Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاک فوج؛ جونیئر لیڈرز  نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا. آرمی چیف

    پاک فوج؛ جونیئر لیڈرز نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا. آرمی چیف

    پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا معیار دنیا کی کسی بھی جدید فوج کے مقابلے میں بہترین ہے، پاک فوج کے جونیئرلیڈرز نے دنیا بھر میں تربیت، آپریشنز اور عالمی معیار کے مقابلوں کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بروتھا گیریژن کا دورہ کیا اور کثیرالملکی اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ بروتھا میں منعقدہ 2 ہفتوں پر مشتمل مشترکہ مشق میں پاکستان، قازقستان، قطر، ترکیہ اور ازبکستان کی اسپیشل فورسز حصہ لے رہی ہیں، مشق کا مقصد دوست ممالک کے مابین تاریخی فوجی تعلقات کو مزید بڑھانا ہے۔ اس کے علاوہ مشق کا مقصد مستقبل کے فوجی تعاون کو بڑھانا اور ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو کردہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہونا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کو جنرل آفیسر کمانڈنگ اسپیشل سروسز گروپ کی جانب سے مشق کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے جونیئر لیڈر شپ اکیڈمی (شنکیاری) کا دورہ بھی کیا۔ جبکہ اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ جونیئر لیڈرز پاکستان آرمی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، روایتی اور غیر روایتی جنگ میں کامیابی سے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مشرق وسطیٰ میں مصنوعی نشہ آور اشیاء کی بڑھوتری پر تشویش
    جنسی زیادتی الزامات؛ رسل برانڈ کی یو ٹیوب پر اشتہاری آمدن معطل
    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس نے جرمانوں میں اضافہ کر دیا
    پرویز الہٰی کیخلاف ایک اور مقدمہ درج
    آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا معیار دنیا کی کسی بھی جدید فوج کے مقابلے میں بہترین ہے، پاک فوج کے جونیئرلیڈرز نے دنیا بھر میں تربیت اور آپریشنز کے مقابلوں کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ شنکیاری اور بروتھا آمد پر انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا استقبال کیا۔

  • نگراں وزیراعظم کی دورہ امریکا پر ایرانی صدر سے ملاقات متوقع

    نگراں وزیراعظم کی دورہ امریکا پر ایرانی صدر سے ملاقات متوقع

    نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ دورہ امریکا پر موجود ہیں، وہ آج نیویارک میں مصروف دن گزاریں گے اور نگراں وزیراعظم آج اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے جبکہ انوار الحق کاکڑ آج عالمی ترقیاتی اقدام پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے، نگراں وزیراعظم اجلاس کے شرکاء سے خطاب کریں گے۔

    نگراں وزیراعظم پائیدار ترقیاتی اہداف پر اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی اور ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ انوار الحق کاکڑ امریکی صدر جوبائیڈن کے عشایئے میں بھی شرکت کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جنسی زیادتی الزامات؛ رسل برانڈ کی یو ٹیوب پر اشتہاری آمدن معطل
    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس نے جرمانوں میں اضافہ کر دیا
    پرویز الہٰی کیخلاف ایک اور مقدمہ درج
    خیال رہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 78واں سالانہ اجلاس آج سے شروع ہورہا ہے جس میں دنیا بھر سے140 سے زائد رہنما اور ریاستی نمائندے شرکت کریں گے۔ پاکستان کی نمائندگی کے لیے نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور نگران وزیر خارجہ نیویارک میں موجود ہیں۔ نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جہاں وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف اجاگر کرنے کے علاوہ معیشت کی بحالی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔

  • پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج پیٹرول ہزار روپے ہوتا. نواز شریف

    پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج پیٹرول ہزار روپے ہوتا. نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے کہا کہ ہمیں انتقام کی کوئی خواہش نہیں، کسی بدلے کی تمنا نہیں ، لیکن پاکستان کو یہ برے دن دکھانے والوں کا احتساب ضرور ہو گا، پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج پیٹرول ہزارروپے ہوتا جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے مشاورتی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ جو قومیں خود احتسابی نہیں کرتیں وہ حالات کے رحم و کرم پر ہی رہتی ہیں، خود احتسابی کا پیغام ملک کے کونے کونے میں پہنچائیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہاکہ آئندہ عام انتخابات میں ہماری کامیابی یقینی ہے، پاکستان کو یہ برے دن دکھانے والوں کا احتساب ضرور ہو گا۔ نواز شریف نے کہاکہ ملک میں اتنی تلخیاں نہیں ہونی چاہییں تھیں، مریم نواز، حمزہ شہباز سمیت پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دیگر رہنمائوں اور کارکنوں نے بغیر کسی جرم کے جیلیں اور سختیاں بھگتیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کا یہ حشر کر دیا ہے، آج غریب روٹی کو ترس رہا ہے، ملک کو اس حال تک کس نے پہنچایا ہے؟۔

    قائد ن لیگ نے کہا کہ 2017 میں تو یہ حالات نہیں تھے، آٹا، گھی اور چینی سستے داموں پر مل رہے تھے، ہمارے دور میں جسے ایک ہزار روپے بجلی بل آتا تھا اسے آج 30 ہزار کا بل آ رہا ہے۔ عوام کہاں سے یہ بجلی کے بل ادا کریں؟۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ قوم کو اس حالت تک پہنچانے والے کردار اور چہرے ہمارے سامنے ہیں۔ ہمارا تو ایک منٹ میں احتساب ہوتا ہے، کیا ملک وقوم کو اس حال تک پہنچانے والوں کا احتساب بھی ہوگا؟ نواز شریف نے مزید کہا کہ ہم نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا، ملک کو جوہری قوت بنانے والے شخص کو جلا وطن کیا جاتا ہے، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور دہشت گردی کی عدالت سے 27 سال کی سزا سنائی جاتی ہے، کیا ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنانا میرا قصور تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جو شخص ملک کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلاتا ہے، 4 جج بیٹھ کر کروڑوں عوام کے مینڈیٹ والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے جنرل باجوہ اور جنرل فیض تھے۔ جبکہ ان کے آلہ کار ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ تھے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ آج بھارت چاند پر پہنچ گیا اور اپنے ملک میں جی 20 کا اجلاس کرا رہا ہے، یہ سب تو ہمیں کرانا چاہیے تھا۔ دسمبر 1990 میں جب میں وزیراعظم بنا تھا تو اس وقت بھارت نے پاکستان میں ہماری شروع کردہ معاشی اصلاحات کی تقلید کی تھی۔ مسلم لیگ ن کے قائد نے مزید کہا کہ واجپائی جب وزیراعظم بنے تو اس وقت بھارت کے پاس ایک ارب ڈالر خزانے میں نہیں تھا، لیکن آج ان کے پاس 600 ارب ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔

    نواز شریف نے کہاکہ ملک کو تباہی تک پہنچانے والے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج پاکستان میں پیٹرول ایک ہزار روپے لیٹر ہوتا۔ اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگا کر پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے پہلے بھی معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑا تھا، اب بھی اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہے۔ میرے دل میں خوف خدا اور پاکستان کی محبت کا جذبہ تھا اور ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مفلوج افراد کیلئے بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا

    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ 25 کروڑ عوام کا مقدر تاریک کرنے والے قتل کے مجرم سے بڑے مجرم ہیں، ان کو چھوڑنا بہت بڑا ظلم ہو گا، یہ ناقابل معافی ہیں، نواز شریف نے کہاکہ قوم کو یہ سب حقائق معلوم ہونے چاہییں کہ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے کون ہیں، قوم کو انہیں معاف نہیں کرنا چاہیئے تاہم خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن پہنچیں گے اور ن لیگ نے ان کے فقید المثال استقبال کا اعلان کر رکھا ہے۔

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عمر بندیال کے بعد پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ تاہم، انہیں بہت سے اہم مسائل ورثے میں ملے ہیں جو فوری توجہ اور حل کے طالب ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جن اہم ترین خدشات کو دور کرنے کی ضرورت ہے ان میں سے ایک وہ تاثر ہے جو ان کے پیشرو کے دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بنچ بنیادی طور پر ججوں کے نظریات لے کر تشکیل دیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں متوقع نتائج نکلتے ہیں، خاص طور پر سابق وزیر اعظم خان کے معاملات میں۔ اس طرز عمل نے سپریم کورٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا، اور اس کے فیصلوں کو اکثر عوام کی طرف سے شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تاثر کو تبدیل کرنے کے لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نہ صرف بینچ کی تشکیل کو متنوع بنانا چاہیے بلکہ مزید جامع نقطہ نظر کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ایک مثالی مثال مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کو روکنے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق ایک اور قانون سازی کا جائزہ لینے کے لیے فل کورٹ کے قیام کی بار بار درخواستیں ہیں۔ پچھلی انتظامیہ کے دوران ان درخواستوں کو مسلسل مسترد کیا گیا۔

    یہ مسئلہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجرز) ایکٹ 2023 سے براہ راست جڑا ہوا ہے، جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مفاد عامہ کے کسی بھی معاملے کو تین سینئر ججوں پر مشتمل بنچ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایک قابل ذکر اقدام میں، سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ نے 13 اپریل کو اس قانون کے نفاذ کو معطل کر دیا۔

    ایک اور اہم چیلنج جس کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سامنا ہے وہ ہے 56,000 سے زائد مقدمات کا، کافی پسماندہ افراد جو حل کے منتظر ہیں۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں، یہ مقدمات اکثر سابق وزیر اعظم خان کی طرف سے سیاسی معاملات مسلسل لانے کی وجہ سے رہ گئے اور ان کے فیصلے نہ ہو سکے۔ مسٹر سے خطاب کرنے کے لئے "آدھی رات کی عدالتوں” کے تصور کا تعارف۔ خان کی شکایات نے ایک مخصوص فرد کے ساتھ ترجیحی سلوک کا تاثر پیدا کیا۔ لارڈ چیف جسٹس ہیورٹ کے الفاظ میں، "انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے” (Rex v. Sussex Justices، [1924] 1 KB 256)۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    یقینا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بینچ کی تشکیل میں اصلاحات، فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا، اور کیسز کے بھاری بھرکم بوجھ کو تیزی سے حل کرنا شامل ہیں۔ ان کو اپنی مدت کے دوران دیکھتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ان چیلنجوں کو کس حد تک مؤثر طریقے سے نمٹتے ہیں۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت تقریبا 7  گھنٹے  جاری رہی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت تقریبا 7 گھنٹے جاری رہی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم فل کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت کی جس کی سماعت براہ راست سرکاری ٹی وی سے نشر کی گئی، فل کورٹ میں سپریم کورٹ کے تمام 15ججز شامل تھے۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر اپیل پر سماعت صبح 11 بج کر 40 منٹ پر شروع ہوئی، جو تقریبا 7 گھنٹے 5 تک جاری رہی جبکہ دن بھر جاری رہنے والی سماعت شام کے وقت 6 بج کر 45 منٹ پر ملتوی کردی گئی، سماعت کے دوران 2 بار وقفے بھی ہوئے، پہلا وقفہ دوپہر 2 بج کر 20 منٹ پر ہوا، جس کے بعد 3 بج کر 15 منٹ پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    اس کے بعد سماعت میں دوسرا وقفہ 5 بج کر 15 منٹ پر ہوا، جو تقریبا ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہا۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی جو زیادہ زیر نہ چل سکی اور سماعت 10 منٹ تک جاری رہی اور عدالت کی کارروائی 6 بج کر 45 منٹ پر روک دی گئی۔ جس کے بعد چیف جسٹس نے سماعت پہلے 2 اکتوبر تک ملتوی کی اس کے بعد تاریخ بدلتے ہوئے کیس کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف اپنا تحریری جواب اٹاری جنرل کے ذریعے عدالت میں جمع کرایا ہے جس میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد کرنےکی استدعا کی ہے۔ یاد رہے سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ مفاد عامہ کے مقدمات میں چیف جسٹس کے اختیارات کو تقسیم کرنے سے متعلق ہے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے مطابق ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ چیف جسٹس اور دو سینئیر پر مشتمل کمیٹی کر سکے گی تاہم یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف لیا تھا اور حلف لینے کے بعد پہلا مقدمہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رواں برس اپریل میں کسی بھی آئینی مقدمے کے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہوتا وہ کسی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

  • آپ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پڑھیں وہ الفاظ استعمال نا کریں جو قانون میں موجود نہیں ہیں ،چیف جسٹس

    آپ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پڑھیں وہ الفاظ استعمال نا کریں جو قانون میں موجود نہیں ہیں ،چیف جسٹس

    اسلام آباد: ملکی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کی کارروائی براہ راست نشر کی جارہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے عدالتی دن پر فل کورٹ کی سربراہی کررہے ہیں عدالت نے سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف اپیلوں پر فل کورٹ بنانے کی درخواستیں منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں شروع ہوگئی ہےسپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف فل کورٹ سماعت شروع ہوگئی ہے، اور سرکاری ٹی وی سے سماعت براہ راست نشر کی جارہی ہے،سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت کررہا ہے-

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں فُل کورٹ کے دیگرارکان میں جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس سید منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظہرعلی اکبر نقوی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس سید حسن اظہررضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔

    سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ معذرت چاہتا ہوں کہ سماعت شروع ہونے میں تاخیرہوئی، تاخیر کی یہ وجہ تھی کہ اس سماعت کو لائیو دکھایا جاسکےچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس میں 9 درخواستیں ہیں، اور اس کیس میں دلائل کون کون دے گا؟ خواجہ طارق رحیم اپنے دلائل مختصر اور جامع رکھیے گا، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ماضی کو دفن کردیں، کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے معاملہ سنا ہی نہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ سیکشن 5 کا کیا ہوگا؟ کیا ایک پارٹی کی وجہ سے ایکسرسائز نہیں ہوگی؟

    درخواست گزار کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ ہم عدالت کے ساتھ ہیں جس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب آپ کونسی درخواست میں وکیل ہیں؟جسٹس عائشہ ملک نے خواجہ طارق سے استفسار کیا کہ اس قانون میں اپیل کا حق دیا گیا اس پر آپ کیا دلائل دیں گے؟ جس پر وکیل خواجہ طارق نے کہا کہ مجھے اتنا علم ہے کہ مجھے اپیل کا حق نہیں جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ اس میں پہر دیگر رولز ہیں اس کا کیا ہوگا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب آپ کوسننا چاہتے ہیں لیکن درخواست پرفوکس رکھیں، ہمار مقصد یہ نہیں کہ آپ ماضی پربات نہ کریں لیکن آپ فوکس رہیں، پارلیمنٹ قادر مطلق(omnipotent) ہے کا لفظ قانون میں کہیں نہیں لکھا آپ فوکس رکھیں۔

    وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ میں بھی فل کورٹ کی حمایت کرتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماضی کو بھول جائیں، آج کی بات کریں، سوال تھا کیا انہوں نے پہلے کیس سنا وہ بینچ کا حصہ ہوں گے یا نہیں، پھر سوال تھا کے کیا سینئر ججز ہی بینچ کاحصہ ہوں گے، پھر سوال تھا کے کیا سینئر ججز ہی بینچ کا حصہ ہوں گے، ہمیں مناسب یہی لگا کے فل کورٹ بنایا جائے۔

    جسٹس عائشہ ملک نے سوال اٹھایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون کے مطابق 184/3 میں اپیل کا حق دیا گیا، فل کورٹ اگر قانون درست قرار دے تو اپیل کون سنے گا ؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مناسب ہوگا پہلے قانون پڑھ لیں پھر سوالات کے جواب دیں، قوم کا وقت بڑا قیمتی ہے خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ 1980 کے رولز کا حوالہ دینا چاہتا ہوں-

    خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ پہلے جسٹس عائشہ ملک کے سوال کا جواب دینا چاہوں گا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ آپ چیلنج کیا گیا قانون پڑھنا چاہتے ہیں یا نہیں آپ جیسے دلائل دینا چاہتے ہیں ویسے دیں، اپنے دلائل دیں اور بینچ ممبر کے سوال کا بھی جواب دیں، اپنی درخواست پر فوکس کریں ملک کی عوام کے 57ہزار مقدمات انصاف کے منتظر ہیں، آپ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پڑھیں وہ الفاظ استعمال نا کریں جو قانون میں موجود نہیں ہیں خواجہ طارق رحیم نے 1980 کے رولز کا بھی حوالہ دیا۔

    جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ آپ پہلے قانون پڑھ لیں آپ کی بڑی مہربانی ہوگی جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کس رول کا حوالہ دے رہے ہیں۔

    وکیل خواجہ طارق رحیم نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ نے فل کورٹ کے ذریعے اپنے رولزبنارکھے تھے، لیکن پارلمینٹ نے سپریم کورٹ کے رولز میں مداخلت کی جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب جوکچھ ماضی میں ہوتا رہا آپ اس کو سپورٹ کرتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب اپنے کسی معاون کو کہیں کہ سوالات نوٹ کریں، آپ کو فوری طور پر جواب دینے کی ضرورت نہیں، اپنے دلائل کے آخر میں سب سوالات کے جواب دے دیں، آپ بتائیں کہ پورا قانون ہی غلط تھا یا چند شقیں، آپ آئینی شقوں کو صرف پڑھیں تشریح نہ کریں جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ آرٹیکل 191کو پڑھیں خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ عدالت کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ شییڈول کےتحت سپریم کورٹ کا ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پہلے قانون پڑھیں پھر تشریح کریں۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے خواجہ طارق رحیم کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں قانون بنانا پارلیمان کا دائرہ کارنہیں تھا یا اختیار نہیں تھا چیف جسٹس نے خواجہ طارق رحیم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب آپ جو ادھرادھر کی باتیں کررہے ہیں اس پرالگ درخواست لے آئیں، ابھی اپنی موجودہ درخواست پرفوکس کریں،وکیل خواجہ طارق رحیم نے مؤقف اختیار کیا کہ انتظامی طور پر کیسے چلانا ہے، فیصلہ کورٹ نے کرنا ہے، سپریم کورٹ کے تمام ججز بیٹھ کر رولز بناتے ہیں۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نےریمارکس دیئےکہ سپریم کورٹ کے اختیارات اور طاقت کا ذکر قانون میں نہیں،کیا آپ ایک آفس کو اتنےاختیارات ہونے کی حمایت کرتے ہیں وکیل طارق رحیم نے کہا کہ بینچز سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ کے کرنےکا ہے، سپریم کورٹ کئی دہائیوں سے اپنے رولز خود بناتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے آپ سپریم کورٹ رولز کو غیرآئینی قرار دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا مطلب تمام ججز ہیں، کیا جہاں اختیار ایک یا 3 ججز کا ہے وہ غیر آئینی ہے خواجہ طارق رحیم نے جواب دیا کہ میرانکتہ ہےکہ رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار ہے پارلیمان کا نہیں چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ جو باتیں کر رہے اس پر الگ درخواست لے آئیں، ابھی اپنی موجودہ درخواست پر فوکس کریں، خواجہ صاحب میں آپ کیلئے معاملات آسان بنانا چاہ رہا ہوں لیکن لگتا ہے آپ ایسا نہیں چاہ رہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ سوال نوٹ کرلیں، سپریم کورٹ کا اپنا اختیارہے کہ وہ اپنے اختیارات کواستعمال کرے، کیا آپ کے مطابق سپریم کورٹ رولز1980 آئین سے متصادم ہیں، مستقبل کی بات نہ کریں دلائل کو حال تک محدود رکھیں، مستقبل میں اگر قانون سازی ہوئی تو آپ پھر چیلنج کر دیجیے گا خواجہ طارق نے کہا کہ 1980 کے رولز فل کورٹ نے بنائے تھے اور وہ رولز درست ہیں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین وقانون کو اس قانون نے غیر موثر کر دیا ہے-

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184/3 جوڈیشل پاور سے متعلق ہے، اس قانون سے عدالت کواپنے اختیارات استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی، عدالتی اختیارات کا فیصلہ کس نے کرنا ہے، میرے مطابق پارلیمنٹ عدالتی اختیارات میں مداخلت کررہی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ خواجہ صاحب آپ کی بحث کیا ہے؟ مجھے آپ کی یہ بات سمجھ آئی ہے کہ اگر یہ سب فل کورٹ کرے تو درست ہے، اگر پارلیمنٹ یہ کام کرے تو غلط ہے، میں یہ سمجھا ہوں آپ کی بات سے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ ہے جس میں آرٹیکل 184کی شق کے استعمال کا طریقہ کار موجود ہے، اس فیصلے میں اصول طے کیا گیا کہ کوئی بینچ آرٹیکل 184کی شق تین کے استعمال کے لیے چیف جسٹس کو معاملہ بھیج سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب آپ باربارمیں کا لفظ کیوں استعمال کر رہے، آپ درخواست گزار ہیں اور دیگر لوگ بھی اس کیس میں فریق ہیں، کیا آپ کا اس کیس میں کوئی ذاتی مفاد ہے، خواجہ صاحب اس کیس میں عدلیہ سے جڑا کون سا عوامی مفاد ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بنچ کی تشکیل سے متعلق کمیٹی بنانے کا قانون کیا جوڈیشل پاور دے رہا ہے یا انتظامی، کیا پارلیمان عدالتی انتظامی اختیارات سے متعلق قانون بناسکتی ہے، کیا پارلیمان نئے اختیارات دے کر سپریم کورٹ کی جوڈیشل پاورکوپس پشت ڈال سکتی ہے۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل خواجہ طارق سے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب کیا آپ کوقبول ہے کہ ایک بندہ بنچ بنائے، پارلیمان نے اسی چیز کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے؟خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ یہ درخواست عوامی مفاد میں لائی گئی ہے-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرے چیف جسٹس پاکستان نے کہا سوال لکھ لیں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون سے تو عدالتی اختیار کو ختم کر لیا گیا ہے، پارلیمنٹ نے قانون بناکر جوڈیشل پاور کا راستہ بند کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پبلک انٹرسٹ کی تعریف کیا ہے اور آپ کس کی طرف سے دلائل دے رہے ہیں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ کو ناقابل اجتناب چیف جسٹس کے اختیارات کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں۔

    خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ پارلیمنٹ نے تو اختیار لے لیا ہے جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قانون سازی سے چیف جسٹس کے اختیارات کو ختم کردیا گیا ہے طارق رحیم کے جواب پر چیف جسٹس نے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پھر جواب دینے بیٹھ گئے ہیں،وکیل خواجہ طارق نے جواب دیا کہ آئینی مقدمات میں کم ازکم پانچ ججزکے بنچ کی شق بھی قانون سازی میں شامل کی گئی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس شق پرآپ کواعتراض ہے کہیں کہ مجھے اس پر اعتراض ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس پاکستان کے اختیارات کو واپس لیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے اختیارات کو ختم کیا گیا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ آپ متفق ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان ماسٹر آف روسٹر ہیں خواجہ طارق رحیم نے دلائل میں کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ اختیار پارلیمنٹ استعمال نہیں کر سکتا۔

    خواجہ طارق نے سوال اٹھایا کہ کیا تین ججز بیٹھ کر آئینی تشریح نہیں کر سکتے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ نہیں کہا جا رہا کہ جج قابل نہیں قانون سازی میں تعداد کی بات ہورہی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس کے تین رکنی بنچ تشکیل دینے پرکسی کوکوئی اعتراض نہیں ہوگا؟ یا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ماسٹر آف دی روسٹر والا چیف جسٹس کا اختیارغیر آئینی تھا۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ کا سیکشن چار1956 کے آئین میں تھا لیکن بعد میں نکال دیاگیا، کیا اس قانون سازی کیلئے آئینی ترمیم درکار نہیں تھی۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ چیف جسٹس کے اختیارات کو آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ریگولیٹ کیا جاسکتا ہے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 17 ججز فل کورٹ کے ذریعے اختیارات کو ریگولیٹ کرسکتے ہیں لیکن پارلیمنٹ نہیں کرسکتی، خواجہ طارق رحیم نے جواباً کہا کہ میں ایسا نہیں کہہ رہا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں اپنے ساتھی ججز سے درخواست کر رہا ہوں اور آپ ہماری مدد کے لیے آئے ہیں، اگر ہرطرف سے سوالات کی بمباری ہوگی تو کیس نہیں چل سکے گا، آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کی آزادی بنیادی انسانی حقوق میں سے ہے، عدالت اپنے رولز خود بنا سکتی ہے، پارلیمنٹ کی تضحیک نہیں کر رہا، کیا پارلیمنٹ اپنا قانون سازی کا اختیاراستعمال کرتے ہوئے عدلیہ میں مداخلت کرسکتی ہے جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ آپ سوالات نوٹ کر لیں جواب دینے کی ضرورت نہیں-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ سیکشن 5 کو آئینی سمجھتے ہیں یا غیر آئینی۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میں سوال آسان بنا دیتا ہوں، آپ اپنے موکل کے لیے اپیل کا حق چاہتے ہیں یا نہیں خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ اچھی چیز غیر آئینی طریقے سے دی گئی تو وہ غلط ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے دوبارہ استفسار کیا کہ سیدھا سا سوال پوچھا کہ سیکشن 5 آئینی ہے یا غیر آئینی، جس پر خواجہ طارق نے جواب دیا کہ اپیل کا حق دینے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہےاوریہ غیرآئینی ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ مسلسل سوالات سے ہم آپ کی زندگی مشکل اور ناممکن بنا رہے ہیں، ہمارے سو سوالات میں اصل مدعا تو گم ہوجائے گا آپ چاہیں تو ہمیں سوالات کے تحریری جوابات دے سکتے ہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس فوجی آمر کا ایک قانون تھا، کیا فوجی آمر کا قانون درست ہے یا پارلیمنٹ کی کی گئی قانون سازی درست ہے جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ دلائل دیتے ہوئے آگے بڑھیں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بیرونی جارحیت کے خطرات کو روکنے کے لیے عدلیہ کی خود مختاری کا تصور ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نہیں چاہتے آپ ہر سوال کا جواب دیں اور ہم یہاں ایک دوسرے سے بحث کرنے نہیں آئے، ایک سیکشن اور پڑھ لیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرا ایک سوال اور ہے، کیا سپریم کورٹ کے انتظامی اختیارات پارلیمنٹ کو سونپنا اختیارات کی تقسیم کے تصور سے متصادم نہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی ایک آئینی آرٹیکل کا حوالہ نہیں دیا، ہم نے خود سے ازخود نوٹس نہیں لیا، آپ خود عدلیہ کے دفاع کے لیے رونما ہوئے ہیں اور اچھی بات ہے آپ میرے حقوق کی بات کر رہے ہیں لیکن یہاں سوال کسی کے حقوق کا نہیں بلکہ آئینی سوال ہے، میرے دوست ججز کے سوالات بہت اچھے ہیں لیکن ابھی صرف سوالات نوٹ کرلیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل خواجہ طارق کو ریمارکس دیئے کہ آپ کو ہر چیز کا آئینی جواب دینا ہوگا، اب تک ایک بات بھی نہیں کہی کہ کیس طرح یہ قانون آئین سے متصادم ہے، ہمارے حقوق پر پارلیمنٹ نے زبردست وار نہیں کیا، آپ ڈیفنڈر کے طور پر رونما ہو گئے ورنہ یہ جنگ میری ہے، آپ رائے دینے کی بجائے آئینی بحث کریں، یہ اچھی بات ہے کہ آپ میرے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں، قانون پارلیمنٹ نے بنایا۔

    وکیل درخواست گزار خواجہ طارق رحیم کے دلائل مکمل ہوگئےتو چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ پارلیمنٹ کو قانون سازی کے لئے محدود کرنا چاہتے ہیں، کیا یہ قانون عوامی مفاد کے لئے بنایا گیا یا ذاتی مفاد کے لئے ، سوالوں کے جواب بعد میں تحریری طور جمع کروا دیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے ساتھیوں کے سوالات بہت اچھے ہیں، ان پر آرام سے غور کریں، آپ نے کہا کہ اہم کیس ہے، میں نہیں لگاتا میری مرضی، 10 سال کیس نہیں لگاتا، اگر کہہ دیا مقدمہ 14 دن میں لگے گا میں کہوں میری مرضی، یہ عدالت عوام کے ٹیکس پر چلتی ہے، یہ قانون اڑا دیں تو چیف جسٹس کو فائدہ ہوتا ہے، میری رائے میری مرضی کو چھوڑیں، بتائیں آئین و قانون سے کیسے متصادم ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرے خیال میں از خود نوٹس میں اپیل کا حق دینا غیر آئینی ہے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں بھی یہ قانون غیر آئینی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ طارق رحیم سے کہا کہ یہ ذاتی رائے کیا ہوتی ہے، پلیز قانون کی بات کریں جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر اس قانون کو درست مان لیں تو پوری سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے ہاتھ میں چلی جائے گی، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اختیارات کی تقسیم کے قانون کے خلاف ہے، اس قانون کو درست مان لیں تو پھر پارلیمنٹ عدلیہ سے متعلق کوئی بھی قانون بنا سکتی ہے جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ اگر از خود نوٹس میں اپیل کا حق غلط ہے تو پھر دیگر مقدمات میں نظرِ ثانی کا حق کیوں ہے؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ پارلیمنٹ کا دائرہ اختیارمحدود کرنا چاہتے ہی جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پارلمینٹ سپریم کورٹ کےرولزمیں ترامیم کرسکتی ہے-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رولز کو چھوڑیں آئین کی بات کریں، کیا آپ چیف جسٹس کو کسی کے سامنےجوابدہ نہیں بنانا چاہتے، ہم اس قانون سے بھی پہلے اوپر والے کو جواب دہ ہیں، مجھے بطور چیف جسٹس آپ زیادہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں، میں آپ کی درخواست 10 سال نہ لگاؤں توآپ کیا کریں گے، آئین سپریم کورٹ سے نہیں، اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے،ریکوڈک کیس میں ملک کو6ارب ڈالر کا نقصان ہوا، ایسے اختیارات آپ مجھے دینا بھی چاہیں تونہیں لوں گا، آپ جواب نہیں دینا چاہتے تو ہم اگلے وکیل کو سن لیتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے حلف اٹھایا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کروں گا میں اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کروں گا حتساب اور شفافیت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں،ہر کوئی اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہے ایسے اختیارات نہیں چاہتا جس سے ساکھ متاثر ہو .کسی قانون کی پسندیدگی اور اس کے آئینی ہونے میں فرق ہے کئی قانون مجھے بھی پسند نہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غلط ہیں عدلیہ کے حقوق متاثر ہوتے ہیں تو نوٹس لے لیتے ہیں –

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ میرے اور آپ کے حقوق کا مسئلہ نہیں آئین اور عوام کا مسئلہ ہے بین کی تشکیل کا پرانا طریقہ کار تمام اختیارات ایک شخص کو سونپ دیتا ہے ،کیا چیف جسٹس کو بلا شرکت غیر بینچ تشکیل دینے کے لامتناہی اختیارات دینا درست ہے؟جسٹس مندو خیل نے کہا کہ قانون بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے-

    دوسرے درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل شروع

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے حلف اٹھایا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کروں گا میں اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کروں گا،سپریم کورٹ میں57ہزارکیسز التوا کا شکار ہے، پارلیمنٹ بہتری لانا چاہ رہی ہے تو سمجھ کیوں نہیں رہے، اگر یہ برا قانون ہے تو آئین کے مطابق بتاٸیں،اور آئین کے مطابق دلائل دیں اس ملک میں مارشل لاء بھی لگے اس دوران بھی فیصلے آئے، مارشل لاء دور کے عدالتی فیصلوں کا میں تو پابند نہیں، کوئی اور ہو تو ہو۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس کا اختیار لینے سے آرٹیکل 9 کیسے متاثر ہو گیا؟امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ چیف جسٹس پاکستان کا اختیار متاثر ہوا ہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا کہ میں نے تو آپ کو اپنا وکیل نہیں کیا، انگریزی میں کہا جاتا ہے I, Me and Myself اس کو یہاں استعمال نہ کریں-

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل نے عدلیہ کی آزادی کو آگے بڑھایا ہے،دنیا میں کہیں چیف جسٹس کے پاس ایسے اختیارات نہیں ،چیف جسٹس کے اختیارات کو عدلیہ کی آزادی کے ساتھ نہ جوڑا جائے،عدالت میں مقدمات عوام کے ہیں اور عوام کا فورم پارلیمنٹ ہے،اگر پارلیمنٹ عوام کے مقدمات کی صحیح سماعت کیلئے قانون سازی کرتی ہے تو کیا غلط ہے؟ اگر پارلیمنٹ عدلیہ کوصحیح چلانے کے لئے قانون سازی کرے تو کیا وہ غلط ہے؟ –

    جسٹس عائشہ ملک نے اعتراض اٹھایا کہ یہ ایکٹ رہتا ہے تو کیس کے خلاف اپیل کون سا بینچ سنےگا، کیا فل کورٹ کے فیصلے کا اطلاق 5 رکنی بینچ پر نہیں ہوگا چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ دنیا کا بدترین قانون بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184/3کے تحت دیکھیں گے، آرٹیکل 184/3 تو عوامی مفاد کی بات کرتا ہے، آپ بتائیں اس آرٹیکل کے تحت یہ درخواست کیسے بنتی ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس کا اختیار 2 سینیئرججز کے ساتھ بانٹ دیا گیا، اختیار باٹنے سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا، پارلمینٹ کا یہ اقدام توعدلیہ کی آزادی کو مضبوط بنائے گا، چیف جسٹس نے 2 سینئر ججز سے ہی مشاورت کرنی ہے۔

    جسٹس منصور شاہ نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑنے والی کوئی بات نہیں وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ یہ قانون پارلیمنٹ سے نہیں ہوسکتا فل کورٹ کر سکتا ہے جس پر جسٹس منصور شاہ نے ریمارکس دیئے کہ قانون پارلمینٹ سے ہی آتا ہے اور کہاں سےآنا ہے، ہم سوئے رہیں، ارجنٹ کیس بھی مقرر نہ کریں تو وہ ٹھیک ہے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ درخواست گزار کا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے جس پر آپ 184/3 میں عدالت آئے؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پوری دنیا میں چیف جسٹس ماسٹر آف دی روسٹر نہیں ہوتا، چیف جسٹس کے پاورز کو چھیڑنے سے جوڈیشری خطرے میں پڑ جاتی ہے، اس کا بھی جواب دیں، پاکستان میں قانون پارلیمنٹ سے آتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہرسوال کا جواب نہ دیں صرف اپنے دلائل دیں جسٹس منصور شاہ نے وکیل امتیاز صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں بنیادی انسانی حقوق کیسے متاثر ہوئے جس پر وکیل نے جواب دیا کہ خلاف آئین قانون سازی سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل امتیاز صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ بتا دیں پھر کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، زیرالتواء مقدمات کی تعداد57 ہزار تک پہنچ چُکی ہے جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں اپیل کا حق دیا جا رہا ہے تو بہت اچھی بات ہےچیف جسٹس نے امتیاز صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ امتیاز صدیقی صاحب میں آپ کےدلائل نہیں سن پا رہا، سوالات کوٹ کریں اور جوابات دیں۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کی بیرونی ہی نہیں اندرونی آزادی بھی اہم ہے جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ باہر کی دنیا میں بنیچ چیف جسٹس نہیں بناتا، بیلٹ کے ذریعے بنیچز کی تشکیل کا معاملہ طے پاتا ہے چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ امتیازصاحب لگتاہےآپ دلائل دینا ہی نہیں چاہتے، آپ جج نہیں آپ دلائل دیں۔

    وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ اگر اس قانون کی توثیق ہوئی تو یہ تاریخ کی بد ترین قانون سازی ہو گی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا 5 رکنی بینچ بیٹھ کر کہہ سکتا ہے کہ فل کورٹ کا فیصلہ غلط تھا؟چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر 3 رکنی بینچ پر 5 رکنی بینچ کا فیصلہ لاگو ہوتا تو ججز کبھی اختلافی فیصلہ نہ دے سکتے۔

    جسٹس منصور نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آپ ہمارے سوالات لکھ رہے ہیں؟ کہاں لکھ رہے ہیں؟وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ سارا قانون غیر قانونی ہے، پارلیمنٹ کو اختیار نہیں تھا جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ کیا دنیا میں ایسا ہے کہ عدالتیں آزادی سے کام نہ کر سکیں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ قانون تو اختیارات کے استعمال میں شفافیت لا رہا ہے چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا آپ سے سوال نہیں کریں گےوکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ میرا بنیادی حق ہے کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیار میں تجاوز نہ کرے-

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کون یہ قانون بنانے کا اختیار رکھتا ہے، اگر پارلیمنٹ یہ قانون سازی کرتی ہے تو یہ عدلیہ میں مداخلت ہے؟جسٹس منصور علی شاہ نے سول کیا کہ ہم مرضی کے بینچ بنائیں کیس نہ لگائیں تو ٹھیک ہے؟ اگر ہم 17 غیر منتخب افراد بیٹھ کر رولز بنائیں تو ٹھیک ہیں؟ اگر منتخب نمائندے قانون سازی کریں تو کیا برائی ہے؟-

    وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ اگر ججز مجھے سانس لینے دیں تو میں جواب دوں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے کہ میرے سارے کولیگز میرے خلاف ہو گئے ہیں جسٹس مسرت ہلالی نےسوال کیا کہ اس طرح کےقانون کی مثالیں کسی اورملک کی موجود ہیں؟ یہ بتائیں کہ آپ ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟ یہاں کیوں آئے؟

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہر اختیار پارلیمنٹ کو نہیں دیا جا سکتا، باقی ممالک میں چیف جسٹس نہیں بلکہ بیلٹ سے بینچ بنتا ہے، یہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ تو سپریم کورٹ کو مضبوط بناتا ہے، دوسرے ممالک میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک دن درخواست آئے، اگلے روز چیف جسٹس بینچ بنا دے جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ درخواست گزار کہہ رہے ہیں کہ قانون اچھا ہے مگر سپریم کورٹ کو خود بنانا چاہیے تھا۔

    وکیل امتیاز صدیقی نے کہاکہ جب مروجہ طریقہ کار نہ اپنایا جائے تو پارلیمنٹ کا قانون بھی غلط ہو گا، غلط طریقہ کار سے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو غیر مؤثر کر سکتی ہے چیف جسٹس نے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ہر سوال کا جواب نہ دیں، صرف اپنے دلائل دیں۔

    جسٹس سردار طارق نے کہا کہ پہلے وکیل کو دلائل دینے دیئے جائیں پھر ہم سب سوال کر لیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ مناسب نہیں کہ ججز سماعت میں اپنی رائے دیں، آپ کو پتہ ہے عوام کا کتنا پیسہ لگ رہا ہے؟ ہمیں قانون نہ سمجھائیں کہ چیف جسٹس کا تقرر کیسے ہو گا، اپنے کیس سے متعلق دلائل دیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا سپریم کورٹ قانون سے بالا ہے یہ کہاں لکھا ہے؟ اس میں دو بنیادی باتیں ہیں، اس فیصلے میں جو لکھا ہے وہ آپ کی دلیل کی نفی کر رہا ہے، ہمیں ڈرائیں مت صرف دلائل دیں، وکیل کاکام ہے بتائے اس فیصلے کے فلاں صفحے پریہ لکھا ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی کا کہنا تھا اگر مجھے نہیں بولنے دیا جائے گا اور تضحیک ہوگی تو میں جا رہا ہوں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے کہ آپ عوام کا خیال کریں، امتیاز صدیقی نے جواب دیا میں عوام کی ہی بات کر رہا ہوں، مجھے بات ہی نہیں کرنے دی جا رہی تو میں چلاجاتا ہوں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کی مرضی ہے جانا چاہتے ہیں تو جائیں ورنہ موجودہ کیس تک محدود رہیں، نظرثانی اپیل نے تو سپریم کورٹ کے اختیارکوبڑھا دیا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کی دلیل سے اتفاق کروں اور درخواست مسترد کر دوں۔

    سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت میں وقفہ کردیا، اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بریک کے بعد اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹروم پر بلا لیا تو اٹارنی جنرل منصورعثمان نے عدالت سے استدعا کی کہ میں آدھا گھنٹہ عدالت میں دلائل دوں گا، میں نے شام کو سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر ویانا جانا ہے، تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروادیا ہے۔

    وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے دلائل شروع کئے اور کہا کہ ہم یہاں انتظامی اختیارات کی بات کر رہے ہیں، یہ قانون عدلیہ کومزید جمہوری اقدار کا حامل بناتا ہے، یہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، یہ قانون ایک عہدے کے اختیار سے متعلق ہے، اور اس قانون سے ادارے میں جمہوری طور پر شفافیت آئے گی۔

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ، آٸین پاکستان 1973میں عدلیہ کی آزادی کا ذکر ہوا، صدر کی منظوری سے قوانین بنتے تھے تو کیا صدر کا اختیار تھا،چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کا صوابدیدی اختیار تھا یا ایڈوائس پر منظوری ہوتی تھی، آپ نے درخواست قابل سماعت نہ ہونے پر بات شروع کی تھی، اور درخواست گزار کے وکیل کے نقاط پر بات شروع کردی، ایک قانون اس وقت تک قابل عمل ہے جب تک غلط ثابت نہ کر دیا جائے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر ہے جو قانون کو چیلنج کرے۔

    اٹارنی جنرل نے ریمارکس دیئے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ عوامی خدشات کو دور کرتا ہے، آرٹیکل 184/3 کے تحت عوامی مفاد کے کیسز سنے جا سکتے ہیں، درخواست گزاروں کا اعتراض قانون پر نہیں، طریقہ پرہے، جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہےکہ کون سا بنیادی حق متاثر ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے اختیارات کا معاملہ ہائیکورٹ سنے تو کیا مناسب ہوگا؟۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا کیس میں 184(3) کی شرائط پوری ہوتی ہیں۔ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ 184(3) میں حقوق کے نفاذ کا ذکر ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق قانون درخواست گزاروں کی سہولت کیلئے بنایا گیا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انصاف تک فراہمی بنیادی حق ہے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو 184/3 پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 184/3 میں ہمیں مفاد عامہ اور بنیادی حقوق دونوں کو دیکھنا ہے۔

    حکومت کی ایکٹ کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا

    حکومت کی ایکٹ کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا

    دوران سماعت وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف اپنا تحریری جواب اٹاری جنرل کے ذریعے عدالت میں جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا پارلیمنٹ کے قانون کیخلاف درخواستیں نا قابل سماعت ہیں،وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد کرنےکی استدعا کردی کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں خارج کی جائیں-

    وفاقی حکومت نے تحریری جواب بھی سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل191 کے نیچے قانون سازی کرسکتی ہے، آئین کا آرٹیکل 191 پارلیمنٹ کو قانون بنانے سے نہیں روکتا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے عدلیہ کی آزادی متاثر نہیں ہوتی ایکٹ کے تحت کوئی اختیار سپریم کورٹ کا واپس نہیں کیا گیا، میرٹ پر بھی پارلیمنٹ قانون کیخلاف درخواستیں نا قابل سماعت ہیں۔

    سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ مفاد عامہ کے مقدمات میں چیف جسٹس کے اختیارات کو تقسیم کرنے سے متعلق ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے مطابق ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ چیف جسٹس اور دو سینئیر پر مشتمل کمیٹی کر سکے گی۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ کے 15 رکنی فل کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت براہ راست نشر کرنے پر اتفاق کیا ہے،اس حوالے سے اجلاس بھی ہوا فل کورٹ اجلاس میں عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے پر اتفاق ہو گیا ہے اور عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کے لیے کمرہ نمبر ایک میں کیمرے لگا دیے گئے جبکہ سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت ایک کی گیلری میں کیمرے لگا دیئے گئے ہیں –

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی کارروائی دکھانے کے لیے 5 کیمرے کمرہ عدالت نمبر ایک میں نصب کر دیے گئے ہیں پی ٹی وی کے چار کیمروں کا رخ بینچ کی جانب ہے جبکہ پانچویں کیمرے کا رخ کمرہ عدالت میں بیٹھے حاضرین کی جانب ہے۔ کمرہ عدالت میں وکلاء کی بڑی تعداد موجود ہیں جبکہ کمرہ عدالت نمبر 1 کی تمام نشستیں بھر گئی ہیں ملکی اور غیر ملکی میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔

  • بھائیوں نے منی لانڈرنگ سمیت مختلف مقدمات میں مطلوب شخص سے بول خرید لیا

    بھائیوں نے منی لانڈرنگ سمیت مختلف مقدمات میں مطلوب شخص سے بول خرید لیا

    بھائیوں نے منی لانڈرنگ، جعلی ڈگریوں اور فحش مواد میں ملوث امریکا کے مطلوب شخص سے بول ٹی وی خرید لیا

    دی امریکن رپورٹر کی تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی بزنس مین شہریار ارشد چشتی اور سمیر ارشد چشتی، جو متعدد آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں، نے پاکستانی بول ٹی وی خرید لیا ہے جو غیر قانونی رقم سے قائم کیا گیا تھا اور جس کے مالک، سی ای او اور چیئرمین شعیب شیخ امریکہ (یو ایس اے) کی انتہائی مطلوب فہرست میں شامل ہیں۔ بول کی خریداری کے مرکزی شخص شہریار ارشد چشتی نے خریداری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے نئی انتظامیہ مقرر کی ہے اور چینل چلانے والے زیادہ تر سابقہ افراد کو ہٹا دیا ہے۔

    جبکہ دی امریکن رپورٹر کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چشتی برادران کے خلاف متعدد قانونی لڑائیاں جاری ہیں، جن میں ارنسٹ اینڈ ینگ کی جانب سے کیمن آئی لینڈ گرینڈ کورٹ میں دائر مقدمہ بھی شامل ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مشرق بینک کی جانب سے مقرر کردہ ای وائی نمائندے کی ووٹنگ کو روکنے کے لیے بورڈ ممبر کو غیر قانونی طور پر ہٹایا گیا۔

    مزید برآں شہریار چشتی بی وی آئی میں شامل ٹرانسائنس انویسٹمنٹ لمیٹڈ کے ساتھ ایک مقدمے میں بھی پھنسے ہوئے ہیں، جس میں ان پر فرائض کی خلاف ورزی کرنے اور ظالمانہ، غیر منصفانہ طور پر نقصان دہ طریقے سے کام کرنے کا الزام ہے۔ اور چشتی کو سعودی عرب کے الجومیہ گروپ اور کویت کے این آئی جی گروپ کی جانب سے کراچی الیکٹرک سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ ان کی پچھلی سرگرمیوں پر ایک نظر ڈالنے سے ورلڈ بینک اور آئی ایف سی کے ساتھ ان کے ڈیفالٹ کا بھی پتہ چلے گا۔


    بول کے بانی اور مالک شعیب شیخ اور چشتی کے ہم منصب امریکہ، برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی مطلوب فہرست میں شامل ہیں اور انہوں نے 2016 کے بعد سے پاکستان قدم نہیں رکھا ہے جب بول کے جعلی ڈگریوں کی فروخت، منی لانڈرنگ اور ایگزیکٹ کے ذریعے وائر فراڈ آپریشنز کے اسکینڈل کو نیویارک ٹائمز اور دیگر مغربی اخبارات نے بے نقاب کیا تھا تب سے انہیں امریکہ میں منی لانڈرنگ، جھوٹی نمائندگی اور وائر فراڈ سمیت مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔

    جبکہ برٹش ورجن آئی لینڈ (بی وی آئی) میں رجسٹرڈ ایشیا پاک انویسٹمنٹ اینڈ سیج وینچرز گروپس لمیٹڈ کے مالک شہریار ارشد چشتی نے بول ٹی وی کا کنٹرول سنبھال لیا جو اپریل 2022 میں عمران خان کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد پاکستانی فوج کے غلط رخ پر چلا گیا تھا، ابتدائی طور پر 2014 میں پاک فوج کے انٹیلی جنس ونگ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جب اس نے پیرنٹ کمپنی ایگزیکٹ کے بینر تلے بول ٹی وی کے لیے پاکستان کے ٹاپ ٹی وی اینکرز کی خدمات حاصل کرنا شروع کیں۔ ان اینکرز کو ہر مہینے دسیوں ملین کی پیش کش کی گئی تھی.

    جینیفر روز مزید لکھتی ہیں، یہ الزامات فوری طور پر سامنے آنے لگے کہ آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل (ر) ظہیر الاسلام ذاتی طور پر بڑے نام کے اینکرز کو بول ٹی وی میں شامل ہونے کے لیے بلا رہے تھے اور یہ چینل پاکستانی فوج کا ترجمان بننے جا رہا تھا جو ادارتی طور پر پاکستان کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے جا رہا تھا جس میں پاکستانی بھی شامل تھے جو لبرل، تنقیدی اور سیاست میں فوج کے کردار پر سوال اٹھاتے تھے۔

    خیال رہے کہ نیویارک ٹائمز کے ایوارڈ یافتہ پاکستانی نامہ نگار ڈیکلن واش نے ایک بڑی خبر شائع کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بول اور ایگزیکٹ کا سارا آپریشن مجرمانہ آمدنی پر مبنی تھا جو امریکہ، برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں صارفین کو فحش اور جعلی ڈگریوں کی دھوکہ دہی اور مجرمانہ فروخت کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔ پاکستان کو ہلا کر رکھ دینے والی پہلی خبر 17 مئی 2015 کو ڈیکلن والش نے نیویارک ٹائمز میں شائع کی تھی. "جعلی ڈپلومہ، حقیقی نقد: پاکستانی کمپنی ایگزیکٹ ملینز، پاکستانی کمپنی ایگزیکٹ نے لاکھوں روپے حاصل کیے۔ اس کے بعد 18 مئی 2015 کو "ایگزیکٹ، جعلی ڈپلومہ کمپنی، پاکستانی بلاگرز کو دھمکیاں دے رہی ہے جو اس کے خرچ پر ہنستے ہیں”۔ 19 مئی 2015 کو صبا امتیاز اور ڈیکلن والش کی "پاکستانی تفتیش کاروں نے ایگزیکٹ، جعلی ڈپلومہ کمپنی کے دفاتر پر چھاپہ مارا”۔ 20 مئی 2015 کو ڈیکلن والش کی کتاب "بگ منی، فونی ڈپلومہ: رپورٹرز نوٹ بک” اور 20 مئی 2015 کو نیو یارک ٹائمز کے اداریہ "جعلی ڈگریوں کی بڑھتی ہوئی لہر” شائع ہوئی۔

    خیال رہے کہ نیو یارک ٹائمز کی اس کوریج نے سنگین مجرمانہ طرز عمل کی نوعیت کی وجہ سے دنیا بھر میں دلچسپی حاصل کی تھی۔ 22 مئی، 2015 کو، ڈیکلن واش نے نیو یارک ٹائمز کے لئے رپورٹ کیا کہ "پاکستان جعلی ڈپلومہ کی تحقیقات کو وسیع کرتا ہے”۔ 23 مئی 2015 کو نیو یارک ٹائمز میں صبا امتیاز کی جانب سے "پاکستانی صحافیوں نے جعلی ڈپلومہ کمپنی ایگزیکٹ سے تعلقات منقطع کرنے کے لیے استعفیٰ دے دیا” اور 27 مئی 2015 کو صبا امتیاز اور ڈیکلن والش کی جانب سے "جعلی ڈپلومہ اسکینڈل میں پاکستان میں گرفتار ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو” کی تحریر کی گئی۔ شعیب شیخ کو پاکستان کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستان کو بتایا تھا کہ شعیب شیخ نے ایگزیکٹ کے ذریعے اس کے شہریوں کو دھوکہ دیا ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ شعیب شیخ کے ساتھ کیا ہوا اور انہیں پاکستانی فوج نے کس طرح تحفظ فراہم کیا، یہ ایک اور کہانی ہے۔

    واضح رہے کہ شہریار ارشد چشتی اور سمیر ارشد چشتی کون ہیں اور انہوں نے ایسی مشکوک کمپنی کیوں خریدی ہے اس سے مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ ان بھائیوں کے پیچھے کون ہے اور اگر ان کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے تو ان بھائیوں کو میڈیا کے بیانیے کو کنٹرول کرنے کی ضرورت کیوں ہے، خاص طور پر جب پاکستان میں زیادہ تر کاروباری افراد نے اس طرح کی گندی تاریخ والے چینل کو خریدنے کے لئے رابطہ کیا تو یہ معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بول ٹی وی کے آغاز کے پیچھے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام کا ہاتھ تھا جو انسانی حقوق کے کارکنوں اور فوج کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف موت کی مہم چلاتا تھا۔

    شہریار ارشد چشتی نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ کراچی الیکٹرک (کے الیکٹرک) کے اکثریتی شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جو اس کے تجارتی مرکز کراچی میں پاکستان کا سب سے بڑا بجلی فراہم کنندہ ہے اور اس کے فورا بعد انہوں نے شعیب شیخ کے ساتھ ایک غلط معاہدے میں چینل کو سنبھال لیا۔ کے الیکٹرک پر ان کی ملکیت پر دنیا بھر کی عدالتوں میں شدید تنازعہ چل رہا ہے اور ایک اخبار نے باوثوق طور پر رپورٹ کیا ہے کہ ان کے پاس صرف 5.1 فیصد ملکیت ہے جس کی وجہ سے ان کے دعووں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن اسمبلی کیپٹن (ر) جمیل نے چشتی کی جانب سے بول ٹی وی کے سی ای او کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ چینل کے سابق صدر سمیع ابراہیم نے بھی ٹوئٹر پر اس بات کی تصدیق کی کہ چینل کو فوج کی جانب سے ادارتی پوزیشن پر دباؤ میں آنے کے بعد فروخت کیا گیا ہے جو اب فوج کی پسندیدہ جماعت نہیں رہی اور فوج کو اس بات پر غصہ ہے کہ اس کی اپنی تخلیق بول اور ایگزیکٹ نے اس کے خالق کی آنکھوں میں گھورنا شروع کر دیا ہے جو جرائم پیشہ اداروں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی حد تک گئے تھے۔ اور ممکنہ صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے ایگزیکٹ نے فرضی ویب سائٹس کا ایک نیٹ ورک قائم کیا تھا جس میں مبینہ طور پر ‘پروفیسرز’ اور ‘طالب علم’ شامل تھے جو حقیقت میں معاوضہ لینے والے اداکار تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس تنظیم کا تعلق فحش صنعت سے بھی تھا۔

    1997 میں کراچی میں صرف دس ملازمین کے ساتھ قائم ہونے والی ایگزیکٹ کی دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کو اعلی درجے کی نفاست اور وسیع آپریشنل فریم ورک کے ساتھ انجام دیا گیا تھا۔ کمپنی نے ویب سائٹس اور ڈومین ناموں کے متنوع پورٹ فولیو کا استعمال کیا ، جو مہارت سے قائم یونیورسٹیوں اور کالجوں کی نقل کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ گمراہ کن ویب سائٹس اکثر معتبر اداروں سے مشابہت رکھتی ہیں، جو اچھی طرح سے قائم اداروں کی یاد دلانے والے ناموں سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان جعلی آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ایگزیکٹ نے تعلیمی پروگراموں کی ایک وسیع رینج پیش کی۔ ایگزیکٹ نے جن طریقوں سے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا ان میں ان کی فیس بک نیوز فیڈز کو ان کی جعلی یونیورسٹیوں کی تشہیر کرنے والے اشتہارات کے ساتھ شامل کرنے کا ایک حربہ شامل تھا ، جن میں سے بہت سے مبینہ طور پر "پیشہ ورانہ آن لائن کورسز” پیش کرتے تھے۔

    دی امریکن رپورٹر کے مطابق 2015 میں بول کا آغاز نیویارک ٹائمز کے انکشاف اور کمپنی کے آپریشنز کے مرکزی کردار، سی ای او اور چیئرمین شعیب شیخ کی گرفتاری کے بعد رک گیا تھا، لیکن ابتدائی قانونی پیچیدگیوں کے باوجود، بااثر فوجی حلقوں میں شعیب شیخ کے رابطوں نے ان کی ضمانت پر رہائی اور اس کے بعد ٹی وی چینل کے آغاز میں مدد کی۔ ایگزیکٹ کی کثیر الجہتی غیر قانونی کوششوں کے بارے میں مزید تحقیقات کی گئیں، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے تحقیقات کیں۔ تحقیقات کے نتیجے میں کراچی میں ایگزیکٹ کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے، جس میں جعلی ڈگریوں اور امریکی حکومت کے جعلی لیٹر ہیڈز کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ اپریل 2016 میں جاری ہونے والی ایک جامع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسکینڈل کا دائرہ ابتدائی تخمینوں سے تجاوز کر گیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایگزیکٹ نے 197 ممالک میں 215،000 سے زائد افراد سے غیر قانونی طور پر فنڈز حاصل کیے۔ نتیجتا ، 2018 میں ، سی ای او شعیب شیخ اور 22 شریک سازشکاروں کو اہم قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑا ، 20 سال قید کی سزا پائی تھی.

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں اپنے دور میں شعیب شیخ کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ دیا گیا۔ ایجنسی کے پراسیکیوٹر نے شیخ کے خلاف مضبوط کیس بنانے میں اہم کردار ادا کیا، انہیں دھمکیوں اور یہاں تک کہ مشتبہ انٹیلی جنس اہلکاروں کی طرف سے ان کی رہائش گاہ پر مسلح حملے کا سامنا کرنا پڑا اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے شعیب شیخ کو انصاف سے بچنے میں مدد کی۔ نتیجتا پراسیکیوٹر زاہد جمیل نے ایک اہم موقع پر کیس سے دستبرداری اختیار کرلی جس کے نتیجے میں شعیب شیخ کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ اس معاملے میں شامل ایک جج نے شیخ کی رہائی کے لیے کروڑوں روپے کی رشوت لینے کا اعتراف کیا تھا۔ 2017 میں جب یہ انکشاف سامنے آیا کہ جج کو سزا نہ دینے کے لیے ادائیگی کی گئی تو شعیب شیخ نے 2016 میں بول ٹی وی نیٹ ورک شروع کر دیا تھا، جس سے وہ نسبتا اچھوت ہو گئے تھے۔

    یاد رہے کہ بین الاقوامی سطح پر ایگزیکٹ کے نائب صدر اور شعیب شیخ کے دائیں ہاتھ عمیر حامد کو گلوبل ڈپلومہ مل اسکیم میں ملوث ہونے پر امریکہ میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حامد کی سزا میں دنیا بھر میں لوگوں کو نشانہ بنانے والی ڈپلومہ مل ایگزیکٹ کی منصوبہ بندی شامل تھی۔ متاثرین کو مبینہ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے، حقیقی تعلیمی تجربات اور ڈگریوں کی توقع کے ساتھ پیشگی فیس ادا کرنے کے لئے دھوکہ دیا گیا تھا۔ جیل کی سزا کاٹنے کے علاوہ حامد کو 5,303,020 ڈالر کی خطیر رقم ضبط کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اتنا ہی پریشان کن سوال یہ ہے کہ ڈیکلن والش کی جانب سے ایگزیکٹ پر انکشاف کے بعد بھی شعیب شیخ کو ٹیلی ویژن چینل شروع کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ شعیب شیخ نے ایسے اینکرز کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے کھل کر فوج کی حمایت کی، پاکستان کی لبرل آوازوں پر سزائے موت سنائی۔ اشتہارات چلانے سے گریز کرنے کے باوجود چینل نے اپنے اہلکاروں کو بھاری معاوضہ اور مراعات فراہم کیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ نیویارک ٹائمز ایگزیکٹ اور بول کے فراڈ کی کوریج میں مسلسل مصروف رہا ہے۔ جب بول فوج کی مدد سے نشر ہونے کی تیاری کر رہا تھا تو اخبار نے 10 اپریل 2016 کو بول کا ایک اور انکشاف شائع کیا جس کا عنوان تھا "پاکستان سے جعلی ڈگریوں کے پیچھے، دھوکہ دہی کا ایک جال اور خطرے میں ایک کیس”۔ 18 اکتوبر 2016 ء کو سلمان مسعود کی کتاب "پاکستانی نیٹ ورک آف دی لاسٹ” اور 3 مئی 2017ء کو سلمان مسعود کی کتاب "بول ٹی وی کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا”۔

    تاہم اس کے علاوہ نیو جرسی کی ایک عدالت نے اسٹوڈنٹ نیٹ ورک ریسورسز انکارپوریٹڈ، اسٹوڈنٹ نیٹ ورک ریسورسز ایل ایل سی اور راس کوہن کے حق میں ڈیفالٹ فیصلہ بھی جاری کیا ہے، جس میں 22 مئی 2015 کو ایگزیکٹ کے خلاف تقریبا 690،000 ڈالر ہرجانہ ادا کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ ایگزیکٹ کی جانب سے ان کی تحقیقی ویب سائٹس کے خلاف دائر مقدمے کے جواب میں دائر جوابی دعووں سے اخذ کیا گیا ہے۔ جوابی دعووں نے ثبوت فراہم کیے کہ ایگزیکٹ نے ڈیجیٹل ملینیم کاپی رائٹ ایکٹ (ڈی ایم سی اے)، لینہم ایکٹ اور نیو جرسی کنزیومر فراڈ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ 2008 میں جوابی دعوے دائر ہونے کے بعد ایگزیکٹ کے قانونی مشیر نے کیس سے دستبرداری اختیار کرلی۔ نتیجتا عدالت نے ایگزیکٹ کی جانب سے جواب نہ دینے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیفالٹ فیصلے کے حق میں فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں ڈی ایم سی اے کی خلاف ورزیوں پر 3 00،000 ڈالر کے قانونی ہرجانے، لینہم ایکٹ کی خلاف ورزیوں کے لئے 350،000 ڈالر کے تادیبی ہرجانے، کنزیومر فراڈ ایکٹ کی خلاف ورزیوں کے لئے 2،529.75 ڈالر ہرجانہ اور ایگزیکٹ کو مدعا علیہان کی قانونی فیس کا احاطہ کرنے کا حکم شامل ہے، جو 36،720.40 ڈالر ہے۔

    جبکہ یہ نتائج مالیاتی ریکارڈ، کمپنی کی رجسٹریشن، حلفی شہادتوں، پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان رابطوں اور عدالت میں جمع کرائی گئی وسیع فون کال ریکارڈنگ پر مبنی ہیں۔ ایگزیکٹ سے متعلق دستاویزات میں برٹش ورجن آئی لینڈز، قبرص، دبئی اور پاناما جیسے مقامات پر اضافی شیل کمپنیوں کی ملکیت ظاہر ہوتی ہے۔ ایک امریکی عدالت نے ایگزیکٹ سے وابستہ امریکی شیل کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کردیے تاکہ 2012 میں عائد کیے گئے 2.30 ارب روپے کے جرمانے کی وصولی کی کوشش کی جا سکے۔ یہ جرمانہ ایگزیکٹ کی جانب سے مشی گن میں 30 ہزار طالب علموں کو جعلی ڈگریاں جاری کرنے کی وجہ سے عائد کیا گیا تھا۔ عدالت کے اقدامات ایگزیکٹ کی ڈگریوں اور آف شور آپریشنز کی جعلی نوعیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ بلاگر کے مطابق کینیڈا کے قومی نشریاتی ادارے سی بی سی کی جانب سے 2017 میں کی جانے والی ایک وسیع تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینیڈا میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد پیشہ ور افراد کے پاس پاکستان کی آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریاں ہیں جن میں سے 800 سے زائد افراد کی شناخت جعلی ڈگریوں کے حامل ہے جن میں سے زیادہ تر ایگزیکٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی حکام نے پاکستانی حکام کو ایف بی آئی کی جانب سے ایگزیکٹ کی شناخت ڈپلومہ مل کے طور پر کرنے کے بارے میں مطلع کیا ہے جو شیل کمپنیوں اور ساتھیوں کے عالمی نیٹ ورک میں ملوث ہے۔ ڈیلاویئر میں رجسٹرڈ تین آف شور کمپنیوں کے مالک کی شناخت شعیب شیخ کے نام سے ہوئی ہے جنہیں "غیر قانونی آمدنی” پاکستان منتقل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    19 ستمبر کو کراچی کے نوجوان سڑکوں پر نکلیں. حافظ نعیم الرحمان
    شیخ رشید کی پوری عوامی مسلم لیگ گرفتار ہو گئی
    نواز شریف دشمنی کی سوچ اصل میں پاکستان اور عوام دشمنی کی سوچ ہے،مریم نواز
    نیا آپریٹنگ سسٹم کل سے آئی فون صارفین کیلئے دستیاب ہوگا

    واضح رہے کہ مزید تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ 2013 اور 2014 میں برطانیہ کے رہائشیوں کو 3,000 سے زائد جعلی ایگزیکٹ قابلیتیں فروخت کی گئیں، جن میں ماسٹر ڈگری، ڈاکٹریٹ اور پی ایچ ڈی شامل ہیں۔ بی بی سی کے نتائج کے مطابق کچھ خریداروں میں این ایچ ایس کا کلینیکل عملہ، کنسلٹنٹس، نرسیں اور طبی پیشہ ور افراد شامل ہیں جنہوں نے یہ جعلی ڈگریاں خریدی تھیں۔ اگرچہ جنرل میڈیکل کونسل (جی ایم سی) نے کہا ہے کہ آجر اضافی قابلیت کی تصدیق کے لئے ذمہ دار ہیں ، لیکن برطانیہ کے آجروں کا صرف ایک چھوٹا سا فیصد مناسب جانچ پڑتال کرتا ہے۔ پاکستان کی ایگزیکٹ کی تحقیقات کی قیادت کرنے والے ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ ایلن ایزل نے کتاب کے سب سے طویل اور دلکش حصے میں ‘کل، آج اور کل: دنیا کی سب سے بڑی ڈپلومہ مل ایگزیکٹ کا دورہ’ کے عنوان سے کتاب کا سب سے طویل اور دلکش حصہ شامل کیا ہے۔

    ایزل کے اکاؤنٹ کے مطابق ایگزیکٹ جعلی یونیورسٹیوں سے 90 لاکھ سے زائد ڈپلومہ اور ٹرانسکرپٹ فروخت کرنے کا ذمہ دار تھا، جن میں سے زیادہ تر نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ وہ ‘امریکی’ ہیں۔ ان دھوکے باز اداروں کو "یونیورسٹی آف اٹلانٹا”، "المیڈا یونیورسٹی”، "بیلفورڈ یونیورسٹی” (جو اسی طرح فرضی "بیلفورڈ ہائی اسکول” سے تیار ہوا، جس میں ٹرانسکرپٹ اور ہائی اسکول ڈپلومہ پیش کیا گیا) اور "گیٹس ویل یونیورسٹی” جیسے نام تھے۔ اور ستم ظریفی واضح ہے کہ ایک آئی ٹی کمپنی سے وابستہ ایک ٹیلی ویژن نیٹ ورک فحش مواد اور جعلی ڈگریوں کے مشکوک لین دین میں پھنسا ہوا ہے۔ چشتی برادران کو اپنا نیٹ ورک فروخت کر کے شعیب شیخ اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے ادا کی جانے والی نئی رقم سے اپنے ہاتھ صاف کر رہا ہے اور سوال کرتا ہے کہ چشتی اس طرح کا نیٹ ورک کیوں خریدے گا اور ان کے فنڈز کا ذریعہ اور ان کے حامیوں کے نام کیا ہوں گے۔ شاید بول کے پیچھے موجود اصل ادارے اس امید میں اسے ایک مختلف چہرے کے ساتھ دوبارہ لانچ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا کرنے سے اس کے مخدوش اور مجرمانہ ماضی کو بھلایا جا سکتا ہے۔ شاید یہ نئے قومی انتخابات سے قبل پاکستان کے بازنطینی طریقوں میں ایک نیا بیانیہ اسپنر ڈالنے کا طریقہ کار ہے جبکہ شہریار ارشد چشتی اور سمیر ارشد چشتی کو اپنے کاروباری ہتھکنڈوں کا جواز پیش کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔

  • بریکنگ؛ شیخ رشید پنڈی سے گرفتار

    بریکنگ؛ شیخ رشید پنڈی سے گرفتار

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شیخ رشید کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا جبکہ شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق کی شیخ رشید کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے۔

    جبکہ وکیل سردار عبدالرازق خان کے مطابق شیخ رشید کے دو بھتیجوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے اور ان کا کہنا تھاکہ شیخ رشیدکو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے گرفتار کیا ہے علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کے خلاف پنجاب میں کوئی مقدمہ درج نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر10 مئی کوپی ٹی آئی نےریلی نکالی تھی، احتجاجی ریلی کےخلاف تھانہ کوہسارمیں مقدمہ درج کیاگیا اور مقدمے میں شیخ رشید کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نواز شریف دشمنی کی سوچ اصل میں پاکستان اور عوام دشمنی کی سوچ ہے،مریم نواز
    نیا آپریٹنگ سسٹم کل سے آئی فون صارفین کیلئے دستیاب ہوگا
    خیال رہے کہ وکیل شیخ رشید کے مطابق ابھی تک کوئی معلومات نہیں شیخ رشید کو کہاں لے گئے ہیں؟ ان تک رسائی کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • بغیر پروٹوکول قاضی فائز عیسی پہنچے  حلف اٹھانے

    بغیر پروٹوکول قاضی فائز عیسی پہنچے حلف اٹھانے

    بغیر پروٹوکول کے نئے چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ قاضی فائز عیسی حلف اٹھانے کیلئے پہنچے ہیں جسے سوشل میڈیا پر کافی سراہا جارہا ہے اور صارفین کہہ رہے ہیں کہ کیا اب پاکستان جیسے غریب ملک میں پروٹوکول کلچر ختم ہوجائے گا.

    https://x.com/MalikRamzanIsra/status/1703396601538986476
    جبکہ خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ سرینا عیسیٰ کو برابر میں کھڑا کر کے حلف اُٹھایا ہے اور آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے.

    خیال رہے کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ان کے عہدے کا حلف لیا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ سرینا عیسیٰ کو برابر میں کھڑا کر کے حلف اُٹھایا، حلف برداری کے آغاز سے پہلے جسٹس قاضی فائز نے اہلیہ سرینا عیسیٰ کو بُلایا اور اپنے ساتھ کھڑا کیا جبکہ سرینا عیسیٰ حلف برداری مکمل ہونے تک ان کے ساتھ موجود رہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نواز شریف دشمنی کی سوچ اصل میں پاکستان اور عوام دشمنی کی سوچ ہے،مریم نواز
    نیا آپریٹنگ سسٹم کل سے آئی فون صارفین کیلئے دستیاب ہوگا
    لیبیا:سیلاب کے بعد لاشیں نکالنے والی ٹیموں کا ہولناک سانحہ کا انکشاف
    یاد رہے کہ حلف لینے والے صدر عارف علوی نے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس بھیجا تھا اور چار سال قبل صدر نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت جو ریفرنس بھیجا تھا اس میں سرینا عیسیٰ کو بھی انکوائریز میں پیش ہونا پڑا تھا۔

  • میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال آبدیدہ ہو گئے

    میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال آبدیدہ ہو گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ افسران و اسٹاف کیساتھ الوداعی خطاب کیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دوران خطاب آبدیدہ ہوگئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےخود کو ڈوبتے سورج سے تشبیہ دی اور کہا کہ آپ کیساتھ بطور سپریم کورٹ جج نو سال بڑے اچھے گزرے۔ میری حالت اب ڈوبتے سورج جیسی ہے۔ آپ لوگوں کا ابھی وقت پڑا ہے۔ آپ سب اپنی بھر پور لگن سے کام کریں۔ ملک کو معاشی و دیگر چیلیجز کا سامنا ہے۔ جب سب اکھٹے ہونگے تو یہ بحران نہیں رہے گا،میں جانتا ہوں آنے والا دور آپ کیلئے مشکل ہو گا،آپ سب نے صبر و تحمل سے اپنا کام کرنا ہے، آپ سب کے تعاون کا بہت بہت شکریہ۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال اپنی 65 سالہ آئینی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ہفتہ کے روزاپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے، جسٹس عمر عطا بندیال نے دو فروری 2022 کو سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 3فروری 2022 کو پاکستان کے 28 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا تھا،عمر عطا بندیال نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقریباً 19 ماہ اور14 روز تک خدمات انجام دیں ،

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی