Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے

    پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے

    پہلے تو ایک عمر گزاری نشاط میں
    پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے

    حرا قاسمی

    پیدائش: 26 مئی 2001
    تعلیم: ایم اے انگریزی
    آغاز شاعری: 2016
    پتہ : ہندوستان صوبہ اترپردیش ضلع اٹاوہ

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دکھ کی دیوار گرانے سے رہی
    یعنی میں خود کو بچانے سے رہی
    چھوڑ جائے گی یہ ریزہ کر کے
    زندگی ساتھ نبھانے سے رہی
    دل نے سوچا ہے تری وحشت کو
    سو مجھے نیند تو آنے سے رہی
    درد ہوتے ہی چھلک جائیں گے
    اشک آنکھوں میں چھپانے سے رہی
    خود ہی احوال سمجھ لے میرا
    میں تجھے دل تو دکھانے سے رہی
    دور ہو جائیں اندھیرے مجھ سے
    ایسی قندیل جلانے سے رہی
    اب یہاں اہل ستم رہتے ہیں
    اب میں زنجیر ہلانے سے رہی
    لوگ محروم سماعت ہیں حراؔ
    حال غم ان کو سنانے سے رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وحشتوں کے نگر میں رہتے ہیں
    یعنی ظلم و ضرر میں رہتے ہیں
    بار سر پر اٹھائے نفرت کا
    لوگ شہر خطر میں رہتے ہیں
    منزلوں کی تلاش میں ہم لوگ
    رات دن بس سفر میں رہتے ہیں
    مسند دل پہ جن کا قبضہ ہو
    کب وہ زیر و زبر میں رہتے ہیں
    وہ جو رہتے تھے دل کی دنیا میں
    اب دکھوں کے کھنڈر میں رہتے ہیں
    ہم وہ جدت پسند ہیں جو حراؔ
    کرگسوں کے نگر میں رہتے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دامن چھڑا کہ دشت سے ہالے میں آ گئے
    ہم جیسے بد نصیب بھی گھاٹے میں آ گئے
    روداد سن کے اُس کی کیا یوں تو ضبط پر
    کچھ اشک میری آنکھ کے پیالے میں آ گئے
    پہلے تو ایک عمر گزاری نشاط میں
    پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے
    تنہائیوں کا درد سمجھنے لگے ہیں ہم
    اے ہجر! جب سے تیرے گھرانے میں آ گئے
    دن بھر سجائی شوق سے بزمِ طرب حرا
    آئی جو شب تو دکھ کے احاطے میں آ گئے

  • مسرت شاہین  ،کامیاب  اداکارہ ناکام  سیاستدان ،

    مسرت شاہین ،کامیاب اداکارہ ناکام سیاستدان ،

    اردو ، پشتو اور پنجابی فلموں کی مشہور پاکستانی اداکارہ اور رقاصہ مسرت شاہین 23 مئی 1954 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون اداکارہاور ڈانسر ہیں جنہوں نے اسلامک کلچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مسرت شاہین کی وجہ شہرت پشتو فلموں میں مخصوص قسم کا رقص کرنا ہے جن کے ڈانس کی وجہ سے ان کے چاہنے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ وہ سینما کی اسکرین پر جب بھی ڈانس کرتے ہوئے جلوہ گر ہوتی تھیں تو سینماؤں میں موجود تماشبین دیوانہ وار سیٹیاں بجاتے ہوئے جھومنے لگ جاتے تھے جیسے ان پر سحر یا وجد طاری ہو گیا ہو۔ مسرت شاہین نے مجموعی طور پر 216 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں پشتو کی 120 فلمیں ، پنجابی کی 58 اردو کی 33 اور 5 ڈبل ورژن فلمیں شامل ہیں ۔

    ان کی مشہور فلموں میں حسینہ ایٹم بم، آوارہ اور دھمکی ، زلزلہ ، دلہن ایک رات کی، وغیرہ شامل ہیں ۔ مسرت شاہین نے 2000عیسوی سن میں پاکستان تحریک مساوات (P T M) کے نام سے اپنی ایک سیاسی جماعت قائم کی اور 2002 کے عام انتخابات میں ڈیرہ اسماعیل خان سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ۔ مولانا اور اداکارہ ، رقاصہ اور سیاست دان کے درمیان مقابلہ بڑا دلچسپ رہتا تھا ۔ مسرت شاہین کہتی تھیں کہ میں ڈیرہ اسماعیل خان کی اصل باشندہ ہوں مولانا صاحب پنیالہ کے ہیں اس لیے ووٹ کی اصل حقدار میں ہوں ساتھ میں وہ رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہتیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب قابل احترام بزرگ شخصیت اور میرے بھائیوں جیسے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ہر بار مولانا سے الیکشن میں شکست سے دوچار ہوتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود سیاست سے مایوس یا دل برداشتہ نہیں ہوئیں اور مستقبل میں کامیابی کیلئے اب بھی پرامید دکھائی دیتی ہیں ۔

  • اردو کے معروف شاعر محمّد اقبال ساجد

    اردو کے معروف شاعر محمّد اقبال ساجد

    فکر معیار سخن باعث آزار ہوئی
    تنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا

    اردو کے معروف شاعر محمّد اقبال ساجد 1932 میں لنڈھورا، ضلع سہارن پور(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد لاہور منتقل ہوگئے۔ میٹرک تک تعلیم پائی۔ کچھ دنوں ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ کالم نویسی بھی کی۔ اقبال ساجد نے مجبوری میں اپنا کلام بہت سستے داموں بیچ دیا تھا۔ انھیں اس بات کا دکھ بھی تھا۔

    جب اقبال ساجد نے اپنے اشعار بیچنا چھوڑ دیے تو مجبوری میں انھیں ایسے پیشے اختیار کرنا پڑے جسے ہمارے معاشرے میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ نازش حیدری ان کے استاد تھے۔ فاقہ کشی اور کثرت شراب نوشی کے باعث 18 مئی 1988 کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ان کا شعری مجموعہ ” اثاثہ” کے نام سے ان کی وفات کے بعد شائع کیا گیا۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:271

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار
    لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

    سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
    میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

    اندر تھی جتنی آگ وہ ٹھنڈی نہ ہو سکی
    پانی تھا صرف گھاس کے اوپر پڑا ہوا

    اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی
    جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی

    بڑھ گیا ہے اس قدر اب سرخ رو ہونے کا شوق
    لوگ اپنے خون سے جسموں کو تر کرنے لگے

    درویش نظر آتا تھا ہر حال میں لیکن
    ساجدؔ نے لباس اتنا بھی سادہ نہیں پہنا

    ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی
    میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

    فکر معیار سخن باعث آزار ہوئی
    تنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا

    میں آئینہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گا
    اک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی

    میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیر
    آدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں

    مرے ہی حرف دکھاتے تھے میری شکل مجھے
    یہ اشتہار مرے روبرو بھی ہونا تھا

    ساجدؔ تو پھر سے خانۂ دل میں تلاش کر
    ممکن ہے کوئی یاد پرانی نکل پڑے

    وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا
    کردار خود ابھر کے کہانی میں آئے گا

    سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کو
    میں کہر میں لپٹا ہوں شفق چاہئے مجھ کو

  • جرمنی کا بائبلی محقق، مورخ، ماہر الہیات اور مستشرق جولیس ولہاؤزن

    جرمنی کا بائبلی محقق، مورخ، ماہر الہیات اور مستشرق جولیس ولہاؤزن

    جولیس ولہاؤزن جرمنی کا بائبلی محقق، مورخ، ماہر الہیات اور مستشرق تھا۔ اثنائے تحقیق وہ اسلامی مطالعات کی وجہ سے عہد نامہ قدیم سے عہد نامہ جدید تک جا پہنچا۔ ولہاؤزن نے تورات کی تاریخ تالیف کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اسلام کے ابتدائی دور کا بھی مطالعہ کیا۔ نیز ولہاؤزن کو تورات کے دستاویزی مفروضہ کے بانیوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    جولیس ولہاؤزن 17 مئی 1844ء کو ہاملن، جرمنی میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک پروٹسٹنٹ مسیحی تھا اور ولہاؤزن بھی عمر بھر پروٹسٹنٹ عقیدے سے منسلک رہا۔ اس نے گوتنگن یونیورسٹی میں جارج ہنرش آگست ایوالڈ کے زیر نگرانی علم الہیات پڑھا۔ 1872ء میں ولہاؤزن گرائفس والڈ یونیورسٹی میں الہیات کا پروفیسر مقرر ہوا اور دس برس بعد 1882ء میں اس عہدے سے مستعفی ہوا۔ بعد ازاں ہال یونیورسٹی میں شعبہ علم لسانیات میں السنہ مشرق کا اور 1885ء میں ماربرگ میں پروفیسر منتخب ہوا۔ اس کے بعد 1892ء میں اس کا گوتنگن میں تبادلہ ہوگیا اور اس ادارے سے وہ اپنی وفات یعنی 7 جنوری 1918ء تک وابستہ رہا۔

    ماہرین الٰہیات اور کتاب مقدس کے محققین کے نزدیک ولہاؤزن اپنی کتاب "مقدمہ تاریخ قدیم اسرائیل (Prolegomena zur Geschichte Israels، 1882ء) اور ”تدوین کتب خمسہ و عہد نامہ قدیم اور ان کی تاریخ“ (1876ء) کے باعث معروف ہے۔

    جدید علوم کی تحقیق میں
    ۔۔۔۔۔۔
    ولہازوں کا اسلوب
    ۔۔۔۔۔۔
    بعض ناقدین ولہازون کے اسلوب پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اس میں سامی اور کاتھولک مخالف عنصر پایا جاتا ہے۔ ولہازون تورات کے ربیائی اجزا (یہودی احبار اور کاتھولک راہب دونوں) کے تئیں اپنی عداوت کا صراحت سے اظہار کرتا ہے۔ جب ولہازون کو کارل ہینرش گراف کے اس مفروضہ کا علم ہوا جس کے مطابق موسوی قانون انبیا کے اصل روحانی مذہب میں بعد کا اضافہ ہے تو بغیر کسی دلیل کے اسے قبول کرنے میں ادنی جھجھک محسوس نہیں کی۔

    مشہور تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ (1)عرب بت پرستی کی باقیات
    ۔۔۔ (Reste arabischen
    ۔۔۔ Heidentums)
    ۔۔۔ برلن 1887ء۔ اس کا عربی ترجمہ
    ۔۔۔ بقایا الوثنیہ العربیہ کے نام سے ہوچکا ہے۔
    ۔۔۔ (2)مقدمہ برائے قدیم تاریخ اسلام
    ۔۔۔ (Prolegomena zur
    ۔۔۔ altesten Geschichte des
    ۔۔۔ islams) برلن 1899ء
    ۔۔۔ (3)حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)
    ۔۔۔ مدینہ میں، برلن 1882ء۔
    ۔۔۔ یہ واقدی کی کتاب المغازی کا ترجمہ ہے۔
    ۔۔۔ (1)قدیم اسلام کے سیاسی و مذہبی احزاب
    ۔۔۔ خوارج اور شیعہ، گوتنگن 1901ء۔
    ۔۔۔ معرکہ جمل تا زوالِ بنی امیہ کے دور میں
    ۔۔۔ خوارج اور شیعہ کے نشو و نما، ان کی تحریکیں
    ۔۔۔ اور بغاوتیں اس کتاب میں ذکر کی گئی ہیں۔
    انگریزی میں اس کا ترجمہ
    ۔۔۔ The Religio-Political
    ۔۔۔ Opposition Parties
    ۔۔۔ in Early Islam
    ۔۔۔ : 1: The Khawarij 2:Shi’ites)
    ۔۔۔ کے نام سے ہوا۔
    ۔۔۔ عبد الرحمن بدوی نے جرمنی سے
    ۔۔۔ اس کا عربی ترجمہ بنام
    ۔۔۔ احزاب المعارضۃ السیاسیۃ الدینیۃ
    ۔۔۔ فی صدر الاسلام، الخوارج والشیعۃ کیا
    ۔۔۔ جو قاہرہ سے 1958ء میں شائع ہوا۔
    ۔۔۔ اسی عربی سے اس کا اردو ترجمہ
    ۔۔۔ پروفیسر محسن علی صدیقی نے کیا۔
    ۔۔۔ پہلا حصہ شیعہ بنام ’عہد اموی میں
    ۔۔۔ سیاسی و مذہبی احزاب (2001ء) شائع ہوا
    ۔۔۔ اور پھر الخوارج (2009ء) کے نام سے
    ۔۔۔ دوسرا حصہ شائع ہوا۔
    ۔۔۔ یہ دونوں حصے قرطاس کراچی سے
    ۔۔۔ شائع ہوئے۔
    ۔۔۔ (4)اس سے اگلے سال 1902ء میں
    ۔۔۔ سلطنت و دولتِ عربیہ کی تاریخ پر جامع کتاب
    ۔۔۔ سلطنت عرب اور اس کا سقوط
    ۔۔۔ (Das arabiche Reich und
    ۔۔۔ sein Sturz) برلن سے شائع ہوئی
    ۔۔۔ جرمن سے اس کا انگریزی میں ترجمہ
    ۔۔۔ مارگریٹ گراہم ویئر نے
    ۔۔۔ The Arab Kingdom and
    ۔۔۔ its Fallکے نام سے کیا جو
    ۔۔۔ 1927ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے شائع ہوا۔
    ۔۔۔ اس کے بعد انگریزی سے عربی میں
    ۔۔۔ شامی فاضل یوسف العش نے ترجمہ کیا
    ۔۔۔ جو دمشق سے 1952ء میں شائع ہوا
    ۔۔۔ اور دوسرا ترجمہ براہِ راست
    ۔۔۔ جرمن سے مصری عالم عبد الہادی ابوریدہ
    ۔۔۔ نے کیا جو قاہرہ سے 1957ء میں طبع ہوا۔

  • ہم نے کتنے دھوکے میں سب  جیون  کی  بربادی کی

    ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی

    ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
    گال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کی

    ضمیر جعفری

    پیدائش:01 جنوری 1916ء
    جہلم، پاکستان
    وفات:12 مئی 1999ء
    نیو یارک، ریاستہائے متحدہ امریکہ

    سید ضمیر حسین شاہ نام اور ضمیر تخلص تھا۔ 01 جنوری 1916ء کو پیدا ہوئے۔ آبائی وطن چک عبدالخالق ، ضلع جہلم تھا۔ اسلامیہ کالج، لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ فوج میں ملازم رہے اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ راول پنڈی سے ایک اخبار’’بادشمال‘‘ کے نام سے نکالا۔ کچھ عرصہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سے منسلک رہے۔ پاکستان نیشنل سنٹرسے بھی وابستہ رہے۔ ضمیر جعفری دراصل طنزومزاح کے شاعرتھے۔کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے سنجیدہ اشعار بھی کہہ لیتے تھے۔ یہ نظم ونثر کی متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ 12؍ مئی1999ء کو نیویارک میں انتقال کرگئے۔ تدفین ان کے آبائی گاؤں چک عبدالخالق میں ہوئی۔ ان کی مطبوعہ تصانیف کے نام یہ ہیں:’’کارزار‘‘، ’’لہو ترنگ‘‘، ’’جزیروں کے گیت‘‘، ’’من کے تار‘‘ ’’مافی الضمیر‘‘، ’’ولایتی زعفران‘‘، ’’قریۂ جاں‘‘، ’’آگ‘‘، ’’اکتارہ‘‘، ’’ضمیر یات‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:50

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہم زمانے سے فقط حسن گماں رکھتے ہیں
    ہم زمانے سے توقع ہی کہاں رکھتے ہیں
    ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
    لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں
    کچھ ہمارے بھی ستارے ترے دامن پہ رہیں
    ہم بھی کچھ خواب جہان گزراں رکھتے ہیں
    چند آنسو ہیں کہ ہستی کی چمک ہے جن سے
    کچھ حوادث ہیں کہ دنیا کو جواں رکھتے ہیں
    جان و دل نذر ہیں لیکن نگہ لطف کی نذر
    مفت بکتے ہیں قیامت بھی گراں رکھتے ہیں
    اپنے حصے کی مسرت بھی اذیت ہے ضمیرؔ
    ہر نفس پاس غم ہم نفساں رکھتے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھے
    اک شخص تھا کہ مل نہ سکا عمر بھر مجھے
    شعلوں کی گفتگو میں صبا کے خرام میں
    آواز دے رہا ہے کوئی ہم سفر مجھے
    شاید انہیں کا عجز مرے کام آ گیا
    جن دوستوں نے چھوڑ دیا وقت پر مجھے
    شب کو تو ایک قافلۂ گل تھا ساتھ ساتھ
    یا رب یہ کس مقام پہ آئی سحر مجھے
    ہنستے رہے فلک پہ ستارے زمیں پہ پھول
    اچھا ہوا کہ عمر ملی مختصر مجھے
    مدت کے بعد اس نے سر انجمن ضمیرؔ
    دیکھا نگاہ عام سے اور خاص کر مجھے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
    وفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہے

    اب اک رومال میرے ساتھ کا ہے
    جو میری والدہ کے ہاتھ کا ہے

    ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
    گال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کی

    ہنس مگر ہنسنے سے پہلے سوچ لے
    یہ نہ ہو پھر عمر بھر رونا پڑے

    ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
    لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں

    ان کا دروازہ تھا مجھ سے بھی سوا مشتاق دید
    میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھلا

    درد میں لذت بہت اشکوں میں رعنائی بہت
    اے غم ہستی ہمیں دنیا پسند آئی بہت

  • الیکساندرفادیئیف

    الیکساندرفادیئیف

    پیدائش:11 دسمبر 1901ء
    وفات:13 مئی 1956ء
    وجۂ وفات:شوٹ
    طرز وفات:خودکشی
    شہریت: سلطنت روس
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد (1918ء)
    پیشہ:مصنف، سیاست داں، صحافی، مشہور شخصیت
    مادری زبان:روسی
    پیشہ ورانہ زبان:روسی
    اعزازات
    آرڈر آف لینن

    الیکساندرالیکساندرووچ فادیئیف سوویت روسی ناول نگار، شریک بانی انجمنِ سوویت مصنفین ہیں۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف روسی سلطنت کے صوبے توور کے کمری نامی قصبے میں 24 دسمبر 1901ء کو پیدا ہوئے۔
    تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف کا شمار سوویت ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ میکسم گورکی کی موت کے بعد انھوں نے بہت برسوں تک ”سوویت ادیبوں کی انجمن“ کی رہنمائی کی۔ روپوش چھاپہ ماروں اور خانہ جنگی کی زندگی سے زبردست سبق حاصل کرکے انھوں نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں لکھنا شروع کیا۔ فادیئیف کے ناولوں ”شکست“، ”قافلہ شہیدوں کا“ اور ”اودے گے قوم کا آخری آدمی“ کو سوویت ادب کے بیش بہا خزانے میں جگہ ملی۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    شکست
    قافلہ شہیدوں کا (1945ء)
    اودے گے قوم کا آخری آدمی
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف کو 1946ء میں ناول ”قافلہ شہیدوں کا“ پر سوویت ریاست ”اسٹالن انعام“ دیا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف نے 54 سال کی عمر میں 13 مئی 1956ء میں ماسکو اوبلاست، سویت یونین میں خودکشی کی۔

  • اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    آغا حشر کاشمیری

    پیدائش:03اپریل 1879ء
    بنارس، ہندستان
    وفات:28اپریل 1935
    لاہور، پاکستان

    آغا حشر کا اصل نام آغا محمد شاہ تھا۔ ان کے والد غنی شاہ بسلسلہ تجارت کشمیر سے بنارس آئے تھے اور وہیں آباد ہو گئے تھے۔ بنارس ہی کے محلہ گوبند کلاں، ناریل بازار میں03 اپریل 1879کو آغاحشر کا جنم ہوا۔
    آغا نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور قرآن مجید کے سولہ پارے بھی حفظ کیے۔ اس کے بعد ایک مشنری اسکلول جے نارائن میں داخل کرائے گئے۔ مگر نصابی کتابوں میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے تعلیم نا مکمل رہ گئی۔
    بچپن سے ہی ڈرامہ اور شاعری سے دل چسپی تھی۔ سترہ سال کی عمر سے ہی شاعری شروع کر دی اور 18 سال کی عمر میں آفتاب ِ محبت کے نام سے ڈرامہ لکھا جسے اس وقت کے مشہور ڈرامہ نگاروں میں مہدی احسن لکھنوی کو دکھایا تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ نگاری بچوں کا کھیل نہیں ہے۔
    منشی احسن لکھنوی کی اس بات کو آغا حشر کاشمیری نے بطور چیلنچ قبول کیا اور اپنی تخلیقی قوت، اور ریاضت سے اس طنز کا ایسا مثبت جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہی نہیں ہو سکتی، انہیں جو شہرت، مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہے، وہ ان کے بہت سے پیش رؤوں اور معاصرین کو نصیب نہیں ہے۔
    مختلف تھیٹر کمپنیوں سے آغا حشر کاشمیری کی وابستگی رہی، اور ہر کمپنی نے ان کی صلاحیت اور لیاقت کا لوہا مانا۔ الفریڈ تھیٹریکل کمپنی کےلئے آغا حشر کو ڈرامے لکھنے کا موقع ملا، اس کمپنی کے لیے آغا حشر نے جو ڈرامے لکھے، وہ بہت مقبول ہوئے۔ اخبارات نے بھی بڑی ستائش کی۔ آغا حشر کی تنخواہوں میں اضافے بھی ہوتے رہے۔
    آغا حشر کاشمیری نے اردو، ہندی اور بنگلہ زبان میں ڈرامے لکھے جس میں کچھ طبع زاد ہیں اور کچھ وہی ہیں جن کے پلاٹ مغربی ڈراموں سے ماخوذ ہیں۔
    آغا حشر کاشمیری نے شکسپیر کے جن ڈراموں کو اردو کا قالب عطا کیا ہے ، ان میں شہیدناز، صید ہوس، سفید خون، خواب ہستی بہت اہم ہیں۔
    آغا حشر کاشمیری نے رامائن اور مہابھارت کے دیومالائی قصوں پر مبنی ڈرامے بھی تحریر کیے ہیں ، جو اس وقت میں بہت مقبول ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
    بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
    ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
    اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
    او وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ
    بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں
    آرزوؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
    جب بہار آئے گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
    حشرؔ میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
    اپنا غم دل کی زباں میں دل کو سمجھاتا ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    وہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی
    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    یہ بجا کلی نے کھل کر کیا گلستاں معطر
    اگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی
    یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے
    مرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی
    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک
    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
    ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

    سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی
    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک
    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

  • قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    کیسے کیسے لوگ/ آغا نیاز مگسی

    دنیا میں ایسی بہت سی نامور شخصیات گزری ہیں اور کچھ اس وقت بھی موجود ہیں جن کی شہرت اور پہچان کسی ایک وجہ سے ہوتی ہے مگر وہ اپنی اس شہرت کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی خصوصی مہارت رکھتی ہیں ایسی شخصیات میں حضرت امیر خسرو اور شکیلہ بانو بھوپالی سب سے نمایاں اور واضح مثال ہیں ۔ امیر خسرو کی شہرت اردو، ہندی اور فارسی کے ایک بہت بڑے شاعر کی تھی لیکن وہ شاعر کے علاوہ ایک بہت بڑے گائیک، قوال اور موسیقار بھی تھے اور اسی طرح ماضی قریب میں شکیلہ بانو بھوپالی اردو کی پہلی خاتون قوال اور موسیقار کی حیثیت سے مشہور تھیں مگر وہ اردو کی پہلی خاتون صاحب دیوان شاعرہ بھی تھیں بالکل اسی طرح اردو کی ممتاز ادیبہ قرت العین حیدر کی پہچان ایک افسانہ نگار اور ناول نگار کی تھی مگر وہ اس کے علاوہ ایک بہترین موسیقار بھی تھیں مگر اس حوالے سے ان کی شہرت اور پہچان نہیں ہو سکی۔ قرت العین حیدر ہارمونیم اور ستار سمیت موسیقی کے دیگر سازندے بھی بڑی مہارت سے بجاتی تھیں اس سلسلے میں انہوں نے سورج بخش سری واستو، راج کمار شیوپوری اور گیانوٹی بھٹناگر سے موسیقی کی خصوصی تربیت حاصل کی تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک ماہر موسیقار کی حیثیت سے نہ صرف موسیقی کے موضوع پر مختلف جرائد و رسائل میں کئی خصوصی مضامین لکھے بلکہ برصغیر کے ممتاز کلاسیکل فنکار استاد بڑے غلام علی خان کے فن گائیکی اور موسیقی پر ایک کتاب بھی لکھی۔

  • تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر

    تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر

    تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر
    بدھ وار بھی ہوگا اتوار مری جان

    انیسہ صابری

    والد کا نام:محمد اسحاق انصاری (مرحوم)
    والدہ کا نام:کلثوم النساء (مرحؤمہ)
    شوہر کا نام: محمد صابر انصاری

    تاریخ ولادت:27 اپریل 1977ء
    جائے پیدائش :انصار نگر، گواہ چوک
    ویشالی، بہار

    موجودہ پتہ :4 بنواری لال رائےروڈ
    پیل خانہ، ہوڑہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف: آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔

    انیسہ صابری کا اصل نام انیسہ انصاری ہے مگر 11 مئی 1994 میں محمد صابر انصاری سے شادی ہونے کےبعد اپنے شوہر کے نام کی نسبت سے انیسہ صابری کا نام اختیار کیا۔ انہوں نے 2015 سے شاعری کی ابتدا کی اور فیروز اختر سے شاعری میں اصلاح لی ۔ انیسہ کے شوہر ہندی زبان کے معروف شاعر اور صحافی ہیں۔ انیسہ اور محمد صابر انصاری کو اللہ تعالی نے 3 بچوں فاطمہ صابری محمد شارق انصاری اور سلیمہ صابری کی اولاد کی نعمت سے نوازا مگر 4 مئی 2007 کو ان کا 5 سالہ اکلوتا بیٹا شارق انصاری اپنے محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اچانک غائب ہو گیا جس کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔ اس عظیم سانحے اور صدمے نے ان دونوں کو نڈھال کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ محض زندہ لاش بنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ دنیاوی امور خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بجھتے ہوئے دیئے کو جلایا ہے آپ نے
    دل میں مرے خوشی کو جگایا ہے آپ نے
    ایسے نظر کا تیر چلایا ہے آپ نے
    دل کو مرے دیوانہ بنایا ہے آپ نے
    غم آپ نے دیئے تو مرا حوصلہ بڑھا
    کیسے کہوں کہ دل کو دکھایا ہے آپ نے
    ہیں کس کے انتظار میں آنکھیں بچھی ہوئیں
    کس کے لیے یہ گھر کو سجایا ہے آپ نے
    لوگوں نے خوب داد بھی دی ، تالیاں بجیں
    محفل میں جو بھی شعر سنایا ہے آپ نے
    دنیا کی چشم آپ پہ اس وقت ہے اٹھی
    جب بارِ غم انیسہ اٹھایا ہے آپ نے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    زخم طعنوں سے بھر رہی ہوں میں
    اور تجھے یاد کر رہی ہوں میں
    دل کو ہے یہ گماں ، تُو آئے گا
    تیری خاطر سنور رہی ہوں میں
    آرزو تم سے ملنے کی ہے مگر
    پر زمانے سے ڈر رہی ہوں میں
    مجھ کو یاد آتا ہے سدا وہ پل
    جب تری ہم سفر رہی ہوں میں
    جس پہ چلتی تھی ساتھ میں تیرے
    اس سے اب بھی گزر رہی ہوں میں
    میں انیسہ کسی کی ہو نہ سکی
    آج بھی اس پہ مر رہی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    انکار کرو یا کرو اقرار مری جان
    الفت نہیں جاتی کبھی بیکار مری جان
    زحمت تو ذرا ہوگی مگر دیکھ لے اس کو
    بیمار ترا ہے پسِ دیوار مری جان
    ظالم ہے کوئی اور کوئی مظلوم جہاں میں
    ہے سب کا الگ دہر میں کردار مری جان
    گر ساتھ ترا ہو تو نہیں غم کوئی مجھ کو
    ہر دن ہے مرے واسطے تہوار
    تم آؤ انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر
    بدھوار بھی ہو جائے گا اتوار مری جان

  • داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
    لوگ اپنے دیے جلانے لگے

    اقبال بانو

    یوم وفات: 21 اپریل 2009

    پاکستان کی معروف غزل گائیک و گلوکارہ اقبال بانو کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس بیت گئے‘ ان کی آواز میں گایا فیض احمد فیض کا کلام ’ہم دیکھیں گے‘ آج بھی برصغیر کے عوام دلوں کی آواز ہے۔اقبال بانو کو بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤتھا جسے پروان چڑھانے میں ان کے والد نے اہم کردارادا کیا، انتھک محنت اور باقاعدہ تربیت کے بعد موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے والی اقبال بانو نے جو گایا کمال کردیا۔

    انھوں نے فلم گمنام ، قاتل ، انتقام، سرفروش، عشق لیلی اور ناگن جیسی سپرہٹ فلموں میں گیت گائے ۔فلم قاتل میں ان کی آواز میں گایا ہواگیت پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے، تولاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے نے انھیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا.
    اقبال بانو کوغزل گائیکی کے ساتھ ساتھ کلاسیکل، نیم کلاسیکل، ٹھمری اوردادھرہ میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ وہ اردو، پنجابی ، فارسی زبانوں پر مکمل عبور رکھتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مختلف زبانوں میں حاصل ہونے والی خصوصی مہارت سے دنیائے موسیقی میں نمایاں مقام حاصل بنایا۔

    انہیں 1990 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اقبال بانو 21اپریل 2009 کو 74 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد جہان فانی سے کوچ کرگئی تھیں۔