Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی (کلاسیکل رقاصہ)
    یوم پیدائش: 27 مارچ

    پاکستان کی نامور کلاسیکل رقاصہ ناہید صدیقی 27 مارچ 1949ء کو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اداکارہ طلعت صدیقی اور بشیر صدیقی کی بڑی بیٹی اور معروف اداکارہ عارفہ صدیقی کی بڑی بہن ہیں۔ ناہید 3 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ راولپنڈی سے کراچی منتقل ہو گئیں۔ ان کے والدین نے ان کو کراچی کے ہیپی ہوم اسکول میں داخل کرایا۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں، ناہید صدیقی اپنے والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں اور یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں داخلہ لیا۔ یہ کالج اس سے قبل ہوم اکنامکس کالج کے نام سے مشہور تھا۔
    مہاراج غلام حسین کتھک اور پنڈت برجو مہاراج سے کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کرنے کے بعد پی آئی اے آرٹس اکیڈمی سے وابستہ ہوگئیں۔ اسی دوران ان کی شادی ضیا محی الدین سے ہوئی۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن سے رقص کا پروگرام” پائل” شروع کیا جسے عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔

    ناہید صدیقی نے رقص کی تعلیم مہاراج غلام حسین اور پنڈت برجو مہاراج سے حاصل کی۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کا مقبول پروگرام ’’پائل‘‘ ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز تھا، جب ٹیلی ویژن پر رقص پہ پابندی تھی تو ’’پائل‘‘ پروگرام کو بند کرنا پڑا تھا۔ اس پابندی کے دور میں ناہید صدیقی ملک سے باہر چلی گئیں اور ایک طویل عرصہ برطانیہ میں گزارا۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں اور رقص و موسیقی کی تعلیم دے رہی ہیں۔
    14 اگست 1994ء کو انہیں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ عطاء کیا گیا۔
    انہوں نے ناہید صدیقی فاؤنڈیشن کے نام سے اپنی ایک تنظیم بنائی ہے، یہ تنظیم رقص، یوگا اور موسیقی کے لئے کام کرتی ہے۔

  • دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    سراج الدین ظفر

    پیدائش:25 مارچ 1912
    وفات:06 مئی 1972ء

    نام سراج الدین اور تخلص ظفر تھا۔ 25 مارچ 1912ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ 1928ء میں میٹرک اور 1930ء میں ایف سی کالج لاہور سے ایف اے کیا۔ پھر کالج کی تعلیم چھوڑ کرہوابازی کی تعلیم شروع کی اور دہلی فلائنگ کلب سے ہوابازی کا اے کلاس لائسنس حاصل کیا۔ والد کے ناگہانی انتقال کے وجہ سے یہ سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ 1933ء میں ایف سی کالج سے بی اے کیا۔ 1935ء میں ایل ایل بی کیا۔ ابتدا میں انھوں نے وکالت شروع کی، لیکن جلد ہی اس پیشہ سے ان کی طبیعت اکتا گئی۔ دوسری جنگ عظیم میں افسر کی حیثیت سے ہوائی فوج میں بھرتی ہوگئے اور دس برس تک متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ 1950ء میں اس ملازمت کو خیرباد کہا اور تجارت کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شاعری کرتے تھے۔ ان کے دوشعری مجموعے ’’زمزمۂ حیات‘‘ 1946ء اور ’’غزال وغزل‘‘ 1968ء میں شائع ہوئے۔ ’’غزال وغزل‘‘ پر 1969ء میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ افسانوں کا مجموعہ ’’آئینے‘‘ 1943ء میں فیروز سنز نے شائع کیا۔ شروع میں انھوں نے سیماب اکبرآبادی سے اصلاح لی۔ 06 مئی1972ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:32

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل رات
    ابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    ہجومِ گل میں رہے ہم ہزار دست دراز
    صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے

    وہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں
    ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں

    مخمور بوئے زلف نہ آئیں گے ہوش میں
    چھڑکے ابھی نسیمِ بہاراں گلاب اور

    ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا
    پھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا

    اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں
    اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں

    میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو
    اس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کرو

    اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں
    بنامِ گل بدناں رُخ سوئے پیالہ کریں

    شوق راتوں کو ہے در پے کہ تپاں ہو جاؤں
    رقصِ وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں

    ہم میں کل کے نہ سہی حافظؔ و خیامؔ ظفرؔ
    آج کے حافظؔ و خیامؔ ابھی باقی ہیں

    دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے
    رات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئے

    ہم آہوانِ شب کا بھرم کھولتے رہے
    میزانِ دلبری پہ انہیں تولتے رہے

    یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے
    مجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دے

    اس طرح شوقِ غزالاں میں غزل خواں ہو ظفرؔ
    شہرتِ مشکِ غزل شہرِ ختن تک پہنچے

  • جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    آرتی کماری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ ولادت:25 مارچ 1977ء
    جائے ولادت:گیا، بہار
    والد کا نام:الکھ نرنجن پرساد سنہا
    والدہ کا نام:ریتا سنہا
    شوہر کا نام:مادھویندر پرساد
    موجودہ/مستقل پتا:ششی بھون، آزاد کالونی، روڈ 3
    ماڑی پور، مظفر پور بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آرتی کماری کی شاعری سے انتخاب

    عشق میں وصل کم تھا جدائی بہت
    کروٹوں میں سسکتی رہی زندگی

    تُو نہیں ہے زیست میں تو تیرگی ہے ہر طرف
    ہجر کی تنہائی میں دل کو جلایا جائے گا

    زخم اتنے دیجئے جتنے کہ سہہ پاؤں گی میں
    درد گزرا حد سے تو ہمت میری بڑھ جائے گی

    آہٹ سی کیا ہوئی کہ مرا دل سہم گیا
    اب دل کی دھڑکنوں کو جگانے لگے ہیں آپ

    اوروں کے عیب دیکھیے اِک شرط ہے مگر
    اک روز اپنے گھر کے بھی حالات دیکھیے

    دل کی دھڑکن ذرا تیز ہونے لگی
    پاؤں جب بھی بڑھے تیرے گھر کی طرف

    میری دنیا میرا مسکن میری جنت تُو ہے
    مجھ کو سینے سے لگا پاس بلا لے مجھ کو

    دور تک ریت ہے نہ دریا ہے
    پیاس کو پیاس سے پیا کیجے

    جن کے لیے تھی دل کی وہ محفل سجی ہوئی
    آئے نہیں وہ رسم نبھانے تمام رات

    میں تو بکھرنے والی تھی راہِ حیات میں
    تُو بن کے حوصلہ ملا تو مَیں سنور گئی

    غم سے جب ملنا ملانا ہو گیا
    کم خوشی کا آنا جانا ہو گیا

    تیرے ہمراہ یوں چلنا نہیں آتا مجھ کو
    وقت کے ساتھ بدلنا نہیں آتا مجھ کو

    ہر طرف ہے شور جاری خوف طاری ہے
    من ویوتھت ہے سانس بھاری خوف طاری ہے

    يدُھ میں کتنے ہی نر سنہا ر کا کارن بنا تھا
    دروپدی کا وہ کٹل پریہاس ہم سب جانتے ہیں

    منگل راہو کیتو شنیچر جب بھی آنکھ دکھاتے ہیں
    جپ تپ سنیم دان سے اکثر اُن کو مناتی میری ماں

    نہ گھبرائیں گے بادھا سے نہ ہا ریں گے نراشا سے
    چلیں گے مشکلوں کو پار کر اگلی صدی میں ہم

    پریم کی بھاونا رکھو من میں
    پشپ کھلتے ہیں جیسے اپون میں
    تُم بھی رم جاؤ اس طرح مجھ میں
    جیسے مِیرا رمی ہے موہن میں

    خامشی بڑھنے لگی ہے آرتی
    حال آنکھوں سے سنانا چاہئے

    یہ دیکھیے کہ پیاس ہےہونٹوں پہ کس قدر
    آنکھوں کے درمیان سمندر نہ دیکھیے

    میرا سایہ بچھڑ گیا مجھ سے
    دھوپ سر سے اُتر گئی ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تری یاد میں جو گزارا گیا ہے
    وہی وقت اچھا ہمارا گیا ہے
    بھلا اور کیا اپنا پن وہ دکھائے
    ترا نام لے کر پکارا گیا ہے
    تمہیں میری حالت پتہ کیا چلے گی
    مرا جو گیا کب تمہارا گیا ہے
    تمہیں عشق کا آئنہ مان کر کے
    مقدر کو اپنے سنوارا گیا ہے
    عجب ہے محبت کا میدان یارو
    نہ جیتا گیا ہے نہ ہارا گیا ہے
    لکھا ریت پر نام میں نے تمہارا
    ندی میں بھی چہرہ نہارا گیا ہے
    ہے میری بھی عادت تمہارے ہی جیسی
    ہر اک رنگ مجھ پہ تمہارا گیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مشکلیں لاکھ ہوں لیکن مری خواہش ہوگی
    آپ کا ساتھ نبھانے کی تو کوشش ہوگی
    تہمتیں کتنی لگاؤ گے محبت پہ مری
    اس سے تو شہر میں نفرت کی نمائش ہوگی
    ان اندھیروں سے کوئی خوف نہیں ہے مجھ کو
    میں سمجھتی ہوں یہاں نور کی بارش ہوگی
    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی
    اب تو مظلوم بھی خنجر کا سہارا لے گا
    نہ کوئی ونتی کرے گا نہ گزارش ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تمہیں دنیا کی نظروں سے بچا کر ساتھ رکھنا ہے
    مری چاہت کا خط ہو تم چھپا کر ساتھ رکھنا ہے
    مرے آنگن میں ٹھہرے ہیں تمہاری یاد کے سائے
    تمہارے آنے تک دل سے لگا کر ساتھ رکھنا ہے
    کہانی کی طرح تم کو سنا سکتی نہیں سب کو
    تمہیں گیتوں کے جیسے گنگنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سجانا ہے کبھی ہاتھوں میں مہندی کی طرح تجھ کو
    کبھی آنکھوں میں کاجل سا سما کر ساتھ رکھنا ہے
    میں تتلی کی طرح ہوں پھول کے جیسا ہے تو ہمدم
    میں دل ہوں سو تجھے دھڑکن بنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سفر مشکل بہت ہے اور منزل دور ہے اپنی
    ہمیں مشکل کو ہی ہمت بنا کر ساتھ رکھنا ہے

  • شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    نہ اضطراب نہ غوغائے گریہ و ماتم
    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    انجم عثمان

    اصل نام : انجم
    والد کا نام:احمد علی
    والدہ کا نام:رئیسہ خاتون
    شوہر کا نام:مرزا عثمان علی بیگ
    اولاد:دو بیٹے، دوبیٹیاں
    آبائی وطن:پاکستان
    جائے ولادت:کراچی، پاکستان
    تاریخ پیدائش : 25 مارچ : 1968
    تعلیم:ایم ایس سی (کیمسٹری)
    پیشہ:خاتونِ خانہ
    زبان:اردو
    اصناف:غزل، نظم، حمد، نعت، منقبت
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)العطش(شعری مجموعہ)
    ۔ (2)ناشنیدہ (شعری مجموعہ)
    آغازِ شاعری:1965
    ایوارڈ : بیشمار
    پتا:کلفٹن ، کراچی، پاکستان

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    زر غبار کو آئینہ بار کر نہ سکے
    نقوش عکس کو تصویر یار کر نہ سکے
    ہے وحشتوں کا تلاطم پسِ نوائے سکوت
    میان موجۂ گل ذکر یار کر نہ سکے
    نہ اضطراب، نہ غوغائے گریہ و ماتم
    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے
    ٹپک نہ چشمِ ہم آہنگ سے اے قطرۂ خوں
    کہ چارہ گر بھی تجھے شرمسار کر نہ سکے
    ستارہ گیر تھا رخشِ ہنر مگر پھر بھی
    طلسم حسن سخن بے کنار کر نہ سکے
    ہزار زاویۂ حرف آشکار کیے
    قبائے سرو غزل زرنگار کر نہ سکے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    جب کسی شعر میں پوشیدہ بھنور کُھلتے ہیں
    تب کہیں جا کے طلسمات کے در کُھلتے ہیں

    نشانِ راہ تھے افلاک راستے میں فقط
    غبارِ جاں تو نجانے کہاں کہاں پہنچا

    آئینۂ عالم کی خبر دیکھ رہے ہیں
    ناپید سے پیدا کا سفر دیکھ رہے ہیں

    یہ دیر و حرم ،گرجا و صومعہ کیوں !
    خرابہ ،خرابات از کار رفتہ

    شیشۂ خوش نظر سے پی بادۂ عشق ،ہاں مگر
    میکدۂ نشاط میں تذکرۂ سبو نہ کر

  • گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    پیدائش:28 اگست 1749ء
    فرینکفرٹ
    وفات:22 مارچ 1832ء
    وایمار
    وجۂ وفات:دورۂ قلب
    طرز وفات:طبعی موت
    رکن:سائنس کی پروشیائی اکیڈمی
    فری میسن، الومناتی
    سائنس کی روسی اکادمی
    مادر علمی:لائپزش یونیورسٹی
    (1765-1768)
    تخصص تعلیم:اُصول قانون
    تعلیمی اسناد:سند یافتہ جامعہ
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:تشریح، موسمیات
    کارہائے نمایاں:دیوان الشرقی للمولف الغربی
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    آرڈر آف سینٹ آنا
    فرسٹ کلاس (1808)

    گوئٹے (آلمانی زبان میں Johann Wolfgang von Goethe ) آلمان یعنی جرمنی کا مشہور شاعر اور فلسفی تھا۔ وہ 28 اگست 1749ء کو پیدا ہوا اور 22 مارچ 1832ء کو انتقال کیا۔ شاعری، ڈراما، ادب، فلسفہ، الٰہیات، الغرض بے شمار اصناف میں لکھتا رہا۔ گوئٹے اگرچہ جرمن ادیب تھا لیکن وہ عالمی ادب کے گنے چنے قافلہ سالاروں میں شمار ہوتا ہے- وہ بیک وقت شاعر، ناول نویس، ڈراما نگار اور فلسفی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ متنوع اور ہمہ گیر طبعیت کا مالک تھا اور اس کی دلچسپیاں بھی لامحدود تھیں۔ ادب کے علاوہ اس نے قانون، طب، علم کیمیا اور علم برق کی تعلیم بھی حاصل کی- وہ سیاست دان، تھیٹر ڈائریکڑ، نقاد اور سائنس دان بھی تھا- ان تمام صفات نے مل جل کر اسے عالمی ادب کی دیوقامت شخصیات کی صف میں لاکھڑا کیا- بین الاقوامی شہرت و مقبولیت میں وہ ہومر، شیکسپیئر اور دانتے کا ہم پلہ نظر آتا ہے۔
    خاندان
    ۔۔۔۔۔۔
    اس کا باپ جوہان کیسپر گوئٹے(کاسپارگوٹے) (1710ء۔1782)ایک وکیل تھا لیکن گوئٹے کی پیدائش کے وقت وہ اپنے چار منزلہ مکان میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی اپنی لائبریری بہت بڑی تھی اور مصوری کے بہت سے نمونے بھی اس کے پاس تھے۔ مزاجاً سخت، مغرور اور سنکی کتابوں کا رسیا گوئٹے کی ماں کیتھرین ایلزبیتھ (کاتارین الیسابیتھ) (1731۔ 1808) فرینکفرٹ (فرانکفورٹ) کے میئر کی بیٹی تھی۔ خوش مزاج، ہنس مکھ، نیک سیرت، شاعری اور تھیٹر کی رسیا۔ اس نے ایک چھوٹا سا تھیٹر بھی اپنے گھر میں بنا رکھا تھا۔ اپنے بچپن کا ذکر گوئٹے نے بہت محبت سے کیا ہے۔ ماں کی خوش مزاج شخصیت نے گوئٹے کی شخصیت کو وہ دلآویزی عطا کی کہ وہ جہاں جاتا پسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم اپنے باپ سے حاصل کی اور بعد میں مختلف اتالیق سے مختلف علوم کی تعلیم حاصل کی۔ گوئٹے لاطینی، یونانی اورانگریزی پڑھ سکتا تھا۔ عبرانی سے بھی شدبد تھی۔ فرانسیسی اور اطالوی روانی سے بول سکتا تھا۔ وائلن بجانا۔ اسکیچ بنانا، مصوری کرنا، گھوڑ سواری، رقص اور تیرا کی اس نے اسی زمانے میں سیکھے۔ 1765میں وہ قانون کی تعلیم کے لیے لیئپ زگ گیا 1768ء میں وہ بیمار پڑ گیا اور فراینکفرٹ(فرانکفورٹ) واپس آگیا۔ چھ بچوں میں سے صرف گوئٹے اور اس کی بہن بچے تھے اس لیے ان کی تعلیم و تربیت پر والدین نے پوری توجہ دی۔ 1771ء میں اسٹراس بورگ میں اس نے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ وہیں اس کی ملاقات ہر ڈر سے ہوئی۔ ہر ڈر گوئٹے سے پانچ سال بڑا تھا۔ یہیں اس کی ملاقات ان نوجوانوں سے بھی ہوئی جو درباروں کی تصنع پسندی، مبلغوں کے کھوکھلے لفظوں اور تاجروں کے استحصال کے خلاف تھے اور اس بات پر افسردہ اور شاکی تھے کہ نوجوانوں کو جرمن معاشرہ میں وہ مقام نہیں مل رہا ہے جس کے وہ اپنی اہلیت وصلاحیت کے لحاظ سے مستحق ہیں۔ احساس محرومی ان پر چھایا ہوا تھا۔ وہ آزادی فکر و اظہار کے حامی اور سارے معاشرے میں ذہنی بیداری پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔ نوجوانوں کی اس تحریک کا نام شٹورم اونڈ ڈرانگ Sturm Und Drang تھا۔ اس تحریک سے متاثر ہو کر گوئٹے نے غنائیہ نظمیں لکھیں۔ اسی زمانے میں گوئٹے رومو اور اسپنوزا سے بھی متاثر ہوا۔ اسی دور میں اسے جانوروں اور پودوں کے مطالعے کا شوق بھی پیدا ہوا، جو ساری عمر جاری رہا اور اس نے علم حیاتیات اور نباتات کی بھی اہم خدمت انجام دی۔1772ء میں اس نے وکالت شروع کی۔ اس وقت گوئٹے کی عمر صرف 23سال تھی ۔

  • اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش

    اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش

    احسان دانش

    اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش 10؍فروری1914ء میں کاندھلہ، مظفر نگر (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ والدین کی غربت کی وجہ سے چوتھی جماعت سے آگے نہ پڑھ سکے تاہم اپنے طور پر اردو، فارسی اور عربی زبان کا مطالعہ کیا، تلاش معاش میں لاہور آگئے اور پھر تمام عمر یہیں گزاری۔ یہاں انھوں نے مزدوری، چوکی داری، چپراسی اور باغ بانی کے فرائض انجام دیے۔ فرصت کے اوقات میں کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔

    دوران مطالعہ انھیں شعروسخن سے دل چسپی ہوگئی۔ تاجور نجیب آبادی سے اصلاح لینے لگے۔جب کچھ رقم جمع ہوگئی تو ’’مکتبۂ دانش‘‘ کے نام سے اپنا ذاتی کتب خانہ قائم کیا۔ ان کا سرمایۂ شعری زیادہ تر نظموں پر مشتمل ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے خطاب سے حکومت نے نوازا ۔ احسان دانش کو مذہب سے گہرا لگاؤ تھا۔ انھیں حج بیت اللہ اور روضۂ اقدس پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی 22 مارچ1982ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔

    دانش میں خوف مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
    میں جانتا ہوں موت ہے سنت حضورؐ کی

    اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے
    اس کی ہر بات بھلا دی ہم نے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
    ساتھ چل موج صبا ہو جیسے
    لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں
    تو مجھ بھول گیا ہو جیسے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی تجھ سے شکایت ہی کہاں تھی لیکن
    تیری تلخی میرے لہجے سے عیاں تھی لیکن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نظر فریب کھا گئی تو کیا ہو گا
    حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہو گا
    غم حیات سے ہے بے شک خودکشی آساں
    مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہو گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
    وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لیے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا
    چاہا تھا انھیں ہم نے خطا وار ہمی تھے
    ….
    رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے
    احسان دانش
    رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے
    ہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھے

    ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوست
    دنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے

    اس بندہ نوازی کے تصدق سر محشر
    گویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے

    دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہارا
    راتوں کو ترے واسطے بیدار ہمیں تھے

    بازار ازل یوں تو بہت گرم تھا لیکن
    لے دے کے محبت کے خریدار ہمیں تھے

    کھٹکے ہیں ترے سارے گلستاں کی نظر میں
    سب اپنی جگہ پھول تھے اک خار ہمیں تھے

    ہاں آپ کو دیکھا تھا محبت سے ہمیں نے
    جی سارے زمانے کے گنہ گار ہمیں تھے

    ہے آج وہ صورت کہ بنائے نہیں بنتی
    کل نقش دو عالم کے قلم کار ہمیں تھے

    پچھتاؤگے دیکھو ہمیں بیگانہ سمجھ کر
    مانوگے کسی وقت کہ غم خوار ہمیں تھے

    ارباب وطن خوش ہیں ہمیں دل سے بھلا کر
    جیسے نگہ و دل پہ بس اک بار ہمیں تھے

    احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا
    چاہا تھا انہیں ہم نے خطاوار ہمیں تھے

  • تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    گلوکارہ الکا یاگنک

    یوم پیدائش : 20 مارچ 1966
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف گلوکارہ الکا یاگنک 23 مارچ 1966 میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی ماں شوبھا یاگنک ایک کلاسیکل گلوکارہ تھی اسی وجہ سے الکا کو بچپن میں ہی گھر میں موسیقی کا ماحول ملا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے 6 سال کی عمر میں ہی آل انڈیا ریڈیو کے آکاشوانی اسٹیشن سے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے فنی سفر کا آغاز کر دیا ۔ ان کی ماں نے ان کی بھرپور فنی تربیت کی یہی وجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب گلوکارہ بن گئیں ۔ الکا نے پہلا فلمی گیت 14 سال کی عمر میں 1980 میں فلم پائل کی جھنکار کیلئے گایا جبکہ 1988 میں فلم تیزاب کیلئے انہوں نے ” ایک دو تین ” گانا گایا جس سے ان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی جس کیلئے ان کو فیمیل پلے بیک سنگر نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا ۔ الکا یاگنک اب تک 7 فلم فیئر ایوارڈز اور دو نیشنل فلم فیئر ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ۔ انہوں نے اب تک ہو چکی ہیں ۔ الکا یاگنک کو 2019 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سشیشما کپور ہے۔ شادی کے بعد 8 سال بعد میاں بیوی کے درمیان کچھ عرصے کیلئے علیحدگی ہو گئی لیکن بعدازں دونوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق الکا یاگنک 2022 دنیا میں یوٹیوب پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا نے الکا یاگنک کوشہد کی آواز کی گلوکارہ Honey Vioce Singer جبکہ ہندوستان ٹائمز نے انہیں جادوئی آواز کی گلوکارہ Magical Vioced Singer کے خطاب سے نوازا ہے۔ الکا یاگنک مہدی حسن کی بہت بڑی مداح ہیں ان کا کہنا ہے کہ مہدی حسن بیت بڑے گلوکار تھے میں ان کی غزلیں سن کر بڑی ہوئی ہوں۔

    الکا یاگنک کی آواز میں گائے گئے چند گیتوں کے بول

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    یہ دعا ہے میری رب سے تجھے دوستوں میں سب سے میری دوستی پسندآئے

    تم سے بڑھ کر دنیا میں نہ دیکھا کوئی

  • چینوا آچہ بہ ،نائیجیریائی ناول نگار کا یوم وفات

    چینوا آچہ بہ ،نائیجیریائی ناول نگار کا یوم وفات

    پیدائش:16 نومبر 1930ء
    وفات:21 مارچ 2013ء
    بوسٹن
    وجۂ وفات:مرض
    رہائش؛کوگی ریاست
    شہریت:نائجیریا
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    مادر علمی:جامعہ لندن
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی
    ملازمت:براؤن یونیورسٹی
    کارہائے نمایاں:عوام کا نمائندہ
    اعزازات؛
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مین بکر انٹرنیشنل پرائز (2007)
    پیس پرائز آف دی جرمن بک ٹریڈ (2002)
    سینٹ لوئیس ادبی انعام (1999)
    بین الاقوامی نونینو انعام (1994)
    لوٹس انعام برائے ادب (1975)
    نائیجیرین نیشنل آرڈر آف میرٹ ایوارڈ
    فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز

    چینوا آچہ بہ یا چنوا اچیبے (انگریزی: Chinua Achebe) ایک نائیجیریائی ناول نگار، شاعر، پروفیسر اور ناقد تھے۔اچیبے کا 1958ء میں لکھا گیا پہلا ناول ’تھنگز فال اپارٹ‘ بے حد مشہور ہوا تھا۔ اس ناول میں افریقا میں نوآبادیت کے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اب تک اس ناول کی ان گنت جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ وہ 1990ء کے بعد سے امریکا میں مقیم تھے۔ اچیبے نائجیریا سے امریکا منتقل ہوگئے تھے جہاں وہ پڑھاتے تھے۔ 1990ء میں کار کے ایک حادثے میں ان کے بدن کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا تھا۔ اچیبے نے 20 سے زائد کتابیں لکھی ہیں جن میں سے کچھ کتابوں میں نائیجیریا میں قیادت اور سیاست دانوں کی ناکامیوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ 21 مارچ 2013ء میں 82 برس کی عمر میں مختصر بیماری کے بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

  • سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ہے

    سیف الدین سیف

    پیدائش:20مارچ 1922ء
    امرتسر، ہندستان
    وفات:12 جولائی1993ء
    لاہور، پاکستان

    سیف الدین نام اور سیف تخلص تھا۔ 20 مارچ 1922ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔بعض سیاسی ومذہبی مسائل پر ارباب کالج سے الجھ پڑنے کی وجہ سے امتحان سے روک دیا گیا۔ مجبوراً سیف نے تعلیم سے منہ موڑلیا اور تلاش معاش میں سرگرداں ہو گئے ۔ ۱۹۴۶ء میں فلمی لائن اختیار کی۔ فلمی نغمہ نگاری او رمکالمے لکھنا ان کا ذریعہ معاش بن گیا۔ انھوں نے مستقل طور پر لاہور میں اقامت اختیار کرلی۔ سیف کو کم سنی ہی سی شعروسخن سے دل چسپی تھی۔ انھوں نے غزل ، رباعی ، طویل ومختصر نظمیں اور گیت سبھی کچھ لکھا ہے۔ مگر غزل سے فطری لگاؤ تھا۔ 12جولائی 1993ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔’’خم کا کل‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوگیاہے ۔ ’’کف گل فروش‘‘ ان کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:129

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا قیامت ہے ہجر کے دن بھی
    زندگی میں شمار ہوتے ہیں

    دل ویراں کو دیکھتے کیا ہو
    یہ وہی آرزو کی بستی ہے

    سیفؔ انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

    تمہارے بعد خدا جانے کیا ہوا دل کو
    کسی سے ربط بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوا

    آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد
    آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

    تم کو بیگانے بھی اپناتے ہیں میں جانتا ہوں
    میرے اپنے بھی پرائے ہیں تمہیں کیا معلوم

    کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے
    کل کی امید پہ ہر آج بسر ہوتا ہے

    مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے
    مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

    بولے وہ کچھ ایسی بے رخی سے
    دل ہی میں رہا سوال اپنا

    زندگی کس طرح کٹے گی سیفؔ
    رات کٹتی نظر نہیں آتی

    شور دن کو نہیں سونے دیتا
    شب کو سناٹا جگا دیتا ہے

    غم گسارو بہت اداس ہوں میں
    آج بہلا سکو تو آ جاؤ

    جس دن سے بھلا دیا ہے تو نے
    آتا ہی نہیں خیال اپنا

    شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آ سکیں
    وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے

    کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں
    کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا

    حسن جلوہ دکھا گیا اپنا
    عشق بیٹھا رہا اداس کہیں

    کبھی جگر پہ کبھی دل پہ چوٹ پڑتی ہے
    تری نظر کے نشانے بدلتے رہتے ہیں

    پاس آئے تو اور ہو گئے دور
    یہ کتنے عجیب فاصلے ہیں

    کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت
    میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے

    چلو میکدے میں بسیرا ہی کر لو
    نہ آنا پڑے گا نہ جانا پڑے گا

    تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو
    لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں

    ہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہے
    ہمارے پاس بھی سامان ایک رات کا ہے

    میرا ہونا بھی کوئی ہونا ہے
    میری ہستی بھی کوئی ہستی ہے

    جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
    ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا

    اپنی وسعت میں کھو چکا ہوں میں
    راہ دکھلا سکو تو آ جاؤ

    دل ناداں تری حالت کیا ہے
    تو نہ اپنوں میں نہ بیگانوں میں

    ایسے لمحے بھی گزارے ہیں تری فرقت میں
    جب تری یاد بھی اس دل پہ گراں گزری ہے

    آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظام عالم
    آپ گزرے ہیں تو اک موج رواں گزری ہے

    یہ آلام ہستی یہ دور زمانہ
    تو کیا اب تمہیں بھول جانا پڑے گا

    سیفؔ پی کر بھی تشنگی نہ گئی
    اب کے برسات اور ہی کچھ تھی

    تھکی تھکی سی فضائیں بجھے بجھے تارے
    بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

    کیوں اجڑ جاتی ہے دل کی محفل
    یہ دیا کون بجھا دیتا ہے

    دل نے پایا قرار پہلو میں
    گردش کائنات ختم ہوئی

    دشمن گئے تو کشمکش دوستی گئی
    دشمن گئے کہ دوست ہمارے چلے گئے

    کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں
    اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا

    رات گزرے نہ درد دل ٹھہرے
    کچھ تو بڑھ جائے کچھ تو گھٹ جائے

    قریب نزع بھی کیوں چین لے سکے کوئی
    نقاب رخ سے اٹھا لو تمہیں کسی سے کیا

    اس مسافر کی نقاہت کا ٹھکانہ کیا ہے
    سنگ منزل جسے دیوار نظر آنے لگے

    پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں
    مدعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں

  • یوم وفات مضطر خیر آبادی

    یوم وفات مضطر خیر آبادی

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مضطر خیر آبادی کا اصل نام سید محمد افتخار حسین جبکہ مضطر تخلص تھا – ’اعتبار الملک‘ ، ’اقتدار جنگ بہادر‘ خطاب ملے، 1865ء میں خیرآباد(یوپی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی کے نواسے اور شمس العلماء عبدالحق خیرآبادی کے بھانجے تھے۔

    محمد حسین ، بسمل(بڑے بھائی) اور امیر مینائی سے تلمذ حاصل تھا۔ مضطر ریاست ٹونک کے درباری شاعر تھے۔ ان کا دیوان چھپا نہیں۔ جاں نثاراختران کے فرزند رشید تھے20 مارچ1927ء کوگوالیارمیں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:241

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں
    اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

    مصیبت اور لمبی زندگانی
    بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت
    کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

    علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
    تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

    بوسے اپنے عارض گلفام کے
    لا مجھے دے دے ترے کس کام کے

    برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں
    بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

    لڑائی ہے تو اچھا رات بھر یوں ہی بسر کر لو
    ہم اپنا منہ ادھر کر لیں تم اپنا منہ ادھر کر لو

    اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے
    کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

    وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں
    آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

    اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا
    اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

    اگر تقدیر سیدھی ہے تو خود ہو جاؤ گے سیدھے
    خفا بیٹھے رہو تم کو منانے کون آتا ہے

    ہمارے ایک دل کو ان کی دو زلفوں نے گھیرا ہے
    یہ کہتی ہے کہ میرا ہے وہ کہتی ہے کہ میرا ہے

    مرے دل نے جھٹکے اٹھائے ہیں کتنے یہ تم اپنی زلفوں کے بالوں سے پوچھو
    کلیجے کی چوٹوں کو میں کیا بتاؤں یہ چھاتی پہ لہرانے والوں سے پوچھو

    ان کا اک پتلا سا خنجر ان کا اک نازک سا ہاتھ
    وہ تو یہ کہیے مری گردن خوشی میں کٹ گئی

    آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر
    چوری نہ کرو خدا کے گھر میں

    ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا
    بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

    یاد کرنا ہی ہم کو یاد رہا
    بھول جانا بھی تم نہیں بھولے

    مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں
    گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں

    ان کو آتی تھی نیند اور مجھ کو
    اپنا قصہ تمام کرنا تھا

    دم خواب راحت بلایا انہوں نے تو درد نہاں کی کہانی کہوں گا
    مرا حال لکھنے کے قابل نہیں ہے اگر مل گئے تو زبانی کہوں گا

    اے عشق کہیں لے چل یہ دیر و حرم چھوٹیں
    ان دونوں مکانوں میں جھگڑا نظر آتا ہے

    آئنہ دیکھ کر غرور فضول
    بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے

    جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے
    تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

    محبت میں کسی نے سر پٹکنے کا سبب پوچھا
    تو کہہ دوں گا کہ اپنی مشکلیں آسان کرتا ہوں

    وقت آرام کا نہیں ملتا
    کام بھی کام کا نہیں ملتا

    صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں
    دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

    ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں
    ایک وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

    وہ شاید ہم سے اب ترک تعلق کرنے والے ہیں
    ہمارے دل پہ کچھ افسردگی سی چھائی جاتی ہے

    زلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہے
    اس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا

    اے بتو رنج کے ساتھی ہو نہ آرام کے تم
    کام ہی جب نہیں آتے ہو تو کس کام کے تم

    بازو پہ رکھ کے سر جو وہ کل رات سو گیا
    آرام یہ ملا کہ مرا ہات سو گیا

    عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے
    تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

    اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا
    وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے

    جگانے چٹکیاں لینے ستانے کون آتا ہے
    یہ چھپ کر خواب میں اللہ جانے کون آتا ہے

    حال دل اغیار سے کہنا پڑا
    گل کا قصہ خار سے کہنا پڑا

    میرے اشکوں کی روانی کو روانی تو کہو
    خیر تم خون نہ سمجھو اسے پانی تو کہو

    اپنی محفل میں رقیبوں کو بلایا اس نے
    ان میں بھی خاص انہیں جن کی ضرورت دیکھی

    عمر سب ذوق تماشا میں گزاری لیکن
    آج تک یہ نہ کھلا کس کے طلب گار ہیں ہم

    حال اس نے ہمارا پوچھا ہے
    پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا

    میں مسیحا اسے سمجھتا ہوں
    جو مرے درد کی دوا نہ کرے

    تصور میں ترا در اپنے سر تک کھینچ لیتا ہوں
    ستم گر میں نہیں چلتا تری دیوار چلتی ہے

    انھوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے
    ہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے

    تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول
    میں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے

    اٹھے اٹھ کر چلے چل کر تھمے تھم کر کہا ہوگا
    میں کیوں جاؤں بہت ہیں ان کی حالت دیکھنے والے

    آؤ تو میرے آئنۂ دل کے سامنے
    ایسا حسیں دکھاؤں کہ ایسا نہ ہو کہیں

    ہم سے اچھا نہیں ملنے کا اگر تم چاہو
    تم سے اچھے ابھی ملتے ہیں اگر ہم چاہیں

    ان بتوں کی ہی محبت سے خدا ملتا ہے
    کافروں کو جو نہ چاہے وہ مسلمان نہیں

    جفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغ
    مکمل وفا کی سند ہو گئی

    حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے
    دل کے اندر قیام ہے تیرا

    دل کو میں اپنے پاس کیوں رکھوں
    تو ہی لے جا اگر یہ تیرا ہے

    بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا
    اسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو

    پردے والے بھی کہیں آتے ہیں گھر سے باہر
    اب جو آ بیٹھے ہو تم دل میں تو بیٹھے رہنا

    اک صدمۂ محبت اک صدمۂ جدائی
    گنتی کے دو ہیں لیکن لاکھوں کی جان پر ہیں

    تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی
    یہ کیا لے لیا میرے پہلو سے تو نے

    اے حنا رنگ محبت تو ہے مجھ میں بھی نہاں
    تیرے دھوکے میں کوئی پیس نہ ڈالے مجھ کو

    زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا
    کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے

    میرا رنگ روپ بگڑ گیا مرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
    جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

    فنا کے بعد اس دنیا میں کچھ باقی نہیں رہتا
    فقط اک نام اچھا یا برا مشہور رہتا ہے

    جب میں نے کہا دل مرا پامال کیا کیوں
    کس ناز سے بولے کہ محبت کی سزا تھی

    دل کیا کرے جو راز محبت کا کھل گیا
    میں کیا کروں کہ عشق ہی اک نامور سے ہے

    عشق کا کانٹا ہمارے دل میں یہ کہہ کر چبھا
    اب نکلواؤ تو تم ان سے نکلوانا مجھے

    آپ سے مجھ کو محبت جو نہیں ہے نہ سہی
    اور بقول آپ کے ہونے کو اگر ہے بھی تو کیا

    ساقی نے لگی دل کی اس طرح بجھا دی تھی
    اک بوند چھڑک دی تھی اک بوند چکھا دی تھی

    خط پھاڑ کے پھینکا ہے تو لکھا بھی مٹا دو
    کاغذ پہ اترتا ہے بہت تاؤ تمہارا

    احباب و اقارب کے برتاؤ کوئی دیکھے
    اول تو مجھے گاڑھا اوپر سے دباتے ہیں

    کچھ تمہیں تو ایک دنیا میں نہیں
    اور بھی ہیں سیکڑوں اس نام کے

    تیری رحمت کا نام سن سن کر
    مبتلا ہو گیا گناہوں میں

    اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے
    کہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرے

    باقی کی محبت میں دل صاف ہوا اتنا
    جب سر کو جھکاتا ہوں شیشہ نظر آتا ہے

    کوئی لے لے تو دل دینے کو میں تیار بیٹھا ہوں
    کوئی مانگے تو اپنی جان تک قربان کرتا ہوں

    ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ
    قیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے

    سنو گے حال جو میرا تو داد کیا دو گے
    یہی کہو گے کہ جھوٹا ہے تو زمانے کا

    جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل
    میں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو

    چوکی نظر جو زاہد خانہ خراب کی
    توبہ اڑا کے لے گئی بوتل شراب کی

    کوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہے
    یوں تو پردے میں سبھی پردہ نشیں اچھے ہیں

    جیے جاتے ہیں پستی میں ترے سارے جہاں والے
    کبھی نیچے بھی نظریں ڈال اونچے آسماں والے

    دل کام کا نہیں تو نہ لو جان نذر ہے
    اتنی ذرا سی بات پہ جھگڑا نہ چاہئے

    میری ارمان بھری آنکھ کی تاثیر ہے یہ
    جس کو میں پیار سے دیکھوں گا وہی تو ہوگا

    نہیں منظور جب ملنا تو وعدے کی ضرورت کیا
    یہ تم کو جھوٹی موٹی عادت اقرار کیسی ہے

    دم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لو
    تم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں

    اس کا بھی ایک وقت ہے آنے دو موت کو
    مضطرؔ خدا کی یاد ابھی کیوں کرے کوئی

    پہلے ہم میں تھے اور اب ہم سے جدا رہتے ہیں
    آپ کاہے کو غریبوں سے خفا رہتے ہیں

    محبت قدرداں ہوتی تو پھر کاہے کا رونا تھا
    ہمیں بھی تم سمجھتے تم کو جیسا ہم سمجھتے ہیں

    وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو
    مری جاں مزا تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے

    حسینوں پر نہیں مرتا میں اس حسرت میں مرتا ہوں
    کہ ایسے ایسے لوگوں کے لیے ظالم قضا کیوں ہے

    اپنے دل کو تری آنکھوں پہ فدا کرتا ہوں
    آج بیمار پہ بیمار کی قربانی ہے

    طریق یاد ہے پہلے سے دل لگانے کا
    اسی کا میں بھی ہوں مجنوں تھا جس گھرانے کا

    خواہش دید پہ انکار سے آتے ہیں مزے
    ایسے موقعے پہ تو پردہ بھی مزا دیتا ہے

    خوب اس دل پہ تری آنکھ نے ڈورے ڈالے
    خوب کاجل نے تری آنکھ میں ڈورا کھینچا

    تو نہ آئے گا تو ہو جائیں گی خوشیاں سب خاک
    عید کا چاند بھی خالی کا مہینہ ہوگا

    میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
    میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

    تیری الجھی ہوئی باتوں سے مرا دل الجھا
    تیرے بکھرے ہوئے بالوں نے پریشان کیا

    کہہ دو ساقی سے کہ پیاسا نہ نکالے مجھ کو
    عمر بھر روئیں گے مٹی کے پیالے مجھ کو

    دیکھ کر کعبے کو خالی میں یہ کہہ کر آ گیا
    ایسے گھر کو کیا کروں گا جس کے اندر تو نہیں

    تمنا اک طرح کی جان ہے جو مرتے دم نکلے
    جدائی اک طرح کی موت ہے جو جیتے جی آئے

    چاہت کی تمنا سے کوئی آنچ نہ آئی
    یہ آگ مرے دل میں بڑے ڈھب سے لگی ہے

    کوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کو
    اس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں

    کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا
    اس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھا

    وہاں جا کر کیے ہیں میں نے سجدے اپنی ہستی کو
    جہاں بندہ پہنچ کر خود خدا معلوم ہوتا ہے

    نہیں ہوں میں تو تری بندگی کے کیا معنی
    نہیں ہے تو تو خدا کون ہے زمانے کا

    کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے
    خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے

    لطف قربت ہے مے پرستی میں
    میں خدا دیکھتا ہوں مستی میں

    دم دے دیا ہے کس رخ روشن کی یاد میں
    مرنے کے بعد بھی مرے چہرے پہ نور تھا

    ایمان ساتھ جائے گا کیوں کر خدا کے گھر
    کعبے کا راستہ تو کلیسا سے مل گیا

    بت خانے میں کیا یاد الٰہی نہیں ممکن
    ناقوس سے کیا کار اذاں ہو نہیں سکتا

    کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد
    گناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے

    ہستئ غیر کا سجدہ ہے محبت میں گناہ
    آپ ہی اپنی پرستش کے سزا وار ہیں ہم

    کسی نے نہ دیکھا ترے حسن کو
    مری صورت حال دیکھی گئی

    قبر پر کیا ہوا جو میلا ہے
    مرنے والا نرا اکیلا ہے

    عیسیٰ سے دوائے مرض عشق نہ ہوگی
    ہاں ان کو کوئی ڈھونڈ کے لے آئے کہیں سے

    اٹھتے جوبن پہ کھل پڑے گیسو
    آ کے جوگی بسے پہاڑوں میں

    عیسیٰ کبھی نہ جاتے لیکن تمہارے غم میں
    وہ بھی تو مر رہے ہیں جو آسمان پر ہیں

    یہی صورت وہاں تھی بے ضرورت بت کدہ چھوڑا
    خدا کے گھر میں رکھا کیا ہے ناحق اتنی دور آئے

    گئے ہم دیر سے کعبے مگر یہ کہہ کے پھر آئے
    کہ تیری شکل کچھ اچھی وہیں معلوم ہوتی ہے

    اے خدا دنیا پہ اب قبضہ بتوں کا چاہیے
    ایک گھر تیرے لیے ان سب نے خالی کر دیا

    مرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتا
    خدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں

    اک ہم کہ ہم کو صبح سے ہے شام کی خوشی
    اک تم کہ تم کو شام کا دھڑکا سحر سے ہے

    کیا اثر خاک تھا مجنوں کے پھٹے کپڑوں میں
    ایک ٹکڑا بھی تو لیلیٰ کا گریباں نہ ہوا

    نہ رو اتنا پرائے واسطے اے دیدۂ گریاں
    کسی کا کچھ نہیں جاتا تری بینائی جاتی ہے

    ہمارے میکدے میں خیر سے ہر چیز رہتی ہے
    مگر اک تیس دن کے واسطے روزے نہیں رہتے

    یہ تو ممکن نہیں محبت میں
    آپ جو کچھ کہیں وہ ہم نہ کریں

    نظر کے سامنے کعبہ بھی ہے کلیسا بھی
    یہی تو وقت ہے تقدیر آزمانے کا

    یہ پیدا ہوتے ہی رونا صریحاً بدشگونی ہے
    مصیبت میں رہیں گے اور مصیبت لے کے اٹھیں گے

    ٹھہرنا دل میں کچھ بہتر نہ جانا
    بھرے گھر کو انہوں نے گھر نہ جانا

    اب کون پھرے کوئے بت دشمن دیں سے
    اللہ کے گھر کیوں نہ چلے جائیں یہیں سے

    جب ان کی پتیاں بکھریں تو سمجھے مصلحت اس کی
    یہ گل پہلے سمجھتے تھے ہوا بے کار چلتی ہے

    دل ان کو مفت دینے میں دشمن کو رشک کیوں
    ہم اپنا مال دیتے ہیں اس میں کسی کا کیا

    جتنے بت ہیں میں سب پہ مرتا ہوں
    میرا ایمان ایک ہو تو کہوں

    اسی کو پی کے ہوتی ہے شفا بیمار الفت کو
    دوا قاتل ترے تلوار کے پانی کو کہتے ہیں

    بتوں میں نور ذات کبریا معلوم ہوتا ہے
    مجھے کچھ دن سے ہر پتھر خدا معلوم ہوتا ہے

    خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
    کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

    عاشقوں کی روح کو تعلیم وحدت کے لیے
    جس جگہ اللہ رہتا ہے وہاں رہنا پڑا

    محبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دے
    خدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری

    نہ اس کے دامن سے میں ہی الجھا نہ میرے دامن سے یہ ہی اٹکی
    ہوا سے میرا بگاڑ کیا ہے جو شمع تربت بجھا رہی ہے

    یہ تو سمجھا میں خدا کو کہ خدا ہے لیکن
    یہ نہ سمجھا کہ سمجھ میں مری کیوں کر آیا

    زاہد تو بخشے جائیں گنہ گار منہ تکیں
    اے رحمت خدا تجھے ایسا نہ چاہئے

    کچھ نہ پوچھو کہ کیوں گیا کعبے
    ان بتوں کو سلام کرنا تھا

    ساقی مرا کھنچا تھا تو میں نے منا لیا
    یہ کس طرح منے جو دھری ہے کھنچی ہوئی

    کعبے میں ہم نے جا کے کچھ اور حال دیکھا
    جب بت کدہ میں پہنچے صورت ہی دوسری تھی

    تم کیوں شب جدائی پردے میں چھپ گئے ہو
    قسمت کے اور تارے سب آسمان پر ہیں

    آہ رسا خدا کے لیے دیکھ بھال کے
    ان کا بھی گھر ملا ہوا دشمن کے گھر سے ہے

    وہ پہلی سب وفائیں کیا ہوئیں اب یہ جفا کیسی
    وہ پہلی سب ادائیں کیا ہوئیں اب یہ ادا کیوں ہے

    حال زاہد جو مئے ناب کا پوچھے تو کہوں
    ہے یہ وہ چیز جو کافر کو مسلمان کرے

    کسی کے تیر کو چھاتی سے ہم لگائے رہے
    تمام عمر کلیجے کے پار ہی رکھا

    صورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہے
    دیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے

    پڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطرؔ
    کوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا

    خال و عارض کا تصور ہے ہمارے دل میں
    ایک ہندو بھی ہے کعبے میں مسلمان کے ساتھ

    وہ کریں گے وصل کا وعدہ وفا
    رنگ گہرے ہیں ہماری شام کے

    اس سے پہلے میں کبھی آباد گھر بستی میں تھا
    آج مضطرؔ ایک اجڑا جھونپڑا جنگل میں ہوں

    ساقی تری نظر تو قیامت سی ڈھا گئی
    ٹھوکر لگی تو شیشۂ توبہ بھی چور تھا

    خدا بھی جب نہ ہو معلوم تب جانو مٹی ہستی
    فنا کا کیا مزا جب تک خدا معلوم ہوتا ہے

    دھوکے سے بلا کر جو ملا تھا تو وہ مجھ سے
    جب ملتے ہیں کہتے ہیں دغاباز کہیں کا

    میری ہستی سے تو اچھی ہیں ہوائیں یا رب
    کہ جو آزاد پھرا کرتی ہیں میدانوں میں

    قیامت میں بڑی گرمی پڑے گی حضرت زاہد
    یہیں سے بادۂ گل رنگ میں دامن کو تر کر لو

    خدمت گشت بگولوں کو تو دی صحرا میں
    میں بھی برباد ہوں مجھ کو بھی کوئی کام بتا

    نگاہوں میں پھرتی ہے آٹھوں پہر
    قیامت بھی ظالم کا قد ہو گئی

    جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد
    ندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں

    پھونکے دیتا ہے کسی کا سوز پنہانی مجھے
    اب تو میری آنکھ بھی دیتی نہیں پانی مجھے

    وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی
    نہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو

    بت کدہ میں تو تجھے دیکھ لیا کرتا تھا
    خاص کعبے میں تو صورت بھی دکھائی نہ گئی

    محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو
    وہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے

    مرا رونا ہنسی ٹھٹھا نہیں ہے
    ذرا روکے رہو اپنی ہنسی تم

    جو پوچھا دل ہمارا کیوں لیا تو ناز سے بولے
    کہ تھوڑی بے قراری اس دل مضطرؔ سے لینا ہے

    میرے غبار کی یہ تعلی تو دیکھیے
    اتنا بڑھا کہ عرش معلی سے مل گیا

    یہ نقشہ ہے کہ منہ تکنے لگا ہے مدعا میرا
    یہ حالت ہے کہ صورت دیکھتا ہے مدعی میری

    رنج غربت میں دیکھ کر مجھ کو
    دل صحرا بھی باغ باغ ہوا

    تمہاری جلوہ گاہ ناز میں اندھیر ہی کب تھا
    یہ موسیٰ دوڑ کر کس کو دکھانے شمع طور آئے

    وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند
    نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے

    جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا
    دھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے

    وہ کہتے ہیں کہ کیوں جی جس کو تم چاہو وہ کیوں اچھا
    وہ اچھا کیوں ہے اور ہم جس کو چاہیں وہ برا کیوں ہے

    یہاں سے جب گئی تھی تب اثر پر خار کھائے تھی
    وہاں سے پھول برساتی ہوئی پلٹی دعا میری

    میں تری راہ طلب میں بہ تمنائے وصال
    محو ایسا ہوں کہ مٹنے کا بھی کچھ دھیان نہیں

    نمک پاش زخم جگر اب تو آ جا
    مرا دل بہت بے مزہ ہو رہا ہے

    پڑ گئے زلفوں کے پھندے اور بھی
    اب تو یہ الجھن ہے چندے اور بھی

    زلف کا حال تک کبھی نہ سنا
    کیوں پریشاں مرا دماغ ہوا

    قیس نے پردۂ محمل کو جو دیکھا تو کہا
    یہ بھی اللہ کرے میرا گریباں ہو جائے

    مسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔ
    کہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

    تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں
    ہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں

    خضر بھی آپ پر عاشق ہوئے ہیں
    قضا آئی حیات جاوداں کی

    روح دیتی رہی ترغیب تعلی برسوں
    ہم مگر تیری گلی چھوڑ کے اوپر نہ گئے

    قاصد نے خبر آمد دلبر کی اڑا دی
    آیا بھی تو کم بخت نے بے پر کی اڑا دی

    جلوۂ رخسار ساقی ساغر و مینا میں ہے
    چاند اوپر ہے مگر ڈوبا ہوا دریا میں ہے

    ساقی وہ خاص طور کی تعلیم دے مجھے
    اس میکدے میں جاؤں تو پیر مغاں رہوں

    اڑا کر خاک ہم کعبے جو پہنچے
    حقیقت کھل گئی کوئے بتاں کی

    میرا دل مضطرؔ بت کافر سے لگا ہے
    اور آنکھ مری سوئے خدا دیکھ رہی ہے