Baaghi TV

Author: عفیفہ راؤ

  • ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں خواتین کو لیکر بہت سی نئی بحثیں شروع ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ خواتین کے حق میں اور کچھ کے خلاف بہت سے سوشل میڈیا ٹرینڈ چل رہے ہوتے ہیں۔ کہیں خود خواتین میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف خواتین ہی ان نعروں کو لیکر اس طرح کی مارچ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ ایک طرف عورت مارچ ہوتی ہے تو دوسری جانب حیا ڈے منایا جاتا ہے۔

    اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عورتوں سے متعلق مسائل صرف ہمارے ملک میں ہیں؟ جی نہیں۔۔۔پاکستان کوئی واحد ملک نہیں ہے جہاں اس طرح کے مسائل ہیں بلکہ ان ممالک کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ لیکن چند ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پر حالات کافی مختلف ہیں۔وہ کونسا ملک ہے جہاں عورتوں کو مختلف فیلڈز میں سب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے؟کیا ہر ایک فیلڈ میں برابر نمائندگی حاصل کرنے کے بعد عورتوں کے مسائل ختم ہو جاتے ہیں؟Gender equalityکیا ہوتی ہے اور وہ کونسا ملک ہے جہاں Gender equalityسب سے زیادہ ہے؟عورتوں کو اگر Leadership rolesدئیے جائیں تو اس کے فائدے اور نقصانات کیا ہو سکتے ہیں؟ عورتوں کے لئے ہم معاشرے کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟عورتوں کے حقوق کے حوالے سے یہ سب وہ سوالات ہیں جو اس وقت ہر ایک معاشرے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔عورتوں کو سیاسی نمائندگی دینے کی بات کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ آپ سوچیں کہ امریکہ، برطانیہ ، ناروے، سویڈن، نیوزی لینڈ یا فن لینڈ میں سے کوئی ایک ملک ہو گا جہاں کی پارلیمنٹس میں سب سے زیادہ خواتین ہوں گی۔ لیکن نہیں۔۔ ان میں سے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی بہترین مثال ایک افریقی ملک روانڈا ہے۔ جس کی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ روانڈا کے Lower house of parlimentمیں61.3%عورتیں ہیں۔حالانکہ روانڈا ایک کم آمدنی والا غیر ترقی یافتہ ملک ہے۔
    اگر باقی دنیا کی بات کی جائے تو عورتوں کی پارلیمنٹ میں ہونے کی Global average 25.5%ہے یعنی زیادہ تر ممالک میں یہ Average 50%سے کافی کم ہے۔ صرف تین ملک ایسے ہیں جہاں عورتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ جن میں پہلے نمبر پر روانڈا 61%دوسرے نمبر پر ہے کیوبا53%اور تیسرے نمبر پر ہے یو اے ای50%کے ساتھ۔۔۔۔
    روانڈا میں خواتین کی شمولیت کا یہ تناسب صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں ہے بلکہ 32%خواتین سینیٹرز ہیں۔42% cabinet membersاور50%ججز بھی عورتیں ہی ہیں۔ لیکن یہاں میں آپ کو روانڈا کے بارے میں ایک خاص بات بتاتا چلوں کہ یہاں پر ہمیشہ سے خواتین اس طرح مضبوط اور اعلی پوزیشنز پرنہیں ہوتیں تھیں۔

    1990تک یہاں پارلیمنٹ میں خواتین صرف 17%ہوتیں تھیں۔17%سے عورتوں کی نمائندگی 61%پر کیسے پہنچی اس کی بھی ایک تاریخ ہے۔ 1994میں روانڈا میں ایک بہت ہی خوفناک
    Genoside ہوئی جس میں تقریبا آٹھ لاکھ لوگ مارے گئے تھے جن میں بڑی تعداد مردوں کی تھی۔ اس نسل کشی کے بعد روانڈا کی آبادی میں 70%خواتین باقی رہ گئیں تھیں اور مرد صرف
    30%ہی باقی رہ گئے تھے۔ جبکہ ان خواتین میں سے زیادہ تر عورتیں پڑھی لکھی نہیں تھیں انہوں نے گھر سے باہر نکل کر کبھی کام نہیں کیا تھا۔ اور دوسری طرف ملک میں تبدیلی لانا بھی وقت کی ضرورت بن گئی تھی۔ اس صورتحال میں روانڈا کے صدرPaul Kagame نے فیصلہ کیا اگر ہمیں اپنے ملک کو چلانا ہے اور ترقی کے راستے پر لیکر آنا ہے تو ضروری ہے کہ یہاں کو عورتوں کو Activeکیا جائے۔ جس کے لئے سن دو ہزار تین میں انہوں نے ایک نیا آئین بنایا۔ اور اس میں Gender quotaکوڈالا گیا۔ تاکہ عورتوں کو برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے اور وہ بھی اپنے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ روانڈا کے آئین میں صاف لکھا ہے کہ عورتوں کو Decision making organizationsمیں 30%نمائندگی دینا لازم ہے۔تو اس کے بعد جب دو ہزار تین میں رواندا میں الیکشن ہوا تو ایک تو Gender quotaپرتیس فیصد خواتین کو پارلیمنٹ میں لایا گیا اور دوسری طرف کیونکہ عورتوں کی تعداد ملکی آبادی میں زیادہ تھی تو اس لئے باقی سیٹوں پر بھی بہت سی خواتین الیکشن لڑنے کے بعد پارلیمنٹ میں آنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس طرح ان کے لیڈر کی سوچ، حالات کی مجبوری اور Gender quotaکی وجہ سے روانڈا وہ ملک بن گیا جہاں پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ہمارے اپنے ملک میں بھی آپ کو معلوم ہے کہ عورتوں کے لئے Reserved seatsکا کوٹہ موجود ہے چین میں بھی عورتوں کے لئے یہ کوٹہ رکھا جاتا ہے۔ جبکہ یورپین ممالک میں تو پولیٹیکل پارٹیز نے خود سے ہی یہ Strategy بنائی ہوئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں خواتین کی ایک خاص تعداد میں شمولیت کو یقینی بناتے ہیں۔ اس طرح کوٹہ سسٹم کے بعد یہ تو ضرور ہوا ہے کہ Globallyاب خواتین کی ایک بڑی تعداد پارلیمنٹس میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔لیکن اس کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ
    Gender quota کے یا خواتین کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے کیا فائدے یا نقصانات ہیں۔اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آنے کے بعد خواتین ملک میں موجود خواتین کے مسائل پر بہتر انداز میں آواز اٹھا سکتی ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے مختلف بلز پاس کروا سکتی ہیں۔ روانڈا میں یہ ہوا بھی کہ خواتین کے پارلیمنٹ میں آنے کے بعد Inheritence and succession
    کے کئی قوانین پاس کروائے گئے جس سے عورتوں کے مسائل میں کافی کمی ہوئی۔2008میں روانڈا میں Anti-gender based violence lawبھی پاس کیا گیا جس کی مدد سے وہاں زیادتی اور تشدد کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔اور جب خواتین کی حمایت میں خواتین زیادہ بلز لیکر آتی ہیں قوانین پاس کرواتی ہیں تو اس سے ایک تو عورتیں قانونی طور پر مضبوط ہوتی ہیں اور دوسراMind set میں بھی Changeآتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد دنیا میں Highest rate of female labour participationبھی روانڈا کا یہ ہے جو کہ تقریبا83%ہے۔

    عورتوں کے پارلیمنٹ میں ہونے سے کسی بھی ملک کو ایک اور بڑا فائدہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عورتیں ہیلتھ کئیر اور ایجوکیشن کے حوالے سے بہتر کام کرتی ہیں۔جبکہ دوسری طرف اس طرح کو کوٹے کے نقصانات بھی ہیں جس میں ایک مثال برازیل کی ہے کہ وہاں Gender quotaمتعارف کروانے کے بعد بھی عورتوں کی پارلیمنٹ میں شمولیت کوئی زیادہ بڑھ نہیں سکی۔
    کچھ ممالک میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ Gender quotaکی وجہ سے وہ خواتین پارلیمنٹ میں پہنچ جاتی ہیں جو اتنی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوتیں۔ جس کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ پاور نہیں نہیں ہوتی یا جن لوگوں کے پاس پاور ہوتی ہے وہ ان عورتوں کو Puppetکی طرح treatکرتے ہیں۔ اور ان عورتوں کو صرف اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشروں میں ایک مائنڈ سیٹ یہ بھی ہے کہ عورتیں بہتر لیڈر نہیں بن سکتیں اس لئے اگر وہ لیڈر بن بھی جائیں تو وہ مائنڈ سیٹ ان کو پرفارم نہیں کرنے دیتا۔ساتھ ساتھ اہم بات یہ بھی ہے کہ کسی ملک میں Political representationبہتر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں Gender equalityبھی ہے۔ یہاں پر بھی روانڈا ایک بہترین مثال ہے کہ ان کی خواتین سیاستدان خود یہ بات کہتی ہیں کہ صرف خاتون ہونے کی وجہ سے اکثر ان کی Capabilitiesپر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ روانڈا کی اپنیParlimentary leader کا کہنا ہے کہ ابھی بھی روانڈا میں لوگ
    Gender issuesکو سمجھتے نہیں ہیں۔ Gender equality ابھی بھی ان سے بہت دور ہے۔ خواتین کے پاور میں ہونے کے باوجود بھی Domestic voilence کا ریٹ روانڈا میں بہت ہائی ہے۔
    اس لئے صرف یہ کہہ دینا کہ اگر کسی ملک میں عورتوں کو تمام فیلڈز میں بہتر نمائندگی مل جائے گی تو عورتوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔Gender gap
    کو کم کرنے کے لئے ہیلتھ ایجوکیشن اور ورک میں بہت سےایسےMeasuresہیں جو کہ ہمیں بحیثیت معاشرہ لینے پڑتے ہیں۔ اور Gender gapکی اگر بات کی جائے تو آئس لینڈ وہ ملک ہے جہاں یہ Gapسب سے کم ہے حالانکہ وہاں عورتوں کی Political representationکافی کم ہے۔دراصل آپ کو یہ سب Detailsبتانے کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی لڑائیاں کرنے سے یا خواتین کے صرف سیاست میں آجانے اور زیادہ نوکریاں حاصل کر لینے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض کی جو لڑائی چل رہی ہے وہ آپس میں مل بیٹھ کر ہی حل ہونگے ہمیں اپنے اپنے RolesکوDefineکرنا ہوگا اور ان رولز کو بہتر طور پر ادا کرنا ہو گا جو کام عورت کا ہے اسے عورت کو بہتر طور پر کرنا ہو گا اور جو کام مردوں کے ہیں ان کو کرنے ہونگے۔ ہمیں بحیثیت انسان ایک دوسرے کا خیال کرنا ہو گا تاکہ ہمارا ملک عورتوں اور بچوں کے لئے محفوظ ہو سکے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی عورتیں ہی آنے والی نسل کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور جب تک آپ کی آنے والی نسلیں بہتر نہیں ہونگی آپ کے معاشرے کا مستقبل بہتر نہیں ہو سکتا۔

  • افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کی افغانستان کے ساتھ جنگ کے حوالے سے آج تک ایک بات تو بہت کی گئی ہے کہ اس جنگ میں امریکہ نے کئی ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا لیکن ایک بات جو آپ نے کبھی نہیں سنی ہو گی وہ یہ ہے کہ امریکہ نے اس جنگ سے کتنے ارب ڈالرز کمائے۔جی ہاں۔۔۔ اس جنگ میں امریکی حکومت کا ہونے والا نقصان ایک طرف ہے لیکن میں آج بتاوں گی کہ وہ کونسی امریکی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اس جنگ میں اربوں ڈالرز کمائے۔ یعنی امریکہ کو اس جنگ میں اخلاقی ناکامی تو ضرور ہوئی لیکن مالی طور پر بہت فائدہ بھی ہوا۔ اور اب جب یہ جنگ ختم ہو چکی ہے امریکہ افغانستان سے واپس جا چکا ہے تو ان کمپنیز کو حاصل ہونے والا اربوں ڈالرز کا منافع بھی بند ہوگیا ہے جس کے بعد ایک مخصوص حلقہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک نئی جنگ میں گھسیٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟ اس سب پر بات کریں گے۔Brown university کےCost of war project
    کے مطابق2001سے2021 کے درمیان امریکہ نے جتنے پیسے اس جنگ پر خرچ کیے اس میں سے آدھی سے زیادہ رقم کی ادائیگی افغانستان میں امریکی محکمہ دفاع کے مختلف آپریشنز کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کی گئی۔ اور یہ ساری ادائیگیاں امریکہ کی چند نجی کمپنیز کو کی گئیں کیونکہ اس جنگ میں امریکی افواج کے اپنے فوجی اور وسائل بہت کم استعمال کئے گئے تھے۔ زیادہ تر وسائل دفاعی Defence contractorsنے فراہم کیے تھے۔ جن کے لئے ان کو payکیا جاتا تھا۔اب اگر بات کی جائے اخراجات کی تو امریکی حکومت کی اپنی ویب سائٹ USAspending.comکے مطابق 2008سے 2021کے دوران تین امریکی کمپنیوںDencorp FluorKellogg Brown & Rootکو امریکی حکومتوں نے سب سے بڑے ٹھیکے دیے۔امریکی کمپنیDencorp سے افغانستان میں مختلف سروسز حاصل کی جاتیں تھیں جن میں ملک کی نیشنل پولیس اور انسداد منشیات کی فورسز کو سامان کی فراہمی اور تربیت شامل تھی۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی سابق صدر حامد کرزئی کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز کی ٹیم بھی دیتی تھی۔چند سال پہلے اس کمپنی کو ایک دوسری امریکی کمپنیAmentumنے خرید لیا تھا۔ اس طرح ان دونوں کمپنیوں کو افغانستان میں سروسزکے لئے 14.4 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔Texasمیں قائم کمپنیFluor فلور کو جنوبی افغانستان میں امریکی فوجی اڈے تعمیر کرنے کے ٹھیکے دیے گئے تھےاس کمپنی کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق یہ افغانستان میں 56 اڈے آپریٹ کرتے تھے۔ ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے اور ایک دن میں ایک لاکھ 91 ہزار سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھے۔ اس کام کے لئے اس کمپنی کو افغانستان میں 13.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔ اس کے بعد Kellogg Brown & RootیعنیKBRکوانجینیئرنگ اور اجسٹکس کا کام دیا جاتا تھا۔ انھیں رن وے اور طیاروں کی سروس، ہوائی اڈوں کی Management and aranotical communicationکے لئے3.6 بلین ڈالرز کے ٹھیکے ملے۔ان کے علاوہ جس کمپنی کو سب سے بڑے ٹھیکے ملے وہ Raytheonتھی۔ اس کا شمار امریکہ کی بڑی فضائی اور دفاعی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اسے افغانستان میں سروسز کے لئے 2.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔

    اسے حال ہی میں افغان ایئرفورس کی ترتیب کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی جس کے لیے 2020 میں اس نے 145 ملین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔Virginiaمیں قائم سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی کمپنیAegis LLCوہ پانچویں بڑی کمپنی ہے جس نے افغانستان میں سب سے زیادہ پیسے کمائے۔اسے امریکی حکومت سے 1.2 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے تھے۔ اسے کابل میں امریکی سفارتخانے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔یہ اعداد و شمار دوہزارآٹھ سے دوہزار بیس تک کے ہیں۔ جبکہ اگر دو ہزار ایک سے ٹھیکوں کی مالیت کی بات جائے توCost of war projectکی رپورٹ کے مطابق2001سے 2020تک ان پانچ کمپنیوں کو پینٹاگون سے دو عشاریہ ایک ٹریلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔اور یہ رقم صرف وہ ہے جو انہوں نے براہ راست ٹھیکوں کی مد میں حاصل کی اس کے علاوہ کیا کیا فوائد حاصل کئے گئے ان کی تفصیلات صرف ان کمپنیز کو ہی معلوم ہیں اور کیونکہ یہ تمام پرائیوٹ کمپنیاں ہیں تو یہ اپنی معلومات پبلک بھی نہیں کرتیں۔اور ان پانچ کمپنیوں کے علاوہ بھی بہت سی دفاعی کمپنیاں ایسی ہیں جن کا اسلحہ،Navigation and communication equipmentفوجی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ریڈار، نائٹ ویژن سسٹم،Light armoured vehiclesبھی افغانستان میں استعمال ہوئیں جس سے انہوں نے بھی اس جنگ میں خوب مال بنایا مگر کیونکہ اس دفاعی سامان کی پروڈکشن کو براہ راست اس جنگ سے نہیں جوڑا جاتا تو ان کمپنیز کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔اس کے علاوہ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کے دوران ان کمپنیوں کو یہ بھی چھوٹ دی گئی تھی کہ وہ مختلف سامان اور سروسز کی قیمتوں کا تعین خود کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے کئی کنٹریکٹ تو بغیر مقابلے کے دے دیے گئے تھے۔ اور کمپنیوں نے اپنی من مانی قیمتیں حاصل کیں تھیں۔اور بعض اوقات جب حالات زیادہ خراب ہوتے تھے تو یہ کمپنیاں مشکلات کو وجہ بنا کر قیمتیں بڑھا بھی دیتیں تھیں۔ اس کے علاوہ ان ٹھیکوں میں Interest rateبہت زیادہ ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ایک بلڈنگ کو پینٹ کرنے کے لئے 20گنا زیادہ رقم وصول کی گئی جبکہ کچھ کیسسز میں ایسا بھی ہوا کہ عمارت کو پینٹ نہیں کیا گیا اور پیسے بھی لے لئے گئے۔

    پھر ایسا بھی ہوتا تھا کہ یہ کمپنیاں افغانستان کی لوکل کمپنیوں کو ٹھیکہ دے کر انتہائی سستے داموں میں کام کروا لیتیں تھیں لیکن خود امریکی حکومت کو کئی گنا زیادہ پیسے چارج کرتیں تھیں۔ اس طرح امریکہ نے اس جنگ میں جو کچھ خرچ کیا اس کا ایک بڑا حصہ واپس امریکہ ہی جاتا رہا اور وہاں کی کمپنیاں مضبوط ہوئیں کاروبار بڑھا اور خوب منافع کمایا گیا۔اور اب جب امریکہ یہ جنگ ختم کرکے واپس چلا گیا ہے تو یہ کمپنیاں ایک مخصوص طریقے سے لابنگ کروا رہی ہیں کہ کوئی نیا محاذ شروع کیا جا سکے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ دوبارہ کوئی جنگ شروع ہوتی ہے تواب تو ان کمپنیوں کے پاس پہلے سے زیادہ تجربہ ہے جس کی بنیاد پر پھرانہی کمپنیوں کو ٹھیکے دئیے جائیں گے اور اس طرح یہ منافع خوری چلتی رہے گی۔اب سوال یہ آتا ہے کہ امریکہ کا اگلا نشانہ کونسا ملک ہو سکتا ہے؟تو اس کے لئے میں آپ کو بتاوں کہ اب کی بار زیادہ چانسز یہ ہیں کہ امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا بلکہDirectہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑی جائے گی اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں بھی کر رہے ہیں۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacific میں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ بس اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔اس معاہدے کے علاوہ بھی کئی ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی امریکہ سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔ بہر حال صورتحال جو بھی ہو آنے والے دن اس خطے کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ اور چین کے درمیان ٹاکرا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس طرح کے حالات میں اخلاقی ناکامی تو ہو سکتی ہے لیکن مالی طور پر فائدے ہی فائدے ہوتے ہیں جس کے لئے امریکی کمپنیاں بہت بے چین ہیں۔

  • نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    جب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اپنا دورہ کینسل کرکے واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا تو کہا تھا کہ بظاہر جو وجوہات ہمیں بتائی جا رہی ہیں یہ پورا سچ نہیں ہے۔اور اب اس بات کے ثبوت بھی سامنے آ رہے ہیں کہ اس تمام معاملے کے پیچھے ہمارا دیرینہ دشمن اور ہمسایہ بھارت ملوث ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت نے ایسا کیوں کیا ؟کیا پاکستان کو آئی سی سی میں یہ کیس لیکر جانے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟ پہلے بات کر لیتے ہیں کہ ابھی تک وہ کون سے ثبوت ہمارے سامنے آئے ہیں جو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس تمام کارستانی کے پیچھے بھارت ملوث تھا۔یہ سازش دراصل شروع ہوئی تھی ایک فیس بک پوسٹ سے جو انیس اگست کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے بنے ایک جعلی اکاونٹ سے کی گئی تھی۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا کہ۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور حکومت اپنی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجیں کیونکہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ داعش پاکستان میں کارروائی کرنے کی تیاری کر ہی ہے اور وہ ٹارگٹ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی ہو سکتی ہے میں جانتا ہوں کہ داعش مجھ سے ناراض ہو گی اس پوسٹ کے بعد۔ اب یہ نیوزی لینڈ کی حکومت پر ہے کہ وہ غور سے سوچیں۔

    اس کے بعد اکیس اگست کو Abhinandan Mishraجو کہ بھارتی اخبارSunday Guardianکے بیورو چیف ہیں انہوں نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں لکھا گیا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں دہشتگرد حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ آرٹیکل اسی جعلی فیس بک پوسٹ کو بنیاد بنا کر لکھا گیا تھا اور Abhinandan Mishraکے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے امر اللہ صالح کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔اس کے بعد چوبیس اگست کو نیوزی لینڈ کے کھلاڑیMartin Guptill کی بیوی کوایک ای میل ملتی ہے جو کہ tehreeklabaik@protonmail.com
    کی آئی ڈی سے بھیجی گئی تھی۔ اس ای میل میں یہ دھمکی دی گئی کہ مارٹن کو پاکستان میں قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن جب اس ای میل کی تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ یہ ای میل کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک سے جڑی ہوئی نہیں ہوئی تھی۔ اور وہ ای میل اکاﺅنٹ چوبیس اگست کو رات ایک بج کر پانچ منٹ پر بنایا گیا تھا اور بنانے کے چند گھنٹوں کے بعد صبح گیارہ بج کر
    59 منٹ پرMartin Guptillکی بیوی کو اس سے ای میل کی جاتی ہے۔ اور یہ ایک اکلوتی ای میل ہے جو اس اکاونٹ سے کی گئی یعنی اس سے پہلے یا اس کے بعد ابھی تک اس اکاونٹ سے کوئی اور ای میل کی ہی نہیں گئی۔protonmailدراصل ایکSecure serviceہے۔ جس کی تفصیلات آسانی سے مہیا نہیں ہوتیں۔ بہر حال اس کے لئے انٹر پول سے درخواست کی گئی ہے اور وہ ہی ہمیں کچھ مدد کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام دھمکیوں کے باوجود نیوزی لینڈ نے یہ دورہ کینسل نہیں کیا تھا اور گیارہ ستمبر کو نیوزی لینڈ کی ٹیم چارٹرڈ فلائٹ سے پاکستان پہنچ بھی گئی تھی۔ اور T20ٹیم کے ممبرز بارہ ستمبر کو یہاں پہنچے۔ اس کے بعد ان کو یہاں ہائی لیول کی سیکیورٹی دی گئی۔ سرینا ہوٹل میں ان کو الگ ایک پورا ونگ دیا گیا تھا۔ جہاں ٹیم اور سیکیورٹی فورسز کے علاوہ کسی کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ Civil arm forces, police, rangers اور سیکیورٹی ایجنسیز سب مل کر ان کو سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ تقریبا ایک ہزار سے زیادہ لوگ اس ٹیم کو سیکیورٹی مہیا کر رہے تھے۔ دو ہیلی کاپٹرز بھی ان کی سیکیورٹی کے لئے فراہم کیئے گئے۔ آخری بار اتنی سیکیورٹی اس وقت کی گئی تھی جب محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس کے بعد پریکٹس سیشن کا شیڈول بھی جاری ہوا دونوں ٹیموں نے دھمکیوں کے بعد باوجود دو دن پریکٹس بھی کی لیکن کوئی الرٹ رپورٹ نہیں ہوا اس کے بعد ایک دن چھٹی کا بھی گزارا لیکن کوئی سیکیورٹی ایشو سامنے نہیں آیا۔

    لیکن سترہ ستمبر کو میچ سے پہلے صبح ساڑھے دس بجے نیوزی لینڈ کی ٹیم یہ بتاتی ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے تھریٹ الرٹ آیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی حکومت کی ہدایت پر یہ دورہ منسوخ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پی سی بی کے حکام ، وزارت داخلہ کی ٹیم اور ایجنسیوں کے لوگ ان کے پاس بھی گئے اور درخواست کی کہ آپ لوگ ہم سے تھریٹ الرٹ شیئر کریں لیکن انہوں نے ایسا کوئی ثبوت شئیر نہیں کیا۔حالت تو یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان جو اس وقت ایس سی او کے سمٹ میں مصروف تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم Jacinda Ardernسے بات بھی کی کہ اگر وہ اس وقت دورہ کینسل کریں گے تواس سے عوامی سطح پر تلخی پیدا ہو گی لیکنJacinda Ardernنے کہا کہ ان کے پاس سنجیدہ انفارمیشن ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ لیکن وہ سنجیدہ انفارمیشن آج تک ہم سے شئیر نہیں کی گئی۔ اب جب دورہ کینسل ہونے اور ٹیم کے واپس جانے کے بعد ہمارے اداروں نے تحقیقات کیں تو سب کچھ کھل کر سامنے آگیا کہ ان یہ دھمکی آمیز ای میلز کےپیچھے سب کچھ کیا دہرا بھارت کا ہے۔یہ ای میل بھارتی شہر ممبئی سے بھیجی گئیں جس میں وی پی این استعمال کرتے ہوئے سنگا پور کی لوکیشن دکھائی گئی۔ ایک ای میل اٹھارہ ستمبر کو بھی سامنے آئی۔ اس کے بارے میں Interpol Wellingtonنےانٹر پول اسلام آباد کو بتایا کہ ہمیں Hamzaafridi7899@gmail.com کے ای میل اکاﺅنٹ سے ایک ای میل موصول ہوئی ہے۔ جو کہ نیوز ی لینڈ کے وقت کے مطابق 18 ستمبر 6 بج کر 25 منٹ پر کی گئی تھی۔ جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق یہ ای میل 17 ستمبر 11 بج کر 25 منٹ پر بھیجی گئی۔جس میں دھمکی دی گئی کہ۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم آپ نے پاکستان جا کر غلطی کی اب آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ہوٹل سے فلائٹ کے راستے میں کہیں پر بھی بم لگایا جائے گا میرے لوگ آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ وہ آرہے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔ اللہ اکبر۔

    یہ ای میل بھی آئی ڈی بنانے کے پندرہ منٹ بعد بھیجی گئی۔ ای میل بھارت سے کی گئی تھی لیکن وی پی این کا استعمال کرتے ہوئے سنگاپور کی لوکیشن شو کی گئی تھی۔ کیونکہ یہ ڈیوائس جس سے ای میل بھیجی گئی تھی اس ڈیوائس پر 13 اور آئی ڈیز بنے ہوئے ہیں اور وہ تمام آئی ڈیز ہندی ناموں پر ہیں۔ زیادہ تر ای میلز ہندی فلم انڈسٹریز اور ڈراموں کے نام پر بنائی گئی ہیں۔ صرف ایک ای میل پر حمزہ کا نام ڈالا گیا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ یہ ای میل تھریٹ پاکستان سے آیا ہے ۔یہ موبائل ڈیوائس بھارت میں اگست 2019 میں لانچ کی گئی تھی موبائل سم 25 ستمبر 2019 کو انڈیا میں رجسٹرڈ ہوئی اس ای میل کو استعمال کرنے والے شخص کا نام اوم پرکاش مشرا ہے جس کو تعلق ممبئی سے ہے۔ لیکن اس ای میل کے ٹائم پر آپ غور کریں تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ اس ای میل کا دورہ کینسل ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ دورہ کینسل کرنے کے بعد ای میل کی گئی تھی۔ تاکہ اس تمام کام میں پاکستان کو ملوث کیا جا سکے۔اب اس حوالے سے مزید ثبوت حاصل کرنے کے لئے وزارت داخلہ نے ایف آئی آر درج کرکے انٹرپول سے بھی رابطہ کرلیا ہے۔ تاکہ معاملے کو بے نقاب کیا جا سکے۔ کیونکہ نیوزی لینڈ کے بعد ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو بھی اسی طرح کے ایک ای میل اکاونٹ سے ایک ای میل کی گئی ہے۔ جوehshanullahehshan@protonmail.comکے اکاونٹ سے کی گئی ہے اور اس ای میل آئی ڈی میں اگر آپ احسان کے سپیلنگ پر غور کریں تو آپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ یہ کسی ہندی بولنے والے کے Spellings تو ہو سکتے ہیں لیکن اردو بولنے والے احسان کے یہ Spellings
    کبھی استعمال نہیں کرتے۔ویسے بھی ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ چند ماہ پہلے جب آزاد کشمیر میں کے پی ایل کھیلی گئی تھی تو بھارت نے کھلی دھمکی دی کہ اس ٹورنا منٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو بھارت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے مقابلوں کو روکنے کے لئے بھارت کس حد تک جا سکتا ہے۔
    لیکن پاکستانیوں کو اس وقت زیادہ افسوس اس لئے ہے کہ جب نیوزی لینڈ پر دہشت گردی کا حملہ ہوا تھا تو اس وقت وہاں موجود ہمارے کرکٹرز اور ہماری قوم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گی تھی لیکن ان کی ٹیم ان جعلی ای میلز کے ڈر سے ہی واپس چلی گئی۔اب بات آتی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ہماری حکومت کے رد عمل کی۔ رمیز راجہ کا اس بارے میں کافی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپنی ٹوئیٹ کے آخر میں انہوں نے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے؟ نیوزی لینڈ ہمیں اب آئی سی سی میں سنے گا۔

    اس کے علاوہ ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ۔۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دوروں کی منسوخی سے پاکستان ٹیلی ویژن کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ دونوں بورڈز کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وکلا سے مشورہ کریں گے۔اب سوال یہ آتا ہے کہ کیا ہمیں آئی سی سی میں جانے سے یا پھر بورڈز کے خلاف قانونی کاروائی سے کوئی فائدہ ہو گا؟؟ سب سے پہلے تو ابھی یہ بھی کلئیر نہیں ہے کہ قانونی کاروائی کرے گا کون؟ حکومت کرے گی، پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا یا پھر پی ٹی وی؟اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی ہدایت پر کوئی سیریز کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس میں آئی سی سی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔اس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کا ہمیشہ ایک ہی جواز پیش کرتا ہے کہ اسے اپنی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے ساتھICC future tour programکے تحت ہونے والی چھ سیریز نہ ہونے پرجو آئی سی سی میں اپنا کیس کیا ہوا تھا کہ سیریز کینسل ہونے سے جو ہمارا نقصان ہوا ہے چھ کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کیس میں شکست ہو گئی تھی اور ایک بھی پیسہ ملنے کے بجائے ہمیں وکیلوں کی فیس کے طور پر 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پڑے تھے۔اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ ایسے کسی فراڈ میں آنے سے بچیں اس سے ہمارے سیاستدانوں کو سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں مزید نقصان ہی ہو گا اور ہمارا ٹائم بھی ضائع ہو گا۔ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ابھی صرف ٹیم کی کارکردگی پرتوجہ دیں تاکہ آنے والے ورلڈ کپ میں خود کو ثابت کر سکیں کیونکہ دورہ کینسل ہونے سے جو نقصان ہونا تھا وہ اب ہو چکا ہے۔

  • آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    میں آپ کے ساتھ کچھ ایسی خبریں شئیر کروں گی کہ آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیوں ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے میں تو ناکام ہو چکی ہے جس کے لئے اس کے پاس ایک ہزاروجوہات ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بڑے آرام سے یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے قیمتیں ابھی بہت کنٹرول میں ہیں ورنہ اصل قیمتیں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔ لیکن میرا سوال ان حکمرانوں سے یہ ہے کہ وہ اس ملک کی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیوں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عورتیں اور بچے نہ گھروں سے باہر محفوظ ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں کے اندر۔۔۔

    اب میں آپ کے ساتھ کچھ تازہ ترین واقعات کی خبریں شئیر کروں گی جس سے آپ کو حالات کی سنگینی کا بہتر طور پر اندازہ ہو سکے گا۔ ضلع چنیوٹ کے بھوانہ سرکل میں بدفعلی کا انتہائی خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک دس سالہ یتیم بچے کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ اور زیادتی کرنے والے کوئی دو یا تین فرد نہیں تھے بلکہ سترہ افراد کا ایک پورا گروہ تھا جس نے اس معصوم بچے کے ساتھ یہ حیوانیت اور درندگی کی۔اس بچے کا والد دو سال پہلے فوت ہو چکا ہے اور وہ اپنے ماموں کے زیر کفالت ہے اب ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ شام تقریبا سات بجے تین فرد آئے اور اس بچے کو گھر سے بلا کر موٹر سائیکل پر باہر لے گئے۔ فصلوں میں لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا۔ جس کے بعد یہ باری باری اس دس سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کرتے رہے اور ساتھ میں موبائل فون پر ویڈیو بھی بناتے رہے۔ اور یہ سلسلہ پچھلے کئی دنوں جاری تھا کہ درندوں کا یہ گروپ اس یتیم بچے کو بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں اس کے ساتھ بدفعلی کرتے رہے۔جب اس متاثرہ بچے کے گھر والوں کو اس سب کا علم ہوا تو انہوں نے تھانہ بھوانہ میں مقدمہ درج کروایا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس پورے گروپ میں سے کوئی ایک ملزم بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ ایک اور تھانہ سٹی سمندری کے علاقہ زم زم کالونی کے رہائشی احسن نے بھی مقدمہ درج ہوا ہے جس کے مطابق ایک 14 سالہ لڑکے کو 22 سالہ ملزم نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ان واقعات کے بارے میں آپ ہو سکتا ہے کہ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ چھوٹے علاقے ہیں اس لئے وہاں کے حالات خراب ہیں وہاں کی پولیس بھی اتنی Efficientنہیں ہے۔ تو اب میں آپ کو لاہور شہر کا ایک واقعہ بتاتا ہوں جہاں ہوٹل کے اندر ایک لڑکی کے ساتھ 7 روز تک اجتماعی زیادتی کی جاتی رہی۔ سوچیں یہ لاہور شہر ہے جس میں ابھی حالیہ چودہ اگست کے واقعات کے بعد پولیس کافی الرٹ ہے اور پھر بھی اس طرح کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ملت پارک میں ایک ہوٹل کے اندر لڑکی کو ایک تقریب کا جھانسہ دیکر بلایا گیا اس کے بعد سات روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اس سے چھ لاکھ روپے بھی چھین لئے گئے۔ لیکن ہوٹل میں اتنے دن تک کسی کا کان و کان خبر نہیں ہوئی کہ بر وقت پولیس کو اطلاع دی جاتی لیکن خیر بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس عورت کی شکایت کے بعد تین میں سے ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس کے علاوہ لاہور شہر کا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں ملزم نے ایک عورت کو اس کی کم سن بیٹی کے سامنے ہی گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔اور یہ سب کرنے والا ملزم دراصل ان کا ہمسایہ تھا جو پہلے تو ماں بیٹی پر جسم فروشی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا لیکن خاتون کے انکار پر ملزم نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ یہاں تک کہ ملزم نے اس عورت کی تیرہ سالہ بیٹی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔لاہور کا ہی ایک اورحیرت انگیز واقعہ میں آپ کو بتاوں جس میں بے حیائی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئیں۔ گلشن راوی کے علاقے میں ایک ستائیس سالہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سکھانے کے لئے ڈال رہی تھی اس دوران اس کا ہمسایہ اپنے گھر کی چھت پر برہنہ ہوگیا اوراس لڑکی کو ہراساں کرتا رہا۔پولیس کے مطابق اس ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس سے ایک روز پہلے بھی گلشن راوی کے علاقے میں ایک لڑکی کو نوجوان نے اسی طرح برہنہ ہوکر ہراساں کیا تھا جس کا ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا۔

    اس طرح کے واقعات آئے روز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان واقعات میں ایک طرف تو لوگ اپنے علاقے والوں اور ہمسایوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی آجکل سامنے آ رہے ہیں جس میں بچیاں اپنے سگے اور قریبی رشتے داروں سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔راولپنڈی کے ایک علاقے میں ماں نے عین موقع پر پہنچ کراپنی 5 سالہ بیٹی کو اس کے چچا کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے سے بچا لیامتاثرہ بچی کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہمسائی سے ملنے کے لئے پڑوس میں گئی تھی لیکن جب واپس پہنچی تو آ کر دیکھا کہ اس کا دیوراس کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا۔ ماں کے شور کرنے پر اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اب سے دو دن پہلے شیخوپوہ میں بھی انتہائی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ جہاں ایک کمسن بچی ایک درندے کی درندگی کا نشانہ بن گئی۔پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں 6 سالہ ہادیہ محلے میں موجود دوکان پر چیز لینے گئی جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا۔ اور یہ سب کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ دوکاندار ہی تھا اس نے بچی کو اغواء کرکے اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل بھی کرڈالا۔ اور درندے نے اپنا جرم مٹانے کے لئے بچی کی لاش کو نہر میں پھینک دیا۔اس کے علاوہ شیخوپورہ کے ہی ایک علاقے میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوں نے ماں باپ کے سامنے انکی حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔تین ڈاکوں ڈکیتی کی واردات کے لئے رات گئے گھر میں گھس گئے کاشتکار کے گھر سے نقدی اور زیورات لوٹ کر لے گئے اور ساتھ ہی والدین کو رسیوں سے باندھ کر انکے سامنے ان کی عالمہ اور حافظہ بیٹی کو اجتماعی نشانہ بنایا۔ ان تمام واقعات میں سے ایک یا دو ایسے ہیں جن کے ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور تفتیش ہو رہی ہے لیکن میرا سوال پھر بھی یہی ہے کہ آخر کیوں ہماری حکوت اور پولیس اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہے؟ کیوں یہ درندے دن بہ دن اتنے بےخوف ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی جانیں۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ اگر ہماری پولیس ان درندوں کو پکڑ بھی لے تو ہمارا عدالتی نظام ایسا نہیں ہے کہ ان کو فوری سزا سنائی جائے۔ جس کی وجہ سے سالوں سال کے لئے نہ صرف کیسسز لٹک جاتے ہیں بلکہ مظلوم کو بھی تھکا ڈالتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر تو یہ مجرمان اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے کچھ ہی عرصے بعد پولیس کی قید سے بھی رہائی حاصل کر لیتے ہیں اور باہر آ کر پھر اسی گھناونے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

    اس لئے میرا تو ان حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مہنگائی آپ کے کنٹرول سے باہر ہو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتیں آپ کو اپنے ملک میں چیزیں سستی کرنے سے روک رہی ہوں لیکن خدارہ انسانوں کی عزتیں اور ان کی جانیں اتنی سستی نہیں ہیں۔۔۔ آخر اس میں آپ کی ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ لوگوں کو نہ تو تحفظ مل رہا ہے اور نہ ہی انصاف۔۔ آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے اور اپنی عزتوں اور جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے آخر کب تک۔۔۔

  • کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    میں نے اپنے گزشتہ کالم میں آپ کو بتایا تھا کبالہ کیا ہوتا ہے اس کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟ اور آج کے کالم کا عنوان ہے کہ یہ کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے اور اس کا لوگوں کی زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے؟ شیطان کے ان پیروکاروں کو کن علامات سے پہچانا جا سکتا ہے؟ آج کل کے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ڈارک ویب سے کیا تعلق ہے؟اگر ہم صرف پاکستان کی ہی بات کریں تو یہاں آپ کو اصلی اور جعلی بہت سے عاملین نظر آئیں گے اور ہر ایک یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس بہت سے موکل ہیں جن کے ذریعے وہ آپ کی تمام پریشانیوں اور مسائل کو حل کروا سکتے ہیں۔یہ موکل دراصل جنات ہوتے ہیں ان میں سے کچھ نیک جن ہوتے ہیں اور کچھ بد۔۔۔ بدی کو ماننے والے جنوں کے ذریعے سے کبالہ اور کالا جادو کروایا جاتا ہے۔یہ عاملین کچھ ایسے عمل کرتے ہیں یا آپ کہہ لیں کہ ایسے چلے کاٹتے ہیں، شیطان کی پوجا کرتے ہیں جس کے بعد یہ موکل یا جنات کسی حد تک ان کے کنٹرول میں آجاتے ہیں۔ جس کے بعد ان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے بھی یہ عاملین مسلسل کچھ اس طرح کے کام یا چلے کرتے ہیں تاکہ یہ موکل ان کے کنٹرول سے باہر نہ جا سکیں۔

    ان چلوں کے لئے سب سے پہلے تو یہ عاملین پاک اور ناپاک کے فرق کو ختم کر دیتے ہیں۔ پیشاب، پخانہ، نجاست، خون ان کو اس سے گھن نہیں آتی بلکہ اپنے چلوں میں یہ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ کالے جادو کے لئے خاص طور پر خون کے ساتھ تعویز لکھے جاتے ہیں۔ تعویزوں میں شیطان کی علامات بنائی جاتی ہیں یا شیاطین کے نام لکھے جاتے ہیں۔ کچھ گنتی کو بھی الٹا سیدھا لکھ کر کچھ کوڈز بنا کر لکھے جاتے ہیں جن کا صحیح مطلب صرف اس شیطان کے پیروکار ہی سمجھ سکتے ہیں۔ قرآنی اوراق کو جلایا جاتا ہے۔ قرآنی آیات کو الٹا لکھا جاتا ہے۔ جادو کے لئے جس انسان پر یہ عمل کرنا ہو اس انسان کے پہنے ہوئے کپڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کالا مرغا، کالا کتا، کالی بلی یا کالی سری بھی جادوئی عمل کے لئے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ چاند کی تاریخوں میں مختلف پتلے بنا کر اس پر سوئیاں ٹھوکی جاتی ہیں۔ تاکہ لوگوں کے کاروباروں کو ٹھپ کروایا جا سکے، میاں بیوی والدین اور بچوں کے آپسی تعلقات خراب کروائے جا سکیں۔ لوگوں کی صحت متاثر کروائی جا سکے۔ دولت، طاقت اور غلبہ حاصل کیا جا سکے۔اس کے علاوہ شیطانی علامات کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان علامات کو لاکٹ بنا کر گلے میں پہنا جاتا ہے۔ یا جسم پر ان نشانوں کے Tattoos بنوائے جاتے ہیں۔ جیسے شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے سینگھ ہوتے ہیں تو جو شیطان کے پجاری ہوتے ہیں یا جو ان کو مانتے ہیں وہ اکثر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اسی طرح کے نشان بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ تکون، پانچ کونوں والا ستارہ اور ایک آنکھ کا نشان یہ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیطان کی پوجا کرنے والوں کا ایک نشان 9/11بھی ہے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ کبالہ کی قدیم ترین کتابوں میں جادو کے لئے جو کوڈنگ کی گئی تھی اس میں دس کا ہندسہ خدا کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور گیارہ کا ہندسہ شیطان کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تو اب9/11کو اکھٹا لکھ کر یا نشان بنا کر نو اور گیارہ کے درمیان سے دس کو ہٹا کر دراصل یہ لوگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ خدا کو نہیں مانتے بلکہ شیطان کی طاقت کو مانتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔

    کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    9/11 پر جو حادثہ ہوا اور جس پلاننگ کے ساتھ یہ کیا گیا جس کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہو گئی تھی وہ تو سب جانتے ہی ہیں لیکن 9/11کا ہندسہ اس سے پہلے بھی بہت زیادہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ Simpson cartoonsکے بارے میں اگر آپ جانتے ہوں تو اس میں بھی اس کا بہت سی جگہوں پر استعمال کیا گیا تھا۔ انگریزی فلموں تک میں اس سائن کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ ایک ہاتھ کا نشان بھی ہوتا ہے جس کی ہتھیلی پر ایک آنکھ کا نشان بنا ہوتا ہے۔ کھوپڑی اور ہڈیوں والے نشانات کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ قبروں سے کھوپڑی اور ہڈیاں نکال کر ان پر بھی جادوئی عمل کرتے ہیں۔ یہ لوگ اکثر ہاتھ کی کلائی پر لال رنگ کا دھاگہ باندھتے ہیں۔ اور شیطانی عملیات سے متعلق جتنے بھی سائن ہیں ان کو بار بار استعمال کرنے کا مطلب اصل میں شیطان کے ساتھ اپنی عقیدت کا ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اب آتے ہیں دوسرے اہم پوائنٹ کی طرف کہ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ان سے کیا تعلق ہے؟

    دیکھیں یہاں پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی نے صرف اپنی جنسی ہوس کی تسکین کرنی ہے تو وہ مرد کسی عورت کے ساتھ زیادتی کرے گا اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو جائے گا جیسا کہ ہم نے موٹروے کیس میں دیکھا اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں کہ جس میں کوئی ایک مرد یا چند مردوں کا گروہ ایک عورت کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور اس کے بعد فرار ہو جاتے ہے یا زیادتی کے بعد اس کو کسی ویران جگہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن آجکل آپ کو زیادہ تر ایسے کیسسز سنائی دیں گے جس میں لڑکیوں یا چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ پہلے زیادتی کی جاتی ہیں پھر ان پر تشدد کرکے انھیں قتل کر دیا جاتا ہے اور لاش کو بوری یا شاپر میں بند کرکے یا ویسے ہی کچرے کے ڈھیر پر یا کسی سنسان جگہ پھینک دیا جاتا ہے۔اس طرح کے واقعات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کالا جادو سیکھنے والے یا کالا جادو کرنے والے لوگ شیطان کو خوش کرنے اور شیطانی طاقتیں حاصل کرنے کے لئے یہ سب کرتے ہیں پہلے بچی کے ساتھ ناجائز عمل اور زیادتی کی کرتے ہیں پھر شیطان کو خوش کرنے کے لئے اس بچی کی قربانی کی جاتی ہے اور اس کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ خاص کر وہ قتل جس میں کسی بچی کے جسم کے مختلف حصوں پر کٹ لگائے جائیں یا پھر مختلف حصوں کا کاٹ کر الگ کر دیا جائے اس کے علاوہ گردن کو جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایسے چلوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ کالے جادو والے عاملین خود بھی شیطان کو خوش کرنے کے لئے یہ کان کرتے ہیں اور آگے اپنے شاگردوں سے بھی یہ کام کرواتے ہیں ان کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنا مشکل کام نکلوانا ہے یا یہ جادو سیکھنا ہے تو تمھیں بھی یہ سب کرنا ہوگا۔

     

    اس کے علاوہ جو واقعات ہم مردہ عورتوں کی لاش کو نکال کر اس کے ساتھ زیادتی کے سنتے ہیں اس کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے مردہ لاشوں اور قبرستان کی ویران جگہوں کو خاص طور پر جادو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرکے شیطانی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور ان واقعات کا ڈارک ویب کے ساتھ تعلق بھی دراصل ان شیطانی عملیات کی وجہ سے ہی ہے۔ کیونکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں قوانین بہت سخت ہوتے ہیں وہاں اس طرح کےSatanic cultوالے لوگ کیونکہ شیطان کے سامنے انسانوں کی قربانی نہیں دے سکتے تو وہ ہمارے جیسے ترقی پزیر ممالک میں جہاں لوگوں کا قانون کے ہاتھوں سے بچنا بہت آسان ہوتا ہے اور ان کی حکومتوں کے لئے بھی ڈارک ویب تک پہنچنا مشکل کام ہے یہاں سے لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور ان سے یہ زیادتی اور قتل کے واقعات کروائے جاتے ہیں اور خود ان کی ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں جو قاتل جتنی زیادہ درندگی کرتا ہے جو کسی بچی کو جتنی بے دردی سے مارتا ہے اس کو اتنے ہی زیادہ پیسے ملتے ہیں۔اس لئے ہمیں اگر اپنی سوسائٹی کو اس طرح کے واقعات سے بچانا ہے تو ہمیں دراصل اپنے لوگوں کو شیطان کے پجاریوں سے بچانا ہو گا۔ اس طرح کے عاملین سے بچانا ہو گا جو جن نکالنے کے نام پر ہماری عورتوں کی عزتیں لوٹتے ہیں۔ لوگوں کو شرک کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

  • کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    کبالہ لیا ہے؟ کبالہ دراصل بابل کی تہذیب کاعلم ہے جو مخصوص اعداد شمار اور علامات کے ذریعے کیا جاتا تھا جسےعام طور پر کالا جادو یا Black magicبھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دنیا باہرسے تو بہت رنگین، حسین اور خوبصورت نظر آتی ہیں لیکن اندر سے بہت ہی گھناونی ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے راز چھپے ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو اس دنیا کا حصہ ہوتے ہیں وہ یہ راز چھپانے کے لئے ہر حد تک چلے جاتے ہیں اس کے لئے چاہے ان کو کسی ایک یا پھر بہت سے انسانوں کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے۔ ان طاقتور لوگوں کے چمکتے دمکتے چہروں کے پیچھے بدنما، درندے اور دہشت ناک کردار موجود ہوتے ہیں جو کہ شیطانی پیروکار ہیں اور مٹھی بھر ہونے کے باوجود دنیا کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ دراصل یہ کبالہ نامی جادو شیطانیت اور سفلیات سے متعلق ہے جس میں مختلف نشہ آور چیزوں، جادوئی عملیات اورHypnotismکے ذریعے دماغ اور اس کی سوچوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبالہ جادو کو جادوئی دنیا کا سب سے خطرناک جادو کہا جاتا ہے اس کے ذریعےAluminatiجو کہ دنیا کا ایک فیصد ہیں شیطان سے براہ راست ہمکلام ہوتے ہیں اور شیطان انہیں دنیا کو گمراہ کرنے اور اس پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سمجھاتا ہے جس کو اپنا کر یہ لوگ دولت شہرت اور حکمرانی کے خواب کو پہلے ہی پورا کر چکے ہیں۔

    کبالہ صرف ایک خطرناک جادو ہی نہیں ہے بلکہ یہ جادو کی قدیم ترین شکل میں سے ایک ہے۔ اور اس کے تانے بانے بنی اسرائیل تک سے ملتے ہیں جو شیطانی طاقتوں اور عملیات پر یقین رکھنے اور ان پر عمل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا اور آپ ہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے جو موجودہ فلسطین میں آباد تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اور اللہ کے پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام جن کا قصہ یقینا ہر مسلمان جانتا ہے کہ کیسے حسد کی بناء پر ان کے سوتیلے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا تھا لیکن اللہ پاک نے آپ کو مصر کی حکمرانی عطا فرمائی، آپ نے اپنے تمام رشتہ داروں یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین سے مصر بلوا لیا اور یہ لوگ یہاں آکے آباد ہونے لگے۔
    مصر میں ان دنوں جادو میں عروج کمال پر تھا یہاں لوگ کبالہ نامی جادو اور سفلیاتی علم کے ذریعے ہر ناممکن اور ناقابل یقین کام کو سرانجام دیا کرتے تھے مثال کے طور پر سامری نامی جادوگر جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ان کے مقابلے کے لیئے فرعون کے کہنے پہ بلوائے گئے تھے وہ اسی کبالہ جادو کا سہارا لیا کرتے تھے۔اس دور کے مصری بادشاہوں کو فرعون کا لقب دیا جاتا تھا اس وقت کے جادوگر فرعون کو کبالہ نامی کالے جادو کے ذریعے سے شیطان سے رابطہ کر کے دنیا پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سکھاتے اور ایسی ایسی ایجادات کرواتے جن کو ابھی تک سائنس سمیت انسانی عقل حیرت سے تک رہی ہے انہی ایجادات میں ایک احرام مصر بھی شامل ہیں، نمرود کے دور کی عجیب ایجادات بھی انہیں میں سے ایک ہیں۔ لیکن ایک وقت آیا کہ حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ وہ اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کر جائیں۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر کے راستے نجات دلوا کر مصر سے نکل گئے جہاں فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اور موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دوبارہ سے فلسطین میں آباد ہو گئے۔لیکن اس دوران بنی اسرائیل قوم فرعونوں میں رہتے ہوئے غرور و تکبر، ماہر جادوگروں کا علم اور دنیا پر حکمرانی کے حربے سیکھ چکی تھی یعنی ان میں فرعونوں جیسی تمام درندگی والی صفات پیدا ہو چکی تھیں۔ فلسطین آکر بنی اسرائیل رفتہ رفتہ سرکش اور نافرمان بن گئی اور مصری جادوگروں سے سیکھے گئے کبالہ عملیات اور جادو کو اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کرنے لگیں۔

    بنی اسرائیل نے جادو میں مصری جادوگروں سے بھی زیادہ مہارت حاصل کر لی اور اسے اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو نقصان پہنچانے کے لیئے استعمال کرنے لگے یہاں تک کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور آیا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان سلطنت کے علاوہ جنات پر حکمرانی بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے یہودیوں نے لوگوں کو ورغلانہ اور بہکانہ شروع کر دیا اور انہیں بتایا کہ نعوذباللہ سلیمان علیہ السلام کے پاس کبالہ کی ہی حکمت موجود تھی جس کے ذریعے آپ جنات کو کنٹرول کرتے تھے لہذا لوگوں نے بنی اسرائیل کے ان یہودیوں کی باتوں میں آکر کبالہ جادو کو روحانیت کے طور پر سیکھنا شروع کر دیا یہاں تک کہ جادو کی کتابوں کو مقدس کتابوں کا درجہ دے کر ہیکل سلیمانی میں رکھ دیا گیا ۔مسلسل اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اس قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور ہیکل سلیمانی پر دو مرتبہ حملہ ہوا۔ پہلا حملہ بخت نصر اور دوسرا حملہ ٹائٹس نامی بادشاہ نے کیا اور ہیکل سلیمانی کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور یہاں موجود بنی اسرائیل کو قتل کیا جانے لگا تقریبا ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا بچے کچے یہودی مجبورا ہجرت کر کے پورے کرہ ارض پر پھیل گئے۔ ہیکل سلیمانی پہ حملے کے دوران جادو کی سب کتابیں ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے ہی دب کر رہ گئی جب کہ حملہ آوروں کو خبر تک نہ تھی کہ کبالہ نامی جادو کیا چیز ہے۔
    لیکن پھرگیارہ سو اٹھائیس عیسوی میں ان بچے کچے یہودیوں نے مل کر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نامknight templars رکھا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد بظاہر عیسائی مسافروں کو تحفظ فراہم کرنا تھا یعنی بظاہر یہ ایک سیکورٹی کمپنی بنائی گئی تھی مگر درحقیقت ان کا مقصد ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے موجود جادوئی کتابوں کو تلاش کرنا تھا جن کے یہ لوگ کبھی طالب علم رہے تھے اور یہ نہایت شاطرانہ انداز سے اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ کیونکہ 1860عیسوی میں برطانیہ کے دو انجنیرز نے حرم شریف کے نیچے کھدائی کی تاکہ کچھ سروے کر سکے تو وہاں انہیں سرنگوں کا ایک جال نظر آیا جو انknight templarsنے کھودیں تھیں تاکہ ہیکل کے کھنڈرات سے وہ نایاب جادوئی کتابیں ڈھونڈ سکیں۔ وہ یہ نایاب اور جادوئی اثرات والی کتابیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جن میں کالے جادو اور پر اسرار رسومات کا تمام علم تھا۔ ان سب کتابوں کو حاصل کر کے ان کی غیر معمولی طاقتوں کا فائدہ اٹھا کر دنیا پہ حکمرانی کرنا انknight templars کا مقصد تھا۔ یہ لوگ عیسائیوں کے ساتھ مل کر صلیبی جنگوں میں بھی شامل ہوتے رہے اور خود کو انہی کا حصہ یعنی عیسائی ظاہر کر کے دنیا پہ حکمرانی کے خواب دیکھتے رہے مگر سلطان صلاح الدّین ایوبی جیسے مسلم حکمران کے ہوتے ہوئے ان کے یہ ناپاک عزائم کامیاب نہ ہو سکے۔ چنانچہ جب عیسائیوں کو ان knight templars کے یہودی ہونے کا پتہ چلا تو انہیں قتل کرنا شروع کر دیا گیا جس کے بعد مجبور ہو کر یہknight templars سکاٹ لینڈ ہجرت کر گئے اور پھر آہستہ آہستہ وہاں سے اپنا اثر و رسوخ پورے برطانیہ تک پھیلا دیا۔ یہاں سکاٹ لینڈ میں انknight templars کے یہودیوں نے لوگوں کو طاقت اور دولت کے سہانے خواب دکھانے شروع کر دیئے کیونکہ وہ لوگوں پر حکمرانی کرنے اور لوگوں کے نفسیات سے کھیلنے کے تمام تر حربے جان چکے تھے یوں آہستہ آہستہ لوگ دولت اور ان کی سوچ کا شکار ہو کر ان میں شامل ہوتے گئے کیونکہ انسان فطری طور پر دولت اور طاقت ہی چاہتا ہے اور یوں یہ تنظیم تیزی سے پھیلنے لگی یہاں تک کہ اسے 1128 میں مذہبی تنظیم تسلیم کر لیا گیا جس کے نتیجے میں اسknight templarsنامی تنظیم کو تمام یورپی قوانین سے استثنی حاصل ہو گیا اور یہی چیز ان کے طاقت میں اضافے کا باعث بنی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت جلد ہی یہ لوگ دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہونا شروع ہو گئے یہاں تک کہ جائیدادیں، قلعوں، جاگیروں اور دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ کرنے لگے۔

    یہ تنظیم دنیا بھر کے تربیت یافتہ اور تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہو گئی اس تنظیم کا سربراہ Grand masterکہلاتا ہے اور ان کے نائب ماسٹر کہلاتے ہیں۔ گرانڈ ماسٹر کا حکم ان کے لیئے خدا کا درجہ رکھتا ہے۔ اس زمانے میں لوگ بیرون ممالک سفر کرنے سے گھبراتے تھے کیونکہ راستے میں ڈاکووں کا خدشہ رہتا تھا انknight templarsنے تھوڑی سی فِیس کے بدلے لوگوں کی نقدی اور رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا شروع کر دیا اور سود لینا شروع کر دیا اسی سسٹم کے ذریعے آگے چل کر بینک کا نظام متعارف کروایا گیا۔ بعد میں یہی یہودیknight templarsیورپ میں پہلے سے موجود ایک تنظیم میسن گِلز میں شامل ہوگئے اور یہاں کبالہ جادو کے رسومات اور علامات متعارف کروانا شروع کر دیئے۔ کچھ عرصہ بعد میں انknight templarsیہودیوں نےMeson gillsکے ہی اراکین میں سے اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کر اپنا نام بدل کرFree meson رکھ لیا اور یوںFree meson نامی تنظیم وجود میں آئی جس کا مقصد پوری دنیا میں آذاد خیالی اور دین سے بیزارگی کو فروغ دینا تھا انسان کے اندر جنس پرستی اور مادی خیالات کو پروان چڑھانا تھا۔چنانچہ اسی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے اس تنظیم نے یورپ میں جنگوں کو بڑھایا اور سودی کاروبار یعنی بینکنگ اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف وغیرہ بنا کر دنیا کی معیشت کنٹرول کرنے کا طریقہ متعارف کروایا۔ کیونکہ پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کا واحد طریقہ اس کی معیشت کو کنٹرول کرنا ہے۔ ان تنظیموں نے ایک تیر سے دو شکار کر کے مغرب میں جنگ کروا کر مذاہب خاص طور پر مسلمانوں پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر مذہبی بیزارگی کو فروغ دیا اور دوسری طرف ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیئے اپنے ہتھیار بھیج کر اربوں پتی بن گئے۔سترہ سو چھہتر میں اسFree meson نے مل کر ایک نئی تنظیم
    Aluminati قائم کی،Aluminati کے نظریات اور مقاصدFree meson کے جیسے ہی تھے۔ لفظAluminati کا مطلب علم کی روشنی سے معمور ہے۔ سبAluminati خود کو دنیا کے علم میں خود کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔ ان کے سبplans خفیہ رہتے ہیں کیونکہ یہ مانتے ہیں کہ جو علم ان کے پاس ہے وہ عام انسانوں کے پاس نہیں ہونا چاہیئے اسی لیئے ان کا دین ان کا ایمان ان کا جینا مرنا سب ہیAluminati ہے۔بائیبل میں ابلیس کا نام لوسیفر بتایا گیا ہے جس کا مطلب ہے روشنی کا علمبردار۔ دراصل شیطان کو لوسیفر تب کی بناء پہ کہا گیا ہے جب وہ اللہ کا فرمانبردار ہوا کرتا تھا لیکن یہ تنظیمیں آج بھی شیطان کو اچھا مانتی ہیں اس لیئے وہ شیطان کو لوسیفر ہی کہتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ لوسیفر ہر چیز کا منبہ ہے خاص طور پہ ساری روشنی اور سارے علوم کا۔ Albert pikeجوکہFree mesons کے فاونڈرز میں سے ایک تھا وہ ایک 33 ڈگری Free mesonتھا جیسے ہمارے ہاں درجہ بدرجہ اولیاء اللہ اور تقوی کے لحاظ سے بڑی بڑی ہستیاں ہوتی ہیں بالکل اسی طرح ان کے ہاں بھی بتدریج ابلیس کے پجاری ہوتے ہیں جس میں سب سے بڑا درجہ 33 ڈگری کا ہے۔Albert pike کی کتابMorlis and Dogmaآج بھی
    Free mesonکے سٹوڈنٹس کو رہنمائی کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اس کتاب کے کچھ کلمات آپ سے شیئر کرتا چلوں جہاںAlbert Pike لکھتا ہے۔کوئی شک نہیں یہ Lusipher ہی ہے جس کے پاس تمام انوار ہیں تمام روشنیاں ہیں۔ اسی لیئے یہ تمام لوگ کوCurrent bulletسے تشبیہ دیتے ہیں اور اکثر جسم کے مختلف اعضاءپر کرنٹ کے نشان نماTattosبنوا کر پھرتے ہیں۔

    کہا جاتا ہے دنیا کی مکمل آبادی میں سے صرف ایک فیصد Aluminati ہے جو کہ دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں اور یہ تیرہ Blood lines یعنی خاندان ہیں جو نسل درنسل شیطان کی پوجا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ کسی کو بھی اپنی خفیہ تنظیم میں شامل نہیں کرتے ہاں مہرہ بنا کے اپنی انگلیوں پہ ضرور نچاتے ہیں یعنی جو لوگ مشہور ہونا چاہتے ہیں یا پیسہ کمانا چاہتے ہیں وہ شیطان سے سودہ کر کے اسے اپنی روح بیچ دیتے ہیں اور ہمیشہAluminati کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں پھر وہ جیسا کرنے کو بولتے ہیں انہیں ویسا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی ممبرAluminati
    کے کسی قانون اور رول کی خلاف ورزی کرے تو اسے عبرتناک طریقے سے مار دیا جاتا ہے۔Aluminatiکی تیرہ نسلوں میں ایک خاندانDavid Philipکا ہے جبکہ ایک خاندانRothus Childکا ہے یہ دونوں خاندان پوری دنیا کےFinancial systemاورامریکہ کےFederal Reserves bankکے مالک ہیں ، یہ لوگ80سے 90فیصد کنٹرول دنیا پہ حاصل کرچکے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر اچھے اچھے کام کرتے ہیں انسان کی آسائش اور آسانی کے لیئے طرح طرح کے فلاحی کام کر کے لوگوں کی ہمدردی اور ان کا بھروسہ جیتتے ہیں لیکن پس پردہ ان کے مقاصد شیطانیت کوPromoteکرنا ہوتا ہے۔ ان کا طریقہ کار یہی ہے کہ اپنی فیلڈ کی مشہور شخصیات کو اپنے دائرے میں ایک حد تک شامل کرتے ہیں یا پھر اپنے ہی لوگوں کو عوام کے درمیان مشہور کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔ چاہے وہ سیاست کا میدان ہو یا فلموں کی دنیا وغیرہ ہو یہ اپنے اداکاری کے جوہر دکھا دکھا کر لوگوں کےFavouriteہیرو اور سیاست دان بن جاتے ہیں لوگ انہیں اپنا مسیحہ اپنا آئیڈیل سمجھ کر ان کے چال چلن کو فالو کرنے لگ جاتے ہیں انہیں سپورٹ کرنے لگتے ہیں اور جب انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ شکار جال میں پھنس چکا ہے تب بہت ہی غیر محسوس انداز میں ان کیMind programming کرکے شیطانیت کو پروموٹ کرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک پرانا طریقہ تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ یہ نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ان کو پارٹیز میں بلواتے ہیں نشہ کی لت لگاتے ہیں اور ان پر فل کنٹرول حاصل کرکے ان سے اپنے مقاصد پورے کرواتے ہیں۔ جو نوجوان ان کو اپنے لئے خطرہ محسوس ہوتے ہیں ان کو مار دیا جاتا ہے ساتھ ہی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس گروہ کے سینئر لوگ مزید طاقت حاصل کرنے اور شیطان جس کی یہ پوجا کرتے ہیں اس کو خوش کرنے کے جنون میں اپنے ہی جونئیر پیروکاروں کی بھی بلی چڑھاتے ہیں۔ یہ کس طرح کی عبادات اور عملیات کرتے ہیں اس کے بارے میں آئندہ آنے والے کالم میں بات کی جائے گی۔

  • بچوں کے لئے سمر کیمپ ضروری مگر کہاں پر؟؟؟ عفیفہ راؤ

    آج کل جہاں بچے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کا مزا لے رہے ہیں ساتھ ہی کچھ بچے ایسے بھی ہیں جنہیں ان کے والدین نے کسی سمر کیمپ میں داخلہ دلوا دیا ہے اور وہ آجکل اس میں مصروف ہیں۔اگر ہم ماضی میں جھانکیں اور سوچیں کہ ہم اپنی گرمیوں کی چھٹیاں کیسے مناتے تھے تو آپ کو یا د ہو گاکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سب سے زیادہ اانتظار ان دنوں کا ہوتاتھا جب ہم نے اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نانی نانا کو ملنے یادادی دادا کو ملنے جاناہوتاتھا۔اور یہ عام رواج تھا کہ گھروں میں سب بچے اکھٹے ہوتے تھے اور اپنے کزنز،خالہ ،ماموں ،تایا،چچااورپھوپھو کے ساتھ ٹائم گزارتے تھے ۔ ان کے ساتھ گزارہ وہ وقت اور شرارتیں ہی ہمارے بچپن کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔آج اگر ہم سب کسی فیملی ایونٹ پر اکھٹے ہوتے ہیں تو بچپن میں ایک ساتھ گزاری چھٹیوں کو ہی یاد کرکے ہم سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مگر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی گزارنے کے طریقے بھی کافی حد تک بدلتے جا رہے ہیں اب وہ وقت نہیں رہا کہ مائیں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے بچوں کو لیکر اڑھائی یا تین ماہ کے لئے میکے جا سکیں ۔کسی عورت کی اپنی جاب کی مجبوری ہوتی ہے تو کسی کے شوہر کی نوکری کا مسئلہ ،کسی کو ساس کی اجازت نہیں ملتی تو کوئی اکیلے رہنے کی وجہ سے وقت نہیں نکال پاتی۔ویسے بھی آج کل کے تیزطرار دور میں کوئی بھی عورت اپنے شوہر اور گھر کو اتنے زیادہ دنوں کے لئے اکیلے چھوڑنے کارِسک بھی نہیں لے سکتی۔لیکن چھٹیوں میں بچوں کو 24گھنٹے سنبھالنا بھی ایک بہت بڑی ڈیوٹی ہے جو پوری کرنے کے لئے بڑے شہروں کی بیشتر خواتین سسمر کیمپ کا سہارا لیتی ہیں۔بچوں کو وہ چند گھنٹے گھر سے دور رکھنے کے لئے ہزاروں روپے سمر کیمپ کی فیس ادا کرتی ہیں ۔پرائیوٹ سکولوں کی طرح سمر کیمپس کی بھی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جو فی گھنٹہ ایک ہزار روپے سے بھی زیادہ فیس چارج کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس فیس اور ٹائم کے عوض بچوں کو سکھاتے کیا ہیں؟؟؟

    یہ آرٹیکل لکھنے سے پہلے میں نے بہت سے سمر کیمپس کے فیس بک پیجز اور ان میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز پرکافی ریسرچ کی۔پہلے پہل ان کے بروشیئرز اور اشتہارات دیکھ کر اور ان پر لکھی گئی ایکٹیویٹیز کے نام پڑھ کر تو ایسا لگا کہ واقعی ان سمر کیمپس میں جاکر تو چند دنوں کے گزارے جانے والے ان چند گھنٹوں میں ہمارے بچے نجانے کیاکچھ سیکھ لیں گے اور کوئی سائنسدان یا مصور تولازمی بن جائیں گے۔

    https://login.baaghitv.com/kya-hmary-bachon-ko-summer-camp-ki-zrurt-hai/

    اسی ایکسائٹمنٹ اور خوشی میں سوچا کہ اور ٹائم لگایا جائے اور ان کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں تو بس پھر ایک ایک کرکے ان فیس بک پیجز پر سمر کیمپس میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ لیکن یہ کیا تھا یہ تصاویر اورویڈیوز تو مجھے میرے ہی بچپن کی طرف لے گئیں۔ جہاں ہم لکڑی پر لگے ایک چھوٹے سے گول سپرنگ والی سٹک کو چھپا چھپا کر رکھتے تھے کہ کہیں کوئی اس کو پھینک نہ دے اور اگر کسی گھر کے بڑے نے دیکھ لی تو اس کو توڑ ہی نہ دیا جائے اور وہ سٹک باہر تب نکالتے تھے جب سب بڑے دوپہر کو آرام کی غرض سے سو جاتے تھے اور پھر ہم پانی میں کپڑے دھونے والا صرف گھول گھول کر خوب بلبلے بناتے تھے بس ہماری نالائقی یہ تھی کہ ہمارے پاس اس گیم کے لئے کوئی منفرد سا نام نہیں تھا جب کہ آج کل کے سمر کیمپس نے ان کو ببل بیش bubble bash کا نام دے کر ایسے نمایاں کیا جاتا ہے کہ اس میں نہ جانے کیا نئی چیز پوشیدہ ہے۔اس کے بعد ایک اور تصویر پر نظر ٹھر گئی جس میں بچے کاغذ کی مدد سے طرح طرح کے لباس اور جوتے بنا رہے تھے اس ایکٹیویٹی کو بھی کرافٹ کی کوئی نئی قسم ہی لکھا گیا تھا جبکہ ان لباس اور جوتوں کو دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کی وہ کاغذ کی گڑیایاد آگئی جو ہم اپنے رجسٹرز میں سے صفحات پھاڑ پھاڑ کر بناتے تھے اور گڑیا کےلئے بنائے کاغذ کے اُن کپڑوں پر بھی رنگوں کی مدد سے خوب پھول بوٹے بناتے اور انھیں رنگوں سے خوب گڑیا کو میک اپ بھی کرتے لیکن افسوس اس وقت میں ہماری یہ سب کھیل کھیلتے ہوئے کوئی تصاویر بنانے والا نہ تھا بلکہ ہم تو یہ سب چھپ چھپا کر کرتے تھے کہ کسی نے دیکھ لیا تو شامت آجائے گی کہ رجسٹر پڑھائی کے لئے تھا یا گڑیا بنانے کے لئے۔ ساتھ ہی ساتھ کٹنگ پیسٹنگ کی ایکٹیوٹیز نے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں آنے والی 14اگست یاد کروا دی۔ جیسے ہی اگست کا مہینہ شروع ہوتا تو بازار میں لگنے والے سٹالز سے جھنڈیاں خرید کر لائی جاتیں اور پھر گھر میں ہی سب سے چھوٹی خالہ کی منتیں کرکے ہم ان سے گوند بنواتے اور جب سب دوپہر کو آرام کر رہے ہوتے تھے تو ہم ان جھنڈیوں پر گوند لگا لگا کر لڑیاں بناتے اور خوب جوش و جذبے سے 14 اگست بھی مل کر مناتے۔
    اور سب سے دلچسپ تو پول پارٹیز والی تصاویر دیکھنے کو ملی جن میں بچے پلاسٹک کے چھوٹے سے سوئمنگ پول میں ایک دوسرے پر پانی ڈال ڈال کر نہارہے تھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کے چہروں کی خوشی قابل دید تھی اور وہ واٹر گن اور ٹیوبز کے ساتھ خوب انجوائے بھی کر رہے تھے۔ مگر یہ کیا یہ سب تو ہم ٹیوب ویل پر اپنے بڑوں کے ساتھ جاکر کرتے تھے مجھے یاد ہے ہمارے نانا جی ہمیں پانی میں جمپ لگاتا دیکھ کر خوب خوش بھی ہوتے تھے ساتھ ہی ساتھ برف میں لگے ٹھنڈے آموں کے ساتھ ہماری دعوت بھی کی جاتی تھی۔اور رہی بات پڑھائی کی تو سب بہن بھائی اور کزنز ایک دوسرے سے مقابلہ لگا کر سکولز کی طرف سے ملنے والا کام بھی جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے اس طرح چھٹیاں بھی بھرپور انجوائے کی جاتی تھیں اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی ہوتی تھی ۔مختصر یہ کہ ان سمر کیمپس کی تصاویر کے ساتھ کافی وقت لگانے کے باوجود کوئی ایسی نئی چیز دیکھنے کو نہ ملی جسے دیکھ کر یہ محسوس ہو کہ یہ کام تو ہم نے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں نہیں کیا تھا اور ہمارے بچوں نے بھی اگر یہ نہ کیا تو نجانے وہ ان سمر کیمپ والے بچوں سے ترقی کے میدان میں کہیں بہت پیچھے نہ رہ جائیں۔
    ان ایکٹیوٹیز کے علاوہ بہت سے سمر کیمپس ایسے ہیں جو کہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بچوں میں
    critical thinking,
    reading and writing skill,
    problem solving and
    leadershipکی صلاحیتیں پیدا کریں گے۔ویسے تو یہ سب صلاحیتیں خداداد ہوتی ہیں لیکن اگر behavioral sciencesکے مطابق دیکھا جائے تو یقین کرنا پڑے گا کہ انسان یہ سب سیکھ بھی سکتا ہے لیکن اس کے لئے اچھا خاصا وقت درکار ہوتاہے اور مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔جو کہ سمر کیمپس میں گزارے دو یا تین گھنٹوں میں تو ہونابہت مشکل ہی نہیں تقریباََ نا ممکن ہی ہے۔ہاں بچوں میں یہ سب صلاحیتیں پیدا کرنے میں اگر کوئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ اس کا سکول اور گھر ہے جہاں وہ اپنے دن کاا چھا خاصاٹائم گزارتے ہیں۔


    تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ چھٹیوں کو ایک بوجھ سمجھ کربچوں کے لئے گھر سے باہر بھاری فیس ادا کر کے سمر کیمپس تلاش کرنے کی بجائے ان چھٹیوں کو ایک موقع سمجھنا چاہیے کہ اس میں ہم اپنے بچوں کے ساتھ ایک کوالٹی ٹائم گزارسکتے ہیں ۔ ہم جو عادات اپنے بچوں میں ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں یہ چھٹیاں اس کے لئے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہیں ۔اور رہی بات مختلف طرح کی ایکٹیویٹیز کی تو یہ سب آجکل کیا مشکل ہے جب بک سٹورز پرہر طرح کی ایکٹیویٹیز کا سامان با آسانی دستیاب ہوتا ہے پھر بھی اگر کوئی مشکل ہو تو جس انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاجس پر مائیں بچوں کے لئے سمر کیمپ تلاش کرتی ہیں اس پرسرچ کرکے وہ خودبہت سے نیو آئیڈیاز پر کام کر سکتی ہیں جب اتنی آسانیاں ہیں تو مائیں خود سے بچوں کے لئے کوئی ایسی ایکٹیویٹی کیوں نہیں پلان کرتیں؟بچوں کی بہتر تربیت اور اچھے کردار کے لئے ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کے لئے اپنے گھر میں ہی سمر کیمپ کا انعقاد کریں ان کے ساتھ وقت گزاریں. جس سے بچہ کچھ نیا سیکھ بھی سکے اور مصروف بھی رہے کیونکہ ماں سے بہتر بچے کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

    عفیفہ راو
    صحافی۔۔ٹی وی پروڈیوسر

    Email:afeefarao@gmail.com

    Facebook: www.facebook.com/afeefarao786

    Twitter: https://twitter.com/afeefarao

  • کیا سمر کیمپس کی ضرورت واقعی ہمارے بچوں کو ہے؟؟؟  عفیفہ راؤ

    کیا سمر کیمپس کی ضرورت واقعی ہمارے بچوں کو ہے؟؟؟ عفیفہ راؤ

    جب سے صحافت کے شعبے میں قدم رکھا توفون کے کانٹیکٹ نمبرز سے لے کر سوشل میڈیا کی فرینڈ لسٹ اور فالوورز تک میں زیادہ تر وہ لوگ موجود تھے جن کا تعلق صحافت اور میڈیا انڈسٹری سے ہے ۔اور پھر جیسے جیسے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کا رواج بڑھنا شروع ہوا تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہر جان پہچان والے پر فرض ہے کہ وہ جو بھی گروپ بنائیں اس میں ہمیں ضرور ایڈ کرنا ہے۔۔اور یوں میں بہت سے گروپس میں شامل ہو گئی۔لیکن اس میں ایک چینج اس وقت آیا جب میں ماں بنی اور ایک دو ایسے گروپس کو پہلے تو میں نے خود لائک کیا جو ماو¿ں اوربچوں سے متعلق تھے لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ گروپس کی خود سے ریکویسٹ آنا شروع ہو گئیں مختصر یہ کہ اب ایک طویل فہرست ایسے گروپس کی ہے جو ماں اوربچوں سے متعلق ہیں اور میں ان کی ممبر ہوں۔اور میں ان گروپس کو فالو بھی کرتی ہوں کیونکہ ان میں موجود دوسرے لوگوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں۔
    آج صبح ایک ایسے ہی گروپ میں میری نظر سے ایک پوسٹ گزری جس نے مجھے سمر کیمپس جیسے موضوع پر لکھنے پر مجبور کر دیا۔آجکل سوشل میڈیا پر آپ کو سمر کیمپس کے اشتہارات ، مختلف پوسٹس اور گروپس کی بھرمار نظر آئے گی اور کیوں نہ ہو ان کا تو یہ سیزن ہے وہ اس وقت ایکٹو نہیں ہوں گے تو اور کب ہونگے۔لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اصل میں یہ سمر کیمپس کس کے لئے ضروری ہیں؟؟؟ ان سمر کیمپس میں ایسا کیا خاص ہے کہ ہمارے بچوں کو ضرور انھیں جوائن کرنا چاہیے؟؟؟

    میری یاداشت کے مطابق ان سمر کیمپس کا رواج 2004یا 2005سے شروع ہوا اور اس وقت یہ کیمپس سکولز کی طرف سے ان بچوں کے لئے لگائے جاتے تھے جو کلاس میں اپنے باقی ساتھیوں سے پراگریس وائز کم ہوتے تھے ان کو صرف سکول بلایا جاتا تھا تاکہ کچھ توجہ دے کر ان کی کارکردگی کو تھوڑا بہتر کیا جاسکے۔ لیکن آج کل تو جیسے ہی گرمیاں شروع ہوتی ہیں میڈیا پر ہر طرف سے خوب شور کیاجاتا ہے
    کہ ملک میں گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اور بچوں کاسکول آنا جانا مشکل ہے ۔کسی چینل پرایک بچے کے گرمی سے بے ہوش ہونے کی خبر چلتی ہے تو کسی چینل پر ایک سے زیادہ کی۔اور حکومت پر شدید دباو¿ ڈالا جاتا ہے کہ جلد سے جلد چھٹیوں کا اعلان کیا جائے اور بات بھی ٹھیک ہے جب گرمی کی لہر اتنی شدت اختیار کر جائے تو معصوم بچوں کو گھر سے باہر نکالنا ان پر ظلم ہی ہے۔
    لیکن چھٹیوں کی نوید ملتے ہی سمر کیمپس کروانے والے ادارے فل ٹائم ایکٹو ہو جاتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ ایڈمیشن مل سکیں اور ظاہری بات ہے ان کا یہ کاروبار ہے تو ان کی یہ کوشش جائز بھی ہے لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مائیں خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کر کے اپنے بچوں کے لئے سمر کیمپس ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں لوگوں سے مشورہ طلب کر رہی ہوتی ہیں کہ کون سا سمر کیمپ سب سے اچھا ہے۔اب یہاں چند سوالات جنم لیتے ہیں کہ:

    اگر ملک میں اس وقت اتنی گرمی ہے کہ بچے سکول نہیں جا سکتے تو سمر کیمپ کے لئے کیسے جا سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ملتا ہے کہ سمر کیمپ میں رومز ائیر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں تو یہاں آپ کو میں یہ بتاتی چلوں کہ جو بچے سمر کیمپ جاتے ہیں یہ بچے کوئی گورنمنٹ سکولز میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے نہیں ہوتے یہ بچے جن سکولز میں پڑھتے ہیں ان میں بھی کلاس رومز ائیر کنڈیشنڈ ہی ہوتے ہیں۔
    اس کی ایک لاجک یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سمر کیمپ میں بچہ صرف دو یا تین گھنٹے کے لئے جاتا ہے اور واپس آجاتا ہے۔تو اگر ہم گرمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بچوں کو دو تین گھنٹوں کے لئے گھر سے باہر بھیج سکتے ہیں تو پھر ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہونا چاہیے کہ سکولوں کی گرمیوں میں ٹائمنگ تبدیل کی جانی چاہیں نہ کہ فل ٹائم چھٹیاں۔

    سکولوں کے حوالے کے ایک شکایت اور بھی بہت زیادہ سننے میں آتی ہے کہ یہ والدین سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس کیوں لیتے ہیں ۔پہلے پہل یہ شکایت ان سکولوں سے آتی تھیں جن کی فیس باقی پرائیوٹ سکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی تھی لیکن بہت ٹائم ہو گیا کہ ان کی طرف سے تو یہ شکایت کم ہو گئی ہے شاید ان کو اس کی عادت ہو گئی ہے لیکن اب یہ شکایت ان سکولوں کی طرف سے آرہی ہوتی ہے جن کی فیس کئی ہزاروں میں ہوتی ہے ۔یہ والدین سکولوں کی فیس پر تو بولتے ہیں لیکن سکول سے چھٹیاں ہوتے ہی ان گھروں سے ہی تعلق رکھنے والی مائیں ہی سب سے پہلے اپنے بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر سب سے بہترین سمر کیمپس کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں اور یہ سمر کیمپس ان سے جو فیس چارج کرتے ہیں وہ تقریبا ایک ہزار روپے فی گھنٹے سے بھی زیاد ہ ہوتی ہے سکولز جو فیس پورے ماہ کے لئے چارج کرتے ہیں وہ یہ سمر کیمپس چند گھنٹوں اور کچھ دنوں کے لئے چارج کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔


    اس تحریر کے ساتھ دی گئی سوشل میڈیا کی پوسٹ اگر آپ دیکھیں جو صبح میری نظر سے گزری تو اس پوسٹ میں ایک ماں اپنے 2سال اور اس سے کچھ بڑی عمر کے بچے کے لئے سمر کیمپ کا مشورہ مانگ رہی ہے۔ کیا کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ دو سال کے بچے کو سمر کیمپپ کی کیا ضرورت ہے؟ جن بچوں کو آج کل سمر کیمپ میں داخلہ کروایا جاتا ہے ان عمر کے بچوں کو نہ تو سمر کیمپ کا خود سے پتہ ہوتا ہے نہ ہی ان کی اس کے بارے میں کوئی رائے یاسوچ ہوتی ہے کہ سمر کیمپ میں جاناچاہیے یا نہیں ۔ دراصل یہ سوچ آجکل ہماری ماو¿ں کے ذہن میں ہوتی ہے جس کے لئے پہلے وہ والد کو راضی کرتی ہیں اور اس کے بعد ان معصوم بچوں کو کھیلنے کا،باہر جانے کا ، نئے دوست بنانے کااور دوسری کئی ایکٹیویٹیز کا لالچ دے کر اس کا داخلہ کروا دیا جاتا ہے۔لہذا یہ سمر کیمپ بچوں کی نہیں دراصل ماو¿ں کی ضرورت پر اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں کیونکہ مائیں چاہتی ہیں کہ بچے کچھ ٹائم گھر کے علاوہ کہیں مصروف رہیں۔ماو¿ں کی اس پلاننگ کے پیچھے ہو سکتا ہے کہ ان کی کوئی جائز وجہ بھی ہولیکن بات یہ ہےکہ ان چھٹیوں کے دنوں میں بھی کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں پر یہ سمر کیمپ نامی بوجھ ڈال دیں بہت کچھ اس سے بہتر بھی سوچا جا سکتا ہے۔

    ان سمر کیمپس میں بچے کیا سیکھتے ہیں یا ان کی کن صلاحیتوں پر کام کیا جاتا ہے ؟
    کیا وہ سب سکھانے کے لئے صرف سمر کیمپ ہی واحد حل ہے ؟
    ان سوالوں کے جوابات اگلی تحریر میں شائع کئے جائیں گے۔۔

    اپنی رائے سے آگاہ کرنے کے لئے ای میل کریں:
    afeefaumar@gmail.com

    Afeefa Rao

    ٹویٹر پر فالو کریں.