Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بحریہ ٹاؤن کیس،درخواست تاخیر سے سماعت کیلئے مقرر،کاروائی کرینگے،چیف جسٹس

    بحریہ ٹاؤن کیس،درخواست تاخیر سے سماعت کیلئے مقرر،کاروائی کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اقساط جمع کرانے میں ایک سال کی رعایت دینے کی درخواست 2021 میں دائر کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اڑھائی سال سے درخواست مقرر کیوں نہیں ہوئی؟ کیا بحریہ ٹائون کی مقدمہ میں دلچسپی ختم ہوگئی تھی؟ کیا کوئی جلد سماعت کی درخواست دائر کی تھی؟ وکیل بحریہ ٹاؤن سلمان بٹ نے کہا کہ جلد سماعت کی کوئی درخواست دائر نہیں کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ تاخیر سے درخواست مقرر ہونے پر کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟ آپ متعلقہ آفس پر الزام لگائیں ہم تحقیقات کرینگے،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ مقدمات عدالت خود مقرر کرتی ہے وکیل کا کوئی کردار نہیں ہوتا، مقدمات مقرر کرنا عدالت کا اندرونی معاملہ ہے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حیرت ہے آپ کارروائی ہی نہیں چاہتے، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ کسی پر الزام نہیں لگا سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ہم اپنے طور پر کارروائی کرینگے،

    وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ قانونی طور پر بحریہ ٹائون کو 16896 ایکڑ زمین الاٹ ہونی تھی لیکن صرف 11 ہزار ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلے پر عملدرآمد مانگیں یا توہین عدالت کا موقف لیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ فیصلے پر یکطرفہ عملدرآمد نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری بات سن ہی نہیں رہے ،ہم توکوئی دروازہ کھول لیں توہین کا کھولیں یا نظرثانی کا کھولیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ تھا اس میں سے دروازہ کھلے گا،ومخالف فریق نے اپنے حصہ کا معاہدے کے تحت کام نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر ہم توہین عدالت کا دروازہ کھول دیتے ہیں،ہم آپ کو آپشن دے رہے ہیں اور آپ کوئی نہیں لے رہے،آپ ہمارے سامنے بےیارو مددگار کھڑے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ مجھے کوئی ایک آپشن لینے کیلئے وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ڈھائی سال کے بعد اور بھی وقت چاہیے،اب ایسا نہیں چلے گا،معاملہ اب ہمارے پاس آگیا ہے بتائیں بحریہ ٹاؤن نے ادائیگی کر دی یا نہیں،کیا آپ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کر لیا،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ جب تک دوسرا فریق عمل نہیں کرتا ہم نہیں کر سکتے،65 ارب روپے ادا کر چکے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں ٹوٹل اقساط میں سے کتنی ادا کی گئیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ میں آپ کو چارٹ پیش کردوں گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آخری قسط کب ادا کی گئی،وکیل نے کہا کہ آخری قسط 2022 میں ادا کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کو کسی ریونیو آفیسر نے خط لکھا کہ ان کے پاس زمین نہیں،آپ اس خط کو ٹوکری میں پھینک دیں ،آپ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست لے آئیں،جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو بحریہ ٹاؤن کی نمائندگی کون کر رہا تھا،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس وقت وکیل علی ظفر تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اور نام بھی لکھا ہوا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اعتزاز احسن بھی وکیل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا ملک کے دو بڑے وکیلوں کو فیصلہ سمجھ نہیں آیا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلہ پورا نہیں پڑھ رہے ،وکیل نے کہا کہ فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر فیصلے پر عمل نہ ہوا تو نیب ریفرنسز دائر کرے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس راستہ یہ ہی ہے کہ نیب ریفرنس دائر کرے،ہم اب سپریم کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کیسے کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹائون اس وقت ایک بات پر متفق ہوئے اب کہتے ہیں عمل نہیں کرنا،وہ خط کہاں ہے جس میں حکومت نے آپ سے کہا کہ وہ زمین نہیں لے سکتے،

    سماعت میں آدھا گھنٹہ کا وقفہ کر دیا گیا،بحریہ ٹاون ادائیگیوں پر عمل درآمد کیس کی سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں پھر بتا دیتا ہوں کہ اصل اسٹیک ہولڈرز سندھ کی عوام ہے،کیا ہم سندھ کی عوام کو ہار جانے دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نقشہ سے دکھائیں کون سی زمین اب دستیاب نہیں، اپ ہر چیز زبانی بتا رہے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فیصلہ کے بعد ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے 16 ہزار ایکٹر کا پلان منظور کرنا تھا، اپ ہمیں وہ لے آوٹ پلان دیکھائیں جو منظور کروایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے قانون کے مطابق منظوری لینا نہیں یہ بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا کہ میں ہر بات پر میں بتا دونگا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہاکہملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی زمین نہیں دے رہی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو پھر آپ کام کیسے کر رہیں ہیں،اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ بتا دونگا تو پھر آپ کی درخواستیں خارج ہو جائیں گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے سوال کیا کہ آپ کے کلائنٹ کدھر ہیں ان سے پوچھیں،اتنے اہم کیس پر آپ کے کلائنٹ کیوں نہیں آئے؟

    سپریم کورٹ نے برطانیہ سے ریکور رقم ادائیگیوں میں ایڈجسٹ کرنے پر سوال اٹھا دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بحریہ ٹاون نے جو رقوم جمع کرائیں وہ آئیں کہاں سے؟ کیا یہ درست ہے بیرون ملک ضبط رقم بھی سپریم کورٹ جمع کرائی گئی؟ وکیل نے کہا کہ وہ سب ایک معاہدے سے ہوا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وہ معاہدہ پیش کر دیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اس معاملے پر نوٹس نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر ہم نوٹس کر دیتے ہیں ، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ادائیگیاں شئیر ہولڈرز نے کی تھیں، اجازت دیں پہلے میں ہدایات لوں پھر اس پر آگاہ کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیاآپ بحریہ ٹاون کے مالک کے بھی وکیل ہیں، ہم فریقین کو نوٹس کر دیتے ہیں اس معاملے پر بھی،ہو سکتا ہے آپ کا بھلا ہو جائے آپ کو وہ اس معاملے پر بھی وکیل کر لیں،وکیل ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منظوری دی یانہیں اسکا مجھے علم نہیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ منظوری کا سوال پہلی بار سامنے آیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تھانہ اور پٹواری کلچر کو ختم کرنا ہے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک یہ الارمنگ صورت حال ہے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے نہ اس فیصلے پر عمل ہوا نہ قانون پر عمل ہوا، ابھی تک سندھ حکومت کو معلوم ہی نہیں کوئی ایکشن لیا گیا یا نہیں،کیا حکومت سندھ،سندھ کی عوام کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے،کراچی نسلہ ٹاور کے علاوہ کئی جھونپڑیاں گرائیں گئی ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہہ آئندہ سماعت پر مکمل تفصیلات فراہم کرونگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ نائیک صاحب یہ تصدیق کر لیجیے گا کہ ملیر ڈویلپمنٹ نے زمین سے انکار کیا ،پہلے زمین دینے کا کہا اب انکار کیسے کر سکتے ہیں ،بنیادی سوال ہمارے وہیں کھڑے ہیں سوال ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے بھی کریں گے ،

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ رقم حکومت سندھ کو ملنی چاہیے تھی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رقم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ملنی چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ قانون کے مطابق یہ زمین ایم ڈی اے نے خود ڈویلپ کرنا تھی یا کسی اورکو بھی دے بھی سکتی تھی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ خود بھی کر سکتی تھی کسی کو دے بھی سکتی ہے،ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت بحریہ ٹائون کی رقم حاصل کرنے کیلئے آمنے سامنے آگئیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے سندھ حکومت سے زمین لی، سندھ حکومت کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کی گئی تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سندھ حکومت سے زمین خریدی تھی یا لیز پر لی؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایم ڈی اے نے زمین لیز پر لی تھی لیکن مدت مقرر نہیں کی گئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لیز پر لی گئی زمین ایم ڈی اے کسی دوسرے کو کیسے دے سکتی ہے؟ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے زمین کے عوض رقم نہیں لی،زمین سندھ حکومت کی تھی اس لئے پیسہ بھی سندھ حکومت کو ملنا چائیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بحریہ ٹائون سے پیسہ لیکر کرے گی کیا؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ فیصلے کے مطابق رقم کمیشن کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگی،کمیشن کا چیئرمین چیف جسٹس نامزد کرینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اگر نامزدگی نہ کرنا چاہے تو کیا ہوگا؟ عدالت نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ زبانی گفتگو کے بجائے سندھ حکومت کو ادائیگی کی تفصیلات فراہم کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن ہونے والا ہے منتخب لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں پیسے کا کیا کرنا ہے، آئین اور قانون کے مطابق ترقیاتی کاموں کیلئے بجٹ سپریم کورٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟

    بحریہ ٹائون کراچی کے الاٹیز کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،بحریہ ٹائون کے وکیل کی جانب سے الاٹیز کے وکیل کے پیش ہونے کی مخالفت کی گئی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ انفرادی کیسز کا 184/3 میں نہ سنا جائے،ماضی میں بھی بحریہ ٹائون کو بہت بلیک میل کیا جا چکا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کا فائدہ الاٹیز کو ہی ہونا ہے، الاٹیز کے حوالے سے عدالتی حکم میں ذکر موجود ہے،

    سپریم کورٹ، بحریہ ٹاون کی ادائیگیوں کے معاملے پر بحریہ ٹاون کے بجائے رقم جمع کرانے والے دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کہا کہ یہ نوٹ کیا گیا کچھ رقوم بحریہ ٹاون نے خود ادا نہیں کیں،بحریہ ٹاون کے وکیل ہدایات اور معلومات لیکر اس پر جواب دیں، کیس کی آئندہ سماعت 8 نومبر کو ہو گی،سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز کیس کا بالواسطہ نوٹس لے لیا، بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمین کے عوض رقم ادا کرنے والوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • عمران خان کہتے  کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟عدالت

    عمران خان کہتے کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟عدالت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد،چئیر مین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیرازاحمدرانجھا جج ابو الحسنات ذولقرنین کی عدالت میں پیش ہوئے، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اڈیالہ جیل سپرینڈنٹ کی جانب سے ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز نہیں آئیں،جیل میں ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز آجائیں تودیکھ لیتے ہیں، وکیل صفائی شیرازاحمدرانجھا نے کہا کہ آج بھی ایس او پیز نہیں آئیں آپ کہیں تو میں عدالت کی معاونت کر دیتا ہوں،چئیرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کے لئے سائیکل مہیا کرنا چاہتے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ سائیکل کے حوالے سے تو میں پہلے ہی جیل حکام کو کہہ چکا ہوں، وکیل شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو سائیکل آج ہی مہیا کر دیتاہوں،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سائیکل کا غلط استعمال نہ ہو، ایسا نہ ہوکہ سائکل جیل سپرینڈنٹ چلاتا رہے، جیل مینوئل بھی دیکھنا ہوتا ہ، ہمارے لئے انڈر ٹرائل ملزم کی سیکیورٹی اہم ہے، وکیل صفائی شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ اگر خدشات ہیں تو ایک بندہ مقرر کر دیں جس کی نگرانی میں سائیکل استعمال ہو، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟ اگر کھانا جیل میں تیار ہو تو جیل حکام ذمہ دار ہوتے ہیں،میں سائیکل والے معاملے پر آرڈر کر دیتا ہوں، معاملے کو حل کر دیتے ہیں،

    وکیل صفائی شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عدالت آج آنا ہے، جج ابو الحسنات نے استفسار کیا کہ کیوں آپ چاہتے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کی موجودگی میں ریلیف دوں؟ چلیں علیمہ خان کو پہنچ جانے دیں، میرے لئے قابل احترام ہیں، جب تک علیمہ خان آتی ہیں، تب تک میں چائے پی لیتاہوں،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کے آنے تک وقفہ کردیا

    عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کی عدالت نے دی اجازت
    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے،سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے، میں آپ کے حق میں کہہ رہاہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دےدیتاہوں،

    جج نے کہا کہ ایس او پیز آگئےہیں جن کے مطابق ملزم کو بات کرنے کی اجازت نہیں، میں پھر بھی جیل مینوئل کے مطابق ٹیلیفونک گفتگو کے معاملے کو دیکھ لیتاہوں،وکیل شیراز نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کو اپنی فیملی سے ٹیلیفونک گفتگو کروانے پر پابندی نہیں، پریزنرز رولز کے مطابق 12 گھنٹے اہلیہ، بچوں سے جیل میں ملاقات کروانے کی اجازت ہے،دیگر ملزمان کو ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی بلکل اجازت ہے،جج نے کہا کہ مجھے جیل مینوئل میں بیرونِ ملک بات کرنے کی اجازت تحریر ہوئی دکھا دیں، وکیل نے کہا کہ جیل مینوئل میں اجازت نہیں لیکن فیڈرل شریعت کورٹ نے اس حوالے سے فیصلہ جاری کیاہے،

    وکیل شیرازاحمدرانجھا کی جانب سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کو عدالت میں جمع کروا دیا اور کہا کہ ہفتے کو تمام قیدیوں کی ٹیلیفونک گفتگو کروائی جاتی ہے،جج نے کہا کہ مجھے بیرون ملک بات کروانے کی اجازت کے حوالے سے بتائیں، وکیل نے کہا کہ اٹک سپرٹنڈنٹ جیل نے غلط بیانی کی، شو کاز نوٹس دینا چاہیے،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے درمیان سائیکل پر دلچسپ گفتگو ہوئی،علیمہ خان عدالت پیش ہوئیں اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، اڈیالہ جیل میں جِم کی سہولت موجود ہے عمران خان کے گھر میں سائیکل ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں میرے بھائی نے سائیکل کے علاؤہ اور کچھ نہیں مانگا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے فیملی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو فیور دےدی ہے، ٹینشن نہ لیں، علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا بھائی اور کچھ نہیں مانگتا، بس ایک سائیکل مانگی ہے کیا ایسا ہوسکتاہے کہ ایک مخصوص شخص گھر سے سائیکل خود جیل میں مہیا کردے؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت ہیں، اہم زندگی ہے، سائیکل پہنچاتے ہوئے دوران راستہ کچھ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ علیمہ خان نے جج ابوالحسنات سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف سی بات ہے! جیل کا کنٹرول آپ کے پاس ہے، سائیکل پر آپ جب حکم جاری کریں گے توجیل پہنچا دی جائے گی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے جیل میں جا کر دیوار تڑوا دی، کون جج ایسا کرتاہے؟ جیل سے دیوار توڑ دی، اب چیئرمین پی ٹی آئی کی چہل قدمی آرام سے جاری ہے، علیمہ خان نے عدالت میں بار بار اسرار کیا کہ جتنی جلدی ہو جائے سائیکل دےدیں،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل کیا موٹر سائیکل بھی دےدیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کچھ بتائیں کہ پٹشنر نے مانگا ہو اور میں نے نہ دیا ہو، علیمہ خان نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف مل جائے تو بہت شکر ادا کریں گے،چیئرمین پی ٹی آئی نے زندگی میں صرف اپنی صحت مانگی ہے،جج صاحب!! آپ سے ہی امید ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل بھی پہنچادیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سوئمنگ پول کے علاوہ باقی سب کچھ مہیا کردیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائیکل کا خیال رکھیےگا کہیں پنکچر نہ ہو،علیمہ خان یہ کہتے ہوئے کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئیں کہ جج صاحب آرڈر کریں، سائیکل ہم ابھی بھیج رہے ہیں،

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کی بیٹوں سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان اسوقت اٹک جیل میں تھے، اب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، سائفرکیس میں ایف آئی اے نے چالان جمع کروا دیا ہے جس میں عمران خان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کی استدعاکی گئی ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری،سماعت ملتوی

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری،سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نواز شریف کی وطن واپسی کا معاملہ،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے نواز شریف سرنڈر کرنا چاہتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی آپ کا اسٹیٹس کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ابھی اشتہاری کا اسٹیٹس ہے، لیکن عدالتی فیصلے موجود ہیں سرنڈر کرنے پر پروٹیکشن دی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کس فیصلے کی آپ بات کر رہے ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عاصمہ عالمگیر کا کیس ہے جس میں فیصلہ ہوا تھا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن کے بعد حفاظتی ضمانت دی گئی تھی ؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی پراسیکیوشن کو سن کر حفاظتی ضمانت دی گئی تھی ، میں نے اس ملک کی کسی عدالت کی ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا ،میرے خلاف جتنے کیس بنے میں خود پیش ہوتا رہا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو اس طرح کہہ رہے ہیں کہ terrible کام ہائیکورٹ نے کیا ہے کہ عدم پیروی اپیل خارج کردی ،

    عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کب واپس آ رہے ہیں ، اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف واپس آ رہے ہیںَ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب کی طرف سے کوئی ہے؟ نیب پراسیکیوٹر فوری عدالت کے سامنے پیش ہو گئے اور کہا کہ نواز شریف واپس آنا چاہتے ہیں تو آنے دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر پراظہارِ برہمی کیا اور کہا کہ اگر یہی ہدایات ہیں تو اپیلوں کی پیروی کیوں کر رہے ہیں؟ کل تو آپ کہیں گے اپیلیں ہی کالعدم قرار دے دیں،نیب کو کیا پہلے ہی ہدایات ملی ہوئی ہیں؟یہ کرنا ہے تو پھر چیئرمین نیب سے پوچھیں آج ہی نوازشریف کی سزائیں کالعدم بھی کر دیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ جب اپیل فکس ہو گی تو اس وقت ہدایات لے کر دلائل دیں گے،

    عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی،عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کر لیا

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم  نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی،نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں حفاظتی ضمانت دائر کی درخواست دائر کی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی ضمانت دائر کی درخواست دائر کی گئی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے کیسز کا سامنا کرنا چاہتے ہوں عدالت پہنچنے کے لیے گرفتاری سے روکا جائے،درخواست پر سماعت کے لیے آج ہی بینچ بنا کر سماعت کرنے کی استدعا کی گئی.درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اسپیشل فلائٹ سے اسلام آباد آرہے ہیں،

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر ہونے کے بعد نیب کےپراسیکیوٹر بھی عدالت پہنچ گئے،نواز شریف کی لیگل ٹیم عدالت پہنچ گئی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دونوں درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کوئی اعتراض عائد نہیں کیا رجسٹرار آفس نے 3333/2023 اور 3334/2023 نمبر الاٹ کردیا گیا ، نواز شریف کی درخواست پر آج ہی بنچ تشکیل اور سماعت کا امکان ہے

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دونوں درخواستیں آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کی دائری برانچ نے نوٹ بنا کر چیف جسٹس کے سیکرٹری کو بھجوا دیا، رجسٹرار آفس کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ” پٹشنر کی جانب سے درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے ”

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے۔اس موقع پر عطا تارڑ نے صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکارکیا صرف کہا کہ "میں صرف قانونی ذمہ داری پوری کرنے آیا ہوں” اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف نے اسپیشل اٹارنی عطا تارڑ کے ذریعے دونوں درخواستیں دائر کیں عطا تارڑ نے بطور اسپیشل اٹارنی ہائی کورٹ میں بائیو میٹرک کرائی.

    مسلم لیگ ن نے حکمت عملی کے تحت آج درخواست دائر کی ہے اگر عدالت نے پہلے سرنڈر کرنے کا حکم دیا تو نواز شریف لاہور کی بجائے پہلے اسلام آباد لینڈ کریں گے،اسکے بعد لاہور آئیں گے،

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیز یہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گئی،توشہ خانہ کیس اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بھی نواز شریف کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں4 سال رہنے کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں،پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ شہر کے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا جو زخمیوں اور پناہ کی تلاش میں موجود دیگر فلسطینیوں سے بھرا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔ اگر اس حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ 2008 کے بعد سے لڑی جانے والی پانچ جنگوں میں اسرائیل کا اب تک کا سب سے مہلک فضائی حملہ ہوگا۔ الاہلی اسپتال کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ نے اسپتال کے ہال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں اور جسم کے اعضاء پورے علاقے میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جبکہ وزارت کا کہنا ہے کہ کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ شہر کے متعدد ہسپتال سینکڑوں افراد کے لیے پناہ گاہ بن گئے ہیں، امید ہے کہ وہ بمباری سے بچ جائیں گے کیونکہ اسرائیل نے شہر اور آس پاس کے علاقوں کے تمام رہائشیوں کو جنوبی غزہ کی پٹی میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔

    اے پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ آیا یہ اسرائیلی فضائی حملہ تھا یا نہیں۔ جنوب میں جاری حملوں میں درجنوں شہری اور حماس کے کم از کم ایک سینیئر رہنما ہلاک ہو گئے ہیں جن کے بارے میں حماس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف عسکریت پسند ہیں۔ امریکی حکام نے اسرائیل کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے کام کیا کہ وہ محصور شہریوں، امدادی گروپوں اور اسپتالوں کو رسد کی فراہمی کی اجازت دے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حماس کے وحشیانہ حملے کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں پانی، ایندھن اور خوراک کے داخلے پر پابندی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں علاقے کے 2.3 ملین افراد کو امداد کی فراہمی کے طریقہ کار کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ فائدہ معمولی لگ سکتا ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم پھر بھی، منگل کی دیر تک، کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا. اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کر رہا ہے کہ حماس کے عسکریت پسند کسی بھی امدادی سامان پر قبضہ نہیں کریں گے۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ طزہی حنگبی کا کہنا ہے کہ امداد کے داخلے کا انحصار حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی واپسی پر بھی ہے۔

    تاہم اس حملہ کی ترکیہ کے صدر طیب اردوان اور کنیڈا کے وزیر اعظم سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے سخت الفاظ میں مزمت ہے اور اسے قتل عام کہا ہے ، اور قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے غزہ کے اس ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے جس میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں تمام انسانیت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ غزہ میں اس بے مثال بربریت کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ جبکہ جسٹن ٹروڈو نے کہا میں اس کی سخت مزمت کرتا ہوں اور اسرائیل کو چاہئے کہ جنگی اصول کا خیال رکھے.

    دوسری جانب فلسطین نیشنل انیشی ایٹو پارٹی (پی این آئی) کے رہنما مصطفی برغوتی نے کہا ہے کہ الاہلی عرب اسپتال پر حملے سے عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ فتح اور حماس فلسطینی سیاسی جماعتوں کے متبادل کے طور پر پی این آئی کے شریک بانی برغوتی نے کہا، "میرے خیال میں اب کسی بھی عرب حکومت کے لیے اپنے ملک میں اسرائیلی سفیر رکھنا انتہائی شرمناک ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ عرب حکومتوں اور اسرائیل کے درمیان معمول پر لانے کے تمام اقدامات کو ختم اور منسوخ کیا جانا چاہیے۔ یہ کم از کم اتنا ہی ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔ لیکن انہیں امریکہ کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اب بہت ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی عرب دنیا میں بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ بہت سے ممالک امریکہ کو تیل اور گیس اور مدد اور مارکیٹوں اور ہر چیز فراہم کرتے ہیں۔ اب امریکہ اس اسرائیلی جنگی جرم کی حمایت کر کے عملی طور پر ہمیں قتل کر رہا ہے۔ اور یہ بند ہونا چاہئے. جبکہ فلسطینی صدر نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور عالمی رہنماؤں سے کہا ہے اسرائیل کے ظلم کیخلاف آواز بلند کریں.

    خیال رہے کہ پاکستان نے بھی اس کی مزمت ہے اور وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان غزہ کے الاہلی الممدانی ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ ایک ہسپتال پر حملہ، جہاں شہری پناہ اور ہنگامی علاج کی تلاش میں تھے، غیر انسانی اور ناقابل دفاع ہے۔ شہری آبادی اور تنصیبات کو اندھا دھند نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ پر اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے فوری خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے اور گزشتہ چند دنوں میں اسرائیلی حکام نے جس بے رحمی کے ساتھ کارروائیاں کی ہیں۔

  • نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ  سے سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے  کی ملاقات

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے کی ملاقات

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ اور سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے کی آج بیجنگ میں ملاقات ہوئی ہے اور نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ اور صدر رانیل وکرما سنگھے نے پاکستان اور سری لنکا کے مابین موجود مضبوط تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کی آپسی ہم آہنگی کو خوش آئند قرار دیا جبکہ وزیرِ اعظم نے خطے کے وسیع تر مفاد میں غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی و خوشحالی کیلئے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا. وزیرِ اعظم نے امن و استحکام اور روابط کے فروغ کیلئے تعاون بڑھانے پر زور دیا.


    پاکستان اور سری لنکا کو درپیش ایک جیسے معاشی چیلینجز کے حوالے سے دونوں راہنماؤں نے اس موضوع پر بھی گفتگو کی. انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے حکام اس حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کریں گے جس میں خسارے کا شکار سرکاری اداوں (SOEs) کی نجکاری سر فہرست ہے. سری لنکا کے صدر نے وزیرِ اعظم کا پاکستانی حکومت و عوام کی جانب سے سری لنکا کی عوام کیلئے نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا. دونوں راہنماؤں نے پاکستان اور سری لنکا کے مابین موجود دیرینہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا.

    ملاقات کے دوران دونوں راہنماؤں نے غزہ میں فلسطینیوں کو اسرائیلی حملوں کی وجہ سے درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا. انہوں نے فوری طور پر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے، غزہ میں محصور لوگوں تک انسانی مدد پہنچانے کیلئے راہداری کے قیام اور دو ریاستی حل جس کے تحت 1967 میں تفویض کردہ سرحدوں کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست جس کا دارلخلافہ القدس شریف ہو، کے قیام کا مطالبہ کیا. دوسری جانب نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملاقات کی ہے جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان یہ ملاقات چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہوئی ہے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بائیڈن کا چین کو مصنوعی ذہانت کی چپس سے دور کرنے کا اعلان
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    محمد بن سلمان کا سعودی عرب،پہلی بار ہو رہا”ریاض فیشن ویک”
    حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،فیصلہ محفوظ

    علاوہ ازیں روسی صدر نے کہا کہ خطے کی معاشی ترقی کے لیے سلامتی یقینی بنانا ضروری ہے، خطے کی معاشی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا ضروری ہے، عالمی سطح پر غذائی تحفظ کے لیے روس اقدامات کررہا ہے جبکہ ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا چاہتے ہیں، روس نے غریب افریقی ممالک کے لیے اناج کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ہے۔

    تاہم اس موقع پر نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے دونوں ممالک یکساں مؤقف رکھتے ہیں، توانائی کے شعبے میں روسی سرمایہ کاروں کاخیرمقدم کریں گے اور نگراں وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے دوطرفہ تعاون ضروری ہے، بطور سینیٹر روس کا دورہ کرچکا ہوں۔

  • کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم

    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم

    ملکی سالمیت کو مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے اشارے پر کام کرنے والے تمام دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر کے خلاف ریاست مکمل طاقت کے ساتھ نمٹے گی اور انہیں عبرت ناک بنائیں گے اور انہیں چن چن اپنے انجام تک پہنچائیں گے۔

    جبکہ فورم کو خطے کی صورتِحال اور قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں اپنی حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔فورم نے ہر قسم کے بالواسطہ اور بلاواسطہ خطرات کے خلاف پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے پاک فوج کے عزم کا اعادہ کیا۔ فورم نے غزہ-اسرائیل جنگ میں ہونے والی پیش رفت اور اسرائیل کی طرف سے طاقت کے استعمال کے باعث معصوم شہریوں کے جانی نقصان پرتشویش کااظہار کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کو پاکستانی قوم کی مکمل سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت حاصل ہے اور ہم مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل، ان کی سرزمین اور مسلمانوں کے مقدس مقامات پر غیر قانونی قبضے کے خاتمے کے لیے اپنے بھائیوں کے اصولی مؤقف کی حمایت جاری رکھیں گے۔

    جبکہ اعلامیہ کے مطابق کانفرنس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے معیشت کی بحالی کے لیے کئے گئے اقدامات کو پاکستانی عوام کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی،فورم نے غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا۔ آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پاک فوج ملک بھر میں غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی، آرمی چیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ مافیاز اور کارٹلز کے خلاف کارروائیوں کو آنے والے دنوں میں مزید تقویت دی جائے گی تاکہ ملک کو اس طرح کی معاشی سرگرمیوں کے منفی اثرات سے نجات دلائی جا سکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    محمد بن سلمان کا سعودی عرب،پہلی بار ہو رہا”ریاض فیشن ویک”
    حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،فیصلہ محفوظ
    کانفرنس کے شرکاء نے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو یکم نومبر 2023تک ملک بد ر کرنے اور وطن واپس بھیجنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کی مکمل حمایت کرنے کا عزم کیا۔ آرمی چیف نے تمام غیر قانونی تارکین وطن کی باعزت اور محفوظ وطن واپسی اور ڈیپورٹیشن کو یقینی بنانے کی ہدایت کی،آرمی چیف نے آپریشنز کے دوران پیشہ ورانہ مہارت کے معیار کو برقرار رکھنے اور فارمیشنز کی تربیت کے دوران بہترین کارکردگی کے حصول پر زور دیا۔

  • نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ،وفاقی حکومت نے اپیل واپس لے کر مہلت مانگ لی

    نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ،وفاقی حکومت نے اپیل واپس لے کر مہلت مانگ لی

    نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف نگران وفاقی حکومت کی جانب سے اپیل دائر کرنے کا معاملہ،اپیل کی درخواست دائر کرنے کے بعد واپس لے لی گئی

    وفاقی حکومت نے بذریعہ اٹارنی عدالت عظمی نے اپیل دائر کرنے کیلئے مہلت مانگ لی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اپیل دائر کرنے کے لیے 15 روز کا وقت دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے کچھ مزید گراؤنڈز شامل کی جارہی ہیں،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے سے اپیل کا حق مل گیا،

    وفاقی حکومت نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف وکیل مخدوم علی خان کے ذریعے اپیل تیار کررہی ہے،سابق چیف جسٹس بندیال نے دو ایک کے تناسب سے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا ،نیب ترامیم کے خلاف 15 ستمبر کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا

    قبل ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ھے کہ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ھے۔ سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب ترامیم کو بحال کرے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمان کے اختیارات پر تجاوز کے مترادف ہے۔ اپیل میں فیڈریشن، نیب اور چیئرمین پی ٹی آئی کو فریق بنایا گیاہے،وفاق نے اپنی اپیل میں نیب ترامیم کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار اور ترامیم کو بحال کرنے کی استدعا کی ہے

    قبل ازیں نیب ترامیم فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کی گئی تھی،ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عبد الجبار کیطرف سے نظر ثانی دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں سنے بغیر نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ دیا،نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے میرے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن عدالت کو بھجوادیا، نیب ترامیم کیخلاف درخواست میں کسی بنیادی حقوق خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی، نیب ترامیم کیخلاف درخواست آرٹیکل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تھی،سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف 15 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے،

    نیب آرڈیننس ترمیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع 

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • سپریم کورٹ،خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

    باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کا لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا حکم قانون کے برخلاف ہے، سپریم کورٹ نے فیصلے میں ہدایت کی کہ لوڈشیڈنگ سے متاثرہ افراد نیپرا سے رجوع کریں،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ قانون میں ڈسکوز کیخلاف نیپرا اتھارٹی اور ٹربیونل کے فورم قائم کئے گئے ہیں، متعلقہ فورم کے ہوتے ہوئے ہائیکورٹ براہ راست حکم جاری نہیں کر سکتی،

    وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے لوڈشیڈنگ کی صورت میں حکام کیخلاف مقدمات درج کرانے کا حکم دیا،لوڈشیڈنگ پورے ملک کا مسئلہ ہے پیسکو حکام کیخلاف مقدمات بلاجواز ہونگے، وکیل جواب دہندہ نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ حکم میں لوڈشیڈنگ کی تفصیل مانگی تھی،ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بل دینے والوں کو بجلی فراہم کی جائے، دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کئی تکنیکی نکات بھی آسکتے ہیں عدالت کیسے جائزہ لے گی، جن فیڈرز سے ریکوری نہیں ہو رہی ان کا کیا کرینگے،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پیسکو کی اپیل منظور کر لی

  • اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار بچوں سمیت 2800 اموات

    اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار بچوں سمیت 2800 اموات

    حماس کے اسرائیل پرسات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کاروائی میں غزہ پر مسلسل بمباری، حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں میں 2800 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں، خوراک،پانی ،بجلی کی سہولیات ختم ہو چکی ہیں، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں شہری اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لئے قیام کر سکیں،عمارتوں پر بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں،شہید ہوانے والوں میں ایک ہزار بچے اور چار سو سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،اسرائیلی حملوں سے دس ہزار شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، ایک ہزار کے قریب لاشیں عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے.

    امریکا اور اسرائیل کے درمیان امدادی سامان غزہ بھیجنے پر اتفاق
    اسرائیلی حملوں سے غزہ میں ہر طرف تباہی نظر آتی ہے، ہسپتال،سکول،کچھ بھی محفوظ نہیں ہر طرف لاشیں، زخمی، چیخ و پکار، اموات اتنی کہ لاشوں کو ٹرک میں ڈال کر اجتماعی قبریں بنا کر دفن کیا جا رہا،ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل سے غز ہ میں امداد بھجوانے کا کہا لیکن اسرائیل نہ مانا بلکہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں کام کرنے والی ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا، طبی عملے کے ارکان بھی شہید ہو چکے ہیں تو کئی ایمبولینس گاڑیاں بھی تباہ ہو چکی ہیں،

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ امدادی سامان بھیجنے سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم سے 8 گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں امدادی سامان غزہ بھیجنے پر اتفاق کیا گیاہے، امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دوسری بار دورہ کر رہے ہیں،پہلے دورے کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا دورہ کیا تھا.

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ دورہ اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے لئےہو گا،اردن اور مصر بھی جائیں گے اور سربراہان مملکت سے ملاقات کریں گے،بلنکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ وہ حماس سےلوگوں کو محفوظ بنائے،امریکی کمانڈر مائیکل کوریلا صدر جوبائیڈن کی آمد سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی شہر، تل ابیب پہنچ گئے ہیں،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹویٹر پر کہا کہ وہ اسرائیل کا دورہ کریں گے، حماس کے اقدامات فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔کچھ بنیادی اقدار ہیں جن کا ہمیں بطور امریکی مل جل کر رہنا چاہیے اور ان بنیادی اقدار میں نفرت، نسل پرستی، تعصب اور تشدد کے خلاف کھڑا ہونا شامل ہے، نفرت کی کارروائیاں ہماری بنیادی اقدار کے خلاف ہیں اور امریکہ میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    سلامتی کونسل میں فسلطین،اسرائیل جنگ بندی کی قرارداد مسترد
    اسرائیل کی غزہ پر بمباری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے لئے روس نے قرار داد پیش کی تھی جو چار ووٹوں سے مسترد کر دی گئی ہے،روس کو 15 رکنی باڈی میں نو ووٹ نہیں ملے، قرارداد کے حق میں چین، روس، متحدہ عرب امارات، میوزمبیق،گیبون نے ووٹ دیئے، قرارداد کی مخالفت میں امریکا، برطانیہ،فرانس ،جاپان نے ووٹ دیئے،روسی قرارداد پر چھ اراکین البانیہ، برازیل،گھانا، سوئٹزرلینڈ، مالٹا،ایکواڈو نے ووٹ ہی نہیں دیئے.

  • پی آئی اے کی پروازوں میں تاخیر،منسوخی معمول،مسافروں کا احتجاج

    پی آئی اے کی پروازوں میں تاخیر،منسوخی معمول،مسافروں کا احتجاج

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی پروازیں منسوخ یا ملتوی ہونا آئے روز ملتوی بن گیا، باخبر ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے جہاز موجود ہیں، جان بوجھ کر پروازیں تاخیر کا شکار کی جا رہی ہیں کیونکہ پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کی جا رہی ہے اور پروازوں میں تاخیر یا منسوخ کر کے اونے پونے داموں پی آئی اے دی جا سکے

    پی آئی اے کی پروازیں منسوخ ہونے یا لیٹ ہونے پر مسافر سراپا احتجاج ہیں، ایئر پورٹس پر ہنگامے ہو رہے ہیں تا ہم حکام ٹس سے مس نہیں ہو رہے، گزشتہ ایک ہفتے سے روزانہ کی بنیاد پر 20 سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں،باغی ٹی وی کے سینئر کالم نگار شہزاد قریشی نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی پرواز پر اسنتبول جانے کی کوشش کی لیکن وہ قومی ایئر لائن پر نہ جا سکے، شہزاد قریشی کہتے ہیں کہ پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی پرواز صبح پانچ بج کر پچاس منٹ پر روانہ ہونی تھی، میں تین بجے ایئر پورٹ پہنچا تو اعلان ہوا کہ پی آئی اے کی استنبول جانے والی پرواز ساڑھے سات بجے جائے گی، میری آگے کنکشن فلائٹ تھی، اورترکش ایئر لائن نے انتظار نہیں کرنا تھا،میں پریشان ہو گیا، تھوڑی دیر بعد اعلان ہواکہ اب استنبول جانے والی فلائٹ ساڑھے نو بجے جائے گی، اس اعلان کے بعد میں ایئر پورٹ سے نکلا اور واپس آ گیا،کیونکہ میری اگلی کنکشن فلائٹ بھی مجھے نہیں ملنی تھی، میں نے باہر آ‌کر ایجنٹ کو فون کیا اور دوسری ایئر لائن کی بکنگ کروائی،

    پی آئی اے کی نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک جانے والی پروازوں کی حالت یہ ہے کہ مسافروں کو بلا کر تاخیر کا شکار کیا جاتا ہے،لیٹ ہونے پر مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر پی آئی اے نہیں چلا سکتے تو کسی کو دے دیں تا ہم اس طرح ہمیں رسوا تو نہ کریں

    باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے جہاز ٹھیک ہیں،جب سے پرائیویٹائزیشن کا عمل شروع ہوا ہے تب سے جان بوجھ کر پروازیں تاخیر کا شکار کی جا رہی ہیں تا کہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ پی آئی اے بند ہونے کے قریب پہنچ چکی تھی،اسے بچانے کے لئے پرائیویٹائزیشن کی گئی، اپنی کس من پسند پارٹی کو اونے پونے داموں پی آئی اے دے دی جائے گی،

    اسلام آباد سے صحافی محمد اویس کا بھی یہی کہنا ہے کہ کبھی ایندھن ختم تو کبھی پروازیں تاخیر کا شکار، یہ اونے پونے داموں پی آئی اے دینے کے لئے ایک ماحول بنایا جا رہا ہے،حالانکہ پی آئی اے کے پاس جہاز ہیں، عملہ ہیں تو پروازیں کیوں تاخیر کا شکار ہیں،پی آئی اے خسارے میں ہے تو خرچے کم کر کے اسکو بہتر بنایا جا سکتا ہے .

    دوسری جانب ایندھن کی عدم فراہمی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے پی آئی اے کی آج ایک دن میں ملکی و غیر ملکی 19 پروازیں منسوخ ہوئی ہیں جبکہ 20سے زائد تاخیر کا شکار ہیں، پی آئی اے کی پاکستان کے تمام ایئر پورٹس سے پروازیں تاخیر کا شکار ہیں، لاہور سے اسلام آباد کی پروازیں پی کے 307 اور پی کے 309 کراچی کے لیے جبکہ کراچی سے اسلام آباد کی دن کی پروازیں پی کے 368 اور پی کے 369 منسوخ کر دی گئیں،

    کراچی سے دبئی کی پروازیں پی کے 213 اور پی کے 214، کراچی سے لاہور کی پرواز پی کے 206، سیالکوٹ سے دبئی کے لیے پرواز پی کے 179 اور اسلام آباد سے دبئی کی پروازیں پی کے 211 اور پی کے 212 ،ابوظہبی سے اسلام آباد کے لیے پرواز پی کے 262، اسلام آباد سے اسکردو کے لیے پی کے 605 اور پی کے 606، اسلام آباد سے گلگت کے لیے پی کے 601 اور پی کے 602، پشاور سے ابوظہبی کے لیے پرواز پی کے 217،ملتان دبئی روٹ کی پی کے 221 اور پی کے 222، لاہور سے ابوظہبی کے لیے پرواز پی کے 263 بھی منسوخ کر دی گئی،

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    پی آئی اے کا قرض اور واجبات 743 ارب روپے سے تجاوز کر گئے