزام عائد کیا اور کہا کہ حماس اور حزب اللہ کو تہران کی حمایت حاصل ہے،امریکی وزیر خارجہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ جاری تنازع وسیع جنگ کی صورت اختیار کر سکتاہے،امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا، لیکن اگر ایران یا اسکی پراکسیز نے امریکیوں پر کبھی حملہ کیا تو اس کو واشنگٹن پر حملہ کو تصور کریں گے.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • جو سہولت نواز شریف کو دی جا رہی عمران خان کو بھی دیں، وکیل کی استدعا

    جو سہولت نواز شریف کو دی جا رہی عمران خان کو بھی دیں، وکیل کی استدعا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں سیکیورٹی اور تحفظ کی بشری بی بی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی ،بشری بی بی کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سیکورٹی اور تحفظ کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپرٹنڈنٹ جیل کو بلا لیتے ہیں وہ آکر بتا دینگے کیا سہولیات اور اقدامات کیے جا رہے ہیں .اس درخواست پر آرڈر کرکے اگلے ہفتے کیس کو دوبارہ لگا دینگے ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے خیال میں پہلے محفوظ کیے گئے فیصلے سنا دیں ان کیسز کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ،جو سہولت نواز شریف کو پیش کی جا رہی ہے باقیوں کو بھی فراہم کی جائے ،نواز شریف کی طرح چیئرمین پی ٹی آئی کی بھی سزا معطل ہو چکی ہے ،

    ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل مینوئل کے تحت سہولیات دے رہے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک درخواست شیر افضل مروت صاحب کی تھی اس پر ڈویژن بنچ نے آرڈر کیا ہے ،اٹک تو کھلا علاقہ یے وہاں کیا سہولیات تھیں یہاں کیا ہیں ، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تو سزا بھی معطل ہے پھر بھی ایسا سلوک کیا جارہا ہے ،آپکی اپنی ججمنٹ ہے خادم حسین کیس میں جس میں آپ نے ڈائریکشن دی ہیں اسی پر عمل درآمد کروادیں،عدالت نے کہا کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کو اسی لیے بلا رہا ہوں تاکہ تسلی ہو جائے کہ عمل درآمد ہو رہا ہے کہ نہیں

    بشریٰ بی بی نے لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ خدشہ ہے کہ عمران خان کو جیل میں کھانے کے ذریعے زہر دیا جا سکتا ہے گھر کے کھانے کی اجازت نہیں دی گئی جیسا کہ ماضی میں قیدیوں کو سہولت دی گئی ذمہ دار میڈیکل افسر کے ذریعے خالص خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ملاوٹ زدہ خوراک شوہر کی زندگی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے

    بشری بی بی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ میرے شوہر کو جیل مینوئل کے مطابق وہ سہولیات بھی نہیں دی جا رہیں جس کے وہ حقدار ہیں جیل میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کرایا جائے میرے شوہر کے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک آئین کے آرٹیکل 9 اور14 کی خلاف ورزی ہے عمران خان کو جیل میں واک اور ایکرسائز کی سہولت فراہم کی جائے ".

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں جیل میں جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل شفٹ کر دیا گیا ہے، سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت نے چار اکتوبر کو طلب کر لیا ہے، ایف آئی اے نے سائفر کیس میں چالان جمع کروا دیا ہے،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے فلسطینی سفیر کی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصًم منیر نے غزہ میں جاری جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا،آرمی چیف نے جنگ میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے اندھا دھند قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا، آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ شہری آبادی، اسکولوں، یونیورسٹیوں، امدادی کارکنوں، اسپتالوں پر مسلسل حملے جرم ہے ، غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی انسانیت کے خلاف صریح جرم ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی راہداری کھولنے، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کے مطالبے کا اعادہ کیا، آرمی چیف نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہونے والی آزاد، قابل عمل اور ملحقہ ریاست فلسطین کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا، اور کہا کہ غزہ میں تشدد کی تازہ لہر بلا روک ٹوک جبر، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور ریاستی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا نتیجہ ہے، اس جنگ کو دہشت گردی سے جوڑنا نادانی ہوگی ،بین الاقوامی برادری اس انسانی المیے کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرے
    coas

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    احتساب عدالت سے ضمانت مںظور ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    شہباز شریف ، خواجہ آصف سمیت دیگر ن لیگی رہنما بھی اسلام آبا د ہائیکورٹ پہنچ گئے، نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.حنیف عباسی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،نواز شریف کورٹ نمبر ایک میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے،سردار ایاز صادق ،ظفراللہ خان ، حافظ حفیظ الرحمان ،طارق فضل چوہدری ،امیر مقام،دانیال چوہدری،رانا تنویر،عطا تارڑ،سینیٹر افنان اللہ،حنا پرویز بٹ،مریم اورنگزیب ،خواجہ آصف ،اعظم نزیر تارڑ، محسن شاہنواز رانجھا کے ساتھ مسلم لیگ ن کے متعدد رہنما نواز شریف کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھے

    چار سال اشتہاری رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرنڈر کر دیا

    سماعت کا آغاز ہوا تواسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت شروع، یہ کیا ہے ؟،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دو درخواستیں ہیں اپیلیں بحال کرنے کی ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل سے مطمئن نہ ہوئے تو پھر ، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں مطمئن کرونگا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر ہم نیب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی روٹین کا معاملہ نہیں، آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ آپ عدالت سے غیر حاضر کیوں رہے؟ نواز شریف نے جسٹیفائی کرنا ہے کہ کیوں وہ اشتہاری ہوئے؟، وہ عدالت کیوں پیش نہیں ہوتے رہے

    نواز شریف کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر عدالت سے غیر حاضر نہیں ہوئے ، عدالت نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی، میڈیکل رپورٹس جمع کراتے رہے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اوررنگزیب نے نواز شریف کے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات واضح کردوں آپ نے قانون کے مطابق چلنا ہے، کیا ملزم اپنی مرضی سے وطن واپس آ کر اپیلیں بحال کرانے کا کہہ سکتا ہے؟، کیا عدالت اپیلیں بحال کرنے کی پابند ہے؟ اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی معمول کا معاملہ نہیں،اعظم نذیر تارڑ نے استدعا کی کہ یہ فرسٹ امپریشن کا کیس ہے، ہمارے حفاظتی ضمانت کے آرڈر میں کچھ روز کی توسیع کر دیں،پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت کے سامنے پیش ہوئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کے سامنے اقرارکیا کہ نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع پر ہمیں اعتراض نہیں ہے،ہم نے اپیلوں کی بحالی سے متعلق درخواستیں پڑھی ہیں، ہمیں ان درخواستوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے،اگر حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی جائے تو ہمیں اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کیسز میں 5 سال بعد واپس آیا ہوں، سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کیا یہ وہی نیب ہے .آپ کو پتہ ہے عام عوام کا کتنا وقت اس کیس میں لگا ؟،بڑا آسان ہے عدالت میں الزام لگایا جائے ،میں کنفیوژ ہوں کہ کیا یہ وہی نیب ہے؟،2 ہائیکورٹس کے ریٹائرڈ جج اور پوری ریاستی مشینری اس وقت متحرک تھی، اب وہی نیب پیش ہو کر کہہ رہی ہے کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ٹائم اور کیوں ضائع کرتے ہیں، کیا اب نیب یہ کہے گی کہ کرپٹ پریکٹسز کا الزام برقرار ہے، نوازشریف کو چھوڑ دیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب کہاں ہیں ؟،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ وہ ملک میں ہی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر عدالت ضمانت میں توسیع نہیں کرتی تو کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرے گا؟،جس طرح میں نے کہا میں اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں،چیئرمین نیب کے سامنے معاملہ رکھیں، کیوں عوام کا وقت دوبارہ ضائع کر رہے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اگر سمجھتا ہے کہ ریفرنسز غلط دائر ہوئے تو وہ واپس لے لے، اگر نیب نے ریفرنسز واپس لینے ہوں تو کیسے لئے جا سکتے ہیں؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہائے کیا زود پشیماں کا پشیماں ہونا، ایسا نہ کریں، نواز شریف پر بہت سے الزامات لگائے گئے، نواز شریف کو عدلیہ اور آئین سرخرو کرینگے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو بھی تاریخ مقرر کریں گے آپ چیئرمین نیب سے ہدایات لے کر آئیں، آئندہ سماعت پر آپ کلیئر پوزیشن لیں، یہ آپ کے ادارے کےلئے بھی ٹھیک نہیں ، ہمیں واضح بتا دیں تاکہ ہم فیصلہ دے کر کوئی اور کام کریں، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں جواب دیا ،جی سر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا اور کہا کہ ہم پھر پوچھ رہے ہیں کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتا ہے؟ ، کیا حفاظتی ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض ہے،پراسکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ہم گرفتار نہیں کرنا چاہتے، حفاظتی ضمانت میں توسیع پر بھی کوئی اعتراض نہیں،عدالت نے کہا کہ شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دوبارہ پوچھتے ہیں کیا آپ نوازشریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ نہیں، گرفتار نہیں کرنا چاہتے ،

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی، عدالت نے نیب سے جواب طلب کر لیا،نواز شریف کی سزا کیخلاف درخواستیں بحال کرنے کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا گیا،عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی،عدالت نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں جمعرات تک توسیع کردی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 2 دن کی توسیع کی گئی.جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں کو میرٹ پر دیکھیں گے.

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے کمرہ عدالت سے تمام وکلاء لیگی رہنما اور صحافیوں کو باہر نکال دیا گیا،کمرہ عدالت میں کی سیکورٹی کلیرنس کے بعد لوگوں کو دوبارہ اندر آنے کی اجازت دی جائے گی

    نواز شریف کے کیسز پر سماعت مسلم لیگ ن کے وکلا اور رہنماؤں کی وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاخیر کا شکار ہوئی، عدالتی عملے کی جانب سے کمرہ عدالت خالی کرانے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ جب تک کورٹ روم خالی نہیں کریں گے، بم ڈسپوزل سکواڈ سیکورٹی کلیئرنس نہیں کرے گا،صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک نےبھی وکلا سے کمرہ عدالت خالی کرنے کی اپیل کی،عطا تارڑ کی جانب سے بھی وکلا اور ن لیگ رہنماؤں کو سیکورٹی کلیئرنس کے لیے کورٹ روم خالی کرنے کی ہدایت کی گئی،نواز شریف کیس میں مخصوص وکلا اور تیس کورٹ رپورٹرز کو کورٹ روم داخلے کی اجازت ہے

    واضح رہے کہ نواز شریف احتساب عدالت پیشی کے بعد منسٹر انکلیوچلے گئے تھے، نواز شریف احتساب عدالت آئے بھی منسٹر انکلیو سے تھے، وہاں سے پھر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تو انکے ساتھ 18 گاڑیاں تھیں، نواز شریف کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ملی،
    nawaz

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشی کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے نواز شریف کو خصوصی سکیورٹی فراہم کی ہے نوازشریف کی سکیورٹی سکواڈ میں 3 سپیشل پولیس وینز شامل کی گئی ہیں،اے ٹی ایس اہلکاروں کا خصوصی دستہ بھی نواز شریف کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے.

    کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ؟ نواز شریف سے صحافی کا سوال، جواب نہ ملا،گارڈ کے صحافی کو دھکے
    نواز شریف کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر کوریج کرنے والے صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کرنے کی کوشش کی تو انہیں دھکے دیئے گئے، اس ضمن میں صحافی زبیر علی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوال پوچھا کہ کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ہے؟ جنرل باجوہ کا احتساب آپ کریں گے؟ میاں صاحب نے سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن ان کے گارڈز نے دھکے دیے موبائل چھننے کی کوشش کی

    صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ الیکشن میں حصہ لیں گے،جس کے جواب میں نواز شریف مسکرا دیے،صحافی نے سوال کیا کہ ملڑی کورٹس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے؟ نواز شریف نے ججز کی کرسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کورٹ آرہی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: میاں نواز شریف کا مرکزی گیٹ پر کارکنان کی جانب سے استقبال کیا گیا،کارکنان نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،کارکنان کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگائے گئے،کمرہ عدالت کے اندر شدید بد نظمی، وکلاء نے نواز شریف کو گھیر لیا،وکلاء دھکم پیل کرکے زبردستی کمرہ عدالت میں داخل ہوگئے، پولیس کی ایک نہ چلی،کمرہ عدالت کا ڈیکورم شدید متاثر، لیگی وکلاء کمرہ عدالت میں ہی سیلفیاں لینے لگ گئے،لیگی رہنماؤں، وکلاء اور کارکنان کے سامنے اسلام آباد پولیس بے بس ہو گئی.

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، آج 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ ، ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، سپریم کورٹ نے عام انتخابات ایک تاریخ کو کرانے کی درخواست خارج کردی،سپریم کورٹ نے واپس لینے کی بنیاد پر درخواست خارج کی،درخواست گزار کی جانب سے شاہ خاور پیش ہوئے اور کہا کہ اب اس درخواست کی ضرورت نہ رہی،کل عدالت پہلے ہی یہ معاملہ اٹھا چکی ہے ،یہ اس وقت ہم نے ایک کوشش کی تھی، اس وقت عدالت نے 14 مئی کو انتخابات کا آرڈر دیا تھا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو درخواست دینی چاہئے تھی کہ 90 دن میں الیکشن نہیں کرارہے ان کے خلاف کاروائی کریں، آپ الیکشن التوا میں ڈالنے والوں کی معاونت کیوں کرتے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم قانون کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں جو آپ درخواست میں مانگ رہے ہیں ،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 4 سال بعد انتخابات کا حکم دیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ قانون کے برخلاف تو کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ، شاہ خاور نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ معاملہ ختم ہوگیا ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپکا کا موقف یہی تھا کہ ایک ساتھ انتخابات ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل کو دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو پھر؟ شاہ خاور نے کہا کہ ہم پھر ایک درخواست دائر کردیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر اس معاملے پر ایک ہی بار فیصلہ نہ کردیں ؟ اگر آڈر آف دا کورٹ کی خلاف ورزی ہو تو توہین عدالت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں،آپ اکثریت کا فیصلہ چیلنج کریں، آڈر آف دا کورٹ کی اہمیت ہوتی ہے، ایک آڈر آف دا کورٹ نہ ہو تو ہر جج کہے گا یہ آڈر آف دا کورٹ ہیں،انتخابات کے معاملے پر 4 آڈر آف دا کورٹ تھے یا پانچ؟ فارق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں مذاکراتی کمیٹی بات چیت کیلئے بنی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں ، آڈر آف دا کورٹ سے اکثریت واضح ہوجاتی ہے، آڈر آف دا کورٹ سے فیصلے کا نتیجہ مل جاتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت آئین کے دیباچے کے خلاف ہیں ، 6 ماہ کیلئے نگران سیٹ اپ کیسے ہوسکتا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ نگران حکومت کا مقصد کیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت کا مقصد صاف اور شفاف انتخابات ہیں،آج تک صاف شفاف انتخابات نگران حکومت نہیں کرواسکی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کروانا تو الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کا پھر کیا کام ہے،چلیں خیر یہ دیکھنا پارلیمنٹ کا کام ہے،ہم صرف تشریح ہی کر سکتے ہیں ،وکیل شاہ خاور کی جانب سے درخواست واپس لینے پر عدالت نے خارج کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے سے عین پہلے اسمبلی تحلیل کرنے کا کیا مقصد ہے؟ میں سوالات اٹھا رہا ہوں کہ شاید پارلیمنٹ ان پر غور کرے ،الیکشن سے بہت پہلےکے اصولی مؤقف پراسمبلی تحلیل کرناتوالگ بات ہے ،الیکشن سےعین پہلے ایساکرنے سے کیا ہوگا؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • پاکستان کا ’’غوری‘‘میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاکستان کا ’’غوری‘‘میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاکستان نے غوری میزائل سسٹم کی ٹریننگ اور لانچنگ کا کامیاب تجربہ کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے غوری ویپن سسٹم کی ٹریننگ لانچنگ کا کامیاب تجربہ کیا ہے،تجربے کا مقصد آرمی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ کی آپریشنل اور تکنیکی تیاری کو جانچنا تھا۔میزائل کے لانچ کا مشاہدہ کمانڈر آرمی اسٹریٹجک فورس کمانڈ (ASFC)، اسٹریٹجک فورسز کے سینئر افسران، اسٹریٹجک تنظیم کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے کیا۔کمانڈر اے ایس ایف سی نے آرمی اسٹریٹجک فورسز کی تربیت اور آپریشنل تیاریوں کے معیار کو سراہا،>انہوں نے پاکستان کی سٹریٹجک صلاحیت میں اضافے کے لیے سائنسدانوں اور انجینئرز کی خدمات کو بھی سراہا۔صدرمملکت، وزیراعظم پاکستان، اور سروسز چیفس نے تربیتی لانچ کے کامیاب انعقاد پر شریک فوجیوں، سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا۔

    بھارتی میزائل کا پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ،چین کا تحقیقات کا مطالبہ

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

  • پنجاب حکومت نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کردی

    پنجاب حکومت نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کردی

    نگران پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ، العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سز ا معطل کر دی،

    نوازشریف نے پنجاب حکومت کو سزا معطلی کرنے کی درخواست کی تھی.سابق وزیراعظم نوازشریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب حکومت کو درخوست دی تھی،نگران حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست منظور کرلی،نگران حکومت نے کریمنل پروسیجرل کوڈ کے سیکشن 401 کے تحت نواز شریف کی سزا معطل کی۔

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر نے پنجاب حکومت کی جانب سے سزا معطلی کی تصدیق کر دی، عامر میر کا کہنا تھا کہ کیس کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی, پنجاب کی نگراں کابینہ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطل کر دی ہے،نواز شریف کی 2019 میں لندن روانگی سے قبل بھی سیکشن 401 کے تحت سزا معطل کی گئی تھی،باخبر ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ کا باقاعدہ اجلاس نہیں ہوا لیکن سب کی رائے سے منظوری لی گئی,

    نگران حکومت مجرموں کو ریلیف دینے نہیں بلکہ الیکشن کروانے آئی تھی،پیپلز پارٹی
    پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کا نگران حکومت کی جانب سے نواز شریف کی سزا معاف کرنے کے فیصلے پر رد عمل آیا ہے، حسن مرتضٰی کا کہنا ہے کہ نواز شریف لاڈلا پلس بلکہ عمران پلس بننے کی مبارکباد،پنجاب کی نگران حکومت کا نواز شریف کی سزا معطل کرنا بھونڈا طریقہ ہے۔ اگر ایسے ہی فیصلے ہونے ہیں تو عدالتوں کو تالے کیوں نہیں لگا دئے جاتے ؟ نگران حکومت ہر وہ کام کررہی ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے۔ نگران حکومت مجرموں کو ریلیف دینے نہیں بلکہ الیکشن کروانے آئی تھی۔ نوازشریف کی سزا معطلی کی منظوری دینا نگران پنجاب کابینہ کا کام نہیں۔ الیکشن کمیشن نگران حکومت کی اس جانبداری کا نوٹس لے،ابھی سے صاف نظر آ رہا ہے کہ عمران خان پلس کیلئے میدان سجایا جا رہا ہے۔پنجاب کی جیلوں میں پڑے اور کتنے مجرموں کی سزا پنجاب کی نگران کابینہ نے معطل کی؟ انوکھا لاڈلا کھیلن کو چاند مانگے گا تو کیا نگران حکومت اُسے چاند لا کر دے گی؟نگران حکومت کو باقی قیدیوں کی سزا بھی معطل کر دینی چاہیے انکا حق نواز شریف سے زیادہ ہے۔

    نوازشریف نے 2019 میں بیرون ملک جانے کیلئے میڈیکل گراؤنڈ پر سزا معطلی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے میڈیکل گراؤنڈ پر نہ صرف نوازشریف کی سزا معطل کی تھی بلکہ تحریری حکم میں یہ لکھا تھا کہ اگر نواز شریف سزا معطلی میں مزید توسیع چاہتے ہیں تو متعلقہ پنجاب حکومت میں درخواست دے سکتے ہیں،

    دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا نواز شریف کی سز امعطلی بارے کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس ججمنٹ کو آفر کیا تھا یہ فیصلہ کابینہ نے لیگل ایڈوائس کے تحت کیا،اس فیصلے پر کوئی کیسے معترض ہو سکتا ہے؟ نوازشریف کیخلاف کیسز عجلت میں بنائے گئے،لیگل پیچیدگیاں ہوتی نہیں بنا دی جاتی ہیں،پچھلے دور میں کیسز کی ایک لمبی لسٹ ہے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • توشہ خانہ کیس، سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت منظور

    توشہ خانہ کیس، سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت منظور

    سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت پہنچ گئے ہیں،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ، نواز شریف کی پیشی سے قبل کمرہ عدالت خالی کرا لیا گیا ،ن لیگی رہنما احسن اقبال، طارق فضل چوہدری، ایاز صادق اور رانا تنویربھی احتساب عدالت پہنچ چکے ہیں،احتساب عدالت آمد پر ن لیگی کارکنان نے نعرے لگا کر نواز شریف کا استقبال کیا، نواز شریف کے ساتھ ، شہباز شریف ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، طارق فضل چودھری، اسحاق ڈار موجود ہیں.

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے عدالت میں سرینڈر کر دیا،نواز شریف عدالت میں پیش ہو گئے، نواز شریف جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہوئے،جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو روسٹرم پر بلالیں،نواز شریف روسٹرم پر آئے تو عدالت نے نواز شریف کو کمرہ عدالت سے واپس جانے کی ہدایت کر دی.نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ نوازشریف نے سرینڈر کر دیا انکے وارنٹ مسترد کر دیں،وارنٹ مسترد ہونگے تو ٹرائل آگے چلے گا،عدالت نے نواز شریف کی دس لاکھ روپے مچلکوں پر ضمانت لے لی،نوازشریف کی جانب سے مچلکے عدالت میں جمع کرا دیے گئے ،نوازشریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست بھی دائر کر دی گئی،عدالت نے نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا،نواز شریف نے مستقبل میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کردی جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم کیلئے تو نوازشریف کو آنا ہی پڑے گا،

    توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کا اشتہاری کا اسٹیٹس ختم،دائمی وارنٹ منسوخ کر دیئے گئے،جج محمد بشیر نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ویسے بہت مزہ آتا ہے جب کافی لوگ جمع ہوتے ہیں،وکیل نواز شریف نے کہا کہ لوگ کسی کے پیچھے اکٹھے نہیں ہوتے جن پر انہیں اعتماد نہ ہو، جج محمد بشیر نے کہا کہ بس اب بس،اب آپ سیاسی بات کر رہے ہیں، جج محمد بشیر کے جملے پر قہقہے گونج اٹھے.
    nawaz sharif

    نواز شریف اسلام آبا دہائیکورٹ میں پیش ہوں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نواز شریف سرنڈر کریں گے، اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے،

    قبل ازیں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کو پیش ہونے کے لیے ایک سے ڈیڑھ بجے کا وقت دیا تھا ، نواز شریف کے وکیل نے استدعا کی کہ باقی روٹین کے کیسز سن لیں، ہمیں وقت دیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس،سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کیسز کی سماعت اڑھائی بجے کے بعد ہوگی،کیس کی سماعت ریگولر بینچ کے بعد خصوصی ڈویژن بینچ سماعت کرے گا،چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کریں گے،عدالت نے آج تک نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی

    احتساب عدالت اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق کیس،نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں 3 درخواستیں دائر کردیں،توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کی ضم شدہ پراپرٹی ریلیز کرنے کی استدعا کی گئی،دوسری درخواست میں کہا گیاکہ توشہ خانہ کیس میں پلیڈر مقرر کیا جائے،ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے لیے بھی درخواست دائر کر دی گئی،

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر بھی آج سماعت ہو گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزاؤں کیخلاف اپیلوں کی درخواستوں پر سماعت کرے گا

    نواز شریف عدالت پیشی کے بعد مولانا فضل الرحمان کو ملنے جائیں گے
    سابق وزیراعظم نواز شریف مختلف عدالتوں میں پیشی کے بعد اسلام آباد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے،نواز شریف سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی رہائش گاہ جائیں گے ،سابق وزیراعظم نواز شریف سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ جائیں گے اور مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کریں گے، نواز شریف مولانا فضل الرحمان کی خوشدامن کی وفات پر اظہار تعزیت کریں گے ، اس موقع پر ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بات چیت کی جائے گی

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسحاق ڈارکی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ نواز شریف منسٹرز انکلیو میں اسحاق ڈار کی رہائشگاہ پر کچھ وقت گزاریں گے، سابق وزیراعظم کچھ دیر بعد احتساب عدالت کے لیے روانہ ہوں گے،

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، آج 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے، نواز شریف احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • کیاآ ئین  کی خلاف ورزی پر ججز  کا احتساب ہوناچاہیے؟

    کیاآ ئین کی خلاف ورزی پر ججز کا احتساب ہوناچاہیے؟

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں مسلم لیگ ن کے رہنماء قیصر احمد شیخ سے سوال کیا کہ کیاآ ئین کی خلاف وارزی پر ججز کا احتساب ہوناچاہیے؟ تو اس پر انہوں نے آئیں بائیں شائیں کرتے ہوئے کہا کہ ان کا احتساب کون کرے گا اس پر سینئر اینکر نے انہیں جواب دیا کہ ہمارے پاس سپریم کونسل موجود ہے اس پر انہوں نے کہا اس کو چھوڑ دینا چاہئے ( یعنی دوسرے الفاظ میں ججز کا احتساب نہیں ہونا چاہئے)

    سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان نے کہا کہ تاریخ کو بدلہ بھی جاسکتا ہے اور اگر آج تک تاریخ میں ایسا نہیں ہوا تو اب احتساب کرلینا چاہئے تو اس کے جواب میں لیگی رہنماء الٹا مبشر لقمان کو کہنے لگے کہ کیا آپ اس کا فیصلہ کریں گے ؟ اس پر اینکرپرسن نے جواب دیا کہ ہماری پاکستانی شہری ہیں اور ہمیں سوال کرنے کا حق ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    متحدہ قومی موومنٹ نے 29 اکتوبر کو لیاقت آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان کردی

    الیکشن کی تاریخ کا اعلان بہت جلد ہوجائے گا. نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ
    جعلی پاسپورٹس تحقیقات؛ حکام کی ملی بھگت کا انکشاف
    راولپنڈی پشاور کےدرمیان ریلوے کے کرائے روڈ ٹرانسپورٹ سے بھی زیادہ
    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں جب نواز شریف واپس آئے تھے اور انہیں ہائی کمیشن ائیرپورٹ پر پروٹوکول دینے کیلئے سی آف کرنے آئے تھے اور اس بارے میں ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں پاکستانی ہائی کمیشن انہیں کہہ رہے تھے اس طر ح کا بیانیہ بنانا ہے اس بارے جب مبشر لقمان نے سوال کیا تو مسلم لیگ ن کے رہنماء قیصر احمد شیخ کے پاس اس کا کوئی مدلل جواب نہ تھا÷