Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

    فیض احمد فیض.20 نومبر 1984: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فیض کی شاعرانہ قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا نام غالب اور اقبال جیسے عظیم شاعروں کے ساتھ لیا جاتا ہے ان کی شاعری نے ان کی زندگی میں ہی سرحدوں، زبانوں، نظریوں اور عقیدوں کی حدیں توڑتے ہوے عالمگیر شہرت حاصل کر لی تھی جدید اردو شاعری کی بین الاقوامی شناخت انہی کی مرہون منت ہے ان کی آواز دل کو چھو لینے والے انقلابی نغموں، حسن و عشق کے دلنواز گیتوں،اور جبر و استحصال کے خلاف احتجاجی ترانوں کی شکل میں اپنے عہد کے انسان اور اس کے ضمیر کی مؤثر آواز بن کر ابھرتی ہے فیض 13/فروری 1912ء کو پنجاب کے ضلع نارووال کی اک چھوٹی سی بستی کالاقادر (اب فیض نگر) کے اک فارغ البال علمی گھرانے میں پیداہوئے ان کے والد محمد سلطان خاں بیرسٹر تھے فیض کی ابتدائی تعلیم مشرقی انداز میں شروع ہوئی اور انھوں نے قرآن کے دو پارے بھی حفظ کئے پھر عربی فارسی کے ساتھ انگریزی تعلیم پر بھی توجہ دی گئی فیض نے عربی اور انگریزی میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران تعلیم فلسفہ اور انگریزی ان کے خاص مضامین تھے اس کالج میں ان کو احمد شاہ بخاری "پطرس” اور صوفی غلام مصطفی تبسم جیسے استاد اور مربی ملے تعلیم سے فارغ ہو کر 1935ء میں فیض نے امرتسر کے محمڈن اورینٹل کالج میں بطورلیکچرر ملازمت کر لی یہاں بھی انھیں اہم ادیبوں اور دانشوروں کی صحبت ملی جن میں محمد دین تاثیر، صاحبزادہ محمود الظفر اور ان کی اہلیہ رشید جہاں سجّاد ظہیراور احمد علی جیسے لوگ شامل تھے 1941ء میں فیض نے ایلس کیتھرین جارج سے شادی کر لی یہ تاثیر کی اہلیہ کی چھوٹی بہن تھیں جو 16 سال کی عمر سے برطانوی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھیں۔شادی کی سادہ تقریب سرینگر میں تاثیر کے مکان پر منعقد ہوئی نکاح شیخ عبداللہ نے پڑھایا مجاز اور جوش ملیح آبادی نے تقریب میں شرکت کی,1977ء جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کا تختہ الٹا تو فیضٓ کے لئے پاکستان میں رہنا ناممکن ہوگیا ان کی سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور کڑا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا ایک دن وہ ہاتھ میں سگرٹ تھام کر گھر سے یوں نکلے جیسے چہل قدمی کے لئے جا رہے ہوں اور سیدھے بیروت پہنچ گئے اس وقت فلسطینی تنظیم آزادی کا مرکز بیروت میں تھا اور یاسر عرفات سے ان کا یارانہ تھا بیروت میں وہ سوویت امداد یافتہ رسالہ "لوٹس” کے مدیر بنا دئے گئے 1982ء میں ، خرابیٔ صحت اور لبنان جنگ کی وجہ سے فیض پاکستان واپس آ گئے وہ دمہ اور لو بلڈ پریشر کے مریض تھے 1964ء میں انھیں ادب کے نوبیل انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن کسی فیصلہ سے پہلے 20/نومبر 1984ء کو ان کا انتقال ہوگیا فیض مجموعی طور پر اک عام ادیب و شاعر سے بہتر زندگی گزاری وہ ہمیشہ لوگوں کی محبت میں گھرے رہے وہ جہاں جاتے لوگ ان سے دیوانہ وار پیار کرتے اپنی ادبی خدمات کے لئے فیض کو بین الاقوامی سطح پر جتنا سراہا اورنوازا گیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی 1962ء میں سوویت یونین نے انہیں لینن امن انعام دیا جو اس وقت کی ذوقطبی دنیا میں نوبیل انعام کا بدل تصور کیا جاتا تھا۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے ان کو نوبیل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا 1976ء میں ان کو ادب کا لوٹس انعام دیا گیا 1990ء میں حکومت پاکستان نے ان کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ”نشان امتیاز” سے نوازا پھر 2011ء کو ” فیض کا سال” قرار دیا فیضٓ کی تصانیف میں نقش فریادی ،دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ،سر وادی ٔسینا، شام شہر یاراں اور میرے دل مرے مسافر کے علاوہ نثر میں میزان، صلیبیں مرے دریچے میں اور متاع لوح و قلم شامل ہیں انھوں نے دو پاکستانی فلموں جاگو سویرا اور دور ہے سکھ کا گاؤں کے لئے گیت بھی لکھے اور ہندوستانی پروڈیوسر ڈایرکٹر ایکٹر منوج کمار نے ان کی ایک غزل کو اپنی فلم "پینٹر بابو” میں 1989ء میں شامل کیا جس کو فیضٓ صاحب نے منوج کمار کو دوستی میں بطور تحفہ لکھ کردی تھیں ، فیضٓ احمد فیضٓ اور ایلس کی مشترکہ تخلیقات میں ان کی دو بیٹیاں سلیمہ اور منیزہ ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
    جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
    ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن
    تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
    ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی
    جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
    دل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عہد ترک محبت ہے کس لیے آخر
    سکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے .
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں

    یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں

    ڈاکٹر مینا نقوی ،یوم وفات 15 نومبر

    ہندوستان کی معروف شاورہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ کا اصل نام منیر زہرہ اور تخلص میناؔ ہے ۔ وہ نگینہ ضلع بجنور، اتر پردیش میں سیّد التجا حسین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ ان کی دو بہنیں نصرت مہدی اور علینا عترت ہیں۔ آپ درس وتدریس کے مقدس فریضے سے وابستہ تھیں۔

    مینا نقوی کی شاعری ،عصری ادب میں جن حوالوں سے پہچانی جاتی ہے ان میں ان کی سادگی اور زندگی کی مثبت قدروں کے احترام کو ا ولیت حاصل ہے۔یہ سچ ہے کہ ان کی شاعری کا خمیر بھی دیگر شعراء کی طرح رومانی جذبات و احساسات کی آمیزش سے تیار ہوا ہے مگر ان کی شعری کائنات میں زندگی کے مسائل و مصائب اور عصری فکر و شعور کا جذبہ بھی قابلِ ذکر ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقی ریاضت اور شعری تجربے نے ان کی شاعری کا کینوس وسیع کر دیا ہے۔ مینا نقوی کئی برسوں سے شاعری کر رہی تھیں اور اب تک ان کے نو ( ۹) شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں اور انہیں متعدد اعزازات و انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :
    1-سائبان (اردو) 2-بابان…(اردو) 3-درد پت
    جھڑ کا (ہندی) 4-کرچییاں درد کی (اردو) 5-کرچیاں درد کی( ہندی) 6-جاگتی آنکھیں (اردو) 7-دھوپ چھاؤں (.ہندی) 8- منزل 9 – آئینہ

    سیدہ مینا نقوی کافی عرصے سے سرطان جیسے مہلک مرض سے نبرد آزما تھیں اور 15 نومبر 2020 کو انتقال کر گئیں

    منتخب اشعار
    یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں
    طوائفوں میں انہیں عورتیں نہیں ملتیں

    دھوپ آئی نہیں مکان میں کیا
    ابر گہرا ہے آسمان میں کیا

    یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں
    انا کے حق میں کثیر ہوں میں

    جب اسے دیکھا ذرا نزدیک سے
    تب سمجھ پائے ہیں تھوڑا ٹھیک سے

    چاند کیسے کسی تارے میں سما جائے گا
    پھر بھی امید کو ضد ہے کہ وہ آ جائے گا

    محبتوں میں وفا کا حساب دے گا کون
    اندھیری شب کے لئے آفتاب دے گا کون

    پھول مہکائے تھے میں نے شادمانی کے لیے
    ہر نفس اب مر رہی ہوں زندگانی کے لیے

    مزاج اپنے کہاں آج ہیں ٹھکانے پر
    حضور آئے ہیں میرے غریب خانے پر

    آساں ہر ایک ہو گئی مشکل مرے لئے
    جس دن سے محترم ہوا قاتل مرے لئے

    کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں
    اک انتظار کا موسم رہا ہے آنکھوں میں

    آنکھوں میں رنگ پیار کے بھرنے لگی ہوں میں
    آئینہ سامنے ہے سنورنے لگی ہوں میں

    تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے
    روشنی دن کی سیہ رات ہوا کرتی ہے

    اس برس فصل بہاراں کی طرح واپس آ
    تو مری جان ہے جاناں کی طرح واپس آ

    حالات کے دریاؤں میں خطرے کے نشاں تک
    چل پائیں گے کیا آپ مرے ساتھ وہاں تک

    جب چاندنیاں گھر کی دہلیز پہ چلتی ہیں
    آسیب زدہ روحیں سڑکوں پہ ٹہلتی ہیں

    کس طرح چبھتے ہوئے خار سے خوشبو آئے
    پھول ہوں لفظ تو اظہار سے خوشبو آئے

    غم نہیں ہے چاہے جتنی تیرگی قائم رہے
    مجھ پہ بس تیری نظر کی چاندنی قائم رہے

    جب سے ترے لہجے میں تھکن بول رہی ہے
    دل میں مرے سورج کی جلن بول رہی ہے

    ڈاکٹر مینا نقوی

  • نصیر آباد،   ٹیکس چوروں کے خلاف کاررواٸی تیز

    نصیر آباد، ٹیکس چوروں کے خلاف کاررواٸی تیز

    ڈیرہ مراد جمالی (آغا نیاز مگسی ) صوباٸی پارلیمانی سیکرٹری براٸے ایکسائز ، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹیکس حاجی محمد خان لہڑی نے کہا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی اشیاء کی اسمگلنگ کی روک تھام اور گاڑیوں اور پراپرٹی کے ٹیکس نادہنگان کے خلاف کاررواٸی کا عمل تیز کر دیا گیا گیا ہے اور اس سلسلے میں بلوچستان بھر کے ای ٹی اوز کو خصوصی احکامات جاری کر دیے گئے ہیں.

    یہ بات انہوں نے لہڑی ہاٶس ڈیرہ مراد جمالی میں میڈیا کے نماٸندوں سے گفتگو کرتے ہوٸے کہی انہوں نے کہا کہ رواں سال نصیر آباد میں محکمہ ایریگیشن کی کارکردگی صفر رہی ہے صرف 15 فیصد کمانڈ ایریا کو شالی کی کاشت کے لیے پانی فراہم کیا جا رہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی غیبی امداد کی بدولت بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کی وجہ سے شالی کی کاشت اور پیداوار میں اضافہ ہوا جس سے نصیر آباد کے پریشاں حال زمیندار دیوالیہ ہونے سے بچ گٸے حاجی میر محمد خان لہڑی نے کہا کہ حلقہ پی بی 14 نصیر آباد میں ترقی کا سفر جاری ہے جب تک اللہ تعالیٰ کی رضا اور باشعور عوام کی حمایت حاصل ہے ان شاء اللہ اس وقت تک ترقی کا سفر جاری رہے گا اور اس ترقی کے سفر کو کوٸی نہیں روک سکتا انہوں نے کہا کہ اپنے انتخابی حلقے میں وسیع پیمانے پر تعلیم و صحت اور سفری سہولیات سمیت روزگار کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے مزید کٸی علاقوں میں نٸی سڑکوں کی تعمیر شروع کیا رہا ہے جن کا جلد افتتاح کروں گا

  • اشرف ،جبار مینگل نے   منصوبے کےتحت  عبدالباسط مینگل کو قتل کروایا،میر جمیل مینگل

    اشرف ،جبار مینگل نے منصوبے کےتحت عبدالباسط مینگل کو قتل کروایا،میر جمیل مینگل

    ڈیرہ مراد جمالی (آغا نیاز مگسی) نصیر آباد کے معروف سیاسی و قباٸلی رہنما میر جمیل احمد مینگل نے دعوی کیا ہے کہ میرے بھائی اشرف مینگل اور جبار مینگل نے ایک منصوبہ کے تحت ہمارے بھائی عبدالباسط مینگل کو 12 نومبر 2022 کو، کوٸٹہ میں قتل کرایا اور قتل کا الزام مجھ پر لگایا عبدالباسط کی شہادت کے 5 روز بعد اس کے 25 کروڑ روپے کی مالیت کے چاول کی کٹاٸی کر کے حاجی بشیر کھوسہ کی راٸس مل میں فروخت کر دیے.

    یہ بات انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوٸے کہی انہوں نے کہا کہ 12 نومبر 2022 کو ایک منظم منصوبہ کے تحت ہمارے بھائی اشرف مینگل نے ہمارے بھائی عبدالباسط سے فون کر کے کہا کہ آج کوٸٹہ میں بہت سختی ہے اس لیے تم شہر میں اپنے ساتھ گن مین مت لے جانا چنانچہ عبدالباسط سیکورٹی کے بغیر شہر بازار گیا اور اسے پری پلان کے تحت سٹلاٸٹ ٹاٶن میں فاٸرنگ کر کے قتل کر دیا گیا جس پر اشرف نے لوگوں کو فون کر کے میرے نام یہ کہنا شروع کر دیا کہ جمیل مینگل نے عبدالباسط کو قتل کرایا ہے انہوں نے کہا کہ باسط کی شہادت کے 5 روز بعد اشرف نے عبدالباسط کی جاٸیداد پر قبضہ کر کے اس کے 25 کروڑ روپے مالیت کے چاول حاجی بشیر احمد کھوسہ کے راٸس مل کو فروخت کر دیے اس کے علاوہ اس نے عبدالباسط کے کروڑوں روپے کے ٹریکٹرز ، مال مویشی اور درخت تک کٹوا کر فروخت کرڈالے انہوں نے عبدالجبار نے لالچ میں ننگ و ناموس کے تقدس کو پامال کرتے ہوٸے عبدالباسط کی بیوہ کےبارے جھوٹا الزام لگایا کہ اس کو عبدالباسط نے طلاق دے دیا تھا اس لیے اس کو اب یہاں نہیں رہنا چاہئے.

    میر جمیل مینگل نے کہا کہ میں نے اس وقت کے ایس ایچ او صدر تھانہ جاوید کھوسہ سے کہا کہ اشرف مینگل کے خلاف ایکشن لیں جس پر اس نے سی آٸی اے انچارج حبیب اللہ لاشاری کی موجودگی میں مجھ سے 30 لاکھ روپے طلب کیے میرے انکار پر انہوں نے اشرف مینگل کی سرپرستی کی جس کی وجہ سے اشرف نے میرے گھر میں داخل ہوکر میرے گھر اور بیٹھک کو آگ لگا کر جلا دیا جس کے خلاف میں نے ڈی ایس پی سرکل غلام یاسین جمالی سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ 50 لاکھ روپے دو تو میں وہ رقم ڈی آٸی جی ایاز بلوچ کو دوں گا اس کے بعد ہم اشرف مینگل کے خلاف ایکشن لیں گے میرے انکار پر اس نے مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں میں حساس داروں کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر 21 ستمبر 2024 کو اشرف کو گاٶں سے بے دخل کر دیا جس کے بعد میں اور عبدالباسط کے اہل خانہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ گٸے لیکن ڈی ایس پی یاسین جمالی نے آ کر ایک بار پھر مجھ سے ڈی آٸی جی کے نام پر 50 لاکھ روپے طلب کیے میں نے کہا کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے تو انہوں نے اسی وقت فون کر کے پولیس کی بھاری نفری طلب کر کے مجھے اور عبدالباسط کے اہل خانہ کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا بعد میں معلوم ہوا کہ یاسین جمالی نے اشرف مینگل سے 30 لاکھ روپے لے کر ہمیں اپنے گھروں سے بےدخل کیا جس کے خلاف میں بلوچستان ہاٸیکورٹ میں پٹیشن داٸر کروں گا میر جمیل مینگل نے چیف جسٹس بلوچستان ہاٸیکورٹ ،کور کمانڈر ،گورنر ، وزیر اعلی اور آٸی جی بلوچستان پولیس سے اپیل کی ہے کہ اشرف مینگل کے خلاف کاررواٸی کر کے ہمیں انصاف دلایا جائے.

  • ماتا ہری،  جاسوس اور ڈانسر

    ماتا ہری، جاسوس اور ڈانسر

    ماتا ہری، جاسوس اور ڈانسر

    17 اگست یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بین الاقوامی شہرت یافتہ جاسوس اور خوب صورت و ماہر رقاصہ (ڈانسر) مارگریٹ ذیلی المعروف ماتا ہری 17 اگست 1876 میں نیدر لینڈ ہالینڈ میں ہیدا ہوئی۔ وہ بہت خوب صورت ، بہادر اور سیر و سیاحت کی شوقین تھی ۔ اپنے شوق کی بدولت وہ جلد ایک ماہر ڈانسر بن گئی جس کی وجہ سے اس کی شہرت ،دولت اور تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کی سیر و سیاحت کرتے ہوئے فرانس پہنچ گئی اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی ۔ ماتا ہری کی بھرپور جسمانی کشش اور سحر انگیز رقص کی وجہ سے بڑے بڑے فوجی جرنیل ، وزرا اور ارکان پارلیمان اس کے چاہنے والے افراد کی فہرست میں شامل رہے اور یہیں سے خفیہ اداروں کے عہدے داران نے اس کو اپنے ملک کیلئے دشمن ممالک میں جاسوسی کرنے پر آمادہ کر لیا۔ ماتا ہری نے فرانس کے شہر پیرس میں رہائش اختیار کی ۔ اس دوران پہلی جنگ عظیم میں فرانس کیلئے جرمنی کی جاسوسی کرنے لگی جبکہ کچھ عرصے بعد وہ جرمنی کیلئے فرانس کی جاسوسی بھی کرنے لگ گئی ۔ اس طرح وہ دونوں ملکوں کے لیے جاسوسی کرنے لگی آخر ایک روز فرانس کی خفیہ ایجنسیوں ایک سینیئر آفیسرز نے ماتا ہری کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ۔

    یہ پہلی عورت تھی جس نے فلمی کہانیوں کی بجائے حقیقی دنیا میں ” ڈبل ایجنٹ ” کا کردار ادا کیا۔ 15 اکتوبر 1917 میں پیرس میں جاسوسی کا جرم ثابت ہونے پر ماتا ہری کو اسکواڈ کے سامنے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ماتا ہری نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے نہیں دی بلکہ مسکراتے ہوئے اپنی جان دے دی ۔ اس کی لاش کو لاوارث قرار دے کر اس کا جسد خاکی ہسپتال میں میڈیکل کالج کے طلبہ کے تجربات کیلئے استعمال کیا گیا اس کی گردن کو فرانس کے میوزیم میں رکھا گیا لیکن بعد میں وہ گردن چوری ہو گئی۔ ماتا ہری کی زندگی پر 250 کے لگ بھگ ناول اور سوانح حیات لکھی گئی ہیں اس کے علاوہ اس موضوع پر دنیا کے متعدد ممالک میں فلمیں اور اسٹیج ڈرامے بھی بنائے گئے ہیں ۔

  • سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو عہدہ سے ہٹادیا گیا

    سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو عہدہ سے ہٹادیا گیا

    سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو عہدہ سے ہٹادیا گیا

    ڈاکٹرساجدہ نورین کو بدعنوانی کے الزامات پر عہدہ سے ہٹایا گیا ہے،ڈاکٹر ساجدہ کو ہٹانے کا فیصلہ گزشتہ روز صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا،ایس بی کے یونیورسٹی کی سابقہ وی سی کا دفتر سیل کردیا گیا ،ڈاکٹر ساجدہ نورین کی ٹیم کے ہمراہ رات گئے دفتر میں موجودگی،اطلاع ملنے پر پولیس اور انٹی کرپشن کی ٹیم یونیورسٹی پہنچ گئی ،محکمہ اینٹی کرپشن، انٹیلی جنس بیورو، پولیس سمیت دیگر اداروں نے تحقیقات کا آغاز کردیا، انسداد بدعنوانی کی ٹیم نے سابقہ وی سی کی سرکاری گاڑی اور دفتر سے سیکریٹ فائلیں برآمد کر لیں۔

  • شیخ حسینہ واجد کا "لو میرج”

    شیخ حسینہ واجد کا "لو میرج”

    سندھی دوست سید واجد شاہ سے شادی کی.بلوچ سردار ، عطاء اللہ مینگل نے شیخ حسینہ اور واجد شاہ کا نکاح پڑھایا.شادی کی تقریب میں سردار عطاء اللہ مینگل ، مخدوم امین فہیم اور پیر علی محمد راشدی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے

    تحریر و تحقیق : آغا نیاز مگسی

    دنیا کا سب سے زیادہ عرصہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والی بنگلہ دیش کی خاتون وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد 28 ستمبر 1947 کو تنگیپورہ بنگال متحدہ پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن اور فضیلت النساء کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں ان کی دادو سندھ سے تعلق رکھنے والے سائنس کے طالب علم سید واجد علی شاہ سے دوستی ہوئی اور کچھ عرصہ بعد ان کی یہ دوستی پیار میں بدل گئی ۔ جب دل کی بیتابیاں بڑھنے لگیں تو ایک دوسرے سے ایک پل بھی دوری انہیں گوارا نہیں ہو رہی تھی تب شیخ حسینہ نے شاہ صاحب سے شادی کرنے کا تقاضا کیا ان کی رضامندی پر شیخ حسینہ نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمان سے بات کی شیخ مجیب نے سید واجد شاہ کے والد سے رابطہ کیا اور پھر دونوں کے والدین کی رضامندی سے شادی کی تاریخ مقرر کی گئی ۔ 17 نومبر 1967 میں ڈھاکہ میں ان کی شادی کی مختصر تقریب منعقد ہوئی جس میں سندھ کی نامور روحانی اور علمی و ادبی شخصیات مخدوم امین فہیم ، پیر علی محمد راشدی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت سردار عطاء اللہ خان مینگل بطور مہمانان خصوصی شریک ہوئے ۔ شرکائے تقریب کی باہمی مشاورت سے بلوچ نوجوان سردار عطاء اللہ مینگل نے 20 سالہ دوشیزہ شیخ حسینہ اور سید واجد علی شاہ کا نکاح پڑھایا نکاح کے بعد شیخ حسینہ نے اپنے نام کے ساتھ واجد کا لاحقہ لگا دیا اور وہ اس طرح شیخ حسینہ واجدبن گئیں ۔ سید واجد شاہ سے انہیں دوبچے پیدا ہوئے جن میں بیٹا سجیب واجد اور بیٹی صائمہ واجد ہیں ۔

    15 اگست 1975 کو بنگلہ دیش کے بانی صدر اور عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن اور اس کےاہل خانہ کو ان کے گھر میں داخل ہو کر کو قتل کر دیا گیا تاہم شیخ حسینہ اور اس کی بہن شیخ ریحانہ اس رات اپنے گھر سے باہر تھیں اس لیے یہ دونوں زندہ بچ گئیں ۔ اپنے والدشیخ مجیب الرحمان کےقتل کے بعد وہ اور ان کی بہن ریحانہ ہندوستان چلی گئیں وہاں انہیں سیاسی پناہ دی گئی ۔ شیخ مجیب کے قتل کے بعدجنرل حسین محمد ارشاد نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ 1981 میں شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش واپس آ کر اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ وہ 3 بار عوامی لیگ کی صدر کی حیثیت سے ملک میں اپوزیشن لیڈر بنیں اور چار مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنیں ۔ ان کے دور میں ملک کی معیشت مسستحکم ہوئی جس کی اہم وجہ ڈاکٹر محمد یونس کی سماجی خدمات تھیں شیخ حسینہ واجد ایک بدترین ڈکٹیٹر حکمران ثابت ہوئیں اپنے سیاسی مخالفین کو قتل کرانا پھانسی چڑھانا اور جیل میں ڈالنا ان کا مشغلہ بن گیا یہاں تک کہ ڈاکٹر یونس پر بھی مقدمات بنائے گئے جن کی تعداد 100 سے بھی زائد تھی ڈاکٹر یونس کو مجبور ہو کر ملک چھوڑنا پڑا ۔ جب 5 اگست 2024 کو طلبہ تحریک عروج پر پہنچ گئی طلبہ کے مشتعل ہجوم نے شیخ حسینہ واجد کو قتل کرنے کی غرض سے وزیر اعظم ہاؤس کا رخ کیا تو آرمی چیف وقار الزمان کی مدد سے وہ اپنی بہن ریحانہ کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں فرار ہو کر ایک بار پھر موت کے منہ میں جانے سے بچ کر ہندوستان پہنچ گئیں جبکہ شیخ حسینہ کے محبوب شوہر اور اٹامک انرجی سائنسدان سید واجد شاہ 9 مئی 2009 میں وفات پا چکے تھے ۔

  • جان جمالی نے پاکستان میں امریکی طرز پر سینیٹ انتخابات کی تجویز پیش کر دی

    جان جمالی نے پاکستان میں امریکی طرز پر سینیٹ انتخابات کی تجویز پیش کر دی

    کوئٹہ(آغا نیاز مگسی) بلوچستان کے سابق وزیر اعلی اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ میر جان محمد جمالی نے پاکستان میں امریکی طرز پر سینیٹ کے براہ راست انتخابات کی تجویز پیش کر دی ہے بقول ان کے موجودہ طرز انتخاب میں سینیٹ کی ایک نشست کے لیے ارکان اسمبلی کی کروڑوں روپے میں خرید و فروخت ہوتی ہے جو کہ بیرون دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث ہوتا ہے جبکہ منتخب ہونے والے ارکان کا عوام سے براہ راست کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا .

    یہ بات انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر سینیئر صحافی اور کالم نگار آغا نیاز مگسی کی سربراہی میں نصیر آباد کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ،میر جان محمد خان جمالی نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کے چین کے علاوہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں جس کے باعث پاکستان کو ہر محاذ پر ناکامی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گوادر بندر گاہ کا زیادہ ٹیکس کی وجہ سے کامیاب ہونا ممکن نہیں ہےجبکہ اس کے مقابلے میں چاہ بندر گاہ کی کامیابی کےامکانات روشن نظر آتے ہیں کیوں کہ ایران میں بہت کم ٹیکس لگائےجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں سرمایہ کاری بہت زیادہ ہوتی ہے اس کے مقابلے میں گوادر بندر گاہ کون آئے گا .

    میر جان محمد نے کہا کہ بلوچستان کو سی پیک کے ” ٹیل “ میں رکھا گیا ہے بلوچستان کے علاوہ پنجاب سمیت دیگر تمام صوبے سی پیک کے منصوبے سے مستفید ہوتے رہ ہیں لیکن بلوچستان کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے

  • مظہر عباس،  صحافی و کالم نگار

    مظہر عباس، صحافی و کالم نگار

    6 جولائی 1958: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی ، کالم نویس ، تجزیہ و تبصرہ نگار فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سابق جنرل سیکریٹیری اور کراچی پریس کلب کے سابق سیکریٹری مظہر عباس 6 جولائی 1958 میں حیدر آباد سندھ میں پیدا ہوئے انہوں نے حیدر آباد اور کراچی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا جس کی ابتدا انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سے کی اس کے بعد کراچی کے ایک مشہور ایوننگ اخبار دی اسٹار میں کام شروع کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1982 میں باضابطہ طور پر صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا وہ 6 سال کراچی میں A F P کے بیورو چیف 2 سال ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر افیئرز رہے ۔ مظہر عباس کافی عرصہ ڈان گروپ میں کالم اورآرٹیکل لکھتے رہے انہوں نے دی نیوز ، ایکسپریس اردو، ایکسپریس ٹریبون، ہم ٹی وی، پی ٹی وی ،دی فرائیڈے ٹائمز ، ہارلڈ نیوز لائن ، خلیج ٹائمز اور انڈیا کے آئوٹ لک میں بھی کام کیا۔ وہ 2013 سے جنگ اور جیو سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ وہ مختلف نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیئے پیش کرتے رہتے ہیں ۔

    2002 میں انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے سائوتھ ایشیا کے بیورو چیف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کی خبر سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔ مظہر عباس کو 2007 میں بہترین صحافت کی خدمات کے عوض انٹر نیشنل پریس فار فریڈم کے انعام سےنوازا گیا یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح کے 5 صحافیوں کو دیا گیا جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے حملوں ،اغوا،دھمکیوں اور قید و بند کا سامنا کیا ۔2009 میں انہیں Missouri, Medal of Honer کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    اپنی 40 سالہ صحافت میں انہوں نے 5000 سے زائد کالم اور مضامین وغیرہ لکھے ہیں جبکہ 400 سے زائد ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔ مظہر عباس کے 3 بھائی ہیں، ظفر عباس ڈان کے مدیر ہیں اطہر عباس سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اظہر عباس جیو نیوز سے وابستہ ہیں ۔ مظہر عباس کی اہلیہ محترمہ ارم عباس کا 24 دسمبر 2020 میں کراچی میں انتقال ہوا ۔اولاد میں ان کی 2 بیٹیاں ہیں ۔ مظہر عباس اس وقت کراچی میں مقیم ہیں ۔

  • محکمہ ڈاک کا ملازم لاپتہ،سریاب روڈ کوئٹہ میں 5 روزسے خواتین کا احتجاج

    محکمہ ڈاک کا ملازم لاپتہ،سریاب روڈ کوئٹہ میں 5 روزسے خواتین کا احتجاج

    کوئٹہ(آغا نیاز مگسی) گزشتہ 6 روز سے موسی کالونی کے قریب سریاب روڈ پر اقراء بلوچ کی قیادت میں خواتین نے احتجاجی کیمپ قائم کر کے روڈ بلاک کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک بند اور شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اقراء بلوچ محمد حسنی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ میرا ماموں ظہیر احمد محمد حسنی جو کہ محکمہ ڈاک میں ملازم ہے 9 روز قبل اچانک لاپتہ ہو گیا ہے وہ ایک شریف شہری ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں شک ہے کہ اسے لاپتہ کر دیا گیا ہے اقراء بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ظہیر احمد پرکوئی کیس ہے یا اس پر کسی قسم کا کوئی شک ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے ، اس موقع پر ظہیر کی 5 بہنیں و دیگر خواتین بھی موجود تھیں ۔

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے