Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    روز اک چھاؤں سی آ رکتی ہے دروازے پر
    کون ہے کب سے بلاتا ہے جو باہر مجھ کو
    رفعت ناہید

    معروف شاعرہ رفعت ناہید مختصر علالت کے بعد ملتان میں انتقال کر گئیں۔

    ان کے بیٹے سعد ظفر کا کہنا ہے کہ آج سحری کے وقت ان کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا، لیکن ہم انھیں بچا نہ سکے۔ رفعت ناہید معروف شاعر سعید ظفر اور نامور افسانہ نگار ،ماہر تعلیم اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کی رکن پروفیسر فرحت ظفر کی بہن تھیں

    سن ری چمیلی !!!
    میری سہیلی
    بڑی سیانی اور ہشیار
    تو نے میرا رنگ چرایا
    خوشبو میری ساری لے لی
    آ کے بیچ بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھے گفتگو میں مگن ہجر ،رات ، تنہائی

    سلام میں نے کیا ، خاندان چھوڑ دیا

    رفعت ناہید

  • معروف شاعر منور بدایونی

    معروف شاعر منور بدایونی

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے "منور” بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منوغزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔

  • بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    فاطمہ زکریا (تاریخ ولادت:17 فروری 1936ء،تاریخ وفات:06 اپریل 2021ء) ممبئی ٹائمز کی ایڈیٹر تھیں اور بعد میں ٹائمز آف انڈیا کی سنڈے ایڈیٹر ہوئیں۔ انھوں نے تاج ہوٹلز کے تاج میگزین کی ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

    مرحومہ فاطمہ زکریا ممبئی ٹائمز کی سابقہ ​​ایڈیٹر ، اور ٹائمز آف انڈیا کےسنڈے ایڈیشن ایڈیٹرکی بھی ایڈیٹر رہی تھیں۔ٹائمزآف انڈیا سے علحیدگی کے بعد فاطمہ زکریا تاج ہوٹل کے تاج میگزین کی ایڈیٹر بھی رہیں۔ ان کا دفتر ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں واقع تھا۔ڈاکٹر رفیق زکریا کے2004 میں انتقال کےچند سال فاطمہ زکریا تاریخی شہر اورنگ آباد مہاراشٹر منتقل ہوگئی تھیں جہاں ان کے مرحوم شوہر نے مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ قائم کیاتھا۔ یہ ان کا اسمبلی حلقہ تھا جہاں سے وہ کافی بار منتخب ہوئے اور ریاستی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فاطمہ زکریانے اورنگ آباد کے ان تعلیمی اداروں کو اس حد تک تبدیل کیا کہ ان کا موازنہ ایشیا کے بہترین مراکز تعلیم سے کیا جاسکے۔

    زکریا نے اورنگ آباد میں مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ کے کیمپس میں پہلا ریٹ فائیو اسٹار ہوٹل دی تاج ریذیڈنسی کے قیام کے لئے تاج گروپ آف ہوٹلوں میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کافی ٹیبل میگزین تاج کی ایڈیٹر بن گئیں۔ اس کے بعد ، انہوں نے ایک برٹش یونیورسٹی کے ساتھ اتحاد میں ایک ہوٹل مینجمنٹ کورس متعارف کرایا۔ اس کورس کو ہندوستان میں بہترین اور قابل احترام تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ اورنگ آباد کے بورڈ میں بھی رہیں۔وہ خود یالے یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھیں ،ایک میمن مسلم۔فیملی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زکریا کی پرورش کرافورڈ مارکیٹ جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں ہوئی تھی،لیکن انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوئیں۔

    سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ، شملہ کے خطوط پر ہائر لرننگ سنٹر قائم کرنے کے عمل میں ر ہیں۔ یہ جون 2010 سے کارآمد ہوا اور حقیقی علماء اور ماہرین تعلیم کو تحقیقی سرگرمیاں انجام دینے میں مدد فراہم کررہاہے، زکریا کو سیکولرسٹ سمجھا جاتا ہے ، تاہم وہ مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خصوصی خیال رکھتی تھیں۔انہیں ہندوستان حکومت نے 2006 میں پدما شری دیا تھا۔ مرحومہ فاطمہ زکریا مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ اور سوسائٹی کی بالترتیب چیئرپرسن اور صدر بھی تھیں،جبکہ مہاراشٹر کالج ممبئی کی صدر اور آل انڈیا خلافت کمیٹی اور بی ایڈ کالج کی بھی صدر نشین تھیں۔

  • اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    میں نے حساب کرنے کی عادت چھوڑ دی
    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    ریحام خان ( صحافی اور مصنفہ)

    پیدائش:3 اپریل 1973ء
    اجدابیا (لیبیا)
    قومیت:برطانوی
    پاکستانی
    مذہب:اسلام
    شریک حیات:اعجاز رحمان
    (1993-2005)
    عمران خان (2015)- طلاق

    مرزا بلال (2022)

    اولاد:ساحر
    ردا
    عنایہ
    تعداد اولاد:3
    تعلیم:صحافت میں ماسٹرز
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    دور فعالیت:2007ء تا حال

    ریحام خان کی زندگی کا گوشوارہ عباس تابش کے درج بالا شعر کے مترادف ہے وہ اب تک 3 شادیاں کر چکی ہیں۔ اور یہ تینوں شادیاں ان کی محبت کا نتیجہ ہیں لیکن پچھلی دو شادیوں کا انجام اچھا نہ ہوا دعا ہے کہ ان کی تیسری شادی کامیاب رہے۔ ریحام خان (Reham Khan) ایک برطانوی پاکستانی صحافی ہیں ۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بیوی رہ چکی ہیں تاہم اب دونوں کے درمیان میں طلاق ہو چکی ہے جس کی تصدیق 30 اکتوبر 2015ء کو ہوئی جب عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس بابت ٹوئٹ کیا تھا۔ اس علیحدگی کے بعد پہلے عمران خان نے بشری مانیکا سے تیسری شادی کی اور پھر ان کے 5 سال بعد ریحام خان بھی مرزا بلال سے 23 دسمبر 2022 میں امریکہ میں تیسری شادی کی

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ریحام کی پیدائش ایک پاکستانی ڈاکٹر نیر رمضان کے گھر ہوئی۔ ان کا تعلق سواتی قبیلے کی ذیلی شاخ لغمانی قبیلے سے ہے اور یہ نسلا پشتون ہیں۔ یہ چار زبانیں روانی سے بول سکتی ہیں جن میں شامل ہے انگریزی، اردو، پشتو اور ان کی آبائی زبان ہندکو۔ ان کے خاندان کا تعلق بفہ کے علاقے سے ہے جو مانسہرہ ، خیبر پختونخوا سے پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ ان کے والدین 1960 کے اواخر میں لیبیا چلے گئے تھے جہاں 1973 میں اجداییا میں ریحام کی ولادت ہوئی۔ ان کا ایک بھائی اور بہن ہے۔
    ریحام عبدالحکیم خان کی بھانجی ہیں جو خیبر پختونخوا صوبے کے گورنر رہے ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کےچیف جسٹس بھی۔ ریحام نے جناح کالج برائے خواتین، پشاور سے بی اے کیا ہے۔

    پہلی شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ان کا پہلا نکاح 23 جولائی 1992ء کو ایبٹ آباد میں اعجاز ولد فضل الرحمان کے ساتھ ہوا۔ ان کے پہلے شوہر اعجاز رحمان ماہر نفسیات ہیں، صحافت کے شعبہ میں آنے کی وجہ سے دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی شادی کے بعد طلاق ہوئی۔ اس شادی سے ریحام کے تین بچے ہیں ساحررحمان ، ردا رحمان اور عنایہ رحمان۔ ان کے تینوں بچے برطانیہ میں مقیم ہیں جبکہ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کے بچے بھی برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔

    کیریئر
    ۔۔۔۔۔۔۔

    طلاق کے بعد ریحام نے براڈکاسٹ جرنلسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلا ہوسٹنگ شو 2006 میں لیگل ٹی وی پر کیا۔ 2007 میں سن شائن ریڈیو ہیرفورڈ اور ورسیسٹر کے لیے کام کیا۔ 2008 میں ریحام نے بی بی سی میں براڈکاسٹ جرنسلٹ کے طور پر شمولیت اختیار کر لی۔
    2013 میں پاکستان آمد ہوئی اور پاکستانی ٹی وی چینل نیوزون میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد آج ٹی وی میں چلی گئیں۔ 2014 میں کچھ مدت کے لیے پی ٹی وی گئیں مگر مختصر مدت بعد اسے چھوڑ کر ڈان نیوز پر حالات حاضرہ کا پروگرام ان فوکس شروع کر دیا۔
    2015 میں کچھ دیر شادی کے بعد ٹی وی پروگرام نہیں کیا مگر پھر ڈان سے ہی مئی میں ایک نیا پروگرام ”ریحام خان شو“ شروع کیا جس میں پاکستانی ہیروز کی ستائش کی گئی۔ دسمبر 2015 میں نیو ٹی وی سے تبدیلی (تبدیلی سابقہ شوہر عمران خان کا سیاسی نعرہ ہے ) کے نام سے ایک نیا ٹی وی پروگرام شروع کیا۔ جون 2016 میں نیو ٹی وی کو خیرباد کہا۔
    فلم
    ۔۔۔۔۔
    ریحام نے جاناں نام کی رومانوی مزاحیہ فلم بھی بنائی، جوسوات کے علاقے میں فلمائی گئی اور ستمبر 2016 میں ریلیز ہوئی۔
    عمران خان سے شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔
    06 جنوری 2015 کے دن عمران خان نے ریحام خان سے اپنی شادی کی تصدیق کر دی جس کے بارے میں اکتوبر 2014 سے چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں (بعد ازان ریحام خان نے دعوی بھی کیا کہ ان کی عمران خان سے شادی نواز شریف کے خلاف دھرنے میں ہی ہو گئی تھی)۔ شادی کی تقریب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں منعقد ہوئی جبکہ ولیمے کی تقریب میں غریب بچوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ شادی کی تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی۔
    چند ماہ بعد ہی اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں اور بالآخر 30 اکتوبر 2015 میں عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے طلاق کی تصدیق کی۔

    مرزا بلال سے شادی

    ریحام خان نے 23 دسمبر 2022 میں خود سے 13 سال چھوٹے کراچی سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ نوجوان مرزا بلال سے امریکہ میں شادی کی۔

    ریحام خان کی کتاب

    ریحام خان نے 2018 میں ” Reham Khan” کے عنوان سے انگریزی میں کتاب لکھ کر شائع کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے

    مینا کماری ناز

    اداکارہ و شاعرہ

    یوم وفات : 31 اگست 1972
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی نامور اداکارہ شاعرہ مینا کماری ناز جنہیں” ملکہ غم ” بھی کہا جاتا ہے ان کا اصل نام ماہ جبیں ہے ۔ وہ یکم اگست 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام علی بخش اور والدہ کا نام نیپرو بھاوتی ٹیگور تھا مسلمان ہونے کے بعد ان کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری نے 6 سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے ” لیدر فیس” فلم سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا ۔ وہ تین بہنیں تھیں ان کی دوسری بہنوں کا نام خورشید اور مدھو تھا۔ فلم ڈائریکٹر وجے بھٹ نے ان کو مینا کماری کا فلمی نام دیا تھا جبکہ مینا کماری نے شاعری میں اپنے لیے ناز تخلص اختیار کیا ۔ 1952 میں انہوں نے فلمساز کمال امروہوی سے دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی لیکن محبت کی یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی۔ چند برس بعد ہی ان کے درمیان علیحدگی ہو گئی جس کے بعد مینا کماری نے دوسری شادی نہیں کی ۔ کمال امروہوی کی بیوفائی کے بعد مرد حضرات پر ان کا اعتبار نہیں رہا۔ انہوں نے بقیہ تمام عمر تنہائی ، درد وغم سہتے ، اداکاری اور شاعری کرتے گزار دی۔ شاعری میں انہوں نے گلزار سے اصلاح لی تھی ۔ مینا کماری نے کل 94 فلموں میں کام کیا انہیں فلم ” بیجو باورا” سے بے پناہ شہرت اور پذیرائی ملی ۔ مینا کماری کو ہندوستان کی پہلی خاتون اداکارہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کے انتقال کے بعد ” چاند” کے عنوان سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔

    منتخب کلام

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ……………….

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تیری رہگزر سے، دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے، اپنا مزار گزرے
    .
    بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے، اک دن بہار گزرے
    .
    دار و رسن سے دل تک، سب راستے ادھورے
    جو ایک بار گزرے، وہ بار بار گزرے

    بہتی ہوئی یہ ندیا، گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے، کوئی تو پار گزرے
    .

    مسجد کے زیر سایہ، بیٹھے تو تھک تھکا کر
    بولا ہر اک منارا، تجھ سے ہزار گزرے
    .
    قربان اس نظر پہ، مریم کی سادگی بھی
    سائے سے جس نظر کے، سو کردگار گزرے
    .
    تو نے بھی ہم کو دیکھا، ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا، ہم جان ہار گزرے

  • بلوچستان کی تازہ تصویر

    بلوچستان کی تازہ تصویر

    بلوچستان کی تازہ تصویر

    معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان کا شمار دنیا کے امیر ترین علاقوں میں ہوتا ہے رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے پاکستان کا امیر ترین صوبہ لیکن غربت اور پسماندگی میں بھی سب سے بڑا صوبہ اور سب سے آگے بلوچستان ہی ہے۔ اگست 2022 میں سیلابوں اور طوفانی بارشوں سے بلوچستان میں جو تباہی آئی اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ان میں سے اب بھی ہزاروں افراد گھروں سے محروم ہیں جن میں زیر نظر تصویر کے افراد پر مشتمل خاندان بھی شامل ہے ۔

    ستم بالائے ستم یہ کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آٹے کا ہے جس کے حصول کیلئے روزانہ کئی افراد شدید مشکلات اور مشقت کے مرحلے سے گزر کر اپنی جان سے ہی گزر جاتے ہیں اور سب سے مہنگا آٹا بلوچستان میں ہے یعنی بلوچستان ہر طرح سے ” امیر و کبیر” صوبہ ہے جس کا اندازہ اس ایک تصویر سے ہی لگایا جا سکتا ہے ۔ بلوچستان صرف آج اس طرح نہیں ہے یہ صوبہ ہر دور میں ایسی ہی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔

    آغا نیاز مگسی

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • بالي وڈ کے مشہور نغمہ نگار آنند پرکاش بخشی

    بالي وڈ کے مشہور نغمہ نگار آنند پرکاش بخشی

    پردسیوں سے نہ اکھیاں نہ ملانا
    پردیسیوں کو ہے اک دن جانا

    آنند بخشی

    بالي وڈ کے مشہور نغمہ نگار آنند پرکاش بخشی المعروف آنند بخشی نے تقریبا ًچار دہائیوں تک سامعین کواپنا دیوانہ بنائے رکھا۔ وہ پاکستان کے راولپنڈی شہر میں 21 جولائی 1930 کو پیدا ہوئے۔

    آنند بخشی نے 90ء کے عشرے کے اختتام تک اچھے اور مقبول گیت لکھے ہیں۔ صنائع بدائع کی جتنی مثالیں آنند بخشی کے کلام میں نظر آتی ہیں، وہ کسی دوسرے شاعر کے ہاں نہیں ملتیں۔ فطرت اور کائنات کے مشاہدے سے بھرپور ایک صاف اور رواں گیت آنند بخشی کی پہچان ہےآنند بخشی کا انتقال 30 مارچ 2002 کو ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں ہوا۔انتقال کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔

    🍁چند مشہور گیت🍁

    پردیسیوں سے نہ انكھياں ملانا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ سماں سماں ہے یہ پیار کا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    چاند سی محبوبہ ہو میری کب ایسا میں نے سوچا تھا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    ساون کا مہینہ پون کرے شور
    ۞۔۔۞۔۔۞
    میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ جو محبت ہے، یہ ان کا ہے کام ارے محبوب کا جو بس لیتے ہوئے نام مر جائیں، مٹ جائیں، ہوجائیں بدنام
    ۞۔۔۞۔۔۞
    کورا کاغذ تھا یہ من میرالکھ لیا نام اس پہ تیرا
    سونا آنگن تھا جیون میرا بس گیا پیار اس میں تیرا
    ۞۔۔۞۔۔۞
    تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا۔۔۔۔۔۔
    ۞۔۔۞۔۔۞
    چنگاری کوئی بھڑکے تو ساون اسے بجھائے
    ساون جو اگن لگائے اسے کون بجھائے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    یہ شام مستانی مدہوش کئے جائے
    مجھے ڈور کوئی کھینچے تیری اَور لئے جائے
    ۞۔۔۞۔۔۞
    تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم
    پیار ہوتا ہیں دیوانا صنم
    ۞۔۔۞۔۔۞
    عشق بنا کیا جینا یارا
    ۞۔۔۞۔۔۞

    🍁منتخب کلام🍁

    اگر دلبر کی رسوائی ہمیں منظور ہو جائے
    صنم تُو بے وفا کے نام سے مشہور ہو جائے

    ہمیں فرصت نہیں ملتی کبھی آنسو بہانے سے
    کئی غم پاس آ بیٹھے تِرے اک دُور جانے سے
    اگر تُو پاس آ بیٹھے تو سب غم دُور ہو جائے

    وفا کا واسطہ دے کر محبت آج روتی ہے
    نہ ایسے کھیل اِس دل سے یہ نازک چیز ہوتی ہے
    ذرا سی ٹھیس لگ جائے تو شیشہ چُور ہو جائے

    تِرے رنگین ہونٹوں کو کنول کہنے سے ڈرتے ہیں
    تِری اِس بے رخی پہ ہم غزل کہنے سے ڈرتے ہیں
    کہیں ایسا نہ ہو تُو اور بھی مغرور ہو جائے

  • معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

    معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

    یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
    جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    سائل دہلوی

    پیدائش:29مارچ 1864ء
    دلی، ہندوستان
    وفات:25 ستمبر 1945ء
    دلی، ہندستان

    داغ کی بنائی ہوئی لفظ ومعنی کی روایت کو برتنے اور آگے بڑھانے والوں میں سائل کا نام بہت اہم ہے ۔ سائل داغ کے شاگرد بھی تھے اور پھر ان کے داماد بھی ہوئے۔ انھوں نے تقریبا تمام کلاسیکی اصناف میں شاعری کی اور اپنے وقت میں برپا ہونے والی شعری محفلوں اور مشاعروں میں بھی بہت مقبول تھے ۔
    نواب سراج الدین خاں سائل کی پیدائش 29 مارچ 1864 کو دہلی میں ہوئی ۔ وہ مرزا شہاب الدین احمد خاں ثاقب کے بیٹے اور نواب ضیاالدین احمد خاں نیر درخشاں جاگیر دار لوہارو کے پوتے تھے ۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا لہذا چچا اور داد کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھے ۔ شاگرد غالب نواب غلام حسین خاں محو کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا ۔
    داغ کے انتقال کے بعد سائل اور بیخود دہلوی داغ کی جانشینی کے دعوے دار تھے اس لیے ان دونوں کے حامیوں میں تکرار اور معرکے ہوتے رہے ۔ شاہد احمد دہلوی نے ان معرکوں کے بارے میں لکھا ہے ’’ دہلی میں بیخود والوں اور سائل والوں کے بڑے بڑے پالے ہوتے ۔ اکثر مشاعروں میں مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ۔ سائل صاحب ان جھگڑوں سے بہت گھبراتے تھے اور بالآخر انہوں نے دہلی مشاعروں میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیا ‘‘ ۔
    25 ستمبر1945 کو دہلی میں سائل کا انتقال ہوا اور صندل خانہ بابر مہرولی میں سپرد خاک کیا گیا ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت میں جینا نئی بات ہے
    نہ مرنا بھی مر کر کرامات ہے
    میں رسوائے الفت وہ معروف حسن
    بہم شہرتوں میں مساوات ہے
    نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزم طرب
    یہ خمیازۂ ترک عادات ہے
    شب و روز فرقت ہمارا ہر ایک
    اجل کا ہے دن موت کی رات ہے
    اڑی ہے مے مفت سائلؔ مدام
    کہ ساقی سے گہری ملاقات ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں
    حریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں
    جدا جدا نظر آتی ہے جلوۂ تاثیر
    قرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں
    خمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ
    سرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں
    سما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مرے
    کرم کا اہل ستم سے امیدوار ہوں میں
    عوض دوا کے دعا دے گیا طبیب مجھے
    کہا جو میں نے غم ہجر سے دو چار ہوں میں
    شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں
    قرار داد گریباں ہوئی یہ دامن سے
    کہ پرزے پرزے اگر ہو تو تار تار ہوں میں
    مرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزار
    ہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں
    ظہیرؔ و ارشدؔ و غالبؔ کا ہوں جگر گوشہ
    جناب داغؔ کا تلمیذ و یادگار ہوں میں
    امیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ
    گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے
    ذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والے
    نظر آئیں گے نقش پا جہاں اس فتنہ گر والے
    چلیں گے سر کے بل رستہ وہاں کے رہ گزر والے
    ستم ایجادیوں کی شان میں بٹا نہ آ جائے
    نہ کرنا بھول کر تم جور چرخ کینہ ور والے
    جفا و جور گلچیں سے چمن ماتم کدہ سا ہے
    پھڑکتے ہیں قفس کی طرح آزادی میں پر والے
    الف سے تا بہ یا للہ افسانہ سنا دیجے
    جناب موسئ عمراں وہی حیرت نگر والے
    ہمیں معلوم ہے ہم مانتے ہیں ہم نے سیکھا ہے
    دل آزردہ ہوا کرتے ہیں از حد چشم تر والے
    کٹانے کو گلا آٹھوں پہر موجود رہتے ہیں
    وہ دل والے جگر والے سہی ہم بھی ہیں سر والے
    تماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت
    کہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔
    معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی
    بھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کا

    خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے
    یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا

    محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہا
    کن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھا

    جھڑی ایسی لگا دی ہے مرے اشکوں کی بارش نے
    دبا رکھا ہے بھادوں کو بھلا رکھا ہے ساون کو

    ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
    نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

    آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو
    نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں

    یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
    جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا
    اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے

    جناب شیخ مے خانہ میں بیٹھے ہیں برہنہ سر
    اب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں رکھ دی

    شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں

    کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمال
    دیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیں

    تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامی
    نظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    تمہیں پروا نہ ہو مجھ کو تو جنس دل کی پروا ہے
    کہاں ڈھونڈوں کہاں پھینکی کہاں دیکھوں کہاں رکھ دی

  • برطانوی خاتون ناول نگار ورجینیا وولف

    برطانوی خاتون ناول نگار ورجینیا وولف

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ورجینیا وولف 25 جنوری 1882ء کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد Leslie Stephen ایک ادیب تھے۔ گھر میں خوشحالی تھی اور وَرجینیا اور اُن کے بہن بھائیوں نے کسی اسکول جانے کی بجائے گھر پر ہی تعلیم حاصل کی، جس کے لیے قابل اساتذہ باقاعدہ گھر آیا کرتے تھے۔ وہ 13 برس کی تھیں کہ اُن کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور وہ پہلی مرتبہ ایک بڑے نفسیاتی بحران سے دوچار ہوئیں۔ اُس کے کچھ ہی عرصے بعد وہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں اور یہ واقعہ عمر بھر کے ایک روگ کی شکل اختیار کر گیا۔

    ادبی زندگی کا آغاز
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تاہم یہ مایوسیاں اُن کی زندگی کا صرف ایک رُخ ہیں۔ دوسرا رُخ یہ ہے کہ شروع میں وہ جریدے ٹائمز کے لیے باقاعدگی کے ساتھ مضامین لکھتی رہیں، اُن کا گھر اُس وقت کے اہم ادیبوں کے مل بیٹھنے کے ایک مرکز کی شکل اختیار کر گیا اور اِن ادبی مباحث میں اُس دَور کی سیاست، ادب اور فنون پر بھرپور طریقے سے اظہارِ خیال کیا جاتا تھا۔ اِن محفلوں میں وَرجینیا خود کو ایک زندہ دِل شخصیت کے طور پر پیش کرتی تھیں لیکن اندر سے وہ دُکھی تھیں۔

    شادی
    ۔۔۔۔۔
    1913ء میں معروف ادبی نقاد Leonard Woolf کے ساتھ شادی کے چند ہی مہینے بعد اُنہوں نے خودکشی کی پہلی کوشش کی۔ تاہم ادب تخلیق کرنے کے سلسلے میں اُن کی رفتار بدستور تیز رہی۔

    ناول نگاری
    ۔۔۔۔۔
    1912ء ہی میں اُن کا پہلا ناول The Voyage Out شائع ہو چکا تھا۔ اِس کے بعد کے برسوں میں اُن کے کئی ناول شائع ہوئے، جن میں انسان کے شعوری تانے بانے کو بیان کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔

    اگرچہ اُن کے ناول آج بھی اہم ادبی تخلیقات میں شمار ہوتے ہیں لیکن اُن کی اصل وجہِ شہرت اُن کے بعد کے دَور کے مضامین ہیں۔ 1929ء میں اُن کا مضمون شائع ہوا تھا، A Room of One’s Own۔ اِس میں اُنہوں نے ادب تخلیق کرنے والی خواتین کے خراب حالات کی طرف متوجہ کیا تھا۔ اُنہوں نے لکھا تھا کہ سال میں پانچ سو پاؤنڈ ادا کیے جائیں اور رہنے کے لیے ایک الگ کمرہ دیا جائے تو خواتین کو بھی ویسی ہی کامیابی مل سکتی ہے، جیسے کہ مرد ادیبوں کو۔ تاہم ادب کے میدان میں اُن کی کامیابیاں اُن کی خراب نفسیاتی حالت کو بہتر نہ بنا سکیں۔

    حقوق نسواں
    ۔۔۔۔۔
    اس کے علاوہ وہ خاص طور پر مغربی دُنیا میں حقوقِ نِسواں کی تحریک کی بانی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ اُن کی یہ پہچان اتنی زیادہ نمایاں ہے کہ کبھی کبھی اُن کا ایک بے مثل ادیبہ ہونا پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

    انتقال
    ۔۔۔۔۔
    اُن پر بار بار مایوسی کے دَورے پڑتے تھے، اُنہیں آوازیں سنائی دیتی تھیں اور وہ کئی کئی روز تک کام نہیں کر سکتی تھیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران 1940ء میں جرمن جنگی طیاروں نے اُن کے لندن کے گھر کو تباہ کر دیا۔ 28 مارچ سن 1941ء کو اُنہوں نے ایک ندی میں چھلانگ لگا دی اور ڈوب کر اپنی مایوسیوں سے ہمیشہ کے لیے نَجات پا گئیں۔ مغربی دُنیا میں وہ غالباً پہلی ادیبہ ہیں، جس نے خواتین پر زور دیا کہ وہ محض مرد ادیبوں کی نقالی کرنے کی بجائے اپنے الگ تخلیقی راستے تلاش کریں۔

  • روس کے مشہورانقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی

    روس کے مشہورانقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی

    میکسم گورکی

    میکسم گورکی روس کے مشہور انقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں سے دنیا کے بہت بڑے حصے کو متاثر کیا، انقلاب میں ایک نئی روح پھونک دی اور دنیا کے مظلوم طبقے و پسے ہوئے لوگوں میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کردی جس کی بازگشت آج تک جاری ہے۔

    حالاتِ زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میکسم گورکی نیزنی نوف گورود، روسی سلطنت میں 28 مارچ 1868ء کو پیدا ہوئے۔ میکسم گورکی کا اصل نام الیکسی میکسیمووچ پیشکوف تھا۔ گورکی کا باپ معمولی حیثیت سے رفتہ رفتہ جہازران کمپنیوں کا ایجنٹ ہو گیا تھا۔ گورکی چار پانچ سال کا تھا جب اس کے باپ کا انتقال ہو گیا اور اس کی ماں اسے لے کر اپنے باپ کے یہاں چلی گئی، جو نیزنی نوف گورود میں رنگریزی کا کام کرتا تھا۔ اس وقت سے جو انی تک کی سرگزشت گورکی نے دو ناولوں میں بیان کی ہے، بچپن اور منزل کی تلاش اور ایسے ناولوں کے لیے اس کی سرگزشت سے بہتر موضوع ملنا بہت مشکل ہے۔

    گورکی کے نانا کی حالت اس وقت اچھی نہ تھی، افلاس کے ساتھ اس کی بد مزاجی اور طبیعت کے بہت سے عیب اُبھر آئے تھے اور جن لوگوں پر اس کا بس چلتا ان پر وہ اپنا غصہ اُتارتا تھا۔ لیکن گورکی کے لیے اس کا نواسا ہونا سراسر بدقسمتی نہ تھی کہ اگر اسے ایک طرف نانا کی ناگوار باتیں سننا اور سختیاں برداشت کرنا پڑتا تھا تو دوسری طرف نانا کی محبت میں اس کے لیے ایک ایسا ٹھکانا تھا جہاں پہنچتے ہی دل کا دکھ اور ظلم کا خوف اسی طرح دور ہو جاتا جیسے ڈراؤنے خوابوں کی وحشت سے آنکھ کُھل جانے سےباپ کے یہاں تھوڑے دنوں رہنے کے بعد گورکی کی ماں نے دوسری شادی کرلی اور پھر جلد ہی دق کا شکار ہو کر انتقال کرگئیں۔

    نانا نے موقع غنیمت جانا اور گورکی کو گھر سے نکال دیا۔ پہلے گورکی کو جوتے والی دکان پر نوکری ملی، جہاں طرح طرح کے گاہک آیا کرتے تھے۔ یہاں اس نے پہلے پہل دنیا کا حال دنیا والوں کی زبانی سنا، عیاشی اور بدکاری کی داستانیں سنیں۔ دکان چھوڑنے کے بعد کئی مہینے تک ایک جہاز کے باورچی خانے میں برتن دھو کر پیٹ پالتا رہا۔ باورچی پہلا شخص تھا جس نے نوجون گورکی کی تعلیم پر توجہ کی اور یہ اسی کا احسان تھا کہ گورکی نے ذرا پڑھنا لکھنا سیکھ لیا۔

    مگر برتن دھونے کا کام ایسا تھا کہ گورکی سے ہوتا نہ تھا، وہ اس کام سے پیچھا چھڑا کر کسی شہر میں ایک ایسی عورت کے پاس نوکر ہو گئے جہاں شعر و شاعری اور موسیقی کا خاصا چرچا رہتا تھا اور گورکی کو ادب سے خاص لگاؤ پیدا ہو گیا، جس نے تعلیم کے شوق کو بہت بڑھادیا۔ پندرہ برس کی عمر میں گورکی نے شہر کازان کے ایک اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور تعلیم سے مایوس ہوکر اس نے ایک نان بائی کے یہاں ملازمت کرلی۔ جن لوگوں میں وہ یہاں رہتا تھا انہیں تو بھوک اور محنت کی زیادتی نے بے جان کر دیا تھا، لیکن گورکی کو چند ایسے طالب علموں سے ملنے کا اتفاق ہوا جنہوں نے اس کے ذہن میں انقلاب پسندی کے بیج بو دیے۔

    گورکی نے نان بائی کی دکان کو خیرباد کہا اور جنوب و جنوب مشرقی روس میں دو تین سال تک بے کار پھرتا رہے۔ 1890ء میں وہ نووگورود کے ایک وکیل کا محرر ہو گیا اور وکیل کی ہمدردی اور ہمت افزائی کی بدولت اس کی علمی اور ادبی قابلیت اتنی ہو گئی کہ وہ افسانے لکھنے لگا۔ 1892ء میں اس کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ اگرچہ اس وقت وہ پھر آوارہ گردی کرنے لگا تھا لیکن اس نے افسانہ نویسی بھی جاری رکھی۔ تین سال کے اندر گورکی کو افسانہ نگاری سے خاصی آمدنی ہونے لگی۔1898ء میں اس کے افسانوں کا مجموعہ دو جلدوں میں شائع ہوا اور کچھ عرصے کے اندر وہ روس ہی میں نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ غیر ممالک میں مشہور اور ہر دل عزیز ہو گیا۔

    ادبی حیثیت بڑھی تو گورکی پیٹرز برگ میں آکر رہنے لگے۔ یہاں اس کے انقلاب پسندوں سے تعلقات ہو گئے۔ وہ خود کارل مارکس اور اشتراکیت کی تعلیم کا معتقد ہوگیا اور اس کی آمدنی کا بیشتر حصہ سیاسی کاموں اور انقلاب انگیز خیالات کی اشاعت میں صرف ہونے لگا۔ 1900ء میں شہر بدر کرکے نووگورود بھیج دیا گیا مگر اس سزا کا اس کے طرزِعمل پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ 1902ء میں شاہی اکادمی کا رکن منتخب ہوا اور سرکار کے حکم سے انتخاب منسوخ کر دیا گیا تو چیخوف کو جو خود کچھ عرصہ پہلے منتخب ہوا تھا، اتنا غصہ آیا کی اس نے رکنیت سے استعفا دے دیا۔

    تین سال بعد، جب 1905ء میں پہلے انقلاب روس کی تحریک اُٹھ رہی تھی توگورکی قید کر دیا گیا لیکن اس پر یورپ بھر میں ایسی نارضگی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت کو مجبوراً اسے چھوڑنا پڑا اور اس نے انقلابی کارروائیوں میں پوری طرح شرکت کی۔ انقلاب کا خاتمہ کر دیا گیا تو گورکی فنستان ہوتے ہوئے امریکا چلا گیا۔ امریکا میں اس کا بڑی دھوم دھام سے استقبال کیا گیا اور وہاں بھی کچھ عرصے تک اس کی بڑی قدر رہی، لیکن جب لوگوں کومعلوم ہوا کہ وہ بیوی جوگورکی کے ساتھ آئی ہے بیوی نہیں صرف دوست ہے تو سب اس سے خفا ہو گئے۔ گورکی کو اپنی طرف یہ قدامت پرستی اتنی بُری لگی کی اس نےامریکا والوں کے خلاف ایک کتاب لکھ ماری امریکا سےگورکی روس واپس نہیں گیا بلکہ چند سال اٹلی کے مشہور جزیرے کیپری میں صحت کے خیال سے رہائش پزیر رہا۔

    1914ء میں جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس وقت گورکی کا رویہ وہی تھا جو اکثر تعلیم یافتہ روسیوں کا، یعنی وہ کشت و خون پر افسوس کرتا تھا، دونوں فریق میں سے کسی کے ساتھ اسے اخلاقی ہمدردی نہ تھی اور لڑائی کے انجام سے کوئی سروکار نہ تھا۔ البتہ جب 1917ء میں انقلاب کے آثار نظر آئے تو گورکی جاگ اُٹھا اور انقلاب کو کامیاب بنانے کی کوشش میں لگ گیا۔ لیکن انقلاب کے فلسفے کا وہ اتنا شیدائی نہ تھا اور انقلابیوں کی سیاست سے اس کو ایسا اتفاق نہ تھا کہ وہ اس تحریک میں اپنی شخصیت کو محو کر دے اور اس کی حیثیت ایک اعلیٰ مرتبہ سرپرست اور نکتہ بین ہمدرد کی سی رہی۔

    انقلاب کے رہبروں کو یہ بات پسند نہ تھی اور وہ اس پر اکثر اُلجھتے تھے لیکن اس نے روسی ادب اور تہذیب کی آبرو رکھ لی اور ترجمے کے ان اداروں نے جو گورکی نے اپنا اثر ڈال کر قائم کرائے، بہت سے انشا پردازوں کو فاقے سے بچا لیا۔ تصنیف کے لیے تو ظاہر ہے یہ زمانہ موزوں نہ تھا، گورکی نے صرف تین کتابیں اور لکھیں جن میں سے ایک میں تالستائی،کورولینکو، چیخوف اورآندریئف وغیرہ سے اس کی جو ملاقاتیں ہوئیں، ان کے کچھ حالات ہیں، دوسری کتاب زندگی کی شاہراہ پر اور تیسری روزنامچہ ہے۔ ان میں جگہ جگہ پر افسانے اور ناول کا رنگ دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ متفرق مضامین، جن میں کمال دکھایا گیا ہے تو بڑھاپے کے آثار بھی بہت صاف نظر آتے ہیں۔

    گورکی کے ابتدائی افسانے روس کے جاہل اور غریب طبقے کا حال اسی طرح بتاتے ہیں جیسے دریا کی تہ سے مٹی اور گھونگھے جو جال کے ساتھ نکل آتے ہیں۔ چلکاش (1895ء)، ہم سفر (1896ء) اور مالوا (1897ء) گورکی کے پہلے افسانوں کے مجموعے ہیں اور یہ زیادہ تر اس آوارہ گردی کی یادگار ہیں جو گورکی نے اوڈیسہ اور جنوبی روس میں کی تھی۔ گورکی کا ناول ماں (1907ء) ایک زمانے میں انقلابی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔

    سوویت ادیبوں کی انجمن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1934ء میں میکسم گورکی سوویت ادیبوں کی انجمن کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے اور اپنی وفات (1936ء) تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ماں
    انسان کی پیدائش
    اطالوی کہانیاں
    تین راہی
    بچپن
    زندگی کی شاہراہ پر
    منزل کی تلاش

    اعزازات: آرڈر آف لینن

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیائے ادب کے عظیم ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی ماسکو اوبلاست، سویت یونین میں 68 سال کی عمر میں 28 جون 1936ء میں کروڑوں انسانوں کو سوگوار چھوڑ کر دارِفانی سے کوچ کر گئے۔