Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • وارث لدھیانوی

    وارث لدھیانوی

    دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا
    دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے

    وارث لدھیانوی

    اصل نام: چوہدری محمد اسماعیل

    پیدائش:11 اپریل 1928ء
    لدھیانہ، پنجاب
    (برطانوی ہندوستان)
    وفات:05 ستمبر 1992ء
    لاہور، پاکستان
    قلمی نام:وارث لدھیانوی
    زبان:پنجابی
    نسل:پنجابی
    شہریت:پاکستانی
    اصناف:فلمی نغمہ نگاری
    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔
    دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا نغمہ
    دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (نغمہ)
    جھانجھریا پہنا دو، بندیا بھی چمکا دو (نغمہ)
    باریں برسیں کھٹن گیا سیں (نغمہ)

    وارث لدھیانوی (پیدائش: 11 اپریل، 1928ء – وفات: 5 ستمبر، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے شاعر اور فلمی نغمہ نگار ہیں جو اپنے گیتوں دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا ، باریں برسیں کھٹن گیا سیں اور دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    وارث لدھیانوی 11 اپریل، 1928ء کو لدھیانہ، پنجاب (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام چوہدری محمد اسماعیل تھا۔ ابتدا میں عاجز تخلص کرتے تھے پھر استاد دامن کے شاگرد ہوئے اور وارث تخلص کر لیا۔ ابتدا میں وہ محکمہ ریلوے میں کلرک تھے۔ بعد ازاں نوکری چھوڑ کر فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔
    وارث لدھیانوی نے لاتعداد پنجابی فلموں کے نغمات تحریر کیے جن میں کرتار سنگھ، مکھڑا، رنگیلا، دو رنگیلے، باوجی، شیر خان اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔
    مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    شہری بابو
    کرتار سنگھ
    رنگیلا
    دو رنگیلے
    باؤجی
    شیر خان
    شعلے
    مکھڑا
    انوکھا داج
    ہیر
    ہیر سیال
    پہلا وار
    ڈاکو راج
    ضدی
    مشہور نغمات

    اساں جان کے میت لئی اکھ وے (ہیر)
    دلا ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (مکھڑا)
    پہلی واری اج اوہناں اکھیاں نیں تکیا
    ایہو جیہا تکیا کہ ہائے مار سٹیا(ٹھاہ)
    آسینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے (ٹھاہ)
    نی چنبے دیے بند کلیئے (پہلا وار)
    دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا (کرتار سنگھ)
    باریں برسیں کھٹن گیا سیں (کرتار سنگھ)
    جھانجھریا پہنا دو، بندیا بھی چمکا دو (شیر خان)
    سانوں وی لے چل نال وے
    بائو سوہنی گڈی والیا (باؤجی)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    وارث لدھیانوی 05 ستمبر 1992ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔

  • حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    صدیوں پہ تھے محیط جو اوصاف انبیاء
    حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    شاہد نقوی

    11 اپریل 1916 یوم ولادت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو ادب میں سلام ، نوحہ ، مرثیہ اور منقبت کے حوالے سے ایک بہت بڑے شاعر سید کلیم آل عبا شاہد نقوی 11 اپریل 1916 میں اتر پردیش ہندستان کے شکار پور شہر میں سید فدا علی اور نور جہاں بیگم کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے کراچی پاکستان میں آباد ہو گئے۔ شاعری انہوں نے ہندوستان میں ہی شروع کر دی تھی وہ ابتدا میں غزل گو شاعر تھے اور وہاں ہونے والے مشاعروں میں اکثر غزل ہی پڑھا کرتے تھے مگر پاکستان آنے کے بعد انہوں نے غزلیہ شاعری کی بجائے نوحہ اور مرثیہ گوئی پر اپنی تمام تر توجہ اور دلچسپی مرکوز کر دی مجالس عزا اور پی ٹی وی وغیرہ میں وہ پیش پیش رہتے تھے ۔ پاکستان میں وہ مرثیہ گو شعراء کی فہرست میں صفحہ اول میں شمار ہوتے تھے ۔ شاہد نقوی صاحب کے ایک بھائی عابد حشری اور قریبی عزیز سجاد احمد رزمی بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ شاہد نقوی کی اولاد میں کل 13 بچے تھے ان کے بیٹے شکیل احند نقوی اور صاحبزادی سیدہ نرگس حیات ہیں اور ماشاء الله سیدہ نرگس صاحبہ اردو کی مشہور و معروف شاعرہ ہیں جو کہ نرگس رضا کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان کا خاندان کہکشاں انچولی کراچی میں آباد ہے۔ جوش ملیح آبادی ،فیض احمد فیض اور طالب جوہری صاحب شاہد نقوی کے ہمعصر شعرا اور ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے ۔ سید شاہد نقوی کو کلیم آل عبا کا خطاب علامہ طالب جوہری نے دیا تھا کراچی ، جام شورو اور لاہور کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں ان کی شاعری کا حوالہ دیا گیا ہے. جبکہ ایف سی کالج لاہور کی ایک طالبہ صبغہ فاروق نے شاہد نقوی کے فن اور شخصیت پر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر آغا سہیل کی نگرانی میں ایم اے اردو کیلیے تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے 10 جولائی 2011 میں شاہد نقوی صاحب کی کراچی میں وفات ہوئی۔

    کلیم آل عبا شاہد نقوی کی تصانیف

    1 صراط سلسبیل 2 نفس مطمئن 3 کرب جاوداں 4 رومال زہرا 5 ضمیر مصلوب 6 حصار حرم زیارت ناحیہ کا منظوم ترجمہ 7 حدیث کسا منظوم 8 والعصر

    چند منتخب قطعات

    صدیوں پہ تھے محیط جو اوصاف انبیاء
    حق نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    پتہ چلا کہ ہمیں ہیں حسین کے غم تک
    سمجھ رہے تھے کہ ہم تک حسین کا غم ہے

    ہیں گود میں حسن کو پیمبر لیے ہوئے
    یعنی جواب طعنہ ابتر لیے ہوئے

    اے معنی مولا میں الجھنے والو
    جو تم بن نہیں سکتے وہ مولا ہیں علی

  • اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

    اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

    اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں
    اپنی بدبختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں

    دوارکا داس شعلہ

    10؍اپریل 1983 یوم وفات

    نام #لالہدوارکاداس اور تخلص #شعلہؔ تھا۔
    13؍اگست 1910ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور کے ایک عوامی مدرسے میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد معروف طبیب تھے جن کا دواخانہ انارکلی بازار لاہور میں تھا۔ پڑھائی میں دل نہ لگنے کی وجہ سے ان کے والد نے انھیں اپنے دواخانہ میں شیشی دھونے اور ہاتھ بٹانے کے لیے رکھ لیا۔ اسی دوران انھیں شاعری کا شوق پیدا ہوا، مشورۂ سخن ابوالاثر حفیظؔ جالندهری صاحب سے کرتے رہے۔ 1947ء میں تقسیم ہند بعد اپنے کنبے کے ساتھ دہلی چلے آئے۔ عمر آخر تک دہلی ہی آپ کا مسکن رہا۔
    دوارکا داس شعلہؔ نے 10؍اپریل 1983ء کو دہلی میں وفات پائی۔
    #بحوالہ ریختہ ڈاٹ_کام

    منتخب غزلیں

    اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد
    وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد

    کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا
    وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد

    ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت
    گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد

    محشر میں بھی ہم تیری شکایت نہ کریں گے
    آ جائے گی اس دن بھی ہمیں شرط وفا یاد

    اللہ ترا شکر کہ امید کرم ہے
    اللہ ترا شکر کہ اس نے بھی کیا یاد

    کل تک ترے باعث میں اسے بھولا ہوا تھا
    کیوں آنے لگا پھر سے مجھے آج خدا یاد

    ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے
    نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے

    اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو
    دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے

    شب فراق ہے شمع امید لے آؤ
    کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    کہاں ہیں ساقی‌ و مطرب کہاں ہے پیر حرم
    کہاں ہیں سب یہ بلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    کہاں ہو میکدے والو ذرا ادھر آؤ
    ہمیں بھی آج پلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    نہیں کچھ اور جو ممکن تو یار شعلہؔ کی
    کوئی غزل ہی سناؤ کہ غم کی رات کٹے

    ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں
    اپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں

    تیری معصومی کے صدقے میری محرومی کی خیر
    اے کہ تجھ کو صورت آرام جاں سمجھا تھا میں

    دشمن دل دشمن دیں دشمن ہوش و حواس
    ہائے کس نا مہرباں کو مہرباں سمجھا تھا میں

    دوست کا در آ گیا تو خود بخود جھکنے لگی
    جس جبیں کو بے نیاز آستاں سمجھا تھا میں

    قافلے کا قافلہ ہی راہ میں گم کر دیا
    تجھ کو تو ظالم دلیل رہرواں سمجھا تھا میں

    میرے دل میں آ کے بیٹھے اور یہیں کے ہو گئے
    آپ کو تو یوسف بے کارواں سمجھا تھا میں

    اک دروغ مصلحت آمیز تھا تیرا سلوک
    یہ حقیقت تھی مگر یہ بھی کہاں سمجھا تھا میں

    زندگی انعام قدرت ہی سہی لیکن اسے
    کیا غلط سمجھا اگر یار گراں سمجھا تھا میں

    پھیر تھا قسمت کا وہ چکر تھا میرے پاؤں کا
    جس کو شعلہؔ گردش ہفت آسماں سمجھا تھا میں

  • میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    یہ لوگ کیوں میری آنکھوں کو دیکھتے ہیں بتا
    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    کرن وقار

    یوم وفات : 10 اپریل 2021ء

    اردو اور پنجابی کی معتوف شاعرہ اور کالم نگار کرن وقار 1987 میں اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ شاعری اور اخبارات کے لیے کالم لکھتی رہیں ۔ 10 اپریل 2021 کو34 سال کی عمر میں لاہور کے ایک ہسپتال میں کورونا کے سبب انتقال کر گئیں۔ ان کی دو سالہ اکلوتی بیٹی آئمہ یتیم ہو گئی۔ جبکہ کرن صاحبہ کی وفات سےقبل ایک ماہ کے دوران ان کی والدہ اور ان کے ایک بھائی بھی کورونا میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات بھر انتظار کرتی رہی
    میں ستارے شمار کرتی رہی

    یاد آتی رہی تری ہر پل
    اور مجھے بے قرار کرتی رہی

    میں وہ لڑکی ہوں جو محبت پر
    سارے جذبے نثار کرتی رہی

    اس نے دھوکے دیئے مجھے ہر بار
    اور میں اعتبار کرتی رہی

    دل کے بہلانے کو خزاں رت میں
    ذکرِ فصلِ بہار کرتی رہی

    جس کو آنا تھا وہ آچکا کرن
    خود کو میں یونہی خوار کرتی رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیڑ جو باثمر نہیں ہوتا
    وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا

    دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے
    بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا

    مجھ کو منزل کبھی نہیں ملتی
    تو اگر ہم سفر نہیں ہوتا

    ایک در سے جو لو لگاتا ہے
    وہ بھی دربدر نہیں ہوتا

    زخم سب کو بھلا دکھائیں کیوں
    ‘ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا

    میں کرن بس خدا سے ڈرتی ہوں
    مجھ کو لوگوں سے ڈر نہیں ہوتا

  • نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    گستاخی معاف/ محبوب علی مگسی

    بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے عوام کی اکثریت تو خوش نصیب ہے کہ وہ قبائلی سرداروں ، نوابوں،پیروں اور گدی نشینوں کی دسترس سے باہر ہیں لیکن اس کے باوجود ایک کثیر تعداد قبائلی سرداروں، نوابوں، پیروں اور گدی نشینوں کے شکنجے میں کسے ہوئے ہے وہ اپنے سرداروں اور مرشدوں سے دور ہوتے ہوئے بھی ان کی رینج میں ہیں ۔ ایسے افراد پر اس وقت ایک طرح کی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے جب بلدیاتی یا عام انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ ضلع نصیر آباد میں جو قبائلی سردار یا سید آباد ہیں وہ اس سوچ کے حامل نہیں یا پھر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کو زبردستی بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ان سے اپنی مرضی کے مطابق ووٹ حاصل کریں یا انہیں ووٹ دلانے کیلئے فروخت کریں مگر نصیر آباد سے باہر چند ایک ایسے بلوچ سردار اور کچھ گدی نشین ہیں جو کہ دور رہ کر بھی اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدوں کو اپنے حکم کے مطابق چلانے کی قوت اور طاقت رکھتے ہیں ۔

    ان کی ایک کال یا ایک پیغام پر ان کے قبیلے کے افراد اور مریدین اپنا ووٹ ان کے قدموں میں ڈال دیتے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں ایسے بہت کم افراد ہیں جو کہ اپنے سرداروں اور اپنے پیر و مرشد کے ناجائز احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے ضمیر اور اپنی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ سرداروں کے گن پوائنٹ اور گدی نشینوں کی بد دعا سے ڈرتے ہیں ۔

  • گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ مصنفہ , ہدایت کارجدن بائی

    گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ مصنفہ , ہدایت کارجدن بائی

    گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ مصنفہ , ہدایت کارجدن بائی بالی ووڈ کی ایک ابتدائی گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ ، مصنفہ ، فلم ساز اور ہندوستانی سنیما کے علمبرداروں میں سے ایک تھیں۔ وہ معروف اداکارہ نرگس کی والدہ اور سنجے دت کی نانی تھیں۔ وہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کی پہلی خاتون میوزک ڈائریکٹر تھیں۔

    جدن بائی 1892 میں الہ آباد، شمال مغربی صوبے، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک مصنفہ اور ہدایت کار تھیں، جنہیں میڈم فیشن (1936)، ہردے منتھن (1936) اور موتی کا ہار (1937) کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کا انتقال 8 اپریل 1949 کو ہوا۔

    موتی لال نہرو اور دلیپا بائی کی بیٹی۔ نرگس، انور حسین اور اختر حسین کی والدہ۔ سنجے دت، پریا دت اور انجو دت کی نانی سنیل دت کی ساس ہندوستانی سنیما میں موسیقی کی پہلی خاتون موسیقار۔

    جدن بائی حسین 1892 میں پیدا ہوئیں ان کی پرورش ان کی والدہ اور سوتیلے والد نے بطور مسلمان کی۔ دلیپ بائی اور اس کے شوہر بعد میں پنجاب اور بعد میں الہ آباد کے چلبیلا گاؤں چلے گئے، جہاں انہوں نے طوائف کا کام کیا۔ اس کے سوتیلے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ پانچ سال کی تھیں۔ جدن بائی شہر چلی گئیں اور گلوکارہ بن گئیں لیکن باقاعدہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں اس نے کلکتہ کے شریمنت گنپت راؤ (بھیا صاحب سندھیا) سے رابطہ کیا اور ان کی طالبہ بن گئیں۔ شریمنت گنپت راؤ کا 1920 میں انتقال ہو گیا جب وہ ابھی طالب علم ہی تھیں، اس لیے انھوں نے اپنی تربیت استاد معین الدین خان سے مکمل کی۔ بعد ازاں اس نے استاد چدو خان ​​صاحب اور استاد لب خان صاحب سے بھی تربیت حاصل کی۔

    اس کی موسیقی مقبول ہوئی۔ اس نے کولمبیا گراموفون کمپنی کے ساتھ غزلیں ریکارڈ کرنا شروع کیں۔ وہ میوزک سیشنز میں حصہ لینے لگی۔ انہیں کئی ریاستوں جیسے رام پور، بیکانیر، گوالیار، کشمیر، اندور اور جودھ پور کے حکمرانوں نے مدعو کیا تھاانہوں نے ملک کے مختلف ریڈیو سٹیشنوں پر گانے اور غزلیں بھی پیش کیں۔

    اس نے بعد میں اداکاری شروع کی جب لاہور کی پلے آرٹ فوٹو ٹون کمپنی نے 1933 میں اپنی فلم راجہ گوپی چند میں ایک کردار کے لیے ان سے رابطہ کیا۔ اس نے ٹائٹل کردار کی ماں کا کردار ادا کیا۔ بعد ازاں اس نے کراچی کی ایک فلم کمپنی میں انسان یا شیطان میں کام کیا۔

    اس نے سنگیت فلمز کے نام سے اپنی پروڈکشن کمپنی شروع کرنے سے پہلے دو اور فلموں، پریم پریکشا اور سیوا سدن میں کام کیا۔ کمپنی نے 1935 میں طلشے حق تیار کیا، جس میں انہوں نے اداکاری اور موسیقی ترتیب دی۔ انہوں نے اپنی بیٹی نرگس کو بھی بطور چائلڈ آرٹسٹ متعارف کروایا۔ 1936 میں اس نے میڈم فیشن کے لیے اداکاری، ہدایت کاری اور موسیقی لکھی۔

    ان کی پہلی شادی ایک ہندو شخص نروتم داس کھتری عرف بچی بابو سے ہوئی جس نے اسلام قبول کیا اور "نذیر محمد” کا نام اپنایا ان کے بیٹے کا نام اختر حسین تھا۔ ان کی دوسری شادی استاد ارشاد میر خان سے ہوئی اور ان کا ایک بیٹا انور حسین ہے۔ اس کی تیسری شادی موہن چند اتم چند تیاگی عرف موہن بابو سے ہوئی، جو اصل میں ایک موہیال سرسوات برہمن ہندو تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اور عبدالرشید نام اپنایا۔ فلمی اداکارہ، نرگس (اصل نام، فاطمہ راشد) ان کی بیٹی تھیں۔

    تلشے حق (1935) (موسیقی موسیقار)
    میڈم فیشن (1936)
    دل منتھن (1936)
    پرل کے بال (1937)
    جیون خواب (1937)

  • صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    لمحوں میں انہیں وقت کی سازش نے گرایا
    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صادقہ نواب سحر

    8 اپریل 1959 یوم پیدائش
    ۔……………………….

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس، ناول نگار ، ڈرامہ رائٹر اور ماہر تعلیم صادقہ نواب سحر 8 اپریل 1959 میں گنٹور(آندھرا پردیش) میں پیدا ہوئیں ۔انھوں نے اردو میں ایم اے اورپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بلکہ ہندی اور انگریزی میں بھی ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں ۔اردو ادب کی دنیا میں وہ ایک ناول نگار؛افسانہ نگار ؛شاعرہ؛ڈراما نگار؛تنقید نگار؛مترجم اور بچوں کی ادیبہ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ صادقہ نواب سحر کا اصل نام صادقہ آرا ہے ان کے والد کا نام خواجہ میاں شیخ اور شوہر کا نام محمد اسلم نواب ہے۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچرار کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے کے بعد کے ایم سی کالج کھپولی مہاراشٹر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے رٹائر ہوئیں۔ ان کے اردو شعری مجموعے ، ست رنگی، باوجود، چھوٹی سی یہ دھرتی، دریا کوئی سویا سا اردو افسانوی مجموعے، خلش بے نام سی، انگاروں کے پھول، بیچ ندی کا مچھیرا ، اردو ڈراموں کا مجموعہ ” مکھوٹو کے درمیان” ہندی افسانوی مجموعے ” منت” شیشے کا دروازہ ” شائع ہو چکے ہیں۔

    غزل

    تمہاری یاد میں ڈوبے کہاں کہاں سے گئے
    ہم اپنے آپ سے بچھڑے کہ سب جہاں سے گئے

    نئی زمین کی خواہش میں ہم تو نکلے تھے
    زمین کیسی یہاں ہم تو آسماں سے گئے

    زمانے بھر کو سمیٹا تھا اپنے دامن میں
    پلٹ کے دیکھا تو خود اپنے ہی مکاں سے گئے

    یہ کھوٹے سکے ہیں الفاظ اس صدی کی سنو
    یہ ان کا دور نہیں یہ تو اس جہاں سے گئے

    سحر فضول کی خواہش ہے زندگی جینا
    مرے تو لوگ نہ جانیں گے کس جہاں سے گئے

  • آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    پیدائش:08 اپریل 1966ء
    امرتسر
    شہریت:بھارت

    آنند مورتی گرو ماں ہندستان کی ایک روحانی رہنما جو توحید الہٰ کی داعیہ ہیں۔ ہندو، مسلم، بدھ، مسیحی، یہودی اور صوفیا سب کے یہاں گرو ماں کی باتیں احترام سے سنی جاتی ہیں۔ گرو ماں کی بیشتر تقریروں کا محور جنس، مذہب، سیاست اور قومیت ہوتا ہے۔
    گرو ماں کو جلال الدین رومی سے خصوصی مناسبت ہے اور ان کے فارسی اشعار کو ہندی زبان میں ترجمہ کرکے انہیں گایا کرتی ہیں۔
    تعلیمات
    ۔۔۔۔۔۔
    گرو ماں کی تعلیمات میں توحید الہٰ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ نیز وہ مراقبہ، یوگا، محاسبہ نفس اور اخلاص کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ تصوف، زین، تانتر اور یوگا میں مذکورہ مراقبہ نفس کے طریقوں کو بیان کرتی ہیں۔ گرو ماں شعور ذات کی اہمیت کی داعی ہیں نیز ان کا قول ہے کہ سالکین کو نفسانی خواہشوں اور مذہبی قیود سے آزاد رہنا چاہیے۔ انھیں کی وجہ سے سالکین کو روحانی تجربات سے محرومی ہوتی ہے۔
    آشرم
    ۔۔۔۔۔
    گرو ماں کا مرکزی آشرم سونی پت ضلع کے گنور شہر میں واقع ہے۔

  • جگر مراد آبادی

    جگر مراد آبادی

    جگر مرادآبادی

    6 اپریل 1890

    بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف. جگر آزاد طبیعت کے مالک اور حُسن پرست تھے۔ ان کا شمار اردو کے مقبول ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ جگر کو اپنے عہد وہ شہرت اور مقبولیت ملی جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوئی۔ اس میں ان کی رنگا رنگ شخصیت کے ساتھ ان کے رنگِ تغزّل اور ترنم کا بڑا دخل ہے۔ کئی شعرا نے جگر کا طرزِ شاعری اپنانے اور ان کے ترنّم کی نقل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس مقام و مرتبے کو نہ پہنچ سکے جو جگر کا خاصّہ تھا۔

    ًمختصر تعارف

    جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر تھا ۶ اپریل ۱۸۹۰ ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور مقامی مکتب میں ہوئی، جہاں اردو اور فارسی کے علاوہ عربی بھی سیکھی۔ رسمی تعلیم میں دھیان نہ تھا، سو اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ شاعری ورثے میں ملی تھی، کیوں کہ ان کے والد اور چچا شاعر تھے۔ جگر نے اصغر گونڈوی کی صحبت اختیار کی اور بعد میں شعروسخن کی دنیا میں نام و مقام بنایا جگر رندِ بلانوش تھے۔ ان کی زندگی اور شخصیت کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جنھیں بیان کرنا مناسب نہیں۔ تاہم جگر بہت مخلص، صاف گو اور ہمدرد انسان تھے۔ آخر عمر میں ترکِ مے نوشی کا انھیں خاص فائدہ نہ ہوا اور صحّت بگڑتی چلی گئی، مالی حالات دگرگوں ہوگئے اور جگر موت کے قریب ہوتے چلے گئے جگر مراد آبادی پاک و ہند کے مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔ انھیں دعوت دے کر بلایا جاتا اور منتظمین ان کی ناز برداری کرتے۔ جگر سامعین سے بے پناہ داد وصول کرتے۔ بھارتی حکومت نے انھیں ’’پدما بھوشن‘‘ خطاب دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ ان کے آخری مجموعہ کلام ’’آتِش گل‘‘ پر ان کو ’’ساہتیہ اکیڈمی‘‘ سے پانچ ہزار روپیہ انعام اور دو سو روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا تھا۔ ’آتش گل‘ کے علاوہ ’’داغ جگر‘‘ اور ’’شعلۂ طور‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ۹؍ستمبر ۱۹۶۰ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    جگر مرادآبادی کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
    فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
    میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
    کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
    کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
    یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محال
    انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
    ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیے
    گلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
    ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
    سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
    مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے.

  • یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    شہلا شہناز

    اصل نام : شہناز
    قلمی نام : شہلا شہناز
    تاریخ پیدائش:07 اپریل 1976ء
    جائےپیدائش: فیصل آباد
    رہائش : گوجرانوالہ
    تعلیم: ماسٹرز
    پیشہ : لیکچرار شپ
    ادب سے تعلق: بہت گہرا
    مشاغل : کتاب پڑھنا اور کری ایشنز
    پسندیدہ شاعر، ادیب: اقبال، پروین شاکر، مجید امجد
    پسندیدہ کتب:خوشبو۔ اور بھی بہت ہیں
    ادبی خدمات: کچھ پیپرز اور میگزینز میں
    کبھی کبھار لکھ لیتی ہوں آرٹیکلز
    پیغام :ادب سیکھیں اور سکھائیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں
    میں ترے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں
    پھول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں
    میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں
    تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو
    میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں
    جس جگہ مسندِ ہر سود پہ تم بیٹھے ہو
    میں وہاں کرسی نقصان بھی لا سکتی ہوں
    اے خلش مجھ کو تڑپنے کا کوئی شوق نہیں
    ورنہ جب چاہوں نمکدان بھی لا سکتی ہوں
    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    میں رنگ کو نہیں خوشبو کو پھول جانتی ہوں
    کہا تھا زخم سے تتلی نے مسکراتے ہوئے

    اس بار سمندر نے بلایا نہیں مجھ کو
    اس بار کسی دشت کی دعوت ہے مرے پاس

    کانچ کی چڑیا کس طرح اڑتی
    کشش چشمِ کوہسار میں تھی

    تم مرے ان دنوں کے ساتھی ہو
    جب میں بت جھڑ کے اعتبار میں تھی

    حرف کو پھول بنانے کا ہنر ہے مرے پاس
    تجھ کو لکھنے کے لیے رنگ دگر ہے مرے پاس

    ادھر گھمائیے اپنی ڈری ڈری آنکھیں
    حضور دشت کی جانب ذرہ ہرن کرئیے

    گلاب کی طرح مہکا چکے ہیں آپ مجھے
    جنابِ خار ذرا ٹھیک سے چبھن کرئیے

    وہ مجھ سے مجھ کو مانگتا رہتا ہے رات دن
    پر اس کی التماس میں طاقت تو ہے نہیں