Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر
    لیکن اب سوچ ذرا تری اوقات کیا رہ گئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    21 اپریل 1934

    ادیب، شاعر،صحافی اور سیاستدان مولانا کوثر نیازی کا یومِ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔………..
    پاکستان کے ممتاز ادیب ، شاعر ،سیاستدان،صحافی، مقرر اور دانشور مولانا کوثر نیازی 21 اپریل 1934 میں ضلع میانوالی کے ایک گاوں موسی خیل میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صاحب کا نام فتح محمد خان نیازی ہے جبکہ مولانا کوثر نیازی کا اصل نام محمد حیات خان ہے۔ مولانا کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقہ کی بااثر شخصیات میں شامل تھے ۔ مولانا کوثر نیازی پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ، سابق صدر اور سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں شامل تھے۔ بھٹو کی کابینہ میں پہلے وفاقی وزیر مذہبی اموراور بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات مقرر کیے گئے محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئر مین مقرر کیا تھا۔ مولانا کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ان کی ایک کتاب ” اور لائن کٹ گئی” کو بہت شہرت اور پذیرائی ملی۔ ” دیدہ ور” بھی ان کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے لاہور سے ایک ہفت روزہ ” شہاب” کا بھی اجرا کیا تھا۔ مولانا صاحب کی 19 مارچ 1994 میں اسلام آباد میں وفات ہوئی۔

    مولانا کوثر نیازی صاحب
    ۔۔۔۔۔۔
    چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی
    پھر نہ وہ تو نہ وہ میں اور نہ وہ رات رہی

    تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے بھولنے والے
    کسی کو یاد تیری بار بار آئی ہے
    وہ مل نہ سکے یاد تو ہے ان کی سلامت
    اس یاد سے بھی ہم نے بہت کام لیا ہے

    اپنے وحشت زدہ کمرے کی اک الماری میں
    تیری تصویر عقیدت سے سجا رکھی ہے

    اے مسیحا کبھی تو بھی تو اسے دیکھنے آ
    تیرے بیمار کو سنتے ہیں کہ آرام نہیں

    اس نے اخلاص کے مارے ہوئے دیوانے کو
    ایک آوارہ و بد نام سا شاعر جانا

    بے سبب آج آنکھ پر نم ہے
    جانے کس بات کا مجھے غم ہے

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثرؔ
    لیکن اب سوچ ذرا کیا تری اوقات رہی

    ضرور تیری گلی سے گزر ہوا ہوگا
    کہ آج باد صبا بے قرار آئی ہے
    یہ درد کہ ہے تیری محبت کی امانت
    مر جائیں گے اس درد کا درماں نہ کریں گے

    پرکھنے والے مجھے دیکھ اس طرح بھی ذرا
    اگر ہے کھوٹ تو کیسے چمک رہا ہوں میں

    تباہی کی گھڑی شاید زمانے پر نہیں آئی
    ابھی اپنے کئے پر آدمی شرما ہی جاتا ہے

    میں نے ہر گام اسے اول و آخر جانا
    لیکن اس نے مجھے لمحوں کا مسافر جانا

    جذبات میں آ کر مرنا تو مشکل سی کوئی مشکل ہی نہیں
    اے جان جہاں ہم تیرے لیے جینا بھی گوارا کرتے ہیں

    ہر مرحلۂ غم میں ملی اس سے تسلی
    ہر موڑ پہ گھبرا کے ترا نام لیا ہے

    منجدھار میں ناؤ ڈوب گئی تو موجوں سے آواز آئی
    دریائے محبت سے کوثرؔ یوں پار اتارا کرتے ہیں

    بر سر عام اقرار اگر نا ممکن ہے تو یوں ہی سہی
    کم از کم ادراک تو کر لے گن بے شک مت مان مرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی جو نکہت زلف نگار آئی ہے
    فضائے مردۂ دل میں بہار آئی ہے

    ضرور تیری گلی سے گزر ہوا ہوگا
    کہ آج باد صبا بے قرار آئی ہے

    کوئی دماغ تصور بھی جن کا کر نہ سکے
    یہ جان زار وہ لمحے گزار آئی ہے

    تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے بھولنے والے
    کسی کو یاد تیری بار بار آئی ہے

    خدا گواہ کہ ان کے فراق میں کوثرؔ
    جو سانس آئی ہے وہ سوگوار آئی ہے

  • نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ

    یوم وفات: 21 اپریل 1938

    مختصر تعارف

    نام محمد اقبال، ڈاکٹر ،سر، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔

    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۱۹۲۲ء میں ان کی اعلا قابلیت کے صلے میں حکومت برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب عطا کیا ۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے جو خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا علامہ اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت بھی تلمذ رہا۔علامہ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ ہائے کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘ علامہ اقبال ۲۱؍اپریل، ۱۹۳۸ بمطابق ۲۰، صفر المصفر ۱۳۵۷ء کو فجر کے وقت اپنے گھر جاوید منزل میں طویل علالت کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا.

    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
    کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
    تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
    ۔۔۔۔۔۔۔
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
    نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
    جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
    وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
    میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

    اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
    خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کر
    وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
    اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
    جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
    کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو بتاؤ مسلمان بھی ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
    تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
    مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
    مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
    ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
    کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
    میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
    کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
    لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
    تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
    کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبال اپنے آپ کو
    آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

  • سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی میر ظہور خان کھوسہ کی طبیعت بگڑ گئی

    سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی میر ظہور خان کھوسہ کی طبیعت بگڑ گئی

    سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی میر ظہور خان کھوسہ کی طبیعت بگڑ گئی

    کراچی کے آغا خان ہسپتال میں داخل ،گلے کا سرجیکل آپریشن کر دیا گیا

    ڈیرہ مراد جمالی ،
    بلوچستان میں کھوسو قبیلے کے سربراہ سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی میر ظہور حسین خان کھوسہ کی طبیعت بگڑ گئی جنہیں گزشتہ روز کراچی کے آغا خان ہسپتال میں داخل کر دیا گیا جہاں ان کے گلے کا سرجیکل آپریشن کیا گیا تشویشناک حالت کے باعث سرجیکل آپریشن کے بعد عارضی طور پر ان سے لوگوں کی ملاقات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے میر ظہور خان کھوسہ معروف قبائلی شخصیت میر منظور احمد خان کھوسو کے بڑے بھائی سابق صوبائی وزرا میر اظہار خان کھوسو اور میر سلیم خان کھوسہ کے چچا ہیں ۔

  • جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
    خط کس لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے
    ..
    حسرت جے پوری

    یومِ پیدائش : 15 اپریل 1922

    اصل نام محمد اقبال حسین اور حسرت تخلص تھا۔ ۱۹۱۸ء میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن جے پور(بھارت) تھا۔ روزگار کے سلسلے میں بمبئی آگئے۔ بمبئی میں انھوں نے کئی سال تک بس کنڈکٹری کی۔ اس سے قبل اوپیراہاؤس کے فٹ پاتھ پر کھلونے فروخت کیے۔ اسکول میں معمولی ملازمت کی۔ اس دوران ان کی شاعری کا شغل جاری رہا۔ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کو ان کا کلام بہت پسند آیا۔ ان کی وساطت سے انھیں راج کپور کی فلم’’برسات‘‘ میں گانے لکھنے کا موقع مل گیا۔ اس طرح وہ فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔ وہ بالی ووڈ (بمبئی) کے ممتاز نغمہ نگار تھے۔ ۱۷؍ستمبر۱۹۹۹ء کو بمبئی میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:95
    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں
    وہ غیر کی بانہوں میں آرام سے سوتے ہیں

    ہم اشک جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے
    بے چین سی پلکوں میں موتی سے پروتے ہیں

    ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے میں
    سچائی کی راہوں میں کانٹے سبھی بوتے ہیں

    انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرتؔ
    ملنے کو تو ملتے ہیں نشتر سے چھبوتے ہیں
    ….۔۔۔۔۔

    یہ کون آ گئی دل ربا مہکی مہکی
    فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی
    وہ آنکھوں میں کاجل وہ بالوں میں گجرا
    ہتھیلی پہ اس کے حنا مہکی مہکی
    خدا جانے کس کس کی یہ جان لے گی
    وہ قاتل ادا وہ قضا مہکی مہکی
    سویرے سویرے مرے گھر پہ آئی
    اے حسرتؔ وہ باد صبا مہکی مہکی

    شعلہ ہی سہی آگ لگانے کے لیے آ
    پھر نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ
    یہ کس نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے
    آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ
    اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا
    تو زلف کی کملی میں چھپانے کے لیے آ
    دیوار ہے دنیا اسے راہوں سے ہٹا دے
    ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ
    مطلب تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے
    حسرتؔ کی قسم دل ہی دکھانے کے لئے آ

  • دو نمبر اصطلاح کی بانی سیمون دی  بووار

    دو نمبر اصطلاح کی بانی سیمون دی بووار

    مجھے نہیں معلوم کہ مغربی دنیا میں دو نمبر کی اصطلاح کس قسم کے افراد کیلئے استعمال کی جاتی ہے مگر ہمارے یہاں جنوبی ایشیا میں دو نمبر کی اصطلاح غلط قسم کے افراد اور غلط اشیاء اور مصنوعات وغیر کیلئے استعمال کی جاتی ہے جبکہ دو نمبر کو ایک طرح سے گالی بھی سمجھا اور مانا جاتا ہے ۔

    دنیا کے اکثر لوگ شاید اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ یہ دو نمبر کی اصطلاح کس شخصیت نے ایجاد کی اور کس پس منظر میں ؟ لہذا آئے آپ کو بتائیں یہ دراصل فرانس سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیبہ اور فلسفی سیمون دی بووار نے معاشرے میں مرد کی نسبت عورت کو ترجیح نہ دینے یا انہیں نظرانداز کرنے اور کمتر سمجھنے کی بنا پر ایک کتاب ” دی سیکنڈ سیکس” لکھ کر سخت غصے اور احتجاج کے طور پر اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔

    اس کتاب سیکنڈ سیکس(Secnd Sex) میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو دو نمبر سمجھ کر اسے زندگی کے ہر شعبے میں نظر انداز کیا جاتا ہے یعنی خواتین کو مرد کے مقابلے میں دو نمبر مخلوق یا سیکنڈ سیکس قرار دیا جاتا ہے ۔ سیمون دی بووار نے خواتین کو سیکنڈ سیکس یا دو نمبر اس لحاظ سے نہیں کہا تھا کہ یہ غلط یا منفی قسم کی جنس یا مخلوق ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عامر شہزاد کی موت کو جے آئی ٹی نے طبعی قرار دے دیا
    عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    بلکہ سیمون دی بووار کی جانب سے خواتین کو دو نمبر یا سیکنڈ سیکس کہنے کا مقصد انہیں معاشرے میں دوسرے درجے کی شہری قرار دینا ہے جس پر وہ شدید غم اور غصے کا اظہار کرتی ہیں لیکن ہمارے یہاں برصغیر میں دو نمبر کی اصطلاح کو غلط نظریہ کے تحت استعمال کیا جاتا رہا اور کیا جارہا ہے جو کہ سیمون دی بووار کے ” دو نمبر” کی اصطلاح کے یکسر برعکس ہے۔

  • ممتاز عالم دین اور محقق ڈاکٹر اسرار احمد کا یوم وفات

    ممتاز عالم دین اور محقق ڈاکٹر اسرار احمد کا یوم وفات

    ڈاکٹر اسرار 26 اپریل، 1932ء کو بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ لاہور منتقل ہو گئے اور گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1954ء میں انہوں نے کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد 1965ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند بھی حاصل کی۔ آپ نے 1971ء تک میڈیکل پریکٹس کی۔

    سیاسی زندگی

    دوران تعلیم آپ اسلامی جمیت طلبہ سے وابستہ رہے اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے ناظم اعلی مقرر ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم جماعت کی انتخابی سیاست اور فکری اختلافات کے باعث آپ نے اس سے علحیدگی اختیار کرلی اور اسلامی تحقیق کا سلسلہ شروع کر دیا اور 1975ء میں تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی جس کے وہ بانی قائد مقرر ہوئے۔ 1981ء میں آپ جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے بھی رکن رہے۔ حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسی سال ستارہ امتیاز سے نوازا۔ آپ مروجہ انتخابی سیاست کے مخالف تھے اور خلافت راشدہ کے طرز عمل پر یقین رکھتے تھے۔ آپ اسلامی ممالک میں مغربی خصوصاً امریکی فوجی مداخلت کے سخت ناقد تھے۔

    بحیثیت اسلامی اسکالر
    تنظیم اسلامی کی تشکیل کے بعد آپ نے اپنی تمام توانائیاں تحقیق و اشاعت اسلام کے لیے وقف کردی تھیں۔ آپ نے 100 سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے کئی کا دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ آپ نے ‍قرآن کریم کی تفسیر اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کئی جامع کتابیں تصنیف کیں۔ مشہور بھارتی مسلم اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ان کے قریبی تعلقات تھے اسی ضمن میں انہوں نے بھارت کے کئی دورے بھی کیے۔ عالمی سطح پر آپ نے مفسر قران کی حیثیت سے زبردست شہرت حاصل کی۔ بلا مبالغہ ان کے سیکڑوں آڈیو، ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جن کے دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اسلام کا صحیح تشخص ابھارنے میں وہ اہم ترین کردار ادا کیا جو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

    تصانیف

    ملفوظات ڈاکٹر اسرار احمد
    اصلاح معاشرہ کا قرانی تصور
    نبی اکرم سے ہماری تعلق کی بنیادیں
    توبہ کی عظمت اور تاثیر
    حقیقت و اقسام شرک
    قرآن کے ہم پر پانچ حقوق
    اور قرآن پاک کی تفسیر بیان القرآن
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عامر شہزاد کی موت کو جے آئی ٹی نے طبعی قرار دے دیا
    عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاکستان کیساتھ سٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہوجائیں گے. ڈائریکٹر آئی ایم ایف مڈل ایسٹ
    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف
    وفات
    ڈاکٹر اسرار احمد کافی عرصے سے دل کے عارضے اور کمر کی تکلیف میں مبتلا تھے۔بالآخر مؤرخہ 14 اپریل، 2010ء کو 78 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کو گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
    ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے پسماندگان میں ان کی بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں

  • سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار (The Secnd Sex کی خالق)

    یومِ پیدائش : 9 جنوری 1908
    یوم وفات : 14 اپریل 1986

    سيمون دی بووار ( Simone de Beauvoir) عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی ادیبہ، ناول نگار، آپ بیتی نگار، مصنفہ، فلسفی اور سیاسی کارکن تھیں جن کی کئی کتابیں شائع ہوئیں ۔ وہ 9 جنوری 1908ء کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئیں اور 14 اپریل 1986ء کو پیرس میں ہی اُن کا انتقال ہوا اور وہیں سپرد خاک ہوئیں۔

    سيمون دی بووار کی شہرہ آفاق تصنیف : عورت یا سیکنڈ سیکس . جو اپنے انگریزی نام سیکنڈ سیکس سے مشہور ہے، 1949ء میں شائع ہونے والی مشہور فرانسیسی وجودی سیمون دی بووار کی نسائیت سے متعلق کتاب ہے، جس میں مصنفہ نے پوری تاریخ میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بحث کی ہے۔سیمون دی بووار نے 1946ء سے 1949ء کے درمیان میں تقریباً 14 ماہ میں تحقیق کی اور کتاب لکھی۔اس نے اسے دو جلدوں میں، حقائق اور خرافات اور رواں تجربہ میں شائع کیا ۔کچھ ابواب پہلے لیس ٹیمپس ماڈرنز میں شائع ہوئے۔سیمون دی بووار کی یہ مشہور کتاب، دی سیکنڈ سیکس The Second Sex اکثر نسائیت کے فلسفے کا ایک بڑا کام اور نسائیت کی دوسری لہر کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

    خلاصہ: سیمون دی بووار سوال اٹھاتی ہے کہ عورت کیا ہے؟ اس کا موقف ہے کہ انسان کو پہلے سے طے شدہ (یعنی انسان سے مراد مرد) سمجھا جاتا ہے، جب کہ عورت کو "دوسری” (یعنی انسان کی مونث) سمجھا جاتا ہے: "اس طرح انسانیت (سے مراد صرف) مرد ہے اور مرد، عورت کی خود سے نسبت ظاہر کرتا ہے۔” سیمون دی بووار نے مختلف مخلوقات (مچھلی، کیڑے مکوڑے، ممالیہ) نطفہ سے انڈا کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے انسان تک جاتی ہے۔ وہ نسل کے لحاظ سے عورتوں کی ذات کے تئیں مطابقت بیان کرتی ہے، مرد اور خواتین کی فزیالوجی کا موازنہ کرتی ہے، اس نتیجے پر کہ اقدار فعلیات پر مبنی نہیں ہوسکتے ہیں اور حیاتیات کے حقائق کو وجودیاتی، معاشی، معاشرتی اور فعلیاتی تناظر کی روشنی میں دیکھنا چاہئے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    تلاش و ترتیب : آغا نیاز مگسی

  • پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا  کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    جلتے موسم میں کوئی فارغ نظر آتا نہیں
    ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھائوں میں

    فارغ بخاری

    ممتاز شاعر فارغ بخاری کا اصل نام سید میر احمد شاہ تھا وہ 11؍نومبر 1917ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد مشرقی زبانوں کے کئی امتحانات پاس کئے۔ فارغ بخاری نظریاتی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے لیکن اس نظریاتی وابستگی نے ان کی تخلیقی کشادگی کو کم نہیں ہونے دیا۔ وہ موضوع ، زبان اور شعری ہیئتوں میں نئے نئے تجربے کرتے رہے۔ ان کا ایک نمایاں تجربہ غزل کے فارم میں ہے ۔ انہوں نے اپنے شعری مجموعے ’’غزلیہ‘‘ میں غزل کی ہیئت اور تکنیک کو ایک نئے انداز میں برتا ہے ۔

    فارغ نے اردو کی ادبی صحافت میں بھی اہم کردار اداکیا ۔ وہ ماہنامہ ’نغمۂ حیات‘ اور ہفت روزہ ’شباب‘ کے مدیر رہے اور ’سنگ میل‘ کے نام سے ایک ادبی رسالہ بھی نکالا۔

    فارغ بخاری کی مطبوعات کے نام یہ ہیں۔ ’زیروبم‘ ’شیشے کے پیرہن‘ ’ خوشبو کا سفر‘ ’غزلیہ‘ ’ادبیات سرحد‘ ’پشتو کے لوک گیت‘ ’سرحد کے لوک گیت‘ باچا خان‘ ’پشتو شاعری‘ ’رحمان بابا کے افکار‘ ’جرأت عاشقاں-

    فارغؔ بخاری کو ان کی ادبی اور ثقافتی خدمات کے لئے حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔ 13؍اپریل 1997ء کو پشاور میں انتقال ہوا۔

    فارغؔ بخاری کے چند منتخب اشعار

    تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے
    یہ جانتا ہے مسافر ترے سفینے کا

    پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا
    کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ
    سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے

    جلتے موسم میں کوئی فارغؔ نظر آتا نہیں
    ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھاؤں میں

    دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں
    دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

    زندگی میں ایسی کچھ طغیانیاں آتی رہیں
    بہہ گئیں ہیں عمر بھر کی نیکیاں دریاؤں میں

    سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں
    نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

    محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں
    خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں

    منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی
    جو اپنی زباں سے بولتا ہے

    نئی منزل کا جنوں تہمت گمراہی ہے
    پا شکستہ بھی تری راہ میں کہلایا ہوں

    کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی
    راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی

    کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہے
    جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں رہنے دیتے

    ہم ایک فکر کے پیکر ہیں اک خیال کے پھول
    ترا وجود نہیں ہے تو میرا سایا نہیں

    ہم سے انساں کی خجالت نہیں دیکھی جاتی
    کم سوادوں کا بھرم ہم نے روا رکھا ہے

    یہی ہے دور غمِ عاشقی تو کیا ہوگا
    اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

    یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے
    جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

  • کے ایل سہگل  کا  یوم پیدائش

    کے ایل سہگل کا یوم پیدائش

    کے ایل سہگل 11 اپریل 1904 کو جموں کے نواں شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام امر چند تھا اور وہ جموں و کشمیر کے راجہ کی خدمت میں کام کرتے تھے۔ ان کی والدہ کا نام کیسر بائی تھا۔ کندن پانچ بچوں میں سے ایک تھا۔

    ان دنوں موسیقی کی رسمی تعلیم آسانی سے حاصل نہیں ہوتی تھی۔ طبقاتی، برادری اور معاشیات کی رکاوٹوں نے بہت سے لوگوں کو اس طرح کے فوائد حاصل کرنے سے روک دیا۔ سہگل نے بھی ان رکاوٹوں کو محسوس کیا۔ کبھی بھی کم نہیں، نوجوان سہگل نے موسیقی سیکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ابتدا میں یہ مقامی رام لیلا میں گانا اور اداکاری کرتا تھا۔ انہوں نے صوفی بزرگ سلامت یوسف کے مزار پر بھی زیادہ وقت گزارا، وہاں انہوں نے دوسرے موسیقاروں اور عقیدت مندوں کے ساتھ مل کر گایا اور مشق کی۔ کہا جاتا ہے کہ جوانی میں وہ ایک مقامی طوائف کے گھر کے پاس چپکے سے جایا کرتا تھا تاکہ اسے گانا سن سکے۔ اس کے بعد وہ جو کچھ سنتا تھا اس کی نقل کرتا تھا۔

    ایک نوجوان کے طور پر اس کے کئی پیشے تھے۔ اسکول چھوڑنے کے بعد، اس نے کچھ عرصہ ریلوے ٹائم کیپر کے طور پر کام کیا۔ بعد میں اس نے ٹائپ رائٹر سیلز مین کے طور پر کام کیا۔ بعد میں اس پیشے نے انہیں ہندوستان میں وسیع پیمانے پر سفر کرنے کا موقع فراہم کیا۔

    ہر وقت جب وہ اپنی ملازمت میں سفر کرتے تھے، وہ شوقیہ بنیادوں پر گاتے تھے۔ وہ دوستوں کے ساتھ محفلوں میں گاتا تھا اور بہت سے لوگوں سے ملتا تھا۔ ایک موقع پر ان کی ملاقات مہر چند جین سے ہوئی۔ وہ سہگل کے ابتدائی دوست اور حامی بن جائیں گے۔ اپنے سفر میں ان کی ملاقات بی این سے بھی ہوئی۔ نیو تھیٹر کے بانی سرکار۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سرکار ہی تھے جنہوں نے سہگل کو کلکتہ جانے پر آمادہ کیا۔

    کلکتہ میں سہگل کی زندگی موسیقی سے بھری ہوئی تھی۔ اگرچہ اس نے مختصر طور پر ہوٹل مینیجر کے طور پر کام کیا، لیکن ان کی دلچسپی موسیقی کے منظر میں تھی۔ وہ محفلوں میں کثرت سے شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے ہریش چندر بالی کے لکھے اور ترتیب دیئے گئے گانوں کی کئی ڈسکس بھی ریکارڈ کیں۔ یہ انڈین گراموفون کمپنی کے ذریعے جاری کیے گئے۔ گلوکار کے طور پر ان کی شہرت بڑھ رہی تھی۔

    اس وقت فلموں کا کاروبار ہلچل کے عالم میں تھا۔ بات کرنے والی تصویر ابھی متعارف کرائی گئی تھی، اس لیے فلم کمپنیاں ایسے اداکاروں کے لیے آواز اٹھا رہی تھیں جو گانا جانتے تھے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہ دن تھے جب ’’پلے بیک‘‘ گانے کا رواج فیشن میں آیا تھا۔ اداکاروں اور اداکاراؤں نے اپنے گانے گائے، اور موسیقی کی صلاحیت کو کامیاب فلمی کیریئر کے لیے اہم شرط سمجھا جاتا تھا۔

    سیگل کی بے حد مقبول موسیقی کی ریکارڈنگ فلموں میں ان کے قدموں کی بنیاد ثابت ہوئی۔ کلکتہ میں ہی سہگل کا تعارف آر سی سے ہوا۔ بورال۔ بورال ہی تھے جنہوں نے سیگل کو نیو تھیٹرز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ انہیں ان کی فلموں میں کام کرنے کے لیے ماہانہ 200 روپے ملتے تھے۔ ان کی اداکاری کرنے والی پہلی فلم اردو فلم "محبت کے انس” (1932) تھی۔ اس کے بعد انہوں نے "سبح کے ستارے”، اور "زندہ لاش” میں کردار ادا کیے۔ یہ 1932 میں ریلیز ہوئیں۔ یہ کسی بھی طرح سے ہٹ فلمیں نہیں تھیں، لیکن انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ فلم انڈسٹری میں سیگل کے پاس وہ کچھ تھا جو ضروری تھا۔

    اس دوران سہگل ڈسکیں بناتے رہے۔ کلکتہ کی ہندوستان ریکارڈز کمپنی نے کئی ڈسکیں منظر عام پر لائیں جن میں سے جھولنا جھولا نے عوام کی توجہ حاصل کی۔

    انہوں نے گانا گانا جاری رکھا اور متعدد فلموں میں اداکاری کی۔ تاہم جس فلم نے انہیں مشہور کیا وہ "چندی داس” (1934) تھی۔ اس کے بعد انہیں مزید فلمیں کرنے کی بہت سی پیشکشیں ہوئیں، لیکن جس نے انہیں فلمی تاریخ میں جگہ دی وہ ’’دیوداس‘‘ (1935) تھی۔ "دیوداس” کی شاندار کامیابی کے بعد اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ سہگل فلم انڈسٹری میں ایک مضبوط ہستی تھے۔

    اس دور میں ان کی ذاتی زندگی میں بھی ترقی ہوئی۔ 1935 میں انہوں نے آشا رانی سے شادی کی۔ ایک ساتھ ان کے تین بچے تھے۔ مدن موہن نام کا ایک بیٹا تھا (اسی نام کے ڈائریکٹر سے کوئی تعلق نہیں) اور دو بیٹیاں نینا (پیدائش 1937) اور بینا (پیدائش 1941) تھیں۔

    کلکتہ میں ہی سہگل بنگالی زبان میں ماہر ہو گئے۔ اس سے انہیں کئی بنگالی فلموں میں گانے اور اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ یہاں تک کہ انہیں پہلے غیر بنگالی ہونے کا اعزاز حاصل تھا جسے رابندرانت ٹیگور نے اپنا کام ریکارڈ کرنے کی اجازت دی۔

    لیکن یہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ کا ایک عبوری دور تھا۔ ہندی فلم انڈسٹری کا مرکز کلکتہ سے بمبئی منتقل ہو رہا تھا۔ تو سہگل اس کے ساتھ چلا گیا۔ وہ دسمبر 1941 میں بمبئی چلے گئے اور وہاں رنجیت مووی ٹون کمپنی کے ساتھ کام کرنے لگے۔ وہاں انہوں نے ’بھکتا سورداس‘، ’تانسین‘، ’کروکشیتر‘، ’عمر خیام‘، ’تدبیر‘، ’شاہجہاں‘ اور ’پروانہ‘ جیسی فلمیں کیں۔

    لیکن بدقسمتی سے شراب نوشی سہگل کو اپنی گرفت میں لے رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے پہلے کے سالوں میں، وہ پہلے پیے بغیر گانے یا پرفارم کرنے سے قاصر تھے۔ اس سے ان کی صحت کے ساتھ ساتھ کام دونوں پر اثر پڑ رہا تھا۔ اسے جگر کا سیروسس ہو گیا۔ جب ان کی صحت خراب ہوئی تو، سہگل نے جالندھر میں ایک بزرگ کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن اس کے گھر والوں نے اعتراض کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ بمبئی کے بہترین ڈاکٹروں میں سے ایک کی مدد لیں۔ ایک سمجھوتہ ہوا جس کے تحت ڈاکٹر سہگل کے ساتھ جالندھر جائے گا۔ تاہم طبی علاج کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کا انتقال 18 جنوری 1947 کو جالندھر میں ہوا۔ سہگل کی عمر صرف 42 سال تھی۔

  • ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    آج سے 3 سال قبل کرونائی وباء کے خوفناک موسم میں 70 سالہ اداکارہ ثمینہ احمد اور اتنی ہی عمر کے اداکار منظر صہبائی نے ایسی عمر میں نکاح کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس عمر میں زیادہ تر لوگ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے . سچ تو یہ ہے کہ اس عمر میں ساتھی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے اکثر لوگ دوبارہ شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے . ثمینہ احمد کی پہلی شادی مشہور پاکستانی فلم ڈائریکٹر فرید احمد کے ساتھ ہوئی تھی لیکن کچھ سال بعد ان کے پہلے شوہر نے انھیں چھوڑ کر اداکارہ شمیم آرا سے نکاح کر لیا تھا . ثمینہ احمد نے اپنے دونوں بچوں کو اکیلے پالا اور مثالی زندگی گزاری .

    منظر صہبائی اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ بہت سالوں تک جرمنی میں رہائش پذیر تھے . کچھ سال پہلے ان کی بیوی کی وفات ہو گئی . ثمینہ احمد اور منظر صہبائی دھوپ کی دیوار کے سیٹ پر پہلی بار ملے . یہ اس ڈرامے میں میاں بیوی کا کردار نبھا رہے تھے . دونوں کی اچھی دوستی ہو گئی اور یہ دوستی جلد ہی پیار میں بدل گئی . منظر صہبائی نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ثمینہ احمد کو شادی کی پیشکش کی جسے سن کر انھے اچھا تو لگا لیکن ان کے لئے یہ قدم اٹھانا آسان نہیں تھا . دونوں کے بچوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس طرح ان کا نکا ح ہو گیا . منظر صہبائی اور ثمینہ احمد کی ہنستی مسکراتی زندگی سے صاف ظاہر ہے کے اگر بہترین شریک حیات مل جائے تو انسان کسی بھی عمر میں ایک بار پھر سے جی اٹھتا ہے . جس طرح لوگوں نے ان کو بے انتہا پیار دیا اس سے بھی صاف ظاہر ہے کے پاکستانی معاشرہ میں ایسے رشتوں کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے .

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کا کہنا ہے کے کسی کے ساتھ کسی بھی عمر میں پیار ہونا فطری عمل ہے اور جب ایسا ہو تو اس شخص کو زندگی کا حصّہ بنا لینا چا ہیئے یہ سوچے بغیر کے لوگ کیا کہیں گے .