Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوازکی ضمانت ضبط،گوالمنڈی کی سیاست سے آؤٹ،پاکستان میں کفیل سسٹم

    نوازکی ضمانت ضبط،گوالمنڈی کی سیاست سے آؤٹ،پاکستان میں کفیل سسٹم

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈالر روزایک ڈیڑھ روپیہ گررہا ہے،تو میں بتا دوں کہ ڈیڑھ دو ماہ بعد 250 روپے پر آئے گا، ہوا کیا ہے، پشاور کی ایک مارکیٹ کو سیل کر دیا اسکے بعد افغانستان کرنسی اوپر جانا شروع ہو گئی اور پاکستان میں روپے کی قدر بہتر ہو گئی، اگر یہی حالات رہے تو افغانستان کرنسی ٹاکیاں مارنے کے کام آئے گی، ڈالر یہاں سے خرید کر اپنے ملک لے جاتے وہاں کی معیشت مستحکم اور ہمارے ہاں روپے کی قدر گر جاتی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس کو درد ہے جس ملک کو وہ پال لے، ہم کیوں پالیں،ہم احسانوں کا بدلہ چکا رہے ہیں، اب تک پناہ گزین پاکستان میں ہیں اور وہ ہر طرح کا کام کر رہے ہیں، افغان پناہ گزینوں کے حوالہ سے ایک قانون بنا دینا چاہئے ،سعودی عرب اور یو اے ای والا اقامہ سسٹم شروع کر دیں کہ ایک پاکستانی کو کفیل بنانا پڑے گا اور وہ اسکو پے کرے گا،یہی مڈل ایسٹ میں ہوتا ہے، انکی اکانومی سٹیبل ہے اسی لئے، یہی افغان جو یہاں کہتے ہیں کہ اسلحہ لے کر پھرنا ہمارا زیورہے مڈل ایسٹ میں یہ سب زیور اتر جاتا ہے

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف حمزہ پر پابندی لگانا چاہ رہے ہیں، نواز شریف کے جو قریبی تھے انہوں نے حمزہ کو سپورٹ کیا انکو سائیڈ لائن کرنا شروع کر دیا گیا ہے، ن لیگ کو پرویزملک کی فوتگی سے بہت نقصان ہوا ، وہ ہر لیول پر قابل احترام تھے اور ہر لیول پر انکی عزت تھی،پرویزملک فوت ہوئے تو شائستہ کو الگ کر دیا پھر علی بیک ڈور پر ہو گئے، سیف الملوک کھوکھر اوپر آ گئے اور مریم نے اپنی اے ٹی ایمز کو ارد گرد کرنا شروع کر دیا، ن لیگ کو پہلے سبکی ہوئی جب لاہور مین سیٹیں ہاری،آج کی صورتحال یہ ہے کہ کل صبح لاہور الیکشن ہو جائیں تو ن لیگ ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکتی، ن لیگ خود بھی لڑے گی تو لالے پڑ جائیں گے،اسکی وجہ ن لیگ کی لڑائیاں نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف بے انتہا پاپولر ہو چکی ہے،اسکے سپورٹر کہتے ہیں کہ ایک بار تو ووٹ دینا ہے اب، یہ 2008 والی صورتحال بن چکی ہے،ن لیگ کی ابھی تک کوئی ایکٹوٹی شروع نہیں ہوئی، یہ نہیں پتہ کس سائڈ پر ہونا ہے ،پارٹی کی سینئر لیڈر شپ بھی خاموش ہے کہ کیا کرنا ہے، کدھر جائیں، ن لیگ کو باہر سے بھی اے ٹی ایم ملنا شروع ہو گئے علیم خان کے بعد، یہ قربت بہت ہو گئی ہے،حمزہ کو نواز شریف پنجاب کا وزیراعلیی کبھی نہیں بنائیں گے بلکہ اگر آئی پی پی نے کچھ سیٹیں لے لیں تو ہو سکتا ہے کہ نواز شریف علیم خان کا نام وزیراعلیٰ کے لئے دے دیں

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • وزیر اعظم 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    وزیر اعظم 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں تاکہ وہاں خواتین امن سے زندگی گزار سکیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ 18 سے 23 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بحث میں حصہ لیں گے۔وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے ہمنوا ہوں گے ،وزیر اعظم 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔وزیر اعظم اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی تنازعات پر گفتگو کریں گے۔وزیر اعظم یو این جنرل اسمبلی خطاب میں مسئلہ جموں کشمیر پر بات کریں گے۔نگران وزیراعظم موجودہ نگران حکومت کی جانب سے معاشی بحالی کے لئے کئے گئے اقدامات پر بات کریں گے۔وزیر اعظم موجودہ حکومت کی جانب سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات پر بات کریں گے۔یو این جی اے کی سائڈ لائنز پر وزیر اعظم مختلف ممالک کے نمائندگان سے ملاقاتیں کریں گے۔وزیراعظم پاکستان کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت پاکستان کی کثیر الجہتی کے فروغ لئے عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ برطانیہ میں دولت مشترکہ کی یوتھ میٹنگ اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ، اس اجلاس میں وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں اور پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو آگے لانے کے اقدامات سے آگاہ کیا، پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ نے ایران کا دو روزہ دورہ کیا ،وزیر خارجہ نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ، برطانیہ کے وزراء اور دیگر ممالک کے وزراء سے ملاقاتیں کیں اقوام متحدہ پوری دنیا میں ترقی و خوشخالی اور امن کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نگران وزیراعظم اقوام متحدہ دورے سے قبل سعودی عرب جائیں گے ؟ جس کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے سعودی عرب دورے کو حتمی شکل دی جارہی ہے، جلد تفصیلات سے آگاہ کریں گے،

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے،تحریری فیصلہ جاری

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    خصوصی عدلت کے جج ابوالحسنات نے کہا کہ ایف آئی اے نے آج اگردلائل نہ بھی دیئےتو ریکارڈ دیکھ کرفیصلہ کردوں گا-اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس میں نامزد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور اسدعمر کی ضمانت کی درخواستوں پرسماعت ہوئی،اسپیشل پراسیکیوٹرذوالفقارنقوی خصوصی عدالت کےسامن پیش ہوئے دوران سماعت ایف آئی اے پرو سیکیوٹرز نے سماعت ملتوی کرنےکی استدعا کردی، اور مؤقف پیش کیا کہ ہم نے سپریم کورٹ جانا ہے، سماعت میں وقفہ کیا جائے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب یہ لوگ مصروف ہوتے ہیں تو ہم عدالت میں موجود ہوتے ہیں، اور جب یہ فری ہوں گے تو اس وقت ہم ہائیکورٹ میں مصروف ہوں گے۔

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ پراسیکویشن فری ہوگی تو جوڈیشل کمپلیکس پہنچ جائےگی عدالت نے پراسیکیوٹر ذوالفقار کی سماعت میں وقفے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی وکلا کو درخواست ضمانت پر دلائل دینےکی ہدایت جاری کردی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے نے آج اگر دلائل نہ بھی دیئے تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کردوں گا، آج ہر صورت اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے۔

    قطر سے اسلام آباد کی پرواز میں ہنگامی صورتحال،دوحہ ائیر پورٹ پرلینڈنگ

    پراسیکوشن ذوالفقار نقوی نے عدالت سے کہا کہ ملزم شامل تفتیش ہوتے ہیں، تفتیشی کسی کے پیچھے نہیں جاتے، یہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئے، اگر یہ شامل تفتیش ہوتے تو ہوسکتا ہے یہ گناہ گار قرار دئیے جاتےعدالت نے پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس موقع تھا تو آپ نے یہ کیوں نہیں کیا؟ایف آئی آر میں تو ان کا نام بھی واضح نہیں ہے، اسدعمر کی ضمانت کو الگ اور باقی 2 کا الگ فیصلہ کرنا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بابراعوان نے پرا سیکوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بلائے تو میں آجاؤں گا۔

    چیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر وکیل سلمان صفدر کے دلائل دوبارہ شروع ہو گئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفرکیس کا مدعی وزارت داخلہ کا افسر ہے، وزارت داخلہ نے سائفرکیس ہائی جیک کیا،سائفر واشنگٹن سے بھیجا گیا جس کی وصولی وزارتِ خارجہ نے کی،چیرمین پی ٹی آئی پر سائفرکیس میں ذاتی مفادات حاصل کرنے کا الزام ہے ،چیرمین پی ٹی آئی پر سائفرکیس میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے،اعظم خان کا ذکر مقدمے میں ہے، کیا اعظم خان عدالت ہیں؟ کیا اعظم خان کی ضمانت منظور ہوئی؟ پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے کہ سائفر کا اصلی اور نقلی ورژن کیا تھا، پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی سےقومی سلامتی کو کیا نقصان ہوا،الزام لگایا گیاکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر سائفر کو اپنی تحویل میں رکھا،کیس ہے کہ سائفر غلط رکھا اور غلط استعمال کیا، ثابت کرنا پراسیکیوشن کا کام ہے ،قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے چیرمین پی ٹی آئی نے کوئی ایسا کام نہیں کیا،سایفر ہےکیا؟ بےشک کوڈڈ دستاویز ہوتا جس میں کمیونیکیشن ہوتی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ1923 تو لگتا ہی نہیں ہے چیرمین پی ٹی آئی کوئی جاسوس نہیں، سابق وزیراعظم ہیں،وکیل
    جج ابوالحسنات نے کہا کہ سائفر ہے کیا؟ اس پر ضروربات کرنی ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر ٹریننگ شدہ افراد کے پاس آتا ہے، عام انسان نہیں پڑھ سکتا،جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ خارجہ سائفر کی وصولی کرتاہے، سائفر آیا اور کہاں گیا؟ سائفرکیس یہ ہے ،سائفر کے 4 نقول آتے جن میں آرمی چیف، وزیراعظم شامل ہوتے،آج کسی کلبھوشن یادیو یا ابھینندن کا کیس نہیں سنا جارہا، سائفرکیس بہت خطرناک کیس بنایا گیا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ1923 تو لگتا ہی نہیں ہے چیرمین پی ٹی آئی کوئی جاسوس نہیں، سابق وزیراعظم ہیں،دورانِ ٹرائل معلوم ہوگا کہ سائفر پر بیان سے ملک کو بچایا گیا یا ملک دشمن قوتوں کی سہولت کاری کی،جرم دشمن ملک سے حساس معلومات شئیر کرنا ہے، سیکرٹ ایکٹ تو لاگو ہی نہیں ہوتا،ایف آئی اے سے تو کوئی امید نہیں، امید صرف عدالت سے ہے،

    جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو کیٹیگریز کی لسٹ ہے، بہت اہم بات کرنے لگا ہوں، سیکشن 5، سیکشن 3 کیا لاگو ہوتا ہے یا نہیں ؟ سائفرکیس سب اس پر ہے! اگر جرم ثابت ہوتا تو سیکشن 3 اے لاگو ہوتی ہے،سائفر وزارتِ خارجہ سے وزیراعظم کو ملا، لیکن سائفر ہے کہاں؟ وزیراعظم، ڈی جی آئی ایس آئی، آرمی چیف، وزارت خارجہ کا سائفر ڈاکیومنٹ الگ الگ ہے،

    سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ سر میں پانی پیوں؟ جج نے کہا کہ میرا تو 70 روپے کا نقصان ہوا ہے، چائے ہی نہیں پی، آپ پانی پئیے تاکہ frustration نہ ہو ، جج نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ دلائل کو جاری رکھے، ہائی کورٹ کسی کو بھیج کر ٹائم لیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفرکیس میں ملک دشمن عناصر سے کچھ بھی شئیر نہیں کیا گیا،قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اگر رات گئے بھی بیٹھنا پڑے تو کوئی نہیں گھبرائے گا،اب معلوم کرناہے سائفر کیس سیکشن 3 اے کا ہے یا سیکشن 3 بی کا،پراسیکیوشن بتائےکہ بیرون ملک کس کو چیرمین پی ٹی آئی کے سائفرپر بیان سے فائدہ ہوا،ایف آئی اے نے قانون کو توڑ مڑوڑ کر سائفر کیس بنایا جو قابل ضمانت ہے سائفر کیس تو بنایا ہی بیرون ملک طاقتور کے ساتھ معلومات شئیر کرنے پر ہے، ایسا تو کچھ بھی نہیں،سائفر کبھی منظر عام پر نہیں لیا گیا، وزیر داخلہ خود کہہ رہے ہیں کہ سائفر دفتر خارجہ میں موجود ہیں،مجھے نہیں علم تھا کہ عمران خان سائفر کیس میں گرفتار ہوگئے ہیں،عطا تارڑ کو یہ علم تھا کہ وہ گرفتار ہو گئے ہیں اور جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے،

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل ” ایف آئی آر میں ایف آئی اے نے جو سائفر کیس بنانے کی کوشش کی اس کا اہم لنک تو مسنگ ہے اعظم خان کہاں ہے ؟ ان کی تو ضمانت بھی نہیں ہوئی ؟ وہ عدالت میں بھی موجود نہیں ؟

    سائفر کیس کے مقدمے میں سب کے نام جلد بازی میں نامزد کئے گئے ،سائفر کیس کا مدعی وزارت داخلہ کا افسر ہے،وکیل عمران خان
    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سلمان صفدر نے تحریری دلائل لکھوائے سلمان صفدر نے کہا کہ تاریخ میں کسی کو سیاسی انتقام کا اتنا نشانہ نہیں بنایا جتنا چیئرمین پی ٹی آئی کو بنایا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی محب وطن پاکستانی ہیں،بطور وزیراعظم انہوں نے ملکی خود مختاری کا سوچا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 180 سے زائد کیسز درج کئے گئے ،140سے زائد کیسز چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سے قبل درج ہوئے،ایف آئی اے نے مذموم مقاصد، غلط اتھارٹی استعمال کرتے سائفر مقدمہ درج کیا، سائفر کیس کے مقدمے میں سب کے نام جلد بازی میں نامزد کئے گئے ،سائفر کیس کا مدعی وزارت داخلہ کا افسر ہے وزارت داخلہ نے سائفر کیس ہائی جیک کیا سائفر واشنگٹن سے بھیجا گیا جس کی وصولی وزارت خارجہ نے کی ،عمران خان پر سائفر کیس میں ذاتی مفادات لینے کا الزام ہے چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کیس میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے ، اگر کوئی ڈاکومنٹ اس عدالت سے یا وزیراعظم آفس سے گم ہو بھی جائے تو اس کا اسٹاف سے پوچھا جائے گا اس نے خیال کرنا ہوتا ہے وہی زمہ دار ہوتا ہے سپریم کورٹ نے رولنگ کیس میں سائفر کو اپنے فیصلے میں مکمل ڈسکس کیا لیکن کہیں نہیں کہا ایکشن لیں ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے

    وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہوئے تو بابر اعوان نے دلائل دیئے، بابر اعوان نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی رہائش گاہ پر چھاپا ماراگیا لیکن کچھ برآمد نہ ہوا، 7 وزراء اعظم کے ساتھ پولیس کیٹ واک کرتی عدالت آتی تھی ،شاہ محمود قریشی کو کل ہتھکڑی لگائی گئی، ایک زمہ دار شخص ہیں، کیا وہ بھاگ جاتے؟ شاہ محمود قریشی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت پیش کرنے کا نوٹس لیا جائے،شاہ محمود قریشی سے دورانِ جسمانی ریمانڈ کچھ برآمد نہیں ہوا، شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں رکھنا درست نہیں،شاہ محمود قریشی کے خلاف مقدمے میں کسی ثبوت کا زکر نہیں،کہیں نہیں لکھا گیاکہ شاہ محمود قریشی نے اپنی اتھارٹی کا ناجائز فائدہ اٹھایا،ریاستی ادارے متفقہ طور پر سائفر کا معاملہ قومی سلامتی کونسل میں زیر بحث لائے،قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سائفر ایک حقیقت ہے،تفتیشی افسر نے سائفر کا ڈائری نمبر لکھا بھی ہوا ہے،اسدعمر پر ایک مقدمہ ہوا کہ لاہور میں صبح سویرے کھڑے ہو کر عوام کو اکسایا، صبح سویرے اٹھنے والا الزام تو اسدعمر کے گھر والوں نے ان پر کبھی نہیں لگایا،سائفر چوری کا الزام لگایا، کیا چوری شدہ سائفر ملا کسی کو؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے سائفر وزارت خارجہ کو موصول ہوا، اعظم خان نے وصول کیا،وکیل بابراعوان نے کہا کہ تو اعظم خان ہے کہاں؟ اعظم خان کی غیر موجودگی ثبوت ہے کہ تحقیقات مکمل نہیں،

    سائفر کیس میں وکیل علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر کوئی عدالت سے دستاویز گم ہو جائے تو صرف جج کی انکوائری نہیں ہوتی، سائفر آیا، وزیر خارجہ نے مجھے بتایا تو ذمے داری ہے کہ کابینہ کو بتایا جائے،جج ابوالحسنات نے استفسار کیا جب سائفر موصول ہوا تو پھر کدھر گیا؟علی بخاری نے کہا کہ 12 دن کا شاہ محمود قریشی کا ریمانڈ دیا گیا، آج بھی جیل میں ہیں،شاہ محمود قریشی کو ہتھکڑیاں لگا کر یہاں لایا گیا تاکہ ذلیل کیا جا سکےمقدمے میں الزام ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کو اپنے پاس رکھا،سیکرٹ ایکٹ قانون 1923کے تحت سائفر اپنے پاس رکھنا جرم نہیں سیکرٹ ایکٹ 2023 میں سائفر اپنی تحویل میں رکھنا جرم ہے لیکن یہ قانون ابھی نافذ نہیں ہوا

    وزیراعظم آفس میں آئی دستاویزات سنبھالنا وزیراعظم کا نہیں پرنسپل سیکرٹری کا کام ہے،وکیل
    وکیل شعیب شاہین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس سے متعلق پراسیکیوشن کوئی دستاویزات تو پیش کرے شاہ محمود قریشی کی کوئی تقریر بھی نہیں دی، بس نام لے لیا، شاہ محمو د قریشی نے صرف پریس کانفرنس نہیں کی جس پر مقدمے میں نامزد کردیا،اگر حقائق کو تبدیل کردیا گیا تو سیکریسی کہاں گئی؟جج ابوالحسنات نے کہا کہ دو باتیں واضح کریں، سائفر وزارت خارجہ سے گیا تو کہاں ہے؟ سائفر کی کاپی وزارت خارجہ، آرمی چیف اور وزیراعظم آفس کی الگ الگ ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اگر کوئی دستاویز ملے تو اس کو سنبھالنا عملے کی ذمے داری ہے، وزیراعظم کے پاس ہزاروں فائلیں آتی ہیں، دستاویزات سنبھالنا ان کا کام نہیں ،جج ابوالحسنات نے کہا کہ سائفر وزارت خارجہ سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے پاس گیا، سننے میں آ رہا ہے سائفر گم ہو گیا، سائفر کہاں گیا؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ڈاکیو منٹ وزارت خارجہ میں ہے،سائفر کی ذمے داری وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی ہے، جج ابوالحسنات نے کہا کہ میرے سٹاف کے پا س بھی آتا ہے تو مجھے دیکھنا تو ہے ناں، شعیب شاہین نے کہا کہ وزیراعظم آفس میں آئی دستاویزات سنبھالنا وزیراعظم کا نہیں پرنسپل سیکرٹری کا کام ہے، چیئرمین پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ بیرون ملک فائدہ پہنچایا؟ کونسا ملک ہے جس فائدہ پہنچا؟اپنے ملک کا دفاع کسی ملک کو فائدہ دینا ہے یا اپنے ملک کو بچانا؟

    سائفر کیس کی بقیہ سماعت ان کیمرہ ڈیکلیئرکر دی گئی، عدالت نےغیر متعلقہ وکلا اور صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کردی، ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کی استدعا پر عدالت نے سماعت ان کیمرہ ڈیکلیئر کی

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ، فیصلہ آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے

    راولا کوٹ:مسافر وین پُل سے ٹکرا گئی، 3 مسافر جاں بحق

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں،اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنا دیا اور خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کردی۔

    گزشتہ روز 13 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر کیس کی سماعت کی،اس دوران ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم بھی اسلام آباد سےاٹک جیل پہنچی عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے 9 وکلاء بھی سماعت میں موجود تھےعدالت نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی۔

    بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن،درجنوں گرفتاریاں، ٹرانسفارمرزبھی اُتارلیے گئے

  • دورہ ترکیہ؛ آرمی چیف کی صدر اردوان سمیت وزیر دفاع، خارجہ سے ملاقاتیں

    دورہ ترکیہ؛ آرمی چیف کی صدر اردوان سمیت وزیر دفاع، خارجہ سے ملاقاتیں

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ترکیہ کے سرکاری دورے پر ترکیہ کے صدر طیب اردوان سمیت وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہے۔ ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔


    جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا اور آرمی چیف نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ترک فوج کی کوششوں کو سراہا اور ترکیہ کی مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں کے معیار کی تعریف کی۔

    علاوہ ازیں ترک رہنماؤں نے رواں سال فروری میں ترکیہ میں آنے والے زلزلے کے دوران پاکستانی آرمی انجینئرز کی پیشہ ورانہ خدمات کا بھی اعتراف کیا جبکہ اس موقع آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ مصیبت اور خوشی کے لمحات میں کھڑا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرتا رہے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی
    مولانا فضل الرحمان کا فیس بک پیج ہیک
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/

    جبکہ آرمی چیف کو وزیر دفاع اور کمانڈر ترک لینڈ فورسز نے دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں لیجن آف میرٹ سے نوازا جبکہ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات مضبوط اور برادرانہ ہیں جو ہمیشہ قائم رہیں گے، پاک فوج ترکیہ کی بَری افواج کو متعدد شعبوں میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

  • قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی

    قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سکیورٹی فراہم کردی گئی ہے اور ان کا چیف سکیورٹی آفیسر بھی مقرر کردیا گیا ہے اور چیف جسٹس عمرعطا بندیال 16 ستمبر کو ریٹائرہورہے ہیں جبکہ ان کی جگہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب سنبھالیں گے۔

    جبکہ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال آئین کے آرٹیکل 179 کے تحت 16 ستمبر 2023 کو ریٹائر ہوں گے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر کو حلف برداری کیلئے چیف جسٹس ہاؤس سے ہی روانہ ہوں گے، کیونکہ جسٹس عمر عطا بندیال دو دن پہلے ہی چیف جسٹس ہاؤس خالی کرچکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایشیا کپ؛ سری لنکا کیخلاف میچ کیلئے پاکستانی ٹیم میں تبدیلی
    ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ شدید تنقید کے زد میں
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/
    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 21 جون 2023 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دی تھی، صدر عارف علوی نے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے 3 کے تحت کی۔ جبکہ گزشتہ دنوں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اپنی الوداعی تقریر میں تعریف کی تھی.

    جبکہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے اپنی الوداعی تقریر میں کہا کہ بلاشبہ میرے بھائی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ قابل تعریف ہیں، جسٹس قاضی فائز میرے لیے بہت معتبر ہیں، صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا تھا کہ کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جارہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ ہم بھی انتظار کررہے ہیں جیسے پتا چلے گا بتادیں گے، ویسے انہوں نے آج تقریرمیں توکہا ہےکہ شاید یہ ان کا آخری خطاب ہے۔

  • صدر مملکت نے 6 نومبر کوعام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی

    صدر مملکت نے 6 نومبر کوعام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی

    صدرمملکت کی جانب سے عام انتخابات کی تاریخ کی تجویز کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کا اہم مشاورتی اجلاس کل طلب کرلیا،

    اجلاس کے وقت کا تعین تاحال نہیں کیا گیا،الیکشن کمیشن اجلاس میں صدرمملکت کے خط کا جائزہ لیاجائے گا،اجلاس میں الیکشن کمیشن کی لیگل ٹیم بریفنگ اور قانونی ماہرین رائے دیں گے،اجلاس میں چاروں ممبران سمیت متعلقہ ونگز بھی شریک ہوں گے،

    ماہرقانون راجہ خالد کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا چیف الیکشن کمشنر کا اختیار ہے،صدر کے تاریخ دینے سے آئینی بحران پیدا نہیں ہوگا کیونکہ یہ تجویزہے،تمام انتظامات کے بعد الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ وہ تاریخ کا اعلان کرے،

    صدر مملکت عارف علوی نے 6 نومبر کو عام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چيف الیکشن کمشنر ، سکندر سلطان راجہ ، کے نام خط لکھا ہے جس میں صدر مملکت نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے 9 اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا،آئین کے آرٹیکل 48(5) کے تحت صدر کا اختیار ہے کہ اسمبلی میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے، تحلیل کی تاریخ سے نوے دن کے اندر کی تاریخ مقرر کرے، آرٹیکل 48(5) کے مطابق قومی اسمبلی کیلئے عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے 89ویں دن یعنی پیر 6 نومبر 2023 کو ہونے چاہئیں،آئینی ذمہ داری پورا کرنے کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا تاکہ آئین اور اسکے حکم کو لاگو کرنے کا طریقہ وضع کیے جا سکے ، چیف الیکشن کمشنر نے جواب میں برعکس موقف اختیار کیا کہ آئین کی اسکیم اور فریم ورک کے مطابق یہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اگست میں مردم شماری کی اشاعت کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل بھی جاری ہے اور آئین کے آرٹیکل 51(5) اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 17 کے تحت یہ ایک لازمی شرط ہے ،

    صدر مملکت نے کہا کہ وفاقی وزارت قانون و انصاف بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان جیسی رائے کی حامل ہے ، چاروں صوبائی حکومتوں کا خیال ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کا مینڈیٹ ہے،وفاق کو مضبوط بنانے، صوبوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ اور غیر ضروری اخراجات سے بچنے کیلئے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات ایک ہی دن کرائے جانے پر اتفاق ہے، الیکشن کمیشن ذمہ دار ہے کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے آرٹیکل 51، 218، 219، 220 اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت طے شدہ تمام آئینی اور قانونی اقدامات کی پابندی کرے،تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آئین کی متعلقہ دفعات کے تحت صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اس بات کے پیش نظر کہ کچھ معاملات پہلے ہی زیر سماعت ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کیلئے اعلیٰ عدلیہ سے رہنمائی حاصل کرے ،

    صدر مملکت عبوری صدر ہیں، انہیں الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کروائے گا

    14 مئی کو الیکشن نہ کروانے والے تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔حامد خان

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

  • پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ملکی معشیت پر گہرے اور منفی اثرات

    پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ملکی معشیت پر گہرے اور منفی اثرات

    پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ملکی معشیت پر گہرے اور منفی اثرات

    افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان میں بلیک اکانومی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے ،افغان حکام افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے آئٹمز کی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان کسٹمز کے ساتھ غلط بیانی کرتے ہیں ، جس کا نتیجہ میں اشیا کی رپورٹ شدہ اور حقیقی قدر میں نمایاں فرق سامنے آتا ہے ،اس کے بعد یہ اشیاء پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے آتی ہیں

    ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغان درآمدات میں 67% اضافہ ہوا ، جس کی مالیت فروری 2022-23 میں 6.71 بلین امریکی ڈالر تک جا پہنچی ، جبکہ گزشتہ سال یہ درآمدات 4 بلین امریکی ڈالر تھیں ،افغان درآمد کئے جانے والی ایشیا میں مصنوعی فائبر، بجلی کا سامان، الیکٹرونکس آلات، ٹائر ٹیوب، چائے وغیرہ شامل ہیں ، اِن درآمدات میں بالترتیب 35%، 72%، 80% اور 59% اضافہ ریکارڈ ہوا ،اس درآمدات کے کثیر اضافے کی وجہ سے پاکستان میں ان اشیاء کی درآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی،مصنوعی فلیمنٹ سے بنے کپڑے کی مصنوعات میں 48%، الیکٹرونکس آلات میں 62%، ٹائرز اینڈ ربڑ میں 42%، چائے میں 51%، مشینری میں 34% جبکہ سبزی اور پھلوں کی درآمدات میں 46% کمی آئی ہے

    افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے پاکستان کی اپنی سمال اور میڈیم سکیل انڈسٹری بری طرح متاثر ہوتی ہے اور پاکستانی معیشت پر اسکے برے اثرات پڑ رہے ہیں ،افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو بھی پاکستان کی معاشی بحالی کے لیئے دنیا میں رائج انٹرنیشنل قوانین کے مطابق کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے

    آرمی چیف کا شمالی وزیرستان کا دورہ،دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کیلئے تیار رہنا ہوگا،آرمی چیف

    شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ،دو دہشت گرد جہنم واصل،ایک گرفتار

    جنوبی وزیرستان ،دہشتگردوں کاچیک پوسٹ پرحملہ،4 جوان شہید، چار دہشت گرد جہنم واصل

  • انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا واحد اختیار ہے،وزارت قانون

    انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا واحد اختیار ہے،وزارت قانون

    عام انتخابات، صدرِ پاکستان کی جانب سے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیے جانے کا امکان ؟ نگران وفاقی وزیر قانون احمد عرفان اسلم کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس کے بعد وزارت قانون کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے

    وزارت قانون کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون نے شرکت کی،اجلاس کے تمام شرکاء نے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے عزم کا اعادہ کیا، آئین کے مطابق عام انتخابات کا انعقاد اور تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن آزاد آئینی ادارہ ہے، ریاست کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی خود مختاری کا احترام کریں،حلقہ بندیاں اور الیکشن شیڈول جاری کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،

    آئین کے مطابق عام انتخابات کا انعقاد اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کا واحد اختیار ہے

    وزیر قانون و انصاف، احمد عرفان اسلم نے صوبائی وزراء قانون، کنور دلشاد (پنجاب)، محمد عمر سومرو (سندھ)، ارشد حسین شاہ (خیبر پختونخوا) امان اللہ کنرانی (بلوچستان) سے ایک میٹنگ کی، اجلاس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے آئندہ عام انتخابات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات کے دوران تمام وزراء قانون نے جمہوریت کے اصولوں کو برقرار رکھنے اور انتخابات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئین کو مجموعی طور پر پڑھا جانا چاہیے اور آئین کی کسی بھی شق کو دیگر متعلقہ دفعات کو الگ کر کے نہیں پڑھنا چاہیے۔ آئین کے مطابق عام انتخابات کا انعقاد اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کا واحد اختیار ہے۔صوبائی وزراء قانون نے اس بات پر زور دیا کہ فیڈریشن کو مضبوط بنانے، تمام وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنانے اور مختلف انتخابات کی تاریخوں پر سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے قومی خزانے پر پڑنے والے غیر ضروری مالی بوجھ سے بچنے کے لیے، عام انتخابات قومی، چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہونے چاہئیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آزاد آئینی ادارہ ہے۔ ریاست کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور حلقہ بندیوں کی حد بندی اور انتخابی شیڈول کے تعین میں اس کے اختیار کا احترام کریں۔بحث میں جمہوری طرز حکمرانی کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جمہوری اور جامع انتخابی ماحول کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

    صدر مملکت عبوری صدر ہیں، انہیں الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کروائے گا

    14 مئی کو الیکشن نہ کروانے والے تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔حامد خان

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

  • میں نے غداری کی ہے تو پھانسی دے دیں، شاہ محمود قریشی

    میں نے غداری کی ہے تو پھانسی دے دیں، شاہ محمود قریشی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں سائفر کیس، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو عدالت پہنچا دیا گیا

    شاہ محمود قریشی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا،جج اٹک جیل گئے ہوئے تھے،شاہ محمود قریشی اور عدالتی عملہ کے درمیان مکالمہ ہوا، تو عدالتی عملہ نے شاہ محمود قریشی کو آگاہ کیا کہ جج صاحب جیل سماعت کے لیے گئے ہیں ،جج صاحب سے پوچھ لیتے ہیں اگر وہ کہتے ہیں تو آپ کو حاضری لگا کر واپس بھیج دیں گے ، شاہ محمود قریشی نے پوچھا کہ جیل میں آج کیا ہے ؟ میری ضمانت کی کیس کا کیا ہوا ؟ عدالتی عملہ نے کہا کہ جیل میں آج چیئرمین پی ٹی آئی کے کیس کی سماعت ہے ، آپ کی ضمانت کی درخواست پر کل سماعت ہے ، شاہ محمود قریشی نے عدالتی عملہ سے استدعا کی کہ پلیز مجھے ٹھنڈا صاف پانی دے دیں ،

    عدالت پیشی کے موقع پر شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں بے قصور ہوں، میں سیاسی قیدی ہوں، دعا کیجئے اللہ مجھے صبر سے جبر برداشت کرنے کی ہمت دے، جج صاحب سے ایک ہی گزارش ہے کہ انصاف میں دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں ہونی چاہیئے، میں نے اس ملک سے غداری نہیں کی، موت برحق ہے، جہاں میں قید ہوں اڈیالہ میں اس سے کچھ قدم کے فاصلے پر پھانسی گھاٹ ہے ، اگر میں نے اس ملک سے غداری کی ہے تو اُس پھانسی گھاٹ پر لے جا کر مجھے لٹکا دیں میں قبول کر لوں گا،

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ایک ہی تھے اور ہیں اس میں کوئی ابہام نہیں، میں نے پاکستان کے مفادات کو اولیت دی ملک معاشی اور آئینی بحران کا شکار ہے جس کا حل شفاف انتخابات ہیں ملک مشکل میں ہے اپنے رویوں پر سب کو نظرثانی کرنی ہوگی

    واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی کو 19 اگست کو ایف آئی اے نے سائفر کیس میں اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا، اور انہیں گرفتاری کے بعد ایف آئی اے ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا تھا،

    خیال رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے،قانون کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت ان کیمرا ہو گی۔

     عمران خان کو سائفرگمشدگی کیس میں بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    گدی نشینی کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • سائفر کیس: عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

    سائفر کیس: عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کا جیل سماعت کا تحریری حکم نامہ

    دوران سماعت عدالت کی جانب سے جیل حکام کے کنڈکٹ کے حوالے سے پوچھنے پر عمران خان نے جیل حکام کے کنڈکٹ کو تسلی بخش قرار دیا اور کہا جیل میں خود کو محفوظ محسوس کرتا ہوں عمران خان نے جیل سہولیات کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں کی ایک استدعا کی کہ جیل میں تنہائی میں بشری بی بی سے ملاقات کا وقت بڑھایا جائے عدالت نے جیل سپریڈنٹ کو ہدایت کی وہ جیل مینوئل کے مطابق عمران خان کو مزید سہولیات دے سکتے ہیں تو دیں ایف آئی اے کی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کیخلاف چالان جمع کروانے کے مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے عدالت نے ایف آئی اے کو 26 ستمبر تک چالان جمع کرانے کا حکم دیا ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف سائفرکیس کی اٹک جیل میں ہوئی جس میں عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر کیس کی سماعت کی،

    اس دوران ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم بھی اسلام آباد سے اٹک جیل پہنچی عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے 9 وکلاء بھی سماعت میں موجود تھے۔عدالت نے ایف آئی اے کو 26 ستمبر تک چالان جمع کرانے کا حکم دے دیا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل حالات کو تسلی بخش قرار دیا،آج عمران خان نے جیل سماعت میں عدالت کے سامنے جیل میں مشکلات کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی،

    گزشتہ روز عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کا نوٹیفکیشن وزارت قانون نے جاری کیا تھا،خصوصی عدالت کے جج کی درخواست پر عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہوئی،عدالت نے سکیورٹی وجوہات پر سماعت جیل میں کرنے کی درخواست کی تھی حکام کا کہنا ہے کہ وزارت قانون کو سماعت اٹک جیل میں ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    واضح رہے کہ 7 ستمبر کو سفارتی سائفر گشمدگی کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی تھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی رخصت پر ہونے کے باعث سماعت ملتوی کی گئی تھی۔

    گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس سماعت کی اٹک جیل منتقلی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھاچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامرفاروق نے عمران خان کے وکیل اورایف آئی اے پراسیکیوٹرکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیاتھا۔

    وزارت قانون کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پڑھنے والے عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ٹرائل کی دوسرے صوبے منتقلی قانونی طورصرف سپریم کورٹ کرسکتی ہے۔چیف کمشنریا سیکرٹری داخلہ کا اختیارنہیں کہ وہ ٹرائل دوسرے صوبےمنتقل کریں۔

    طیارہ کے ہائیڈرولک سسٹم میں خرابی، کھیتوں میں ہنگامی لینڈنگ