Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا مختصر تحریری فیصلہ جاری

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا مختصر تحریری فیصلہ جاری

    عدالت عظمیٰ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا 6 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہےجبکہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دے دیا ہے اور فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں5 رکنی لارجربینچ نے کی تھی اور بینچ میں جسٹس منیب اختر ، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی سمیت جسٹس عائشہ ملک شامل تھے۔

    جبکہ سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل 5 رکنی بینچ نے متفقہ طور پرکالعدم قرار دیا تھا تاہم آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی ون کو آئین سے متصادم 4 ججز نے قرار دیا ہے جب کہ جسٹس یحیٰی نے اس پر اپنی رائے محفوظ رکھی تھی جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ چار ججز آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن 59(4) غیر آئینی قرار دیتے ہیں۔

    خیال رہے کہ تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر ،جسٹس مظاہر نقوی،جسٹس عائشہ ملک نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کاسیکشن 59(4) غیر آئینی قرار دیا جبکہ جسٹس یحیٰی آفریدی نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی شقوں پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے تاہم اس تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 9 اور 10مئی کے واقعات میں گرفتار افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوگا بلکہ ان کا ٹرائل کرمنل کورٹ یاقانون کے مطابق قائم خصوصی عدالتوں میں ہوگا۔

    واضح رہے کہ فیصلے کے مطابق 9 اور 10 مئی کے واقعات میں گرفتار افراد کے ملٹری ٹرائل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، 9 مئی کے واقعات میں ملوث تمام افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائیاں غیر قانونی قرار دی جاتی ہیں اور سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ چار ججز آرمی ایکٹ کا سیکشن 59 غیر آئینی قرار دیتے ہیں، علاوہ ازیں اس تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر نقوی،جسٹس عائشہ ملک آرمی ایکٹ کا سیکشن 59 غیر آئینی قرار دیں تھیں۔

    تاہم اس تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ 9 اور 10 مئی واقعات پر آرمی کورٹس میں چلائے گئے مقد مات غیر مؤثر قرار دیے جاتے ہیں اور کورٹ مارشل سمیت کسی قسم کی بھی کارروائی غیر مؤثر ہے جبکہ مختصر فیصلے کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر ،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک نے شقیں غیر آئینی قرار دیں اور عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کی حد تک جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی فیصلے سے اتفاق کیا۔ واضح رہے کہ اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

  • نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی طلبہ سے خطاب میں کہا کہ فارغ التحصیل طلباء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز کا پتہ لگائیں اور ان کا تجزیہ کرکے اپنے فکری وسائل بروئے کار لاکر ان کا حل تلاش کریں جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کا سالانہ کانووکیشن یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں آرمی چیف نے شرکت کی ہے.

    جبکہ چیئرمین نسٹ بورڈ آف گورنرز، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے افتتاحی ماسٹر کانووکیشن تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی تھی اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو اعزازات سے نوازا گیا تھا تاہم کانووکیشن کے دوران بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے طلباء نے ڈگریاں حاصل کیں ہیں اور مرکزی کیمپس میں نسٹ کے 7 بنیادی مضامین کے 3500 سے زائد گریجویٹس کو ڈگریاں دی گئیں ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گریجویٹس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے طلباء، ان کے والدین اور اساتذہ کو دلی مبارکباد دی اور تدریس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر نسٹ کی تعریف کی اور کہا کہ نسٹ قوم کے لیے بہترین معمار تیار کررہا ہے، جو قوم کی خدمت کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    علاوہ ازیں آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیہ میں لکھا کہ؛ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم ایک آپشن نہیں بلکہ ضرورت ہے کہ آج طلباء کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہورہا ہے لہذا جو ایک اہم تبدیلی کی نوید کے ساتھ ذمہ داری کا عندیہ دیتا ہے اور اس نئی ذمہ داری کو بہتر انداز میں سرانجام دیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانی روپے کے مقابلے امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ
    الیکشن کی تاریخ کا اعلان بہت جلد ہوجائے گا. نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ
    جعلی پاسپورٹس تحقیقات؛ حکام کی ملی بھگت کا انکشاف
    راولپنڈی پشاور کےدرمیان ریلوے کے کرائے روڈ ٹرانسپورٹ سے بھی زیادہ
    آئی ایس پی آر نے مزید بتایا آرمی چیف نے مزید کہا کہ اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز کا پتہ لگائیں اور ان کا تجزیہ کرکے اپنے فکری وسائل بروئے کار لاکر ان کا حل تلاش کریں جبکہ قبل ازیں نسٹ آمد پر ریکٹر نسٹ نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا استقبال کیا۔

  • ملک ریاض اور بیٹے کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج

    ملک ریاض اور بیٹے کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج

    ملک ریاض کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج کر لیا گیا

    ملک ریاض کے خلاف مقدمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے درج کروایا ہے، مقدمہ شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال تھانے کی حدود میں درج کیا گیا ہے،مقدمہ چیک باؤنس ہونے پر درج کیا گیا،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق میسرز بحریہ ٹاؤن کے پبلک سیل اینڈ ایڈورٹائزمنٹ کے لیے این او سی کی مد میں دیئے گئے تین چیک باؤنس ہو چکے،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر بللک سیل نے ملک ریاض کے خلاف مقدمہ درج کروایا، مقدمے میں ملک ریاض کے بیٹے کو بھی نامزد کیا گیا ہے.

    درج مقدمے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے اسکروٹنی فیس کی مد میں پانچ چیک جمع کرائے ان میں سے 3 چیک باؤنس ہو گئے،مقدمہ 21 اکتوبر کو درج کیا گیا،

    سپریم کورٹ نے ملک ریاض سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    آخر یہ القادر ٹرسٹ کیس ہے کیا؟

  • صدر کے پاس اختیار تھا تو  انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    صدر کے پاس اختیار تھا تو انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں 90دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری روسٹرم پر آ گئے، درخواست گزار عبادالرحمان لودھی بھی ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹرعلی ظفر ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری بھی ایک اپیل سماعت کے لئے مقرر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست پر رجسٹرار افس نے اعتراضات عائد کیے تھے،اعتراضات کے خلاف تو جج چیمبر اپیل سنتا ہے،چلیں ہم اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے دلائل شروع ہو گئے، عابد زبیری نے کہا کہ ہم نے 16 اگست کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،درخواست پر نمبر لگ گیا،جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست کے باوجود کیس نہیں سنا گیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی آفس کی طرف سے ایک نوٹ بھیجا گیا ہے،اس میں تو لکھا ہےاپ نے کبھی کیس کی جلد سماعت کی درخواست ہی دائر نہیں کی،آپ صدر سپریم کورٹ بار ہو کر عدالت سے غلط بیانی کر رہے ہیں،عام انتخابات سے متعلق درخواست تو انتہائی اہمیت کا حامل مقدمہ ہے،عام انتخابات کیس تو بہت اہم مقدمہ ہے فوری سماعت ہونی چاہیئے تھی،اب تک تو اس کیس کا فیصلہ ہو چکا ہوتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 19اے سے متعلق فیصلہ سنا چکی ہے، اب آپ ایک چٹھی لکھتے آپ کو مشترکہ مفادات کونسل کا ریکارڈ مل جاتا،آپ کے مطابق مردم شماری کا آغاز 18 ماہ پہلے ہوا تھا، عابد زبیری نے کہا کہ پانچ اگست کو مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری جاری کرنے کی منظوری دی، سات اگست کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مردم شماری کب ہوگی کیا اس کا کوئی طے شدہ ضابطہ ہے؟ کیا مردم شماری کا تعلق الیکشن کے انعقاد سے ہوتا ہے؟ مردم شماری کا آئینی تقاضہ کیا ہے اور کب ہوتی ہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اس کی پالیسی سازی کے لیے لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ سوال اب بھی یہی ہے کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آخری مردم شماری کب ہوئی؟ عابد زبیری نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تو لکھا تھا وہ عبوری مردم شماری ہوگی، چکیا اس کے بعد کوئی حتمی مردم شماری بھی ہوئی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ آئینی ضرورت ہے کہ ہر الیکشن سے قبل مردم شماری لازمی ہوگی؟عابد زبیری نے کہا کہ نہیں یہ لازم نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر موجودہ مردم شماری کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو الیکشن 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوں گے؟ 2017 کی مردم شماری تو عبوری تھی اور صرف 2018 کے الیکشن کے لیے تھی،ہمیں صرف اس سوال کا جواب دے دیں نئی مردم شماری کالعدم قراردیں تو انتخابات کس مردم شماری کے تحت ہونگے،عابد زبیری نے کہا کہ میں ایک عدالتی فیصلہ بطور نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے عدالتی فیصلوں پر ہی انحصار کرنا ہے تو آپکو کیوں سن رہے ہیں،پھر ہم عدالتی فیصلہ دیکھ کر خود ہی حکم جاری کردیتے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں کے پی اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا غیر آئینی تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں آئین میں کہاں لکھا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نگران وزرائے اعلیٰ شریک نہیں ہوسکتے، آپ جذباتی نہیں آئین کے مطابق دلائل دیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوے دنوں میں انتخابات کے انعقاد کے آئینی شق کی خلاف ورزی تو ہوچکی،کیا آپ اپنی درخواست پر اب بھی چاہتے ہیں کہ کاروائی ہو، عابد زبیری نے کہا کہ نوے دن گزر جانے کے باوجود دو نگران صوبائی حکومتیں ابھی بھی کام کرہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے لئے الگ سے کوئی درخواست دائر کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر ہم مردم شماری کے معاملے میں پڑے تو انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال ایک ہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ انتخابات 2017 کی مردم شماری ہے مطابق ہوں،ہم مختصر وقفے کے بعد آرہے ہیں، آپ اس معاملے پر تیاری کرلیں،عابد زبیری نے کہا کہ بارہ اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا تھا جس میں مردم شماری کا فیصلہ ہوا ،اس اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلی نے کونسل کے فیصلے سے اختلاف کیا، مردم شماری کا سلسلہ 2021 میں شروع ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب مردم شماری کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟ وکیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی،مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا، لیکن تاخیر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 کے فیصلے پر عمل 2021 میں ہوا، میں اس بارے میں اس لئے جانتا ہوں کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمات کی سماعت کی،جس نے تاخیر کی اس شخصیت کا نام لیں نا وکیل صاحب، جب مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا اس وقت آپ نے بطور وکیل کیوں نہیں درخواست دائر کی، وکیل صاحب اگر اپ سیاسی دلائل دینا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے یہ عدالت موزوں فورم نہیں، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مردم شماری کی پر فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تھا ،ایک وزیر اعظم اور چار وزرا اعلی بیٹھتے ہیں ،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوتا ہے،ملک میں اس وقت صرف ایک صوبے میں بلدیاتی حکومتیں موجود تھیں وہ صرف بلوچستان تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی تو ہم کیا کریں؟کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت کو استثنی حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کیخلاف ہم کیا کرسکتے ہیں ؟اپنی رٹ بحال کرنے کیلئے حکم جاری کرسکتے ہیں،اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے تو آرٹیکل 6 لگے گا،تاریخ دینے کے حوالے سے قانون میں ترمیم ہوگئی تھی، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 48 سے متصادم ہے؟الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں؟انتخابات تو ہونے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کو ایک وکیل نے خط لکھا ، اسکا کیا جواب ملا؟ درخواست گزار منیر احمد نے کہا کہ صدر مملکت نے کوئی جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو تاخیر کا زمہ دار صدر مملکت کو ٹھہرا رہے ہیں،کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟ چاس مقدمے میں درخواست گزار ایسے ہیں جو سنجیدہ نہیں، ایک درخواست گزار ہیں جنہوں نے سماعت کے بعد وکیل تبدیل کیا، اگر ہم مقدمات مقرر نہ کریں تو پھر کہا جاتا ہے کہ مقدمات مقرر نہیں کئے جاتے،میڈیا پر جاکر باتیں کی جاتی ہیں، سپریم کورٹ رولز پروسیجر کیس میں جلدی فیصلہ ہوسکتا تھا لیکن اس کیس کو لمبا کیا گیا، ہم پر دل کھول کرتنقید کریں، لیکن یہاں آکر کیس میں دلائل دیں،لوکل گورنمنٹ انتخابات کیس میں سپریم کورٹ کے کہنے پر مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا،ہم تاریخ کو فراموش نہیں کر سکتے،گزشتہ حکومت نے مردم شماری کرانے کے فیصلے کیلئے چار سال لگا دیئے،عابد زبیری نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کا حکم بھی اسی عدالت نے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمدرآمد نہیں ہوا لیکن کیا دو صوبوں میں انتخابات کا کیس زیر سماعت ہے؟آپ وکیل ہیں لے آئیں ناں کوئی توہیں عدالت کی درخواست، کس نے روکا ہے؟ جب میں بلوچستان کا چیف جسٹس تھا صرف بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار منیر احمد نے بھی جلد سماعت کی درخواست نہیں دی، میڈیا پر انتخابات کیس پر لمبی لمبی بحث ہوتی ہے، ہم کیس لگائیں تو الزام، کیس نہ لگائیں تو بھی ہم پر الزام ، یہ ایسا مقدمہ ہے جو ہر صورت لگنا چاہیے تھا،آج وکلاء کے پاس مقدمے کی فائل ہی نہیں ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے اہم مقدمات لگانا شروع کر دیئے ، میڈیا پر لمبی لمبی تقریریں اور کمرہ عدالت میں وکیل کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اگر ہم نے تاخیر کرنا ہوتی تو فوجی عدالتوں کا نیا بینچ بنا دیتے،میڈیا ہم پر انگلی اٹھائے اگر ہم غلطی پر ہیں، کیس عدالت میں چلانا ہے یا ٹی وی پر چلانا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپنا مقدمہ صرف 90 دن میں انتخابات پر رکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 90 دنوں والی بات ممکن نہیں ، وہ بات بتائیں جو ممکن ہو، آپکا سارا مقدمہ ہی صدر مملکت کے اختیارات کا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے تو پھر تاخیر کا زمہ دار کون ہے؟ آئینی کام میں تاخیر کے نتائج ہونگے،وکیل انور منصور نے کہا کہ صدر مملکت کے خط کے بعد تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت نے آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی؟آپ ایک وقت میں دو مختلف دلائل نہیں دے سکتے، آرٹیکل 48 پر انحصار کریں یا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 پر؟ صدر کے جس ٹوئیٹ کا حوالہ دیا جارہا ہے اس میں صدر مملکت خود رائے مانگ رہے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ ٹوئیٹ بھی صدر کا ہے یا نہیں ،کیا سپریم کورٹ ایک ٹویٹ پر فیصلے دے؟ ٹویٹس میں صدر مملکت نے اپنے آئینی اختیارات کی بات نہیں کی، صدر حکم دے دیتے،انور منصور صاحب آپ ایسے صدر کے اٹارنی جنرل بھی رہ چکے ہیں ،بہت اخلاق والے صدر ہیں آپ فون بھی کرتے توآپکو بتا دیتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ وضاحت کریں تاخیر پر نتائج کا سامنا کسے کرنا چاہیے ؟صدر مملکت نے کونسی اور کب تاریخ دی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر بار کے مطابق 3 نومبر کو انتخابات ہونے چاہئےتھے ، صدر مملکت نے 6 ستمبر کی تاریخ دے دی تو خود خلاف ورزی کردی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل آرٹیکل 224 تک محدود رکھیں ،وہ الگ بات ہے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے،انور منصور نے کہا کہ ہم ذمہ داروں کے تعین کی بات نہیں کرہے، ہم تو انتخابات چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 23 اگست کو صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی صرف خط لکھا اور کہا کہ آئیں بات کرتے ہیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لگتا ہے انور منصور صاحب آپ نے اپنی درخواست خود نہیں لکھی،آپ انتخابات کے معاملے کو کنفیوژ کرہے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انور منصور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی خدمات پروفیشنلی حاصل کی گئی ہیں؟ایک سوال یہ ہے کہ انتخابات کون اعلان کرسکتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کیا اس وقت نوے دنوں میں الیکشن ہوسکتے ہیں۔ ؟

    عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ تاریخ دے، کچھ اختیارات آئین سے مشروط ہیں،90 دنوں میں انتخابات کروانا آئینی مینڈیٹ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 دونوں میں انتخابات کی تاخیر کس نے کی، اس پر آپ انگلی نہیں اٹھاتے؟ آپ کہتے ہیں صدر مملکت نے تاریخ دینی تھی،آپ کہہ رہے ہیں کہ تاریخ دینے کا اختیار صدر مملکت کا ہے،اسکا مطلب ہے آپ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 کو چیلنج نہیں کررہے،
    اگر صرف انتخابات کی بات کریں تو ہم فیصلہ کرسکتے ہیں،اگر آپ آئینی تشریح کی بات کریں گے تو ہمیں پانچ رکنی بینچ بنانا پڑے گا، دنیا کے سارے مسائل اس درخواست میں نہ لائیں ،صرف انتخابات کی بات ہے تو ہم ابھی نوٹس کردیتے ہیں

    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عدالت میں ایسی باتیں نہ کی جائیں جن کو پھر ثابت نہ کیا جاسکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہی ہوتا ہے جب کوئی آئینی ادارہ کام نہ کرے اور دوسرے پر ڈال دے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ اتنا بتا دیں کہ انتخابات کی تاریخ دینا کس کا اختیار ہے،عابد زبیری نے کہا کہ ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس تاریخ دینے کا اختیار ہے،آئین کے مطابق صدر مملکت نے تاریخ دینا ہوتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر بات کو گھما رہے ہیں صدر کے پاس اختیار تھا تو تاریخ کیوں نہیں دی؟کوئی تو ذمہ دار ہے کیا آپ صدر مملکت کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں؟وکیل علی ظفر صاحب آپ کا کیس الیکشن 60 دنوں میں کرانے کا ہے یا 90 دنوں کا ہے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میرا کیس 90 دنوں میں الیکشن کرانے کا ہے، نوے دنوں میں الیکشن کرانے کے عمل کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا،آئین کا ارٹیکل 48 کہتا ہے کہ اگر صدر مملکت اسمبلی توڑتا ہے تو وہ انتخابات کی تاریخ دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے دلائل میں صدر کو تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں، اگر صدر نے تاریخ دینی تھی اور نہیں دی توپھرکیوں ان کا نام نہیں لیتے؟آپ کا کیس یہ ہے کہ صدر تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ بتائیں علی ظفر صدر نے اپنے اختیارات کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ صدر نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کے لئے بلایا تھا تاریخ نہیں دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کے کیس میں درخواست گزارکون ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہاکہ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش ہورہا ہوں، میرا موکل پارٹی کا جنرل سیکریٹری عمر ایوب ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس کے پوتے ہیں آپ کو علم ہے ؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ان کے دادا پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہیں گے کہ درخواست گزارکے دادا نے ملک میں آئین کے استعمال کو روکا،کیا آپ کو اس ملک کی تاریخ کا علم نہیں ؟ علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل یہ ملک کی ایک تاریخ ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ دادا کے کاموں کا ذمہ دارپوتا ہوتا ہے، اب ان کا پوتا جمہوریت پسند ہے،پہلے انتخابات کی تاریخ اعلان کرنے کا اختیار صدر کے پاس تھا،ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے،پی ٹی ائی کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے،

    درخواست گزار عبادالرحمان نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی کررہے ہیں، درخواست گزار نے کہا کہ میں پاکستان کا شہری ہوں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کررہا،صدر کے پاس اختیار ہے انتخابات کرانے کا، اس آئین کی ذمہ داری صدر نے پوری نہیں کی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو علم ہے کہ اگر کسی نے آئین پر عمل نہیں کیا تو پھر اس کو نتائج بھگتنا چاہئیں،بظاہر لگ رہا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ اب نوے دنوں میں الیکشن نہیں ہوسکتے لیکن انہوں نے حل دیا آرٹیکل 224 کا،اب اس کیس میں عدالت کس کو بلائے ، صدر کو پھر الیکشن کمیشن کو؟ علی ظفر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ وقت دوبارہ نہیں آسکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ دلائل مکمل کریں ہم اس پر نوٹس کرتے ہیں.

    نوے دنوں میں عام انتخابات کیس، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے حکم میں کہا کہ درخواستوں میں مختلف نوعیت کی استدعائیں کی گئیں، درخواستوں میں صدر اور دیگر کو فریق بنایا گیا،آئین میں صدر کے خلاف حکم کی استثنی حاصل ہے،ہم نے درخواست گزاروں کے وکلا کو تفصیل سے سنا،وکلا نے عدالت کو بتایا کہ عام انتخابات ملک میں نہیں ہوسکے جس کی وجہ ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ 15 جنوری کو سی سی آئی نے مردم شماری کرنے کا فیصلہ کیا،سی سی آئی کے فیصلے پر ادارہ شماریات نے مردم شماری کی اور پانچ اگست کو اس کے نتائج کو سی سی آئی نے منظور کیا،الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیاں کرنے کا نوٹیفیکیشن آرڈر کا حصہ بنادیا گیا،دلائل کے دوران اس بات پر سارے متفق تھے کہ اسمبلی توڑنے سےلے کر آج تک نوے دنوں میں انتخابات ممکن نہیں،علی ظفر نے آرٹیکل 244 کا حوالہ دیا ۔ آرٹیکل 244 کو ارڈر کا حصہ بنا دیا گیا

    90روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی،عدالت نے سماعت دو نومبر تک ملتوی کردی،تاہم عدالت نے کہا کہ تمام وکلا عدالت میں پیش ہوں ویڈیو لنک کی سہولت نہیں ہوگی

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیلیں،سماعت کیلئے مقرر

    ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیلیں،سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ، العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیلوں کی بحالی کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئیں،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل خصوصی بنچ تشکیل دے دیا گیا،خصوصی بنچ کل نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کرے گا

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی دو نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائرکر دی گئیں. ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس،دونوں ریفرنسز میں اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں پیر کو امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دائر کیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر چہ میں ابھی تک بیماری سے مکمل ریکور نہیں ہوا ، لیکن ملک کے بدتر معاشی حالات اور مختلف محاذوں پر در پیش چیلنجز کو دیکھ واپس آنے کا فیصلہ کیا ،ضمانت کا کبھی غلط استعمال نہیں کیا، طبی بنیاد پرعدالت کے سامنے پیش نہیں ہوسکا تھا،میڈیکل رپورٹس مستقل بنیادوں پرلاہورہائیکورٹ جمع ہوتی رہی ہیں،عدالت میں دائر درخواستوں میں‌ استدعا کی گئی کہ اپیلوں کو بحال کر کے میرٹ پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، کل 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے، نواز شریف احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں اور دس سال تک عوامی عہدے کے لیے نااہل ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کے بعد عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کی اپیلیں عدم پیروی پر خارج کر دی تھیں،عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے شریک ملزمان مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزا کالعدم قرار دے کر نیب ریفرنس سے باعزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا جب کہ عدالت نے نواز شریف کی اپیلیں ان کے اشتہاری ہونےکے باعث خارج کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر اتھارٹیز انہیں پکڑیں یا وہ سرینڈر کر دیں تو اپیلیں بحال کرانے کی درخواست دائر کرسکتے ہیں.

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • سائفر کیس،عمران خان، شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس،عمران خان، شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لیگل ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،عدالت نے فرد جرم روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کردی ، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آج تاریخ فرد جرم کیلئے رکھی تھی، فرد جرم عائد کی جاتی ہے،عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کردیا،عدالت نے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 27اکتوبر تک ملتوی کردی

    عمران خان عدالت میں پیش ہوئے تو جج ابوالحسنات ذوالقرنین سےتحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ،جج صاحب قوم کو مبارک ہو مینڈیلا واپس آ گیا ہے ،

    چیئرمین پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں ورزش کے لیے سائیکل فراہم کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سائیکل فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،دوران سماعت عدالت نے شاہ محمود قریشی سے استفسار کیا کہ چارپائی مل گئی ؟ جس پر عدالت میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جی چارپائی مل گئی ہے،

    آفیشل سیکریٹ خصوصی عدالت ، سائفر کیس،جج ابوالحسنات ذوالقرنین جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تو کہا کہ سائیکل دینے کا آرڈر حوالے کرکے آرہا ہوں ، وکیل شیراز رانجھا نے کہا کہ سائیکل والا تو ابھی جیل کے باہر کھڑا ہے ،جج نے کہا کہ ابھی میں نے جیل میں سائیکل فراہمی کا آرڈر کیا ہے ،

    عمران خان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے، چارج شیٹ
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر سائفرکیس میں لگی چارج شیٹ منظرعام پر آگئی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چارج شیٹ آج چیئرمین پی ٹی آئی کو پڑھ کر سنائی تھی، چارج شیٹ میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم غیرقانونی سائفر اپنے پاس رکھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکرٹ دستاویز کو غلط طریقے سے استعمال کیا، سائفر پاکستان اور امریکہ کے درمیان انتہائی خفیہ دستاویز تھی، سیکرٹ دستاویز کو ممنوع مقام جلسے میں غلط طریقہ کار سے استعمال کیا،سائفر کی خفیہ معلومات کو غیر ضروری افراد تک پہنچایا، ریاست کے مفاد کے خلاف معلومات آگے استعمال کرنے کے مجاز نہیں تھے،وزارت خارجہ نے اعتماد کرتے ہوئے سائفر آپ کو فراہم کیا،آپ نے سائفر اپنے پاس رکھتے ہوئے سیاسی مقاصد لیے استعمال کیا،آپ نے اس عمل سے سائفر، ملک کے سیکیورٹی سسٹم پر کمپرومائز کیا،آپ کے اس عمل سے ریاستِ پاکستان کی سیفٹی متاثر ہوئی،28 مارچ 2022 بنی گالا اجلاس میں ملزم شاہ محمود قریشی کے ہمراہ آپ نے سائفرکو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی،آپ نے بدنیتی کی بنیاد پر سائفر اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، وزارتِ خارجہ کی طرف سے سائفر آپ کو بھیجا گیا، آپ نے پاس رکھا اور واپس نہیں بھیجا، غیرمجاز ہونے کے باوجود سائفر غیرقانونی طور پر سائفر اپنے پاس رکھا، سائفرسیکیورٹی، ملک کےسیکرٹ سیکیورٹی سسٹم کو آپ نے کمپرومائز کیا،بیرون ملک پاکستان کے سیکیورٹی سسٹم کو کمپرومائز کیا،آپ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے ہیں،

    شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کا متن ” آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جرم میں معاونت کی ، جس طرح چیئرمین پی ٹی آئی نے جرم کیا اسی طرح آپ بھی شریک جرم ٹھہرے ، آپ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے ہیں ”

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • کیوں نکالا کے شکوے کے بعد”انتقام نہیں”،پاکستان کی تعمیر نو  کریں گے، نواز شریف نے بیانیہ د ے دیا

    کیوں نکالا کے شکوے کے بعد”انتقام نہیں”،پاکستان کی تعمیر نو کریں گے، نواز شریف نے بیانیہ د ے دیا

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے مینار پاکستان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہاں سے چھیڑوں فسانہ،کہاں تمام کروں، وہ میری طرف دیکھیں تو میں سلام کروں،آج کئی سالوں بعد آپ سے ملاقات ہو رہی مگر پیار میں کمی نہیں آئی، آج جو خلوص آنکھوں میں دیکھ رہا، یہ ناز ہے، ہمارا رشتہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہےنہ آپ نے دھوکہ دیا، نہ نواز شریف نے کبھی دھوکہ دیا، جب بھی موقع ملا بڑے خلوص کے ساتھ خدمت کی،دن رات ایک کر کے عوام کے مسائل حل کئے ، جب بھی موقع ملا کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، جیلوں میں مجھے ڈالا گیا، ملک بدر مجھے کیا گیا،جعلی کیسز مجھ پر ،شہباز شریف، مریم پر بنائے گئے،لیکن کسی نے ن لیگ کو نہیں چھوڑا، کون ہے جو نواز شریف کو پیاروں سے دور کر دیتا ہے، ہم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ہم نےلوڈشیڈنگ ختم کی، نواز شریف نے بجلی بنائی اور سستے داموں بیچی، ہم نے بجلی مہنگی نہیں کی، میں بل ساتھ لے کر آیا ہوں،نوا زشریف نے کارکنان سے مخاطب ہو کر کہا آئی لو یو ٹو، جتنی محبت آپ کرتے ہیں میں بھی آپ سے کرتا ہوں، آج آپکی محبت دیکھ کر سارے دکھ درد بھول گیا، یاد بھی نہیں کرنا چاہتا لیکن کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جو بھلائے نہیں جا سکتے، انسان انکو کچھ دیر کے لئے فراموش کر سکتا ہے، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے، آپ جانتے ہیں،کاروبار چلا جائے پھر آ جاتا ہے لیکن پیارے جدا ہو جائیں تو کبھی واپس نہیں ملتے، آج میں سوچ رہا تھا کہ جب بھی میں کبھی وہاں پہنچتاتھا میری والدہ ،میری بیوی میرے استقبال کے لئے کھڑی ہوتی تھیں، آج میں جاؤں گا تو وہ دونوں نہیں ہیں، وہ میری سیاست کی نذر ہو گئیں، یہ بہت بڑا زخم ہے جو نہیں بھرے گا، میرے والد ،والدہ فوت ہوئے تو قبر میں نہ اتار سکا، میری بیوی فوت ہوئی تو قید خانے میں اطلا ع ملی، جیل خانے کے حکام سے پوچھو کہ میں اسکی منتیں سماجتیں کر رہا،میری بات کروا دو، میرے بیٹے سے بات کروا دو، میں پوچھنا چاہتا ہوں کلثوم کس حال میں ہے ، میری بات نہیں کروائی گئی، میں نے کہا میز پر دو دو فون ہیں، دو موبائل، دو لینڈ لائن، ایک کال ملا کر بات کروا دو تو جیل حکام کہنے لگے کہ اجازت نہیں، میں نے کہا کہ کس سے اجازت لینی ہے، تو اس نے کہا کہ میں نہیں کروا سکتا، میں سیل میں چلاگیا، جس میں چارپائی مشکل سے آتی تھی، یہ بات کروانا بھی مشکل کام تھا اسکے لئے، ڈھائی گھنٹوں کے بعد اسکا نمبر ٹو بندہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے آپکی بیوی کلثوم اللہ کو پیاری ہو گئی،ہم اب مریم کو اطلاع کرنے جا رہے جس پر میں نے کہا کہ اس کے پاس نہ جانا، میں نے کہا کہ اسکو میرے پاس لاؤ، یا میں جاؤں گا،ہماری ملاقات ایک ہفتے میں ایک گھنٹے کے لئے ہوتی تھی،پاس پاس ہو کر ہم ایک ہفتہ نہیں ملتے تھے،میں نے مریم کو بتایا تو وہ بیہوش گئی،اور گلے لگ کر رونے لگ گئی، کیا گزری ہو گی ان پر ، کیا سوچا ہو گا،یہ ہمارا ملک ہے، میں بھی اسی وطن کی مٹی سے پیدا ہوا، میں بھی سچا پاکستانی ہوں، پاکستان کی محبت میرے سینے میں ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا نام نہیں لیتا چاہتا، اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والا نہیں

    میرے زمانے میں روٹی 4 روہے کی تھی آج کتنے کی ہے ، نواز شریف کا پنڈال سے سوال
    نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے ایٹمی دھماکوں کے وقت پانچ ارب کی پیشکش کی گئی، آج ہم ایک ارب ڈالر کی بھیک مانگ رہے ہیں اسوقت مجھے بھی کچھ مل جاتے لیکن میں اس مٹی کی بات کر رہا، اس مٹی نے اجازت نہیں دی کہ پاکستان کے مفاد کے خلاف جاؤں، دنیا کا طاقتور ترین صدر کہہ رہا ہے کہ دھماکے نہ کرنے، ہم نے کئے اور انڈیا کے دھماکوں کا جواب دیا،میری جگہ کوئی اور ہوتا، آپ جانتےہیں کون ہوتا؟ وہ امریکہ کے‌صدر کے آگے بول سکتا تھا، کیا اسی بات کی ہمیں سزا ملتی ہے، اسی بات پر ہماری حکومتیں توڑ دی جاتی تھیں، ہمارے خلا ف فیصلے آتے ہیں، میرے زمانے میں روٹی چار روپے کی تھی ،بتاؤ آج کتنے کی ہے؟آج 20 روپے کی روٹی ہے، اسلئے مجھے نکالا ، اس لئے کہ نواز شریف نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی،یہ کہاں کا فیصلہ ہے؟ پھر ملک کا یہ حال ہو گیا کہ بربادیوں کی حد تک چلا گیا، اب واپس آئے گا، لائیں گے واپس اسکو ہم،

    مجھے کیوں نکالا؟ نواز شریف کا مینار پاکستان پر ایک بار پھر سوال
    نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ بھی بتاؤ، پٹرول کتنے کا ملتا تھا میرے دور میں؟ میرے دور میں ساٹھ روپے لیٹر ملتا تھا یا نہیں آج کتنے کا ہے؟ اسلئے نکالا نواز شریف کو؟ آج پاکستان میں ڈالر کتنے کا ہے، میرے زمانے میں 104 کا تھا، آج 250کے لگ بھگ ہے، اس سے بھی اوپر ہے، اسی لئے پاکستا ن میں مہنگائی کا طوفان ہے، اسلئے نواز شریف کو نکالا تھا کہ اس نے ڈالر کو ہلنے نہیں دیا، روپیہ مضبوطی کے ساتھ کھڑا تھا، پتہ نہیں ہم ناشکرے کیوں ہیں، ملک ترقی کی طرف چل رہا ہے،اگر میری حکومت چلتی تو آج کوئی بیروزگار نہ ہوتا، غریب کو علاج معالجے کے لئے جائیداد نہ بیچنی پڑتی، آج تو سوچنا پڑتا ہے ، حالات مشکل ہو گئے، بجلی کا بل دیا جائے یا بچوں کا پیٹ پالا جائے،آج چینی 250کی ہے، میرے زمانے میں 50کی تھی، اسلئے مجھے نکالا؟ پاکستان اس وقت ایشین ٹائیگر بننے جا رہا تھا، پاکستان جی 20 میں جا رہا تھا،جو ہم سے پیچھے تھے وہ آگے چلے گئے، ہم پیچھے رہ گئے،ہم نے نہ صرف انکو پکڑنا ہے بلکہ ان سے آگے بھی جانا ہے.میں آج کئی سالوں بعد تقریر کر رہا ہوں، چھ سال بعد کسی اپنےجلسے سے خطاب کر رہا ہوں، یہ بتانا چاہتا ہوں ،میں نصراللہ خان کا بل لایا ہوں، مئی 2016 میں اس وقت بل کتنا تھا؟حالانکہ اس وقت دھرنے ہو رہے تھے وہ کون کروا رہا تھا؟ دھرنوں کے باوجود بجلی پہنچا دی،موٹروے بنائی، گلگت والو مت بھولو کہ گلگت سے سکردو موٹروے بھی نوازشریف نے بنائی، چترال والے بتائیں کہ لواری ٹنل کس نے بنائی، وہ بھی ہم نے بنائی، گوادر سے کوئٹہ ہم نے موٹروے بنائی، پشاور سے اسلام آباد ،لاہور سے اسلام آباد، ملتان سے لاہور ،ملتان سے سکھرموٹروے سب کس نے بنائیں، نواز شریف نے بنوائیں، کیا اسلئے مجھے بار بار نکالا.نصراللہ کا بل میری حکومت میں 1600 روپے تھا، اگست 2022 میں اسکا بل 15 ہزار ہے، کیا بجلی مہنگی نواز شریف نے کی؟ اس وقت سے مہنگی ہونا شروع ہوئی جب نواز شریف کو نکالا تھا،مٹی کی محبت میں وہ قرض اتارے ہیں جو واجب نہیں تھے، غالب نے مجھ جیسوں کہاہے کہ زندگی اپنی کچھ اس شکل سے گزری غالب، ہم بھی کیا یاد کریں گے،

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف
    نواز شریف کا کہنا تھا کہ مشکل سے اللہ نکالے گا،زخم بھرتے بھرتے وقت لگے گا لیکن بدلے کی کوئی تمنا نہیں، تمنا یہی ہے کہ میری قوم کے لوگ خوشحال ہو جائیں ، انکو روزگار ملے، باعزت پاکستانی بننے کا موقع ملے، غربت، جہالت نہ ہو، یہ نواز شریف چاہتا ہے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، میں قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، پہلے بھی کی ہے، مریم سامنے بیٹھی ہے، میں جیل میں تھا تو مریم کو نیب نے گرفتار کیا، اسکی بیٹی اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی، اتنا ظلم،شہباز شریف کو بھی جیل میں بند کر دیا، بیٹوں کو بھی بند کر دیا، رانا ثناء اللہ، حنیف عباسی کو سزائے مو ت دینے کے چکر میں تھے، سعد رفیق دو سال جیل میں رہے،23 سالوں میں 15 سال جیل میں، مقدمے یا باہر رہا، اگر یہ 23 سال پاکستان کو دیئے ہوتے تو پاکستان جنت بنا ہوتا، ہم پاکستان کو پھر جنت بنائیں گے،میں پوچھتا ہوں کہ جو دور ہمارے ملک میں گزرا ہے اسکا کوئی ایک کارنامہ، کوئی ایک منصوبہ بتا دیں، ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا بیانیہ کیا ہے،بیانیہ پوچھنا ہے تو اورنج لائن، میٹرو بس، گرین لائن سے پوچھو،ایٹمی دھماکوں سے پوچھو،ہمارا بیانیہ روٹی کی قیمت، ڈالر کے ریٹ، بجلی کے بل سے پوچھا، ہمارا بیانیہ پوچھنا ہے تو پھر اخلاقیات سے پوچھا،بزرگوں کی عزت سے پوچھو، ہم کسی کی پگڑی نہیں اچھالتے،ہماری بہنیں یہاں موجود ہیں، آرام سے جلسہ سن رہی ہیں، ڈھول کی تھاپ پر یہاں ناچ گانا نہیں ہو رہا،

    ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات،مسئلہ کشمیر کا باوقار تدبیر کے ساتھ حل،متحد ہوکر چلنا ہو گا، نواز شریف
    نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے عوام کو جو درپیش مسائل ہیں، اب کوتاہی کی گنجائش نہیں، مسائل کے اسباب پر غور کریں،اور آئین کی رو کے مطابق متحد ہو کر مستقبل کا پلان بنائیں، ہمارے آئین پر عملدرآمد کرنے والے ریاستی اداروں کو قوم سے ملکر کام کرنا ہو گا، دنیا میں مقام حاصل کرنا ہے تو سب کو ملکر کام کرنا ہو گا، چالیس سال کا نچوڑ بتا رہا ہوں، اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا، آئین پر عملدرآمد کے لئے سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا،ہمیں ایک نئے سفر کی آغاز کی ضرورت ہے، نیا سفر شروع کرنا ہے، طے کریں کہ ہم نئے سفر کا آغاز جوش و خروش سے کریں گے،چار سال بعد بھی میرا جذبہ ماند نہیں پڑا،ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا،کشکول توڑنا ہو گا، قومی غیرت وقار کو بلند کرنا ہو گا، غربت کا خاتمہ کرنا ہوگا، ہمسایوں کے ساتھ اور دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کس طرح کرنے ہیں، فیصلہ کرنا ہے ہمسایوں کے ساتھ لڑائی کر کے دنیا کے ساتھ اچھا تعلق نہیں قائم کر سکتے، کشمیر کے حل کے لئے باوقار تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا،ہم نے اس صورتحال سے باہر نکلنا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ کس طرح سے اپنے معاملات کو ٹھیک کرنا ہے، میرا دل زخموں سے چور ضرور ہے مگرآج میں اپنے رب سے دعا کر رہا ہوں کہ میرے دل میں رتی برابر بھی انتقام کی خواہش نہیں بس تو قوم کی تقدیر بدل دے،میرے ساتھ دعا کرنی ہے کہ آج میں بدلا ہوا پاکستان دیکھوں ، میں آپ کو جگانے آیا ہوں، آگے بڑھو، اور پاکستان کو سنبھالو، اور آئندہ کسی کو اجازت نہ دینا کہ آپکے ملک کے ساتھ سلوک کر سکے، میں نے آج بہت ضبط سے،صبر سے کام لیا ہے، میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو میں سمجھتا ہوں کہ نہیں کرنی چاہئے تھی، میں سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کی مدد کرے، انکو ظلم سے بچائے، فلسطین میں ظلم انسانیت کا قتل ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں،دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ انصاف سے کام لو، اور فلسطین کا باعزت حل نکالو، انکا حق انکو واپس دیا جائے، تا کہ وہ بھی چین سکون سے زندگی گزار کر سکیں،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، راستہ کٹھن ہے لیکن کریں گے، ملک کی تعمیر نو کریں گے، بے روزگاری کم کرٰیں گے، موٹروے بنائیں گے، پاکستان کو خوشحال بنائیں گے،مسلم لیگ ن کا ایجنڈہ یہی ہو گا،برآمدات کو بڑھانا ہے، زراعت کی اصلاحات کرنی ہیں، آئی ٹی میں انقلاب لانا ہے،انصاف کے نظام میں بھی اصلاحات لانی ہیں، نوجوان، پارٹی لیڈر سن لیں، نواز شریف نے جو کہا ہے کر کے دکھایا ہے،

    درود شریف ،تہجد پڑھیں، باوضو رہیں،اللہ سے جو مانگیں گے ملے گا، نواز شریف کی جلسہ کے شرکاء کو نصیحت
    نواز شریف نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ درود ابراہیمی پڑھا کریں، تسبیح میرے پاس بھی ہے لیکن دوسروں سے سامنے نہیں نکالتا، بغل میں چھری اور منہ میں رام رام مجھے نہیں آتا، دعا کریں اللہ سے ،اللہ وہ عطاکرے گا جو مانگیں گے، ندامت کا ایک آنسو،زندگی کے سارے گناہ دھو دیتا ہے،تہجد کے وقت ایک آنسو بہائیں، اللہ کو یاد کر کے دیکھیں اللہ کس طرح تقدیر بدلتا ہے، خشوع و خضو ع کے ساتھ پڑھیں، درود شریف سو بار نہیں تو دس بار پڑھ لیں، اللہ کا نام لیتے ہوئے دل میں کھوٹ نہیں ہونا چاہئے، سالوں بعد گفتگو ہوئی، اللہ تعالیٰ سب کو خیرو برکت کی زندگی دے، اللہ سب پر رحم کرے، سب کو عزت کی روزی دے، فرض شناس پاکستانی بنائے، میرے دل سے دعائیں نکل رہی ہیں، یہی میرا آپ سے رشتہ ہے، نواز شریف نے خطاب کے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگوایا،

    سابق وزیراعظم نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو ن لیگی قیادت نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالر کر کارکنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، سٹیج پر شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، اسحاق ڈار،حمزہ شہباز،عابد شیر علی،و دیگر موجود تھے، نواز شریف نے ہاتھ ہلا کر کارکنان کے نعروں کا جواب دیا، مریم نواز سے نواز شریف گلے ملے، اس موقع پر مریم نواز نے اپنے والد کے پاؤں چھوئے، نواز شریف آبدیدہ نظر آئے،نواز شریف نے سٹیج پر پہنچ کر ن لیگی رہنماؤں سے مصافحہ کیا،ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ بھی سٹیج پر موجود تھے

    نواز شریف رہنماؤں سے مصافحہ کے بعد ڈائس پر آئے، نواز شریف کے ہمراہ مریم نواز تھیں، شہباز شریف اورحمزہ شہباز بھی ہمراہ تھے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر رہنماؤں نے یکجہتی کا اظہار کیا، نواز شریف کے خطاب سے قبل تلاوت کی گئی اور نعت رسول مقبول پڑھی گئی.

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • عمران خان کی جیل میں بیٹوں سے بات کروا دی گئی

    عمران خان کی جیل میں بیٹوں سے بات کروا دی گئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی

    عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کی عدالت نے دی اجازت
    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے،سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے، میں آپ کے حق میں کہہ رہاہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دےدیتاہوں،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سائفر کیس میں اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی اور عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ بھی مقرر کردی ہے۔

  • نواز شریف لاہور پہنچ گئے،مینار پاکستان گراؤنڈ میں شاندار استقبال

    نواز شریف لاہور پہنچ گئے،مینار پاکستان گراؤنڈ میں شاندار استقبال

    سابق وزیراعظم نواز شریف مینار پاکستان جلسہ گاہ پہنچ گئے،

    مریم نواز نے اپنے والد کا سٹیج پر استقبال کیا،نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو ن لیگی قیادت نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالر کر کارکنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، سٹیج پر شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، اسحاق ڈار،حمزہ شہباز،عابد شیر علی،و دیگر موجود تھے، نواز شریف نے ہاتھ ہلا کر کارکنان کے نعروں کا جواب دیا، مریم نواز سے نواز شریف گلے ملے، اس موقع پر مریم نواز نے اپنے والد کے پاؤں چھوئے، نواز شریف آبدیدہ نظر آئے،نواز شریف نے سٹیج پر پہنچ کر ن لیگی رہنماؤں سے مصافحہ کیا،ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ بھی سٹیج پر موجود تھے

    نواز شریف رہنماؤں سے مصافحہ کے بعد ڈائس پر آئے، نواز شریف کے ہمراہ مریم نواز تھیں، شہباز شریف اورحمزہ شہباز بھی ہمراہ تھے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر رہنماؤں نے یکجہتی کا اظہار کیا، نواز شریف کے خطاب سے قبل تلاوت کی گئی اور نعت رسول مقبول پڑھی گئی.

    نواز شریف شاہی قلعہ سے گاڑی پر جلسہ گاہ کی طرف گئے، ن لیگی رہنما حمزہ شہباز نے نواز شریف کی گاڑی کی ڈرائیونگ کی،

    نواز شریف معمار پاکستان ہے، جب بھی قوم کی تقدیر بدلی تو اقتدار سے ہٹا دیا گیا،شہباز شریف
    ن لیگ کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج لاکھوں لوگ یہاں موجود ہیں، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نواز شریف کو خوش آمدید کہنے آئے ہیں جو قوم کا بیٹا ہے، آپ کا بھائی ہے،یہ نواز شریف جدوجہد ہے،مینار پاکستان گواہی دے رہا ہے کہ اس سے بڑا جلسہ،پرجوش مجمع کبھی نہیں ہوا، میں آپکو سلام پیش کرتا ہوں، نواز شریف معمار پاکستان ہے، جب بھی قوم کی تقدیر بدلی تو اقتدار سے ہٹا دیا گیا،نواز شریف نے جیلیں کاٹیں مگر صبر کا دامن ہاتھ سے ہاتھ نہیں چھوڑا، نو مئی کا واقعہ دو ر کی بات ،نواز شریف کے ہوتے ہوئےکوئی گملہ نہیں ٹوٹا، نواز شریف آ گیا، پاکستان کی تقدیر بدلے گی،نواز شریف نے کہا کہ میں پاکستان کی سالمیت پر سودا نہیں کروں گا، نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی پاکستان بنایا، واجپائی مینار پاکستان آیا تھا اور اس وقت اس نے کہا تھا کہ پاکستان بنتے وقت ہم پر بڑے گھاؤ لگتے ہیں، ہم پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں، لاہور کا معاہدہ جس میں کشمیر کا ذکر تھا وہ واجپائی نے نواز شریف کے ساتھ کیا، پھر ایک ڈکٹیٹر آیا اور معاہدے کے خلاف کام کیا،ظلم اور زیادتیاں ہوئیں لیکن نواز شریف نے برداشت کیا،

    مینار پاکستان ن لیگی جلسہ ،فلسطین پر اسرائیلی تسلط کے خلاف قرارداد پیش
    ن لیگی رہنما سابق وفاقی وزیرخواجہ سعد رفیق نے نواز شریف کے خطاب سے قبل قرار داد پیش کرتے ہوئے کہ نواز شریف کی صدارت ،قیادت میں آج مطالبہ کرتے ہیں کہ ارض فلسطین سے اسرائیل کا ناجائز تسلط ختم کروایا جائے،کشمیر سے بھارتی تسلط ختم کروایا جائے،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے چار سال بعد نواز شریف واپس آیا،اللہ نے انکو سلامتی، شفا دی اور آج چار سال بعد عزت سے گھر واپس آیا،مریم نواز نے کہا کہ اب کون وزیراعظم بننے جا رہا ہے، اس دھرتی کا بیٹا آ رہا ہے، فارن فنڈنگ والا نہیں آ رہا.

    نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو مریم نواز نے شرکاء سے کہا کہ موبائل کی لائٹ آن کر لیں اور نواز شریف کو دکھائیں کہ کتنے لوگ انکے استقبال کے لئے موجود ہیں، شرکا نے موبائل کی لائٹس آن کیں، ایک شرکاء نے کہا کہ میرے پاس موبائل نہیں، جس پر مریم نواز نے کہا کہ میری ٹیم کے کسی ممبر سے رابطہ کرنا میں موبائل بھیجوں گی، مریم نے آزادی پل پر کھڑے شرکاء کی موبائل لائٹس بھی آن کروائیں،

    سابق وزیراعظم نواز پہنچ گئے ہیں، نواز شریف کا طیارہ لاہور میں لینڈ کر چکا ہے،نوا زشریف کے طیارے نے لاہور لینڈ کیا تو جہاز میں موجود کارکنان نے وزیراعظم نواز شریف، دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا کے نعرے لگائے،نواز شریف کا شہباز شریف نے استقبال کیا اور انہیں پھولوں کا ہار پہنایا،وزیراعظم ایئر پورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلسہ گاہ پہنچ رہے ہیں،نواز شریف کا ہیلی کاپٹر شاہی قلعہ میں اترا.

    نواز شریف کا ہیلی کاپٹر جلسہ گاہ کے قریب پہنچا تو سٹیج سے نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگوائے گئے،اس موقع پر مریم نواز نے بھی کارکنان کی جانب سے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا.مریم نواز اس دوران آبدیدہ بھی نظر آئیں،

    نواز شریف کو مٹانے والے کتنے آئے اور کتنے چلے گئے، مریم نواز کا خطاب
    نواز شریف کے جلسہ گاہ پہنچنے سے قبل مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے استقبال کے لئے تمام کارکنان کو خوش آمدید کہتے ہیں، مریم نواز نے تمام صوبوں کے نام گنوائے اور کہا کہ پورا پاکستان یہاں‌موجود ہے،رنگ روڈ، موٹروے سب جام ہیں، قافلے آ رہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ قافلے آئیں گے تو وہ کہاں سمائیں گے میں نے آج تقریر نہیں کرنی، تقریر نواز شریف کرے گا، میں نے صرف سلام کرنا تھا اور بتانا تھا کہ و تعز من تشا و تذل من تشاء، اللہ جسے چاہے عزت دے، پوری دنیا بھی مل جائے اور وہ اسکو ختم کرنا چاہے تو جب تک اللہ نہ چاہے ختم نہیں ہو سکتا، نواز شریف اسکی زندہ مثال ہے،آج اللہ کے آگے سر جھکاتی ہوںَ شکر الحمدللہ،نواز شریف کو مٹانے والے کتنے آئے اور کتنے چلے گئے، میں سمجھتی تھی، مینا رپاکستان بہت بڑی جگہ ہے مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ ن لیگ کے شیروں کے لئے یہ جگہ بھی چھوٹی پڑ جائے گی

    ن لیگی رہنما حمزہ شہباز سٹیج پر مریم آئے تو مریم نواز نے کہا کہ آج ن بھی یہیں کھڑی ہے اور شین بھی، اللہ تعالیٰ دونوں بھائیوں کی جوڑی سلامت رکھے،نواز شریف شاہی قلعہ پہنچے تو دیگر رہنما استقبال کے لئے گئے تا ہم مریم نواز سٹیج پر ہی موجودرہیں،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 11 سال جلا وطنی برداشت کی، نواز شریف واحد لیڈر ہے جس کی تاریخ میں اتنے سیاسی اتار چڑھاؤ آئے، اس نے دکھ اور تکلیفیں اٹھائی، سیاسی تکلیفیں میں نہیں گنتی، سیاسی ورکرسیاسی اتار چڑھاؤ سے نہیں گھبراتے لیکن کچھ دکھ نواز شریف کو ایسے لگے جن کا مداوار ساری زندگی ممکن نہیں، اس مٹی کی خاطر نوا ز شریف ایک بار پھر موجود ہے، آج ان شاء اللہ پاکستان نواز شریف کا ایک اور عروج دیکھنے جا رہا ہے.آج اسکے مخالفین دو دور تک نظر نہیں آ رہے جو ہیں گھروں میں دبک کر بیٹھے ہیں اور ہر طرف سے نواز شریف کی آواز آ رہی ہے،

    مریم نواز نے جلسہ گاہ میں نعرہ تکبیر بھی لگوایا، نواز شریف نے لاہور پہنچ کر ن لیگی رہنماؤں سے ملاقات کی اور مغرب کی نماز ادا کی، نواز شریف ہیلی کاپٹر سے اترے تو سی سی پی لاہور نے انہیں سلیوٹ کیا،
    nawaz nimaz
    سابق وزیراعظم نواز شریف کی آمد پر آج مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ ہو رہا ہے، ن لیگی کارکنان ملک بھر سے لاہور پہنچے ہیں


    مریم اورنگزیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف لاہور کے ہوائی اڈے پر پہنچ گئے۔ شہبازشریف نے محمد نوازشریف کی تصویر والی شرٹ پہنی ہوئی ہے

    مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف ابھی مینار پاکستان پر نہیں پہنچے تھے لیکن جلسہ گاہ ابھی ہی بھر چکا ہے اور بہت بڑی تعداد ابھی جلسہ گاہ کے باہر موجود ہے۔ مسلم لیگ ن نے جسے تاریخ ساز جلسہ کا کہا تھا وہ آج ہوتا نظر آرہا ہے۔قافلے ابھی تک آ رہے ہیں،ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر، سابق اراکین اسمبلی قافلے لے کر پہنچ رہے ہیں، نواز شریف جب تک جلسہ گاہ آئیں گے تو گراؤنڈ کے اندر کارکنان بڑی تعداد میں موجود ہو گی، دیکھنا یہ ہے کہ لاہوری اس جلسے میں کتنی شرکت کرتے ہیں کیونکہ جلسہ میں ملک بھر سے لوگ آئے ہیں،
    maryam
    مسلم لیگ ن کی رہنما مائزہ حمید کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ میں رات سے عوام کا جوش و خروش ہے،نواز شریف کی آمد میں لوگ انہیں خوش آمدید کہنا چاہتے ہیں ،نواز شریف پاکستانی عوام کے لئے امید کی کرن ہیں، اب پاکستان میں خوشحالی کا دور شروع ہو گا

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان پہنچ گئے

    نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف پاکستان پہنچ گئے، نواز شریف کا خصوصی طیارہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کر گیا، نواز شریف کی آمد کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات ہیں،نواز شریف کے طیارے نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تو اس موقع پر طیارے میں سوار کارکنان نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے ، نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگائے گئے،دوران سفر نواز شریف طیارے میں اپنی نشست پر بیٹھے رہے، طیارے میں صحافی بھی سوار تھے،مقامی اور انٹرنیشنل میڈیا کے لوگ بھی طیارے میں سوار تھے، ن لیگی کارکنان نے اسوقت بھرپور نعرے بازی کی.

    نواز شریف کے طیارے میں سوار تمام مسافر جہاز کے اندر ہیں، نوا ز شریف 20 منٹ کے لئے طیارے سے باہر گئے ہیں، جو قانونی ٹیم سے ملاقات اور قانونی کاغذات پر دستخط کریں گے، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت لی تھی اس وجہ سے انہوں نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کیا.نواز شریف جہاز سے اترے تو اس موقع پر صحافیوں کو باہر نہیں جانے دیا گیا، صحافی بھی طیارے میں ہی رہ گئے جس پر صحافیوں نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا،نواز شریف جہاز سے اترے تو ان کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نواز شریف کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا.

    نادرا کی ٹیم اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچی اور نواز شریف نے بائیو میٹرک کروائی، ایئر پورٹ پر اعظم نذیر تارڑ، عطا تارڑ کے ساتھ نواز شریف نے مشاورت کی، نواز شریف کی امیگریشن کا عمل مکمل کر لیا گیا، نواز شریف کے ہمراہ سیکورٹی سٹاف بھی ہے، نواز شریف نے جہاز سے نکلتے وقت کہا تھا کہ وہ چند منٹوں میں دوبارہ واپس آ رہے ہیں،قانونی امور پر گیسٹ ہاؤس میں نواز شریف نے مشاورت کی.اسحاق ڈار ، اعظم نذیر تارڑ، بیرسٹر ظفر اللہ خان نے نواز شریف سے مشاورت کی،نواز شریف نے تمام دستاویزات پر دستخط کردئیے ،نواز شریف 2019 کے بعد آج پاکستان واپس آئے، بیمار ہو کر نواز شریف پاکستان سے علاج کے لئے گئے تھے تا ہم لندن میں ہی مقیم رہے .

    نواز شریف اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ،شہباز شریف ایئر پورٹ پہنچ گئے
    قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد نواز شریف اسلام آباد سے لاہور روانگی کے لیے طیارے میں سوار ہوگئے ہیں، اسلام آباد سے نواز شریف کے خصوصی طیارے نے لاہور کے لئے اڑان بھر لی ہے، نواز شریف کی لاہور آمد پر شہباز شریف استقبال کریں گے،بعد ازیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نواز شریف جلسہ گاہ پہنچیں گے،

    میاں محمد شہباز شریف علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئے، شہباز شریف اپنے سکیورٹی پروٹوکول کے ساتھ ایئرپورٹ پہنچے، شہباز شریف اییرپورٹ پر میاں نواز شریف کا ایئرپورٹ پر استقبال کریں گے

    مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف ابھی مینار پاکستان پر نہیں پہنچے لیکن جلسہ گاہ ابھی ہی بھر چکا ہے اور بہت بڑی تعداد ابھی جلسہ گاہ کے باہر موجود ہے۔ مسلم لیگ ن نے جسے تاریخ ساز جلسہ کا کہا تھا وہ آج ہوتا نظر آرہا ہے۔قافلے ابھی تک آ رہے ہیں،ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر، سابق اراکین اسمبلی قافلے لے کر پہنچ رہے ہیں، نواز شریف جب تک جلسہ گاہ آئیں گے تو گراؤنڈ کے اندر کارکنان بڑی تعداد میں موجود ہو گی، دیکھنا یہ ہے کہ لاہوری اس جلسے میں کتنی شرکت کرتے ہیں کیونکہ جلسہ میں ملک بھر سے لوگ آئے ہیں،

    نواز شریف کی اسلام آباد آمد،کاغذات پر دستخط،تصاویر

    نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور خصوصی پرواز کا شیڈول جاری کر دیا گیا، نواز شریف کی خصوصی پرواز پونے تین بجے اسلام آباد سے لاہور کے لئے روانہ ہوگی

    نواز شریف کے حریف اور بد خواہ قصہ پارینہ بن گئے,خواجہ آصف
    ن لیگی رہنما ، سابق وفاقی وزیر، خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف آج کے دن کے لئے ھم نے 4سال رب العزت سے دعائیں ما نگیں ۔ تاریخ کی عدالت نے 3دہائیوں میں بار بار اللہ کی مہربانی سےآپ کو سرخرو کیا۔ آپکے حریف اور بد خواہ قصہ پارینہ بن گئے۔ آپ 3دفعہ خوشحالی کی نوید بن کے آۓ۔ جلا وطنی یا قید عوام سے آپکا رشتہ و محبت کم نہ کرسکے۔ نواز شریف وفا کا نشان بن گیا۔ مٹی کی محبت میں آپ نے وہ قرض اتارے جو واجب بھی نہیں تھے۔ آئیں عہد کریں مادر وطن کو ناقا بل تسخیر بنائیں گے۔ عام شہری کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریں گے آمین

    سابق وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف کا ٹیلی فونک رابطہ ہو اہے

    نواز شریف کا استقبال،خصوصی ٹرین کراچی سے روانہ

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 21 اکتوبر کو پاکستان واپسی پر ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے 24 اکتوبر تک روک دیا ، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے احکامات جاری کئے، عدالت نے نواز شریف کو 24 اکتوبر کو ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا.

     پنڈال میں جلسے کے شرکا کی آمد کا سلسلہ شروع 

    نواز شریف کی آمد،طیارے پھینکیں گے پھول

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان