Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نو مئی کے واقعات ،عمران خان 10 مقدمات میں گناہ گار قرار

    نو مئی کے واقعات ،عمران خان 10 مقدمات میں گناہ گار قرار

    سانحہ نو مئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 14 مقدمات کی تفتیش مکمل کرلی

    چیئرمین پی ٹی آئی دس نامزد مقدمات میں گنہگار قرار دے دیئے گئے،چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف مرکزی مقدمہ 96/23 کا چالان دو ہزارصفحات پرمشتمل ہے، چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف سوشل میڈیا سے متعلق چارسو سے زائد شواہد ملے،گرفتار ملزمان کے بیانات اور نشاندہی پر چئیرمین کو گنہگار قرار دیا گیا ،جناح ہاؤس حملے میں براہ راست ملوث 80 ملزمان کےبیانات میں سازش کاعنصر واضع ہوا،نو مئی کے واقعات پر براہ راست سازش کے شواہد بھی دوران تفتیش ملے،چیئرمین پی ٹی آئی کے اپنے بیانات حالات سے متضاد پائے گئے دیگر نو مقدمات میں بھی ٹھوس شواہد کی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی گنہگار قرار پائے ،چودہ مقدمات کا چالان جلد عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا ، 

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    حساس ادارے کے دفتر پر حملہ کے مقدمہ میں اہم پیش رفت

    دوسری جانب فیصل آباد نو مئی کو حساس ادارے کے دفتر پر حملہ کے مقدمہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،مقدمہ میں آ فیشل سیکرٹ ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات کا اطلاق کر دیا گیا ،مقدمہ میں پولیس نے 107,120.122.153 سمیت دیگر دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے ،تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ میں پی ٹی آ ئی چیئرمین کو نامزد کیا جا چکا ہے ،حساس ادا رے کے دفتر پر حملہ کے مقدمہ میں فر خ حبیب ،ڈاکٹر نثار جٹ ،ندیم آ فتاب سندھو نامزد ہیں ،مقدمہ میں جنید افضل ساہی ، ڈسٹر کٹ بار کے سابق صدر بلال اشرف بسرا ، سابق سیکرٹیری خرم اعجازکاہلوں بھی نامزد ہیں ،تھانہ سول لا ئن میں درج مقدمہ میں ڈسٹر کٹ بار کے سیکر ٹیری رانا ایم اے بابر خان سمیت 100 سے زائد ملزمان نامزد ہیں ،جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی طرف سے مقدمہ کی تفتیش کو مکمل کیا جا رہا ہے

  • 10دن اہم، ستمبر بنا ستمگر،2دن،2 استعفی، بشری بیگم کی دوڑیں،لمبی قید

    10دن اہم، ستمبر بنا ستمگر،2دن،2 استعفی، بشری بیگم کی دوڑیں،لمبی قید

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے خط سے عارف علوی کو ٹھنڈ نہیں پڑی، لا منسٹر کو بھی ملے ہیں، جو مرضی کر لیں، جب مرضی الیکشن کا اعلان کر دیں، نہ میں نے الیکشن لڑنا ہے اور نہ ہی الیکشن لڑنے والوں سے کوئی امید ہے، جمہوریت جمہوریت کی باتیں سنیں گے اور جمہوریت کا حسن بھی دیکھیں گے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عارف علوی نوے دن کے اندر الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر دیں،

    مریم کے لندن جانے کی خبروں کے سوال پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فتح صرف پاکستان کو کیا ہوا ہے، لندن میں کوئی گورا نہیں آ کر ملتا، ایجنسیوں کے اہلکار صرف آ کر ملتے ہوں گے، نواز شریف وہاں رہتے ہیں شہباز گئے ہیں کبھی کوئی بڑی یا حکومتی شخصیت انکو ملنے آئی، بس یہ فیملی ٹرپ ہے لوگ ادھر مری چلے جاتے ہیں اور یہ لندن چلے گئے ہیں، کچھ بندر بانٹ ہو گی، کہ واپس آنا ہے تو کس کو کیا ذمہ داری ،وزارت ملنی ہے،پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہو گا، یہ سب باتیں ہونی ہیں، ہماری قسمت ہم نے سمجھا تھا کہ 1947 میں آزادی لے لی ہے لیکن ہمارے فیصلے تو اب بھی لندن میں ہو رہے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آزادی کا ایک نشہ ہوتا ہے، جنہوں نے لی انکی نیت اچھی تھی، خواب پاک اور نیک تھے، ان خوابوں کی تعبیر میں ہم نے کھوٹ ڈالی تو انکا تو قصور نہیں،کئی فیصلے آنیوالے دنوں میں ہیں، ستمبر کا مہینہ پاکستان میں بڑا اہم ہے، عمر عطا بندیال جا رہے ہیں، وہ جانے سے پہلے کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں، کافی چیزیں غیر متوقع ہو سکتی ہیں، شیخ رشید خبروں کے مریض ہیں، وہ کوئی خبر چھوڑ دیتے اور پھر دو دن اسی پر بات ہوتی رہتی،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے وکیل ہی انکو مرواییں گے ،یہ وکیل ہی مرواتے ہیں، کبھی پیشی پر نہیں جاتے، کبھی نئے گواہان کا کہہ دیتے ہیں، وکیل اچھا وہ ہوتا ہے جو اپنے کلائنٹ کو درست سمت بتائے اور اچھا کیس لڑے،کوئی چھپائے نہیں

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل

    سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل

    چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، بدنیتی سے سائفر کیس کی سماعت کا مقام تبدیل کیا گیا،سماعت کا مقام تبدیلی کے نوٹیفکیشن کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنا تھا،ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیا گیا، آفیشل سیکرٹ کے تحت سویلینز کا ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوتا ہے،سماعت کا مقام تبدیل کرنے کے پیچھے بدنیتی ہے ،آفیشل سیکرٹ کے تحت سویلین کا ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوتا ہے ،اسلام آباد سے کسی دوسرے صوبے میں ٹرائل منتقل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کا ہے ، اسلام آباد الگ سے خود مختار علاقہ ہے ،کسی صوبے کی حدود میں نہیں آتا ، کسی بھی عدالت کی سماعت کا مقام تبدیل کرنے کا طریقہ کار قانون میں واضح ہے ،سماعت کا مقام تبدیل کرنے کیلئے متعلقہ عدالت کے جج کی رضا مندی بھی ضروری ہوتی ہے، توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں نہیں رکھا جاسکتا تھا ،اگر ٹرائل تبدیلی کرنی تھی تو ان کو ٹرائل جج سے پوچھنا تھا لیکن نہیں پوچھا گیا چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہو چکی ،چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت جوڈیشل حراست میں ہیں ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،عدالت نے وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کی وضاحت طلب کر رکھی تھی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے معلومات لے کر عدالت کو آگاہ کر دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 30 اگست کو سائفر کیس کی سماعت کیلئے عدالت اٹک جیل منتقل کی گئی تھی، یہ نوٹیفکیشن وزارت قانون نے کیا اور اسی کا ہی اختیار تھا، وزارت قانون نے این او سی جاری کیا کہ وینیو تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل ٹرائل کوئی ایسی چیز نہیں جو نہ ہوتی ہو، جیل ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہو گا اس سے متعلق بتائیں ،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ سائفر کیس کا ابھی ٹرائل نہیں ہو رہا وزارتِ قانون نے قانون کے مطابق عدالت کی منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس سے پہلے 2 ججز اسی بنیاد پر تعینات ہوتے رہے ہیں ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی اور جج راجہ جواد عباس کی تعیناتی بھی اسی طرح ہی ہوئی ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے اعتراض کیا کہ یہ کہا گیا کہ نوٹیفکیشن غیر مؤثر ہو گیا یہ نہیں کہہ سکتے غیر مؤثر کی حد تک یہ ہے کہ اگر کل دوبارہ آپ کر دیں پھر کیا ہو گا؟ یہ طے تو ہونا ہے کہ نوٹیفکیشن کس اختیار کے تحت کر سکتے ہیں؟ عدالت نے دیکھنا ہے کہ ملزم پر تشدد تو نہیں کیا جا رہا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ریمانڈ میں ملزم عدالتی تحویل میں ہوتا ہے وزارتِ قانون کا نوٹیفکیشن بد نیتی کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا، درخواست غیر مؤثر نہیں ہوئی عدالت نے طے کرنا ہے کہ نوٹیفکیشن درست تھا یا نہیں کسی کے پاس جواب ہے کہ سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کیوں قید ہیں ٹرائل کورٹ کے جج این او سی پر اٹک جیل کیوں چلے گئے؟ فاضل جج نے اپنا دماغ استعمال ہی نہیں کیا اور چلے گئے کل لانڈھی جیل کا این او سی آ جائے تو جج صاحب لانڈھی چلے جائیں گے؟

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کے وزارتِ قانون کے نوٹیفکیشن کے خلاف فیصلہ دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہماری ایک اور درخواست پر فیصلہ محفوظ ہے ہماری استدعا ہے کہ محفوظ فیصلہ سنایا جائے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے ہم مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جواب دیا کہ میں اس پر بھی آرڈر پاس کروں گا،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صدر کے پاس نہیں. نگراں وزیر اعظم

    الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صدر کے پاس نہیں. نگراں وزیر اعظم

    نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صدر کے پاس نہیں ہے، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔ آخری مرتبہ اس حوالے سے جو قانون سازی کی گئی وہ یہی تھی کہ اختیار صدر سے لے کر الیکشن کمیشن کو دے دیا جائے جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کی تاریخ پر وکلاء تحریک اور اس سے سول ان ریسٹ پیدا ہونے کے حوالے سے نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا یہ معاملہ سول انتشار کی طرف جائے گا۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی بڑی ہلچل ہوگی۔

    جبکہ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تو ہم نظر ثانی کی اپیل دائر کریں گے، قانون سازی پارلیمنٹ کا بنیادی اختیار ہے، ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن ہوگا اور سعودی ولی عہد کہ ممکنہ پاکستان آمد پر ان کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان لمبے دورانیے کے لئے پاکستان آئیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    پی آئی اے کا مالی بحران سنگین ہوگیا
    ایشیا کپ سپر فور، پاکستان 44 رنز پر 2 کھلاڑی آوٹ، بارش کی وجہ سے میچ روک دیا گیا
    تسلسل رہتا تو پاکستان جی 20 میں شامل ہوچکا ہوتا. نواز شریف
    جبکہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی چیف کی ایکسٹینشن قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ ایکسٹینشن پر تمام متعلقہ لوگوں کی رائے جان کر فیصلہ کروں گا اور انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت سےالیکشن کی تاریخ پر بات نہیں ہوئی، الیکشن میں غیرضروری تاخیر نہیں ہوگی جبکہ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ وہ معاشی بحالی کا پلان دینے والی جماعت کو ووٹ دیں گے آخر میں‌نگراں وزیراعظم نے کہا کہ فوجی بجٹ میں اضافہ ہونا چاہئے۔

  • ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، نئے عدالتی سال کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس ہوا،سپریم کورٹ میں جاری فل کورٹ ریفرنس میں 15 ججز نے شرکت کی، نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک ہوئے، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوا تمام ججز شریک ہیں ،جسٹس یحییٰ آفریدی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے ،فل کورٹ ریفرنس کی تقریب میں اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز نے شرکت کی، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کے نمائندہ اور وکلاء کی بڑی تعداد فل کورٹ تقریب میں شریک تھے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے،کیسز کم کرنے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں تاہم ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،عام سائلین کے مقدمات کے بلاتاخیر فیصلے ہونے چاہیں،اٹارنی سپریم کورٹ کو اپنی توانائیاں عام سائلین کے کیسز کو سننے میں صرف کرنی چاہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے عام سائلین کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست مقدمات غیر معمولی اور عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے معاملات میں ہونے چاہیں،بنچز کی تشکیل اور ججز تعیناتیوں کی بازگشت پارلیمان میں بھی سنی گئی،سپریم کورٹ نے متعدد مواقع پر صوابدیدی اختیارات میں شفافیت پر زور دیا ہے،کوئی وجہ نہیں کہ سپریم کورٹ اس اصول کا خود پر اطلاق نہ کرے،نئے عدالتی سال کے ساتھ ساتھ ہم جوڈیشل لیڈر شپ کی تبدیلی کے مرحلے سے بھی گزر رہے ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس عہدہ سنبھالنے کے قریب ہیں، مجھے یقین ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،سپریم کورٹ کے جوڈیشل اور انتظامی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے ،ججز کی تعیناتیاں ،بنچز کی تشکیل چیف جسٹس کرتے ہیں،یہ اختیار چیف جسٹس کو متنازعہ معاملات کے فیصلوں میں غیر متناسب کنٹرول دیتا ہے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے،آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،

    عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو زائل کریں، ہارون الرشید
    پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین ہارون الرشید نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت عظمی میں لگ بھگ 60 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں بار ہا التجاء اور یاد دہانی کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا .زیر التوا مقدمات کو سماعت کیلئے کوئی شفاف نظام وضح نہ کیا جاسکا ،کچھ عرصہ سے سپریم کورٹ میں مقدمات میں مختصر فیصلہ کرنے کی ایک نئیروش چل پڑی ہے اکثر مقدمات میں بروقت تفصیلی فیصلے جاری نہیں ہوتے یہاں تک کہ کچھ ججز ریٹائرڈ بھی ہوجاتے ہیں کچھ کیسسز میں لارجر بینچ ببنے کا حکم ہوا لیکن آج تک وہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دئے جاسکے نامزد چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ نئے اور اریجنٹ کیسسز جب فائل ہوں تو اسی ہفتہ میں فکس کئے جائیں کافی تعداد میں ایسے کیسسز صرف پہلی سماعت کے منتظر ہیں ایک عام تاثر ہے کہ چند خاص لوگوں کے مقدمات دائر ہوتے ہیں فورا لگ جاتے ہیں عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو ذائل کریں ایسا سسٹم تشکیل دیں کہ مقدمات کی فکسیشن بلا تفریق ہو،عام لوگوں کو محرومی کا احساس نہ ہو اور اس ادارہ پہ اعتماد قائم رہے بہت سے مقدمات کا فیصلہ ہوجانے کے باوجود ان کی مسل ہائے مختلف ججز کے چیمبرز میں پڑی ہیں ،ان مقدمات کے تحریری حکمنامے بھی ابھی تک نہیں آسکے ،اگر یہ اطلاع درست ہے تو میرے اس ریفرنس کو درخواست تصور کیا جائے ،وکلاء کی سپریم باڈی کو اس کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں ،امید ہے میری اس درخواست کو رجسڑار سپریم کورٹ کے ذریعہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا ،وکلاء کے اعلی ترین ادراہ کو معلومات کی رسائی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا

    ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے نئی عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور چیف جسٹس آخری مرتبہ نئے عدالتئ سال کی تقریب سے خطاب کر رہا ہوں گزشتہ سال عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی تھی تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی کوشش تھی کہ زیرالتواء مقدمات 50 ہزار سے کم ہوسکیں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں دو ہزار کی کمی ہی کر سکے،فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے ،آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا ،سخت امتحان اور ماحول کا کئی مرتبہ عدالت خود شکار بنی ،جو واقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس سے عدالتئ کارکردگی متاثر ہوئی ،تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں

    چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا میرے ساتھ برتاو بہت اچھا رہا، جہاں آزاد دماغ موجود ہوں وہاں اختلاف ہوتا ہے، میرے دائیں قاضی فائز عیسی ہیں جو بہت اچھے انسان ہیں، میری اور ان کی اپروچ الگ ہے ، صحافی معاشرے کی کان اور آنکھ ہوتے ہیں،صحافیوں سے توقع ہوتی ہے وہ درست رپورٹنگ کریں گے، جہاں پر کوئی غلطی ہوئی اسے ہم نے اگنور کیا، سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیمز فنڈ قائم کیا گیا ، ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ، اگست میں بھی فنڈز میں رقم آنے کا مطلب عوام کا سپریم کورٹ پر اعتماد ہے ، ڈیمز فنڈ کے اس وقت 18.6 ارب روپے نیشنل بنک کے ذریعے سٹیٹ بنک میں انویسٹ کیے گئے ہیں، ڈیمز فنڈ کی نگرانی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے،میرے حوالے سے میڈیا میں غلط رپورٹنگ بھی کی گئی،گڈ ٹو سی یو والے میرے جملے کو غلط رنگ دیا گیا،شارٹ اینڈ سویٹ ججمنٹ بارے آبرزویشن دی جس پر غلط رپورٹنگ ہوئی، جو ہوا میں اس کو درگزر کرتا ہوں

    سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،عابد زبیری
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ نے عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کا عمل جاری رکھا تعطیلات کے باوجود مسلسل مقدمات کی شنواۃ کا سلسلہ جاری رکھنا لائق تحسین عمل ہے دوران تعطیلات کئ سیاسی نوعیت کے مقدمات بھی سماعت کیلئے مقرر ہوئے جس کی وجہ سے عام عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل سست روری کا شکار ہوا ،جب سیاسی اور پارلیمانی نظام ناکام ہوجائے تو اس کا بوجھ بھی عدلیہ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے،مقدامات کی جلد سماعت کیلئے دائر درخواستوں کا زیر التوا رکھے جانے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے ،عدالت کی توجہ 90 دن میں انتخابات کرانے کے آئنی معملہ پر مبزول کروانا چاہتا ہوں ،الیشکن کمیشن انتخاب آئنی مدت میں کروانے سے گریزاں ہے الیکشن کمیشن کا یہ رویہ رائے دہی کے آئین کے حق کے منافی ہے آئین سے روگردانی پہ آرٹیکل 6 کے تحت الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،اتنخابات کے حوالہ سے ہماری درخواست کی ابھی تک شنوائی نہیں ہوسکی انتخاب کے حوالے سے ہماری درخواست کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،صدر مملکت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد انتخابات کا اعلان کرے ،آفشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ کی آڑ میں بنیادی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں سویلین کا ٹرائل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ،قوم کی بیٹیاں اور بہنیں من گھڑت اور بے بنیاد الزامات پر قید ہیں عدالت ان جبری قید کا نوٹس لے،فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں کو فوری مقرر کیا جائے عدلیہ اور ججز کی تضحیک وکلاء برادری کبھی تسلیم نہیں کرے گی،امید کرتے ہیں کہ نئے عدالتی سال میں سپریم کورٹ میں تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کیلئے ٹوس اقدامات اٹھائے جائیں گےنامز چیف جسٹس سے امیدہے کہ وہ آئین اور قانون کی عمل درامد پر یقینی بنائیں گے.

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیلئے فل کورٹ ریفرنس نہ ہونے کا امکان ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافی سے سوال کیا کہ کیا آپ فل کورٹ ریفرنس لے رہے ہیں؟ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں نے ابھی تک اس بارے میں نہیں سوچا اور فیصلہ نہیں کیا ،صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جا رہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے جواب دیا کہ ہم بھی انتظار کر رہے ہیں جیسے پتہ چلے گا بتا دیں گے،جسٹس قاضی فائز عسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ویسے انہوں نے آج تقریر میں تو کہا ہے کہ شاید یہ میرا آخری خطاب ہے.

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • سائفر کیس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت 14 ستمبر تک ملتوی ، عدالت نے آئندہ سماعت تک عمران خان کے وکلا کو درخواست پر تکنیکی اعتراض دور کرنے کی ہدایت کردی

    قبل ازیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کروانے کا حکم دیتے ہوئے 15 ستمبر تک عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی۔ جج ابولحسنات ذوالقرنین نے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار کے وکیل شیراز رانجھا نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی کی ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات نہیں کرائی گئی، سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرکے توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے-

    عدالت نے عدالتی احکامات پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

    واضح ریے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی تھی سپرٹنڈٹ اٹک جیل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ایڈوکیٹ شیراز رانجھا کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،عمران خان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اپنایاگیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی کی اُن کے بچوں سے بات نہیں کرائی گئی-

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی کی بچوں سے بات نہیں کرائی گئی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بچوں سے ملاقات کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا عمران خان کی دائر کردہ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرکے توہین عدالت کی کارروائی کا آغازکیا جائے چیئرمین پی ٹی آئی کی بچوں سے ٹیلی فون، واٹس ایپ پربات کرانے کا حکم دیا جائے۔

    سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس:سندھ ہائیکورٹ کا ملزمان کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم

    پرویزالٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی

    واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان اور دیگر کے خلاف لانگ مارچ توڑ پھوڑ پر درج 2 مقدمات کی سماعت ہوئی۔جج احتشام عالم نے کیس کی سماعت تھی سول جج احتشام عالم کی عدالت میں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا پیش ہوئے تھے عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے اور درخواستِ بریت دائر کردی گئیں۔

    وکیل نعیم پنجوتھا نے کہاتھا کہ دستاویزات، ثبوت عمران خان کی کی موجودگی میں فراہم کیے جائیں، عمران خان کی غیر موجودگی میں فئیر ٹرائل آگے نہیں چل سکتا،چیئرمین پی ٹی آئی کی غیر قانونی گرفتاری ہوئی، سائفرکیس میں اٹک جیل قید ہیں،سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیاجائے،بعد ازاں پروڈکشن کی درخواست سے متعلق محفوظ فیصلے میں عدالت نے سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا۔

    ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    لاہورہائیکورٹ کی ججزکوبلا سود قرضےکی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

  • معاشرے میں مثبت رویوں کے فروغ کیلئے فیصلےکرنے ہوں گے. وزیراعظم

    معاشرے میں مثبت رویوں کے فروغ کیلئے فیصلےکرنے ہوں گے. وزیراعظم

    معاشرے میں مثبت رویوں کے فروغ کیلئے فیصلےکرنے ہوں گے. نگراں وزیراعظم انوار کاکڑ

    نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اداروں کے بہتر کام کرنے سے ملک ترقی کرتے ہیں، عوام کی مرضی ہے کہ وہ جسے چاہیں ووٹ دیں جبکہ انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت معیشت کی بحالی کیلئے اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ایس آئی ایف سی کے تحت زرعی شعبے میں بھی اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

    خیال رہے کہ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے میں مثبت رویوں کےفروغ کیلئے فیصلے کرنے ہوں گے، ماضی قریب کے پرتشدد واقعات کو عوام نے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان اپنا نقطہ نظر پیش کرے گا، ’گورننس کے معاملات کو بہتر کرنے کیلئے کوشاں ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایشیا کپ:پاک بھارت میچ بارش کے باعث روک دیا گیا
    ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث سیاستدانوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    ٹریفک حادثہ؛ چیئرمین میونسپل کمیٹی ژوب سمیت 4 افراد جاں بحق
    چترال اور سون میں سات دہشتگرد ہلاک جبکہ چھ زخمی. آئی ایس پی آر

    جبکہ خیال رہے کہ انوار الحق کاکڑ بلوچستان کی سیاست میں پہلی بار 2008 میں منظر عام پر آئے تھے، اس سے قبل انوار الحق کاکڑ بطور اوورسیز پاکستانی برطانیہ میں مقیم تھے تاہم 2008 میں بلوچستان کی سیاست میں انٹری کے بعد انہوں نے پہلی بار 2008 میں مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر کوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تاہم الیکشن ہار گئے اور دوسری پوزیشن پر رہے تھے

  • نامزد چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے پر بلا لیا

    نامزد چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے پر بلا لیا

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے کی دعوت دے دی

    جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے عشائیے کی دعوت 17 ستمبر کیلئے دی گئی ہے،جسٹس فائز عیسی اور انکی اہلیہ کی جانب سے باضابطہ دعوت نامے ججز کو موصول ہوگئے،موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی عشائیے میں مدعو کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہونگے اور جسٹس قاضی فائز عیسی 17 ستمبر کو حلف اٹھائیں گے

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ 13 ستمبر کو دیا جائے گا، سپریم کورٹ بار کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ پر عشائیہ دینے کی روایت ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ ،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ ،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا،

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں دونوں قوانین کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے،عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست شعیب شاہین کی وساطت سے دائر کی، درخواست میں کہا گیا کہ آرمی ترمیمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ پرصدرمملکت نے دستخط نہیں کیے آرمی ترمیمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ آرٹیکل 10 اے ،8اور19 کےمنافی ہے ،درخواست میں صدر، سیکرٹری قومی اسمبلی، وزارت قانون اور داخلہ کو فریق بنایا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواست کے فیصلہ تک دونوں قوانین کو معطل کیا جائے

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اس حوالہ سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو 10 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • الیکشن کمیشن پر اعتماد،آئین کے مطابق الیکشن کروائے گا،آصف زرداری

    الیکشن کمیشن پر اعتماد،آئین کے مطابق الیکشن کروائے گا،آصف زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کروائے گا

    سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے بعد الیکشن کمشن نئی حلقہ بندیاں کروانے کا پابند ہے ،چیف الیکشن کمشنر اور تمام ممبران پر ہمیں پورا اعتماد ہے ،نگران حکومت ایس آئی ایف سی کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالے .ملک اس وقت ایک معاشی بحران سے گزر رہا ہے, جس کے لیے ہم سب کو سیاست کے بجائے معیشت کی فکر پہلے کرنی چاہیے ملک ہے تو ہم سب ہیں

    واضح رہے کہ پاکستان میں نگران حکومت ہے، آئین کے مطابق الیکشن نوے دن میں ہونے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیاں کروانی ہیں جس کی وجہ سے الیکشن تاخیر کا شکار ہیں، بلاول نے ایک دن قبل کراچی میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہونے چاہئے اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے بے روزگاری اور غربت سے لوگ پریشان ہیں،ہمارا مقابلہ مہنگائی اور غربت سے ہے الیکشن جلد از جلد آئین کے مطابق کرائے جائیں،الیکشن 90 روز کے اندر کرائے جائیں

    14 مئی کو الیکشن نہ کروانے والے تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔حامد خان

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،