Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نواز شریف  واپسی؛ چارٹرڈ بُک

    نواز شریف واپسی؛ چارٹرڈ بُک

    دبئی سے پاکستان واپسی سفر کیلئے مسلم لیگ (نواز) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے سفر کیلئے چارٹرڈ طیارہ بُک کرا لیا گیا ہے جکہ ذرائع کے مطابق پرواز کو امیدِ پاکستان کا نام دے گی اور اس خصوصی پرواز میں 150 مسافروں کی گنجائش ہے جبکہ وطن واپسی پر لیگی کارکنان اور لندن کے صحافی 21 اکتوبر کو نواز شریف کے ساتھ روانہ ہوں گے اور یہ خصوصی پرواز دبئی سے لاہور روانہ ہوگی اور اسلام آباد میں آدھا گھنٹہ رکے گی۔

    واضح رہے کہ نواز شریف عمرے کی ادائیگی کیلئے کل لندن سے سعودی عرب جانے کیلئے روانہ ہوں گے اور وہاں ایک ہفتہ قیام کریں گے، سعودی عرب میں ان کی متعدد ملاقاتیں طے ہیں اور نواز شریف دبئی میں تین روزہ قیام کے بعد 21 اکتوبر پاکستان کیلئے روانہ ہوں گے، دبئی میں بھی نواز شریف کی دبئی میں بھی متعدد ملاقاتیں طے ہیں۔ دوسری جانب ممتاز حیدر کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی حفاظتی ضمانت 16 اکتوبر کو دائر کی جائے گی ،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جائے گی ،نواز شریف کی جانب سے قانونی ٹیم کو حفاظتی ضمانت دائر کرنے کی اجازت دے دئیے گئی ہے ،نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں حفاظتی ضمانت دائر کی جائیں گئی
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    شیخ رشید کی بازیابی کیلئے مزید آٹھ دن کا وقت مل گیا
    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز
    کیا پاکستان ورلڈکپ میں نئی تاریخ رقم کر پائے گا؟
    ورلڈکپ: پاکستان کو جیت کیلئے345 رنز کا ہدف
    ممتاز حیدر کے مطابق نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیزیہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی ،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا.اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی ضمانت دائر کی جائیں گئیں ،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے ،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گی

  • ممالک اسرائیل سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے کوشاں

    ممالک اسرائیل سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے کوشاں

    اسرائیل اور حماس کے مابین لڑائی کو آج چوتھا دن ہے، چار دنوں میں دونوں اطراف سے اموات ہوئی ہیں، اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے جاری ہیں تو وہیں حماس کی جانب سے بھی کاروائی جاری ہے، اسرائیل کے 1000 کے قریب شہری حماس کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، وہیں اسرائیلی حملوں میں سات سو کے قریب افراد شہید ہو چکے ہیں،

    اسرائیل نے اپنی سرحد پر تین لاکھ فوج تعینات کر دی ہے اور شہریوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے، اسرائیل کے مسلسل فضائی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں ہزاروں لوگ پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں جو کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں،

    اسرائیل کی مصر کے راستے غزہ جانے والے ٹرک پر بمباری کی دھمکی
    اسرائیل نے مصر کے راستے غزہ جانے والے ٹرک پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیل نے مصر کو دھمکی دی ہے کہ وہ امداد لے جانے والے کسی بھی ٹرک پر حملہ کرے گا جو رفح کراسنگ سے غزہ میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔غزہ کی پٹی میں وزارت داخلہ اور قومی سلامتی نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے مصر کے ساتھ رفح زمینی سرحدی گزرگاہ پر دوبارہ بمباری کی،بم دھماکے کے نتیجے میں کراسنگ کے دو ملازمین زخمی ہوگئے۔رفح لینڈ کراسنگ غزہ کی پٹی کو مصر سے جوڑتی ہے،یہ ہفتے میں دو دن بند ہوتی ہے،

    کئی ممالک اسرائیل سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے کوشاں
    جیسے جیسے حماس اور اسرائیل کی لڑائی میں اضافہ ہو رہا ہے، کئی ممالک اپنے شہریوں کو اسرائیل سے نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں،اس ڈر سے کہ یہ لڑائی طویل چلے گی،ہالینڈ،آسٹریا،قبرص،چین،تھائی لینڈ،جاپان،ارجنٹان کوشش کر رہے ہیں کہ شہریوں کو محفوظ بنانے کے لئے اسرائیل سے نکالا جائے،ہالینڈ کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کو اسرائیل سے واپس نکالنے کے لئے کوشش کر رہی ہے، آسٹریا کل بدھ کو فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کے ذریعے اپنے شہریوں کو اسرائیل سے نکالنے کا انتظام کر رہا ہے۔ تقریباً 200 آسٹریا ن کے باشندوںے اب تک اپنے ملک کے حکام کو اسرائیل چھوڑنے کی خواہش سے آگاہ کیا ہے۔قبرصی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ حماس کے اچانک حملے کے بعد اسرائیل چھوڑنے کے خواہشمند تیسرے ملک کے شہریوں کے انخلاء میں مدد کے لیے ملک تیار ہے۔

    چینی وزارت خارجہ نے وضاحت کی کہ بیجنگ اسرائیل میں جاری تنازع میں دو چینی شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔وزارت کے ترجمان وانگ وین بِن نے یہ بیانات غزہ کی پٹی کی سرحد کے قریب سڈروٹ میں دو چینی کارکنوں کی ہلاکت کا اشارہ دینے والی رپورٹ کے جواب میں دیے۔

    تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تازہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل میں بدامنی میں 18 تھائی شہری مارے گئے۔ 3,226 تھائی اسرائیل سے واپس آنا چاہتے ہیں۔جاپانی کابینہ کے سیکرٹری جنرل نے اشارہ دیا کہ اسرائیل میں کسی جاپانی کے زخمی ہونے کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔ارجنٹائن کے وزیر خارجہ سانتیاگو کیفیرو نے کہا کہ حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں میں سات ارجنٹائن مارے گئے، جب کہ 15 دیگر اب بھی لاپتہ ہیں۔ تقریباً 625 شہریوں نے بھی ارجنٹائن واپس جانے کی درخواست کی۔

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستانی سیاسی جماعت کاجمعہ کو یوم احتجاج کے طور پر منانے کا اعلان
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے رہنماؤں نے اسرائیلی جارحیت کا شکار فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف 13 اکتوبر جمعۃ المبارک کو یوم احتجاج کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے اس سلسلے میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ جمعۃ المبارک کو سہ پہر 04 بجے نیشنل پریس کلب کے باہر کیا جائے گا جس میں شہر بھر سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان و ذیلی تنظیمات کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابسطہ شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔منگل کو ضلعی سنٹرل کمیٹی کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسلام آبا د کے ضلعی صدر چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ،انعام الرحمان،یاسر عرفات بٹ،محمد شوکت سلفی،رانا زاہد مقبول،میڈیاکوآرڈنیٹر نوید احمد ودیگر کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا وہی مؤقف ہے جو مؤقف بانی پاکستان محمد علی جناح کاہے،مرکزی مسلم لیگ فلسطینیوں کی جدوجہد کی مکمل حمایت اور اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست تصور کرتی ہے،اسرائیل بدترین جنگی جرائم کی مرتکب ایک ناجائز ریاست ہے اقوام عالم کو چاہئے کو وہ مظلوم فلسطینیوں کی مدد کیلئے اپنا کردار ادا کریں،حکومت پاکستان مظلوم فلسطینیوں کیلئے عالمی سطح پر آواز بلند کرے،اسرائیلی مظالم کے خلاف فلسطینیوں کی جانب سے حالیہ مزاحمت فطری عمل ہے،اقوام عالم فلسطینیوں کو ان کا حق دلانے کیلئے اپنا کردار ادے کرے۔ ضلعی صدر مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد چوہدری شفیق الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ جمعۃ المبارک کو اسلام آباد بھر میں یوم یکجہتی فلسطین کے طور پر منائے گی علماء ومشائخ ونگ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسلام آبادکی اپیل پر جمعۃ المبارک کو علماء اکرام اپنے خطبات جمعہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کریں گے جبکہ خطبہ جمعہ کے بعد اسرائیلی بربریت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے بڑا احتجاجی مظاہرہ جمعۃ المبارک کے بعد سہ پہر 04 بجے نیشنل پریس کلب اسلا م آباد کے باہر ہو گا جس میں شہر بھر سے کارکنان و عام شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال
    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو بھارتی اداکارہ نصرت بھروچا اسرائیل میں تھیں، وہ 39 ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں شرکت کے لئے اسرائیل گئی تھیں جہان انکی فلم کی بھی نمائش ہونی تھی، نصرت سے انکی ٹیم کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا تا ہم وہ ممبئی پہنچ چکی ہیں، واپس گھر پہنچنے پر نصرت نے ویڈیو پیغام جاری کیا اور کہا کہ بھارتی حکومت کا شکریہ ادا کرتی ہوں،نصرت کا کہنا تھا کہ میں واپس آ گئی اور گھر میں محفوظ ہوں، دو دن قبل ہوٹل میں جب اٹھی تو ہر طرف دھماکوں کی آوازیں تھیں، سائرن بج رہے تھے، ہمیں ہوٹل کے نیچے ایک تہہ خانے میں لے جایا گیا،آج جب میں گھر میں اٹھی اور کوئی شور نہیں تھا تو میں نے خود کو پرسکون پایا اور محفوظ پایا، اب میں اچھا محسوس کر رہی ہوں، مجھے جلد امن کی امید ہے، نصرت نے بھارتی سفارتخانے کی مدد پر بھی شکریہ ادا کیا،

    حماس کے 1500 عسکریت پسندوں کی لاشیں اسرائیل سے برآمد
    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے اندر حماس کے تقریبا 1500 عسکریت پسندوں کی لاشیں برآمد کی ہیں،
    اسرائیل نے غزہ کا "مکمل محاصرہ” کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ محاصرہ بین الاقوامی قانون کے تحت "ممنوع” ہے اور "انسانی ہمدردی کی راہداری” کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔اسرائیل نے اب غزہ کی خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر سپلائی بند کر دی ہے، جبکہ حماس کے زیر اقتدار علاقے پر جوابی فضائی حملے شروع کر دیے ہیں،

    یورپی یونین نے تشدد کے خاتمے اور تمام فریقوں سے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔تو وہیں واشنگٹن نے اسرائیل کی پشت پناہی کے لیے جنگی وفوجی سازوسامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کیا ہے۔ایران نے حماس کے حملے کی تعریف کی ہے تا ہم اس میں ملوث ہونے یا کوئی کردار ادا کرنے سے انکار کیا ہے،

  • ہر بدھ کو لاہور میں لاک ڈاؤن کا اعلان

    ہر بدھ کو لاہور میں لاک ڈاؤن کا اعلان

    ترجمان کمشنرلاہور آفس نے کہا ہے کہ کل بروز بدھ تمام تعلیمی ادارے، مارکیٹیں و دفاتر معمول کے مطابق کھلیں گے۔ انسداد سموگ کے لیے بدھ کی چھٹی کا اطلاق حکومت پنجاب کے نوٹیفکیشن کے بعد آئندہ ہفتے سے ہوگا۔بعض چینلز کی جانب سے کل کی چھٹی کی خبر چلانا درست نہیں۔ تعلیمی اداروں و دفاتر میں ورک فرام ہوم کی تجویز پنجاب حکومت کو پیش کی جائے گی، حتمی فیصلہ پنجاب حکومت کرے گی۔ک

    مشنر لاہور نے کہا ہے کہ ہر بدھ کو سکولز، مارکیٹیں، سرکاری و نجی ادارے بند ہوں گے، منگل، بدھ، جمعرات کو سموگ کا انڈیکس زیادہ ہوتا ہے، تاجر اگر چاہیں تو اتوار کو دکانیں کھول سکتے ہیں،

    پنجاب میں سموگ کے تدارک کے لیے لاک ڈاؤن اور ناکہ بندی کی تجویز پیش کی گئی ہے بدھ کے روز مارکیٹیں، سکول، کالجز اور فیکٹریاں بند ہوں گی،سرکاری دفاتر میں میں بدھ کے دن آدھے ملازمین کام کریں گے

    دوسری جانب ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کےخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کے حکم پر سموگی وہیکلز کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے، سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ
    دھواں چھوڑنے والی کوئی بھی گاڑی شہر میں داخلی نہیں ہوگی، سی ٹی او لاہور نے سرکل افسران کو اپنی نگرانی میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگی وہیکلز کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا،شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر 07 خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں،شہر کے اندر چلنے والی سموگی ٹرانسپورٹ کو دو، دو ہزار روپے کے جرمانوں کا حکم دے دیا گیا،

    83 فیصد سموگ، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے باعث بنتی ہےبغیر ترپال، بغیر ڈھانپے ڈمپر، ٹرالیوں اور دیگر لوڈر گاڑیوں کےخلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا،شاہراہوں پر دھول، مٹی، ریت اور دیگر گندگی پھیلانے والوں گاڑیوں کےخلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی،مقررہ اوقات سے قبل شہر لاہور میں داخل ہونے والی ہیوی ٹریفک کےخلاف بھی کارروائی ہوگی،

    دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان کو 2000 روپے جرمانہ
    صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم مراد کی ہدایت پر سموگ چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ گاڑیوں کی فٹنس کا خیال نہ رکھنے والوں کے سرٹیفکیٹ معطل کئے جا رہے ہیں۔دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان کو 2000 روپے جرمانہ کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر کی جانب سے سموگ کا باعث بننے والی گاڑیوں کے خلاف فی الفور ایکشن لینے کی ہداہت کی گئی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم مراد نے کہا کہ 23 اگست سے لیکر اب تک کل 53 ہزار پانچ سو 72 گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی۔کل 5 ہزار 590 گاڑیوں کا دھواں چھوڑنے کی مد میں چالان کیا گیا ہے۔ مذکورہ دورانیہ کے دوران کل 78 لاکھ 36 ہزار 600 روپے کے جرمانے کئے گئے ہیں۔ ابراہیم مراد نے کہا کہ 5 ہزار 5 سو 90 گاڑیوں کے چالان کرکے کاغذات قبضے میں لئے گئے جبکہ 944 گاڑیوں کو بند کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد ای چالان سسٹم نافذ کیا جائے گا جس سے سارا ڈیٹا آن لائن دستیاب ہو گا۔ آن لائن ڈیٹا کی مدد سے سموگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تمام افراد کا ریکارڈ موجود ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنی گاڑیوں کی فٹنس کا خیال رکھیں اور ماحول کو محفوظ رکھنے میں حکومت کا ساتھ دیں کیونکہ صحت مند ماحول ہی صحت مند زندگی کا ضامن ہے

  • نواز شریف کی وطن واپسی،قانونی ٹیم کی حکمت عملی تیار

    نواز شریف کی وطن واپسی،قانونی ٹیم کی حکمت عملی تیار

    نواز شریف کی وطن واپسی، قانونی ٹیم نے حکمت عملی تیار کرلی

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی حفاظتی ضمانت 16 اکتوبر کو دائر کی جائے گی ،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جائے گی ،نواز شریف کی جانب سے قانونی ٹیم کو حفاظتی ضمانت دائر کرنے کی اجازت دے دئیے گئی ہے ،نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں حفاظتی ضمانت دائر کی جائیں گئی

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیزیہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی ،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا.اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی ضمانت دائر کی جائیں گئیں ،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے ،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گی

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام اباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر سماعت کل 11:30 بجے تک ملتوی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر سماعت کل 11:30 بجے تک ملتوی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے،دوران سماعت باربار سوال کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر کو ٹوک دیا اور کہا کہ اپنے سوال روک کر رکھیں۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ درخواستوں پر سماعت کررہا ہے دوران سماعت وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہنوٹس پر پیش ہوا ہوں، عدالت کو دو فیصلوں پر دلائل دوں گا آرٹیکل 191 میں لفظ’لاء‘ کا مطلب ہے وہ کسی قسم کا قانونی اختیار تو دے رہا ہے، سپریم کورٹ رولز میں الفاظ کی تعریف کا الگ سے سیکشن ہے۔

    فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ایک کاکڑ کیس کا حوالہ دوں گا، اور دوسرا سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کے فیصلے کا حوالہ دوں گا، ان فیصلوں کے کچھ حصے موجودہ کیس سے تعلق رکھتے ہیں، سپریم کورٹ رولز میں الفاظ کی تعریف کا الگ سے سیکشن ہے جس پرجسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ لاء کا مطلب ایکٹ آف پارلیمنٹ ہوتا تو آئین سازوں نے لکھا ہوتا۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل فیصل صدیقی سے کہا کہ میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ آپ ہر سوال کا جواب نہ دیں، آپ صرف اپنے دلائل پر توجہ دیں،چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس پر وکیل فیصل صدیقی ہنسے تو چیف جسٹس نے وکیل کے مسکرانے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہنسنے کی کوئی بات نہیں، 4 سماعتوں سے کیس سن رہے ہیں اور کئی کیس التوا میں ہیں، میری ساتھی ججز سے درخواست ہے اپنے سوالات روک کر رکھیں، بینچ میں ہرکوئی سوال کرنا چاہتا ہے لیکن وکیل کی کوئی دلیل پوری تو ہونے دیں، چار سماعتوں کے باوجود یہ ہماری کارکردگی ہےکہ ایک کیس ختم نہیں ہوا، اگر آپ ہر سوال کاجواب دیں گے تو آپ کے دلائل مکمل نہیں ہوسکیں گے، باقی تمام کیس چھوڑ کراس کیس کی سماعت کررہے ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ رولز میں لاء کی تعریف درج ہے، صرف یہ بتادیں آرٹیکل 191 میں لاء کا کیا مطلب ہے جسٹس منیب کے سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگرآپ نے پہلے ہی ذہن بنالیا ہے تو فیصلے میں لکھ لیجیےگا، وکیل کو جیسے مرضی دلائل دیناہوں گے دے گا، اس پر جسٹس منیب نے کہا کہ بینچ کا حصہ ہونے پر میرا حق ہے کہ میں سوال کروں، چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ظاہر ہے آپ سوال کرسکتے ہیں لیکن پہلے وکیل دلائل تو مکمل کریں، جسٹس منیب نے کہا کہ معذرت کے ساتھ میرا مسئلہ میرا سوال ہے اور اس کا جواب دیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل صدیقی اپنے دلائل مکمل نہیں کریں گے تو ہم ہمیشہ یہی کیس سنتے رہیں گے، اس لیے آپ پہلے اپنے دلائل مکمل کریں اس پر جسٹس منیب نے کہا کہ میں اس بینچ کا حصہ ہوں اوریہ میرا استحقاق ہےکہ میں سوال پوچھوں، مجھے سوال پوچھنے سے روکا جائے گا تو بینچ میں بیٹھنے کا کیا فائدہ؟

    ایم کیو ایم کے وکیل نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی حمایت کر دی، اور ایکٹ کیخلاف درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کردی۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ ایکٹ کیخلاف درخواستیں میرٹ پر خارج کی جائیں-

    چیف جسٹس نے وکیل فیصل صدیقی کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر دلائل نہیں دینا چاہتے تو بیٹھ جائیں جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ سبجیکٹ ٹو اور لاء کو الگ الگ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ایک بار پھر وکیل فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ آئین نے یہ کیوں کہا عدلیہ، ایگزیکٹو اور مقننہ الگ الگ ہیں، ایکٹ سے سپریم کورٹ کی آزادی میں مداخلت کی گئی، ایکٹ سپریم کورٹ کے اندرونی امور میں مداخلت ہے یا نہیں۔

    وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ایکٹ کو سپریم کورٹ میں مداخلت کے طور پر نہیں دیکھ سکتے، پارلیمنٹ پر 4 پابندیاں ہیں، پارلیمنٹ عدلیہ کی آزادی میں مداخلت نہیں کر سکتی، پارلیمنٹ عدلیہ کی آزادی کومتاثرکرنےوالی قانون سازی نہیں کرسکتی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ سے پارلیمنٹ پرعائد آئینی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہر پابندی کو ایکٹ کی شقوں کے ساتھ ملا کر بتاوں گا، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کو سپروائز کر سکتی ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپروائزکرنے کا مطلب توسپریم کورٹ کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ کے سپروائزری اختیار کی بھی حدود ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا لیجسلیٹیواینٹریز پارلیمنٹ کو سپروائزری کا اختیار دیتی ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ اہم سوال ہے جس کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں، آرٹیکل191کو لیجسلیٹیو اینٹری 58 سے ملا کر پڑھیں تو پارلیمنٹ کو اختیار تھا، سپریم کورٹ کے پروسیجرز میں لفظ پریکٹس کا کیا مطلب ہے؟-

    وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ رجسٹرار آفس کے آرڈر کے خلاف اپیل بھی ہوتی ہے، جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ ایڈمنسٹریٹو آرڈر اور ایڈمنسٹریٹو اپیل ہوتی ہے جسٹس منصورشاہ نے کہا کہ بھلے ایڈمنسٹریٹواپیل ہو، ہمیں اس کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے، فیصل صدیقی کے دلائل دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس منصور نے کہا کہ میں آپ کی فزیکل موومنٹ کو انجوائے کر رہا ہوں۔ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ واحد ورزش ہے جو میں کر سکتا ہوں۔

    وقفے کے بعد ایم کیو ایم کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ رولز بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا ہے، رول بنانے کو قانون سے مشروط کیا گیا ہے، جسٹس منیب نے آئینی تاریخ کی بات کی، اس تناظر میں بات کروں گا،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ضروریات تھیں جس بنیاد پر پارلیمنٹ نے ایکٹ بنایا، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اپیل کا حق آئینی ترمیم سے ہی دیا جا سکتا ہے۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر یہ اپیل غیر آئینی ہے تو لا ریفارمز میں اپیل بھی غیر آئینی ہے۔،جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وہ والا معاملہ ہمارے سامنے نہیں ہے، 2 غلط مل کر ایک درست نہیں بنا دیتے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اٹارنی جنرل سے پارلیمنٹری ریکارڈ منگوایا گیا تھا؟ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ریکارڈ کے معاملے پر جواب اٹارنی جنرل ہی دے سکتے ہیں، دیکھنا ہو گا آئین میں اپیل کا حق دینے پر پابندی ہے یا نہیں۔

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ آئین میں400 مرتبہ لاء کا لفظ استعمال ہوا ہے، آئینی تشریح کیلئے کسی نا کسی پرنسپل پر انحصار کرنا ہوتا ہے، آپ کون سے پرنسپل پر انحصار کر رہے ہیں، جس پر وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ عدالت کو دیکھنا چاہئے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپیل تو آئین میں پہلے بھی دی گئی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں پارلیمنٹ کو براہ راست اختیار کہاں دیا گیاہے،ججز کی جانب سے پے در پے سوالات اور ریمارکس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک وقت پر ایک شخص بات کرے۔

    جسٹس مسرت ہلالی کے ازخود نوٹس اختیار سے متعلق اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل191 کی لینگویج سبجیکٹ ٹو لاء سے شروع ہوتی ہے، کیا ان الفاظ سے پروسیجر میں بہتری کی گنجائش چھوڑی گئی، آرٹیکل 184/3جب بھی استعمال ہوا ملک کی بنیادیں ہلا دیں۔

    چیف جسٹس نے ایک بار پھر جسٹس منیب اختر کو سوالات پر ٹوک دیا اور کہا کہ پہلے میرےسوال کا جواب دیا جائے بعد میں دوسرے سوال پر آئیں، میں نہیں چاہتا میرے سوال کے ساتھ کچھ اور آئے، میں نے آج سب سے کم سوال پوچھے ہیں، ماسٹر آف روسٹر کو اتنا تو اختیار دیں-

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر مزید سماعت کل صبح ساڈھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی

  • صداقت عباسی نے بھی عمران خان کو خیرباد کہہ دیا

    صداقت عباسی نے بھی عمران خان کو خیرباد کہہ دیا

    تحریک انصاف کے رہنماء صداقت علیی عباسی نے تحریک انصاف اور سیاست کو چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں کہیں غائب نہیں تھا بلکہ اپنے دوست کے ہاں گیا تھا کیونکہ 9 مئی واقع کے بعد پولیس نے پکڑ دکھڑ شروع کی ہوئی تھی۔


    انہوں نے اینکرپرسن عادل شاہ زیب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس دوران گلگت چلا گیا تھا، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عثمان ڈار نے جو کہا وہ اپنے بارے میں کہا لیکن یہاں پنڈی اسلام آباد میں شہباز گل، شیری مزاری وغیرہ بہت زیادہ ایسی باتیں کرتے تھے جو فوج کے خلاف ہوتے تھے جبکہ صداقت عباسی نے مزید کہا کہ عمران خان کا بیانیہ جو اداروں کیخلاف تھا اسی کے نتیجہ میں 9 مئی کا واقعہ پیش آیا ہے اور اس سے قبل عمران خان کہتے تھے کہ ہماری لڑائی اداروں کیساتھ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات یقینی بنائیں گے . میر علی مردان خان ڈومکی
    نگراں وزیراطلاعات سے روسی سفیر کی ملاقات؛ معیشت، تعلیم، ثقافت زیر بحث
    اسرائیل سے بھاگنے والوں کا ائیرپورٹ پر رش
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ 4 مئی کو پلان ہوا کہ 6 مئی کو ایک ریلی ہوگی جس میں اداروں کو دباؤ میں لانا ہے کیونکہ عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو پھر نشانہ حساس تنصیبات ہوں گی، جبکہ 7 مئی کو ایک اور میٹنگ ہوئی تھی جس میں عمران خان اور پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو پھر لوگ حساس اداروں کے خلاف کاروائی کریں اور ان کی بلڈنگ پر پہنچ کر توڑ پھوڑ کریں۔

    جبکہ اس بارے میں حامد میر نے لکھا کہ "جھکی جھکی سی نظروں کے ساتھ تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے کا اعلان، کیا آپ پر کوئی دباؤ تو نہیں؟ جی نہیں کوئی دباؤ نہیں

  • سائفر کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی

    سائفر کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی کمرہ عدالت پہنچ گئیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان بھی کمرہ عدالت پہنچ گئی ،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کمرہ عدالت پہنچ گئی،پٹیشنر چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے،سپیشل پراسیکیوٹرز راجہ رضوان عباسی، ذوالفقار عباس نقوی اور شاہ خاور بھی عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،وکیل سلمان صفدر نےسائفر کیس کی ایف آئی آر پڑھ کر سنا ئی.چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف 2 لوگ روسٹرم پر رہیں باقی بیٹھ جائیں ،عمران خان کی درخواست ضمانت پر اوپن کورٹ میں سماعت کا آرڈر دیا ہے، اگر کوئی ایسی چیز آتی ہے جو حساس ہو تو پھر دونوں وکلا کی مشاورت سے ان کیمرہ دلائل سنیں گے،شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم کورٹ کی معاونت کرتے ہوئے بتا دیا کریں گے کہ فلاں بیان کا یہ حصہ کورٹ صرف خود پڑھ لے، ‘

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کر دیا ،وکیل نے کہا کہ اس ایف آئی آر کا ہر کالم اہم ہے، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کمپلیننٹ ہیں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا،اب میں ایف آئی آر کے متن پر آتا ہوں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو اس ایف آئی آر میں ملزم نامزد کیا گیا، الزام ہے کہ ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کے حقائق کو ٹوئسٹ کیا گیا،ایف آئی آر کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکرٹری اعظم خان کو میٹنگ منٹس تیار کرنے کا کہا ،سائفر کو غیر قانونی طور پر پاس رکھنے اور غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا،کہا گیا کہ اسد عمر اور محمد اعظم خان کے کردار کو تفتیش کے دوران دیکھا جائے گا،ایف آئی اے نے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا،عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمہ کے چالان میں کتنے افراد کو ملزم بنایا گیا ہے؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ چالان میں سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ کو ملزم بنایا گیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سائفر کوڈڈ فارم میں آتا ہے، دہلی اور واشنگٹن سے آ رہے ہوں گے، انہیں ڈی کوڈ کرنے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ ہر ایمبیسی میں ایسے تربیت یافتہ افراد ہوتے ہیں جو سیکرٹ کوڈز سے واقفیت رکھتے ہیں، سائفر فارن آفس میں آتا ہے، ڈی کوڈ ہونے کے بعد اس کی کاپیز بنتی ہیں،سائفر کی کاپیز پھر آرمی چیف سمیت چار آفسز میں تقسیم ہوتی ہیں،یہ سیکرٹ ڈاکومنٹ کی سیکرٹ کمیونی کیشن ہوتی ہے،

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن پانچ اے کی سزا 14 سال اور سزا ئےموت ہے ،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی

    سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ فارن سیکرٹری کی ڈومین ہوتی ہے کہ سائفر کس کس کو بھجوانا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کوئی سٹینڈرڈ پریکٹس نہیں کہ کس کس آفس کو لازمی جاتا ہے؟سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ جی، یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ سائفر کا پیغام کس نوعیت کا ہے، آخر میں اوریجنل سائفر رہ جاتا ہے، ڈی کوڈڈ ٹیکسٹ نہیں، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ آفیشل سکریٹ ایکٹ 1923 کا سو سال پرانا قانون ہے، اس ایکٹ کے اندر کسی جگہ سائفر کا ذکر نہیں ،کہوٹہ پلانٹ کی تصاویر لے کر دشمن ملک کو دے دوں، اس پر لگتا ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں چودہ سال قید یا موت کی سزا ہے،کسی دشمن ملک سے سائفر شیئر نہیں کیا، قومی سلامتی کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کیا، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دشمن ملک کس کو کہیں گے؟ عموما جنگ کے موقع پر ہوتا ہے کہ یہ فلاں دشمن ملک ہے. وکیل نے کہا کہ یہاں کلبھوشن جادھو، ابھی نندن یا کہوٹہ پلانٹس کے نقشے بنانے کا واقعہ نہیں ہے، پہلے یہ قانون پڑھا اور پھر کہانی لکھ کر تمام وہی الفاظ شامل کر دیے گئے، اس قانون کو بہتر کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی، اب اس میں ترمیم کر کے سائفر کو شامل کیا گیا، کوشش کی گئی کہ تبدیلی لے آئیں مگر اس کا اطلاق اس ایف آئی آر پر نہیں ہو سکتا،بدنیتی کی بنا پر قانون میں نئی ترمیم کی گئی،آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں ترامیم چیلنج بھی کی جا چکی ہیں، سو سال میں اس قانون میں ترمیم نہیں کی گئی، ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس قانون میں ترمیم کی گئی،مجھے نئے قانون میں کوئی چیز ایسی لگی جو غلط ہو، جو تبدیلی قانون میں آئی وہ اس ایف آئی آر میں دیکھ بھی نہیں سکتے، سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ جو باہر سے پڑھے ہوں انکو نہیں پتا ہو گا کیا کرنا ہے، چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ دنیا میں ایسا کوئی سائفر کے حوالے سے کیس ہوا ہے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شائد کوئی کیس چل رہا ہے اس متعلق ؟
    سلمان صفدر کی جانب سے سکریٹ ایکٹ سے متعلق مختلف فیصلوں کے حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ ماضی میں کبھی بھی صرف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل نہیں ہوا، ہمیشہ آرمی ایکٹ، نیوی یا ایئر فورس کے قوانین کے ساتھ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کیا گیا، یہ کیسز آرمی افسران کے خلاف ڈیفنس معاملات میں چلائے گئے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے سات مختلف کیسز کے حوالہ جات پیش کیے گئے،وکیل نے کہا کہ اس کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کو دو ماہ ہو گئے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو سائفر کیس میں پندرہ اگست کو گرفتار کیا گیا تھا،
    پٹیشنر ایک سیاسی قیدی ہے، بیس سے زائد مقدمات میں ضمانت ملی کیونکہ وہ کیسز بدنیتی کی بنیاد پر بنائے گئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کی عمر 71 سال ہے، بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی مخالفین کی ایما پر مقدمات درج کیے گئے،چالیس کیسز صرف اسلام آباد اور دو سو کے قریب ملک بھر میں مقدمات درج کیے گئے،جس مقدمے میں ٹرائل کورٹ ایک دن کا بھی فزیکل ریمانڈ نا دے تو یہ بھی ضمانت کا گروانڈ ہے ،پراسیکیوشن نے ٹرائل کے فزیکل ریمانڈ نا دینے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا ،میرے سے کسی قسم کی کوئی ریکوری نہیں ہوئی ،فزیکل ریمانڈ نا دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے ،16 اگست کو دئیے جانے والے ریمانڈ کے وقت نا ہماری حاضری ہے نا ہمیں پتہ چلا ،16 اگست کا ریمانڈ ہمیں 30 اگست کو پتہ چلا ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، فیض حمید کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، فیض حمید کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری کر دیئے

    جنرل باجوہ ، جنرل فیض حمید اور دیگر کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ اندراج کی درخواست پر سماعت ہوئی،مقدمہ اندراج کی درخواست پر ہائیکورٹ نے ایف آئی اے ، جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری کردیا ،صحافی جاوید چوھدری ، شاہد میتلا ، پیمرا ، پریس ایسوسی ایشن آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا،

    چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری عاطف علی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا ، تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق ایف آئی اے کو مقدمہ اندراج درخواست کے بعد بار بار استدعا کی کوئی ایکشن نہیں ہوا ، درخواست گزار کے وکیل نے کہا ایف آئی اے کو حکم دیا جائے کہ مقدمہ درج کرکے کاروائی کرے ،جاوید چوھدری اور شاہد میتلا نے صرف ویورشپ کے لئے دو آرٹیکل لکھے جس کا سوسائٹی پر نیگیٹو اثر ہوا ، جاوید چوھدری اور شاہد میتلا کے آرٹیکلز کو پٹیشن کا حصہ بنایا گیا

    درخواست میں کہا گیا کہ جب میں نے آرٹیکلز دیکھے تو حیران رہ گیا کیسے مافیا سوسائٹی کو پرگندا کر رہا ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کرمنل رویہ سامنے آیا اس سے مقدمہ اندراج کی درخواست دی ، کرمنل ایکٹ باجوہ اور فیض حمید کی ملی بھگت سے ہوا ایف آئی اے سخت ایکشن لے ، جنرل باجوہ اور جنرل فیض قانونی رکاوٹ عبور کرکے سنگین جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں ، غلط اور من گھڑت طریقہ سے مختلف ایونٹس کو ظاہر کرکے داغدار کیا گیا ،توجہ حاصل کرنے کے لیے صحافت کی آڑ میں آرٹیکلز سے ریاستی ادارے کی نگیٹیو تصویر پیش کی گئی۔ ان واقعات کے تناظر میں جاری مہم عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش ہے ،

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    راولپنڈی: خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔-

    باغی ٹی وی :آفیشل سیکریٹ ایکٹ سائفر کیس کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اڈیالہ جیل میں ہورہی ہے، خصوصی عدالت کےجج ابو الحسنات ذوالقرنین، ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم، شاہ محمود قریشی کی بیٹی اور بیٹا زین، پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر بھی اڈیالہ جیل اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔

    کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکلاء نے عدالت سے سماعت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنےتک سماعت نہ کرنے کی استدعا کردی،دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی میں چلان کی نقول تقسیم کی گئیں۔ جس کے بعد خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا، اور فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 17 اکتوبر فرد جرم کے ساتھ تمام سرکاری گواہان کی طلبی ہوگی۔

    دہشتگردوں سے برا سلوک کیا جا رہا ہے،پنجرے میں بند کیا گیا ہے،عمران خان
    راولپنڈی: شیر افضل مروتنے اڈیالہ جیل سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی کارروائی میں جج صاحب نے چیئرمین پی ٹی آئی سے تلخ باتیں کرنے کی کوشش کی،جو انکا حق نہیں تھا ،آج فاضل جج نےاپنے آرڈر پر عملدرآمد کرانے کے لئے بہت دلائل دیئے ،آج ہم نے فرد جرم پر دستخط نہیں کئے ،چیئرمین نے کہا کہ دہشتگردوں سے برا سلوک کیا جا رہا ہے،پنجرے میں بند کر رکھا ہے،واک کی جگہ بھی نہیں ہے ،آج کارروائی ملتوی ہو گئی ہے،پیر کو سماعت ہو گی ،جج چیئرمین کو لیکر جیل کے اندر لےگئے ہیں،آرڈر لکھوایا ہے کہ انکو واک کی مناسب سہولت دی جائے مآج جو آرڈر ہوا ہے اسے چیلنج کر رہے ہیں ،آج چیئرمین میرا خیال ہے تھوڑا غصہ میں تھے، انکو ورکنگ سپیس اور ایکسرسائز مشین تک نہیں دے رہے

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج جیل کے اندر خان صاحب سے ملاقات ہوئی،ٹرائل کو جیل میں کیا جا رہا ہے،اسی طرح سے ان کیمرہ سماعت کی جاری ہے ،ہماری طرف سے بڑا واضح کہا گیا کہ جیل کے اندر سماعت کر کے کیسے فیئر ٹرائل کیا جا سکتا ہے ،ایسے بند کمرے میں جیل میں دیے گئے فیصلہ کو نہ ہم مانیں گے نہ قوم مانے گی.ہائی کورٹ میں اوپن ٹرائل اور جیل کے اندر عدالت لگانے کے نوٹیفیکشن کو ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہواہے اس کا فیصلہ آنے دیا جاۓ جو کہ کئی ہفتوں سے محفوظ ہے.اور دوسرا آج ہائی کورٹ میں ضمانت پر سماعت کا معاملہ 2 بجے فکس ہے.لہذا سماعت ملتوی ہو گئی.

    ایک اور ٹویٹ میں وکیل کا کہنا تھا کہ آج پھر خان صاحب کو جہاں پر عدالت لگی ہوئی تھی وہاں نہیں لایا جا رہا تھا بلکہ کمرہ کے ساتھ پنجرہ نما سیل تھا جس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو لایا گیا اور عدالت نے کہا کہ کمرہ میں لے آئیں،آخری تاریخ پر بھی یہ ہی کیا گیا ،عدالت کو ہم نے بتایا کہ جب ہائی کورٹ نے حکم دیا ہوا ہے کہ جیل مینول کے مطابق ان کو حق دیا جاۓ تو نہ ہائی کورٹ کا حکم مانا جا رہا نہ آپ کا،اور اب کیوں کہ خان صاحب آپ کی کسٹڈی ہیں اور آپ اپنا حکم یقینی بنائیں ،2:30 مہینے ہو گئے ہیں خان صاحب سے ان کے بچوں کی فون پر بات نہیں کروائی جا رہی ،حالانکہ یہ اجازت آپ کی کورٹ نے دی ہوئی ہے لیکن کوئی حکم کی تعمیل نہیں کر رہا،خان صاحب کی سیفٹی اور ان کے حقوق کی آپ نے پروٹیکشن کرنی ہے،

    ایک اور ٹویٹ میں وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان ببر شیر ہے وہ ڈٹا ہوا صرف ہماری آزادی کے لیے،عمران خان کا قصور صرف یہ ہے کہ اس نے غلامی سے انکار کیا اور ابسلوٹلی ناٹ کہا،مجھے فخر ہے ان پر جس دلیری سے وہ جھوٹے مقدمے میں جیل کاٹ رہے ہیں،عمران خان صاحب نے پھر مطالبہ کیا ہے 9 مئی کے حوالے سے آزاد اور غیر جانبدار اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں،

    واضح رہے کہ 30 ستمبر کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کیس سے متعلق چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرایا جس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیا گیا ہے ایف آئی اے نے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں عمران خان اور شاہ محمود کو ٹرائل کر کے سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    باقی وکلا کو کل دن ساڑھے گیارہ بجے سنا جائے گا، ن لیگ کے وکیل صلاح الدین کے دلائل جاری ہیں،

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت کے دوران صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ رولز نہیں بنا سکتی ںہ ہی رولز بنانے کیلئے قانون سازی کرسکتی ہے، رولز میں ردوبدل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آئین کہتا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے رولزبنانے کیلئے با اختیار ہے، اگر سپریم کورٹ آئین سے بالا رولز بناتا ہے تو کوئی تو یاد دلائے گا کہ آئین کے دائرے میں رہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آئین و قانون کے مطابق رولز بنانے کیلئے پابند کرنے کا مطلب موجودہ قانون کے مطابق رولز بنیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج ہم یہ کیس سن رہے ہیں اور ہمارے ادارے میں کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آج کیس کو ختم کرنا ہے، ہم میں سے جس کو جو رائے دینی ہے فیصلے میں لکھ دیں گے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے تحریری دلائل جمع کرائے تھے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ ابھی اپنا تحریری جواب جمع کرایا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے پہلے سے تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا، اتنے سارے کاغذ ابھی پکڑا دیئے، کون سے ملک میں ایسے ہوتا ہے کہ کیس کی سماعت میں تحریری جواب جمع کراؤ، ہر بات میں امریکی اور دوسری عدالتوں کا حوالہ دیتے ہیں یہاں بھی بتائیں۔

    وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نیوجرسی کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کم از کم امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا توحوالہ دیں، ہمارا لیول اتنا نہ گرائیں کہ نیو جرسی کی عدالت کے فیصلے کو یہاں نظیر کے طور پر پیش کر رہے ہیں، یہ تو فیصلہ بھی نہیں ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال ہے کہ سپریم کورٹ رولز بنانے کا اختیار کہاں اور کس کو دیا گیا ہے، آئین کے مطابق رولز بنانے کا اختیارسپریم کورٹ کے پاس ہے، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار آئین کے مطابق ہےجسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ہر چیز آئین کے ہی مطابق ہوسکتی ہے سب کو معلوم ہے،وکیل عابد زبیری نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ رولز بنانے کے اختیار سے متعلق آئینی شق کو تنہا نہیں پڑھا جاسکتا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فل کورٹ مقدمہ سن رہی ہے تاکہ وکلا سے کچھ سمجھ اور سیکھ سکیں، آئینی شقوں پر دلائل دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئینی شقوں کو ملا کر پڑھنا ہوتا ہے، کچھ آرٹیکل اختیارات اور کچھ حدود واضح کرتے ہیں جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ یہ تو معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معزز سپریم کورٹ نہیں ہوتی، معزز ججز ہوتے ہیں، اصطلاحات ٹھیک استعمال کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہاں آئین اور قانون سازوں کی نیت دیکھ رہے ہیں، اگر آئین سازوں کی نیت دیکھنی ہے تو آرٹیکل 175 دیکھیں، آئین سازوں نے اختیار سپریم کورٹ کو دینا ہوتا تو واضح لکھ دیتے، اگر کوئی بھی ضابطہ قانون یا آئین سے متصادم ہوگا تووہ خود ہی کالعدم ہو جائے گا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ میں سوال واضح کر دیتا ہوں، جوڈیشل کمیشن اورسپریم جوڈیشل کونسل کے رولز سے متعلق آئین میں لکھا ہے کہ آئینی باڈیز خود قانون بنائیں گی، جب سپریم کورٹ کے ضابطوں سے متعلق آرٹیکل 191میں لکھا ہے کہ قانون سے بھی بن سکتے ہیں، سوال ہے کہ آئین سازوں نے خود آئین کے ساتھ قانون کا آپشن دیا۔

    چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایک چیف جسٹس نے غلطی کی تو پارلیمنٹ کو نہیں کرنی چاہئے، کوئی غلطی ہوئی تو ازالے کی سب سے بڑی ذمہ داری عدالت کی ہے، پاکستان میں 184 تین کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ ہم آپ کی رائے سننا چاہتے ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے رولز پر پارلیمنٹ نے پابندی لگائی، ہائیکورٹ اور شرعی عدالت کے ضابطوں پر پابندی کیوں نہیں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹس اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر بنانے کیلئے بااختیار ہے۔ جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ اگر سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنالے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ پاکستان میں184تھری کا استعمال کیسے ہوا، کیا ہیومن رائٹس سیل کا تذکرہ آئین یا سپریم کورٹ رولز میں تذکرہ ہے، آرٹیکل 184 تھری سے متعلق ماضی کیا رہا ؟یا تو کہہ دیتے کہ 184تھری میں ہیومن رائٹس سیل بن سکتا تھا،اس بات پر تو آپ آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں، اس سے پہلےکہ دنیا انگلی اٹھائے میں خود اپنے اوپر انگلی اٹھا رہا ہوں، ایک چیف جسٹس نےغلطی کی تو پارلیمنٹ درست کر سکتی ہے یا نہیں؟ نیو جرسی نہ جائیں، پاکستان کی ہی مثال دے دیں، سپریم کورٹ غلطی کرے تو کیا پارلیمنٹ درست کر سکتی ہے آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کر رہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ نہیں میں سپریم کورٹ بار کی نمائندگی کر رہا ہوں، آپ کی رائے سن چکا ہوں، ابھی آرٹیکل 184تھری پر آ رہا تھا، میں آپ سے متفق ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کاغلط استعمال ہوتا رہا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایکٹ سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے یہ بتا دیں، جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس مقدمے کو بھی ہم آرٹیکل 184 تھری کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق دائرہ اختیار نہ پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نہ سپریم کورٹ، پھر ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے توغلط ہے۔

    وکیل عابد زبیری نے موقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے، آئین کے اصل دائرہ اختیار 184 تھری میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کااستعمال کیسے ہوا،کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد ہو جائے تو کیا اپیل نہیں ہونی چاہیے، پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی۔

    غلط استعمال ہوا یا صحیح دیکھنا ہے یہ اختیار کس کو ہے، عابد زبیری جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اختیار بڑھا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال اچھے یا برے کا نہیں سوال قانون بنانے کی اہلیت کا ہے،آپ بتائیے کس اکا اختیار ہے سپریم کورٹ بارے قانون بنانے کا؟ وکیل عابد زبیر نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے یہ اختیار پارلیمان کا ہے یا نہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انصاف کی فراہمی متاثر ہو رہی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر کیا قانون سازی ہو سکتی ہے یا نہیں، چیف جسٹس اس مقدمہ کو سماعت کیلئے مقرر کرسکتے تو دوسرے جبری گمشدگی جیسے مقدمات کیوں نہیں، آپ نے ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کی رکاوٹ کو بھی عبور نہیں کیا، بتائیں کہ اس قانون سازی سے کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ 184(3) میں ہم یہ مقدمہ کیسے سن سکتے ہیں ؟ آپ کہہ رہے ہیں نہ ہم اپنے دائرہ اختیار بڑھا سکتے ہیں نہ پارلیمان،ہمیں آپ کہہ رہے ہیں کہ 184(3) میں عدالت اپنا دائرہ اختیار بڑھا دے،جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اس ایکٹ کو دیکھنے کیلئے پہلے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے-

    عابد زبیری نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا پارلیمان کا اس قانون کو بنانے کا اختیار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کو بھی ہم آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق آرٹیکل 184/3 کا دائرہ اختیار نا پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نا سپریم کورٹ،پھر یہ بتائیں ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں؟ سپریم کورٹ خود مقدمات میں آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے تو غلط ہے، اگر انکم ٹیکس آرڈیننس یا فیملی رائٹس میں ترمیم ہو تو کیا براہ راست سپریم کورٹ میں درخواست آ سکتی ہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ بلکل آ سکتی ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا جواب نوٹ کر رہا ہوں کہ بنیادی حقوق کے علاوہ بھی قانون سازی براہ راست سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے اصل دائرہ اختیار 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کی جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184/3 کا استعمال کیسے ہوا ،کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو کیا اس کے خلاف اپیل نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی مریض کہیں مر رہا ہو اور کوئی میڈیکل کی ذرا سی سمجھ رکھتا ہو تو وہ اس لیے مرنے دے کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہے؟ پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی-

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے ہر معاملے میں مداخلت کرے گی،ایک بار دروازہ کھل گیا تو اس کا کوئی سرا نہیں ہو گا، قانون سازی اچھی یا بری بھی ہو سکتی ہے،یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون سازی درست ہے تو ٹھیک ہے یا ورنہ اس کو کالعدم قرار دے دیں، آئین اس طرح سے نہیں چل سکتا-

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ماضی کو دیکھیں، ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ کر دیتا ہے،امریکہ میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے، سپریم کورٹ بار خود تو درخواست لے کر نہیں آئی، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے جو درخواستیں کیں وہ تو مقرر نہیں ہو رہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ اس کیس کو ختم کریں تو باقی مقرر ہوں، پارلیمان قانون سازی کرے تو آپکو اعتراض ہے، کوئی فرد واحد آکر آئین میں اپنی مرضی سے ترمیم کردے؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس ایکٹ میں آئین کے کونسے آرٹیکل کا حوالہ دیا گیا ہے؟ ایسے تو سادہ اکثریت سے قانون سازی کر کے آئین میں ترمیم کا دروازہ کھولا جا رہا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین میں سادہ اکثریت کے زریعے ترمیم کر کے نیا راستہ کھولا جارہا ہے،

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل کی باتیں نا کریں آج کی صورتحال بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184/3 کے اختیار کو آئین میں رہ کر استعمال کیا گیا ہوتا تو ایسی قانون سازی نا ہوتی،آپ نا مدعی ہیں نا مدعا علیہ توپھر اس ایکٹ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا دیا گیا ہے، اپیل کے اختیار سے کیس کی دوبارہ سماعت کا حق کیسے دے دیا گیا؟

    چیف جسٹس نےعابد زبیری سے مکالمے میں کہا کہ آپکے دلائل مکمل ہوچکے ہیں، وقفے کے بعد اگلے درخواست گزار کو 20 منٹ دیں گے، پارلیمنٹ کچھ اچھا کرنا چاہتی ہے تواس کو کچلنا کیوں چاہتے ہیں؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق دلائل دیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم بھی مانتے ہیں کہ صوبائی اسمبلیوں کو ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں ہے، بس اب دلائل ختم کریں، یہ تاثر مت دیں کہ آپ یہ کیس ختم کرنا نہیں چاہتے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی نے 188 کے تحت نظر ثانی ایک بار دائر کر دی تو وہ اپیل نہیں کر سکتا، ایکٹ کے تحت نظر ثانی کے خلاف تو اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کیا کہ بوجھ سپریم کورٹ پر پڑے گا تو گھبراہٹ آپ کو کیوں ہو رہی ہے؟

    عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا،وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو درخواستگزار عمر صادق کے وکیل عدنان خان نے دلائل کا آغاز کیا۔

    وکیل عدنان خان نے مؤقف پیش کیا کہ پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں، آئین سازوں نے پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز میں ردوبدل کا اختیار نہیں دیا، چیف جسٹس کے آفس کو پارلیمنٹ نے بے کار کر دیا، سپریم کورٹ2 بنیادوں پرکھڑی ہے، ایک چیف جسٹس اور دوسرا باقی ججز،سپریم کورٹ کی انتظامی معاملات میں چیف جسٹس ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے ہیں-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیئے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے سوا کہاں تنہا اختیارات دئیے گئے وکیل عدنان خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر مشاورت بنچز بنا سکتا ہےپارلیمنٹ کو ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں-

    وکیل عدنان خان نے کہا کہ آئین سازوں نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے ضابطوں میں رد و بدل کا اختیار نہیں دیا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو فل کورٹ بلانے کی کیا ضرورت ہے صرف چیف جسٹس کیس سن لیتا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کےسوا کہاں تنہا اختیارا ت دیے گئے-

    وکیل عدنان خان نے کہ کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر کسی مشاورت کے بنچز بنا سکتا ہے، چیف جسٹس اور دیگر ججز میں فرق انتظامی اختیارات ہیں، مجھے اس قانون سے مسئلہ نہیں مگر طریقہ کار سے مسئلہ ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ اس قانون سے آپکا کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، وکیل عدنان خان نے کہا کہ اس ایکٹ سے انصاف کا حق متاثر ہوگا ایکٹ سے انصاف تک رسائی کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہوئی، ایکٹ میں طریقہ کار دے کرسپریم کورٹ کی تضحیک کی گئی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے بھی کیس مقرر کرنے کیلئے اپنا دماغ استعمال کرتے تھے، میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی کو کیسز کے تقرر کا اختیار دیا، کیا میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی بنا کر آئینی خلاف ورزی کی وکیل عدنان خان نے کہ مشاورت اچھی چیز ہے، چیف جسٹس اپنے ساتھیوں میں سے کسی سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں، اس قانون میں کہیں مشاورت کا درج نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا کوئی ایسا قانون یا شرعی قانون ہے کہ اپیل کا کوئی حق نہیں ہے، قانون کی رو میں کہاں درج ہے کہ قاضی کا فیصلہ آخری ہوگا، کوئی حوالہ دے دیجیے ،وکیل عدنان خان نے جواب دیا کہ میں ریفرنس جمع کرا دوں گا جس کے بعد وکیل عدنان خان کے دلائل مکمل ہوگئے۔

    درخواست گزار محمد شاہد رانا ایڈووکیٹ کے دلائل شروع

    وکیل شاہد رانا نے دلائل شروع کرتے ہی سوال اٹھایا کہ اگر 15ججز فیصلہ کریں گے تو اپیل کس کے پاس جائے گی چیف جسٹس نے جواب دیا کہ 15 ججزفیصلہ کریں گے تو نہیں ہوگی اپیل، وکیل شاہد رانا نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت ہوتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کو اس بات کا جواب فیصلے میں دے دیں گے، یہ معاملہ پہلے کبھی کیوں نہیں اٹھایا گیا، کیا پتا سپریم کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہو۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلایا تو وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کے لیے وقت نہ دینے پر اعتراض اٹھا دیا، اور مؤقف پیش کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ پہلے ہمیں سنیں گے پھر اٹارنی جنرل کو سنیں گے، ہمیں نہ سننا نا انصافی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہاں لکھا ہے حکمنامے میں کہ آپ کو ابھی سننا ہے جس پر امتیاز صدیقی نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ اپنا سلوک دیکھیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بات کرنے کی تمیز بھی ہوتی ہے، پچھلی سماعت کاتمام ججزکےدستخط کےساتھ حکمنامہ جاری ہوا،حکمنامہ میں درج ہےکہ امتیاز صدیقی کے دلائل مکمل ہو چکےوکیل امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ میرے ساتھی آپ کے رویے کی وجہ سے آج عدالت نہیں آئے، خواجہ طارق رحیم نے آپ کو پیغام پہنچانے کا کہا ہے۔

    چیف جسٹس نے وکیل امتیاز صدیقی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیے ورنہ میں کچھ ایشو کروں جس پر وکیل امتیاز صدیقی واپس نشست پر براجمان ہو گئے-

    مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد فخرالدین ابراہیم کے دلائل

    اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ مجھ سے پہلے مسلم لیگ ق کے وکیل دلائل دینا چاہتے ہیں مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد فخرالدین ابراہیم نے دلائل شروع کردیئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میرا قلم ہوا میں رہ جاتا ہے آپ اپنا پوائنٹ پورا کر دیں۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل سے کہا کہ آپ فل کورٹ کو اپنی رائے بتا دیں،جس پر وکیل زاہد ابراہیم نے کہا کہ یہ کیس خود تسلیم کر رہا ہے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرسکتی ہےجسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیسے ممکن ہے کہ ”سبجیکٹ ٹو لاء“ لکھ کر پارلیمنٹ کو اختیار دے دیا گیا ہو، آرٹیکل 188 اور آرٹیکل 191 میں فرق ہے۔

    آدھے گھنٹےکے وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل زاہد ابرہیم سے کہا کہ آپ آرٹیکل191سے اینٹری 55 کا تعلق سمجھا دیں، جسٹس منیب اختر نےریمارکس دیئےکہ ایکٹ کےذریعے آئین میں بلاواسطہ ترمیم کی گئی،کیا آئین پار لیمنٹ کو ایسی قانون سازی کی اجازت دیتا ہے، آرٹیکل191 کے تحت قانون سازی کا اختیار بہت وسیع ہونا چاہئے، آپ 1956 کا آئین پڑھیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل زاہد ابراہیم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ضروری نہیں کہ آپ دلائل سے متفق ہوں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بینچ میں بیٹھے جج کو حق حاصل ہے کہ وہ سوال کرے جسٹس اعجازالاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ کو موجودہ قانون کا دائرہ بڑھانے کا اختیار ہے، اپیل کا حق دے کر قانون کا دائرہ بڑھایا کیسے گیا۔

    وکیل زاہد ابراہیم نے جواب دیا کہ درخواست گزاروں سے سوال کیا گیا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کوشش کی سپریم کورٹ کےکام کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کیا جائے، عدلیہ کی مائیکرو مینجمنٹ مداخلت نہیں تو پھر کیا مداخلت ہوگی۔

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس قانون کے بعد ماسٹر اف روسٹر کون ہےِ؟ جس پر زاہد ابراہیم نے جواب دیا کہ کمیٹی فیصلہ کرے گی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ کمیٹی پارلیمان ماسٹر آف روسٹر ہو گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ماسٹر آف روسٹر کا لفظ ہے، رولز میں چیف جسٹس کے بینچ مقرر کرنے کا ہے، مقدمات کا مقرر کرنے چیف جسٹس نے رجسڑار کا اختیار ہے، ماسٹر آف روسٹر کا لفظ کس قانون میں ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ دنیا میں اب کہیں بھی ماسٹرز نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو قانون ہے آئین ہے وہ چیف جسٹس کی خواہشات پر نہیں، یہ عدلیہ کیا آزادی اور قانون کے منافی ہے، میں ماسٹر نہیں آئین کے ماتحت ہوں۔

    وکیل صلاح الدین نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے حوالے سے بہت آرا آئی ہیں، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیئے کہ اپ اپنے دلائل شخصیت کو مدنظر رکھ کر دے رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جو آرا دی گئی وہ ان کی آرا ہو ں گی، کسی کا ایک مؤقف ہوتا ہے دوسرے کا دوسرا مؤقف، بہتر ہو گا کہ پارلیمان کے اختیار پر دلائل دیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو سننا چاہتا ہوں اپنے دلائل دیں۔

    کیس کی کارروائی آج بھی سپریم کورٹ سے سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھائی جا رہی ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی گزشتہ دو سماعتوں میں 5 درخواست گزاروں کے وکلا دلائل مکمل کرچکے ہیں آج ہونے والی سماعت میں دیگردرخواست گزاروں کے وکلاء، اٹارنی جنرل، مسلم لیگ ن اوق کے وکلاء دلائل دیں گے اس سے قبل تمام فریقین سپریم کورٹ مین اپنے تحریری جوابات اور دلائل جمع کرواچکے ہیں وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کی صورت میں ممکنہ طور پر آج اس کیس کی سماعت مکمل ہوجائے گی، چیف جسٹس نے گزشتہ سماعت میں عندیہ دیا تھا کہ 9 اکتوبر کو تیسری سماعت میں یہ کیس مکمل کرلیا جائے گا۔

    کیس کی سماعت کرنے والے فل کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے علاوہ جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ،جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان،جسٹس سید مظاہرعلی نقوی،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔