Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ملالہ یوسفزئی  21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    ملالہ یوسفزئی 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ پاکستانی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی دسمبر میں 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی جس سے وہ اس پروقار فورم پر خطاب کرنے والی اب تک کی سب سے کم عمر ترین شخصیت بن جائیں گی جبکہ واضح رہے کہ نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جسے منڈیلا نے 1999 میں سب کے لیے آزادی اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا تھا۔ سالانہ لیکچر کے سابقہ مقررین میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس، مائیکروسافٹ کے بانی اور عطیہ دہندہ بل گیٹس، آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو اور اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان سمیت دیگر شامل ہیں۔


    علاوہ ازیں فاؤنڈیشن نے اپنی ویب سائٹ پر بھی اس بات کا اعلان کیا کہ نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی 5 دسمبر 2023 کو جوہانسبرگ میں 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی جبکہ عالمی ادارہ کی خبر کے مطابق نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے قائم مقام سی ای ورن ہیرس نے واضح کیا کہ ملالہ یوسف زئی اس قسم کی قیادت کو مجسم کرتی ہیں جس کا ہمیں یقین ہے کہ دنیا کو معاشرے کی تمام سطحوں پر ضرورت ہے۔ موجودہ عالمی چیلنجوں کے پیشِ نظر جو نہایت مشکل لگ سکتے ہیں، وہ ایک منصفانہ اور مساوی مستقبل کے لیے امید کی ایک متأثرکن علامت کے طور پر کھڑی ہیں۔

    تاہم اس سال کے سالانہ لیکچر میں اہم سوالات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی بشمول یہ کہ مقامی اور عالمی سطح پر کس قسم کی قیادت کی ضرورت ہے، زیادہ منصفانہ مستقبل کے حصول کے لیے جس طرح کی قیادت کی ضرورت ہے اسے کیسے عملی شکل دی جائے اور زیادہ منصفانہ مستقبل کے لیے وژن کیا ہے۔ جبکہ خیال رہے کہ ملالہ نے دس سال کی عمر میں شمال مغربی پاکستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں زندگی کے موضوع پر بی بی سی کے لیے ایک گمنام ڈائری لکھنا شروع کی تھی۔ 2012 میں لڑکیوں کی تعلیم کی وکالت کرنے پر عسکریت پسندوں نے انہیں سر میں گولی مار دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس
    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا
    جبکہ 2014 میں وہ نوبل امن انعام جیتنے والی اب تک کی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں ہیں اور ان کی غیر منافع بخش تنظیم ملالہ فنڈ متعدد ممالک میں تعلیمی منصوبوں کو فنڈ دیتی ہے اور بین الاقوامی رہنماؤں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر زمین پر اختراعی حل میں سرمایہ کاری کرتی ہے اور عالمی سطح پر تمام لڑکیوں کے لیے معیاری تعلیم کی وکالت کرتی ہے۔

  • پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    نیشنل ایکشن پلان پر ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا.

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت قومی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں سول اور عسکری حکام ، حساس اداروں کے سربراہان، چاروں صوبائی آئی جیز اور چیف سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ، ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے،اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کیلئے خبردار کیا جاتا ہے۔

    اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 1 نومبر 2023 سے وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی گرفتاری اورجبری ملک بدری کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔ 10 اکتوبر 2023 سے پاکستان -افغانستان بارڈر سے نقل و حرکت کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (E-Tazkira) پر ہو گی جب کہ 1 نومبر 2023 سے نقل و حرکت کی اجازت صرف پاسپورٹ اور ویزا پر دی جائے گی۔ دیگر تمام قسم کی دستاویزات سرحد پار سفر کیلئے غیر موثر اور غیر قانونی ہوں گے۔1 نومبر 2023 سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے کاروبار /جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی اور غیر قانونی کاروبار کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔1 نومبر 2023 کے بعد پاکستان میں مقیم غیر قانونی غیر ملکیوں کو رہائش فراہم کرنے یا سہولیات فراہم کرنے والے کسی بھی پاکستانی شہری یا کمپنی کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔

    جعلی شناختی کارڈ کے حامل، جعلی کاغذات پر بنی غیر قانونی جائیداد ہو گی ضبط
    وزارت داخلہ کی زیر نگرانی ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلیجنس کے اراکین شامل ہوں گے۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد جعلی شناختی کارڈ کے حامل لوگوں اور ان کی جعلی کاغذات پر بنی غیر قانونی جائیدادوں کو ضبط کرنا ہو گا۔ نادرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام جعلی شناختی کارڈز کی منسوخی کوفوری طور پر یقینی بنائے اوراگر کسی کی شناخت میں شک ہو تو اس کی تصدیق کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔ویب پورٹل اور یو اے این ہیلپ لائن پر پاکستان میں مقیم غیر ملکی افرادکی غیر قانونی رہائش یا کاروبار کرنے والے کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی شہری حکومت سے تعاون کرے گا اس کو انعام دیا جائے گا اور اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔غیر قانونی سرگرمیوں بشمول ذخیرہ اندوزی، سامان یا کرنسی کی اسمگلنگ، حوالہ/ ہنڈی اور بجلی چوری کے خلاف سخت ایکشن پہلے سے ہی لیا جا رہا ہے۔ ان جرائم میں ملوث افرد کے خلاف کسی بھی قسم کی رعائت نہیں برتی جائے گی۔ جوائنٹ چیک پوسٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کو کسٹم پاورز دی گئی ہیں۔ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنیادی خوردنوش کی نقل و حمل کو چیک کیا جا رہا ہے جس سے اسمگلنگ میں کمی آئے گی اور جو حکومتی اہلکار کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے۔

    کرنسی کے سمگلرز،حوالہ ہنڈی کے کاروبار اور بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف بھی ایکشن لیا جا رہا ہے۔ ویب پورٹل اور یو اے این ہیلپ لائن پر ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی شہری حکومت سے تعاون کرے گا اس کو انعام دیا جائے گا اور اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    منشیات کے سمگلرز کے ساتھ کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی،فیصلہ
    منشیات کی روک تھام کیلئے نیشنل کاوئنٹر نار کو ٹکس کنٹرول سنٹر قائم کیا جا رہا ہے یہ سنٹر منشیات کی روک تھام میں کوششوں کی ہم آہنگی اور انٹیلیجنس معلومات کی فراہمی یقینی بنائے گا۔منشیات کے سمگلرز کے ساتھ کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق مثالی سزائیں دی جائیں گی۔ ہر صوبے کے اندر منشیات بحالی مراکز مرحلہ وار قائم کیے جائیں گے۔

    کسی بھی سیاسی مسلح گروہ، جتھے یا تنظیم کو طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں،فیصلہ
    طاقت کے استعمال کا حق صرف ریاست کے پاس ہے اس کے علاوہ کسی کوبھی طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں ہو گی۔ پاکستان میں کسی بھی سیاسی مسلح گروہ، جتھے یا تنظیم کی اجازت نہیں ہے اور ایسے طریقہ کار اپنانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔اسلام امن کا دین ہے اور ریاست کسی کو مذہب کی من پسند تشریح کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنیکی اجازت نہیں دے گی۔

    اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی اسلام اور پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ریاست قانون کے مطابق طاقت کا بھر پور استعمال کرے گی۔ملک میں قائم تنظیمیں پر امن اور مہذب طریقے سے اپنے جائزمطالبات ریاست کے سامنے رکھ سکتی ہیں جنھیں سنا اور قانونی طور پر حل کیا جائے گا۔تاہم اگر کوئی تنظیم طاقت یا تشدد کا راستہ اختیار کرے گی تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    پروپیگنڈا اور غلط معلومات کی مہم جوئی کرنے والوں کو سائبر قوانین کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا۔ قوانین کی آگاہی اور عمل درآمد کیلئے تکنیکی طریقہ کار وضع کیے جا رہے ہیں جو قانون کی پاسداری اور عوام کی سہولت کو مدنظر رکھ کر بنائے جا رہے ہیں۔ایمان، اتحاد اور نظم کے بنیادی اصولوں کو یقینی بنایا جائے گا۔ دنیا میں تمام ترقی یافتہ قومیں نظم و ضبط کو اپنا کرہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی ہیں۔تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ نظم و ضبط کو قائم کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔نظم و ضبط کو ہی اپنا کر ہم اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔

    کئی دہشت گرد پکڑے گئے جو پاکستانی نہ تھے لیکن ان کے پاس ہمارا آئی ڈی کارڈ تھا، وزیر داخلہ سرفراز بگٹی
    اجلاس کے بعد وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں غیر ملکی پاسپورٹ کے بغیر بھی آجاتے ہیں، اگر وہ نہیں جاتے تو پوری طاقت سے اس فیصلے پر عمل درآمد کریں گے، ہمارا واحد ملک ہے جہاں آپ بغیر پاسپورٹ ویزہ کے آسکتے ییں، یکم نومبر سے کوئی بھی شہری ویزہ کے بغیر نہیں آ سکے گا، پاسپورٹ اور ویزہ پالیسی نافذ کرنے جا رہے ہیں، یکم نومبر سے غیر قانونی شہریوں کی پراپرٹیز کے خلاف بھی آپریشن شروع کرنے جا رہے ہیں،ان جائدادوں کو بحق سرکار ڈھونڈ کر ضبط کیا جائے گا،ملوث ہونے والے پاکستانیوں کو بھی سزا دی جائے گی، شناختی کارڈز کے اجرا کے حوالے سے بھی غیر قانونی کام ہوتے رہے، ان شناختی کارڈز پر پاسپورٹ بن کر غیر ملک سفر کیا گیا،کئی دہشت گرد پکڑے گئے جو پاکستانی نہ تھے لیکن ان کے پاس ہمارا آئی ڈی کارڈ تھا، ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت آ چکی ہے، ویب پورٹل بنا رہے ہیں جہاں یونیورسل نمبر دیا جائے گا، اس نمبر کے ذریعے شہری ہم تک اطلاع پہنچا سکے گا، اطلاع دینے والے شہریوں کو انعام بھی دیا جائے گا، ذخیرہ اندوزی کے لیے جوائنٹ چیک پوسٹس بنا دی ہیں،14 چیک پوسٹس بلوچستان 10 خیبرپختونخواہ اور 5 پنجاب میں بنائی ہیں، حوالہ ہنڈی اور بجلی چوروں کے خلاف بھی کاروائیاں جاری ہیں، نارکوٹکس کا زہر پاکستانی نوجوانوں میں پھیلایا جارہا تھا،وزیراعظم کی ہدایت پر سخت ترین اقدامات کرنے جا رہے ہیں، پاکستان میں 44 لاکھ افغان باشندے ہیں۔ یکم نومبر تک جتنے بھی غیر ملکی ہیں انکو یکم نومبر تک پاکستان چھوڑنے کی مہلت ہے اسکے بعد ادارے سخت ایکشن لیں گے ۔ جنوری 2023 سے پاکستان میں 24 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 14 میں افغان شہری ملوث ہیں ،کسی کو بندوق کے زور پر اپنا ایجنڈا مسلط کر نے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،اسلام کا نام لے کر ریاست پر حملہ آور گروہوں کو سختی سے کچلا جائے گا کسی کو بندوق کے زور پر اپنا ایجنڈا مسلط کر نے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں

  • حسان نیازی کیس، عدالت کی متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت

    حسان نیازی کیس، عدالت کی متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ ،حسان نیازی کی بازیابی اور ملاقات سے متعلق درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی بازیابی کے لیے درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا ،عدالت نے فریقین کے وکلا کو مزید دلائل کیلئے 17 اکتوبر کو طلب کرلیا ،عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل کو پندرہ دن میں متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت کردی ،جسٹس سلطان تنویر نے حسان کے والد حفیظ اللہ نیازی کی درخواست پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کیا ،حفیظ اللہ نیازی نے بیٹے حسان نیازی سے ملاقات کی استدعا کررکھی ہے ، تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ سرکاری وکیل کے مطابق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے تب تک سماعت ملتوی کی جائے۔عدالت نے مزید کاروائی 17 اکتوبر تک ملتوی کردی

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • سائفر کیس،سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی

    سائفر کیس،سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی

    سائفر کیس کی سماعت کل اڈیالہ جیل میں ہو گی، ہمیں جیل ٹرائل پر کوئی اعتراض نہیں، وزارت قانون نے این او سی جاری کر دیا۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے وزارت قانون کو خط لکھا تھا جس کا جواب دے دیا گیا ہے، اب سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی،سائفر کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کریں گے، اس سے قبل سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے وزارت قانون کو خط لکھا تھا،جج نے وزارت قانون کو خط میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت لانے کیلئے کوئی سکیورٹی کا کوئی خدشہ تو نہیں ۔ چیئرمین پی ٹی آئی ایم شخصیت اور سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں ۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سکیورٹی بھی عدالت کے مدنظر ہے ،عدالت نے خط کے ذریعے وزارت قانون سے قانون سے رائے طلب کر لی ،جج نے لکھا کہ اگر سکیورٹی خدشات نہیں ہیں تو کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں ہی ہوگی ۔

    واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفرکیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے- سائفر کیس کا چالان جمع ہونے کے بعد جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے نوٹس جاری کردیے-جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیئے کہ گواہان کے بیانات ملزمان کو نوٹس جاری کرنے کے لیے کافی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی کے حوالے سے سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کیاجاتاہے، سپرنڈنٹ اڈیالہ جیل 4 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرے-

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ :عدالت کو سیاسی تقریر کیلئے استعمال نہ کریں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ :عدالت کو سیاسی تقریر کیلئے استعمال نہ کریں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق دائر 9 درخواستوں پر سماعت شروع ہوگئی-

    باغی ٹی وی:سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ درخواستوں پر سماعت کررہا ہے جس کی سرکاری ٹی وی کے ذریعے براہ راست کوریج کی جارہی ہے کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی آج کیس کا اختتام کریں، ایک کیس کو ہی لےکر نہیں بیٹھ سکتے، سپریم کورٹ میں پہلے ہی بہت سے کیس زیر التوا ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی مزید بات کرنا چاہے تو تحریری صورت میں دے دیں، آج اس قانون کا اثر بالخصوص چیف جسٹس، 2 سینئر ججز پر ہوگا، اختیارات کو کم نہیں بانٹا جا رہا ہے، 2 سینئر ججز کےساتھ ،اس قانون کا اطلاق آئندہ کے چیف جسٹسزپربھی ہوگا، کچھ ججز سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور چیف جسٹس کا اختیار آمنے سامنے ہے کچھ ایسا نہیں سمجھتے، آپ سب نے اپنے جوابات قلمبند کر دیے ہیں، ہمارے سامنے اٹارنی جنرل اور سینئر وکلا ہیں، سب کو سنیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل خواجہ طارق رحیم سے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں، خواجہ صاحب آپ اپنا دلائل کا حق محفوظ رکھیں۔

    درخواست گزار نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری کے دلائل

    درخواست گزار نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے ایک پڑھنا شروع کیا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ نہ پڑھیے ہم پورا ایکٹ پڑھ چکے ہیں وکیل اکرام چوہدری نے مؤقف پیش کیا کہ اس قانون کو خاص وجہ سے بنایا گیا ہے، ایکٹ کو مخصوص شخص کے لیے بنایا گیا، ایکٹ کی سیکشن3 آئین اور سپریم کورٹ رولز کے متصادم ہے، پارلیمان نے اختیارات کی آئینی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے۔چیف جسٹس نے وکیل اکرام چوہدری سے استفسار کیا کہ کیا آپ دلائل صرف نیوز رپورٹس کی روشنی میں دے رہے ہیں، وہ خبریں نا پڑھیں جن کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، عدالت کو سیاسی بحث کے لیے استعمال نا کریں، میڈیا موجود ہے وہاں جا کر سیاست کریں، قانونی دلائل دیجیے، یہ دلیل دیں کہ پارلیمنٹ نے کیسے عدلیہ کا حق سلب کیا۔جس پر وکیل اکرام چوہدری نے بتایا کہ ہمارے پاس پارلیمنٹ کارروائی کا ریکارڈ ہی نہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاآپ نے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا؟ وکیل اکرام چوہدری نے جواب دیا کہ نہیں میں نے ریکارڈ کے لئے خط نہیں لکھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ اور جوڈیشری الگ الگ ادارے ہیں،آپ نے خط نہیں لکھا اور چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ دلیل سنے۔وکیل اکرام چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ میں پوری قوم کی طرف سے بات کر رہا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ قوم کے نمائندے ہیں نہ ہی ہم، اس لئے اپنی بات کریں، اخبار میں آنے والی خبریں ہوسکتا ہے درست نہ ہوں، اپنے کیس تک خود کو محدود رکھیں،وکیل اکرام چوہدری نے ایک بار پھر خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم چاہتے تھے چیف جسٹس کو طلب کیا جائے۔

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایسی بات بالکل نہ کریں، جس کی بات کررہےہیں انہیں آپ نےفریق ہی نہیں بنایا، عدالت کو سیاسی تقریر کیلئے استعمال نہ کریں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ لوگوں کا بھی خیال ہے اس قانون سے سپریم کورٹ اور پارلیمان آمنے سامنے آگئے، میں لفظ جنگ استعمال نہیں کرونگا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر اب قانون بن چکا ہے، حسبہ بل کبھی قانون بنا ہی نہیں تھا، پارلیمنٹ قانون سازی کر سکتا تھا یا نہیں اس بحث میں نہیں جانا چاہیے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آئین سے متصادم ہے یا نہیں یہ بتائیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت جب آئینی ترمیم بھی دیکھ سکتی ہےتوبات ختم ہوگئی، آپ کی دلیل ہےکہ آئینی ترمیم سے یہ قانون بن جائےتوٹھیک ہے، جب آپ عدالت کی آزادی کی بات کرتے ہیں توکیا یہ آزادی ازخود نایاب چیز ہے یالوگوں کے لیے ہے؟ عدالت کی آزادی صرف اس کے اپنے لیے ہےکہ اس کا ہرصورت دفاع کرناہے؟ عدالت کی آزادی لوگوں کے لیےنہیں ہے؟ اس بات پر روشنی ڈالیں، اگرکل پارلیمنٹ قانون بناتی ہےکہ بیواؤں کےکیسزکو ترجیح دیں، کیا اس قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی متاثرہوگی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون سازی انصاف دینےکا راستہ ہموار اور دشوارکررہی ہے تویہ بتائیں، کیا ہماری آزادی خود ہی کافی ہے یا اس کا تعلق کسی اورسے بھی ہے؟ پارلیمنٹ اور عدلیہ الگ الگ آئینی ادارہ ہیں، اگر آپ نے اپنےمعلومات تک رسائی کے حق کے تحت کارروائی کی درخواست نہیں کی تویہ دلیل مت دیں، آپ نے خود اسپیکرکو خط نہیں لکھا اور چاہتے ہیں پوری سپریم کورٹ بیٹھ کربے بنیاد دلیل سنے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل اکرام چوہدری کی تعریف کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے بہت محنت کی ہے چوہدری صاحب، جس کتاب کا آپ حوالہ دے رہے ہیں میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، عدلیہ حکومت کا ذیلی محکمہ نہیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ کتاب پہلے مارشل لاء کے بعد لکھی گئی، سپریم کورٹ نے اس مارشل لاء کی توثیق کی، کیا یہ کتاب مارشل لاء کے اثر میں لکھی گئی تھی۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ لفظ کا مطلب عدلیہ کو محکمہ کہنا نہیں ہے، ہر ملک کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ ثابت کردیں کہ کیسے یہ ایکٹ آئین کے خلاف ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں اس کیس کو آج کنارے لگانا ہے، 45 منٹ سے آپ کو سن رہے ہیں، اب دلائل ختم کیجیے، سننا تو آپ کو پورا دن چاہتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں، کوئی دلیل رہ جائےتوتحریرجمع کرائی جاسکتی ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس مظہرصاحب کے یہ بتادیں کون سی آئینی شق متاثر ہوئی، یہاں دو سوالات اٹھتے ہیں، کیا پارلیمنٹ سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی کی مجاز ہے، بتائیں کہ کون سی دفعہ کس آئینی شق سے متصادم ہے، ایک سوال اہلیت اور دوسرا تضاد کا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ جتنا باریکی میں جائیں گے زیادہ وقت لگے گا، اس کیس نے آج کے بعد نہیں چلنا، جتنا وقت آپ لیں گے باقی وکلاء کو کم ملے گا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ مان رہے ہیں کہ پارلیمنٹ قانون سازی کیلئے با اختیار ہے، جسٹس اعجازالاحسن کے دوسرے سوال کا جواب دیں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمنٹ کو مکمل طریقہ کار اپنانا چاہیے تھاجو نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نےریمارکس دیئے کہ انصاف تک رسائی کا حق دینا آئین کی بنیاد ہےکیا پارلیمنٹ قانون سازی کرنےکیلئےبا اختیار نہیں۔وکیل اکرام چوہدری نے جواب دیا کہ آرٹیکل 8 کہتا ہے ایمرجنسی میں آئینی شقیں معطل کی جا سکتی ہیں جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ اب آئینی شق کا کیا تعلق ہے جب قانون بن چکا۔ جسٹس سردارطارق نے ریمارکس دیے کہ کیا پارلیمنٹ قانون نہیں کر سکتی کوئی حوالہ تو دے دیں۔وکیل اکرام چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، باقی دلائل تحریری طور پر جمع کرا دوں گا۔

    درخواست گزار نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری کے دلائل

    درخواست گزار نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری کے دلائل مکمل ہونے پر درخواست گزار مدثر حسن کے وکیل حسن عرفان نے دلائل کا آغاز کیا اور مؤقف پیش کیا کہ تمام عدالتی سوالات کے جواب آئین میں موجود ہیں۔

    سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو جسٹس عائشہ ملک نے وکیل حسن عرفان سے استفسار کیا کہ آپ اب تک درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دے رہے ہیں، صرف یہ بتا دیں کہ کن دفعات سےآپ متفق یا مخالف ہیں؟-وکیل حسن عرفان نے کہا کہ پارلیمان نے قانون سازی کی آڑ میں آئین میں ترمیم کر دی ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آپ مفاد عامہ کی بات کر رہے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا انصاف تک رسائی کیلئے قانون سازی نہیں ہوسکتی، درخواست گزار اس کیس سے کیسے متاثرہ فریق ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ میرا مؤکل وکیل ہے اور نظام انصاف کی فراہمی کا اسٹیک ہولڈر ہے۔ جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عوام کا انصاف تک رسائی کا بنیادی حق کیسے متاثر ہوا۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ انصاف تک رسائی کیلئے عدالت کو آزاد ہونا چاہیے، عدلیہ کی آزادی بنیادی حقوق سے جڑی ہے، پہلے بتائیں کہ ایکٹ سے بنیادی حق کیسے متاثر ہوتا ہے، درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے آگے نکل چکے ہیں، انصاف تک رسائی کیلئےبنیادی شرط آزادعدلیہ ہے۔جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا اپیل کا حق نہ ہونا انصاف تک رسائی کے منافی نہیں؟ وکیل حسن عرفان نے مؤقف پیش کیا کہ قانون سازوں کے ذہن میں شاید یہ سوال کبھی آیا ہی نہیں تھا، پارلیمان سپریم ضرورہے لیکن آئین کے بھی تابع ہے، چیف جسٹس، وزیراعظم اور صدر نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حلف میں آئین کے ساتھ قانون کا بھی ذکر ہے، اسے مدنظر رکھیں، جب مارشل لا لگتا ہے سب ہتھیار پھینک دیتے ہیں، مارشل لا لگے تو حلف کو بھول جایا جاتا ہے، پارلیمان کچھ کرے تو سب کو حلف یاد آ جاتا ہے، یہاں مارشل لا نہیں ہے، ماضی میں وکلاء 184تین کے بے دریغ استعمال پر تنقید کرتے رہے، آپ کے بطور شہری اس ایکٹ سے کون سے حقوق متاثرہوئے، کیا آپ اگلے مارشل لا کا دورازہ ہم سے کھلوانا چاہتے ہیں۔
    اس کمرے میں بہت سی تصاویر لگی ہیں جو مارشل لاء آنے پر حلف بھول جاتے ہیں،پارلیمنٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اختیار بڑھا دیا گیا، کیا آپ کا موقف یہ ہے اپیل کا حق نہ ہو بس سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے وہ حتمی ہو، وکیل حسن عرفان نے کہا کہ میرا یہ موقف نہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کہتی ہے کہ انہوں نے ٹھیک قانون سازی کی، ماضی میں وکلاء سپریم کورٹ کے 184 تین کے بے دریغ استعمال پر بہت تنقید کرتے رہے، سپریم کورٹ کے 184 تین کے استعمال سے ماضی میں لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے،نظرثانی میں اپیل کا حق ملنے سے آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ وکیل حسن عرفان نے کہا کہ اس سے قانون کی رسائی کا حق متاثر ہوگا کل کو سماجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت نے کئی بار مارشل لاء کی توثیق کی ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے حق کو پارلیمنٹ کیوں نہیں بدل سکتی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نظر ثانی میں اپیل کا حق ملنے سے آپ کو کیا تکلیف ہے؟ وکیل حسن عرفان نےکہا کہ قانون کی رسائی کا حق متاثر ہو گا کل کو سماجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے،جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا ہارلیمان کی اچھی نیت پر اختیار سے کیا گیا تجاوز درست مانا جا سکتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بنیادی سوال یہ نہیں اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے یا نہیں،سوال یہ ہے کہ اپیل کا حق کس نے کیسےدینا ہے، آرٹیکل 184/3 میں اپیل نہیں دی گئی تو آئین کی منشا نہیں تھی، جاب اگر یہ منشا ہے تو آئین کی ترمیم سے ہی کیا جا سکتا ہے،اس طرح تو آئین کو ایک طرف رکھ کر کہہ دیں قانون کی پاور سے چار اپیلوں کا حق دے دیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی تھی، کیا آپ سپریم کورٹ کے اُس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟ حسن عرفان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ظفر علی شاہ کیس کے فیصلے سے متفق نہیں،

    پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہونے نہیں دے سکتے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیا پارلیمان نے اچھا قانون نہیں بنایا کہ ہم اس فیصلے کو واپس لے سکیں؟ ججز نے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئین کیساتھ کھلواڑ کی اجازت دی، سپریم کورٹ بار کہتی تھی کسی ڈاکٹرائن کی وجہ سے مقدمات مقرر نہیں ہوتے، کیا ڈاکٹرائن آئین اور قانون کے مطابق تھی؟آپ کہتے ہیں بس فرد واحد کا اختیار کم نہ ہو، فرد واحد نے ہی ہمیشہ ملک کی تباہی کی ہے، مارشل لاء لگتا ہے تو ملک فرد واحد ہی چلاتا ہے،ہم آپس میں تین لوگ فیصلہ کریں یا پانچ کریں آپکو کیا مسئلہ ہے؟پارلیمان کو احترام دینا ہوگا، مفروضوں کی نہیں حقیقت کی زبان جانتا ہوں، مولوی تمیز الدین کیس سے شروع کریں یا نصرت بھٹو کیس سے،انہوں نے کہا آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کرنا چاہو کرو، پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہونے نہیں دے سکتے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مارشل لاء کو سپریم کورٹ نے اپیل میں درست قرار نہیں دیا، سپریم کورٹ غلطی پر مستقبل میں اس کی درستگی کر سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کر سکتا ہے، آرٹیکل 191 پارلیمنٹ کو اختیار دیتا پے کہ چیف جسٹس کے اختیارات لو ریگولیٹ کر سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریگولیٹ کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا تحریری آئین ہے ، ایک شخص آیا اور کہا گیا کہ ٹھیک ہے آئین کو روند دیں، جب بعد میں کوئی وضاحت آئے گی تو فیصلہ کریں گے، کبھی سپریم کورٹ نے کہا مارشل درست تھا اور کبھی کہا غلط تھا، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں ہم جنگل کے بادشاہ ہیں چاہے انڈے دیں یا بچے دیں،وکیل حسن عرفان نے کہا کہ اصل سوال عدالت نے حل کرنا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم نے ہی کرنا ہے تو آپ بیٹھ جائیں ہم خود دیکھ لیتے ہیں ،چیف جسٹس کے ریمارکس پرکمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ کیا اہلیت نہ رکھنے کے باوجود پارلیمنٹ قانون بنائے تو اسے نیت اچھی ہونے کی بنا پر درست قرار دیا جا سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ظفر علی شاہ کیس میں ایک فرد کو تمام اختیارات دے دیئے،کیا سپریم کورٹ نے فرد واحد کو اختیارات دے کر اچھا کام کیا،ریکوڈک کو دوبارہ کھولنے کے لیئے ایڈوائزری اختیارات کے تحت استعمال کیا گیا ،مولوی تمیز،نصرت بھٹو کیس میں سپریم کورٹ نے کہا فرد واحد جو آئین سے کھلواڑ کرنا چاہے وہ کر لے ،ہمیں پارلیمنٹ کی قدر کرنی چاہئے ،ہمیں پاکستان میں ائین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی تاریخ کو نہیں بھولنا چایئے،فرد واحد کا اختیار تباہی پھیلاتا ہےصرف چیف جسٹس کا فائدہ نہیں بلکہ لوگوں کے فائدے کی بات کرنی چاہیے ،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وکیل صاحب، آپ سے جو کہا جا رہا ہے آپ آمادگی کا اظہار کر رہے ہیں، آرٹیکل 191 کا اہم آئینی سوال ہمارے سامنے ہے، کیا آرٹیکل 191 پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی کرنے کا اہل بناتا ہے؟ جواب دے دیں پلیز اس کا، آرٹیکل 191 میں سبجیکٹ ٹو لاء کا کیا مطلب ہے یہ بتا دیجیے،وکیل حسن عرفان نے کہا کہ آرٹیکل 191 میں تو ابہام ہے یہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز آرڈر 11 کہتا ہے کہ چیف جسٹس کا اختیار ہے جو اس قانون کا سیکشن 2 تین ججز پر تقسیم کر رہا ہے، ایکٹ کے سیکشن 2 اور سپریم کورٹ رولز میں تضاد آ چکا، پارلیمنٹ کی قانون سازی سے بنا تضاد کیسے حل ہو گا؟وکیل حسن عرفان نے کہا کہ یہ تضاد حل کرنا تو مشکل ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا 1956 کے آرٹیکل 177 اور 1973 کے آرٹیکل 191 میں فرق ہے؟قانون سازی سے سپریم کورٹ رولز کو ختم نہیں کیا جا سکتا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ باز محمد کاکڑ کیس میں سپریم کورٹ واضح کہہ چکی کہ آئین کے تحت بنے رولز کو سادہ قانونی سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 1956 کے رولز کو 1973 کے آئین میں ختم نہیں کیا گیا تھا،چیف جسٹس نے وکیل حسن عرفان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہاں ناں کے سوا کچھ نہیں کہہ رہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دنیا میں پارلیمنٹ کے قانون سے بالا کوئی رولز ہو سکتے ہیں؟ دنیا کی کوئی مثال ہو تو دے دیجیے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز آرٹیکل 191 کے تحت غیر آئینی ہو نہیں سکتے، وکیل حسن عرفان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ پر قانون سازی کی پابندی نہیں ہے تو اجازت بھی نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صرف ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بار بار بات نا دہرائیں، یہ ایکٹ اپیل کا حق بھی دے رہا ہے اس پر اپنی رائے دیجیے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 184 تین کے تحت اختیار پہلے سے سپریم کورٹ کے پاس ہے، پارلیمنٹ نے اس اختیار کو بڑھایا؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر آئین ساز سمجھتے کہ آرٹیکل 184 تھری میں اپیل ہونی چاہئے تو آرٹیکل 185 میں شامل کر دیتے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو مسابقتی کمیشن کے قانون میں اپیل کا حق کیسے دے دیا گیا تھا؟ وکیل حسن عرفان خان کے دلائل مکمل ہو گئے جس کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل شروع ہو گئے،

    وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ فیڈرل قانون سازی فہرست کے علاوہ کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی،چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی کی لسٹ میں سپیس پروگرام اور مصنوعی ذہانت کا ذکر ہے نہ ہی سوشل میڈیا کا، کیا پارلیمان سپیس پروگرام کے حوالے سے قانون سازی نہیں کر سکتی؟ اگر قانون سازی ہوتی ہے تو پارلیمان کونسا اختیار استعمال کرے گی؟ عذیر بھنڈاری کی جانب سے امریکہ عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ امریکی عدالت کو چھوڑیں اپنے آئین کی بات کریں، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ جناب میں سپیس پروگرام کے حوالے سے کیس تیار کرکے نہیں آیا، دو سماعتوں سے میں سن ہی رہا ہوں اب آپ بھی مجھے بولنے دیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں میں معذرت خواہ ہوں،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ڈیٹا پروٹیکشن کا قانون بناتی ہے جو سپریم کورٹ رولز سے مطابقت نہیں رکھتا، ایسی صورت میں قانون کی بالادستی ہوگی یا رولز کی؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسی صورت میں رولز بالادست ہوں گے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون حاوی ہوگا یا رولز، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ میری نظر میں رولز کو اہمیت دی جائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں رولز بائینڈنگ ہیں قانون نہیں،وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ رولز آئین کے تحت بنائے گئے، چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 204 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، پارلیمان نے آرڈیننس کے تحت 204 میں اپیل کا حق دیا ہے، کیا پہلے اس نکتے کی وضاحت کر دیں کہ اپیل کا وہ حق کیسے درست ہے اور یہ غلط، سپریم کورٹ نے 184/3 میں وزیراعظم کو نااہل قرار دیا،آرٹیکل 204 میں کہاں لکھا ہے کہ اپیل کا حق حاصل ہوگا؟ وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں کہاں لکھا ہے کہ اس کا اطلاق قانون کے تحت ہوگا؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مسابقتی کمیشن قانون سمیت بہت سے قوانین آئین کے اندر نہیں تو انکا کیا ہوگا،آئین میں جو چیزیں نہیں کیا قانون سازی سے انکو شامل نہیں کیا جاسکتا؟،وکیل عزیز بھنڈاری نے کہا کہ اسپیشل ٹریبونل بنائے گئے ہوں تو ان کیخلاف اپیل دی جاسکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےکہا کہ کیا یہ آئین میں لکھا ہوا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کچھ موضوعات پر قانون سازی کا حق دیا گیا ہے،آرٹیکل 191 میں قانون سازی کا اختیار کہیں نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آرٹیکل 191 میں قانون کے تابع رولز بنانے کے الفاظ غیرموثر ہوجائیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپکے دلائل مان لیں تو مسابقتی کمیشن ایکٹ میں اپیل کا حق بھی غیرآئینی ہے، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ جو قانون عدالت میں زیر بحث نہیں اس پر رائے نہیں دوں گا،

    چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق ملنے سے تحریک انصاف کو کیا مسئلہ ہے؟پی ٹی آئی نے اپنا موقف ہارلیمان میں کیوں نہیں اٹھایا، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ کسی سیاسی فیصلے کا دفاع نہیں کروں گا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سیاسی جماعت کے وکیل ہیں تو جواب بھی دینا ہوگا، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ اسمبلی سے مستعفی ہونا سیاسی فیصلہ تھا،تحریک انصاف کے ہر اقدام کا ذمہ دار نہیں ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اپیل کا حق دے دیا گیا ہے تو کیا قیامت آ گئی؟ ہو سکتا ہے آپ پارلیمنٹ میں یہی خوبصورت دلائل دیتے تو آپ کی بات مان لی جاتی،میں اگر کہتا ہوں عزیر بھنڈاری ہمیشہ وقت ضائع کرتا ہے،میں عزیر بھنڈاری کو عدالت پیش ہونے سے روک دیتا ہوں تو آپ کیا کریں گے،اگر چیف جسٹس نے ایک فیصلہ کر لیا تو مطلب اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا، پارلیمنٹ نے دیکھا ہے کہ 184/3 کا غلط استعمال ہوا،از خود نوٹس کے غلط استعمال پر پارلیمنٹ نے اپیل کا حق دیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تمام فیصلے درست نہیں ہوسکتے،اگر ہر کیس میں اپیل کا حق دے دیا جائے تو ہر بندہ اپیل لیکر آجائے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ ایک مثال دے دیں کہ دنیا کی کسی عدالت میں سزا کے خلاف اپیل کا حق نہیں ہے؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ باہر دنیا میں جانے کی کیا ضرورت ہے اپنے ملک کی مثال دیکھ لیں، چیف جسٹس نے کہا کہ امریکہ اور ہماری عدالت میں ایک بنیادی فرق ہے کہ وہاں فل کورٹ بیٹھتی ہے، امریکہ میں تو غلامی تھی خواتین کو ووٹ کا حق برصغیر کے بعد ملا،ہم امریکہ سے زیادہ متاثر کیوں ہیں،امریکہ میں دو تین ججز کے بجائے فل کورٹ کیس سنتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ امریکہ کی عدالت میں ازخود نوٹس کا بھی تصور نہیں، وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ امریکہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ خود 184 تین میں اپیل کا حق دے دے تو کیا ہوگا؟ وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پھر بھی اپیل ممکن نہیں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور اس سے اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے،پارلیمنٹ اپیل کا حق دینے میں بااختیار ہے لیکن دینے کا طریقہ کار کیا ہو یہ مسئلہ ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کا حق اتنا ہی ضروری ہے تو تین رکنی کمیٹی کیسے اپیل کیلئے فیصلہ کرے گی؟ فل کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کیسے ہوگی؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کا حق مختلف ہے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنا اور بات ہے،
    پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت کے طور پر ایکٹ سے فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان؟ وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہمیں کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہے، مجھے ہدایات ہیں کہ میرا موکل شاید دوبارہ اقتدار میں آئے تو اس قانون سازی سے فرق پڑے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کے مقدمات میں ہدایات لینے کی اجازت نہیں آپ عدالت کی معاونت کیلئے ہیں،وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اسی کمرے میں ججز پر جسمانی حملے بھی ہوئے، آئین نے سپریم کورٹ کے تحفظ کیلئے آگ کی دیوار بنائی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں کو اپنے رولز بنانے کا حق حاصل ہے،عدلیہ پارلیمنٹ سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی، وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر میں کہاں لکھا ہے کہ مقدمات کیسے مقرر ہونگے؟قانون صرف بنچز تشکیل دینے کے حوالے سے ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمات مقرر کرنے کے لیے میرے دائیں بائیں بیٹھے فرشتے نظر رکھیں گے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مطلب چیف جسٹس اور تمام ججز ہیں،چیف جسٹس رولز کے تحت ججز کو انتظامی امور سونپتے ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ تین رکنی کمیٹی بن گئی تو کیا ججز کے درمیانی برابری کا اصول ختم نہیں ہوجائے گا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ممکن ہے کل پی ٹی آئی اقتدار میں آئے تو پارلیمان کے ویژن کو کیوں چیلنج کر رہی ہے؟وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو پریکٹس اینڈ پروسیجر سے اچھا قانون آئینی طریقے سے بنائے گی،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر تو ایک اچھا قانون ہے، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کسی صورت اچھا قانون نہیں ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سترہ ججز بھی یہی غلطیاں کرنی ہے تو پھر اپیل کا حق ہونا ہی چاہیے،بطور سیاسی جماعت اپ کو گھبراہٹ کیوں ہے،اپیل کا حق ملنے سے ہو سکتا ہے آپ کو فائدہ ہو، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اسی عدالت پر حملہ بھی ہوا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے ایسی باتیں نہ کریں، وکیل پی ٹی ائی نے کہا کہ پارلیمنٹ پر بھی حملے ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو بھی تحفظ دینا جانتے ہیں،مجھے بطورِ چیف جسٹس کہا جائے کہ رولز بنانے کے لیے فل کوٹ میٹینگ بلا لیں میں انکار کر دوں تو کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا، تعجب ہے کہ کسی نے اسلام پر بات نہیں کی،چیف جسٹس نا قابل احتساب کیسے ہو سکتا ہے، اگر میرا کنڈینکٹ بہت زیادہ نا قابلِ قبول ہو جائے تو کیا ہو گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی مستقل نہیں ہوتی بلکہ مدت ملازمت کی ریٹائرمنٹ بھی ہے،اگر کسی کا کانڈیکٹ نا قابلِ قبول ہے تو وہ جلا جائے گا ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر نا قابل قبول کانڈیکٹ ہو تو اس کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل بھی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ میری ریٹائرمنٹ کا انتظار کریں،آپ نے مختلف عدالتی سوالات کا تحمل مزاجی سے جواب دیا،آئین میں لکھا ہے حاکمیت اللہ پاک کی ہے، قرآن پاک میں بھی مشاورت سے کام کرنے کے احکامات ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بھی مشاورت سے فیصلے کا کہتا ہے،

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی مزید سماعت جمعہ کو رکھ لیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جمعہ کو سماعت نہ رکھیں، ہم سے مشاورت تو کریں، چیف جسٹس نے کہا کہ میں تو مقدمہ آج ختم کرنا چاہتا تھا، پہلے وکلاء دلائل اپنا لیتے تھے اب ہر وکیل ٹی وی پر آنا چاہتا ہے،

    زمان خان وردگ نے تحریری دلائل جمع کرائے، آئندہ سماعت پر مزید دو درخواست گزاروں اور سپریم کورٹ بار کے دلائل سنے جائیں گے، آئندہ سماعت پر سیاسی جماعتوں کے وکلاء کو بھی سنا جائے گا

    عذیر بھنڈاری نے کہا کہ مختلف قوانین کے تحت کی جانے والی تمام اپیلیں آئین کے تناظر میں ہی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 میں اپیل کا حق لاء ریفارمز آرڈیننس کے تحت دیا گیا ہے، عذیر بھنڈاری نے کہا کہ لاء ریفارمز آرڈیننس آئین پاکستان سے پہلے کا ہے، الیکشن مقدمات میں اپیل آرٹیکل 225 کے تحت سپریم کورٹ آتی ہے، عدالت پریکٹس اینڈ پروسیجر برقرار رکھتی ہے تو اس دوران ہوئے فیصلوں کو تحفظ دیا جائے،سپریم کورٹ ماضی میں بھی کالعدم شدہ قانون کے تحت ہونے والے فیصلے برقرار رکھ چکی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا موجودہ کیس میں قرآن شریف سے مدد لی جا سکتی ہے؟ قرآن پاک بھی مشاورت سے فیصلے کرنے کا حکم دیتا ہے، میں اپنے طور پر ساتھیوں سے مشاورت کرکے فیصلے کر رہا ہوں، آئینی نکات پر پانچ رکنی بنچ بننے میں کیا برائی ہے؟ نبی کریم بھی ہر کام مشاور ت سے کرتے تھے، پارلیمان نے مشاورت کرنے کا کہ کر ہم پر کونسا حملہ کر دیا ہے، عذیر بھنڈاری نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز بھی مشاورت سے ہی بنائے گئے تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اپنی مرضی چلائوں تو کوئی کچھ نہیں کر سکے گا، عذیر بھنڈاری نے کہا کہ چیف جسٹس مشاورت تمام ججز کیساتھ بھی کر سکتے ہیں،سپریم کورٹ اپنے رولز میں مقدمات مقرر کرنے اور کاز لسٹ کو بھی شامل کرے، تحریک انصاف کے وکیل عذیر بھنڈاری نے دلائل مکمل کر لیے

    اس سے قبل کیس میں وفاقی حکومت نے جواب جمع کروا دیا ہے تحریک انصاف نے اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروادیں اٹارنی جنرل، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) نے ایکٹ کو برقرار رکھنے جب کہ درخواست گزاروں اور پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اپنے تحریری جوابات میں ایکٹ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
    اٹارنی جنرل نے ججز کے سوالات پر مبنی اپنے جواب میں کہا کہ 8 رکنی بینچ کی جانب سے قانون کو معطل کرنا غیر آئینی تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون سے عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے، قانون سے عدالتی معاملات میں شفافیت اور بینچز کی تشکیل میں بہتری آئے گی، مفروضے کی بنیاد پر قانون کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا-

    مسلم لیگ (ن) اور (ق) نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے جواب میں کہا ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے، سپریم کورٹ رولز 1980 کی موجودگی میں عدالت عظمیٰ سے متعلق پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی۔درخواست گزاروں کے وکیل خواجہ طارق رحیم اور امتیاز صدیقی نے درخواستیں منظور کرکے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

    یاد رہے کہ اس ایکٹ کے خلاف سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 8 رکنی لارجر بینچ نے حکم امتناع جاری کیا تھا سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ 1 اور لارجر بینچ اس کیس کی 5 سماعتیں کرچکا ہے لارجر بینچ نے 13 اپریل کو پہلی سماعت میں ہی قانون پرحکم امتناع دیا تھا، اس کے بعد 8 رکنی لارجربنچ نے 2 مئی، 8 مئی، یکم جون اور 8 جون کو مقدمے کی سماعت کی تھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس وقت کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر کہا تھا کہ جب تک بینچ کی تشکیل سے متعلق اس قانون کے بارے میں فیصلہ نہیں ہو جاتا،تب تک وہ کسی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    واضح رہے کی سابق حکومت نے پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کوریگولیٹ کیا تھا، قانون کے تحت ازخود نوٹس، بینچز کی تشکیل اورمقدمات کی فیکسشن کا اختیار 3 سینئر ججز کی کمیٹی کو دیا گیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو فل کورٹ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا اورعدالت عظمٰی کی تاریخ میں پہلی بار 18 ستمبر کو سماعت کوبراہ راست نشر کیا گیا،یہ سماعت 6 گھنٹے سے زائد تک دکھائی گئی تھی۔

  • نواز شریف کورٹ کے سامنے سرنڈر کریں. عابد ساقی

    نواز شریف کورٹ کے سامنے سرنڈر کریں. عابد ساقی

    پروگرام کھرا سچ میں اینکرپرسن مبشر لقمان سے بات کرتے ہوئے سابق وائس چیئر مین پی بی سی عابد ساقی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چاہئے کہ وہ عدالت کے سامنے آکر سرنڈر کردیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک درخواست لکھیں اور کہیں کہ میں عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کرنا چاہتا ہوں جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ بھی ایک قانونی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ اگر ان کو گرفتاری کا ڈر ہے تو وہ عدالت سے گزارش کریں کہ مجھے گرفتاری کا ڈر ہے لہذا میں جو بھی عدالتی پراسیز ہے اس میں شامل ہونا چاہتا ہوں.

    سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ اس ملک میں قانون سب کیلئے برابر نہیں ہے لہذا وہ پاور فل لوگوں سے بات کریں جیسے کہ یہاں قانون کے طاقت کت تابع چلتا ہے لہذا ہے اسی کا سہارا لیا جاسکتا ہے.

    واضح رہے کہ عابد ساقی نے موقف اپنایا کہ جب سب چیزیں طے ہوجائیں گی تو پھر کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا لہذا ابھی وہی چیزیں طے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کیونکہ یہ بالکل واضح ہے کہ عام آدمی اور کسی خاص کیلئے قانون بالکل بھی برابر نہیں ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف کاروائی کو انتقامی قرار دے دیا

    مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلیے اسلامی نظریاتی کونسل کو مزید متحرک ہونا ہو گا،وزیراعظم
    نومبر یا مارچ میں الیکشن کرایا جائے ، مولانا عبدالواسع
    امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قدر میں مزید بہتری
    علاوہ ازیں صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے کہا کہ پی آئی اے ایک زمانے میں بہت اعلیٰ ائیر لائنز ہوا کرتی تھی جبکہ اب خود حال دیکھ لیں اور کمرشل پر چلایا جاتا تھا جبکہ اسے چلانے والے جہاں سے لائے گئے اور پھر اس کو ڈیفنس میں رکھا گیا تو یہ صحیح نہیں کیونکہ جب تک کمرشل پر نہیں آئے گی تب تک ترقی نہیں کرے گی، اور کرپشن نے تباہ کیا کیونکہ ہر حکومت نے اپنے لوگوں اس اور ریلوے میں ڈالا ہے۔

  • 36گھنٹوں میں پاکستان میں زلزلہ، خطرناک پیشین گوئی،مریم نواز کی جلسی ناکام

    36گھنٹوں میں پاکستان میں زلزلہ، خطرناک پیشین گوئی،مریم نواز کی جلسی ناکام

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک ڈچ سائنسدان ہے، اس نے پییشنگوئی ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں پاکستان میں زلزلہ آ سکتا ہے، اس نے ٹویٹ بھی کی اور تفصیلات بھی بتائی، اسکی خبر کو لوگ اسلئے سنجیدہ لیتے ہیں کہ یہ پیشنگوئیاں کرنے والا آدمی نہیں ہے، اسی نے پیشنگوئی کی تھی،ترکی میں جو زلزلہ آیا تھا،ہم اسکو سن کر ہی کانپ گئے تھے، غالبا کل رات کو اس نے یہ پیشنگوئی کی، دس بارہ گھنٹے ہو چکے، اس حوالہ سے آگاہی ضرور دیا کریں، قدرتی آفات کے حوالہ سے بچاؤ کی تدابیر کی جا سکتی ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ خبر تو یہ بھی آئی ہے کہ میاں صاحب نے ٹکٹ لے لئے، کل تک سعودی عرب پہلے جانے کا ارادہ تھا، یو اے ای جانے کا پھر پاکستان ، اور اب جو ٹکٹ لی ہیں اسکے مطابق لندن سے ابوظہبی اور پھر ابوظہبی سے ہی پاکستان کا سفر کریں گے،پلان میں تبدیلی آ گئی ہے،میاں صاحب جب آ جائیں گے تو تب ہی یقین آئے گا،وہ عدالت سے میڈیکل لیو لے کر گئے تھے، اور پھر کئی سال واپس نہ آئے، میاں صاحب نے ابھی تک سفر کا سرٹفکیٹ نہیں لیا، ہو سکتا ہے کل پرسوں تک وہ لے لیں، وہ جب آئیں گے تو عدالت میں بھی میڈیکل رپورٹ پیش کرنی پڑے گی،چار سال انکا علاج ہوا،کیا کیا ہوا سب عدالت کو بتانا پڑے گا،نواز شریف کو واپسی پر ہر حال میں جیل ہی جانا پڑے گا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،ہو سکتا ہے میاں صاحب کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا جائے اور کہاجائے کہ یہاں ہی ریسٹ کریں، اسکے بعد میاں صاحب کیا بیانیہ بناتے ہیں،وہ تو بعد میں پتہ چلے گا، البتہ مریم نواز نے جلسہ کی بجائے جلسی کی ہے،صحافیوں کا کہنا ہے کہ 2000 کرسیاں لگائی گئیں اور وہاں مریم نے تقریر کی، عمران خان جب عدالت پیشی کے لئے جاتا ہے تو اسوقت اس سے زیادہ لوگ تو اسکے ساتھ ہوتے تھے،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں

  • پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ ستمبر کے مہینہ میں پوری دنیا میں پاکستان کی کرنسی ہائیسٹ پرفارمنگ کرنسی ڈیکلیر ہوئی ہے، ایک ماہ میں چالیس روپے ڈالر کی قیمت میں کمی ہو گی تو اتنا کسی اور کرنسی نے اپروو نہیں کیا ہو گا، اسی طرح چلتا رہا تو پاکستان کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے

    مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ بھارت اور افغانستان میں اختلافات ہوئے ہیں،افغانستان نے بھارت میں ایمبیسی بند کر دی ہے، جس کا مطلب تعلقات بند،جب ایمبیسی بند کر دی جائے تو کوئی ایکٹوٹی نہیں ہوتی، یہ خوش آئند بات ہے جو اتنے سالوں سے پاکستان کو پرابلم تھی کہ انڈیا افغانستان کو پیسے دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہےخاص کر ٹی ٹی پی، تو اب وہ سلسلہ بھی بندہو گا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان حکومت ، بلکہ پاکستان فوج نے افغانستان کو تڑی دی تھی اور کہا تھا کہ دہشت گردوں کو نہ پکڑاتو افغانستا ن کے اندر آئیں گے اور حملہ کریں گے جس کے بعد افغان حکومت نے کاروائی کی اور سو پلس لوگوں کو پکڑ لیا ہے،اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی پر کافی قابو پایا جا سکتا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ سابقہ اسٹیبلشمنٹ کے احتساب سے گریز کریں گے، عمران خان کے لئے میاں صاحب نے نرم گوشہ دکھایا، میاں صاحب کا بیانیہ راتوں و رات بدل گیا، یہ نیا بیانیہ آ گیا، بحرحال جو بھی ہو ،انکے پارٹی کے رہنماؤں کا اسرار ہے کہ میاں صاحب انتقام کی سیاست سے گریز کریں، کیونکہ یہی عمران خان نے کیا تھا، میاں صاحب کے بیانیہ سے فائدہ ہو گا یا نقصان، یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا،میاں صاحب کی جان کو خطرہ ہے اور یہ خطرہ بینظیر کی طرح کا ہے، ایئر پورٹ سے ہجوم کی صورت میں مینار پاکستان نہ جانے کی یہی وجہ بتائی جا رہی ہے، پاکستان میں جتنے بھی بڑے لیڈر ہیں،سب کی سیکورٹی بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان کا دشمن کسی ایک کو نشانہ بنا کر ملک کو آگ میں دھکیل سکتا ہے،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

  • آرمی چیف نے واضح کہا  فوج کے لوگ اسمگلنگ میں ملوث ہوئے تو کورٹ مارشل ہوگا،سرفراز بگٹی

    آرمی چیف نے واضح کہا فوج کے لوگ اسمگلنگ میں ملوث ہوئے تو کورٹ مارشل ہوگا،سرفراز بگٹی

    نگران وفاقی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی اور مرتضیٰ سولنگی نے نیوز کانفرنس کی ہے
    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک مہینے میں سمگلنگ کے حوالے سے مہم شروع کی ،اس حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومت کی کارکردگی آپ کے ساتھ شئیر کر رہے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جس سے ہمارا ملک بری برح بلیڈ کر رہا تھا ،ہمارے یہاں شوگر کی سمگلنگ کی جا رہی تھی اس کو ڈیجیٹل طریقے سے روکا گیا ہے ،فوڈ سیکورٹی منسٹری کے ساتھ پورے ملک سے ڈیٹا اکٹھا کیا ہے انٹر صوبائی بارڈرز کو بھی ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے ،کسٹم، پولیس، ایف سی کے ادارے جوائنٹ چیک پوسٹس پر تعینات ہوتے ہیں ،پاکستان میں قانونی کام کرنے والوں کے لیے مواقع بڑھ جائیں گے .حوالہ ہنڈی وغیرہ کے کاروبار والوں کے لیے کوئی سپیس نہیں چھوڑیں گے ،200 میٹرک ٹن گندم، 8000 میٹرک ٹیم شوگر برآمد کی گئی ہے

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ صرف چند اقدامات سے ڈالر کی قیمت بہت حد تک نیچے آگئی، ہماری کوشش ہے کہ ڈالر کی اصل قیمت تک جائیں، سی کیٹگری کی ایکسچینج کمپنیز کو بند کر دیا گیا ہے،اینٹی نارکوٹکس کے حوالے سے بھی اہم مہم کا آغاز کیا گیا تھا، ہمارے معاشرے میں منشیات تعلیمی اداروں میں بھی پھیل رہی تھیں، کریک ڈاون میں 43 میٹرک ٹن منشیات برآمد کر لی گئی ہیں، ملک بھر میں اینٹی نارکوٹکس سینٹرز بنانے جا رہے ہیں، ہم روزمرہ کی بنیاد پر سامنے آنے والی چیزوں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، کوئی کتنا بھی بڑا آدمی ہو کسی کے لیے کوئی سافٹ رسپونس نہیں رہا، ملوث ہونے والے افسران کے خلاف انکوائری کی جا رہی ہے ،

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے واضح کہا ہے کہ فوج کے جو لوگ اسمگلنگ میں ملوث ہوں گے کورٹ مارشل ہوگا، جیل بھیجا جائے گا، ہم نے فوج کی اکاؤنٹبلٹی 9 مئی کو دیکھی ہے،  دشمن سن لے ہم پسپا ہونے والے نہیں اگر میاں صاحب واپس آکر سیاست میں آنا چاہتے ہیں تو یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے،
    نواز شریف وہ لیڈر ہیں جو بیٹی سمیت جیل جانے کیلئے آگئے تھے،

     مستونگ اور ہنگو دھماکے قابل مذمت اور انتہائی افسوسناک ہیں ۔

    مستونگ جلوس میں خودکش دھماکے کے بعد ہنگو مسجد میں بھی دھماکہ ہو گیا ہے

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

  • نو مئی واقعات، چیئرمین پی ٹی آئی کی نو ضمانت کی درخواستیں منظور

    نو مئی واقعات، چیئرمین پی ٹی آئی کی نو ضمانت کی درخواستیں منظور

    نو مئی واقعات، چیئرمین پی ٹی آئی کی نو ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی گئی ہیں،
    ٹرائل کورٹ کا عدم پیروی پر خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، چھ ضمانتیں سیشن عدالت اور تین ضمانتیں انسداد دہشت گردی عدالت نے خارج کی تھی ،عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی 9 مئی واقعات کے کیسز میں درخواست ضمانت خارج ہونے کا فیصلہ بھی معطل کیا ہے،ان 9 مقدمات میں عمران خان کو گرفتار نہیں کیا جا سکے گا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کو حکم دیا ہے کہ عمران خان کی 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں ٹرائل کورٹس دوبارہ میرٹس پر سنیں اور فیصلہ کریں ٹرائل کورٹس کے 9 مقدمات عدم پیروی خارج کرنے کے فیصلے عدالت نے کالعدم قرار دے دئیے

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے درخواستیں دائرکی تھیں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں میں اسٹیٹ اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، درخواست میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے میرٹ کو دیکھے بغیر ہی ضمانتیں عدم پیروی خارج کر دیں، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ٹرائل کورٹس کے فیصلے کالعدم قرار دیے جائیں،ٹرائل کورٹس کو کیسز دوبارہ سن کر میرٹ پر فیصلے کرنے کی ہدایت کی جائے اِن مقدمات میں پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے،

    چیرمین پی ٹی آئی کی دہشتگردی کے مقدمات اور توشہ خانہ جعل سازی کیس سمیت 9 مقدمات میں عدم پیروی ضمانتیں خارج ہوئیں تھیں 

    عمران خان کو باہر بھیجنے سے متعلق مختلف ذرائع سے رابطے ہوئے، علیمہ خان

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ،جیل میں عمران خان کے بازوؤں کے پٹھے بہت کمزور ہو چکے ہیں