Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پرویز الٰہی کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کرلیا

    پرویز الٰہی کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کرلیا

    پرویز الٰہی کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کرلیا

    پرویز الہی عدالت پیش کیا گیا، پیشی پر میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی،جوڈیشل کمپلیکس کے باہر صحافیوں کو اندر آنے سے روک دیا گیا ،کس نے کیوں پابندی لگائی ؟ جوڈیشل کمپلیکس حکام بتانے سے قاصرتھے، پولیس حکام کا کہنا تھا کہ احکامات ہیں ،کسی کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت نہیں ، پرویز الہی کا 1 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کر لیا گیا،اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے کل لاہور کی متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    اینٹی کرپشن حکام چوہدری پرویز الہٰی کا ایک روزا راہداری ریمانڈ لے کر لاہور روانہ ہو گئے

    پرویز الٰہی نے مالی مفاد کیلئے عہدے اور دفتر کا ناجائز استعمال کیا،ترجمان اینٹی کرپشن
    ترجمان اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کو راولپنڈی سے لاہور ماسٹر پلان کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا م پرویز الٰہی نے لاہورماسٹر پلان منصوبے میں مالی فوائد کیلئے جعلسازی کی، پرویز الٰہی نے ماسٹر پلان میں رد و بدل کر کے اپنی زمینیں لاہورمیں شامل کرنے کی کوشش کی، لاہورماسٹر پلان میں رد و بدل کیلئے کنسلٹنٹ فرم کی جعلی مہریں اور مونوگرام استعمال ہوا کنسلٹنٹ کے ترتیب دیے گئے ماسٹر پلان میں جعلی کاغذات کا اضافہ کیا گیا ،زرعی زمین کو کمرشل اور رہائشی میں تبدیل کر کے اربوں روپے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی،پرویز الٰہی نے مالی مفاد کیلئے عہدے اور دفتر کا ناجائز استعمال کیا، پرویز الٰہی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے متعلقہ افسران سے منصوبے کی منظوری کرائی،

    پرویز الٰہی کو کل انسداد دہشت گردی عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات نے پرویز الٰہی کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، آج پرویز الٰہی کو دوسرے کیس میں اینٹی کرپشن نے گرفتار کر لیا ہے،اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی کے خلاف اینٹی کرپشن میں 4 مقدمات ہیں

    دوسری جانب سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی نے اڈیالہ جیل میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے درخواست دائر کر دی،دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواستگزار سابق وزیر اعلی پنچاب،سابق سپیکر پنجاب اسمبلی اور سینئر سیاستدان ہیں، درخواستگزار کو یکم ستمبر کو لاہور سے اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا،جیل قوانین کے مطابق درخواستگزار جیل میں بہتر کلاس اور سہولیات کا حقدار ہے درخواستگزار کے ساتھ غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک رکھا جا رہا ہے،درخواستگزار کو ایسے سیل میں رکھا گیا جہاں وینٹیلیشن کا کوئی ذریعہ نہیں،ملزم کے سیل کے باہر ہوا اور وینٹیلیشن کو روکنے کیلئے بدنیتی سے دیوار کھڑی کی گئی ہے،درخواستگزار 77سالہ عارضہ قلب میں مبتلا ملزم ہے،درخواستگزار کے پاس عدالت کا آئینی دائر اختیار استعمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،عدالت درخوستگزار کو جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کا حکم جاری کرے،عدالت درخواستگزار کے سیل کے باہر سے دیوار ہٹانے کا حکم دے پرویز الہی کی جانب سے درخواست سردار عبدالرازق نے دائر کی

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • نیب ترامیم کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب اجلاس طلب

    نیب ترامیم کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب اجلاس طلب

    نیب ترامیم کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب اجلاس طلب کر لیا گیا

    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے نیب کا اہم اجلاس پیر کو طلب کرلیا ،چیئرمین نیب پیر کے روز نیب ہیڈکوارٹرز میں اہم اجلاس کی صدارت کریں گے ،نیب نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اکبر تارڑ کو قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل تعینات کردیا ،پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر کے مستعفی ہونے کے بعد یہ عہدہ خالی ہوا تھا

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب ترامیم سے مستفید ہونے والے تمام سیاسی قائدین کے کیسز بحال ہوگئے ، نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانے والے عوامی عہدیداروں کے مقدمات اور انکوائریاں دوبارہ کھل گئیں سپریم کورٹ نے نیب کو 7 روز کے اندر کرپشن کے تمام کسیز کھولنے کے احکامات جاری کیے ،فیصلے کے بعد نیب نے تاحال کوئی مقدمہ بحال کیا نہ ہی کسی انکوائری کو دوبارہ شروع کیا

    نیب ترامیم فیصلے کے بعد نیب حکام کو پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کے فیصلے کا انتظار
    سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد نیب کیا کرے گی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ،سپریم کورٹ کے نیب ترامیم کے فیصلے کے بعد نیب کو ایک اور بڑے فیصلے کا انتظار ہے،نیب حکام اس وقت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے کا انتظار کرہے ہیں ، نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس لارجر بینچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کررکھا ہے نیب حکام سمجھتے ہیں اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بحال ہوتا ہے تو نیب ترامیم کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے بھی اپنے اختلافی نوٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا ذکر کیا،جسٹس منصور علی شاہ کا بھی موقف تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد تین رکنی بینچ نیب ترامیم کیس کی سماعت نہیں کرسکتا

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

  • سائفر کیس،عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس،عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان نے عدالت سے ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی، عمران خان کی جانب سے انکے وکیل بیرسٹر سلمان صفدرنے درخواست ضمانت دائر کی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا ، چودہ ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی، خصوصی عدالت نے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو بدنیتی سے اس من گھڑت مقدمے میں نامزد کیا گیا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کردی تھی

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے. جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ

    پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے. جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ

    پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے پارلیمنٹ ہی قانون کو کالعدم کرسکتی کیس میں سوال غیر قانونی ترامیم کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا تھا نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست مسترد کرتا ہوں جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں مزید کہا کہ پارلیمنٹ چاہئے تو خود اس قانون کو تبدیل کرسکتی ہے.
    https://x.com/_SulimanShah_/status/1702686400682840215
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے نوٹ تحریر کیا ہے جبکہ نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے، تحریری فیصلہ 58صحفات پر مشتمل ہے اور اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس عمر عطابندیال نے تحریر کیا ہے، جب کہ فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا دو صفحات کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ میں نے گزشتہ رات اکثریتی فیصلہ پڑھا، میں اکثریتی فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا، اور نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرتا ہوں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ کیس میں بنیادی سوال نیب ترامیم کا نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی بالا دستی کا تھا، لیکن میری رائے میں اکثریتی فیصلہ یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ ریاست کے اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے۔

    اختلافی نوٹ میں تحریر ہے کہ بنیادی سوال پارلیمانی جمہوریت میں آئین کی اہمیت اور ریاست کے اختیارات کی تقسیم کا ہے، اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے بغیر غیر منتخب ججز کا پارلیمنٹ کے پاس کردہ قانون پر فیصلہ سازی کی حدود سے متعلق ہے، جسٹس منصور نے لکھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، پارلیمنٹ ہی اپنے بنائے ہوئے قوانین میں ترمیم یا تبدیلی کرسکتی ہے، اگر پارلیمنٹ نیب قانون بنا سکتی ہے تو اس کو واپس بھی لے سکتی ہے اور ترمیم بھی کر سکتی ہے، فیصلے میں اس بات کو نہیں پرکھا گیا کہ پارلیمنٹ نے کونسا کام غلط کیا ہے،ارکان اسمبلی کے احتساب کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار کبھی ختم نہیں ہوتا، اکثریتی فیصلہ پارلیمنٹ کے اختیارات کو سمجھنے میں ناکام رہا، اکثریتی فیصلہ آئین میں دی گئی اختیارات کی تقسیم کی مماثلث کو سمجھنے میں بھی ناکام رہا جو جمہوری نظام کی بنیاد ہے، سپریم کورٹ کے غیر منتخب ججز منتخب ارکان اسمبلی کی پالیسی کا کیسے جائزہ لے سکتے ہیں، بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے بغیر عدالت قانون سازی کا جائزہ نہیں لے سکتی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے مزید تحریر کیا کہ میری عاجزانہ رائے آئینی سکیم کیخلاف ہے، آئین کے مطابق ریاست اپنی طاقت اور اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں مزید کہنا تھا کہ وقت کی کمی کے باعث فی الحال تفصیلی وجوہات بیان نہیں کر رہا، اختلافی نوٹ کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کروں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

  • بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے،نگران وزیراعظم

    بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا، نگراں حکومت بلاخوف و خطر کارروائی کر رہی ہے کچے کے حوالے سے آپریشنل کمانڈ نے فیصلہ کرنا ہے ، 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نظام کو بحال کیا ہے، روز گار کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے ، غیر قانونی طور پر کسی کو بھی پاکستان میں قیام کی اجازت نہیں، غیر قانونی رہائشی غیر ملکیوں کو جلد ان کے ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے گا

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجلی چوری ،ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو،میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت گورننس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے ذخیرہ اندوزی، مہنگائی اورسمگلنگ کے حوالے سے صوبوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کرحکمت عملی وضع کی گئی ہے لوگوں میں یہ تاثرتھا کہ یہ ایک ہفتے یا چند دن کی مہم ہے لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ہفتے دو ہفتے کی بات نہیں ہے جو اقدامات کئے جارہے ہیں انہیں مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے متعلقہ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا کام شروع کردیا ہے پہلے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کس کا کام ہے اس رجحان کوبدلنے کی ضرورت ہے بیورو کریسی ، پولیس اورمتعلقہ ادارے مل کرکام کریں گے اور گورننس کے لئے جہاں ضرورت ہوگی فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی, سول اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا جو وقت کی ضرورت ہے سول اداروں کی استعداد کارمیں اضافے سے ان کی کارکردگی اور کردار میں بہتری آتی جائے گی

    دوسری جانب نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی ہدایت پرملک بھرمیں بجلی چوری کے خاتمہ اورواجبات کی وصولی کے لئے مہم بھرپور طریقے سے جاری ہے اور8 دنوں میں بجلی چوروں کے خلاف 5 ہزارسے زائد ایف آئی آرزدرج کرکے گرفتاریاں کی گئی ہیں اورواجبات کی وصولی1 ارب 74 کروڑ80 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے ،ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بجلی چوری اور واجبات کی وصولی کے لئے مہم کا آغاز 7 ستمبر سے کیا گیا اور پہلے 7 دنوں میں نادہندگان سے 80 کروڑ روپے کی وصولیاں ہوئیں جبکہ صرف پچھلے 2 دنوں میں یہ وصولیاں 90 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں ،اس سلسلے میں تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے جس کے تحت وہ لائن لاسز میں کمی ، واجبات کی وصولی اوربجلی کی چوری میں ملوث عناصرکے خلاف دن رات کریک ڈائون کررہی ہیں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے 

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کابینہ مختصر رکھیں گے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

  • سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا،فیصلہ کثرت رائے سے دیا گیا ،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے متعلق مختصر فیصلہ سنایا ،فیصلہ دو، ایک سے آیا ہے ،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے عمران خان کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔جب کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اختلاف کیا ،

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    بے نامی کی تعریف سے متعلق نیب ترمیم بھی کالعدم قرار دے دی گئی،آمدن سے زائد اثاثوں کی تعریف تبدیل کرنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی گئی،سپریم کورٹ نے مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ نیب پر ڈالنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ میں 53 سماعتیں ہوئیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پانچ ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے تھا کہ اہم کیس ہے، ریٹائرمنٹ سے قبل فیصلہ کروں گا

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،آصف زرداری،نوازشریف،یوسف رضا گیلانی کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس بحال
    سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سیاستدانوں کے خلاف بند ہونے والے مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس واپس بحال ہو گیا ہے ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی ریفرنس کیس بحال ہو گیا ہے، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور ریفرنس بھی بحال ہو گیا ہے

    اسلام آباد سے صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے سابق صدر آصف زرداری ، سابق وزرا اعظم نواشریف ، شاہد خاقان عباسی ، یوسف رضا گیلانی ، شہباز شریف ، راجہ پرویز اشرف ، شوکت عزیز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور دیگر کے مقدمات دوبارہ کھل جائینگے ۔

    عدالتی فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ آج پوری قوم کو مبارک ہو.عمران خان نے یہ پٹیشن فائل کی تھی پی ڈی ایم نے آتے ہی پہلے کام اپنے آپ کو این آر او دینے کا کیا تھا ،اپنے اپنے ریفرنسز اور کیسز کو بند کرنے کے لیے یہ ترامیم لائی گئی تھیں آرٹیکل 9، 14 اور 19 اے کی خلاف ورزی تھی ،سپریم کورٹ کے فیصلہ میں سیکشن 5 میں بے نامی دار کی اصل حیثیت کو بحال کر دیا گیا ہے سیکشن 9 بڑا اہم ہے جس کے سب سیکشن 5 میں آمدن سے زائد اثاثوں کی اصل شکل کو بحال کر دیا گیا یے ان کی جانب سے کوشش کی گئی تھی کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہ بنے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے؟مولانا فضل الرحمان

    آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے؟مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ علما کی لاشیں گر رہے ہیں، ہم ہر پاکستانی کے خون کو روئے ہیں،آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے،کہاں ہے امن و امان جس کے لئے قربانیاں دیں، قبائل نے گھر بار چھوڑے، میرا قبائلی علاقہ اور صوبہ جل رہا ہے، باجوڑ میں ایک ہی جلسے میں میرے73 ساتھی شہید ہوئے اور پھر حافظ حمداللہ پر مستونگ میں حملہ کر دیا گیا،

    لیاقت باغ راولپنڈی میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان سالانہ تحفظ ختم نبوت و دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف بارہ آپریشن کیے گئے قبائل نے گھربار چھوڑے، کہاں ہے امن و امان ؟ ہم نے کوئی فرقہ وارانہ جنگ نہیں لڑی، نہ کسی کا خون بہانا جائز قرار دیا ،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی محاذ پر اپنی لڑائی جاری رکھیں گے عوام نے بھی اپنی سمت ٹھیک رکھنی ہے عوام جن سے امید لگائے بیٹھے ہیں ان کے پاس حالات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو ایک منصوبہ بندی کے تحت دلدل میں دھکیلا گیا ،آج سٹیٹ بینک پاکستان کی کابینہ کو جوابدہ نہیں، پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں،کسی کمیٹی کو جواب دہ نہیں، اس ملک میں ایسے فیصلے کئے گئے، سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اختیار حکومت کے پاس نہیں رہا، وہ کہتے ہیں ٹیکس لگاؤ،دنیا کا کوئی ملک مدد کو تیار نہیں اگر انکی مرضی کے مطابق کام نہ کیا، انکی مرضی کے مطابق بجٹ تیار کرنا ہوتا ہے، کہاں ہے آذادی،ہم شکنجے میں آ چکے ہیں پاکستان کا مذہبی تشخص ختم کر دیا گیا ہے ان حالات سے نکلنا ہے کہ نہیں یہ سوال اہم ہے.

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن

    سپریم کورٹ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آج آٹھ مقدمات کی سماعت کی

    چیف جسٹس کے ساتھ بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل تھیں ،مقدمات میں پیش ہونے والے وکلا نے چیف جسٹس کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا شکریہ، میں بھی آپ کیلئے دعا گو ہوں ، اللہ تعالیٰ کا شکریہ جس نے مجھے موقع دیا،میڈیا نے مجھے متحرک رکھا، میڈیا کی تنقید کو بھی ویلکم کرتا ہوں،عدالتی فیصلوں پر تنقید ضرور کریں، جج پر تنقید کریں تو یقینی بنائیں وہ سچے حقائق پر مبنی ہو، بارز کی جانب ملنے والے تعاون پر شکر گزار ہوں ،اللہ کی خوشنودی کو ذہن میں رکھ کر کام کیا، کالے کوٹ کا ہمیشہ بار سے تعلق رہتا ہے، وکلا سے اب ان شا اللہ بار روم میں ملاقات ہو گی،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کل 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے،نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • عمران خان کی بیٹوں سے بات نہیں کروا سکتے،جیل حکام کا انکار

    عمران خان کی بیٹوں سے بات نہیں کروا سکتے،جیل حکام کا انکار

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فون یا واٹس ایپ پر گفتگو کروانے کا معاملہ ،جیل حکام نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے سے انکار کردیا

    اٹک جیل سپرنٹینڈنٹ نے توہین عدالت درخواست میں جواب جمع کرا دیا ،جواب میں کہا گیا ہے کہ جیل رولز اجازت نہیں دیتے اس لئے ٹیلی فونک گفتگو نہیں کرا سکتے ،عدالت نے اٹک جیل سپریڈنٹ کے جواب 18 ستمبر کو دلائل طلب کر لیے ،کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی ،عدالت نے کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ عمران خان اٹک جیل میں ہیں عدالت نے انکا سائفر کیس میں چودہ دن کا ریمانڈ دیا،عمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کی تھی تا ہم جیل حکام نے بات نہیں کروائی جس پر عمران خان نے دوبارہ درخواست دی، عدالت نے دوبارہ بات کروانے کا حکم دیا، آج جیل حکام نے عدالت میں جواب جمع کروایا ہے،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد عمران خان جنکو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا وہ جوڈیشیل ریمانڈ پر تھے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • مستونگ، دھماکے میں جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ زخمی

    مستونگ، دھماکے میں جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ زخمی

    مستونگ میں گاڑی کے قریب دھماکا ہوا ہے

    دھماکے کے نتیجے میں جمیعت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ زخمی ہو گئے ہیں، حافظ حمداللہ کے ہمراہ دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں

    مستونگ میں جے یو آئی کے رہنماء حافظ حمد اللہ کے قافلے کے قریب بم دھماکہ ہوا ہے،دھماکے میں حافظ حمد اللہ کے زخمی ہو گئے ہیں، پولیس موقع پر پہنچ گئی پولیس حکام کے مطابق دھماکہ چوٹو کے علاقے میں ہوا ہے جائے وقوعہ مستونگ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،حافظ حمد اللہ ساتھیوں کے ہمراہ منگوچر جارہے تھے، ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے میں 7 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، حافظ حمداللہ معمولی زخمی ہیں، انکی تصویر سامنے آئی ہے، اطلاعات کے مطابق مبینہ خود کش حملہ آور حافظ حمداللہ کی گاڑی کی ساتھ ٹکرایا ہے جو موٹر سائیکل پر سوار تھا

    hamdullh akhmi

    وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ نے امستونگ دھماکے میں جمیعت علماء اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ سمیت دیگر افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ جمیعت علماء اسلام کے رہنما پر حملہ ایک بزدلانہ فعل ہے جس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتا ہوں.مجھ سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے،نگران وزیرِ اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی.

    دہشت گردی میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔مولانا فضل الرحمان
    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حافظ حمداللہ پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، مولانا فضل الرحمان نے حافظ حمداللہ سمیت دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاء کی اور کہا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ صوبائی نگران حکومت اس افسوس ناک واقعہ کے زمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ مجےیوآئی کے قائدین پر انتخابات سے قبل اس طرح کے حملے کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔

    نگران وزیر داخلہ بلوچستان میر محمد زبیر جمالی نے جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء حافظ حمد اللہ پر دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمّت کی ہے،وزیر داخلہ نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ نگراں وزیر داخلہ بلوچستان میر محمد زبیر جمالی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ واقعہ کے زخمیوں کو امدادی کارروائیوں میں مدد کرے ،وزیر داخلہ نے حافظ حمد اللہ سمیت واقعہ کے زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی اور کہا کہ واقعہ افسوسناک ہے۔دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔

    دہشت گرد ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،نگران وزیر داخلہ
    نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے مستونگ میں رہنما جے یو آئی ایف حافظ حمداللہ پر حملے کی شدید مذمت کی اور حافظ حمداللہ اور دیگر زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کی دعا کی،نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،

    ہماری امن پالیسی کو کمزوری سمجھا جارہا ہے،مولانا عبدالغفورحیدری
    جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ پر حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہماری امن پالیسی کو کمزوری سمجھا جارہا ہے ۔جمعیت علماء اسلام کی قیادت وکارکنان کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔اس سے پہلے مستونگ میں مجھ پر بھی حملہ ہوا۔ ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں تو ریاست بھی ہماری حفاظت کرے ۔جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ پر امن سیاسی جہدوجہد کی ہے ۔حکومت واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکے مجرموں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے ۔

    مستونگ دھماکہ، حافظ حمداللہ اور انکے ساتھیوں کی حالت بہتر ہے،ترجمان جے یو آئی
    جمعیت علماء اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے حافظ حمداللہ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حافظ حمداللہ اور انکے ساتھیوں کی حالت بہتر ہے۔ حافظ حمداللہ و دیگر زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔ حکومت اس افسوس ناک واقع کی انکوائری کرکے زمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائے ۔ باجوڑ کے بعد یہ واقعہ سیکورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔اس طرح کے بزدلانہ واقعات سے جے یوآئی کو عوام سے رابطے سے روکا نہیں جاسکتا ۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے مستونگ میں بم دھماکے کی مذمت کی، آصف علی زرداری نے دھماکے میں حافظ حمد اللہ سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی، اور کہا کہ دہشتگردی میں ملوث دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، بلاول زرداری، شیری رحمان، شرجیل میمن، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف،یوسف رضا گیلانی و دیگر نے بھی مستونگ دھماکے کی مزمت کی ہے

    ریحام خان نے لکھا کہ کوئٹہ مستونگ روڈ پر دھماکے کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا ۔ میری دعا ہے کہ اللہ حافظ حمد اللہ صاحب اور دیگر زخمیوں کو شفاء کاملہ عطا فرمائے اور ہمارے ملک کو دہشتگردی کے ناسور سے پاک کرے۔

    جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم کا کہنا ہے کہ مستونگ میں جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللہ صاحب پر قاتلانہ حملہ افسوس ناک ہے۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کو صحت عطا فرمائے اور وطن عزیز کو دہشت گردی سے محفوظ فرمائے۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے مقابلے میں موثر سٹریٹجی اپنا کر اسکا خاتمہ کریں۔

    حافظ حسین احمد سینئر رہنما جے یو آئی پاکستان کا کہنا تھا کہ حافظ حمد اللہ پر حملہ افسوسناک اور بزدلانہ ہے ،حملے میں ملوث کرداروں اور ذمہ داروں کو ظاہر کیا جائے ،جے یو آئی قیادت اور مذہبی طبقے کو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،حملہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں

    سابق وزیراعظم، ن لیگی رہنما ،شہاز شریف کا کہنا تھا کہ مستونگ میں جمیعت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمداللہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کے دھماکے میں زخمی ہونے کی افسوسناک اطلاع موصول ہوئی۔ اس بزدلانہ دہشت گرد حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ نگران حکومت سے اپیل ہے کہ حملے میں ملوث دہشتگردوں کا سراغ لگا کر انہیں جلد از جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ اللہ پاک حافظ حمداللہ سمیت تمام زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے، آمین۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے جے یو آئی کے رہنما و سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کی گاڑی پر دہشتگرانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چیئر مین سینیٹ نے حافظ حمد اللہ سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان حکومت پر زور دیا کہ ذمہ داروں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس واقعہ کی مذمت کے لئے الفاظ نہیں ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان حکومت کو امن وامان کی صورتحال یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی ہدایت کی.