Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    بس ایک بار وہ آیا اور اس پے یہ عالم
    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    الطاف گوہر

    یوم پیدائش: 17 مارچ 1923
    ۔………………………………………..
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے ممتاز ادیب، شاعر، مصنف، صحافی، دانشور اور بیوروکریٹ الطاف گوہر 17 مارچ 1923 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام راجہ الطاف حسین اور پنجابی کے جنجوعہ قبیلے سے تعلق تھا۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی مگر اردو اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور تھا۔ ابتدا میں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے لیکن بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سرکاری آفیسر بن گئے۔ وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے انگریزی اخبار ڈان کے مدیر رہے جبکہ حکومت پاکستان کے سیکریٹری اطلاعات جیسے اہم منصب پر بھی فائز رہے۔ وہ جنرل ایوب خان کے بہت قریب رہے یہی وجہ ہے کہ بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے نفاذ کو ان کا ذہنی اختراع کہا جاتا ہے۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ انہوں نے صحافت بھی کی اور شاعری بھی کی مولانا مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن کا انہوں نے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے سوانح نگاری بھی کی۔ 14 نومبر 2000 کو الطاف گوہر کی 77 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات ہوئی۔ ان کے نمایاں قلمی کام درج ذیل ہیں ۔

    گوہر گزشت (آپ بیتی)

    لکھتے رہے جنوں کی حکایت

    ایوب خان:فوجی راج کے پہلے دس سال

    تفہیم القرآن کا انگریزی میں ترجمہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ صحرا کبھی تو ٹوٹے گا یہ خبط کبھی تو پھوٹے گا
    یہ سناٹا یہ خاموشی مجبور فغاں ہو جائے گی

    ہم تو یونہی کبھی کبھی کہتے ہیں چھیڑ سے غزل
    پیشہ وروں پے کیا بنی اہل زباں کو کیا ہوا

    بس ایک بار وہ آیا اوراس پے یہ عالم
    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    پھر رہے ہیں سر بازار تماشا بن کر
    بد گمانی تری ظالم ابھی باقی ہے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دھوپ کے سائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    شام دلہن کی طرح
    اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی بیٹھی ہے
    گوشۂ چشم سے کاجل کی سیاہی ابھی آنسو بن کر
    بہتے غازے میں نہیں جذب ہوئی
    ابھی کھوئی نہیں بالوں کی دل افروز پریشانی میں
    مسکراتی ہوئی سیندور کی مانگ
    گھلتے رنگوں میں ابھی کاہش جاں باقی ہے
    گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
    کب مٹیں کیسے مٹیں
    شب کی تاریکیاں ہر سمت بکھر جائیں تو آرام ملے
    یہ چمکتے ہوئے ذرے نہ رہیں
    ذوق تماشا نہ رہے
    کوئی تمنا نہ رہے
    اک کرن چھوڑ کے جاتی ہی نہیں
    چشم گیں کرتی ہوئی کھیل رہی ہے اب تک
    زرد رو گھاس کے سینے پہ تھرکتی ہوئی بڑھ جاتی ہے
    سنگریزوں کی نگاہوں میں چمکتی ہوئی لوٹ آتی ہے
    کوئی سمجھائے اسے جاؤ چلی جاؤ یہاں اب کیا ہے
    دھوپ کے کانپتے سایوں کو ذرا بڑھنے دو
    شب کی تاریکیاں چھا جانے دو
    میں نے سو بار کہا ایک نہ مانی اس نے
    مسکراتی ہوئی شاخوں پہ لرزتی ہی رہی
    یوں بھی تڑپانے میں اک لطف تو ہے سوز تو ہے
    رنگ گھلتے ہیں گھلیں گے آخر
    گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
    کب مٹیں کیسے مٹیں
    اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی
    شام دلہن کی طرح بیٹھی رہی بیٹھی رہی

  • یوم ولادت، یاسمین حمید

    یوم ولادت، یاسمین حمید

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    یاسمین حمید

    تاریخ پیدائش:18 مارچ 1951ء
    جائے پیدائش:لاہور
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے
    ۔ 2018
    ۔ (2)دوسری زندگی-2007
    ۔ (3)فنا بھی ایک سراب-2001
    ۔ (4)پس آئینہ-1998
    ۔ (5)آدھا دن اور آدھی رات
    ۔ 1996
    ۔ (6)حصار بے در و دیوار-1991
    ایوارڈز:ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ
    مستقل پتا:ڈی۔2؍124، فیزI
    ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی لاہور

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاسمین حمید تعلیم، ادب اور آرٹ کے شعبوں سے پچیس برس سے زیادہ عرصے سے منسلک ہیں۔ 2007 سے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائینسز (لَمز) میں اردو ادب پڑھاتی آئی ہیں۔ لَمز میں وہ زبان و ادب کے گُرمانی سیَنٹر کی سربراہ بھی ہیں۔ یاسمین حمید اردو میں شاعری کی پانچ کتابیں تصنیف کر چکی ہیں: ’پسِ آئینہ‘ (۱1988)، ’حصارِ بے در و دیوار‘ (1991)، ’آدھا دن اور آدھی رات‘ (1996)، ’فنا بھی ایک سراب‘ (2001) اور ’بے ثمر پیروں کی خواہش (2012)۔ پہلی چار کتابیں 2007 میں سات سوَ صفحوں پر مشتمل مجموعے کے طور پر ’دوسری زندگی‘ کے عنوان سے شائع ہوئیں۔ اُن کی کتاب ’پاکستانی اردو وَرس‘ 2010 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی اور 2012 میں اسے یوُ بی ایَل اور جنگ نے ادبی تحسین کے اعزاز سے نوازا۔ 2013 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے اُن کی تالیف کی ہوئی کتاب ’ڈے بریَک: رائیٹنگز آن فیض‘ شائع کی۔ اُن کی تالیف کی ہوئی ایک اور کتاب ’نیا اردو افسانہ‘ سنگِ میل نے 2014 میں شائع کی۔ 2008 میں حکومتِ پاکستان نے انھیں ادبی خدمات کے لیے تمغۂ امتیاز سے نوازا۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے
    اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

    ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں
    سو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں

    پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی
    ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی

    جس سمت کی ہوا ہے اسی سمت چل پڑیں
    جب کچھ نہ ہو سکا تو یہی فیصلہ کیا

    ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے
    آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے

    اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے
    مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو

    سمندر ہو تو اس میں ڈوب جانا بھی روا ہے
    مگر دریاؤں کو تو پار کرنا چاہیئے تھا

    اگر اتنی مقدم تھی ضرورت روشنی کی
    تو پھر سائے سے اپنے پیار کرنا چاہیئے تھا

    اپنی نگاہ پر بھی کروں اعتبار کیا
    کس مان پر کہوں وہ مرا انتخاب تھا

    مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی
    چراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی

    جو ڈبوئے گی نہ پہنچائے گی ساحل پہ ہمیں
    اب وہی موج سمندر سے ابھرنے کو ہے

    اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی
    اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے

    میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں
    جو میری بات کا حاصل رہا ہے

    اس کے شکستہ وار کا بھی رکھ لیا بھرم
    یہ قرض ہم نے زخم کی صورت ادا کیا

    مری ہر بات پس منظر سے کیوں منسوب ہوتی ہے
    مجھے آواز سی آتی ہے کیوں اجڑے دیاروں سے

    کیوں ڈھونڈنے نکلے ہیں نئے غم کا خزینہ
    جب دل بھی وہی درد کی دولت بھی وہی ہے

    رستے سے مری جنگ بھی جاری ہے ابھی تک
    اور پاؤں تلے زخم کی وحشت بھی وہی ہے

    کسی کے نرم لہجے کا قرینہ
    مری آواز میں شامل رہا ہے

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

  • ثروت اباظہ ،مصر کے ناول نگارکا یوم وفات

    ثروت اباظہ ،مصر کے ناول نگارکا یوم وفات

    تاریخ پیدائش:28 جون 1927ء
    تاریخ وفات:17 مارچ 2002ء
    شہریت:مصر
    پیشہ:مصنف

    ثروت اباظہ کا پورا نام ثروت دسوقی اباظہ ہے۔ وہ مصر کے جانے مانے صحافی اور ناول نگار تھے۔ وہ محافظہ الشرقیہ کی بڑی شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے عربی زبان و ادب کی بہت خدمت کی ہے۔ ان کا تعلق اباظہ خاندان سے ہے جو مصر کا علمی و ادبی خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے والد دسوقی اباظہ ادیب تھے اور چچا عزیز اباظہ شاعر ہیں۔ ان کے ایک اور چچا فکری اباظہ بھی ادیب اور کاتب تھے۔ ان کا شہرہ آفاق ناول” ارب من الأيام” ہے جو 1960ء کی دہائی میں ٹی وی پر بھی نشر ہوا تھا۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ثروت اباظہ نے جامعہ فواد اول سے 1950ء میں قانون میں گریجویشن کیا اور بطور وکیل اپنے کیرئر کی شروعات کی۔ وہ محض 16 برس کے تھے کہ ادب میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی افسانہ لکھنا شروع کردیا تھا اور ان کی کہانی اور افسانے ریڈیو پر نشر ہونے لگے۔ اس کے بعد انھوں نے ناول کی جانب رخ کیا۔ انھوں نے ایک تاریخی قصہ” ابن عمار” لکھا اور اس کے بعد ایک ڈراما” الحیاۃ لنا” (ہماری زندگی) لکھا۔

    وہ 1974ء میں مجلہ "الاذاعہ والتلفزيون” کے رئیس التحریر بنے اور 1975ء تا 1988ء مجلہ” اہرام” کے ادبی شعبہ کے صدر رہے۔ وہ مجلس شوریٰ کے معتمد بھی رہے۔ انھوں نے متعدد ناول، قصے، فلمی کہانی، ڈراما لکھے۔ ان کے کئی ناول بعد میں فلمائے بھی گئے اور متعدد ریڈیو پر نشر ہوئے۔
    17 مارچ 2002ء کو بعمر 74 انتقال کرگئے۔

  • ظفر لشاری (لاشاری)  سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    یوم وفات : 16 مارچ 2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظفر محمود لشاری (لاشاری) 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ/ڈیرہ نواب صاحب کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن ٹی بی میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی ۔ کافی عرصہ سینی ٹوریم میں زیر علاج رہے. صحت یاب ہونے پر چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا۔ پرائیویٹ ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا۔ ہیڈ ماسٹر بھی بنے۔ 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    سرائیکی زبان میں پہلا ناول "نازو” انہوں نے ہی لکھا۔ یہ 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور نے شائع کیا۔ دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ نے شائع کیا۔ افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کی دوسری کتابیں "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” ،”خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” اور”سرائیکی لوک سہرے” ہیں۔ 16 مارچ 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    پیدائش:16 مارچ 1907ء
    تبریز
    وفات:05 اپریل 1941ء
    تہران
    شہریت:ایران
    زبان:فارسی
    شعبۂ عمل:شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ: ویکی پیڈیا انگلش کے مطابق تاریخ ولادت 17 مارچ 1907ء درج ہے ۔

    پروین اعتصامی بروز ہفتہ یکم صفر المظفر 1325ھ مطابق 16 مارچ 1907ء کو شہر تبریز میں پیدا ہوئیں۔ ماہر لسانیات علی اکبر دہخدا کے مطابق پروین اعتصامی کا اصل نام ” رخشندہ“ تھا۔
    والدین و حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروین کے والد اعتصام الملک مرزا یوسف اعتصامی تھے۔ پروین کے داد مرزا ابراہیم خان مصطفوی اعتصام الملک تھے جو شہر آشتیان صوبہ مرکزی سے ہجرت کرکے تبریز آ گئے تھے۔ بعد ازاں شہنشاہ نصیر الدین شاہ قاچار کے حکم پر اُنہیں وزارت خزانہ در صوبہ آذربائیجان میں مقرر کیا گیا۔ پروین کے چار بھائی تھے۔ پروین کی والدہ کا 1973ء میں اِنتقال ہوا۔
    تعلیم کا حصول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بعد میں یہ خاندان تبریز سے تہران چلا آیا اور یہاں پروین نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تہران میں پروین نے امریکن گرلز کالج میں تحصیل علم کیا۔ 1924ء میں اِیران بیتھل اسکول سے گریجویشن کیا۔
    1926ء سے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1941ء تک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کے حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1926ء میں پروین کو اِیران کے شاہی دربار سے مستقبل کی ملکہ کی اتالیق کے عہدے کی پیشکش کی گئی مگر پروین نے اِنکار کر دیا۔ 1934ء میں پروین کی شادی ہوئی اور وہ کرمان شاہ منتقل ہوگئیں۔ مگر یہ شادی صرف دس ہفتوں تک رہ سکی اور وہ واپس تہران آگئیں۔ 1938ء- 1939ء میں وہ کافی مہینے ایک لائبریری ”دانش گاہِ سرائے عالی“ میں ملازمت کرتی رہیں جو اَب تہران کی تربیت معلم یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ 1938ء میں پروین کے والد مرزا یوسف اعتصامی آشتیانی کا اِنتقال ہوا جب پروین کی عمر 31 سال تھی۔
    پروین اعتصامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بحیثیت شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پروین سات یا آٹھ سال کی تھیں جب اُن کا شاعری میں ذوق نمایاں ہونے لگا تھا۔ اُن کے والد نے اُن کا یہ ذوق دیکھتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ 1921ء-1922ء میں اُن کی پہلی ایک شعری نظم ایک رسالہ بہار میں چھپی۔ 1935ء میں پروین کا شعری مجموعوں پر مبنی دِیوان شائع ہوا جس میں 156 نظمیں تھیں۔ اِس دیوان کے لیے ایک تقریظ مشہور فارسی شاعر محمد تقی بہار نے بھی لکھی۔
    1941ء میں پروین کے اِس دِیوان کا دوسرا ایڈیشن اُن کے بھائی مرزا ابو الفتح اعتصامی نے پروین کی وفات کے بعد شائع کیا۔ یہ ایڈیشن سابقہ کے مقابلے میں ضخیم تھا، اِس میں 209 مختلف شعری مرکبات جن میں قصیدہ، غزل، قطع اور رباعیاں شامل تھیں اور کل اشعار کی تعداد 5606 تھی۔
    اپنی مختصر سی حیات میں پروین بڑے شعرا کے مدِ مقابل آ گئی تھیں۔ اُن کی شاعری میں فارسی کے کلاسیکی دور کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ اُن کے شعری مجموعوں میں 42 قصیدے اور قطع ایسے ہیں جن کا کوئی عنوان منتخب نہیں کیا گیا۔ یہ قدیم فارسی شعرا سنائی اور ناصر خسرو کی مطابقت رکھتے ہیں۔ بعض دوسرے قصیدے فطرت، حالات زندگی کو نمایاں کرتے ہیں۔ پروین کے دِیوان میں کچھ غزلیں عشیقہ زندگی کے متعلق بھی ہیں جو اُن کے رومان پسند ہونے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
    پروین کے دِیوان میں مناظرے کی شاعری زیادہ مفصل انداز میں پائی جاتی ہے۔ مناظرے کے انداز میں کل 65 نظمیں موجود ہیں۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    پروین اعتصامی کا اِنتقال 34 سال کی عمر میں بروز ہفتہ 8 ربیع الاول 1360ھ مطابق 05 اپریل 1941ء کو شہر قم، ایران میں ہوا۔ پروین کو قم میں اُن کے والد کے قریب دفن کیا گیا۔

  • پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    ہے جس کا تخت سجدہ گاہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا

    سعادت سعید

    پیدائش:15 مارچ 1949ء
    لاہور
    شہریت: پاکستان
    مادر علمی:جامعہ پنجاب

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے معروف نقاد، شاعر اور محقق ہیں۔ آپ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور میں پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان دنوں بطور پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں، آپ انقرہ یونیورسٹی، ترکی میں اردو و پاکستان اسٹڈیز چئیر سے بھی منسلک رہے۔
    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید 15 مارچ، 1949ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاکٹر اللہ دتہ (الف د) نسیم بھی اردو زبان و ادب کے استاد تھے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے ابتدائی تعلیم منٹگمری یعنی ساہیوال سے حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج، ساہیوال سے بی اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آ گئے۔ 1969ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور بہترین کارگردگی پر انھیں طلائی تمغے اور بابائے اردو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ 1988ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ہی اردو زبان و ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
    تدریسی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز 1970ء میں بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج راوی روڈ سے کیا۔ اسی سال وہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج، لائلپور سے وابستہ ہوئے۔ تین برس بعد وہ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور آ گئے، جہاں انھوں نے 1986ء تک خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، وہ بطور اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہو کر گورنمنٹ کالج، لاہور چلے گئے۔ 1995ء میں ان کا بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر انتخاب ہوا اور چار برس بعد وہ اردو و پاکستان اسٹڈیز چیئر، انقرہ یونیورسٹی کے لیے منتخب ہو کر ترکی چلے گئے۔ وطن واپس آ کر وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے بطور پروفیسر منسلک ہو گئے، جہاں انھوں نے صدر شعبۂ اردو کے طور پر بھی کام کیا۔ 2009ء سے تا حال وہ مذکورہ یونیورسٹی سے بطور سینئر وزٹنگ پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    (1) کجلی بن (نظموں کا مجموعہ)
    سنگ میل ،لاہور، 1988ء
    (2)اقبال اور مجلہ ساہیوال
    بزم اقبال، لاہور، 1989ء
    (3) تہذیب، جدیدیت اور ہم
    اقبال۔ شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1991ء
    (4) مثنوی پس چہ باید کرد اے اقوام شرق
    (اردو نثری ترجمہ)، اقبال۔
    شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1992ء
    (5) جہت نمائی،
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1995ء
    (7) فن اور خالق،چند جدید نظم گو
    شعرا کے مطالعے
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (8) ادب اور نفی ادب ،ادبی نظریہ سازی
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (9) اقبال ایک ثقافتی تناظر
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (10) چاند وقت، ترکی شاعری
    از سرپل کلفل، (ترجمہ)
    مکتبہ الفاروق، لاہور، 1998ء
    (11) فنون آشوب (طویل نظم)
    مکتبہ ابلاغ، لاہور، 2002ء
    (12) بانسری چپ ہے (شعری مجموعہ)
    دستاویز مطبوعات، لاہور، 2002ء
    (13) شناخت (شعری مجموعہ)
    مکتبہ نسیم، لاہور، 2007ء

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہا
    غافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا
    کیا ہے جو اس نے دور بسا لی ہیں بستیاں
    آخر مرا دماغ بھی اول نہیں رہا
    لاؤ تو سرّ دہر کے مفہوم کی خبر
    عقدہ اگرچہ کوئی بھی مہمل نہیں رہا
    شاید نہ پا سکوں میں سراغ دیار شوق
    قبلہ درست کرنے کا کس بل نہیں رہا
    دشت فنا میں دیکھا مساوات کا عروج
    اشرف نہیں رہا کوئی اسفل نہیں رہا
    ہے جس کا تخت سجدہ گہہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا
    جس دم جہاں سے ڈولتی ڈولی ہی اٹھ گئی
    طبل و علم تو کیا کوئی منڈل نہیں رہا

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    مرنے کا خوف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہے
    گرفتار ہونے کا موسم
    سر قریۂ آبرو
    آفتاب ہلاکت کی صورت چمکنے لگا ہے
    شعاعوں کے نوکیلے پنجوں نے جسموں کو زخمی کیا ہے
    بھنور در بھنور روشنی کے سمندر
    طوفان قیدی ہوئے
    یہ بستی گناہوں سے معمور آفت رسیدوں کی بستی ہے
    نوزائدہ آرزو انتہاؤں کے امکاں سمیٹے
    ضمیروں میں لتھڑی جرائم زدہ خواہشوں کو
    مٹائے تو کیسے
    رگوں کے دریچوں سے لپٹی فصیلوں کو ریزوں کی صورت
    ہوا میں اچھالے تو کیسے
    کہ اس کا نوشتہ فقط از سر نو گرفتار ہونا
    نے دائروں کے تسلط میں جینا
    سیاہی کے باطن میں موجود غاروں میں رہنا
    ہلاکت کی سرچشمہ گاہوں سے
    آزاد رہنے کی عظمت سے واقف ہواؤ
    ہماری فصیلوں کی جانب بھی آؤ
    ہمیں یہ بتاؤ
    گرفتار ہونا ہمارا نوشتہ نہیں تھا
    ارادوں میں موجود طوق و سلاسل
    ہوس ناک دہشت
    تمنا کی مٹی میں فولاد ہوتے رہے ہیں
    خود اپنی توانا حقیقت
    گرفتار کرنے سے قاصر رہے میں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    اپنی محرومی کا دکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اے
    سر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کا
    منظروں کے لہو میں گھلتی غلیظ مٹی کی باتوں کا
    مرے وجود سیہ بختی میں اجڑے اشکوں کے گرد سائے قفس بنے میں
    میں دائروں کے مہین تاروں کی
    ناتمامی میں
    ریشہ ریشہ سمٹ گیا ہوں
    کہانیوں کے دبیز پردوں کی تہ میں عریاں
    تمہاری آنکھوں کی مسکراہٹ عذاب بن کر
    مرے سفر کی ہر ایک منزل میں آ چھپی ہے
    میں نوحہ لکھتا ہوں
    زرد سوچوں کا
    کالی سانسوں کا
    اپنے ہونٹوں کے شمسی لفظوں کا ذائقوں کا
    تمہارے سینے پہ کنڈلی مارے جو سانپ بیٹھا ہے
    اس کی خونی زباں کا نوحہ
    خود اپنے باطن کے خشک صحرا میں
    اجلے تاروں کی تابناکی کا
    خواہشوں سے بھری ہواؤں کی کائناتوں کا نوحہ لکھتا ہوں نوحہ خواں ہوں

  • بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    پیدائش:15 مارچ 1894ء
    تیجن
    وفات:03 مارچ 1974ء
    اشک آباد
    شہریت:سلطنت روس
    سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    رکن:اکیڈمی آف سائنس سویت یونین
    زبان:ترکمن زبان
    اعزازات:
    آرڈر آف لینن
    اعزاز اکتوبر انقلاب

    بردی مرادووچ قربابائیف ترکمانستان کے عوامی ادیب، ترکمانی ادب کے بانی، شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی اور ترکمانی ادب کے مسلم الثبوت استاد ہیں۔
    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف 03 مارچ 1894ء میں ترکمانستان میں تیجین کے پاس ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    ان کی زندگی کا راستہ بھی وہی تھا جو ان کی قوم کے لاکھوں ہنرمند سپوتوں کا تھا جنھوں عظیم اکتوبر نے زندگی کی چوٹی پر پہنچایا۔ خانہ جنگی کے برسوں میں وہ ماورائے کیسپین محاذ پر فوجی اور سیاسی کارکن تھے اور اس کے بعد انھوں نے ترکمانیہ میں سوویت اقتدار کی تعمیر کی۔
    بردی قربابائیف نے لینن گراد اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبۂ شرقیات میں تعلیم حاصل کی۔ 1924ء میں بردی قربابائیف پیشہ ور ادیب بن گئے۔ ان کا رزمیہ ناول فیصلہ کن قدم، ناول اور طویل افسانے نیبت داغ، سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان، پھٹ پڑنے والا بند، پانی کی بوند-سونے کا ریزہ، شمالی بعید کی روشنی” وغیرہ عظیم اکتوبر کے اور عوام کی جدوجہد کے فنکارانہ وقائع ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں میں آئیلار کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ نظم حب الوطنی کی جنگ عظیم کے برسوں میں عوام کے لازوال کارناموں کے بارے میں ہے۔ انہیں بجا طور پر جدید ترکمانی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تخلیقات روس کی ساری قوموں اور بہت سے بیرونی مملک کے لوگوں کی دسترس میں ہیں اور وہ انہیں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔[5]آپ نے گوگول، لیرمونتوف، پشکن اور ٹالسٹائی کے تراجم ترکمانی زبان میں کیے۔ 1944ء – 1950ء تک وہ نے ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن کے صدر رہے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول اور افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    فیصلہ کن قدم
    نیبت داغ
    سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان
    پھٹ پڑنے والا بند
    پانی کی بوند-سونے کا ریزہ
    شمالی بعید کی روشنی
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔
    جرات میندوں کا گیت
    آئیلار
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔
    صدر ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن
    (1944ء -1950ء)
    رکن ترکمانی سائنس اکادمی
    نائب سپریم سوویت برائے ترکمانستان
    رکن مرکزی کمیٹی برائے 21، 22 اور
    23 ویں کانگریس برائے کمیونسٹ پارٹی بیلاروس
    رکن کمیٹی برائے اسٹالن انعام
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف کو 1948ء میں سوویت ریاستی اسٹالن انعام 1951ء میں سوویت یونین کا ریاستی انعام، سوویت یونین کا لینن انعام اور سوشلست محنت کے ہیرو کا انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکمانی ادب کے سلسلے میں آپ کی گرانقدر خدمات کے صلہ میں 1970ء میں مختوم قلی انعام بھی دیا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف اشک آباد، ترکمانستان میں 80 سال کی عمر میں 03 مارچ 1974ء کو انتقال کر گئے۔

  • بھارتی گلوکارہ ،پلے بیک سنگر شریا گھوشال

    بھارتی گلوکارہ ،پلے بیک سنگر شریا گھوشال

    شریا گھوشال 12-مارچ-1984 کو ریاست مغربی بنگال، ہندوستان کے شہر مرشد آباد میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ہندوستانی پلے بیک سنگر، ​​گلوکارہ ہیں۔ ہندی، بنگالی، تیلگو، تامل، کنڑ، ملیالم اور مراٹھی فلموں لاتعداد مشہور گیت گا چکی ہیں۔

    شریا گھوسل نے 4 سال کی عمر سے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تربیت شروع کی۔ اس نے اپنی اسکولی تعلیم ممبئی میں انرجی سینٹرل اسکول سے مکمل کی۔ گریجویشن کے لیے، اس نے S.I.E.S. میں داخلہ لیا۔ ممبئی میں کالج۔ وہ گانے پر مبنی رئیلٹی شو سا رے گا ما پا چلڈرن اسپیشل جیت کر شہرت میں آگئی۔

    اس نے بالی ووڈ کی بلاک بسٹر فلم دیوداس سے اپنے پیشہ وارانہ گلوکاری کا آغاز کیا۔ انہوں نے پانچ سپر ہٹ گانے گانے کے علاوہ فلم میں مرکزی کردار پارو کو بھی آواز دی۔ اس نے اس سال پلے بیک سنگنگ کے تمام ایوارڈز جیتےاس کے بعد، اس نے فلموں کے سپر ہٹ گانے جیسے جِسم، گرو، سنگھ از کنگ، اومکارا اور جب وی میٹ سمیت کئی دیگر گانے گائے۔

    ہندی کے علاوہ، اس نے تامل فلم انڈسٹری میں 100 سے زیادہ گانے گائے ہیں اور تمام جنوبی ہندوستانی زبانوں میں گائے ہیں اور ہر علاقائی فلم انڈسٹری میں ایوارڈز بھی جیتے ہیں جس میں وہ گئی ہیں۔ وہ مبینہ طور پر سب سے زیادہ قابل ہندوستانی گلوکاروں میں سے ایک ہیں۔

    فلم فیئر کے علاوہ، اس نے بہترین خاتون گلوکارہ کے زمرے میں چارقومی ایوارڈزجیتے ہیں اس نے پوری دنیا میں مختلف میوزک کنسرٹس میں پرفارم کیا ہے اور بڑے اسٹیج پر پرفارم کرنے کے لیے سب سے زیادہ مطلوب گلوکاروں میں سے ایک ہے۔ اس نے سونو نگم کے ساتھ مل کر "ہاتھ سے ہاتھ ملا” کے عنوان سے ایک گانا ریکارڈ کیا، جسے ایڈز سے متعلق آگاہی مہم کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

    گلوکاری کے علاوہ وہ ہندوستان میں کئی سنگنگ ریئلٹی شوز کو جج کر چکی ہیں۔ انہیں ہندوستانی میڈیا نے ‘کوئین بی’ اور ‘میلوڈی کوئین’ کے نام سے پکارا ہے۔

  • اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    ادا جعفری اردو زبان کی معروف شاعرہ تھیں۔ آپ کی پیدائش 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ اس وقت ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ آپ کی شادی 1947ء میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ ادا جعفری عموماً اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی۔ ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ جو رہی سو بے خبری رہی کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغا امتیاز سے نوازا۔ وہ کراچی میں رہائش تھیں ۔

    ممتاز شاعرہ ادا جعفری اپنے رنگ‘ اپنے اسلوب میں نہ صرف منفرد بلکہ تاریخ ادب میں نسائی لہجے کی غزل کہنے میں انتہائی مقبول اور معتبر قرار پائیں۔ ہمیں یاد ہے کہ وہ اپنے شوہر نور الحسن جعفری جو سابق بیوروکریٹ تھے اور بعد میں انجمن ترقی اُردو پاکستان کے صدر بھی رہے‘ ان سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔ ادا جعفری اور نور الحسن جعفری کو اکثر ساتھ ہی دیکھا۔ جعفری صاحب کے انتقال کے بعد ادا جعفری نے دنیا سے ناطہ توڑ لیا اور مکمل طور پر گوشہ نشین ہو گئیں۔

    کوئی پندرہ سولہ برس کا عرصہ گزرا ادا جعفری نہ کسی مشاعرے میں شریک ہوئیں اور نہ کسی ادبی محفل میں اور نہ ان کا کلام کسی ادبی رسالے کی زینت بنا۔ ادا جعفری نے اُردو غزل اور نظم میں جو مقبولیت حاصل کی وہ کسی اور شاعرہ کے حصے میں اس طرح نہیں آئی جس طرح ادا جعفری کے حصے میں آئی۔ ہم نے اپنی نوجوانی کے دور میں صہبا لکھنوی مرحوم کی سرپرستی میں ادبی سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں ادبی جریدہ ماہنامہ افکار شائع ہوا کرتا تھا۔ ادا جعفری اس ادبی جریدے میں تازہ ترین تخلیقات کے ساتھ شائع ہوا کرتی تھیں۔ جب بھی ادا جعفری کوئی نئی غزل یا نظم لکھتیں تو افکار میں شائع ہوتیں۔ وہ جب کبھی افکار کے دفتر آتیں تو صہبا لکھنوی ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے اور بتاتے کہ ادا بہن ادبی جرائد کو آج کل کتنے مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔

    وہ اس سلسلے میں اشتاری معاونت بھی کرتیں اور صہبا لکھنوی کا حوصلہ بڑھاتیں۔ نور الحسن جعفری کے انتقال کے بعد ادا جعفری کی جو نظمیں شائع ہوئیں وہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں ان نظموں اور غزلوں میں ایک تنہائی کا احساس اور اپنے شریک سفر سے بچھڑ جانے کا انداز اشعار میں جس ڈھنگ سے آتا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ادا جعفری نے دو چار برس یہ سلسلہ جاری رکھا اور پھر انہوں نے چھپنے سے گریز کیا۔ ہمیں یاد ہے کہ ادا جعفری کی صدارت میں ہم نے اپنی نوجوانی میں کئی مشاعرے پڑھے۔ وہ مشاعرے کی شاعرہ نہیں تھیں لیکن انہیں مشاعروں میں پوری توجہ کے ساتھ سنا جاتاتھا۔ وہ اپنے اشعار پر مشاعرے لوٹ لیا کرتی تھیں۔ 1987ء میں پی ٹی وی کا ایک یادگار مشاعرہ تھا جس میں ہم نے بحیثیت شاعر پہلی مرتبہ پی ٹی وی مشاعرہ میں شرکت کی۔ اس مشاعرے کی صدارت محترمہ ادا جعفری کر رہی تھیں جبکہ نظامت کے فرائض حمایت علی شاعر نے انجام دئیے تھے۔

    وہ مشاعرہ اس قدر اہم تھا جس میں مقبول شعراء شریک ہوئے۔ پروین شاکر‘ جمیل الدین عالی بھی محفل میں شریک تھے۔ ادا جعفری نے اس مشاعرے میں کئی خوبصورت غزلیں سنائیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ادا جعفری نے اس وقت پروین شاکر کو بھی ان کی غزل پر خاصی داد دی تھی۔ اور ہم پر اپنا دست شفقت رکھا تھا۔ ادا جعفری شاعرہ تو بہت بڑی تھیں لیکن انسان بھی بہت بڑی تھیں۔ جب بھی اپنے چھوٹوں سے شعر سنتیں‘ اچھے اشعار پر ان کی حوصلہ افزائی کرتیں۔ ان جیسی قد آور شاعرہ کے سامنے ہم جیسے نوجوانوں کی کیا حیثیت تھی۔ لیکن ان کا مشفقانہ طرز عمل ہمارے لئے باعث تقویت رہا۔

    ایک نوجوان شاعر نے انہیں اپنے ولیمے کا کارڈ دیا تو کچھ ہی دیر کے بعد جس محفل میں انہیں کارڈ دیا گیا تھا انہوں نے بڑی اپنائیت سے کہاکہ ہم ولیمے کے روز بہت مصروف ہیں اگر آپ ہمیں اپنی شادی میں مدعو کر لیں تو آپ کا کیا خیال ہے۔ ادا جعفری کی اس بات پر نوجوان شاعر نے کہاکہ یہ تو میرے لئے‘ اہل خانہ کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ آپ شادی کی تقریب میں شریک ہوں۔ اور پھر ادا جعفری شادی کی تقریب میں شریک ہوئیں اور خاصی دیر شریک رہنے کے بعد دعائیں دیتی ہوئی رخصت ہوئیں۔

    ادا جعفری کی غزل میں ایک ایسا لہجہ چھپا ہوا تھا جس کی ہمارے عہد کی شاعرات نے نہ صرف تقلید کی بلکہ نسائی حسیت بھی ان کے شعروں میں نمایاں ہونے لگی۔ ادا جعفری کی غزل ہمارے عہد کی ایسی غزل ہے جس میں عورت کا بھرپور اظہار اور احساس کے ساتھ خیال کی سطح بلند ہوتی ہے اور اس طرح دل کو چھوتی ہے کہ پڑھنے والے اس خیال کو اپنے قریب تر سمجھنے لگتا ہے۔ غزل میں جو رچائو اور چاشنی ہے وہ ادا جعفری کی غزل کا خاصہ ہے۔ ادا جعفری کی وہ غزل جو بہت زیادہ مقبول ہوئی:

    ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے

    یہ غزل استاد امانت علی کی آواز میں گائے جانے سے تو مقبول ہوئی لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ استاد امانت علی کی گائیکی میں ادا جعفری کی خوبصورت غزل ان کے ریکارڈ میں شامل ہو گئی۔

    ادا جعفری کی نثر اس قدر منفرد نثر ہے ان کی سوانح حیات ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کس سطح کی نثر نگار تھیں۔ خود نوشت سوانح حیات میں ادا جعفری نے واقعات کے تانے بانے جس انداز سے جوڑے ہیں اور وہ واقعات جو ان کی ابتدائی زندگی میں آئے اور ان کی شاعرہ بننے میں کیا محرکات تھے وہ واقعات حیران کن بھی ہیں اور ادا جعفری کے جینئس ہونے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اُردو کی ایک اہم‘ ممتاز اور معرکتہ الآرا شاعرہ قرار پائیں۔ وہ اپنے شوہر نور الحسن جعفری کے انجمن ترقی اُردو سے وابستہ ہونے کے باعث خود بھی انجمن سے جڑی رہیں۔ اُردو کے کلاسک شعراء کا انتخاب ’’غزل نما‘‘ ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ آج ادا جعفری ہم میں نہیں ہیں لیکن ادا جعفری کی شاعری سے کئی نسلیں استفادہ کرتی رہیں گی۔

    #تصانیف

    میں ساز ڈھونڈتی رہی 1950(شاعری)
    شہر درد 1967 (شاعری)1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔
    غزالاں تم توواقف ہو 1974 (شاعری)
    ساز سخن بہانہ ہے 1982 (شاعری) ہائیکو
    حرف شناسائی (شاعری)
    موسم موسم (کلیات2002ء)
    جو رہی سو بے خبری رہی 1995 ( خود نوشت)

    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
    راہ میں سنگ وفا تھا شاید

    اس قدر تیز ہوا کے جھونکے
    شاخ پر پھول کھلا تھا شاید

    جس کی باتوں کے فسانے لکھے
    اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید

    لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے
    وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

    تجھ کو بھولے تو دعا تک بھولے
    اور وہی وقت دعا تھا شاید

    خون دل میں تو ڈبویا تھا قلم
    اور پھر کچھ نہ لکھا تھا شاید

    دل کا جو رنگ ہے یہ رنگ اداؔ
    پہلے آنکھوں میں رچا تھا شاید
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آخری ٹیس آزمانے کو
    جی تو چاہا تھا مسکرانے کو

    یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں
    اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو

    سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو
    لوگ ہنستے رہے دکھانے کو

    زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے
    اک دیا رہ گیا جلانے کو

    جلنے والے تو جل بجھے آخر
    کون دیتا خبر زمانے کو

    کتنے مجبور ہو گئے ہوں گے
    ان کہی بات منہ پہ لانے کو

    کھل کے ہنسنا تو سب کو آتا ہے
    لوگ ترسے ہیں اک بہانے کو

    ریزہ ریزہ بکھر گیا انساں
    دل کی ویرانیاں جتانے کو

    حسرتوں کی پناہ گاہوں میں
    کیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو

    ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی
    پھول بالوں میں اک سجانے کو

    آس کی بات ہو کہ سانس اداؔ
    یہ کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

    حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے
    خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے

    لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں
    یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے

    تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا
    مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے

    کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
    جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے

    تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
    کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے

    باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
    دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے

  • طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)
    پیدائش : نومبر 1944
    وفات: 11 مارچ 2012
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماضی کی خوب صورت پاکستانی اداکارہ اور مصنفہ طاہرہ واسطی نومبر 1944 میں خوشاب /سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم خوشاب اور سرگودھا میں حاصل کی جس کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوا۔ طاہرہ واسطی نے 1968 میں بطور اداکارہ اپنے فنی کیریئر کا آغاز سعادت حسن منٹو کے ایک ناول پر بنانے گئے ڈرامہ ” جیب کترا ” سے کیا لیکن پی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ” آخری چٹان ” میں ملکہ ازابیل کے کردار میں انہیں لازوال شہرت ملی جس سے وہ پاکستان کی صف اول کی اداکارائوں کی فہرست میں شامل ہو گئیں ۔ 1980 میں انہوں نے معروف اداکار اور انگریزی کے نیوز کاسٹر رضوان واسطی سے شادی کی جس سے انہیں دو بچے پیدا ہوئے۔

    ان کے دونوں بچوں بیٹا عدنان واسطی اور بیٹی لیلیٰ واسطی اور ان کی بھانجی ماریہ واسطی نے بھی فن اداکاری کو اپنا لیا ۔ طاہرہ واسطی نے بطور مصنفہ کئی ڈرامے تحریر کیے جن میں ان کا لکھا ہوا مشہور ڈرامہ ” کالی دیمک ” بھی شامل ہے جو کہ انہوں نے ایڈز کے موضوع پر لکھا تھا ۔ 1980 سے 1990 تک طاہرہ واسطی پاکستان کی سب سے زیادہ مشہور و مقبول اور مصروف اداکارہ رہیں ۔ وہ 1990 میں لاہور سے کراچی منتقل ہو گئیں ۔ طاہرہ واسطی کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں ، کشکول، جانگلوس، آخری چٹان ، جیب کترا، اس کی بیوی، ٹیپو سلطان ، دل دریا دہلیز وغیرہ ہیں ۔ وہ فالج کا شکار ہو کر مختصر علالت کے بعد 11 مارچ 2012 میں کراچی میں انتقال کر گئیں ۔