لاک ڈاؤن از قلم، عشاء نعیم

لاک ڈاؤن از قلم عشاء نعیم ہائے! وہ کشمیر میں قید تھے جنھیں لوگ سبھی تھے بھول گئے وہ رات دن تھے پکارتے ہم اپنی تجارت تاڑتے وہ لاشیں اٹھاتے جاتے تھے ہم آگے بڑھتے جاتے تھے ڈر تھا ذرا پل جو ٹھہرے شاید چھا جائیں اندھیرے خون دیکھا ، سی لیں زبانیں تم نے … لاک ڈاؤن از قلم، عشاء نعیم پڑھنا جاری رکھیں