Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • دہشتگردوں کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام

    دہشتگردوں کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام

    افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردوں کے داخلے کی کوشش سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دی

    سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب ژوب میں کارروائی کی ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سمبازہ کے قریب کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں آنے کی کوشش کر رہے تھے ،کہ انہیں روکا گیا اور کاروائی کی گئی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائَرنگ کے تبادلے میں تین دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے جبکہ پاک فوج کے چار جوان شہید ہو گئے،جام شہادت نوش کرنے والوں میں حوالدار ستار، لانس نائیک شیر اعظم، لانس نائیک عدنان اور سپاہی ندیم شامل ہیں،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    باغی ٹی وی کی ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    اسمبلیوں کی تحلیل۔۔۔ آئین کیا کہتا ہے؟

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاک افغان سرحد کے قریب ژوب میں دہشتگردوں کے ساتھ جھڑپ میں فوجی جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے،اسپیکرنے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بروقت کارروائی کرکے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے،اسپیکرنے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے،اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے فوجی جوانوں نے ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں، ملک و قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوان قوم کے ہیرو ہیں، پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ سینہ سپر ہوکر دشمن کا مقابلہ کیا ہے،
    دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے کی جنگ میں ہمارے جوانوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اسپیکر نے اللہ تعالیٰ سے شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمانے کی دعا کی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہے,مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا نے پر افواج پاکستان کو سلام پیش کیا اور کہا کہ قوم اپنے قابل فخر بیٹوں حوالدار ستار، لانس نائیک شیر اعظم، لانس نائیک عدنان اور سپاہی ندیم کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے ،مریم نواز شریف نے شہداءکے اہل خانہ سے ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اپنی افواج اور شہدا پر فخر ہے ،دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان آہنی عزم اور بے مثال بہادری سے لڑ رہا ہے ،دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان نے عظیم ترین قربانیاں دی ہیں ،افغانستان سے دہشت گردوں کے حملے قابل مذمت ہیں ،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بہ شانہ ہے ،مریم نواز شریف نے شہداءکے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لئے صبرجمیل کی دعا کی،

  • مستونگ دھماکہ,ڈی ایس پی سمیت  52 افراد شہید,50 زخمی

    مستونگ دھماکہ,ڈی ایس پی سمیت 52 افراد شہید,50 زخمی

    بلوچستان کے علاقے مستونگ میں دھماکہ ہوا ہے،

    دھماکا بازار میں ہوا، لوگ جلوس کے لیے جمع ہو رہے تھے، اس دوران دھماکا ہو گیا ,دھماکہ مدینہ مسجد کے قریب ہوا،دھماکے کے نتیجے میں 52 افراد کی موت ہوئی ہے جبکہ 50 سے زائد زخمی ہیں،کئی پولیس اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں,

    مستونگ دھماکے میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 52 ہوگئی، ڈی ایچ او مستونگ کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونیوالوں میں 30 افراد کی لاشیں نواب غوث بخش اسپتال مستونگ منتقل کئے گئے ،ضلعی اسپتال مستونگ میں 22 افراد کی لاشیں منتقل کی گئی ہیں، زخمیوں کی تعداد 60 سے زائد ہے،

    سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق مستونگ میں ہونے والا دھماکہ خودکش تھا,

    ڈی ایچ او مستونگ نے بتایا کہ 25 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایس ایچ او سٹی جاوید لہڑی کا کہنا ہے کہ دھماکہ الفلاح روڈ پر بازار میں ہوا، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مستونگ دھماکے میں 50 افراد زخمی ہوئے،زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے ،بہت سے زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے،

    دھماکہ مدینہ مسجد کے قریب ہوا ،مدینہ مسجد کے قریب میلاد کی مناسبت سے لوگ جمع ہورہے تھے،،مدینہ مسجد سے جمع ہونے کے بعد لوگوں نے جلوس میں شرکت کرنا تھا،اسسٹنٹ کمشنر مستونگ کا کہنا ہے کہ دھماکہ بڑی نوعیت کا لگتا ہے،

    مستونگ بازار میں ہونے والے دھماکے میں ڈی ایس پی مستونگ بھی شہید ہو گئے، جہاں دھماکہ ہوا، ڈی ایس پی جلوس کی سیکورٹی کے لیے بھاری نفری کے ہمراہ موجود تھے، ڈی ایس پی مستونگ نواز گشوری زخمی ہوئے تاہم ہسپتال منتقلی کے دوران انکی موت ہو گئی،دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے شروع کر دیئے ہیں،

    آئی جی بلوچستان نے کہا ہے کہ خود کش بمبار کو روکتے ہوئے ڈی ایس پی مستونگ نے جامِ شہادت نوش کیا ہے، دہشت گردی کا مقصد بلوچستان میں بدا منی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے، دھماکے میں ملوث عناصر اورپشت پناہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے مستونگ دھماکے میں 3 اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں

    مستونگ بم دھماکے کے زخمیوں کو سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں طبی امداد دی جارہی ہے

    1.سید عظیم شاہ ولد تیمور شاہ
    2.سعید احمد ولد سلیمان
    3.یعقوب ولد غلام حسین
    4. محمد صلاح ولد میر خان
    5.راشد شاہ ولد غفور شاہ شاہ
    6.دین محمد ولد زارو
    7.ظاہر احمد ولد زارو
    8.محمد عرفان ولد محمد مشتاق
    9.محمد سمیر ولد صفی اللہ
    10.مولانا شیر محمد ولد حضور بخش
    11.محمد اسلم محمد ملوک
    12.خدا بخش ولد مولو خان
    13.امین اللہ ولد حبیب اللہ
    14.غلام حیدر ولد حاجی شاہ محمد
    15.اصغر علی ولد کشمیر خان
    16.حفیظ اللہ ولد یار جان
    17.سعید احمد ولد سلیمان
    18.محمد یعقوب ولد میر غلام حسین
    19.محمد رفیق ولد لونگ خان
    20.نور نبی ولد زمان خان
    21.احمد خان ولد تل خان
    22.نثار احمد ولد نور احمد
    23.علی احسن ولد امام بخش
    24.عمران شاہ ولد سید قادر شاہ
    25.حاجی مندو ولد زمان خان
    26.کریم داد ولد عبدارحمان
    27.ضیا۶ الرحمن ولد ڈنہ خان
    28.حاجی نجیب اللہ ولد حاجی محمد بقا۶
    29.معشوق علی ولد رام علی
    30.حافظ عبدالفتح ولد عبدالغنی
    31.شیر احمد ولد غلام حیدر

    جے یو پی کے رہنما شاہ اویس نورانی کا کہنا ہے کہ مستونگ میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جلوس میں بم دھماکہ اور شہادتوں کی اطلاع پر دل انتہائی مغموم ہے۔ایسے مقدس دن کو خون سے نہلانے والے انتہائی بدبخت درندے ہیں

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مستونگ میں دھماکے کی شديد مذمت کی،وزیر اعظم نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اوررنج کا اظہار کیا، وزیر اعظم نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ افسوس کیا،وزیر اعظم نے جاں بحق افراد کیلئے دعائے مغفرت ، اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی، وزیر اعظم نے زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی ہدایت اور ان کی جلد صحتیابی کی دعا کی،

    بم دھماکے کے مجرموں اور منصوبہ سازوں کو سخت سزا دی جائے۔بلاول

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مستونگ میں بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ محصوم انسانوں کا قتل سنگین دہشتگردی ہے ۔ بم دھماکے کے مجرموں اور منصوبہ سازوں کو سخت سزا دی جائے۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے مستونگ میں بم دھماکے کی مذمت کی،آصف علی زرداری نے معصوم انسانوں کی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کیا،آصف علی زرداری نے مستونگ میں بم دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا،آصف علی زرداری نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔

    دہشت گردوں کا کوئی دین اور مذہب نہیں ہوتا.وزیر داخلہ

    وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے مستونگ میں مدینہ مسجد کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کی، انہوں نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا اور کہا کہ عید میلاد النبی کے جلوس میں شرکت کیلئے آئے معصوم لوگوں پر حملہ انتہائی قبیح عمل ہے، دہشت گردوں کا کوئی دین اور مذہب نہیں ہوتا.

    مستونگ میں بڑھتے ہوئے بدامنی کے واقعات تشویشناک ہیں, شہباز شریف

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے مستونگ میں جشن عید میلادالنبی کی ریلی میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے،شہبازشریف نے مدینہ مسجد ،مستونک کے قریب دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا،سابق وزیراعظم نے شہید ہونے والے ڈی ایس پی مستونگ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا،سابق وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا،اور کہا کہ جشن آمد رسول کے دِن یہ قابل نفرت فعل دنیا اور آخرت میں قابل نفرت رہے گا ،رحمت اللعالمین کی ولادت باسعادت کے دِن یہ مذموم واقعہ شیطان ہی کرسکتے ہیں ،مستونگ میں بڑھتے ہوئے بدامنی کے واقعات تشویشناک ہیں ،زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات مہیا کی جائیں،

    سندھ حکومت غم کی اس گھڑی میں شہدا کے لواحقین کے ساتھ ہے,نگراں وزیراعلیٰ سندھ 

    نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقرنے مستونگ دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ مستونگ میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے انسانیت کے دشمن ہیں، مستونگ دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دشمن پاکستان میں افراتفری اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، قوم ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی،سندھ حکومت غم کی اس گھڑی میں شہدا کے لواحقین کے ساتھ ہے،

    حکومت بلوچستان شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے ۔ مولانا عبدالغفورحیدری

    جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے مستونگ میں دھماکے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مستونگ کو دہشتگردی کا سامنا ہے ۔عید میلادالنبی کے جلسے میں دھماکہ سے جانی نقصان پر افسوس ہے ۔جمعیت علماء اسلام کے کارکن زخمیوں کو خون دینے کیلئے نواب غوث بخش اسپتال پہنچیں ۔شہداء کی بلندی درجات کیلئے دعاگو ہوں، حکومت بلوچستان شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے ۔

    سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،اسپیکر قومی اسمبلی

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے مستونگ میں مدینہ مسجد کے قریب خود کش دھماکے کی مذمت کی ہے،راجہ پرویز اشرف نے دھماکے میں ڈی ایس پی سمیت بے گناہ شہریوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی نے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت، ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ،اسپیکر قومی اسمبلی نے شہید ڈی ایس پی کو ان کی پیشہ ورانہ خدمات پر خراج تحسین پیش کیا، اور کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،دکھ اور غم کی مشکل گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے غم میں برابر کا شریک ہوں،دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔معصوم اور بے گناہ شہریوں پر حملہ بزدلانہ فعل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، ملک دشمن عناصر مذموم مقاصد کے حصول کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں، معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ،معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے شر پسند وں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لا نا ہوگا،اللہ تعالیٰ دھماکے کے نتیجے میں شہداء کے درجات بلندفرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    مستونگ دھماکہ،صدر مملکت،جہانگیر ترین سمیت دیگر نے کی مذمت

    پیٹرن انچیف استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر ترین نے مستونگ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،جہانگیر ترین کی جانب سے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا گیا،جہانگیر ترین کی جانب سے شہید ہونے والے ڈی ایس پی کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا،جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، دعا ہے اللہ پاک زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مستونگ میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر دھماکے کی شديد مذمت کی،صدر مملکت نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا،صدر مملکت نے جانبحق افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ تعزیت کی،صدر مملکت نے جانبحق افراد کیلئے دعائے مغفرت اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی،صدر مملکت نے زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی پر زور دیا،

    پاکستان تحریک انصاف نے مستونگ میں دھماکے کی شدید مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا،زخمیوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا،ترجمان تحریک انصاف کے مطابق واقعے کی جامع تحقیقات اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے،

    وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے مستونگ خود کش بم دھماکے کی مزمت کی اور کہا کہ دہشت گردی کی گاروائیوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں دہشت گردی کا مقصد بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے ۔نگران وزیراعلی نے قانون نافذ کرنے والے ادارواں کو دھماکے میں ملوث عناصر اور انکی پشت پناہی کرنے والے کے خلاف بھرپور کاروائی کاحکم دیا ہے۔دھماکے سے ہونے والے جانی نقصان کی تمام تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی ۔مستونگ اور کوئٹہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔۔پولیس پی ڈی ایم اے محکمہ صحت اور دیگر ایمرجنسی اداروں کی ٹیمیں دھماکے کے مقام پر موجود ہیں ۔زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔صوبائی حکومت زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کریگی

    دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے,حافظ سعد حسین رضوی

    امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاقہ مستونگ میں بم دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دن بدن دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے، دھماکے میں شہید افراد کے بلنددرجات اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں، سیکورٹی اداروں کی غفلت سے دہشتگرد دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں، ملکی امن کے ضامن خواب غفلت سے بیدار ہوں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات روزبروز خراب ہوتے جارہے ہیں لیکن مجال ہے کسی کو فکر ہو، دہشتگرد مسلسل خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں معصوم لوگوں کو شہید کر رہے، امن کے قیام کیلئے عوام، افواجِ پاکستان، پولیس، سیاسی رہنماؤں اور ورکرز نے قربانیاں دی، خدارا قربانیاں کو سبوتاژ نہ کیا جائے،
    وقت کا تقاضا ہے کہ حالات کا جائزہ لے کر پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے ، ہمارا مطالبہ ہےکہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے،

    پورا پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے خلاف متحد ہے،مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں دھماکہ پر اظہار مذمت کیا ہے،نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے دھماکہ میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار، زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہو سکتے، پورا پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے خلاف متحد ہے، دہشت گرد عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں،سیکورٹی فورسز اور عوام کے تعاون سے دہشت گردی کی عفریت کا مکمل خاتمہ کریں گے،

  • جشن میلادالنبی کی ملک بھر میں تقریبات

    جشن میلادالنبی کی ملک بھر میں تقریبات

    ملک بھر میں جشن میلاد النبی ﷺ آج انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے، آج نعتیہ محافل، سیرت النبیؐ کانفرنسز کا انعقاد اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ ملک بھر میں چھوٹی بڑی عمارتوں کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے اور ہر جانب روشنی اور فضا میں درود و سلام کی صدائیں ہیں

    ملک بھر کی طرح وفاقی دارلحکومت میں بھی جشن میلادالنبی ﷺ مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے،سیرت و میلاد کمیٹیوں سمیت عاشقان رسول ﷺ کی جانب سے میلادالنبی کے جلوس کے لیئے تیاریاں مکمل ہیں،مرکزی جلوس جی سیون مرکز سے شروع ہو گا اور آبپارہ پہنچ کر اختتام پزیر ہو گا ،افتتاحی تقریب میں ضلعی انتظامیہ مرکزی میلاد کمیٹی کے عہدیداران علماء پیرمشائخ عظام شرکت کریں گے ،اس دن کی مناسبت سے سرکاری و نجی سطح پر میلاد کی محافل کا انعقاد کیاجائے گا ،نعت خواں حضرات نبی پاک ﷺ کی شان میں ہدیہ عقیدت پیش کریں گے ، پولیس کی جانب سے اسلام آباد میں جلوسوں کی سکیورٹی کے لئے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں دن کا آغاز ایوب سٹیڈیم میں 21 توپوں کی سلامی سے کیا گیا ۔ میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے ملک بھر میں چراغاں اور عمارتوں کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ہے جبکہ ہر سو درود و سلام و میلاد کی محافل کا انعقاد کیا جارہا ہے

    جشن میلاد النبیﷺ، پنجاب پولیس ریلیوں، جلوسوں اور محافل کی سکیورٹی کے لئے ہائی الرٹ ہے،لاہور سمیت صوبہ بھر میں جشن میلاد النبیﷺ کی تقریبات کو بھرپور سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت صوبہ بھر میں1281 محافل، 2510 جلوسوں کی سکیورٹی کیلئے 46 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار تعینات ہیں، ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق لاہور میں جشن عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر 267 جلوس، 250 محافل میلاد منعقد ہو رہی ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں 10 ہزار سے زائد افسران، اہلکار اور رضاکار سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں، لاہور سمیت صوبہ بھر میں عید میلادالنبیﷺ کی پرنور تقریبات کو بھرپور سکیورٹی فراہم کی جائے،سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے عید میلاد النبی کی ریلیوں، جلوسوں اور محافل کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، سنٹرل پولیس آفس اور حساس اضلاع میں تقریبات کی مانیٹرنگ کے لئے کنٹرول رومز مسلسل فعال ہیں، پولیس افسران امن کمیٹیوں، علما کرام، کمیونٹی لیڈرز کی مشاورت سے کوارڈینیشن میں رہیں۔تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز جشن عید میلادالنبیﷺ کے سکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کریں۔

    کراچی کے کئی علاقوں سے چھوٹے بڑے جلوس نکالنے کی تیاریاں مکمل ہیں، جو جشن میلاد کے مرکزی جلوس کا حصہ بنیں گے۔ترجمان جماعت اہلسنت کے مطابق کراچی میں مرکزی جلوس عید میلاد النبی جمعہ 3 بجے دوپہر بولٹن مارکیٹ سے برآمد ہوگا۔ مرکزی جلسہ میلاد 5 بجے شام نشتر پارک میں ہوگا، نماز عصر، مغرب نشتر پارک میں ادا کی جائے گی

    12 ربیع الاول کے موقع پرسیکیورٹی کے سخت انتظامات، موبائل فون سروس معطل کر دی گئی ہے،موبائل فون سروسز جزوی طور پر معطل ہے، سیکیورٹی وجوہات کے پیش نظر موبائل فون سروسز کو بند کیا گیا ہے،موبائل فون سروس بند ہونے کے باعث شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے، 12 ربیع الاول کے جلوس اور محافل کے اختتام تک موبائل فون سروسز جزوی طور پر معطل رہیں گی

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • جنرل عاصم منیر کا دورہ لاہور، صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت

    جنرل عاصم منیر کا دورہ لاہور، صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ محکمے مل کر پوری قوت کے ساتھ کاروائیاں جاری رکھیں جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے لاہور کا دورہ کیا اور لاہور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی بھی شریک ہوئے۔

    جبکہ صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں پاک فوج کے سپہ سالار کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال بشمول بجلی، گیس چوری، ذخیرہ اندوزی اور غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اجلاس کے شرکاء کو اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات اور کچے کے علاقے میں جاری آپریشنز کی پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی
    پی ڈی ایم پر آرٹیکل 6،جنرل باجوہ کا احتساب
    امریکی وزیرخارجہ بلینکن نے بجایا گٹار
    اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے امریکہ میں بھی سوالات ہوئے,نگران وزیر خارجہ
    فورم نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کا بھی جائزہ لیا اور اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ محکمے مل کر پوری قوت کے ساتھ کاروائیاں جاری رکھیں، غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف کاروائیوں کے نتیجے میں پاکستان کو مختلف طریقوں سے ہونے والے معاشی نقصانات سے نجات مل سکے گی۔
    تاہم خیال رہے کہ فورم کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ایس آئی ایف سی اور گرین پنجاب کے اقدامات کی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا، آرمی چیف نے ان تاریخی اقدامات کے سود مند اثرات کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا، اجلاس کے شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاستی ادارے، سرکاری محکمے اور عوام صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہیں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی لاہور آمد پر کورکمانڈر لاہور نے ان کا استقبال کیا۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجرل معاملہ؛ وفاقی حکومت نے فل کورٹ کے پانچ سوالوں کا جواب دے دیا

    پریکٹس اینڈ پروسیجرل معاملہ؛ وفاقی حکومت نے فل کورٹ کے پانچ سوالوں کا جواب دے دیا

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل معاملہ پر وفاقی حکومت نے فل کورٹ کے پانچ سوالوں کا جواب دے دیا ہے جبکہ ، جواب
    میں کہا گیا کہ آٹھ رکنی بینچ کی جانب سے قانون معطل کرنا غیر آئینی تھا اور سابق چیف جسٹس نے قانون کو معطل کرکے بینچ تشکیل کرکےفیصلہ دیئے ہیں۔

    جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر قانون برقرار رہتا ہے تو ابتک کے فیصلوں کو عدالتی تحفظ فراہم کیا جائے، عام قانون سازی سے آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے، آرٹیکل 184/3 میں متاثرہ فرد کے پاس نظر ثانی کے سوا اپیل کا حق نہیں، جبکہ توہین عدالت کا آرٹیکل 204 اپیل کا حق فراہم نہیں کرتا۔

    دیئے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے قانون سازی کرکے توہین عدالت کیسز میں اپیل کا حق فراہم کیا، پریکٹس قانون سے عدلیہ کی آزادی کو مزید یقینی بنایا گیا ہے، قانون سے عدالتی معاملہ میں شفافیت اور بینچ تشکیل میں جموریت آئے گی، پریکٹس قانون چیف جسٹس کے امتناہی صوابیدی اختیارات کو اسٹریکچر کرتا ہے،

    علاوہ ازیں کہا گیا کہ پریکٹس قانون کے تحت لارجر بینچ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات سنے گا، مفروضہ کے بنیاد پر قانون کا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ مستقبل کے کسی قانون سے عدلیہ کے قانون پر قدغن آئے تو عدالت جائزہ لے سکتی ہے، لا امتناہی صوابیدی اختیار سے نظام تباہ ہوتاہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی
    پی ڈی ایم پر آرٹیکل 6،جنرل باجوہ کا احتساب
    امریکی وزیرخارجہ بلینکن نے بجایا گٹار
    اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے امریکہ میں بھی سوالات ہوئے,نگران وزیر خارجہ
    واضح رہے کہ دیئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوسکتا ہے فل کورٹ فیصلہ پر اپیل کا حق نہیں ملے گا، فل کورٹ غیر معمولی مقدمات میں تشکیل دیا جاتا ہے، چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوگا یہ کوئی طے شدہ قانون نہیں، ماسٹر آف روسٹر کی اصطلاح انڈین عدلیہ سے لی گئی ہے، پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، پارلیمنٹ قانون سازی سے عدالتی فیصلوں کا اثر ختم کر سکتی ہے،۔

  • پی ڈی ایم پر آرٹیکل 6،جنرل باجوہ کا احتساب

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑی خبریں آ رہی ہیں،زیادہ متضاد خبریں ہیں ،کوئی ادھر کی بات کر رہا ہے تو کوئی ادھر کی،لیکن اندر کی بات بتاوں، مشاہد حسین سید نے بڑا بیان دیا اور وہ اہم ہو گیا ایک حوالہ سے، جب میں نواز شریف کا بیان پڑھتا ہوں کہ باجوہ کو، فیض کو، کھوسہ کو، ثاقب نثار کو،اعجاز الاحسن پر آرٹیکل سکس ہونا چاہیے کیونکہ آئین سے انحراف کیا، تو میرا خیال ہے پانچ لوگوں کی قربانی دینا ٹھیک ہے،دے دینی چاہیے قربانی، میاں صاحب کو بھی خوش کرنا چاہیے،لیکن اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی بتائیں گے کہ پی ڈی ایم حکومت بھی جنرل باجوہ نے بنوائی ، ۱۳ جماعتیں پی ڈی ایم کی، ان سب پر آرٹیکل سکس لگانا پڑے گا اور لگے گا ، اسمیں سارے آتے ہیں، سب کو غداری کے جرم میں اندر جانا پڑے گا، جو نواز شریف کی ڈیمانڈ ہے پانچ لوگوں کے لیے وہ انکی اپنی پارٹی کے لوگوں پر بھی آتی ہے،کیونکہ پی ڈی ایم ھکومت کے بارے کہا جا رہا ہے کہ جنرل باجوہ کی مدد سے بنی،اس کا مطلب ہے، ایک حکومت کو ہٹایا گیا، اس پر سارے ہی آئیں گے، ایک بار ملک سے اس گند کو صاف کریں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف بینظیر کی ھکومت اڑوانے میں بھی پیش پیش تھے،اسامہ بن لادن سے رقم بھی لی گئَی تھی، نواز شریف کا آرٹیکل سکس تو وہیں سے شروع ہو جائے گا،

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے، آرٹیکل سکس میں سب سے آگے نام نواز شریف کا آ رہا ہے، شاہد خاقان،اور دیگر کوشش کر رہے ہیں کہ بچنے کے لیے نئی جماعت بنائی جائے،اب نئی پارٹی ،نئے لوگوں کے ساتھ لانچ کرنی پڑے گی کہ سب پارٹیوں نے کچھ نہیں دیا،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

  • توشہ خانہ کیس,آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی طلبی

    توشہ خانہ کیس,آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی طلبی

    جعلی بینک اکاؤنٹس کیس اور توشہ خانہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے
    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو جعلی بینک اکاؤنٹس میں طلب کر لیا توشہ خانہ کیس میں بھی آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو بھی طلب کر لیا گیا، سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو 24 اکتوبر کے لئیے نوٹسز جاری کر دیئے گئے عدالت نے آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو زاتی حیثیت میں عدالت پیش ہونے کی ہدایت کردی

    واضح رہے کہ نیب ترامیم کی منظوری کے بعد احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس کر دیا تھا، توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزرائے اعظم نوازشریف اور یوسف رضا گیلانی جب کہ سابق صدر آصف زرداری کو بڑا ریلیف ملا تھا۔ نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف، سابق صدر آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو بڑا ریلیف مل گیا ہے، کیوں کہ احتساب عدالت نے ان تینوں کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس کر دیا ہے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے احکامات جاری کیے، اورعدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت پچاس کروڑ سے کم کرپشن الزام پر کیس نہیں بنتا، جب کہ توشہ خانہ سے گاڑیاں لینے پر جعلی اکاؤنٹس سے 11 کروڑ کی ادائیگیوں کا ریفرنس دائر ہوا تھا۔

    خیال رہے کہ نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے.
    مارچ 2020 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کیا تھا.

    نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق  صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا.

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

  • فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس یکم نومبر تک ملتوی

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس یکم نومبر تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس امین الدین خان بینچ کا حصہ ہیں,چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں ، پہلے سارے درخواستگزاروں کی حاضری لگاٸیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کچھ باتوں کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ،یہ ریگولر بینچ ہے خصوصی بینچ نہیں ، نظرثانی درخواستیں فوری مقرر ہوتی ہیں ، مگر یہ چار سال مقرر نہ ہوئیں ، فیصلہ دینے والے ایک جج ریٹائرڈ ہو چکے،اس لیے اس بینچ کے سامنے نہیں لگا

    اٹارنی جنرل نے فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پرچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیوں اس پر سماعت نہیں چاہتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ اس کو بہتر سمجھتے ہیں، ہم سادہ طریقے سے یہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ شیچ رشید کے وکیل وزیر بن گئے ہیں،تو اپنا متبادل مقرر کر کے جائیں،ایم کیو ایم کے وکیل بھی عدالت پیش نہ ہوئے

    سابق چیئرمین پیمرا بھی روسٹرم پر موجود تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ پہلے کہا گیا تھا فیصلہ غلطیوں سے بھرا پڑا ہے،اب کیا فیصلے میں غلطیاں ختم ہو گئیں،کیا نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی کوئی وجہ ہے،جو اتھارٹی میں رہ چکے وہ ٹی وی اور یوٹیوب پر تقاریر کرتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ ہمیں سنا نہیں گیا،اب ہم سننے کیلئے بیٹھے ہیں آکر بتائیں،ہم یہ درخواستیں زیر التوا رکھ لیتے ہیں،کسی نے کچھ کہنا ہے تو تحریری طور پر کہے،آپ طویل پروگرام کر لیں مگر ہر ادارے کو تباہ نہ کریں،یہاں آپ خاموش ہیں اور ٹی وی پر کہیں گے کہ ہمیں سنا نہیں گیا،ہم پیمرا کی درخواست زیر التو رکھیں گے کل کوئی یہ نہ کہے ہمیں سنا نہیں گیا ,اتنے سالوں سے کیس زیر التوا رہا ہے، کوئی نہیں بولا ، جب کیس سماعت کے لئے مقرر ہوا تو باتیں سامنے آ گئیں، ہم یہاں زبانی تقاریر نہیں سن سکتے، یہ کوئی سیاسی پلیٹ فارم نہیں،

    وکیل پیمرا حافظ احسان نے عدالت میں کہا کہ میں بھی اپنی نظرثانی اپیل واپس لے رہا ہوں،پی ٹی آئی نے بھی فیض آباد دھرنا نظرثانی درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے،چیف جسٹس قاضی فائز نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ کیا آپکو درخواست واپس لینے کا اختیار ہے؟اگر آپ فریق بننا چاہتے ہیں تو عدالت آپکو اجازت دے گی۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم اس کیس میں فریق بھی نہیں بننا چاہتے۔ چیف جسٹس قاضی فائز نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ پہلے ملک کو ٹینشن میں رکھا گیا آج کہہ رہے ہیں ہم درخواست کی پیروی نہیں کریں گے،آپ پہلے غلط تھے یا آج غلط تھے

    وکیل اعجاز الحق نے عدالت میں کہا کہ فیصلے میں ہمارے خلاف آبزرویشن دی گئی، ہم نے کبھی فیض آباد دھرنے کی حمایت نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے فیصلے میں آئی ایس آئی کے رپورٹ کا ذکر کیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ درخواستیں زیر التوا رکھ لیتے ہیں،کسی نے کچھ کہنا ہے تو تحریری طور پر کہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب سب درخواستیں واپس لے رہے ہیں،کیوں نہ اٹارنی جنرل سمیت سب پر جرمانہ عائد کیا جائے،عدالتی وقت خراب کیا گیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستیں واپس کیوں لی جارہی ہیں، ہمیں بتائیں، سچ بولنے سے ہر کوئی کترا کیوں رہا ہے؟ کیا یہ کہہ رہے ہیں مٹی پاو بعد میں دیکھیں گے، 12 مئی کو 55لوگ مرے، خون ہوا، آپ کہہ رہے ہیں مٹی پاؤ۔ بتائیں نا کیوں مٹی ڈالیں؟ کیا نئے واقعے کا انتظار کریں،؟ فیض آباد دھرنا کیس میں سب نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں جس سے امید تھی کہ نظرثانی دائر کرینگے انہوں نے دائر نہیں کی۔ آپ سب سے تو کم از کم خادم رضوی بہتر رہے، انہوں نے نظر ثانی درخواست بھی نہیں ڈالی جس کا مطلب ہے کہ ٹی ایل پی نے اپنی غلطی تسلیم کی اور ہمارے فیصلہ کو تسلیم کیا۔ خادم رضوی صاحب زندہ تھے اس وقت مگر شاید ہمارے فیصلے سے مطمئن تھے۔ غلطی ہوجاتی اسے تسلیم کرنا بڑاپن ہوتا ہے ،،نظرثانی واپس لیکر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو ہوا مٹی پاؤ ،، 12 مئی کے واقعات پر بھی مٹی پاؤکہیں گے کیا،

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، آپ کہہ رہے ہیں حکم آیا تھا ہم نے نظر ثانی دائر کردی، آپ لکھ کر بتائیں کس نے حکم کیا تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کر کے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 میں معاملات کیسے چلے، وہ دھرنا کیسے چلا، بتائیں ناں، کون سا ڈر آپ کو ہے، بتائیں کس کے حکم پر نظرثانی درخواست دائر کی، اللہ سے ڈریں، ایسے معاشرہ تباہ ہوجائیگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فیض آباد دھرنے کے وقت جو معاہدہ ہوا تھا کیا وہ ابھی ریکارڈ پر موجود ہے، ہمارے سامنے دستاویز میں معاہدہ نہیں ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا، ریکارڈ دیکھ کر آگاہ کروں گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنے دیں گے سب سے پہلے تو معافی مانگنا ہوتی ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے پر عملدرآمد تو کرنا ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست دی تو اب سامنا بھی کریں، سزا جزا بعد کی بات پہلے اعتراف جرم تو کرلیں، ہم سے یہ کھیل نہ کھیلیں، آپ میں بتانے کی ہمت ہے یا نہیں؟کیا آپ بتائینگے کہ کس کے حکم پر درخواستیں دائر کیں؟ آپکو کس سے ڈر ہے؟ اوپر والے سے تو ڈرتے نہیں، تقریریں تو بہت کرتے ہیں ہمت ہے کرکے عدالت کو بھی بتاٸیں؟ ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ تباہ ہوجائے گا، پاکستان کہاں سے کہاں آگیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب نظرثانی درخواستیں واپس بھی ہوجائیں تو ہمارے فیصلے کا کیا ہوگا؟ کیا 2019 کے فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا، سب لوگ ڈرے ہوئے کیوں ہیں کوئی درست بات نہیں بتا رہا،مجھ سمیت احتساب سب کا ہونا چاہیے اور احتساب سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے، کینیڈا والے صاحب کہاں ہیں جنہیں جمہوریت چاہئے تھی؟ اپنے ملک میں اس طرح دھرنا کر کے دکھائیں، یہاں کہتے ہیں تم سبھالو میں واپس کینیڈا چلا،حدیث کے مطابق مومن کنجوس اور بزدل ہوسکتا ہے لیکن جھوٹا نہیں، حکومت یا کوئی بھی خفیہ ادارہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں ٹرائل نہیں ہوتا، دوسرے ممالک میں 80 سال کے لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا، ہم اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتے، سب کہتے ہیں آج جو ہوا، وہ گزر گیا، جو اتھارٹی میں رہ چکے وہ پی ٹی آئی اور سوشل میڈیا پر تقاریر کرتے ہیں،‏12 مئی واقعے میں پہلی بار کنٹینر انٹر ڈیوس کئے گئے، اس وقت پورٹس اینڈ شپنگ کے وزیر ایم کیو ایم کے تھے، آج ایم کیو ایم نہیں آئی، الیکشن کمیشن بھی سابقہ یا موجودہ نہیں ہوتا یہ ادارہ ہے ہر ایک کا احتساب ہونا چاہیے،

    اٹارنی جنرل منصور اعوان نے چیف جسٹس فائز عیسی سے فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کی استدعا کردی ,اٹارنی جنرل نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنادیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اس دھرنے کے بعد کئی اور ایسے ہی واقعات سامنے آئے،اگر اس وقت اس فیصلہ پر عمل ہوتا تو بعد میں سنگین واقعات نہ ہوتے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم فیصلے میں دی گئی 17 ہدایات ہر عمل سے صحیح سمت میں چلیں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ نے سورت توبہ کی آیت 19 میں سچے کوگوں کا ساتھ دینے کا کہا ،آپ لوگوں نے فیصلے کو آج سچ مان لیا اب آپ کا امتحان ہے کہ آپ ساتھ دیتے ہیں یا نہیں

    عدالت نے کہا کہ شیخ رشید کے وکیل امام اللہ کنرانی کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہیں، جو وکلاء آج پیش نہیں ہوئے آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنائیں، آج سب فریقین موجود نہیں تھے،فریقین کو حاضری کا ایک اور موقع دیا جاتا ہے،

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس یکم نومبر تک ملتوی کر دیا گیا، عدالت نے حکم دیا کہ 27 اکتوبر تک تمام فریقین تحریری معروضات جمع کرادیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی 4 سال کے بعد سماعت ہوئی ہے آپکو مزید وقت دیتے ہیں، اسکے بعد عملدرآمد ہو گا، سماعت کو 1 نومبر تک ملتوی کرتے ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آج آپ لوگوں نے فیصلے کو سچ مان لیا اب آپ کا امتحان ہے آپ سچ کا ساتھ دیتے ہیں یا نہیں،سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا معاہدے کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کردی

    فیض آباد دھرنا کیس کی لائیو سماعت کیوں نہ نشر ہوئی، چیف جسٹس نے وجہ بتا دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم لائیو اسٹریمنگ کیلئے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کو ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر چلا رہے ہیں،لائیو اسٹریمنگ کے حوالے سے دو رکنی کمیٹی بنائی ہے جو اس وقت کام کرہی ہے،کمیٹی کی گزارشات کے بعد اس معاملے کو دیکھیں گے،

    وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرا دی ، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر تک فریقین اگر کچھ جمع کرانا چاہیں تو کرا سکتے ہیں آئندہ سماعت یکم اکتوبر کو ہو گی چیف جسٹس نے کیس کو مفاد عامہ کا کیس قرار دیا اور کہا براہ راست دیکھانے کے حوالے سے ابھی کمیٹی بنی ہے وہ ان تمام معاملات کو دیکھ رہی ہے

    اٹارنی جنرل منصور اعوان سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، الیکشن کمیشن کے حکام، پیمرا اور تحریک انصاف کے وکلاء بھی کمرہ عدالت پہنچ چکے

    انٹیلی جنس بیورو اور پیمرا کے بعد وفاق نے بھی فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ میں دائر نظرِ ثانی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ فیض آباد دھرنا نظرِ ثانی درخواست واپس لے رہے ہیں ،

    پاکستان تحریک انصاف بھی پیچھے ہٹ گئی ،بیرسٹر علی ظفر سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ درخواست واپس لے رہے ہیں ؟ علی ظفر نے جواب دیا کہ ہم نظر ثانی درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ پی ٹی آئی نے بھی فیض آباد دھرنا فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست دائر کی تھی

    قبل ازیں ایک روز قبل سپریم کورٹ میں شیخ رشید کے وکیل نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست دی،شیخ رشید کے وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے نگران وزیر قانون کے عہدے کا چارج لے چکا ہوں،صوبائی وزیر قانون بننے کے بعد عدالت میں بطور وکیل پیش نہیں ہو سکتا،انصاف کے تقاضوں کیلئے مقدمے کی 28 ستمبر کی سماعت ملتوی کردی جائے،

    دوسری جانب آَئی بی نے بھی نظرثانی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسداللہ خان نے متفرق درخواست دائر کردی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انٹیلیجنس بیورو فیصلہ کیخلاف نظرثانی واپس لینا چاہتا ہے،متفرق درخواست منظور کرکے نظرثانی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے

     تحریک انصاف، الیکشن کمیشن، اعجاز الحق اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں

     

  • نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا مدینہ منورہ کا دورہ

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا مدینہ منورہ کا دورہ

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مدینہ منورہ کا دورہ کیا،

    وزیراعظم نے گزشتہ شام مسجد نبوی کا دورہ کیا، روزہ رسول پر نوافل کی ادائیگی بھی کی ،اس موقع پر نبی کریمﷺ کے حضور درود و سلام پیش کیا اور ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعا کی ,وزیراعظم نے مسجد نبوی سے متصل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیو گرافی اور اسلامی تہذیب پر مبنی عجائب گھر کا دورہ بھی کیا ،وزیراعظم کو عجائب گھر کے بارے میں مفصل بریفننگ دی گئی،

    عجائب گھر محسن کائنات کی زندگی اور اسلامی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے ،وزیراعظم نے انمول اسلامی ثقافت کو محفوظ کرنے کی کاوشوں کی ستائش کی،عجائب گھر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سیکرٹری ناصر مسفر الزہرانی نے وزیراعظم کو اعزازی شیلڈ اور کتب پیش کیں ،تحفے کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے مابین بیش قیمت تعلقات کی عکاسی ہے ،مدینہ منورہ میں واقع عجائب گھر آنحضور ص کے سفر حیات کو بیان کرتا ہے ،عجائب گھر اہم نوعیت کے واقعات اور تعلیمات کی نشاندہی بھی کرتا ہے

    نگران وزیر اعظم آج عمرہ ادائیگی کیلئے مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے،  وہ مسجد الحرام میں عمرہ ادا کریں گے جبکہ دورے کے دوران سعودی عرب میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی ہوں گی گزشتہ روز نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نجی دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان نے مدینہ منورہ کے امیر محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نگران وزیر اعظم کا خیرمقدم کیا پاکستان کے سفیر احمد فاروق، قونصل جنرل خالد مجید، پاکستانی سفارت خانے اور جدہ قونصلیٹ جنرل کے افسران بھی موجود تھے

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • جناح ہاؤس حملہ سمیت 11مقدمات کا چالان عدالت جمع

    جناح ہاؤس حملہ سمیت 11مقدمات کا چالان عدالت جمع

    لاہور:9مئی واقعات سے متعلق جناح ہاؤس حملہ سمیت 11مقدمات کا چالان لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جمع کروا دیا گیا،

    پراسکیوشن نے 11مقدمات کا چالان جمع کروادیا ،سانحہ 9مئی مقدمات چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ، عمر سرفراز چیمہ ، میاں محمود الرشید نامزد کیے گئے ہیں،چالان میں ڈاکٹر یاسمین راشد ،خدیجہ شاہ ، صنم جاوید سمیت دیگر گرفتار ملزمان بھی شامل ہیں،جناح ہاؤس حملہ کیس ، عسکری ٹاور حملہ ،شادمان تھانہ جلانے کے مقدمے کا چالان جمع کروادیا گیا شیر پاؤ پل پر جلاؤ گھیراؤ کرنے کے مقدمے کا چالان جمع کروادیا گیا

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،