Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سائفر کیس،جج رخصت پر،عمران خان کی ضمانت کیس کی سماعت ملتوی

    سائفر کیس،جج رخصت پر،عمران خان کی ضمانت کیس کی سماعت ملتوی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت ،چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کر دی گئی

    جج کی چھٹی کی وجہ سے سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دی گئی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکیل عدالت پہنچے تا ہم آج پھر جج ابوالحسنات ذوالقرنین رخصت پر تھے، جج کی رخصت کی وجہ سے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت 11 ستمبر تک کے لئے ملتوی کر دی گئی،

    گزشتہ 2سماعتوں پر بھی جج کی رخصت کے باعث بغیر کارروائی سماعت ملتوی ہوگئی تھی،

    گزشتہ سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی تو عمران خان کی لیگل ٹیم نے درخواست ضمانت دائر کی تھی،لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت دائر کی گئی،وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنےکی درخواست بھی دائر کی گئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی ہے جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں اٹک جیل میں رکھا گیا ہے، عمران خان چودہ روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، گزشتہ روزعمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،

    جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کردی

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

  • سانحہ جڑانوالہ،سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کر لی

    سانحہ جڑانوالہ،سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کر لی

    سانحہ جڑانوالہ اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    بابا گرونانک ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین سردار بشنا سنگھ بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں ایک معاملہ سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ کا اٹھایا گیا ہے،دوسرا ایشو آپ نے اٹھایا کہ گوردواروں کی تزئین وآرائش اور مرمت نہیں ہو رہی ،سردار بشنا سنگھ نے عدالت میں کہا کہ ہمارے کچھ لوگ 1947 میں اپنا وطن چھوڑ گئے، ہم پاکستان میں رہے ہمارے مذہب کا آغاز بھی یہاں سے ہوا ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم سکھ ہیں اس لیے ہمارے خلاف کچھ غلط کیا جا رہا ہے قبصہ گروپ مندر، مسجد، گورد وارہ کچھ نہیں دیکھتا،

    سردار بشنا سنگھ نے لاہور سمیت ملک بھر میں گوردواروں کی ٹوٹ پھوٹ کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں،سپریم کورٹ نے سکھ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کو افسوسناک قرار دیا ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے باعث سکھ برادری کو مختلف مقامات پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے سکھ برادری کے لوگ پاکستان چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں ریاست کو سکھ برادری کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ،سپریم کورٹ نے آئی جی خیبرپختونخوا سمیت تمام آئی جیز سے حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اوراٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کر دیئے،

    سپریم کورٹ نے سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ابتدائی رپورٹ درخواست گزار کو دینے کی ہدایت بھی کر دی، درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ جڑانوالہ سانحے کے بعد نفرت انگیز تقاریر بھی ہو رہی ہیں سپریم کورٹ نے کوئٹہ دھماکہ کیس میں کہا تھا کہ ہمیں عیسائی نہیں لکھا جائے گا اب بھی ہمیں عیسائی لکھا جا رہا ہے ،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب سے جڑانوالہ سانحے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب سے بھی واقعے کے بعد اقدامات پر رپورٹ طلب کرلی اور کیس کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ جڑانوالہ میں چند دن قبل افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی پر جڑانوالہ میں مسیحی بستی، گرجا گھروں کو جلا دیا گیا تھا،واقعہ کا وزیراعظم نے نوٹس لیا تھا اور خود جڑانوالہ کا دورہ بھی کیا تھا، نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی جڑانوالہ کا دورہ کیا تھا اور تاریخ میں پہلی بار پنجاب کی صوبائی کابینہ کا اجلاس چرچ میں ہوا تھا،حکومت نے متاثرین جڑانوالہ کو 15 کروڑ روپے کی امدادی رقم جاری کر دی ہے، سانحہ جڑانوالہ کے 93 فیصد متاثرین کو امدادی رقوم کے چیک دے دیے گئے, انتظامیہ نے حتمی 80 متاثرہ خاندانوں میں سے 75 خاندانوں کو پیسے دے دیئے ہیں، متاثرین کو 20,20 لاکھ روپے کے امدادی چیک دیے گئے نادرا سے تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد متاثرین کو رقوم جاری کی گئی ،جڑانوالہ کے 8 گرجا گھروں کو مکمل بحال کر دیا گیا باقی گرجا گھروں کی تعمیرومرمت کا کام جاری ہے

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے جڑانوالہ سانحہ کے حوالہ سے پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کئے ہیں

  • جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مرتے دم تک جو مراعات لیتے ہیں اسکا تو وہ بتاتے نہیں ہیں، پروگرام کھرا سچ میں نامور صحافی و تجزیہ کار مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا کہ پاکستان کے جو عمومی معاشی حالات ہیں اس پر انکا ضمیر جاگے گا مگر ایسا نہیں ہوا،مجھے بڑا دکھ ہوا،

    مبشر لقمان نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں بتائیں کوئی ایک کام جو چیف جسٹس نے آئین او قانون کے مطابق کیا ہو، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ یہ انکی اپنی عدلیہ کی ساکھ کا سوال تھا مجھے لگا، میں غلط بھی ہو سکتا ہون، مجھے لگا کہ جوڈیشری میں ان ہاؤس کریکشن کا کوئی نظام ہو گا، ججز آپس میں بات کرتے ہوں گے، لاہور ہائیکورٹ، سپریم کورٹ سے بات آئے گی، چیف جسٹس تک عوامی جذبات پہنچے ہوں گے اور وہ کہیں گے کہ قومی خزانے میں رقم واپس کر رہے ہیں، عدلیہ کو کہنا چاہئے تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی،حیا، شرم،ضمیر کا نظام اپنی جگہ لیکن …

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مختلف لوگوں کا ضمیر ادھر ادھر نہ گیا ہوتا تو ملک کا یہ حال ہوتا، ملزم کو جب دیکھ کر کہ دیں گڈ ٹو سی یو، تو ضمیر کہان پر رہ گیا، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ جج کے شایان شان نہیں ہے یہ،مجھے لگا کہ نئے ججز نوجوان ججز ہیں،جتنے دن یہ قرضہ رکھیں گے اپنے پاس ، میرے افسوس میں اضافہ ہو گا،

    عبداللہ حمید گل کا کہنا تھا کہ آپ نے واقعی کڑا احتساب کرنا ہے تو پھر کسی کو بھی ریلیف نہیں ملنا چاہئے، جو بھی ملک کے خلاف ہو، ریاستی اداروں کے خلاف کوئی کاروائی کرے، اسکا احتساب ہو، پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے،ٹو دی پوائنٹ بات کی جائے، مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آرمی چیف نے دو میٹنگ کیں انہوں نے یہ بتایا کہ میں ڈنڈا چلاؤں گا اور ابھی تک چلایا نہیں، ڈالر لڑکھڑانا شروع ہو گیا ،یہ کیا وجہ ہے؟ جب ڈنڈا چلے گا تو کیا ہو گا، جو کام ہماری حکومتیں نہ کر سکیں وہ ایک میٹنگ سے ہی ہو گیا ،

    عبداللہ گل کا کہنا تھا کہ آنے والے جرائم پر بھی کوئی ایف آئی آر نہیں کٹے گی، جب ایسے فیصلے ہوں گے تو پھر کیا ہو گا، جو اچھا کرے گا اسکا ٹھکانہ جنت ہے اور برے کا ٹھکانہ جہنم ہے،چینی کی شاٹیج کیوں ہوئی، کتنے لوگ پروڈکشن کر رہے؟ کون کر رہے یہ سب کو پتہ ہے، آرمی چیف صدق دل سے کام کر رہے ہیں،سوشل میڈیا پر میں ٹرینڈ دیکھ رہا ہوں، آرمی چیف کے اس اقدام کو بہت پذیرائی مل رہی ہے، چینی کی سمگلنگ کو پکڑا گیا ہے، جب کوشش کی جائے تو کام ہو جاتے ہیں،جب منی چینجر پکڑے جائیں گے تو انکو عدالت میں پیش کیا جائے گا پھر عدالت سے کیسا فیصلہ آتا ہے سب کو پتہ ہے،

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • افغانستان میں چھوڑا جانیوالا اسلحہ دہشتگرد گروہوں کے ہاتھ لگا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    افغانستان میں چھوڑا جانیوالا اسلحہ دہشتگرد گروہوں کے ہاتھ لگا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دی ہے

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد حملوں کا معاملہ اٹھایا ہے ،افغانستان میں چھوڑا جانے والا اسلحہ دہشتگرد گروہوں کے ہاتھ لگا ہے ،ہم کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے تاہم یہ معاملہ عالمی توجہ کا متقاضی ہے

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جدید اسلحہ کی موجودگی باعث تشویش ہے، پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی سے متعلق اپنی تشویش سے امریکا سمیت تمام دوستوں کو آگاہ کردیا ہے، پاکستان اورامریکا کے درمیان گہرے سیکیورٹی تعلقات ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ سخت سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر طورخم بارڈر بند کیا جاتا ہے، سیکیورٹی معاملات پر پیش رفت کے بعد بارڈر کھولا جائے گا پاک افغان بارڈرکی صورتحال پرتشویش سے افغان حکومت کوآگاہ کردیا ہے پاکستان طورخم بارڈر کو امن کا بارڈر سمجھتا ہے طورخم بارڈرکو سیکیورٹی معاملات پر پیش رفت کے بعد ہی کھولا جائے گا ہم یقین رکھتے ہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد امن کی سرحد ہونی چاہیے اگر پاکستان کی طرف سے سرحد بند کی گئی ہے تو اس کی وجہ سکیورٹی کی سنگین صورتحال ہے ہم افغان حکومت سے اس متعلق مذاکرات کر رہے ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ چترال کی صورتحال پر افغان حکام سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اس صورتحال پر ہوم ڈپارٹمنٹ اور متعلقہ ادارے تفصیل دے سکتے ہیں،بھارتی قیادت پاکستان کے بارے میں تبصروں کی بجائے اپنے چیلنجز پر توجہ دے

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی بھی استدعا مسترد

    پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی بھی استدعا مسترد

    دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد چوہدری پرویز الٰہی کو عدالت پہنچا دیا گیا

    سخت سیکورٹی میں چوھدری پرویز الہیٰ کو عدالت پہنچایا گیا،پرویز الٰہی کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس کی سماعت ہوئی،پرویز الٰہی کے خلاف کیس کی سماعت جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی، پروسیکیوٹر راجا نوید، وکیل صفائی علی بخاری، سردار عبدالرازق اے ٹی سی عدالت میں پیش ہوئے، تھانہ سی ٹی ڈی کے تفتیشی افسر بھی عدالت پیش ہوئے، وکیل صفائی سردارعبدالرازق نے عدالت میں کہا کہ پرویز الٰہی کا نام جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس میں دو روز قبل نامزد ہوا،پرویز الٰہی کے خلاف متعدد سیاسی کیسز بنائے گئے ہیں،پرویز الٰہی کو لاہور سے اغوا کرکے اسلام آباد لایا گیا اور گرفتارکیا گیا، پرویز الٰہی اپریل 2023 میں پی ٹی آئی کا حصہ بنے، اس سے قبل پی ٹی آئی کا حصہ نہیں تھے،جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس کا مقدمہ مارچ میں درج ہوا،ہائیکورٹ نے کہا پرویز الٰہی کے خلاف سیاسی کیس بنایا گیا، ڈسچارج کیا جائے،پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کی بجائے انہیں گجرانوالہ میں درج مقدمے میں نامزد کردیا گیا،گجرانوالہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے بھی کہا کیس کچھ نہیں، ڈسچارج کیا جاتا ہے،وکیل سردار عبدلرازق نے پرویز الٰہی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی ائی،شاہ محمود قریشی، اور دیگر کی اس کیس میں ضمانت کنفرم ہوچکی ہے، وکیل سردار عبدلرازق نے اپنے دلائل مکمل کر لیے،

    بابر اعوان نے بھی عدالت میں دلائل دیئے،وکیل بابر اعوان نے مختلف قانونی حوالے دینا شروع کر دئیے ،وکیل بابر اعوان کی جانب سے ایف آئی آر پڑھی گئی، بابر اعوان نے کہا کہ مارچ کا مقدمہ ہے ابھی تک پرویز الٰہی کے خلاف کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد ہیں،پراسیکیوشن نے اب تک کا کیا ثبوت دیا ہے کہ پرویز الٰہی دہشتگرد ہیں دانے جتنا بھی ثبوت پراسیکیوشن کے پاس پرویز الہٰی کے خلاف نہیں ہے،جو مقدمے میں نامزد تھے وہ ڈسچارج نہیں ہوئے جو نامعلوم تھے وہ تمام ڈسچارج ہیں،وکیل بابر اعوان نے پرویز الٰہی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی،وکیل بابراعوان نے کہا کہ ایک سازش ہوئی جس میں گاڑی استعمال ہوئی اور ڈنڈا استعمال ہوا کون سا ہوا نہیں معلوم،جسمانی ریمانڈ کے لئیے کوئی گراؤنڈ ہونا چاہئیے،یہ کیس ریمانڈ کا نہیں بلکہ ڈسچارج کا ہے،پرویز الہٰی کو نہ جانے کدھر سے مقدمے میں نامزد کر کے لے آیا ہے،کمزوری سے بڑی طاقت اللہ نے کوئی نہیں بنائی ،دہشتگردی کا کوئی ثبوت نہیں ہے،اس لئیے ڈسچارج کیا جائے،وکیل بابراعوان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے،

    جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں پولیس نے پرویز الٰہی کے مزید دس روزہ ریمانڈ کی استدعا کردی ،چوہدری پرویز الہٰی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی، عدالت نے پرویز الہیٰ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عدالت نے پرویز الٰہی کے وکلا کی کیس سے ڈسچارج کرنے کی بھی استدعا مسترد کر دی

    پرویز الٰہی کی درخواست ضمانت دائر کر دی گئی، عدالت نے فریقین کو 11 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کر دیئے،پرویز الٰہی سے جیل میں فیملی کی ملاقات اور کھانے کی درخواست بھی دائرکر دی گئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی کی فیملی سے ملاقات کروائیں، پرویز الٰہی صاحب سامنے آئیں،پرویز الٰہی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ بہت مہربانی بہت شکریہ، پنجاب کی کوئی جیل رہ نہیں گئی جہاں مجھے بھیجنا ہو، مجھے دل کے اسٹننٹ بھی لگے ہوئے ہیں، وزیراعلی پنجاب میرا رشتہ دار ہے لیکن میرے سخت خلاف ہے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بھی ڈرو،

    چوہدری پرویز الٰہی تاحال کمرہ عدالت میں موجود ہیں تفتیشی افسر پرویز الٰہی کو لینے آ گیا اور کہا کہ چوہدری صاحب آئیں چلیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ آرڈر آئے گا توچلوں گا،اب میں نے آپ کے ساتھ نہیں جانا عدالت نے اڈیالہ بھیجا ہے، آپ پہلے والے کام نہ کریں، اب اڈیالہ کے لیے گاڑی کون دے گا،پولیس حکام نے کہا کہ سر جس بکتربند میں آئے اس میں اے سی لگا ہوا ہے، پرویز الٰہی نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اب میں اس گاڑی میں نہیں جاوں گا ،میرے سامان کا کیا ہو گا ،تفتیشی افسر نے کہا کہ سر آپ کا سامان گاڑی میں ساتھ لائے ہیں ۔

    کمرہ عدالت،پی سی او بن گیا، وکیل نے پرویز الہیٰ کی شیخ رشید سے فون پر بات کروا دی
    کمرہ عدالت میں وکیل نے اپنے فون سے پرویز الٰہی کی شیخ رشید سے بات کروائی ،پرویز الہیٰ نے شیخ رشید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے دو دن تھانہ سی آئی اے میں رکھا جس میں آپ کو رکھا گیا اے ،بہت ظالم لوگ ہیں میں نے بتایا دل میں اسٹنٹ پڑے ہوئے ہیں، آپ کے بارے میں تھانے والے بتا رہے تھے کہ جب شیخ رشید گرفتار تھے تو انہیں بخار تھا ، تو کہا گیا شیخ رشید کو رضائی نہیں دینی پھر کچھ لوگوں نے رضائی کمبل آپ کو دئیے ، پرویز الٰہی نے شیخ رشید کے ساتھ فون پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعلی پنجاب کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ نگران وزیراعلی پنجاب میرا رشتہ دار ہے لیکن حالات آپ کو معلوم ہیں عمران کے ساتھ کھڑے ہیں انہیں سب معلوم ہے پی ٹی آئی میں باقیوں کا آپ کو معلوم ہے،گزشتہ روز میڈیا کو میں نے بتایا کہ مجھے شجاعت حسین نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑنا،بتائیں پھر شیخ صاحب! کیسا بیان دیا میں نے

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گزشتہ روز 5 ستمبر کو پولیس لائن سے ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا تھا سادہ لباس اہلکار پرویز الہیٰ کووکیل کی گاڑی میں گھرجاتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئے،صدر پی ٹی آئی کو اسلام آباد پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن نے گرفتار کیا-

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پرویزالہیٰ کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نمبر 3/23 میں گرفتار کیا گیا پرویزالہیٰ کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پرویزالہیٰ کے خلاف ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج ہوا تھا مقدمے میں انسداد دہشتگردی سمیت 11 دفعات شامل ہیں، اور جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری ڈالی گئی، جبکہ اٹھارہ مارچ جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج ہوا تھا اور چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار افراد کے ریکارڈ بیان گرفتار کیا گیا-

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    مبینہ آڈیوز لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت ، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ کر دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس نے آڈیو لیکس بینچ پر اعتراضات کا حقیقی منظر نامہ بھی بیان کردیا،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا تعلق 14 اور 18 جنوری کو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے ہے،آرٹیکل 224 کے تحت پنجاب میں 14 اپریل اور خیبرپختونخوا میں 18 اپریل کو انتخابات ہونا تھے، متعلقہ حکام نے ڈیڈ لائن کے بوجود انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، نتیجتاً پشاور اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر ہوئیں ،درخواستوں میں عام انتخابات کی تاریخ دینے کی استدعا کی گئی،لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کی مجاز اتھارٹی قرار دے دیا ،گورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں،90 دن کی آئینی ڈیڈلائن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری کو چیف جسٹس کو از خود نوٹس کیلئے نوٹ لکھا، 18 فروری کو پنجاب اور کے پی کے اسپیکرز نے سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست دائر کی، مشترکہ درخواست میں عدالت سے پنجاب میں خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ مانگی گئی، اطلاعات کے مطابق اس دوران ہائیکورٹس میں معاملہ التوا کا شکار تھاچیف جسٹس نے 22 فروری کو انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر ازخود لیا، چیف جسٹس نے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے کر 23 فروری کو سماعت کیلئے مقرر کردیا،

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اسی دوران 16 فروری کو ٹوئیٹر پر انڈیبل نامی اکاؤنٹ سے تین مبینہ آڈیوز جاری ہوئیں ، ایک مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور ارشد جھوجا کے مابین گفتگو پر مشتمل تھی،ایک مبینہ آڈیو صدر سپریم کورٹ بار اور چوہدری پرویز الٰہی کے مابین تھی،تیسری مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے درمیان تھی،دو ماہ کے دوران نامور شخصیات کی ٹیلی فونک گفتگو کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ جاری ہوئیں 23 اپریل کو مبینہ طور پر چیف جسٹس کی خوش دامن کی بھی آڈیو جاری کی گئی، وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیوز کی تصدیق کئیے بغیر ججز کی تضحیک کیلئے آڈیوز کی توثیق کر دی،وفاقی حکومت نے عدلیہ کی آزادی کو بالائے طاق رکھ دیا،وفاقی وزراء نے مبینہ آڈیو ریکارڈنگز کو ججز کی حکومت کے خلاف تعصب کے ثبوت کے طور پر پیش کیا،منتخب حکومت کے نمائندوں کی جانب سے اعلی عدلیہ کے ججز کی تضحیک کا عمل نا صرف میڈیا بلکہ پارلیمان میں بھی جاری رہا،وفاقی حکومت نے بالآخر 19 مئی کو مبینہ آڈیوز پر ایکشن لیا ، وفاقی حکومت کی جانب سے مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا،کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کی خواہش پہلے آڈیوز کی سچائی جاننا تھی ،انکوائری کمیشن کا مقصد آڈیوز کی درستگی ثابت ہونے پر تادیبی کارروائی کا تعین کرنا تھا،اگر کمیشن اس نتیجے پر پہنچتا کہ آڈیوز جعلی ہیں تو انہیں بنانے والوں کیخلاف کاروائی ہونا تھی،

    وفاقی حکومت نے اعلی عدلیہ کے تین ججز کو انکوائری کمیشن کے لئے چنا، ریکارڈ پر موجود ہے کمیشن کی تشکیل سے پہلے وفاقی حکومت نے چیف جسٹس کو نہ مطلع کیا ، نہ مشورہ کیا اور نہ ہی انکی رضا مندی حاصل کی،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے 22 مئی کو پہلا اجلاس بلایا،کمیشن کے اجلاس کے فوری بعد سپریم کورٹ میں کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستیں دائر ہوئیں ، 26 مئی کو موجود 5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی،اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو بینچ سے الگ ہونے کی درخواست کی،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا جواز چیف جسٹس کی خوش دامن کی مبینہ آڈیو بتایا گیا، عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست کو مسترد کردیا،عدالت نے آڈیوز آئیندہ سماعت تک آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کو کام سے روک دیا،31 مئی کو اٹارنی جنرل نے ججز کی بینچ سے علیحدگی کیلئے درخواست دائر کی، اٹارنی جنرل نے کہا جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ سے علیحدگی کا معاملہ نہیں اٹھائیں گے،لہذا ہمارا فیصلہ صرف چیف جسٹس کی بینچ سے علیحدگی کی درخواست تک محدود ہے ،دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ، مختلف حربوں سے عدالتی فیصلوں میں تاخیر، عدالت کی بے توقیری کی گئی،بے توقیری کا سلسلہ یکم مارچ 2023 سے شروع ہوا، حکومت 4 اپریل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے نظر ثانی اپیل کے پیچھے چھپ گئی، وفاقی حکومت کا مقصد اپنی بے عملی کو جواز دینا تھا، ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کو سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے چکی ہے، وفاقی حکومت نے متعدد آئینی مقدمات سے ججز کو الگ کرنے کیلئے درخواستیں دائر کیں، آڈیو لیکس میں بھی مفادات کا ٹکراؤ بے سروپا بنیادوں پر درخواست دائر کی،آڈیو لیکس کیس کیخلاف اعتراض کا مقصد چیف جسٹس پاکستان کو بنچ سے الگ کرنا تھا،وفاقی وزرا نے انتخابات کیس میں عوامی فورمز پر اشتعال انگیز بیانات دیے،وزیروں کا اشتعال انگیز بیانات کا مقصد حکومتی ایجنڈے کو تقویت دینا تھا، سپریم کورٹ نے حکومت کے ان مقدمات کو انتہائی تحمل اور صبر سے برداشت کیا، ججز پر اعتراضات والی حکومتی درخواست عدلیہ پر حملہ ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے ججز بینچ پر حکومتی اعتراض مسترد کردیا ،عدالت نے ججز پر اعتراض کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا ،عدالت نے بینچ سے علیحدگی کی درخواست کو مسترد کردیا ،آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد کر دیئے گئے،سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تین ماہ بعد سنا دیا

    حکومت نے چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر اعتراضات کیے تھے ،حکومت نے مفادات کے ٹکرائو پر تینوں ججز کی بنچ سے علیحدگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی ،سابقہ اتحادی حکومت نے پرویز الہی، چیف جسٹس کی خوش دامن سمیت 9 مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا تھا سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کی سربراہی میں قائم آڈیو لیکس کمیشن کو پہلے ہی کام سے روک رکھا ہے ،پی ڈی ایم حکومت نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والے بینچ پر اعتراضات اٹھائے تھے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • دہشگردوں، سہولت کاروں کے ساتھ طاقت کے ساتھ نمٹا جائیگا، آرمی چیف

    دہشگردوں، سہولت کاروں کے ساتھ طاقت کے ساتھ نمٹا جائیگا، آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 259 ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی-

    باغی ٹی وی: کانفرنس کے شرکاء نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و جوان اور سول سوسائٹی کے شہداء جنہوں نے ملک کی حفاظت، سلامتی اور وقار کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اُن کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

    شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست پاکستان اور مسلح افواج شہداء اور ان کے اہل خانہ کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں، شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی 6 ستمبر کو ملک بھر میں یومِ دفاع و شہدا ء بھرپور طریقے سے منانے پر پاک فوج نے اپنی قابلِ فخر قوم کا شکریہ ادا کیا ۔

    کانفرنس کے شرکاء نے ہر قسم کے بالواسطہ اور بلاواسطہ خطرات کے خلاف پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کے دفاع کے لیے پاک فوج کے عزم کا اعادہ کیافورم نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی کہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لئے مذموم پروپیگنڈہ کرنے والوں کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا اور اس کے نتیجے میں ایسے عناصر مزید رسوائی کا شکار ہوں گے، انشاء اللہ

    اگر پیپلز پارٹی وعدے سے نہ پھرتی تو اب تک الیکشن ہو جاتے،مولانا فضل الرحمان

    کانفرنس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ دہشت گرد جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وہ، ان کے سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر کیخلاف ریاست مکمل طاقت کے ساتھ نمٹے گی کانفرنس کے دوران ضم شدہ اضلاع اور بلوچستان کے بارڈر اضلاع میں پائیدار امن و ترقی پر بھی زور دیا گیا۔

    کانفرنس کے شرکاء کو قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں اپنی حکمت عملی کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف نے آپریشنز کے دوران پیشہ وارانہ مہارت کے معیار کو برقرار رکھنے اور فارمیشنز کی تربیت کے دوران بہترین کارکردگی کے حصول پر زور دیا، انہوں نے اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود اور حوصلہ برقرار رکھنے اور مسلسل توجہ دینے پر کمانڈرز کی تعریف کی جو فوج کی آپریشنل تیاری کی بنیاد ہے۔

    کراچی اور پشاورمیں سیوریج کے پانی میں پولیو کے وائرس کی تصدیق

    کور کمانڈرز کانفرنس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ ملک میں معاشی سرگرمیاں جو اس وقت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کی زیر نگرانی جاری ہیں، اُس کی مکمل حمایت کی جائے گی اور ایسی سرگرمیاں جو معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اس کے خاتمے کیلئے حکومت کی مکمل معاونت کی جائے گی۔

  • ٹیکس وصولی میں اضافے کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو گی،نگران وزیرِ اعظم

    ٹیکس وصولی میں اضافے کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو گی،نگران وزیرِ اعظم

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے اسلام آباد ایوانِ تجارت و صنعت کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    اس موقع پر نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.آپکی تجاویز کا خیر مقدم کرتا ہوں، ان میں سے قابل عمل تجاویز پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرواتا ہوں.وزارت عظمی کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی کاروباری برادری سے ملاقاتیں کیں اور انکے مسائل سنےکاروباری برادری موجودہ ملکی معاشی حالات کے باوجود ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں. حکومت ٹیکس کے نظام میں اصلاحات یقینی بنا رہی ہے جسکے لئے ٹیکس کا نظام ڈیجٹلائز کیا جا رہا ہے. جب تک پاکستان میں ٹیکس وصولی میں اضافہ نہیں ہوتا تب تک ملکی معیشت کی بہتری ممکن نہیں.

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ملک بھر بالخصوص سرحدی علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے. اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے گزشتہ 48 کے دوران کریک ڈاؤن کئے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں.ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کے حوالے سے مشاورت جاری ہے. اسمگلنگ کی روک تھام کا ہمسایہ ممالک کے حکام نے خیر مقدم کیا ہےتاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرکے ملکی معیشت کو مزید مستحکم کریں گے.بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، بجلی چوروں کے خلاف مؤثر کاروائی کی جائے گی. ملکی مسائل کے حل کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ہدایت کی کہ وزارت کامرس ملک بھر کے چیمبرز سے باقائدگی سے تجاویز و مشاورت کو یقینی بنائے.ایف ،بی،آر پوائنٹ آف سیلز کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے حوالے سے جلد رپورٹ پیش کی جائے.پاکستانی سفارتخانوں میں تعینات کمرشل اتاشیوں کی کارکردگی کو بہتر کیا جائے.سی ڈی اے کے نظام میں بہتری لائی جائے اور کاروباری برادری کو مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جائے.سی ڈی اے شہریوں کو فراہم کی جانے والی تمام سہولیات اور لینڈ ریکارڈ کو ڈیجٹلائز کرے.

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عدالتیں احکامات منوا نہیں سکتیں تو گزارش ہے ان کو تالہ لگا دیں،صدر سپریم کورٹ بار

    عدالتیں احکامات منوا نہیں سکتیں تو گزارش ہے ان کو تالہ لگا دیں،صدر سپریم کورٹ بار

    آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن کا اسلام آباد وکلاء آڈیٹوریم میں سپریم کورٹ بار کی زیر صدارت کنونشن کا آغاز قومی ترانے سے ساتھ ہوگیا ہے

    وکلا کنونشن میں ملک بھر سے وکلا بڑی تعداد میں موجود ہیں،سٹیج پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری سمیت دیگر وکلاء راہنما موجود ہیں ،زندہ ہیں وکلا زندہ ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے منعقدہ وکلاء کنونشن کے آغاز پر وکلاء نے نعرے بازی کی ،

    سب سے پہلے آرٹیکل 6 چیف الیکشن کمشنر پر لگنا چاہیے،صدر سپریم کورٹ بار
    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے آل پاکستان وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں اپنے احکامات کو منوا نہیں سکتیں تو گزارش ہے کہ ان کو تالہ لگا دیں ،جو کچھ ہماری بچیوں، بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں ایک اسلامی ریاست میں رہ رہا ہوں،اس ظلم اور نا انصافی کے لئے آواز اٹھائیں یہ نہ ہو کہ کل آپ کے لئے بھی آواز اٹھانے والا کوئی نہ ہو.سب سے پہلے آرٹیکل 6 چیف الیکشن کمشنر پر لگنا چاہیئے کیونکہ اصل میں انہوں نے الیکشن نہیں ہونے دیا وہ ذمہ داری پوری نہیں کر سکے، صرف باقی 5 لوگوں پہ توہیں عدالت سے کچھ نہیں ہوگا،ملٹری کورٹس کے بارے میں کیس دائر کیا اس کی سماعت نہیں ہو رہی،ہم آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے متعلق بھی کیس دائر کرنے کا اعلان کرتے ہیں

    پاکستان میں آئین کی کوئی عملداری نہیں،لطیف کھوسہ
    ممتاز قانون دان لطیف کھوسہ نے وکلا کنونشن سے خطاب میں کہا کہ خان صاحب کو سونے نہیں دیتے، ساری رات پروانے اور دن میں مکھیاں ہوتی ہیں،3،3 دن جگایا جاتا ہے مگر پھر بھی شکایت نہیں کی،پاپولر لیڈر عوام کے دل کی دھڑکن ہوتا ہے کیوں مار دیا جاتا ہے، کیوں 77 سال یہ مذاق ہو رہا ملک کے ساتھ،پاکستان میں آئین کی کوئی عملداری نہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کی جاتی ہے، میں چیف جسٹس سے کہتا ہوں اسوقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، وزیر خزانہ سمیت پانچ لوگوں کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، بیشک چند سیکنڈز کی سزا سنائیں،اسکے بعد کوئی عدالتی فیصلے کی توہین نہیں کریگا ،امریکہ کے تھرڈ کلاس بیوروکریٹ ڈونلڈ لو نے کہا کہ وزیراعظم کو چلتا کرو،وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو اندر رکھا ہے، کون سا آفیشل سیکرٹ ایکٹ جسے صدر نے سائن ہی نہیں کیا؟

    چیف جسٹس صاحب! جاتے جاتے اہم فیصلے کر جائیں تاریخ آپکو یاد رکھے گی،اعتزاز احسن
    ممتازقانوندان اعتزاز احسن نے وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں، آپ نے ابھی کئی فیصلے دینے ہیں ،خدارا انکو چھوڑنا نہیں ہے،چیف جسٹس صاحب فوجی عدالتوں کے کیس کا فیصلہ کریں،میں کہتا ہوں آپکا وہ فیصلہ روایت بنا دیگا،بے شک فیصلہ ہمارے خلاف کریں مگر کریں ضرور۔قوم کو پتا چلنا چاہیے کون محترم جج جسٹس اے آر کارنیلیس کی پیروی کر رہا ہے اور کون سا جج جسٹس منیر کی میراث لیکر چل رہا ہے۔آج پاکستان کے آئین پر حملے کیے جا رہے ہیں اور عدالتوں کو بے توقیر کیا جا رہا ہے۔فیصلہ دینے کے بعد چیف جسٹس صاحب آپ گھر چلے جائیں اور آرام کریں۔ اپ کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکے گا، چیف الیکشن کمشنر انتخابات نہ کرا کر سہولت کار بنا، وہ آئین شکن ہے،ان سہولت کاروں نے عدالتوں کو بے توقیر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، سپریم کورٹ کہتی ہے کہ 14 مئی کو الیکشن کروائیں یہ نہیں کرواتے،سپریم کورٹ کہتی ہے کہ 90 دن میں الیکشن کروائیں یہ کہتے ہیں کہ نہیں کروانے۔نازک وقت ہے، آئین پر حملے، عدالتیں بے توقیر ہو رہی ہیں، عدالتیں حکم دیتی ہیں گرفتار نہیں کرنا پھر بھی پکڑ لیا جاتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں پر یہ لوگ عمل نہیں ہونے دیتے

    میں واحد ایک شخص زندہ رہ گیا ہوں جس نے آئین پاکستان کو بنایا، احمد رضا قصوری
    سابق ممبر اسمبلی احمد رضا قصوری نے وکلاء کنونشن سے خطاب میں کہا کہ میں واحد ایک شخص زندہ رہ گیا ہوں جس نے آئین پاکستان کو بنایا ،آج تو ایک دن میں چار چار قانون بن جاتے ہیں لیکن آئین ایک ہی بار بنتا ہے ،میں دنیا کی سیاست میں واحد سیاست دان ہوں جس پر 18 حملے ہوئے ،اس وقت حالات بہت خراب ہیں، افراتفری کا عالم ہے جب اس طرح کے حالات ہوتے ہیں تو قومیں غلام بن جاتی ہیں، مجھے پوری امید ہے کہ ایسے حالات میں بھی کوئی لیڈر ابھرے گا،

    پروفیشنل گروپ کے سربراہ حامد خان نے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ چھوٹی چھوٹی مجبوری چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر خاموش ہے، بڑے دکھ کی بات ہے چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہوا، بچیوں کو پانچ پانچ ماہ سے گرفتار کر کے رکھا ہوا ہے

    پاکستان وکلاء کنونشن سے سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "آئین کی بحالی،قانون کی حکمرانی آور عدلیہ کی آزادی کیلئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں .اب اس قوم کی قسمت کے فیصلے بند کمروں میں نہیں ہوں گے.ہم سب نے ملکر پاکستان کے آئین کو بچانا ہے کیونکہ پاکستان کا قیام آئین کی بالادستی سے مشروط ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو قانون کی حاکمیت سے ہٹا کر فسطائیت کے نظام کی طرف لے جایا جا رہا ہے”

    آل پاکستان وکلاء کنونشن سے سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار راجہ جاوید عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی سرزمین بے آئین ہو چکی ہے عدالتیں بے اختیار ہو چکی ہیں اور سول آرڈر ختم ہو چکا ہے ، اعلی عہدوں بیٹھے ہوئے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ عارضی منصب لیکر بیٹھے ہیں، منصب تو آنا جانا ہے ، اس پاکستان کے ساتھ آپ نے بہت کچھ کر لیا اب خدا کا خوف کریں ،

    وکلا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئین کہتا ہے 90 دن میں الیکشن تو اُسکا مطلب 90 دن ہی ہے ایک دن بھی آگے گیا تو وکلاء دیوار بنیں گے

    آل پاکستان لائرز کنونشن سے نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ربیعہ باجوہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین روند دیا گیا ہے، سپریم کورٹ بار سے کہتی ہوں کہ باہر نکلنے کا لائحہ عمل دیں، اس نظام سے بغاوت کا اعلان کریں،

    چیف جسٹس پاکستان کو کہتا ہوں اس ملک کی بیٹیاں 5 مہینوں سے جیلوں میں قید ہیں نوٹس لیں، بابر اعوان
    وکلا کنونشن میں بابر اعوان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ سیاسی انتقام میں جیلوں میں بند خواتین کے حوالے سے ایکشن لیں،اس سے پہلے ملک کو اتنی بُری حالت میں میں نے کبھی نہیں دیکھا قوم کی بیٹیاں 5 مہینوں سے ضمانت کے لیے بیٹھی ہیں لیکن پتہ نہیں سپریم کورٹ کس چیز کا انتظار کر رہی ہے چیف جسٹس پاکستان کو کہتا ہوں اس ملک کی بیٹیاں 5 مہینوں سے جیلوں میں قید ہیں نوٹس لیں، ملک کو دلدل سے نکالنے کا واحد راستہ آئین کی پیروی میں ہے، آئین کہتا ہے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں،

    وکلا تحریک کا آغاز پشاور سے ہوگا

    شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ نے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری معیشت کے علاوہ مقننہ میں مداخلت کی جا رہی ہے، سیاسی سسٹم پوری طرح متاثر ہو چکا ہے،ہمیں جو کام کرنا ہے اس میں ہمارا نمبر ون آئین کو ختم کرنے یا کوشش کرنیوالوں کے خلاف اقدام ہونا چاہئے،

  • توہین عدالت کیس،ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد

    توہین عدالت کیس،ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد

    ایم پی او آرڈر جاری کرتے اختیارات سے تجاوز پر توہین عدالت کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن پر فرد جرم عائد کردی،جسٹس بابر ستار نے شہریار آفریدی کے کیس پر توہین عدالت پر ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد کردی، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    کھلی عدالت میں آپ کے سامنے چارج پڑھا گیا ،اب آپ ٹرائل کے دوران قانونی طور پر اپنا دفاع کر سکتے ہیں ،اگر آپ کو سزا ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ جیل ہو گی، 6 مہینے کی سزا ہے آپ بھی ذرا جیل میں رہ کر دیکھ لیں کہ جنہیں آپ جیل بھیجتے وہ کیسے قید گزارتے ہیں،

    ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر پر پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کا آغازہوا،جسٹس بابر ستار ، جمیل ظفر پر توہین عدالت کیس میں چارج پڑھ رہے ہیں ،شہریار آفریدی توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر پر بھی فرد جرم عائد کردی، عدالت نے ، ایس پی فاروق بٹر اور ایس ایچ او ناصر منظور پر فرد جرم عائد کردی ، ملزمان کی بیانات ریکارڈ ہوں گے اب ٹرائل چلے گا جسٹس بابر ستار نے ٹرائل میں ایڈووکیٹ قیصر امام کو پراسیکیوٹر مقرر کردیا

    نوٹ، اس خبر کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے