Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفر کیس میں چیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیر سے آنے پر معذرت کرتا ہوں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے 60 فیصد دلائل مکمل ہو گئے ہیں ،تینوں اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے،اسپیشل پراسکییوٹر راجہ رضوان عباسی، شاہ خاور اور ذوالفقار نقوی بھی روسٹرم پر موجود تھے،اسپیشل پراسکییوٹر رضوان عباسی نے جیل میں ٹرائل کے دوران نقول کی فراہمی کا معاملہ اٹھا دیا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے نقول وصول کیں لیکن دستخط نہیں کیے،9 اکتوبر کو نقول ملزمان کو دیں گئیں،ملزمان کے وکلا نے کہا ہے کہ جیل سماعت کیلئے ان کی درخواست زیر التوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل سماعت کیخلاف درخواست پر فیصلہ کل یا پیر کو آ جائے گا،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت ان کیسز کو اکٹھا کرکے ہی سن لے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،ٹرائل کے حوالے سے کوئی اسٹے آرڈر موجود نہیں، ٹرائل کورٹ نے ٹرائل اپنے لحاظ سے چلانا ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ٹرائل کو چلنے نہیں دے رہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا ،وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، سیکشن فائیو کا اطلاق مسلح افواج کے معاملے پر ہوتا ہے ، اس کیس میں کوئی نقشے کوئی تصویر اور قومی سلامتی کا مواد لیک نہیں کیا گیا ، آج سے پہلے کسی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہوئی، یہ بہت بدنامی کی بات ہے، یہ قانون صرف فوجیوں کے لیے ہے، میں نے یہ سوال اٹھایا یہ کیس وزارت خارجہ نے کیوں نہیں کیا، وزارت داخلہ اس کیس میں فریق کیسے ہو سکتا ہے ؟ مارچ میں چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک جلسے میں صفحہ لہرایا ، ایف آئی آر میں اسکا بھی ذکر نہیں ،
    اس کیس میں کہیں یہ ثابت نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ملکی راز دشمن کیساتھ شیئر کیا ، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سائفر کی لینگویج پر ایک غیر ملکی سفیر کو ڈیمارش کیا گیا ، چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی قیدی ہیں،ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ سائفر کو ریکور کرنا ہے۔ان کے الزامات ہیں کہ سائفر کو اپنے پاس رکھا اور ٹوئسٹ کیا۔انہوں نے سائفر کو ریکور ہی نہیں کیا تو یہ کیسے پتہ چلا کہ اس کو ٹوئسٹ کیا۔ایف آئی آر میں نہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ کابینہ اجلاس اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں رکھا گیا، سائفر والا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی لے جایا گیا، میں حیران ہوں یہ اس معاملے کو کریمنل ڈومین کو کیسے لے آئے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ چار فورمز پر رکھا گیا اور بعد میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ، کابینہ اجلاس، نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ اور سپریم کورٹ میں بھی معاملہ ڈسکس ہوا،یہ معاملہ دو مرتبہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا،
    اس کے متن کے اوپر فارن ڈپلومیٹ کو بلا کر احتجاج کیا گیا، پراسیکیوشن کے سائفر کیس میں بہت سے لنکس مسنگ ہیں۔ سوموٹو کیس میں سائفر کا سارا معاملہ ڈسکس ہوا ، سپریم کورٹ میں اس کو کہیں نہیں کہا گیا کرمنل ایکٹ ہوا ہے۔
    نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا کابینہ کے پاس گیا انہوں نے نہیں بتایا ،سائفر کی جو لینگوئیج ہے وہ قابل مذمت ہے نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ کا لب لباب تھا ،سائفر کی زبان کے استعمال پر احتجاج کیا گیا ،سات مارچ 2022 کو سائفر وصول ہوا ،عدالت نے استفسار کیا کہ سائفر امریکہ سے وصول ہوا ؟ اسپیشل پراسیکیوٹرنے کہا کہ پاکستان ہائی کمیشن امریکہ سے وصول ہوا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ 27 مارچ کا یہ کہتے ہیں بتایا نہیں لہرایا ایف آئی آر میں نہیں ہے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں اس کے سامنے رکھا گیا ،9 اپریل 2022 کو کابینہ کی میٹنگ میں ڈی کلاسیفائیڈ کیا گیا ، چیف جسٹس ، اسپیکر ، صدر کے پاس بھیجا گیا ،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر سات مارچ 2022 کو آیا اور گیارہ مارچ تک پٹیشنر کے پاس رہا، گیارہ اپریل کو شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم حلف لیا، وزیراعظم کی سربراہی میں 24 اپریل کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،پانچ ماہ بعد کابینہ ایف آئی اے کو آگاہ کرتی ہے کہ سائفر وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے،ایف آئی اے چھ دن بعد اس معاملے پر انکوائری سٹارٹ کر دیتی ہے،اگر سائفر وزیراعظم ہاؤس میں تھا تو کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں؟ انہیں شامل تفتیش کر کے بیان لیا گیا؟ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ سائفر کے بغیر کیوں کی گئی تھی؟ ایف آئی اے کا کیس ہے 33 دن سائفر عمران خان کے پاس رہا جبکہ یہی سائفر سابق وزیراعظم شہباز شریف کے پاس 169 دن رہا کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں ؟ کیا شہباز شریف کا بیان ریکارڈ کیا گیا ؟

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ریکارڈ مینٹین کرنا اس کے آفس کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اگر یہ کرمنل ایکٹ اعظم خان کو معلوم تھا تو وہ مدعی کیوں نہیں ؟اعظم خان 15 اگست کو ملزم ٹھہرتے ہیں ، پھر اعظم خان لاپتہ ہوتے ہیں پریشر دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، یہ ڈاکومنٹری ثبوتوں کا کیس ہے کہاں ہیں وہ دستاویزات ؟ فزیکل ریمانڈ تو ان کو ملا نہیں ،نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی پریس ریلیز عدالت کے سامنے پڑھی گئی ،وکیل نے کہا کہ میں صرف ضمانت کے کیس پر دلائل دے رھا ہوں کہ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ
    کیا کابینہ کے میٹنگ منٹس سپریم کورٹ کے سامنے تھے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ کابینہ کے میٹنگ منٹس بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ،سپریم کورٹ کے سامنے بھی پریس ریلیز ہی تھیں وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جب پراسیکیوشن کے پاس کچھ نا ہو تو پھر شریک ملزمان کے بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے ،اعظم خان کا بیان انہوں نے شامل کیا ہے حالانکہ وہ ایف آئی آر میں نامزد ہے ،عدالت اس معاملے سے آگاہ ہے کہ اعظم خان کے لاپتہ ہونے پر ایف آئی آر درج ہوئی تھی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم کی گمشدگی کی ایف آئی آر عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ قانون کے مطابق ایسے بیان کی کوئی حیثیت نہیں جو غیر قانونی حراست کے دوران دیا گیا ہو، ریکارڈ کی دیکھ بھال پرنسپل سیکرٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے ، الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم سائفر کو اپنے ساتھ لے گئے ،ایسی صورتحال میں تو اس مقدمے کا مدعی اعظم خان کو ہونا چاہئیے تھا ،

    سائفر کیس عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ، سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت پلیز آج ضمانت پر فیصلہ کر دے ، پیر کے روز ٹرائل کورٹ فرد جرم عائد کرنے لگے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا جب دلائل مکمل ہو جائیں گے دو تین دن فیصلے میں لگیں گے جتنا وقت آپ کو دیا ہے اتنا وقت پراسیکیوشن کو بھی دوں گا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شروع کریں سوا چار بجے تک ، پھر آئندہ دلائل ہوں گے ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ” قانون کے پرانے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا عمل نہیں ہو گا 1960 میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو آرمی ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا اگر وہ چاہییں تو فوجی عدالتوں میں بھی ٹرائل ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں "، عدالت نے استفسار کیا کہ کوئی وزیر اعظم ، صدر ، گورنر آتے ہیں کیا پوری زندگی وہ آفیشل سیکرٹ کو ظاہر نہیں کر سکتے؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ بالکل پوری زندگی وہ ڈسکلوز نہیں کر سکتے،یہ ایسا ڈاکومنٹ ہے جس کو آپ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے وہ واپس جانا ہے، یہ سیکریٹ ڈاکومنٹ تھا ڈی کلاسیفائیڈ بھی نہیں ہوا اور ہو بھی نہیں سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالان کے ساتھ جو ڈاکومنٹ ہیں کیا سائفر کی کاپی اس کے ساتھ منسلک ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ چالان کے ساتھ سائفر کی کاپی نہیں لگ سکتی ،گواہوں کے بیانات بھی ہیں وزارت خارجہ سے متعلق بھی گواہ ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ نا کوڈڈ نا ہی ڈی کوڈڈ سائفر چالان کا حصہ ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ سیکریٹ ہونے کی وجہ سے اس کو چالان ہے ساتھ منسلک کر نہیں سکتے،

    سائفر کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، اسپیشل پراسیکیوٹر دلائل جاری رکھیں گے

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات

    اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد لڑائی چھٹے روز بھی جاری ہے، اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، غزہ میں 12 سو کے قریب اموات ہو چکی ہیں،اب اسرائیل نے غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کرلی ، 3لاکھ صہیونی فوجی ، ٹینک اور بھاری فوجی سازوسامان سرحد پر پہنچادیا گیا، اسرائیل کی جانب سے کلسٹر بموں، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے،غزہ کی مکمل ناکہ بندی کی گئی ہے،ایندھن کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہےبجلی کی پیداوار کا واحد پلانٹ بند ہو گیا ہے،اقوام متحدہ کے 11 ارکان، ہلال احمر اور ریڈ کراس کے 5 رضا کار بھی حملوں میں مارے گئے ہیں

    الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق غزہ کے حوالہ سے وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہیدوں کی تعداد 1200 ہو گئی ہے جبکہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں تین لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں،بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،کل ایک دن میں 75 ہزار کے قریب افراد بے گھر ہوئے،

    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل جنگی قوانین کا احترام کرے،امریکا میں یہودی امریکیوں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل غصے کے باوجود جنگی قوانین کا احترام کرے، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے ایران کو بھی پیغام دیا کہ وہ خود کو اس جنگ سے دور رکھے

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کی صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے، غزہ میں خوراک،پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے،بجلی بھی بندہو چکی ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر فاسفورس بم بھی برسائے ہیں،دوسری جانب اسرائیل کے ڈیمانا میں نیوکلیائی پلانٹ کے پاس فائرنگ کی بھی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر اسرائیلی نیو کلیئر پلانٹ کے قریب حملہ لبنان کی جانب سے کیا گیا ہے،اگر اس پلانٹ پر حماس یا حزب اللہ کا قبضہ ہو جاتا ہے تو یہ دنیا کے لئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے، اسرائیل کی جانب سے نیوکلیئر پلانٹ کے پاس فائرنگ کے حوالہ سے مکمل خاموشی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے پاس فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز متحرک ہوئیں،فائرنگ کس نے کی ابھی تک سامنے نہیں آ سکا،

    دوسری جانب بھارت نے اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان کیا ہے، بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے آپریشن شروع کر رہے ہیں، جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں انکے لئے اسپیشل چارٹر فلائٹ کا انتظام کر رہے ہیں،ہم بھارتی شہریوں کی حفاظت کریں گے، بھارتی شہری رجسٹریشن کروائیں، اسکے بعد سب کو واپس لایا جائے گا، ممبئی میں اسرائیل کے قونصلٹ کے مطابق اسرائیل میں 20 ہزار کے قریب بھارتی شہری رہ رہے ہیں

    دوسری جانب اے ایف پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے حماس کے ساتھ یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی کے لئے بات چیت شروع کر دی ہے تا ہم ابھی تک مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،حماس نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے،ترک صدر نے علاقائی رہنماؤں کے ساتھ بھی فون پر بات چیت کی،ترکی دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اورحماس کے ارکان کی میزبانی کرتا ہے

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تسلیم کر لیا ہے کہ حماس کے حملے کی اطلاعات تھیں لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ حملہ اتنی شدت سے ہو گا، خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کو حملے کے بارے میں کچھ روز قبل اطلاع ملی تھی لیکن اسرائیل نے اسے نظر انداز کیا تھا،اسرائیل نے ملنے والی اطلاع کو اہمیت نہیں دی تھی،ترجمان اسرائیلی فوج ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے حماس کے اسرائیل پرحملے کے خفیہ اشارے مل گئے تھے مگر اتنے بڑے حملے کی تیاری ہو رہی ہے اس کی خبر نہ ہو سکی،

  • دورانِ عدت میں نکاح غیرشرعی نکاح کے زمرے میں آتا ہے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی

    دورانِ عدت میں نکاح غیرشرعی نکاح کے زمرے میں آتا ہے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی آئی، بشری بی بی کے خلاف غیرشرعی نکاح میں کیس کی سماعت ہوئی

    سول جج قدرت اللہ کی عدالت میں پرایسکیوٹر رضوان عباسی پیش ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیرافضل مروت عدالت پیش نہیں ہوئے، وکیل صفائی کے معاون وکیل پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت اسلام آباد ہائیکورٹ میں مصروفیات کے باعث پیش نہ ہوئے ،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے غیرشرعی نکاح سے متعلق مختلف اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے عدالت میں جمع کروائے

    رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ دورانِ عدت کوئی خاتون نکاح کرے تو خاتون کی جانب سےقانون کی خلاف وزری ہے، طلاق کے بعد عدت کا دورانیہ مکمل کرنا ضروری ہے،دورانِ عدت میں نکاح غیرشرعی نکاح کے زمرے میں آتا ہے، غیرشرعی نکاح کو قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا،کوئی بھی عدالتی فیصلہ نہیں کہتا کہ دوران عدت نکاح جائز ہے،غیرشرعی نکاح کیس کی سماعت کے لیے 22 اکتوبر کی تاریخ دے دیں

    معاون وکیل صفائی نے کہا کہ شیر افضل مروت نے بیرون ملک جاناہے، پوچھ کر عدالت کو آگاہ کرتا ہوں، سول جج قدرت اللہ نے غیرشرعی نکاح کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ، 70 تولہ سونا کمیٹی کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نےغیر معیاری تفتیش پر برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے پولیس اب کرائے کی پولیس بن گئی ہے،پولیس کی اب اپنی عزت نہیں رہی،ادارے کی عزت ہونی چاہیے،پولیس اور پٹواری کا شاہی سسٹم ختم ہونا چاہیے،ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ دس گرام سونے کی کمیٹی نکلنے پر ادا نہیں کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ گرفتار سنار نے کتنا سونا کمیٹی کے ذریعے دینا تھا ؟ مدعی نے کہا کہ کمیٹی سے نکلنے والا 70 تولہ سونا نہیں دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ مالیت سونے کا کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا گیایہ سونا کہاں سے آتاہے؟ اسکی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے، اس کیس میں اصل ملزم تو پولیس کو بنانا چاہیے،پولیس والا سونے کا صرف اپنے مطلب کے لئے ہی پوچھے گا،کمیٹی گرفتار ملزم نے بنائی ، تفتیش اہلخانہ سے ہوئی، سپریم کورٹ نے سونے کی کمیٹی میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور کرلی،عدالت نے ضمانت کے لئے دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    عدالت عظمیٰ نے تاریخی ججمنٹ دے دی ہے یہ کہنا ہے اینکر پرسن مبشر لقمان کا انہوں نے مزید کہا کہ آج جو تاریخی فیصلہ ہوا اس کے مطابق عدالت نے کہہ دیا ہے میاں نواز شریف کے پاس رائیٹ ٹو اپیل کا حق ختم ہوگیا ہے، علاوہ ازیں انہوں نےقانون کے ماہر حسن رضا پاشا سے سوال کیا کہ کیا اب نواز شریف الیکشن لڑ پائیں گے یا پھر وہ تاحیات جیل میں ہی رہیں گے؟


    نااہل ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسن رضا پاشا نے کہا کہ ترمیم ہوگئی ہے الیکشن ایکٹ میں جس کے تحت اب نااہلی کا دورانیہ پانچ سال ہے اس پر مبشر لقمان نے کہا کہ الیکشن ایکٹ تو ٹو تھرڈ کے حساب سے پاس نہیں ہوا کیا وہ عدالت عظمیٰ کی ججمنٹ کے اوپر لاگو ہوگا؟ اس پر وکیل نے کہا ارٹیکل 6، 1، 2 ایف میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہے نااہلی پانچ سال کیلئے ہوگی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
    علاوہ ازیں انہوں نے نواز شریف کے پاس حق ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں، جبکہ میاں نواز شریف کو جیل جانا پڑے گا کیونکہ وہ سزا کے دوران گئے تھے علاوہ ازیں اینکر پرسن نے کہا کہ لگتا ہے کہ نواز ڈیل کرکے آرہے جبکہ اگر عدالت انہیں یہ سہولت فراہم کردے کہ ہم ان کے گھر کو سب جیل قرار دے رہیں تو پھر ایسا تو عمران خان سمیت دوسرے لوگ جو قید ہیں‌کو بھی حق ملنا چاہئے.

    وکیل نے کہا کہ یہ پاکستان ہی ہے کہ سزایافتہ شخص کو باہر ملک بھیج دیا گیا اور آج وہ چار سال بعد واپس آنے کی اپنی مرضی سے تیاری کررہے ہیں جبکہ یہ عدلیہ پر بھی سوال ہے کہ وہ اب تک وہ واپس کیوں نہ آئے.

  • نواز شریف سے ائیرپورٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

    نواز شریف سے ائیرپورٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

    پاکستان واپسی کیلئے ائیرپورٹ پر سابق وزیر اعظم نواز شریف سے پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل کی ملاقات ہوئی ہے جس میں اچھا سا بیانیہ دینے کا مشورہ دیا جارہا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو شریف فیملی کیطرف سے خود لیک کی گئی ہے، اس ویڈیو میں پاکستانی ہائی کمیشنر ڈاکٹر محمد فیصل پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آرہے ہیں .


    لیک ویڈیو کو سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ؛ "پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر محمد فیصل نے سزا یافتہ شخص یعنی میاں نواز شریف کو الوداع کہنے کے لیے ایئرپورٹ پر چھوڑا جبکہ اب کیا کوئی جو اس ڈیل پر سوال کرسکےِ؟ انہوں نے مزید لکھا کہ وہ سزا یافتہ شخص کو ایک بیانیہ کے بارے میں بھی مشورہ دے رہے ہیں!
    https://.twitter.com/BaaghiTV/status/1712137757899034985
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی

    دوسری جانب بہت سارے باخبر صحافی دعویٰ کررہے ہیں میاں نواز شریف کسی ڈیل کے تحت وطن واپس آرہے ہیں لیکن ادھر مسلم لیگ نواز کا بیانیہ ہے کہ نواز شریف کسی کی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے، تاہم واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم نواز شریف جنرل فیض حمید کے احتساب کی بات کی تھی لیکن بعدازاں ان کی جماعت اس پر بھی صفایاں دیتی رہی کہ ان کا مقصد انتقام نہیں ہے.

  • سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیلنج

    سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیئرمین پی ٹی آئی نے چیلنج کر دیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے 9 اکتوبر کے ٹرائل کورٹ حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے زریعے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے لکھا کیس کی نقول وصول کر لیں حالانکہ نقول وصول نہیں کیں ، جیل سماعت کے خلاف ہائیکورٹ کے فیصلے کا بھی ٹرائل کورٹ نے انتظار نہیں کیا ، 9 اکتوبر کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ،

    دوسری جانب توشہ خانہ نیب تحقیقات اور القادر ٹرسٹ کیسز میں بھی عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی ، عمران خان نے عدم حاضری پر ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کا احتساب عدالت کا فیصلہ پہلے ہی چیلنج کررکھا ہے سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ” دس اگست کے احتساب عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد روکا جائے اپیل پر حتمی فیصلے تک عمران خان کی گرفتاری سے بھی روکنے کے احکامات جاری کئے جائیں ”

    واضح رہے کہ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

    سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،

    سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس پر فیصلہ جاری کردیا ،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا فیصلہ 4 صفحات پر مشتمل ہے،سپریم کورٹ نے دس پانچ کی تناسب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو آئین کے مطابق درست قرار دیام تحریری حکم میں کہا گیا کہ پانچ ججز نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو آئین کے مخالف قرار دیا ، 184 تین کے مقدمات میں اپیل کے حق دیاجانا آئین کے مطابق درست ہے،آٹھ سات کے تناسب سے اپیل کے حق کو ماضی سے اطلاق کو غیر آئینی قرار دیدیا،

    سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کر دی گئیں،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخوستیں خارج کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ایکٹ برقرار رہے گا کچھ شقوں کو ختم کیا گیا ہے،سپریم کورٹ نے ایکٹ کی ماضی سے اطلاق کی شق 7/8 سے مسترد کردی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سب کا شکریہ سب نے معاونت کی،فیصلہ ٹیکنکل تھا، ٹائم لگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سُپریم کورٹ کا فیصلہ 10/5 سے ہے،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک نے فیصلے سے اختلاف کیا،تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردیا جائے گا

    سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا، پارلیمنٹ کی قانون سازی کو درست قرار دیدیا

    کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے اکثریتی آٹھ ججز نے ماضی سے اپیلوں کے اطلاق کی شق کو کالعدم قرار دیا ہے اس وجہ سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں اپیلوں کا اطلاق ماضی پے لاگو نہیں ہو گی اس کے علاؤہ ایکٹ آج سے مکمل بحال ہو گیا،سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے مطابق پانامہ و دیگر فیصلوں کے خلاف اپیلیں فائل نہیں ہو سکیں گی پہلے ایکٹ میں یہ حق دیا گیا تھا کہ ماضی کے فیصلوں کے خلاف بھی اپیلیں فائل ہو سکتی تھیں

    سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی کاروائی مکمل ہو گئی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اتفاق رائے ہوا تو آج ہی فیصلہ سنایا دیں گے، سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل روسٹرم پرآگئے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحریری جواب کی بنیاد پر دلائل دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں آپ سب باتیں دہرائیں گے نہیں ہائی لائٹ کریں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آرٹیکل 191 اور عدلیہ کی آزادی کی بات کروں گا،تین سوالات اٹھائے گئے تھے جن کا جواب دوں گا،سپریم کورٹ رولز بننے کے بعد ایکٹ آف پارلیمنٹ کا راستہ روکا نہیں جا سکتا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہاگر سپریم کورٹ کو رولز بنانے کی اتھارٹی نہیں دینی تھی تو آرٹیکل 191 کا مقصد ہی کیا ہے؟ جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ قانون سازی کا اصل مقصد آرٹیکل 184/3 تھا، جو مسئلہ تھا اسے ٹھیک کرتے پورے سسٹم کو کیوں اوپر نیچے کر دیا؟ سپریم کورٹ پورا ادارہ اور ٹائی ٹینک ہے ایک دم کیسے ادھر اُدھر موڑا جا سکتا ہے؟ غلطیاں اگر عدالت سے ہوئی ہیں تو پارلیمان اپنی طرف بھی دیکھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آئین میں گنجائش ہے کہ بنچز بنانے کا اختیار کسی ایک کو دیا جائے؟ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ بنچ کون بنائے گا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پارلیمان نے تو ایک متفرق درخواست تک کے حوالے سے قانون بنا لیا،ہارلیمان کو جو مسئلہ تھا اسے حل کرتے، نتائج دیکھ کر پھر مزید قانون سازی ہوسکتی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کئی کئی مہینوں تک مقدمات سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوتے تھے،قانون سازی کا مقصد صرف ماسٹر آف روسٹرز نہیں تھا،

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جب سے آئین بنا ہے آرٹیکل 191 میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی،آرٹیکل 191 میں ترمیم نہ ہونا عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا ہے،سنگین غداری قانون اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں قانون سازی کا اختیار آئینی شقوں سے لیا گی ،اان قوانین میں پارلیمنٹ نے فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ پر انحصار نہیں کیا تھا، رائٹ ٹو پرائیویسی کو قانون کے ذریعے ریگولیٹ کیا گیا ہے، آرٹیکل 191 سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ملتا ہے، آئین کا کوئی آرٹیکل پارلیمان سے قانون سازی کا اختیار واپس نہیں لیتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں لفظ لاء 200 سے زیادہ بار آیا ہے، آپ کہہ رہے ہیں جہاں بھی یہ لفظ لکھا وہ ایک تناظر میں دیکھا جائے گا،یہ ‘ون سائز فٹ آل’ والا معاملہ نہیں ہے،جہاں بھی یہ لفظ لکھا ہے اس کی نوعیت الگ ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آرٹیکل 191 میں صرف لاء کا لفظ نہیں، یہ سبجیکٹ ٹولاء لکھا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آئین سازوں نے پارلیمنٹ یا لاء کا لفظ دانستہ طور پر استعمال کیا ہے، پارلیمان نے آئین کو جاندار کتاب کے طور پر بنایا ہے کہ جو وقت پڑنے پر استعمال ہو سکے، آئین میں کہاں لکھا ہے کہ عدالتی فیصلے بھی قانون ہونگے؟ عدالتی فیصلوں کی پابندی اور ان پر عملدرآمد ضروری ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک دم سے ساری چیزیں اوپر نیچے کرنا پارلیمنٹ کے لیے ٹھیک نہیں تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دنیا ساتھ مل کے چلتی ہے، پارلیمنٹ ہماری دشمن نہیں ہے نہ ہم پارلیمنٹ کے دشمن ہیں ہم مل کے چل سکتے ہیں اداروں کو لڑانے کی کوشش نہ کریں ، آپ آئین پر فوکس رکھیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت وفاقی حکومت کا جواب چاہتی ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر پر عملدرآمد لازمی ہے یا نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر عملدرآمد لازمی ہے،ججز کے حلف میں لکھا ہے کہ قانون کے پابند ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں پارلیمان نے سپریم کورٹ کی عزت کی اور رکھی، آج ہی اگر ہر چیز کا جواب دے دیں گے تو کل کو یہی کیسز آ گئے تو ہم ان آبزرویشنز کے پابند ہوں گے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر پر عمل نہیں کریں گے تو کیا اپنے حلف کی خلاف ورزی کریں گے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان سے منفی چیزیں کیوں منسوب کی جائیں؟اداروں کو نہ لڑائیں میں تو کہوں گا جیو اور جینے دو، اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کی روایات بھی آئین میں تسلیم شدہ ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئینی روایات ہر اُس ملک میں تسلیم شدہ ہیں جہاں تحریری آئین بھی موجود ہے، آئینی اور قانونی روایات میں تضاد ہو تو آئینی روایت کو ترجیح دی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 189 کے تحت کسی صورت روایات ماننے کے پابند نہیں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں ماسٹر آف روسٹر کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماسٹر آف روسٹر کا لفظ دنیا میں سب سے پہلے کہاں استعمال ہوا؟ کیا انگلستان یا امریکہ میں ماسٹر آف روسٹر کا لفظ استعمال ہوتا ہے یا ہماری ایجاد ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماسٹر کا لفظ سکول میں ہم سنتے تھے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب فل کورٹ بیٹھی ہوئی ہے وہ اس حوالے سے تعین کر لے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسلام میں ماسٹر آف روسٹر کا کوئی تصور موجود ہے؟اگر کلونیل سسٹم پر چلنا ہے تو آزادی لینے کا کیا فائدہ ہے؟ ماسٹر تو صرف اللہ تعالی کی ذات ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کے بعد ماسٹر آف روسٹرز کمیٹی ہوگی، ماسٹر آف روسٹر وہی کام کرے گی جو چیف جسٹس کرتا ہے، کیا کلونیل ہے کیا نہیں اس بحث میں نہ جائیں، ایک جج کے ہاتھ میں اختیار نہیں دینا تو تین کو کیوں ؟ چودہ ججز کو ایک جج کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا تو 12 کو تین کر کیسے چھوڑا جائے؟ اگر ماضی میں کسی چیف جسٹس نے اختیار فل کورٹ کو نہیں دیا تو آپ دیدیں،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے سٹیل مل کی نجکاری کالعدم قرار دینے کے بعد کرپشن پر ازخودنوٹس لیا، جب ازخودنوٹس لیا تو سٹیل ملز منافع میں تھی،سوموٹو کے بعد اب تک سٹیل ملز 206 ارب کا نقصان کر چکی ہے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اس کارروئی کو سپریم کورٹ کیخلاف چارج شیٹ نہیں بنایا جا سکتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سٹیل ملزم کیس کا موجودہ کیس سے کیا تعلق ہے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا قانون سازی کے وقت پارلیمان میں یہ بحث ہوئی تھی؟ ابھی تک پارلیمان میں بحث کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا آپ مولوی تمیز الدین سے ریکوڈک تک سپریم کورٹ کو چارج شیٹ کرنا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسٹیل مل کا نقصان 30 جون 2022 تک اب تک 206 ارب روپے ہو چکا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ کے ایکشن سے یہ سب ہوا، ہم سچ سننے سے ڈرتے کیوں ہیں؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کا اطلاق قانون بننے کے دن سے ہوگا یا ماضی سے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کے مطابق اس کے اطلاق کی کوئی حد نہیں ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر آرٹیکل 184 میں پارلیمنٹ کو لگا کہ اپیل دیں تو آرٹیکل184/1 میں کیوں نہیں دی گئی؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ظاہری طور پر آپ کی دلیل مان لیں تو پارلیمنٹ ایک کے بجائے کئی اپیلوں کا حق دے سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں فاٹا کے علاقوں تک ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کو بڑھایا گیا تھا،ہائیکورٹس کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کے لیے اس حد تک قانون سازی ممکن ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اپیل کے ذریعے پارلیمنٹ کی قانون سازی کا اختیار بڑھایا گیا جو کہ ممکن نہیں ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جن مقدمات میں نظرثانی پر فیصلہ ہوچکا کیا ان میں اپیل ممکن نہیں ہوگی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نظرثانی اور اپیل ایک ساتھ دائر کرے تو کیا ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظرثانی خارج ہونے کے بعد اپیل دائر ہو توعدالت کیس کا جائزہ لے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو کیس کی مثال دینا چاہوں گا،بھٹو کیس میں سزا ہوئی، نظرثانی میں اختلافی رائے دینے والوں نے بھی فیصلے کی حمایت کی،اگر اپیل کا حق ہوتا تو شاید نتیجہ کچھ اور ہوتا،نظرثانی خارج ہونے سے اپیل کا حق ختم نہیں ہوتا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ بھٹو کیس سپریم کورٹ نے اپیل میں سنا تھا 184/3 میں نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس مظاہر نقوی کی بات سے اتفاق کرتا ہوں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمار کس دیتے ہوئے کہا کہ میرا سوال بہت سادہ ہے جس کا جواب نہیں ملا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ آرٹیکل 185(2) پڑھ لیں تو شاید جواب مل جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل شریعت کورٹ بنی تو دیگر عدالتوں سے اختیارات واپس لیے گئے تھے، اعلی عدلیہ کے کچھ اختیارات لیکر شریعت کورٹ کو دیے گئے، اسلام میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا کوئی تصور نہیں ہے،سپریم کورٹ سے کوئی اختیار چھینا نہیں جا رہا بلکہ مزید دیا جا رہا ہے، آمر نے اختیار واپس لیا تو سب خاموش ہوگئے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چیف صاحب کا سوال ہوگیا ہے تو میرا سوال بھی لے لیں،آرٹیکل 191 کے تحت قانون سازی پارلیمان ہی کر سکتی ہے،قانون میں وقت کیساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے، کیا قانون سازی کیلئے دو تہائی اکثریت ہونے کی شرط ختم نہیں ہوگئی؟ شاید آپ کے دلائل میں نے دے دیئے ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ہاتھ باندھے جا رہے ہیں کہ 7 رکنی سے لارجر بنچ نہ بن سکے،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ کیا سپریم کورٹ قانون میں دیا گیا اپیل کا حق اپنے طور پر ختم کرسکتی ہے؟ ہر سوال پر کہا جاتا ہے پارلیمان کی دانش پر بات نہیں ہوسکتی، پارلیمان کی دانش کا سوال یہاں کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس کے فیصلے کیخلاف بھی اپیل ہوئی تو کہاں ہوگی؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا کوئی درخواست گزار اپیل میں کہ سکتا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کا فیصلہ غلط تھا؟ کوئی بھی عدالت انتظامی سطح پر قانونی حق ختم نہیں کر سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تسلیم کرنا چاہتا ہوں کہ فل کورٹ بنانا میری غلطی تھی،جب آٹھ رکنی بنچ بنا تھا تب بھی اپیل کا یہی سوال اٹھنا تھا، کسی جج نے فل کورٹ پر اعتراض کیا نہ آٹھ رکنی بنچ پر، مفروضوں سے نکل کر بات کریں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرا سوال مفروضے پر نہیں مستقبل کیلئے حقیقت پر ہے،

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023
    کسی بھی کیس کی سماعت کیلئے بنچ کی تشکیل کا فیصلہ 3 ججز پر مشتمل کمیٹی کرے گی ،کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینئر موسٹ ججز شامل ہوں گے ، کمیٹی کی اکثریت کا فیصلہ تسلیم کیا جائے گا ،آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت کوئی بھی کیس از خود نوٹس کیلئے کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا ،معاملہ عوامی نوعیت کا ہونے اور قابل سماعت ہونے پر بینچ تشکیل دیا جائے گا ، معاملہ کی سماعت کے لئے بنچ کم سے کم 3 رکنی ہو گا ،تشکیل کردہ بنج میں کمیٹی سے بھی ججز کو شامل کیا جاسکے گا ،از خود نوٹس کے فیصلے پر 30 روز میں اپیل دائر کی جاسکے گی ،14 روز میں اپیل کی سماعت کے لئے لاجر بنچ تشکیل دیا جائے گا ،اپیل کرنے والے فریق کو مرضی کا وکیل مقرر کرنے کا حق حاصل ہوگا،کسی بھی کیس کی جلد سماعت یا عبوری ریلیف کی درخواست کو 14 روز میں سماعت کے لئے مقرر کیا جائے گا ،قانون کی منظوری سے قبل ہونے والے از خود نوٹسز کے فیصلوں پر بھی اپیل کا حق ہوگا ،آئین کی تشریح کے مقدمات کی سماعت کے لئے پانچ سے کم ججز پر مشتمل بینچ تشکیل نہیں دیا جائے گا

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے،الیکشن کمیشن

    توہین الیکشن کمیشن کیس، ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے،الیکشن کمیشن

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل عمران خان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں پروڈکشن آرڈر جاری کریں تاکہ وہ پیش ہوں،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پہلے الیکشن کمیشن آتے نہیں تھے اب کہا جارہا کہ جیل سے پیش کرنے کا حکم دیں، ممبرالیکشن کمیشن اکرام اللہ نے کہا کہ آپ یہ تو نہیں چاہتے کہ الیکشن کمیشن ان کے پاس چلا جائے؟چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

    دوسری جانب توہین الیکشن کمیشن کیس ،فواد چوہدری کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور کہا کہ فواد چوہدری بیمار ہیں اس لیے نہیں آئے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ آپ نے رویہ اپنا لیا ہے کہ یہاں پیش نہیں ہوتے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ اس پر ہم مناسب آرڈر جاری کرینگے ،اسد عمر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ آپ کے وکیل انور منصور تو یہاں پر پیش نہیں ہوتے، اسد عمر نے کہا کہ میں آج یہاں خود پیش ہوا ہوں،سماعت چوبیس اکتوبر تک ملتوی کردیں، اس وقت فواد چوہدری کی طبیعت بھی بہتر ہوجائے گی،ممبر نثار درانی نے کہا کہ چوبیس اکتوبر تک فواد چوہدری کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی ،اس بہانے آپ کی ان سے ملاقات بھی ہوجائے گی،اسد عمر اور فواد چوہدری کیس کی سماعت چوبیس اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    الیکشن کمیشن پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈرجاری ابھی نہیں ہوئے، جس طرح ہمیں بلایا جاتا ہے ویسے چیئرمین پی ٹی آئی کوبھی موقع ملنا چاہیے،چیئرمین پی ٹی آئی کویہاں بلائیں تاکہ وہ بھی اپنا نقطہ نظرپیش کریں ،

  • پاکستان واپسی کے لئے نواز شریف لندن سے سعودی عرب کیلئے روانہ

    پاکستان واپسی کے لئے نواز شریف لندن سے سعودی عرب کیلئے روانہ

    مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سعودی عرب جانے کیلئے ایون فیلڈ سے ائیر پورٹ روانہ ہوگئے

    لیگی کارکنوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے نعروں سے اپنے قائد کو رخصت کیا،اس موقع پر ن لیگی رہنماؤں نے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگائے،دوسری جانب پی ٹی آئی کارکنان بھی موجود تھے جنہوں نے نواز شریف کے خلاف احتجاج کیا،

    سعودی عرب میں ایک ہفتہ قیام کے بعد نواز شریف دبئی پہنچیں گے, دبئی سے اسپیشل طیارے کے زریعے وطن واپسی کے لیے روانہ ہونگے, نواز شریف کے ہمراہ لیگی کارکنان اور صحافی بھی دبئی سے پاکستان کے لیے روانہ ہونگے, خصوصی پرواز دبئی سے اسلام آباد پہنچے گی وہاں سے لاہور کے لیے اڑان بھرے گی,

    دوسری جانب نوازشریف کے استقبال کے حوالے سے جڑانوالہ میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں عہدیداران و کارکنان کی کثیر تعداد نےشرکت کی , رہنما مسلم لیگ ن طلال چوہدری نےکارکنوں سے خطاب کیا،

    مرکزی رہنماء پاکستان مسلم لیگ ن، سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف سے سابقہ اراکین اسمبلی، ورکرز اور پارٹی عہدیداروں کی ملاقاتیں ہوئیَ اس موقع پر اکیس اکتوبر کے استقبالیہ کے حوالے سے مشاورت اور ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

    علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ لاہور محسن کُشوں کا شہر نہیں ہے میاں نوازشریف نے اس شہر کی بے پناہ خدمت کی ہے مجھے فخر ہے کہ جس جس طرح 21 اکتوبر قریب آرہا ہے ہر جگہ لوگوں کا جوش و جذبہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔

    شائستہ پرویز ملک کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف صاحب کا استقبال نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان سے آئے ان کے چاہنے والے لوگ کرینگے انشاءاللہ 21 اکتوبر کو لاہور یہ ثابت کرے گا کہ لاہور میاں نوازشریف کا قلعہ تھا قلعہ ہے اور رہے گا۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام میاں نوازشریف صاحب کی شکل میں اپنے حالات کی بہتری , اپنی خوشحالی اور ملک کے حالات کو بہتر ہونے کی نوید دیکھتے ہیں اسی لیے عوام میاں نوازشریف کا استقبال کرنے آرہے ہیں۔

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔