Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سائفر کیس،جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،جج

    سائفر کیس،جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،جج

    سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور پی ٹی آئی وکیل شیراز رانجھا کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بتائے بغیر اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل ہی نہیں کرنا چاہئے تھا،جج نے کہاکہ اڈیالہ جیل کے حالات سازگار نہیں، ماحول اٹک جیل سے بہت مختلف ہے،اڈیالہ جیل میں 2200ملزمان کی گنجائش ہے لیکن 7ہزار قیدی ہیں،درجنوں مرغیوں کے ڈربے میں 32مرغیاں ہوں گی تو کیا حالات ہوں گے،اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے آمنے سامنے بات ہوتی تھی،اڈیالہ میں حالات ہی مختلف ہیں،

    جج نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اڈیالہ جیل میں بہت رش ہے ، اٹک جیل میں سکون تھا، وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی پر غیرضروری سختی ہو رہی ہے،عدالت بہتر کلاس کا فیصلہ کرتی،چیئرمین پی ٹی آئی کو ٹی وی، بہتر بستر کیوں نہیں دیتے؟ اٹک جیل میں سکون تھا،جج نے کہاکہ اٹک جیل میں لائبریری ، ورزش ، اخبار کی سہولت چیئرمین پی ٹی آئی کو دی تھی،جیل منتقلی کا خوامخواہ تماشا بنایاگیا، اڈیالہ جیل میں کوئی کہانی ہی نہیں،

    پٹرول کی پوری ٹنکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی، نوٹ کر لو سب،شکر ہے آپ اڈیالہ جیل منتقلی کی غلطی مانے تو سہی،عدالت
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل شیراز ارانجھا نے کہاکہ جیل منتقلی کی درخواست سے قبل شیر افضل کو قانونی ٹیم سے مشاورت کرنی چاہئے تھی،اٹک جیل میں وکلا کی ملاقات بہت آسان تھی، اڈیالہ جیل میں تو بہت مسائل ہیں،جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے دفتر بیٹھا تھا، میرے سامنے سے 70ملزمان گزرے ،پٹرول کی پوری ٹنکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی، نوٹ کر لو سب،شکر ہے آپ اڈیالہ جیل منتقلی کی غلطی مانے تو سہی، کوئی اور بہتر جج لگتا ہے تو لے آئیں، میں صاف بات کرنے والا جج ہوں،مجھے کوئی شوق نہیں ، میں اپنا پیشہ ورانہ کام کررہا ہوں،وکیل شیراز رانجھا نے عدالت میں کہاکہ ہم چاہتے ہیں سائفر کیس کا ٹرائل ہی نہ ہو،جج نے کہا کہ جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،سائفر کیس کی سماعت کیلئے لمبی تاریخ دے دیتا ہوں،وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جتنے دن قید ہیں ا س کا کیا ہوگا؟

    ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفر کیس اپنے طریقے سے چلائے گا، جج
    جج نے کہاکہ آپ مجھے جج ہمایوں دلاور سمجھتے ہیں وہ بھی انسان تھے،ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفر کیس اپنے طریقے سے چلائے گا، سائفر کیس کا ٹرائل ہو گا تو چیئرمین پی ٹی آئی باہر آئیں گے نا ،مجھے بتائیں اب تک سائفر کیس کی سماعت کیا موثر انداز میں نہیں ہوئی؟وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ کوئی شک نہیں کہ آپ پی ٹی آئی وکلا کی باتوں کو سمجھتے ہیں، جج نے کہا کہ اللہ نے سائفر کیس کا فیصلہ ابوالحسنات کے ہاتھوں سے کرانا ہے تو ابوالحسنات ہی کرے گا، وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ آپ نے مائنڈ نہیں کرنا، سائفر کیس کی سماعت 10اکتوبر کو تھی، نقول کیلئے کیوں جلد سماعت رکھی؟ جج نے کہاکہ اگر سائفر کیس کا ٹرائل چلانا ہے تو بتائیں، نہیں چلانا تب بھی بتا دیں،ٹرائل کیلئے وافر وقت دے رہا ہوں، آپ کی قانونی ٹیم کو سمجھ ہی نہیں آ رہی،میں سائفر کیس کا ٹرائل بہت موثر انداز میں چلانا چاہ رہا ہوں،ابوالحسنات ذوالقرنین نہیں تو کوئی اور سائفر کیس کا ٹرائل کرلے گا، سائفر کیس میں چالان کی نقول کبھی نہ کبھی تو فراہم کرنی ہیں نا،جوڈیشل ریمانڈ کی اہمیت کو سمجھیں ، چالان آ جائے تو جوڈیشل ریمانڈ غیرموثر ہو جاتا ہے ،جوڈیشل ریمانڈ کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کی 14روز بعد خیروعافیت معلوم کرنا ہے،

    وکیل نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججز نے کہاجج ہمایوں دلاور کو توشہ خانہ کیس میں کیا جلدی ہے،توشہ خانہ، سائفر کیس میں ملزم کو ٹرائل کی جلد ی ہونی چاہئے،یہاں مدعی جلدی کررہا ہے،دیگر کیسز معمول کے مطابق چلائے جارہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کا جلدی ٹرائل کیا جا رہا ہے،جج نے کہا کہ سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، ہائی پروفائل حساس کیس ہے، اہمیت کو سمجھیں ،وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ سائفرکیس کوئی حساس کیس نہیں، سائفر کیس کو حساس بنایا جا رہا ہے،جج نے کہاکہ سائفر کیس چالان کی نقول فراہم کرنی تھی، پی ٹی آئی قانونی ٹیم نے عدالت کی نہیں سنی

    چئیرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لئے لیگل ٹیم کے تین ارکان کو اجازت مل گئی،اجازت ملنے والی وکلاء کی ٹیم میں حامد خان، عمیر نیازی، شعیب شاہین شامل ہیں،اڈیالہ جیل کے باہر بھی وکلا کی بڑی تعداد موجودہے

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • مفاہمتی پالیسی کے حامی گروپ کی نواز شریف کی وطن واپسی ملتوی کرنے کی تجویز

    مفاہمتی پالیسی کے حامی گروپ کی نواز شریف کی وطن واپسی ملتوی کرنے کی تجویز

    لاہور: مسلم لیگ ن میں موجود مفاہمتی پالیسی کے حامی گروپ نے نواز شریف کی واپسی ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے-

    باغی ٹی وی: پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ مفاہمتی گروپ نے وطن واپسی ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے تاہم قائد ن لیگ نواز شریف نے اس تجویز پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا ہے،مفاہمتی گروپ کا مؤقف ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری سے پریشان عوام کو نواز شریف کی وطن واپسی میں زیادہ دلچسپی نہیں، شہباز شریف اور مریم نواز لاہورمیں عوامی رابطہ مہم شروع کر کے عوام کی نبض دیکھ چکے ہیں، موجودہ حالات میں عوام کی جانب سے نواز شریف کے شایان شان استقبال کی توقع رکھنا مناسب نہیں الیکشن کے قریب یا اس کی باقاعدہ تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد نواز شریف کو واپس آنا چاہئے جبکہ پارٹی کے دوسرے گروپ کا مؤقف ہے کہ واپسی کو ملتوی کیا گیا تو عوام میں اچھا تاثر نہیں جائے گا۔

    نوازشریف کے پروگرام میں کسی قسم کی تبدیلی زیرغور نہیں، عرفان صدیقی
    دوسری جانب رہنما مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے لندن سے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے پروگرام کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، نواز شریف چند دن بعد عمرے کی سعادت کے لئے سعودی عرب جائیں گے، عمرے سے ایک دو دن قبل نواز شریف متحدہ عرب امارات آئیں گے،متحدہ عرب امارات سے 21 اکتوبر کو پروگرام کے مطابق پاکستان روانہ ہوں گے، وطن واپسی کا نواز شریف کا پروگرام فائنل ہے،نوازشریف کے پروگرام میں کسی قسم کی تبدیلی زیرغور نہیں، نہ ایسی کوئی رائے ہے، مسلم لیگ ن میں کوئی دھڑے بندی نہیں ہے،کوئی مفاہمتی یا کوئی مزاحمتی گروپ موجود نہیں،میں ان تمام افواہوں کی واضح طور پر تردید کرتا ہوں،

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے وطن واپسی کیلئے اتحاد ایئرویز کی ٹکٹ بک کرا لی ہے شیڈول کے مطابق نواز شریف 21 اکتوبر کو لندن سے ابو ظہبی انٹرنیشنل ائرپورٹ لینڈ کریں گے جہاں سے وہ پاکستان روانہ ہوں گے۔

    کالعدم تنظیم کے افغانی دہشتگردوں کی سزائے موت کالعدم قرار

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی اتحاد ائرویز کی پرواز 243 کی بکنگ کروا لی گئی ہے یہ پروازشام 6 بج کر 25 منٹ پر لاہورکے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ پر لینڈ کرے گی،نواز شریف کے ہمراہ ان کا اسٹاف اور مشیران بھی ہوں گے۔ جن میں محمد وقار، ڈاکٹر عدنان، ناصر جنجوعہ ،عرفان صدیقی شامل ہیں۔اسی پرواز کی اکانومی کلاس سے متعدد لیگی رہنماؤں نے بھی سیٹیں بک کروائی ہیں، پاکستان سے بھی لیگی رہنماؤں کی بڑی تعداد ابوظہبی ایئرپورٹ پر نواز شریف کے استقبال کیلئے پہنچے گی۔

    پاکستان کم درجے کی ٹیم ، ورلڈ کپ میں آگے نہیں جائے گی،ہر بھجن سنگھ

  • فیض آباد دھرنا کیس،ایم کیو ایم کی بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست

    فیض آباد دھرنا کیس،ایم کیو ایم کی بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست

    ایم کیو ایم پاکستان نے بھی فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر کردی
    ایم کیوایم کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، نظرثانی واپس لینے کی درخواست ایڈووکیٹ آن ریکارڈ محمود اے شیخ نے دائر کی،ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اور رابطہ کمیٹی کی ہدایات پر نظرثانی پر کارروائی نہیں چاہتے.

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک انصاف، پیمرا، وزارت دفاع نے بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ درخواستیں واپس کیوں لی جارہی ہیں، ہمیں بتائیں، سچ بولنے سے ہر کوئی کترا کیوں رہا ہے؟ کیا یہ کہہ رہے ہیں مٹی پاو بعد میں دیکھیں گے، 12 مئی کو 55لوگ مرے، خون ہوا، آپ کہہ رہے ہیں مٹی پاؤ۔ بتائیں نا کیوں مٹی ڈالیں؟ کیا نئے واقعے کا انتظار کریں،؟ فیض آباد دھرنا کیس میں سب نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں جس سے امید تھی کہ نظرثانی دائر کرینگے انہوں نے دائر نہیں کی۔ آپ سب سے تو کم از کم خادم رضوی بہتر رہے، انہوں نے نظر ثانی درخواست بھی نہیں ڈالی جس کا مطلب ہے کہ ٹی ایل پی نے اپنی غلطی تسلیم کی اور ہمارے فیصلہ کو تسلیم کیا۔ خادم رضوی صاحب زندہ تھے اس وقت مگر شاید ہمارے فیصلے سے مطمئن تھے۔ غلطی ہوجاتی اسے تسلیم کرنا بڑاپن ہوتا ہے ،،نظرثانی واپس لیکر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو ہوا مٹی پاؤ ،، 12 مئی کے واقعات پر بھی مٹی پاؤکہیں گے کیا،

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہہ عدالت ایک اور موقع دیتی ہے کوئی بھی شخص حقائق منظر عام پر لانا چاہے تو اپنا بیان حلفی عدالت میں پیش کرے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ایک محدود وقت کے لیے اس کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جانا چاہیے، کوئی بھی فریق یا کوئی اور شخص اپنا جواب جمع کروانا چاہے تو 27 اکتوبر تک جمع کروا دے، کیس کی آئندہ سماعت یکم نومبر کو ہوگی

  • عمران خان کی بیٹوں سے بات کروائی جائے، نئی درخواست دائر

    عمران خان کی بیٹوں سے بات کروائی جائے، نئی درخواست دائر

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کروانے کے لئے عدالت میں نئی درخواست دائر کر دی گئی
    اے ٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل شیراز رانجھا پیش ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے ٹیلی فونک ملاقات کرانے کی نئی درخواست دائر کی، وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ٹیلی فون پر بات کرانے کے احکامات جاری کریں،جج ابوالحسنات نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ درخواست تو غیرموثر ہو گئی کیونکہ اڈیالہ جیل منتقل ہو گئے ہیں،عدالت نے 10اکتوبر تک سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے رپورٹ طلب کرلی

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کی بیٹوں سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان اسوقت اٹک جیل میں تھے، اب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، سائفرکیس میں ایف آئی اے نے چالان جمع کروا دیا ہے جس میں عمران خان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کی استدعاکی گئی ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • افغان سنٹری کی  بلا اشتعال  فائرنگ؛  12 سالہ بچے سمیت دو  پاکستانی شہید

    افغان سنٹری کی بلا اشتعال فائرنگ؛ 12 سالہ بچے سمیت دو پاکستانی شہید

    آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ 04 اکتوبر 2023 کو صبح 6 بجے صوبہ بلوچستان میں پاک افغان سرحد پر چمن بارڈر کراسنگ کے فرینڈ شپ گیٹ پر تعینات ایک افغان سنٹری نے پاکستان سے افغانستان جانے والے پیدل چلنے والوں پر بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ کی جبکہ یہ واقعہ زیرو لائن پر واقع آؤٹ باؤنڈ گیٹ پر پیش آیا۔

    جاری اعلامیہ کے مطابق جس کے نتیجے میں ایک 12 سالہ بچے سمیت دو بے گناہ پاکستانی شہریوں نے شہادت کو گلے لگا لیا جبکہ ایک اور بچہ زخمی ہوگیا تاہم فوجیوں نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور نقصان سے بچنے کے لئے معصوم مسافروں کی موجودگی میں فائرنگ کے کسی بھی تبادلے سے گریز کیا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نواز شریف کا بھٹو سے موازنہ ہی نہیں بنتا. مرتظیٰ وہاب
    تیل کی پیداوار میں ایک ملین بیرل یومیہ کمی کا اعلان
    کپاس کی پیداوار میں 71 فیصد اضافہ
    ڈالر، ایک روپے سے زائد کمی کے بعد 284.70 روپے پر آ گئی

    واضح رہے کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن منتقل کردیا گیا ہے اور زخمی بچہ جسے سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر نکال لیا تھا زیر علاج ہے۔ افغان حکام سے رابطہ کیا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور لاپرواہ اقدام کی وجہ معلوم کریں، مجرم کو پکڑیں اور پاکستانی حکام کے حوالے کریں۔

    خیال رہے کہ آئی ایس پی آر کے مطابق آئی اے جی سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں پر کنٹرول کرے گی اور ذمہ داری سے کام کرنے کے لئے نظم و ضبط فراہم کرے گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ پاکستان مثبت اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کے ذریعے امن، خوشحالی اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے، تاہم اس طرح کے ناخوشگوار واقعات مخلص ارادے اور مقصد کو نقصان پہنچانے کا امکان رکھتے ہیں۔

  • عادل راجہ پکڑا گیا، غداروں کے گرد گھیرا تنگ

    عادل راجہ پکڑا گیا، غداروں کے گرد گھیرا تنگ

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی نواز شریف سے اچھی ملاقات نہیں ہوئی اختلافات بڑھ گئے ہیں شاہد خاقان عباسی خود ملنے گئے تھے انکو بلایا نہیں گیا تھا ۔
    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انسان کی اپنی صفات نہیں بدلتی۔عادل راجہ لندن میں ہو یا پاکستان میں اس نے پاکستان اور پاکستان کے اداروں کے خلاف کام کرنا ہے میں نے اس کی کال سنی کوئی تعجب نہیں ہوا۔ عادل راجہ را کے ایجنٹ سے بات کر رہا ہے وہ ایک ٹویٹ کرتا ہے کہ زمان پارک آپریشن ہونے والا ہے اسکے بعد عمران خان واٹس ایپ پر گروپ میں میسج کرتے اور پھر پوری کہانی جو عادل راجہ تک پہنچتی وہ عمران خان بیانیہ بنا کر آگے دیتے ۔ روز ایک نئی کہانی بنائی جاتی اسکی انہی باتوں نے عمران خان کو کہاں پہنچا دیا ۔ ، ابھی بھی وہی حرکتیں کر رہا ہے یہ ملک ہے تو ہم ہیں یہ ملک ہے تو ہمارا کام چل رہا ہے اگر خدانخواستہ ملک کو کچھ ہو گیا تو ہمیں نوکری بھی کوئی نہیں دے گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نو مئی کو کس طرح دماغ خراب کیا ان لوگوں نے۔ ان لوگوں کے لئے ایک ہی حل رہ گیا ہے کہ انکو جوتے پڑیں اور جتنے جوتے پڑیں گے وہ اتنی جلدی ٹھیک ہوں گے ۔ اور اب یہ جنرل عاصم منیر کر رہے ہیں فوج کے اندر کسی نے سمگلنگ کی یا کچھ کیا انکا بھی احتساب ہو رہا ہے۔ افغانیوں کو احکامات مل گئے۔ آرمی چیف کو کہتا ہوں کہ ہیومن رائٹس والوں کو اگر تکلیف ہے کہ دہشت گردوں کو واپس کیوں بھیج رہے ہو تو ان کو ان ہیومن رائٹس والوں کے گھر بھیج دیں پھر انکو لگ پتہ جائے گا۔ تاکہ ہیومن رائٹس والوں کی زبان بھی بند ہو۔ نو مئی کا واقعہ کیسے ہوا، جنرل سرفراز
    کی ناگہانی شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر کیا ہوا تھا ، ہمارا شہید ہم سوچ بھی نہیں سکتے ایسی زبان جو انہوں نے استعمال کی اور عمران خان نے نہیں روکا۔ پھر شیخ رشید کا بیان جنرل سرفراز بارے۔ اب وہ بھی جیل میں ہے اور سوفٹویر اپڈیٹ ہو رہا ہے۔ نو مئی میں عمران خان کو سخت سزا ملنی ہے۔جتنے بھی پکڑے گئے ہیں کوئی بھی فارغ نہیں ہونا۔ جو سفارش کرنے جائے گا وہ بھی اندر ہو گا۔ یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ کوئی معافی نہیں۔ کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابہام تو نواز شریف بھی نہیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ نواز شریف کا سافٹ ویئر اپڈیٹ ہو گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ سمیت سب کہتے ہیں کہ نواز شریف اب ملکی مسائل پر بات کریں گے۔ شاہد خاقان عباسی کو بلایا نہیں گیا تھا بلکہ وہ ایک خاص پیغام لے کر گئے تھے کہ اگر بیانیہ تبدیل نہیں کرتے تو سیاست سے توبہ کر لو گے ۔ میاں صاحب نے کہا کہ تم کس کے ساتھ ہو ۔ تو عباسی نے کہا میں تو صرف پیغام دینے آیا ہوں۔ اب ن لیگ نے فیصلہ کر لیا یے کہ شاہد خاقان عباسی کو ٹکٹ نہیں ملے گا۔ سوشل میڈیا پر ن لیگ نظر نہیں آ رہی۔ عمران خان جیل میں ہے لیکن ہر روز ٹرینڈ ان کے۔ ن لیگ کی سائبر فورس لیکن کچھ نہیں کر پا رہی۔ نواز شریف آئین گے تو انکا میڈیا ہینڈلنگ پرویز رشید کریں گے ۔ فنانس احسن اقبال ہوں گے ڈار صاحب نہیں ہوں گے۔ میاں صاحب کو ابھی یہ نہیں پتہ کہ پانی پل کے نیچے سے گزر کر چکا ہے۔ انکو عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا میاں صاحب تو ایک منٹ بھی جیل میں نہیں رہنا چاہتے۔ سندھ میں جی ڈے اے سمیت سب متحرک ہیں جی ڈی اے کتنی کامیاب ہو گی یہ وقت بتائے گا لیکن ایم کیو ایم سیٹوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

  • 9 مئی  کی پلاننگ عمران خان کی صدارت میں ہوئی . عثمان ڈار

    9 مئی کی پلاننگ عمران خان کی صدارت میں ہوئی . عثمان ڈار

    تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے پی ٹی آئی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 مئی حملوں کا مقصد فوج پر دباؤ ڈال کر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹانا تھا جبکہ تحریک انصاف کے عثمان ڈار نے نجی ٹی وی کے انٹرویو میں پارٹی چیئرمین عمران خان کے خلاف چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کا منصوبہ تحریک انصاف کی زیر صدارت زمان پارک میں بنایا گیا۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے فوج سے ٹکراؤ کی پالیسی کی قیادت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کی صورت میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی، حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت خود چیئرمین پی ٹی آئی نے دی علاوہ ازیں عثمان ڈار نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے خود کو گرفتاری سے بچانے کے لیے کارکنوں کی ذہن سازی کی، کارکنوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔

    تاہم ان کا کہنا تھا تحریک انصاف کا اکتوبر 2022 میں لانگ مارچ جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی رکوانے کے لیے کیا گیا تھا، عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ 9 مئی کا واقعہ ایک دن میں رونما نہیں ہوا، ہماری مرکزی حکومت ختم ہونے کے بعد دو گروپ بن گئے تھے، ایک گروپ میں مراد سعید،اعظم سواتی،حماد اظہر،فرخ حبیب تھے، یہ گروپ ٹکراؤ کی سیاست پر یقین رکھتا تھا، اسد عمر،عمر ایوب،علی محمد خان،شفقت محمود اور میں فوج کے ساتھ مفاہمت کی بات کرتے تھے۔

    واضح رہے کہ انہوں نے کہا کہ جس طرح اداروں پر حملے ہوئے اس کے بعد پی ٹی آئی کی بنیادیں ہل گئیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے گرفتاری سے بچنے کیلئے ہیومن شیلڈ کو استعمال کیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے ریاست مخالف بیانیے کو سپورٹ کیا، عثمان ڈار نے کہا کہ 9 مئی حملوں کا مقصد فوج پر دباؤ ڈال کر جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹانا تھا،تمام واقعات کی منصوبہ بندی چیئرمین پی ٹی کی زیرصدارت زمان پارک میں ہوئی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار چیئرمین پی ٹی آئی خود ہیں، 9 مئی ایک شرمناک سانحہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    جبکہ انہوں نے الزام لگایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی ریاست مخالف بیانیےکوسپورٹ کرتے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی نے ہی فوج سے ٹکراؤ سے پالیسی کی قیادت کی،اجلاسوں میں بات ہوتی تھی کہ گرفتاری کی صورت میں ریاستی اداروں پرحملہ آورہونا ہے، عثمان ڈار نے اعلان کیا کہ میں نے تحریک انصاف اور سیاست کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    تیل کی پیداوار میں ایک ملین بیرل یومیہ کمی کا اعلان
    کپاس کی پیداوار میں 71 فیصد اضافہ
    ڈالر، ایک روپے سے زائد کمی کے بعد 284.70 روپے پر آ گئی
    چینی جوہری آبدوز کو حادثہ،کپتان سمیت 55 اہلکار ہلاک ،برطانوی میڈیا
    بحریہ ٹاؤن سمیت 3ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں خریدو فروخت، نگران وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے عوام کو خبردار کر دیا
    راکھی کی وجہ سے میری شادی نہیں ہوئی تنوشری دتہ کا دعوی

  • چئیرمین پی ٹی آئی  کی 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    چئیرمین پی ٹی آئی کی 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نو مئی، توشہ خانہ جعلسازی اوراقدام قتل سے متعلق 9 کیسزمیں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستیں بحال کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں ڈویژنل بنچ نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی جان بوجھ کرعدالت سے غیر حاضر نہیں ہوئے ضمانت منسوخی کے باوجود ریاست نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مقدمات میں گرفتار نہیں کیا،ٹرائل کورٹ یہ نقطہ دیکھتے ہوئے ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کرے، ضمانت کی درخواستیں مسترد کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا حاضری سے استثنیٰ بھی بحال کیا جاتا ہے۔

    سائفر کیس: عمران خان کی درخواست ضمانت پر ان کیمرا کارروائی کی درخواست نمٹادی

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر ان کیمرا کارروائی کی درخواست نمٹادی، اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اےکی درخواست پر فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر ان کیمرا کارروائی کی درخوست نمٹادی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سائفرکیس میں درخواست ضمانت کی سماعت 9 اکتوبرکو اوپن کورٹ میں ہوگی وکلاجن معلومات یا دستاویزات کے حساس ہونےکی نشاندہی کریں گے اس پردلائل ان کیمراسنے جائیں گے۔

    مستونگ دھماکہ:سہولت کاری کے شبے میں 8 افراد کو حراست میں لے لیا

  • قانونی جنگ  جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی  کے نام  خط

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    سینئر صحافی و اینکر پرسن ، پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان نے نامور وکیل رضوان عباسی ایڈوکیٹ کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنا کیس جیتنے پر عدالت میں نمائندگی کرنے پر رضوان عباسی ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کیا ہے

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے خط میں لکھا کہ میں اپنی حالیہ قانونی جنگ کے دوران اپنے وکیل رضوان عباسی کی شاندار قانونی نمائندگی کے لئے ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اور ان کی لگن، مہارت اور میرے کیس کے لئے غیر متزلزل وابستگی نے ایک سازگار نتیجہ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کو جتنا سراہا جائے کم ہے.

    سینئر اینکر نے اپنے خط میں رضوان عباسی بارے مزید کہا کہ "ہم نے ایک ساتھ جو سفر شروع کیا وہ ناقابل تردید طور پر چیلنجنگ اور جذباتی طور پر تکلیف دہ تھا اور جب میں آپ سے پہلی بار ملا تھا اسی وقت آپ کی پیشہ ورانہ مہارت، ہمدردی اور دانشمندی سے متاثر ہوگیا تھا۔ اور اس پیچیدہ قانونی معاملات کو واضح اور قابل فہم انداز میں بیان کرنے کی آپ کی صلاحیت کو بھی سراہتا ہوں‌ جس کی بدولت میرے کیس میں اچھے نتائج آئے ہیں.”

    مبشر لقمان نے یہ بھی لکھا کہ "میرے کیس کی تیاری میں وکیل رضوان عباسی کی انتھک کوششیں قابل تعریف ہیں جبکہ اسٹریٹجک سوچ اور قانونی بصیرت توواقعی قابل ذکر ہے جس نے مثبت فیصلے کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔ کمرہ عدالت کے اندر اور باہر عباسی صاحب کے حوصلہ افزا دلائل نے مجھ پر دیرپا اثر چھوڑا اور مجھے یقین تھا اور ہے کہ اس مہارت نے ہماری کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔” انہوں نے مزید برآں کہاکہ؛ میں آپ کی غیر معمولی صلاحیتوں کی تعریف کرنا چاہتا ہوں. آپ مستقل طور پر جوابدہ اور قابل رسائی تھے، فوری طور پر میرے خدشات کو دور کرتے تھے اور مجھے میرے کیس کی پیشرفت کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ باخبر بھی رکھتے تھے جبکہ خدشات کے لمحات کے دوران اعتماد پیدا کرنے اور جذباتی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت میرے اور میرے خاندان کے لئے انمول تھی۔

    سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپ کی پوری قانونی ٹیم اور معاون عملے کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو مستقل طور پر شائستہ ، موثر اور پیشہ ور رہے اور آپ کی فرم کے ساتھ کام کرنے کے مجموعی مثبت تجربے میں حصہ ڈالنے کیساتھ مددگار رہے۔ اس مقدمے کو جیتنے سے میری زندگی میں راحت کا احساس پیدا ہوا ہے جسے میں اپنے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ہوں۔ جبکہ یہ آپ کی لگن اور مہارت کے بغیر ممکن نہیں تھا تاہم میری زندگی پر آپ کی صلاحیتوں کے اثرات اس قانونی کامیابی سے بھی کہیں زیادہ ہیں کیونکہ آپ نے انصاف کے نظام پر میرا اعتماد بحال کیا ہے.

    انہوں نے وکیل بارے خط میں واضح کیا کہ میرے قانونی مشیر کی حیثیت سے آپ نے ناصرف ایک سازگار نتیجہ حاصل کیا بلکہ قانونی پیشے میں میری امید اور اعتماد کو بھی بحال کیا اور میں آپ کی اس غیر متزلزل حمایت اور وکالت کے لئے ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔جبکہ انصاف کے تئیں آپ کی لگن، اپنے مؤکلوں کے ساتھ آپ کی وابستگی، اور آپ کی مثالی پیشہ ورانہ مہارت ہمیشہ تعریف کی مستحق ہے۔
    نو برس کی جدوجہد; مبشر لقمان کے حق میں عدالت کا بڑا فیصلہ
    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی


    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سینئر اینکر پرسن اور معروف ٹی وی پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان کو مختلف عدالتوں میں 9 سال کی سخت جدوجہد کے بعد بالآخر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے خلاف سیشن عدالت کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور اس حوالے سے کورٹ نے حتمی فیصلہ بھی جاری کردیا تھا۔

  • ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے  بند،  مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سرفراز بگٹی اپنی طرف سے کورٹ مارشل کا بیان نہیں دے سکتے،اس بیان کو دینے کا مطلب یہ ہے کہ انکو کہا گیا ہے کہ وہ یہ کہیں،سمگلنگ کے خلاف کاروائی صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ کراچی میں بھی ہو گی، تیل کراچی اور دیگر جگہوں پر بھی آتا ہے، تیل کے سیل پوائنٹ، سٹوریج، سب کو دیکھا جائے گا، اور ایکشن ہو گا، اس میں کافی لوگ شامل ہوں گے، جو شامل ہیں ، اسکا مطلب ہے عاصم منیر صاحب کسی کا لحاظ نہیں کریں گے، وہ کسی کو نہیں بخشیں گے،کورٹ مارشل یا جو بھی طریقہ ہے، اسکے مطابق کاروائی ہو گی،سروس رول کے مطابق جو بھی مناسب کاروائی ہو گی، ضرور ہو گی، یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم فیصلہ کریں کہ کیا ہونا چاہئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان باہر جائے گا؟ تو وہ پانچ دس سال کے لئے سائن کر کے جائے گا جس طرح میاں صاحب گئے تھے، اگر وہ باہر جاتا ہے تو پی ٹی آئی کو لیڈ کرنے والا کون ہو گا؟ سب رہنما اندر ہیں، اسد عمر فارغ ہوگئے ہیں، کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں، پرویز الہیٰ اندر ہیں، اسد قیصر اور عارف علوی کی نظریں اس پر ہیں کہ وہ پارٹی ہیڈ بن جائیں گے،پارٹی صدارت پکے ہوئے پھل کی طرح انکو مل جائے گی، انکی تو خواہش ہے کہ عمران خان جائے اور دس سال تک واپس نہ آئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس دن سعودی عرب کہے گا ادھر اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے، کوئی پریشر نہیں ہو گا، یو اے ای کے جو پرنس ہیں محمد بن زاہد، دو برس پہلے پاکستانی ھکومت کو بات کہی تھی کہ ایک دن تو تسلیم کرنا ہے، آخری مت ہونا، اگر پہلے کرتے ہو تو فائدہ ہو سکتا ہے، اور اگر آخر میں کرتے ہو تو فائدہ نہیں، پہلے والا سین تو ہم نے مس کر دیا، کئی مسلمان ممالک کر چکے ہیں، اب سعودی عرب کے تعلقات بھی اچھے ہو چکے ہیں، سعودی عرب کسی کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتا، انہوں نے ایران اور یمن سے ہاتھ ملا لیا، وہ اپنی ٹریڈ کے اوپر دھیان دے رہے ہیں،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں