Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں

    ہستی مل ہستی

    تاریخ ولادت:11 مارچ 1946ء
    جائے ولادت:ضلع راجسمند، راجستھان

    ہستی مل ہستی ہندی غزل میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ وہ 11 مارچ 1946 کو راجستھان کے ضلع راجسمند میں پیدا ہوئے۔ 5 دہائیوں سے زائد عرصے سے ادبی خدمات میں مصروف ہیں۔ ان کی غزلوں کو جگجیت سنگھ، پنکج ادھاس، منوہر ادھاس وغیرہ جیسے مشہور غزل گائیکوں نے گایا ہے۔ جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی یہ غزل ‘”پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے“ بہت مشہور ہوئی۔ کس سے کیا کہیں، کچھ اور طرح سے بھی، پیار کا پہلا خط وغیرہ ان کے اہم مجموعے ہیں۔ انھیں مختلف ادبی اداروں نے ایوارڈ سے نوازا جن میں مہاراشٹر ہندی ساہتیہ اکادمی سرفہرست ہے۔ یہ گزشتہ 15 سال سے زائد عرصے سے ”یوگن کاویہ“ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ نکالتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
    نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے
    جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا
    لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے
    گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری
    لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے
    ہم نے علاج زخم دل تو ڈھونڈ لیا لیکن
    گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ بھی چپ چاپ ہے اس بار یہ قصہ کیا ہے
    تم بھی خاموش ہو سرکار یہ قصہ کیا ہے
    صرف نفرت ہی تھی میرے لیے جن کے دل میں
    ہو گئے وہ بھی طرف دار یہ قصہ کیا ہے
    سامنے کوئی بھنور ہے نہ تلاطم پھر بھی
    چھوٹتی جائے ہے پتوار یہ قصہ کیا ہے
    بیٹھتے جب ہیں کھلونے وہ بنانے کے لیے
    ان سے بن جاتے ہیں ہتھیار یہ قصہ کیا ہے
    وہ جو قصے میں تھا شامل وہی کہتا ہے مجھے
    مجھ کو معلوم نہیں یار یہ قصہ کیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں
    ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں
    ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں
    ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں
    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
    کہیں خلوص کہیں دوستی کہیں پہ وفا
    بڑے قرینے سے گھر کو سجا کے رکھتے ہیں
    انا پسند ہیں ہستیؔ جی سچ سہی لیکن
    نظر کو اپنی ہمیشہ جھکا کے رکھتے ہیں

  • یوم وفات، ممتاز شیریں

    یوم وفات، ممتاز شیریں

    یوم وفات ممتاز شیریں

    تاریخ ولادت:12 ستمبر 1924ء
    تاریخ : وفات:11 مارچ 1973ء

    ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کوہندو پور، آندھرا پردیش ، ہندستان میں پیدا ہوئیں۔ ممتاز شیریں کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں۔ ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ (13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941ء میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔1942ء میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944ء میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے “نیا دور” کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے۔ وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا۔ ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے نیا دور کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952ء میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ ادبی مجلہ نیادور ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا۔ ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی فل ) کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا۔ اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔

    ممتاز شیریں نے 1942ء میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ان کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944ء میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی ملی ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کو جس مو ثر انداز میں پیش نظر رکھا ہے وہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ افسانہ کیا ہے عبرت کا ایک تازیانہ ہے ۔ایک لڑکی بچپن میں اپنی ہی جنس کی ایک دوسری عورت سے پیمان وفا باندھ لیتی ہے۔ جب وہ بھر پور شباب کی منزل کو پہنچتی ہے تو اس کے مزاج اور جذبات میں جو مد و جزر پیدا ہوتا ہے وہ اسے مخالف جنس کی جانب کشش پر مجبور کر دیتا ہے۔ جذبات کی یہ کروٹ اور محبت کی یہ انگڑائی نفسیاتی اعتبار سے گہری معنویت کی حامل ہے ۔بچپن کی نا پختہ باتیں جوانی میں جس طرح بدل جاتی ہیں، ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اس ا فسانے کا اہم موضوع ہے۔ مشہور افسانہ انگڑائی ممتاز شیریں کے پہلے افسانوی مجموعے اپنی نگریا میں شامل ہے ۔وقت کے ساتھ خیالات میں جو تغیر و تبدل ہوتا ہے وہ قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ بن جاتا ہے ۔یہ تجربہ جہاں جذباتی اور نفسیاتی اضطراب کا مظہر ہے وہاں اس کی تہہ میں روحانی مسرت کے منابع کا سراغ بھی ملتاہے ۔ وہ ایک مستعد اور فعال تخلیق کار تھیں ۔ان کے اسلوب کوعلمی و ادبی حلقوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
    اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں ۔ظلمت نیم روز ہو یا منٹو نوری نہ ناری ہر جگہ اسلوبیاتی تنوع کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اور محمود ہاشمی کے اسلوب کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ۔قدرت اللہ شہاب کی تصنیف “یا خدا” اور محمود ہاشمی کی تصنیف “کشمیر اداس ہے” کا پیرایۂ آغاز جس خلوص کے ساتھ ممتاز شیریں نے لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کے ارفع معیار کی دلیل ہے ۔وطن اور اہل وطن کے ساتھ قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت ان کے قلب ،جسم اور روح سے عبارت تھی ابتدا میں اگرچہ وہ کرشن چندر کے فن افسانہ نگاری کی مداح رہیں مگر جب کرشن چندر نے پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے موضوع پر افسانوں میں کانگریسی سوچ کی ترجمانی کی تو ممتاز شیریں نے اس انداز فکر پر نہ صرف گرفت کی بلکہ اسے سخت نا پسند کرتے ہوئے کرشن چندر کے بارے میں اپنے خیالات سے رجوع کر لیااور تقسیم ہند کے واقعات اور ان کے اثرات کے بارے میں کرشن چندر کی رائے سے اختلاف کیا۔ممتاز شیریں نے اردو ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی پر جنس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ممتاز شیریں کا تنقیدی مسلک کئی اعتبار سے محمد حسن عسکری کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ سب کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے لبریز ان کا سلوک ان کی شخصیت کاامتیاز ی وصف تھا ۔ان کے اسلوب کی بے ساختگی اور بے تکلفی اپنی مثال آپ ہے۔ زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس اور اسلوب کی ندرت کے اعجاز سے انھوں نے ادب ،فن اور زندگی کو نئے آفاق سے آشنا کیا ۔ان کے ہاں فن کار کی انا، سلیقہ اور علم و ادب کے ساتھ قلبی لگاؤ، وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ وابستگی کی جو کیفیت ہے وہ انھیں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے ۔ادب کو انسانیت کے وقاراور سر بلندی کے لیے استعمال کرنے کی وہ زبردست حامی تھیں ۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ ءاظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔
    ممتاز شیریں کو انگریزی ، اردو ،عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی ۔عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا۔ زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔ اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں۔ ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں اور حیات و کائنات کے ایسے متعدد تجربات جن سے عام قاری بالعموم نا آشنا رہتا ہے ممتاز شیریں کی پر تاثیر تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ تو گویا پہلے ہی سے اس کے نہاں خانہ دل میں جا گزیں تھا ۔اس طرح فکر و خیال کی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو تا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل میں اک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے ۔ ترجمے کے ذریعے وہ دو تہذیبوں کو قریب تر لانا چاہتی تھیں۔ تراجم کے ذریعے انھوں نے اردو زبان کو نئے جذبوں، نئے امکانات، نئے مزاج اور نئے تخلیقی محرکات سے روشناس کرانے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ان کے تراجم کی ایک اہم اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد قاری ان کے تخلیق کار کی روح سے ہم کلام ہو جاتا ہے مترجم کی حیثیت سے وہ پس منظر میں رہتے ہوئے قاری کو ترجمے کی حقیقی روح سے متعارف کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتیں ۔ان کے تراجم سے اردو کے افسانوی ادب کی ثروت میں اضافہ ہوا اور فکر و خیال کو حسن و دلکشی اور لطافت کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی ۔ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کردیا ۔ زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔

    1954ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے ۔ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ادب کو وہ زندگی کی تنقید اور درپیش صورت حال کی اصلاح کے لیے بہت اہم سمجھتی تھیں ۔
    اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے۔ ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں۔ ممتاز شیریں کی درج ذیل تصانیف انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کریں گی ۔
    افسانوی مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔
    اپنی نگریا
    حدیث دیگراں
    میگھ ملہار
    ظلمت نیم روز (فسادات کے افسانے) ترتیب: ڈاکٹر آصف فرخی
    تنقید
    ۔۔۔۔۔۔
    معیار
    منٹو، نوری نہ ناری
    مدیر
    ۔۔۔۔۔۔
    نیا دور (ادبی جریدہ)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔۔
    درشہوار (جان اسٹین بیک کا ناول دی پرل کا ترجمہ)
    پاپ کی زندگی ( امریکی افسانوں کا مجموعہ)
    ممتاز شیریں پر کتب
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں، ناقد، کہانی کار ، ابو بکر عباد، مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، 2006ء
    ممتاز شیریں: شخصیت و فن، ڈاکٹر تنظیم الفردوس، اکادمی ادبیات پاکستان
    ملازمت
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت مشیر خدمات پر مامور تھیں ۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں کو 1972ء میں پیٹ کے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔مرض میں اس قدر شدت آگئی کہ 11 مارچ 1973ء کو پولی کلینک اسلام آباد میں وہ انتقال کر گئیں ۔ تانیثیت (Feminism) کی علم بردار حرف صداقت لکھنے والی اس با کمال ،پر عزم ،فطین اور جری تخلیق کار کی الم ناک موت نے اردو ادب کو نا قابل اندمال صدمات سے دوچار کر دیا۔

  • حضرت مولوی قادر بخش گولہ کے  صد سالہ عرس کی تقریبات

    حضرت مولوی قادر بخش گولہ کے صد سالہ عرس کی تقریبات

    حضرت مولوی قادر بخش گولہ کے صد سالہ عرس کی تقریبات

    درگاہ حضرت مولوی قادر بخش گولہ ضلع صحبت پور بلوچستان میں بلوچستان کی مشہور بزرگ ہستی اور صوفی شاعر حضرت مولوی قادر بخش گولہ کے سالانہ عرس کی مناسبت سے صد سالہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں محفل سماع/ محفل موسیقی اور عوامی تفریحی تقاریب کے ساتھ ساتھ محفل مشاعرہ کا انعقاد بھی کیا گیا ۔ صد سالہ عرس کی مناسبت سے "_انجمن دوستان ادب” کے زیر اہتمام اور میلہ کمیٹی کے زیر نگرانی بین الصوبائی محفل مشاعرہ منعقد ہوئی جس کی صدارت قادر بخش خاکی نے کی جبکہ مہمان خصوصی آغا نیاز مگسی اور اعزازی مہمان نصیب الله نصیب تھے۔

    مشاعرہ کا آغاز حسب دستور تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت حافظ توفیق احمد عطش نے حاصل کی جبکہ بہرام خان شیدا نے حضرت مولوی قادر بخش گولہ کا نعتیہ کلام بارگاہ رسالت ﷺ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس کے بعد محسن چشتی کی خوب صورت نظامت میں مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ہوا جن شعراء نے اپنے کلام پیش کیے ان میں قادر بخش خاکی، آغا نیاز مگسی ، نصیب اللہ نصیب ، محمد رفیق طالب، میر حسن میر، ظفر علی رمز ، سرور ساقی ، آصف صمیم، محسن چشتی ، سینگار محسن، نفیس سومرو، گل میر گل پندرانی، محمود خان فدا کھوسہ ، محبوب علی تاج، حسن علی حسن، ابوبکر آزاد ، الله ورایو انجم، علی محمد آسی، حافظ توفیق احمد عطش اور عامر علی آس شامل تھے ۔

    مشاعرہ کے اختتام پر درگاہ مولوی قادر بخش کی میلہ کمیٹی کی جانب سے صد سالہ عرس کی تقریبات کے مہمان خصوصی میر طارق علی خان کھوسہ کے ہاتھوں ضلع صحبت پور کے معروف بزرگ شاعر محمد رفیق طالب کا شعری مجموعہ مشاعرہ میں شریک تمام شعراء کو بطور تحفہ پیش کیا گیا اور اعزازی سند بھی عطا کی گئی ۔ تقریب میں میلہ کمیٹی کے چیئرمین حاجی فضل کریم کھوسہ ،سرپرست بابے محمد علی کھوسہ اور درگاہ حضرت مولوی قادر بخش کے سجادہ نشین فقیر محمد صدیق گولہ نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت
    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت
    آخر میں درگاہ کے سجادہ نشین نے ملک کے امن و سلامتی اور وفات پانے والے شعراء استاد عاشق بلوچ اور پروفیسر منظور وفا کی مغفرت کیلئے خصوصی دعا مانگی۔ حضرت مولوی قادر بخش گولہ رحمت اللہ علیہ کے عرس کی صد سالہ تقریبات کو پر امن اور یقینی بنانے کیلئے سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے جس کیلئے میلہ کمیٹی کی جانب سے ڈی آئی جی نصیر آباد رینج ،ایس ایس پی صحبت پور اور ایس ایچ او صحبت پور کا شکریہ ادا کیا گیا اور ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔

  • نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے

    نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے

    نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے
    یہ جان کر کہ ہر اک گام سر قلم ہوگا

    رشیدہ عیاں
    رشیدہ عیاں کا اصل نام سیدہ رشیدہ بیگم ہے وہ کہنہ مشق، مشہور، پُرگو شاعرہ اور نثر نگار تھیں 04 مارچ 1932ء میں اتر پردیش مراد آباد میں پیدا ہوئیں انھوں نے جوش اور جگر کے ساتھ مشاعرے پڑھے تھے۔ شاعری کا سفر 1951 سے شروع ہوا۔

    کتابیں:حرف حرف آئینہ- کرن کرن اجالا- آئینوں کےچہرے- ابھی پرواز جاری ہے- سوچ سمند-حرف اعتبار- موسموں کے بدلتے رنگ (شعری مجموعے)- روشنی کا سفر(کلیات،دو جلدیں)۔ میری کہانی(منظوم سوانح)- فانوس ہفت رنگ (نعتیں)- سنگم (گیتوں کا مجموعہ)۔ عشق پر زور نہیں- جائزہ(مثنوی)- شمیم کے نام (یادیں)۔

    پاکستان اورامریکہ میں متعدد اعزازات سےنوازی گئیں: میرتقی میرؔ ایوارڈ برائے اردو غزل1988 نیشنل ایسوسی ایشن آف پاکستانی امریکن، اعزاز برائے خدمت اردو زبان و ادب1991-کمیونٹی سروس اچیومینٹ ایوارڈ پاکستانی ٹیلی ویژن نیٹ ورک نیویارک 2000- خیبر سوسائیٹی آف یو ایس اے، نیو یارک 2002 اور کئی دیگراعزازات۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مرے قلم کا اگر سر کبھی قلم ہوگا
    نیا فسانۂ درد و الم رقم ہوگا
    یہ مانتی ہوں مٹا دے گا میرا دور مجھے
    نئے زمانے کا اس خاک سے جنم ہوگا
    میں اپنے آپ کی پہچان بھول بیٹھی ہوں
    اب اس سے اور بڑا کیا کوئی ستم ہوگا
    نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے
    یہ جان کر کہ ہر اک گام سر قلم ہوگا
    چلو اٹھاتے ہیں ایوان وقت کا ملبہ
    اسی میں دفن مری ذات کا صنم ہوگا
    فلک نے موند لیں آنکھیں زمیں نے روکی سانس
    عیاںؔ کا آج نئی راہ پر قدم ہوگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں
    ہماری فکر کے محور بدلتے رہتے ہیں
    حریم جاں کو منور کریں گے کیا وہ چراغ
    کہ جن کے طاق برابر بدلتے رہتے ہیں
    نہ حوصلہ تھا جنہیں قسمتیں بدلنے کا
    وہ کم سواد فقط گھر بدلتے رہتے ہیں
    طرح طرح کے ملے زخم دل تو حیرت کیا
    کہ چارہ ساز بھی نشتر بدلتے رہتے ہیں
    عجیب شخص مری زندگی میں آیا ہے
    کہ جس کے پیار کے محور بدلتے رہتے ہیں
    کبھی بقا کا جزیرہ کبھی فنا ساحل
    سفینہ ایک ہے لنگر بدلتے رہتے ہیں
    گریں درخت سے پتے تو کیوں خزاں کہئے
    لباس ہی تو ہیں اکثر بدلتے رہتے ہیں
    ہمارے دور میں ایسے پرند بھی ہیں عیاںؔ
    کہ رت کے ساتھ ہی وہ پر بدلتے رہتے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    اسی میں کھو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    میں کشت زیست میں فصلوں کی صورت
    کچھ آنسو بو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    گزاری ہیں ہزاروں دکھ کی راتیں
    بہادر ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    ستم سہہ کر رہی خاموش صدیوں
    وہ سمجھا سو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    میں ہو کر بے خطا مجرم ہی ٹھہری
    تو باغی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    جفا خو سے وفائیں کرتے کرتے
    دوانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    عیاںؔ پتھر کے سینے میں ٹھہر کر
    میں پانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

  • اردوکے معروف شاعر عزم بہزاد کا یوم وفات

    اردوکے معروف شاعر عزم بہزاد کا یوم وفات

    سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیں
    چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا

    عزم بہزاد

    پیدائش:31دسمبر 1958ء
    کراچی، پاکستان
    وفات: 4مارچ 2011ء
    کراچی، پاکستان
    رشتہ دار :بہزاد لکھنوی (دادا)

    اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کا اصل نام مختار احمد تھا اور وہ 31 دسمبر 1958ءکو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور شاعر بہزاد لکھنوی کے پوتے تھے۔ ان کے والد افسر بہزاد بھی کراچی کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ عزم بہزاد کو شاعری ورثے میں ملی ہے۔ ان کی شاعری کا آغاز ۱۹۷۲ء میں ہوا۔ ڈاکٹر بیتاب نظیری اور نازش حیدری سے مشورۂ سخن کیا۔ عزم بہزاد نے ہندستان کے مختلف شہروں میں اور خلیجی ریاستوں کے مشاعروں میں شرکت کی ہے۔ وہ آج کل کسی اشتہاری ایجنسی میں بطور اردو کاپی رائٹر ملاز م ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے اسکرپٹ بھی لکھتے ہیں۔ عزم بہزاد کی شاعری کا مجموعہ” تعبیر سے پہلے“کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ عزم بہزاد 04 مارچ 2011ءکو اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کراچی میں وفات پاگئے۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔

    کتنے موسم سر گرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
    میں نے شاید دیر لگادی خود سے باہر آنے میں

    سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیں
    چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا

    روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا
    لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

    دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے
    کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم

    آمادگی کو وصل سے مشروط مت سمجھ
    یہ دیکھ اس سوال پہ سنجیدہ کون ہے

    عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیں
    عجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے

    اے خواب پذیرائی تو کیوں مری آنکھوں میں
    اندیشۂ دنیا کی تعبیر اٹھا لایا

    اٹھو عزمؔ اس آتش شوق کو سرد ہونے سے روکو
    اگر رک نہ پائے تو کوشش یہ کرنا دھواں کھو نہ جائے

    سوال کرنے کے حوصلے سے جواب دینے کے فیصلے تک
    جو وقفۂ صبر آ گیا تھا اسی کی لذت میں آ بسا ہوں

    کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے
    قرب کو جب بھی لکھا جذب رقابت لکھا

  • ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے

    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے

    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے
    اور غلط دیتا ہے پتا مجھ کو

    شبنم آپی

    اصل نام : شبنم سید

    تخلص:شبنم آپی
    ولدیت: سیّد معین الدین
    آبائی وطن : عثمان آباد
    جائے ولادت: عثمان آباد
    تاریخ ولادت:04 مارچ 1973ء
    تعلیم: ایم۔اے ۔ڈی۔ ایڈ
    پیشہ: معلمہ
    تلمیذ:منظر خیامی، کوکن، رائے گڈھ
    تصنیفات:افکار شبنم ۔زیر طباعت
    آغازِ تحریر: باز دہم
    پتا: خواجہ نگر گلّی نمبر ۳، اقصی چوک
    عثمان آباد مہاراشٹر انڈیا

    پذیرائی:
    ایوارڈ:Yoga, Pune-2005

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تو نے جب ہاتھ سر پہ رکھا تھا
    سرد موسم بھی آگ جیسا تھا
    کتنی ویرانیاں تھیں اس گھر میں
    جب تو پردیس جاکے رہتا تھا
    وہ نہ آیا یہ اس کی مرضی تھی
    مجھ کو بس انتظار کرنا تھا
    باغ میں جب وہ ساتھ چلتے تھے
    خار بھی پھول جیسا لگتا تھا
    ایسے میں زندگی کا حاصل کیا
    میں بھی تنہا تھی وہ بھی تنہا تھا
    بے سبب کب اداس تھی شبنم
    اس کی یادوں نے دل کو گھیرا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    اس نے کیا کیا نہ غم دیا مجھ کو
    اور پھر چھوڑ کر گیا مجھ کو
    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے
    اور غلط دیتا ہے پتا مجھ کو
    آج بھی اس کے گھر کی رونق ہوں
    جس نے مجبور کر رکھا مجھ کو
    میں اسے بھی دعائیں دیتی ہوں
    جو بھی دیتا ہے بد دعا مجھ کو
    خود وفــــــادار بھی نہیــں لیـــکن
    او ر کہــتا ہے بے وفــــا مجھ ـکو
    درد و غم کے سوا بھلا شبنم
    پیار میں اور کیا ملا مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    حضور دور نہ جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    میں گر گئی تو اٹھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    ہنسی کے کچھ تو اجالے مکان میں ہوں گے
    خود ہنس کے مجھ کو ہنساؤ، بڑا اندھیرا ہے
    میں اپنے حسن کی تنویر کو بڑھاؤں گی
    چراغ دل کے جلاؤ ، بڑا اندھیرا ہے
    خبر ہے مجھ کو سویرا بھی ہونے والا ہے
    ابھی نہ روٹھ کے جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    یہ چاند دور سے کتنا حسین لگتا ہے
    اسے قریب بھی لاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    کہ ٹوٹ جائے گی شبنم تمھارے جانے سے
    ہنساؤ یا کہ رلاؤ، بڑا اندھیرا ہے

  • نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروزرضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروزرضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروز رضوی

    وہ چاک جن کو رفو کر رہی ہوں سالوں سے
    میں ایک سیتی ہوں تو دوسرا ادھڑتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    3 مارچ 1969

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر اور ریڈیو کمپیئر افروز رضوی صاحبہ کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف . آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، عالمہ، کمپیئر ، انائونسر اور ڈرامہ نویس سیدہ افروز صاحبہ 3 مارچ 1969 کو ہندوستان کے شہر امروہہ کے ایک معروف علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید انور حسن رضوی اور والدہ صاحبہ کا نام سیدہ ذکیہ رضوی ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کے چار بہن بھائی ہیں جن میں 3 بہن اورایک بھائی شامل ہیں ۔ وہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں کہ ان کے والدین ہندوستان سے ہجرت کر کے حیدر آباد پاکستان منتقل ہو گئےاس لیے ان کی تعلیمی اسناد میں ان کی جائے پیدائش حیدرآباد کندہ ہے۔ افروز صاحبہ کے والد سید انور حسن رضوی صاحب کی 1992 میں حیدر آباد میں وفات ہوئی ہے۔ ۔ افروز صاحبہ کو بچپن سے ہی لکھنے اور شاعری کا شوق تھا انہوں نے ساتویں جماعت میں "_جگنو” کے عنوان سے نظم لکھی تھی جس کو ان کی کلاس ٹیچر نے بہت سراہا تھا اور ریڈیو اسٹیشن لے جا کر ان کو بچوں کے ایک پروگرام میں شامل کروایا تھا۔ افروز صاحبہ نے کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے ادارہ ” قرآن انسٹیٹیوٹ” سے قرآن کریم کی تلاوت، تفسیر، ترجمہ اور تجوید کی تعلیم مکمل کر کے اسناد حاصل کیں ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی شادی ایک معزز خاندان کے فرد عبدالباسط صاحب سے ہوئی جو کہ اس وقت بینک میں اعلی آفیسر ہیں اور وہ شعر و ادب کے حوالےسے اپنی اہلیہ محترمہ کی مکمل سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاءاللہ یہ3 بچوں دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے. خوش قسمت والدین ہیں ان کے تینوں بچے اعلی تعلیم یافتہ ماشاءاللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی بیٹی کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ افروز صاحبہ ریڈیو پاکستان سے باضابطہ طور پر وابستہ ہو گئیں ۔ وہ ریڈیو پاکستان کی ایک مستند آواز، کمپیئر، انائونسر اور ڈرامہ نویس ہیں جن کے اب تک بے شمار ڈرامے اور پروگرام نشر ہو چکے ہیں اوراب بھی نشر ہو رہے ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کا مطالعہ بہت وسیع ہے انہوں نے تمام استاد شعراء کو پڑھ رکھا ہے جبکہ شاعری میں 6 کتابوں کے مصنف اور ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے سابق سینیئر پروڈیوسر محمود صدیقی صاحب ان کے استاد رہے ہیں ۔ افروزصاحبہ کے اب تک 2 شعری مجموعے "سخن افروز ” اور ” زمن افروز ” شائع ہو چکے ہیں جبکہ ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل ایک کتاب” ایمان افروز” زیر طباعت ہے۔ افروزصاحبہ کئی ادبی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جبکہ وہ متعدد علمی اور ادبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں ۔ جن میں وہ ” شاعرات پاکستان ” کی بانی چیئر پرسن ، ڈائریکٹر پروگرام شریف اکیڈمی جرمنی اور سہ ماہی ادبی جریدہ لوح ادب کی مشیر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ افروز صاحبہ آجکل کراچی میں مقیم ہیں مگر ان کا امریکہ کینیڈا اور دبئی وغیرہ آنا جنا رہتا ہے ۔

    سیدہ افروز رضوی صاحبہ کی خوب صورت شاعری سے 2 منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے
    جو شور مری ذات کے اندر سے اٹھا ہے

    دریائے محبت کے کنارے کبھی کوئی
    ڈوبا ہے جو اک بار مقدر سے اٹھا ہے

    وہ آئے تو اس خواب کو تعبیر ملے گی
    جو خواب جزیرہ مرے ساگر سے اٹھا ہے

    میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں
    جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

    رقصاں ہے مری آنکھ میں احساس کی مانند
    منظر جو تری آنکھ کے منظر سے اٹھا ہے

    پھولوں کو ترے رنگ نے بخشی ہے کہانی
    خوشبو کا فسانہ ترے پیکر سے اٹھا ہے

    اس شہر محبت میں وہ رکتا ہی نہیں ہے
    جو شور ترے پیار کے محور سے اٹھا ہے

    یہ اس کا رویہ یہ انا یہ لب و لہجہ
    ان سب کے سبب امن و سکوں گھر سے اٹھا ہے

    مہر و مہ و انجم میں اسے ڈھونڈنے والو
    یہ سارا جہاں خاک کے پیکر سے اٹھا ہے

    رہتا ہے مری آنکھ میں کاجل کی طرح سے
    جو دور تمناؤں کے تیور سے اٹھا ہے

    میں در سے ترے اٹھ کے اسی سوچ میں گم ہوں
    کیا کوئی خوشی سے بھی ترے در سے اٹھا ہے

    جو اس کی نظر سے کبھی افروزؔ اٹھا تھا
    اس بار وہ محشر مرے اندر سے اٹھا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ مہکتا ہے جو خوشبو کے حوالوں کی طرح
    اس کو رکھا ہے کتابوں میں گلابوں کی طرح

    وہ جو خوابوں کے جزیرے میں نظر آتا ہے
    میرے ادراک میں رہتا ہے کناروں کی طرح

    بن کے احساس جو دھڑکن سے لپٹ جاتا ہے
    ساتھ رہتا ہے محبت میں خیالوں کی طرح

    دیکھنا خواب کی صورت میں نظر آئے گا
    وہ جو پلکوں پہ چمکتا ہے ستاروں کی طرح

    میں نے خوشبو کے لبادے میں جسے چوما تھا
    میری ہر سانس میں شامل ہے وہ پھولوں کی طرح

    وہ مرے شعر کا اک مصرعۂ تر ہو جیسے
    گنگناتی ہوں اسے آج میں گیتوں کی طرح

    اتنی اچھی تھی ملاقات کہ پہلے دن ہی
    دل میں افروزؔ بسایا اسے سوچوں کی طرح

  • اردو کے عظیم شاعر،فراق گورکھپوری

    اردو کے عظیم شاعر،فراق گورکھپوری

    مدتیں قید میں گزریں مگر اب تک صیاد
    ہم اسیران قفس تازہ گرفتار سے ہیں

    فراق گورکھپوری

    اردو کے ایک عظیم شاعر اور نقاد فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھو پتی سہائے ہے ۔وہ 28 اگست 1896ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گورکھ پرشاد زمیندار تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ان کا آبائی وطن گورکھپور کی تحصیل بانس گاؤں تھا اور ان کا گھرانہ پانچ گاؤں کے کائستھ کے نام سے مشہور تھا۔۔فراق کے والد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔فراق نے اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی اس کے بعد میٹرک کا امتحان گورنمنٹ جوبلی کالج گورکھپور سےسکنڈ ڈویژن میں پاس کیا ۔اسی کے بعد 18 سال کی عمر میں ان کی شادی کشوری دیوی سے کر دی گئی جو فراق کی زندگی میں ایک ناسور ثابت ہوئی۔فراق کو نوجوانی میں ہی شاعری کا شوق پیدا ہو گیا تھا اور 1916 میں جب ان کی عمر 20 سال کی تھی اور وہ بی اے کے طالب علم تھے، پہلی غزل کہی۔پریم چند اس زمانہ میں گورکھپور میں تھے اور فراق کے ساتھ ان کے گھریلو تعلقات تھے۔پریم چند نے ہی فراق کی ابتدائی غزلیں چھپوانے کی کوشش کی اور زمانہ کے ایڈیٹردیا نرائن نگم کو بھیجیں۔فراق نے بی اے سنٹرل کالج الہ آباد سے پاس کیا اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔اسی سال فراق کے والد کا انتقال ہو گیا۔یہ فراق کے لئے اک بڑا سانحہ تھا۔چھوٹے بھائی بہنوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری فراق کے سر آن پڑی۔بے جوڑ دھوکہ کی شادی اور والد کی موت کے بعد گھرییلو ذمہ داریوں کے بوجھ نے فراق کو توڑ کر رکھ دیا وہ بے خوابی کے شکار ہو گئے اورمزید تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ اسی زمانہ میں وہ ملک کی سیاست میں شریک ہوئے۔سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے 1920 میں ان کو گرفتار کیا گیا اور انہوں نے 18 ماہ جیل میں گزارے۔ 1922 میں وہ کانگرس کے انڈر سیکریٹری مقرر کئے گئے۔ وہ ملک کی سیاست میں ایسے وقت پر شامل ہوئے تھے جب سیاست کا مطلب گھر کو آگ لگانا ہوتا تھا نہرو خاندان سے ان کےگہرے مراسم تھے اور اندرا گاندھی کو وہ بیٹی کہہ کر خطاب کرتے تھے۔مگر آزادی کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی خدمات کو بھنانے کی کوشش نہیں کی۔وہ ملک کی محبت میں سیاست میں گئے تھے۔،سیاست ان کا میدان نہیں تھی۔1930 میں انھوں نے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ اور کوئی درخواست یا انٹرویو دئے بغیر الہ آباد یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر ہو گئے۔اس زمانہ میں الہ آباد یونیورسٹی کا انگریزی کا شعبہ سارے ملک میں شہرت رکھتا تھا۔ امر ناتھ جھا اور ایس ایس دیب جیسے مشاہیر اس شعبہ کی زینت تھے۔لیکن فراق نے اپنی شرائط پر زندگی بسر کی۔وہ ایک آزاد طبیعت کے مالک تھے۔مہینوں کلاس میں نہیں جاتے تھے نہ حاضریی لیتے تھے۔اگر کبھی کلاس میں گئے بھی تو نصاب سے الگ ہندی یا اردو شاعری یا کسی دوسرے موضوع پر گفتگو شروع کر دیتے تھے، اسی لئے ان کو ایم اے کی کلاسیں نہیں دی جاتی تھیں۔ورڈسورتھ کے عاشق تھے اور اس پر گھنٹوں بول سکتے تھے۔ فراق نے 1952 میں شبّن لال سکسینہ کے اصرار پر پارلیمنٹ کا چناؤ بھی لڑا اور ضمانت ضبط کرائی۔نجی زندگی میں فراق بے راہ روی کا مجسمہ تھے۔ان کے مزاج میں حد درجہ خود پسندی بھی تھی۔ان کے کچھ شوق ایسے تھے جن کو معاشرہ میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن نہ تو وہ ان کو چھپاتے تھے اور نہ شرمندہ ہوتے تھے۔ان کے عزیز و اقارب بھی، خصوصاً چھوٹے بھائی یدو پتی سہائے،جن کو وہ بہت چاہتے تھے اور بیٹے کی طرح پالا تھا،رفتہ رفتہ ان سے کنارہ کش ہو گئے تھے جس کا فراق کو بہت صدمہ تھا۔ان کے اکلوتے بیٹے نے سترہ اٹھارہ سال کی عمر ممیں خودکشی کر لی تھی۔بیوی کشوری دیوی 1958 میں اپنے بھائی کے پاس چلی گئی تھیں اور ان کے جیتے جی واپس نہیں آئیں۔اس تنہائی میں شراب و شاعری ہی فراق کی مونس و غمگسار تھی۔1958 میں وہ یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے۔ گھر کے باہر فراق معزز،محترم اور عظیم تھے لیکن گھر کے اندر وہ ایک بے بس وجود تھے جس کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔وہ محرومی کا ایک چلتا پھرتا مجسمہ تھے جو اپنے اوپر آسودگی کا لباس اوڑھے تھا۔

    باہر کی دنیا نے ان کی شاعری کے علاوہ ان کی حاضر جوابی،بزلہ سنجی،ذہانت،علم و دانش اور سخن فہمی کو ہی دیکھا۔فراق اپنے اندر کے آدمی کو اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ب۔بطور شاعر زمانہ نے ان کی قدر دانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔1961 میں ان کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔1968 میں انہیں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ دیا گیا۔حکومت ہند نے ان کو پدم بھوشن خطاب سے سرفراز کیا۔1970 میں وہ ساہتیہ اکیڈمی کے فیلو بنائے گئے اور "گل نغمہ” کے لئے ان کو ادب کے سب سے بڑے اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا جو ہندوستان میں ادب کا نوبیل انعام تصور کیا جاتا ہے۔1981 میں ان کو غالب ایوارڈ بھی دیا گیا ۔جوش ملیح آبادی نے فراق کے بارے میں کہا تھا "میں فراق کو قرنوں سے جانتا ہوں اور ان کے اخلاق کا لوہا مانتا ہوں۔مسائل علم و ادب پر جب ان کی زبان کھلتی ہے تو لفظوں کے لاکھوں موتی رولتے ہیں اور اس افراط سے کہ سامعین کو اپنی کم سوادی کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔جو شخص یہ تسلیم نہیں کرتا کہ فراق کی عظیم شخصیت ہندوسامنت کے ماتھے کا ٹیکا،اردو زبان کی آبرو اور شاعری کی مانگ کا سیندور ہے وہ خدا کی قسم کور مادر زاد ہے” 3 مارچ 1982 کو،حرکت قلب بند ہو جانے سے فراق اردو ادب کو داغ فراق دے گئے اور سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسوم ادا کی گئیں۔فراق اس تہذیب کا مکمل نمونہ تھے جسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے وہ شاید اس قبیلہ کے آخری فرد تھے جسے ہم مکمل ہندوستانی کہہ سکتے ہیں۔

    شاعری کے لحاظ سے فراق بیسویں صدی کی منفرد آواز تھے۔جنسیت کو احساس و ادراک اور فکر و فلسفہ کا حصہ بنا کر محبوب کے جسمانی روابط کو غزل کا حصہ بنانے کا سہرا فراق کو جاتا ہے۔جسم کس طرح کائنات بنتا ہے،عشق کس طرح عشق انسانی میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر وہ کس طرح حیات و کائنات سے رشتہ استوار کرتا ہے یہ سب فراق کی فکر اور شاعری سے معلوم ہوتا ہے۔فراق شاعر کے ساتھ ساتھ ایک مفکّر بھی تھے۔راست اور معروضی انداز فکر ان کے مزاج کا حصہ تھا۔فراق کا عشق رومانی اور فلسفیانہ کم،سماجی اور دنیاوی زیادہ ہے۔فراق تلاش عشق میں زندگی کی سمت و رفتار اور بقاء و ارتقاء کی تصویر کھینچتے ہیں۔ فراق کے وصل کا تصور دو جسموں کا نہیں دو ذہنوں کا ملاپ ہے۔وہ کہا کرتے تھ تھے کہ اردو ادب نے ابھی تک عورت کے تصور کو جنم نہیں دیا۔اردو زبان میں شکنتلا،ساوتری اور سیتا نہیں۔جب تک اردو ادب دیویت کو نہیں اپنائے گا اس میں ہندوستان کا عنصر داخل نہیں ہو گا اور اردو ثقافتی حیثیت سے ہندوستان کی ترجمان نہیں ہو سکے گی۔کیونکہ ہندوستان کوئی بینک نہیں جس میں رومانی اور ثقافتی حیثیت سے الگ الگ کھاتے کھولے جا سکیں۔فراق نے اردو زبان کو نئے گمشدہ الفاظ سے روشناس کرایا ان کے الفاظ زیادہ تر روز مرّہ کی بول چال کے،نرم،سبک اور میٹھے ہیں۔فراق کی شاعری کی ایک بڑی خوبی اور خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عالمی تجربات کے ساتھ ساتھ تہذیبی قدروں کی عظمت اور اہمیت کو سمجھا اور انہیں شعری پیکر عطا کیا۔۔۔فراق کے شعر دل پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ دعوت فکر بھی دیتے ہیں اور ان کی یہی صفت فراق کو دوسرے تمام شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔
    3 مارچ 1982ء اردو کے عظیم شاعر فراق گورکھپوری کی وفات ہوئی ۔

    فراق گورکھپوری کے اشعار

    دل غمگیں کی کچھ محویتیں ایسی بھی ہوتی ہیں
    کہ تیری یاد کا آنا بھی ایسے میں کھٹکتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    اٹھی ہے چشم ساقیٔ مے خانہ بزم پر
    یہ وقت وہ نہیں کہ حلال و حرام دیکھ

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    مدتیں قید میں گزریں مگر اب تک صیاد
    ہم اسیران قفس تازہ گرفتار سے ہیں

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    قفس سے چھٹ کے وطن کا سراغ بھی نہ ملا
    وہ رنگ لالہ و گل تھا کہ باغ بھی نہ ملا

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس پرسش کرم پہ تو آنسو نکل پڑے
    کیا تو وہی خلوص سراپا ہے آج بھی

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہیں سچ سچ بتاؤ کون تھا شیریں کے پیکر میں
    کہ مشت خاک کی حسرت میں کوئی کوہکن کیوں ہو

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل وارفتۂ دیدار کی اللہ رے محویت
    تصور میں ترے وہ تیری صورت بھول جاتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترغیب گناہ لحظہ لحظہ
    اب رات جوان ہو گئی ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
    چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تصور میں تجھے ذوق ہم آغوشی نے بھینچا تھا
    بہاریں کٹ گئی ہیں آج تک پہلو مہکتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی ہو سکا تو بتاؤں گا تجھے راز عالم خیر و شر
    کہ میں رہ چکا ہوں شروع سے گہے ایزد و گہے اہرمن
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ فسوں پھونکا کہ وحشی بھی مہذب ہو گئے
    کر گیا کیا سحر مانا عشق بازی گر نہ تھا

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شبنم و گل ہے وہ سر سے تا بہ قدم
    رکے رکے سے کچھ آنسو رکی رکی سی ہنسی

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی دنیا کے کچھ نقش و نگار اشعار ہیں میرے
    جو پیدا ہو رہی ہے حق و باطل کے تصادم سے
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرش مے خانہ پہ جلتے چلے جاتے ہیں چراغ
    دیدنی ہے تری آہستہ روی اے ساقی
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنت صوفیا نثار دہر کی مشت خاک پر
    عاشق ارض پاک کو دعوت لا مکاں نہ دے
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    فراق گورکھپوری کی غزلیں

    بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
    تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

    مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
    نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

    جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
    اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

    نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
    تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

    طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
    ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

    خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
    اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

    حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے
    وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

    ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
    مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں

    تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت
    کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

    اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں
    خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

    جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا
    عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

    تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں
    ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

    ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہے
    تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

    رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہے
    ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

    زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہے
    اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

    فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
    کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں
    ———*****————–
    تم ہو جہاں کے شاید میں بھی وہاں رہا ہوں
    کچھ تم بھی بھولتے ہو کچھ میں بھی بھولتا ہوں

    مٹتا بھی جا رہا ہوں پورا بھی ہو رہا ہوں
    میں کس کی آرزو ہوں میں کس کا مدعا ہوں

    منزل کی یوں تو مجھ کو کوئی خبر نہیں ہے
    دل میں کسی طرف کو کچھ سوچتا چلا ہوں

    لیتی ہیں الٹی سانسیں جب شام غم فضائیں
    اس دم فنا بقا کی میں نبض دیکھتا ہوں

    ہوں وہ شعاع فردا جو آنکھ مل رہی ہے
    وہ سرمگیں افق پر میں تھرتھرا رہا ہوں

    جس سے شجر حجر میں اک روح دوڑ جائے
    وہ ساز سرمدی میں غزلوں میں چھیڑتا ہوں
    ——*****————-
    تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
    سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں

    کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں
    نگاہ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں

    بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں
    کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں

    کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
    ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں

    امیدوں میں بھی ان کی ایک شان بے نیازی ہے
    ہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں

    یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اٹھاتے ہیں ہم اس جانب
    مگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں

    کہیں ہوں تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے
    جدھر کو منہ اٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں

    جہاں کی فطرت بیگانہ میں جو کیف غم بھر دیں
    وہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں

    ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میں
    مگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں

    نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکاری
    نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں

    بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اس نے یہ کہہ کر
    تجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں

    یہ کہہ کر آبلہ پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کو
    جسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں

    یہ ہستی نیستی سب موج خیزی ہے محبت کی
    نہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں

    فراقؔ اس گردش ایام سے کب کام نکلا ہے
    سحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں
    ———****—————–
    جنون کارگر ہے اور میں ہوں
    حیات بے خبر ہے اور میں ہوں

    مٹا کر دل نگاہ اولیں سے
    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    کہاں میں آ گیا اے زور پرواز
    وبال بال و پر ہے اور میں ہوں

    نگاہ اولیں سے ہو کے برباد
    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    مبارک باد ایام اسیری
    غم دیوار و در ہے اور میں ہوں

    تری جمعیتیں ہیں اور تو ہے
    حیات منتشر ہے اور میں ہوں

    کوئی ہو سست پیماں بھی تو یوں ہو
    یہ شام بے سحر ہے اور میں ہوں

    نگاہ بے محابا تیرے صدقے
    کئی ٹکڑے جگر ہے اور میں ہوں

    ٹھکانا ہے کچھ اس عذر ستم کا
    تری نیچی نظر ہے اور میں ہوں

    فراقؔ اک ایک حسرت مٹ رہی ہے
    یہ ماتم رات بھر ہے اور میں ہوں

    چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
    نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں

    زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کل
    وہ رات ہے کوئی ذرہ بھی محو خواب نہیں

    حیات درد ہوئی جا رہی ہے کیا ہوگا
    اب اس نظر کی دعائیں بھی مستجاب نہیں

    زمین اس کی فلک اس کا کائنات اس کی
    کچھ ایسا عشق ترا خانماں خراب نہیں

    ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی
    ابھی حیات کے چہرے پر آب و تاب نہیں

    جہاں کے باب میں تر دامنوں کا قول یہ ہے
    یہ موج مارتا دریا کوئی سراب نہیں

    دکھا تو دیتی ہے بہتر حیات کے سپنے
    خراب ہو کے بھی یہ زندگی خراب نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حوالہ جات
    تاریخ اردو ادب
    تاریخ پاکستان
    ریختہ
    نوائے اردو

  • جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    جب آنکھ سے آنسو چھلک پڑے

    کیسے کیسے لوگ/آغا نیاز مگسی

    غصہ اور جذبات شتر بے مہار اور بے لگام مست گھوڑے اور ہاتھی کی طرح ہوتے ہیں جن پر قابو پانا انسان کیلئے بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے غصے پر تو بہرحال قابو پایا جاتا سکتا ہے خواہ وہ بڑی مشکل سے ہی سہی لیکن میرے خیال میں جذبات پر قابو پانا کسی کے بس یا اختیار میں نہیں ہے ۔ خوشی ، غم ، محبت ، فتح و شکست اور ہجر و وصال کے کچھ ایسے جذبات اور لمحات ہوتے ہیں جب انسان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑتے ہیں یا اشک جاری ہو جاتے ہیں ۔ میرے ساتھ بھی آج ایسا ہی ہوا جب 2 مارچ 2023 کے دن دو پہر کو میں اپنی بچی کو اس کی چھٹی کے وقت نرسنگ کالج سے لانے کیلئے گھر سے جا رہا تھا تو ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کے دفتر ڈیرہ مراد جمالی میں” اللہ ہو” چوک شہید بینظیر بھٹو پریس کلب کے سامنے چند بلوچ نوجوانوں کو بلوچوں کی ثقافت کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچوں کے روایتی لباس میں ملبوس بلوچی گیت گاتے اور بلوچی رقص کرتے ہوئے دیکھا تو بے اختیار میرے قدم رک گئے ۔ میں اپنے ارد گرد کی دنیا سے بیگانہ اور بے نیاز ہو کر بلوچی رقص اور گیت کے منظر اور پس منظر میں کھو گیا اور مجھ پر کچھ ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری گئے یہ میرے دلی جذبات کے عکاس تھے جن پر میں سخت کوشش کے باوجود قابو نہ پا سکا اور میرےدل و دماغ میں یہ خیال آنے لگا کہ ہم بلوچ کیسی خوب صورت ثقافت کے وارث اور امین ہیں اور پھر یہ خیال بھی دل میں آیا کہ دنیا کی تمام اقوام کی ثقافت خوب صورت ہوتی ہیں لیکن یہ قدرتی یا فطری امر ہے کہ ہر قوم یا ہر انسان کو اپنی ثقافت پر ہی فخر ہوتا ہے۔

    قوموں کی ثقافت کے حوالے سے میرے دل میں دو صحافیوں کیلئے بہت بڑا احترام ہے ایک سندھ کے ممتاز صحافی علی قاضی صاحب اور بلوچی کے نامور صحافی اقبال بلوچ صاحب ہیں ۔ علی قاضی نے روزنامہ کاوش ، کے ٹی این نیوز اور کشش ٹی وی کے ذریعے سندھی ثقافت کو اجاگر اور محفوظ کرنے کی غرض سے ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کے روز ” سندھی کلچرل ڈے” منانے کی روایت ڈالی اور اس کے دو تین سال بعد علی قاضی کی تقلید کرتے ہوئے اقبال بلوچ نے بلوچی چینل "وش نیوز” کے ذریعے 2 مارچ کو ” بلوچ کلچرل ڈے” منانے کی روایت قائم ڈالی ۔ علی قاضی کے سندھی قوم پر اور اقبال بلوچ کے بلوچ قوم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی قومی ثقافت کو زندہ اور محفوظ رکھنے کی روایت ڈالی ورنہ ان کی ثقافت برائے نام رہ گئی تھی ۔ کسی بھی قوم کی ثقافت کو زندہ رکھنے اور اجاگر کرنے میں حکمرانوں سے زیادہ دانشوروں ، گلوکاروں ، نوجوانوں جن میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں اور عام افراد کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ۔

  • مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار

    مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار

    مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔ اس کے علاوہ ڈراما نگاری، افسانہ نگاری اور فن اداکاری سے بھی وابستہ رہے۔ مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ بچپن میں قیام پاکستان کو دیکھنے کا موقع ملا ۔
    مستنصر حسین تارڑ کے والد رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مستنصر صاحب نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔

    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر حسین تارڑ 01 مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گزرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل ک۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔

    ادبی و فنّی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ہے۔ متعدد سفر کیے۔ آج کل اخبار جہاں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے بھی وہ ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے بہاؤ، راکھ (ناول)، خس و خاشاک زمانے اور اے غزال شب جیسے شہرہ آفاق ناول تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ آپ نے ٹی وی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی وی نے جب پہلی مرتبہ 1988ء میں صبح کی نشریات صبح بخیر کے نام سے شروع کیں تو مستنصر حسین تارڑ نے ان نشریات کی کئی سال تک میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ ریڈیو پروگرام کی بھی میزبانی کی ۔

    1957ء میں شوقِ آوارگی انھیں ماسکو، روس میں ہونے والے یوتھ فیسٹول لے گئی۔ (اُس سفر کی روداد 1959 میں ہفت روزہ قندیل میں شائع ہوئی۔)۔ اس سفر کی روداد پر ناولٹ ”فاختہ“ لکھی۔ یہ قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز تھا۔

    ٹی وی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان لوٹنے کے بعد جب ان کے اندر کا اداکار جاگا، تو انھوں نے پی ٹی وی کا رخ کیا۔ پہلی بار بہ طور اداکار ”پرانی باتیں“ نامی ڈرامے میں نظر آئے۔ ”آدھی رات کا سورج“ بہ طور مصنف پہلا ڈراما تھا جو 74ءمیں نشر ہوا۔ آنے والے برسوں میں مختلف حیثیتوں سے ٹی وی سے منسلک رہے۔ جہاں کئی یادگار ڈرامے لکھے، وہیں سیکڑوں بار بہ طور اداکار کیمرے کا سامنا کیا۔ پاکستان میں صبح کی نشریات کو اوج بخشنے والے میزبانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بچوں کے چاچا جی کے طور پر معروف ہوئے۔ 2014ء میں ایکسپریس ٹی وی پر ”سفر ہے شرط“ کے نام سے سفر نامہ پروگرام بھی کر رہے ہیں۔ جیو ٹی وی پر شادی کے حوالے سے ایک پروگرام بھی کیا۔

    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ناول اور سفرناموں کے علاوہ مستنصر صاحب نے ڈرامے بھی تحریر کیے جن میں قابل ذکر یہ ہیں :
    شہپر
    ہزاروں راستے
    پرندے
    سورج کے ساتھ ساتھ
    ایک حقیقت ایک افسانہ
    کیلاش
    فریب

    سفر نامے
    ۔۔۔۔۔۔
    1969ء میں وہ یورپی ممالک کی سیاحت پر روانہ ہوئے، واپسی پر ”نکلے تری تلاش میں“ کے نام سے سفرنامہ لکھا۔ یہ 71ءمیں شائع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِس کتاب کو ملنے والی پزیرائی کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اگلا سفر نامہ ”اندلس میں اجنبی“ تھا ۔ 42 برسوں میں 30 سفرنامے شائع ہوئے۔ 12 صرف پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں ہیں۔ پاکستان کی بلند ترین چوٹی ”کے ٹو“ پر ان کا سفرنامہ اس قدر مقبول ہوا کہ دو ہفتے میں پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا۔ اِس علاقے سے اُن کے گہرے تعلق کی بنا پر وہاں کی ایک جھیل کو ”تارڑ جھیل“ کا نام دیا گیا۔ ان کے چند نمایاں سفرناموں کے نام یہ ہیں:

    نکلے تری تلاش میں
    اندلس میں اجنبی
    خانہ بدوش
    نانگا پربت
    نیپال نگری
    سفرشمال کے
    سنولیک
    کالاش
    پتلی پیکنگ کی
    شمشال بے مثال
    سنہری اُلو کا شہر
    کیلاش داستان
    ماسکو کی سفید راتیں
    یاک سرائے
    نیو یارک کے سو رنگ
    ہیلو ہالینڈ
    الاسکا ہائی وے
    لاہور سے یارقند
    امریکا کے سورنگ
    آسٹریلیا آوارگی
    راکاپوشی نگر
    اور سندھ بہتا رہا

    اوائلِ عمر میں سوویت یونین کے سفرنامے ”لنڈن سے ماسکو تک“ سے انھوں نے سفر ناموں کی ابتدا کی۔ اس کے بعد ”نکلے تیری تلاش میں“ سے انہوں نے اردو ادب میں سفرنامہ لکھنے کے لیے ایک ایسا انداز متعارف کروایا جس کی اقتدا میں کئی سفرنامے لکھے گئے۔ انہوں نے سفرنامہ کو دلچسب، پُر مزاح، آسان اور سلیس تحریر سے ادب میں سفرناموں کے قارئین کی ایک کثیر تعداد پیدا کی۔ منظر نگاری کرتے ہوئے وہ الفاظ کی ایسی جادوئی بنت کرتے ہیں کے پڑھنے والا اس مقام و منظر سے بھرپور واقفیت حاصل کرلیتا ہے۔ ”نکلے تیری تلاش میں“ کے بعد انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور اندلس میں اجنبی، خانہ بدوش، کے ٹو کہانی،نانگا پربت، یاک سرائے، رتی گلی،سنو لیک، چترال داستان، ہنزہ داستان، شما ل کے سفرناموں سے ایسے سفرنامے تحریر کیے جن کو پڑھ کر کئی لوگ آوارہ گرد بن کر ان مقاموں کو دیکھنے ان جگہوں تک جا پہنچے۔”غار حرا میں ایک رات اور منہ ول کعبہ شریف” ان کے وہ سفر نامے ہیں جوحجاز مقدس کے بارے میں تحریر کیے گئے ہیں۔”نیو یارک کے سو رنگ،ماسکو کی سفید راتیں،پتلی پیکنگ کی،سنہری الو کا شہر بھی یادگارسفر نامے کہے جا سکتے ہیں ۔

    ناول نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سفرنامے کے میدان میں اپنا سکہ جما کر ناول نگاری کی جانب آ گئے۔ اولین ناول "پیار کا پہلا شہر” ہی بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اب تک اِس کے پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یوں تو ہر ناول مقبول ٹھہرا، البتہ راکھ اور “بہاؤ” کا معاملہ مختلف ہے۔ خصوصاً “بہاؤ” میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے، پڑھنے والوں نے خود کو حیرت کے دریا میں بہتا محسوس کرتا ہے۔ اِس ناول میں تارڑ صاحب نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ ”بہاؤ“ وادی سندھ کے ایک شہر کا احوال ہے جو ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہوجانے کا بیان ہے، جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ناول کی زبان انتہائی منفرد ہے اس میں سندھی، سنسکرت، براہوی اور سرائیکی زبان کے الفاظ جا بجا ملتے ہیں جس سے ناول کا طرزِ تحریر اور اسلوب منفرد ہو جاتا ہے۔ ”بہاؤ“ کی طرزِ تحریرو زبان کی مثال ملنا مشکل ہے، یہ ایک انوکھی تخلیق ہے بقول مصنف یہ ایک(Myth )متھ ہے۔ ”بہاؤ“ میں مستنصر حسین تارڑ ماہر بشریات Anthropoligist نظر آتے ہیں۔

    راکھ کو 1999ء میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا، جس کا بنیادی موضوع سقوط ڈھاکا اور بعد کے برسوں میں کراچی میں جنم لینے والے حالات ہیں۔ ”قلعہ جنگی“ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ اردو کے ساتھ پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا۔ اس سفر میں افسانے بھی لکھے۔ ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے، جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ ہے۔ ’خس و خاشاک زمانے‘ ضخیم ناول ہے جس میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی ہے۔

    ”اے غزال شب“ سوویت یونین کے زوال کے بعد، پھیکے پڑچکے سرخ رنگ کی کہانی ہے جس میں لینن کے مجسمے پگھلا کر صلیبیں بنائی جا رہی ہیں اور کرداروں میں اُکتاہٹ بڑھ رہے ہے۔ اکتاہٹ، جو ان میں واپس اپنے وطن آنے کی خواہش جگاتی ہے، وہاں قیام کرنے کی غرض سے نہیں کہ اب وہاں اُن کا اپنا کوئی نہیں، فقط نامعلوم میں جھانکنے کے لیے۔ اور جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں، تو شوکی جھوٹا سامنے آتا ہے۔

    ایک عجیب و غریب کردار جس کا تخیل گم شدہ چیذوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور قارئیں ناول کے چار کرداروں ہی کے زمرے میں آتے ہیں، اُس کی زبان سے سنتے ہیں۔ راکھ اور خس و خاشاک زمانے کی طرح یہ ناول بھی پاکستان کی مٹی سے جڑا ناول ہے جس کے کردار جاندار لیکن ماضی گزیدہ ہیں۔ خس و خاشاک زمانے بلا شبہ عظیم ناولوں کی فہرست میں شامل کرنے کے قابل ہے لیکن اے غزال شب بھی اگرچہ ضخامت میں قدرے مختصر ہے لیکن اسے بھی ایک ماسٹر پیس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جو قاری تارڑ کے اسلوب سے آشنا ہیں انہیں اس ناول میں ان کا فن اپنے عروج پر نظر آئے گا۔ تارڑ نے ماسکو میں اپنے قیام کے دوران میں جن حالات و واقعات کا مشاہدہ کیا اور ماسکو کی سفید راتیں میں تحریر کیا اس کا عکس اگر چہ جا بجا نظر آتا ہے لیکن اس ناول میں انداز بیاں، گہرائی و گیرائی کا جواب نہیں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب آکے تارڑ کا فن اپنے کمال تک پہنچا ہے۔ اس ناول میں تارڑ کے کردار ماضی کے خوابوں کے اسیر اور زندگی کی لایعنیت سے تنگ آئے لوگ ہیں۔

    (1)بہاؤ
    (2)بے عزتی خراب
    (3)پیار کا پہلا شہر)
    (4)راکھ
    (5)قلعہ جنگی
    کالم نگاری
    اس کے علاوہ تارڑ صاحب کالم نگاری بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے کالموں کے مجموعہ مندرجہ ذیل ہیں:
    چک چک
    الو ہمارے بھائی ہیں
    گدھے ہمارے بھائی ہیں
    شطر مرغ ریاست
    تارڑ نامہ 1،2،3،4
    آج کل روزنامہ نئی بات اور ہفتہ وار اخبار جہاں میں بھی باقاعدگی سے کالم نگاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔.
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خانہ بدوش
    جپسی (ناول)
    اندلس ميں اجنبی
    پیار کا پہلا شہر
    نانگا پربت
    ہنزہ داستان
    شمشال بے مثال
    کے ٹو کہانی
    برفیلی بلندیاں
    سفر شمال کے
    گدھے ہمارے بھائی ہیں
    کالاش
    یاک سرائے
    دیو سائی
    چترال داستان
    کاروان سرائے
    الّو ہمارے بھائی ہیں
    نکلے تيری تلاش میں
    بہاؤ (ناول)
    راکھ (ناول)
    پکھیرو (ناول)
    سنو لیک
    نیپال نگری
    پتلی پیکنگ کی
    یاک سرائے
    دیس ہوئے پردیس (ناول)
    سیاہ آنکھ میں تصویر (کہانہاں)
    خس و خاشاک زمانے (ناول)
    اے غزال شب(ناول)
    الاسکا ہائی وے
    ہیلو ہالینڈ
    ماسکوکی سفید راتیں
    لاہور سے یارقند تک
    خطوط (شفیق الرحمٰن،کرنل محمد خان،محمد خالداختر)
    نیویارک کے سو رنگ
    امریکا کے سو رنگ
    آسٹریلیا آوارگی
    راکا پوشی نگر
    اور سندھ بہتا رہا
    15 کہانیاں
    تارڑ نامہ (1)
    تارڑ نامہ (2)
    تارڑ نامہ(3)
    تارڑ نامہ(4)
    تارڑ نامہ(5)

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کے بدلے صدارتی تمغا حسن کارکردگی اوران کے ناول ”راکھ“ کو 1999 میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا اور آپ کو 2002ء میں دوحہ قطر میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔

    متاثر کرنے والے لوگ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مطالعے کی عادت جتنی پختہ ہے، اتنی ہی پرانی۔اردو میں قرۃالعین حیدر ان کی پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اُن کا ناول ”آخری شب کے ہمسفر“ اچھا لگا۔ ٹالسٹائی اور دوستوفسکی کے مداح ہیں۔ ”برادرز کرامازوف“ کو دنیا کا سب سے بڑا ناول خیال کرتے ہیں۔ شفیق الرحمن کی کتاب ”برساتی کوے“ کو اپنے سفرنامے ”نکلے تری تلاش میں“ کی ماں قرار دیتے ہیں۔ کرنل محمد خان کی ”بجنگ آمد“ کو اردو کا بہترین نثری سرمایہ سمجھتے ہیں۔ غیرملکی ادیبوں میں رسول حمزہ توف کی ”میرا داغستان“ اور آندرے ژید کی خودنوشت اچھی لگیں۔ کافکا اور سارتر بھی پسند ہیں۔ ترک ادیب یاشر کمال اور اورحان پامک کے مداح ہیں۔ مارکیز اور ہوسے سارا ماگو کو بھی ڈوب کر پڑھا۔ ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمن کی تنقیدی بصیرت کے قائل ہیں۔ اپنی تخلیقات کے تعلق سے ان سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔

    تارڑ کہتے ہیں’’دوستوفسکی سے مَیں نے صبر سیکھا کہ کیسے لکھا جاتا ہے، کیسے کردار نگاری کی جاتی ہے۔ مَیں کوئی اوریجنل شخص نہیں ہوں بلکہ میرے اندر اُن بہت سے ادیبوں کی جھلک نظر آتی ہے، جنہیں مَیں نے پڑھا ہے اور جو آہستہ آہستہ مجھ میں سرایت کرتے گئے ہیں۔ آیا میرا اپنا کوئی اَنگ بھی بنا ہے یا نہیں، یہ مَیں نہیں کہہ سکتا۔ دوستوفسکی، چیخوف اور ٹالسٹائی کے بعد مَیں نے کافکا، کامیو اور کئی فرانسیسی ادیبوں کے ساتھ ساتھ جرمن ادیب ہرمن ہیسے کو بھی پڑھا، جن کے ناول ”سدھارتھ“ کو تو ایک بائبل کی طرح پڑھا جاتا ہے‘‘ ۔

    تاثرات و تبصرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے ناول جنہوں نے سب سے زیادہ ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کی ان میں سرفہرست ”بہاؤ“ کا نام آتا ہے جووادئ سندھ کے معاشرتی طرز اور اطوار کو واضح کرتا ہےاردو ادب کے مشہور ناول نگار عبداللہ حسین بہاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں "اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے- رسمی لحاظ سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو چند سال کے اندر مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریا ت کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی "عبد اللہ حسین کے ان الفاظ سے بہاؤ کی ادبی حیثیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

    ” نکلے تری تلاش میں“ سفرنامہ 71ءمیں شائع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِسے پڑھنے کے بعد محمد خالد اختر نے لکھا تھا: “ اُس نے مروجہ ترکیب کے تاروپود بکھیر ڈالے ہیں! ”اندلس میں اجنبی“ پڑھ کر شفیق الرحمن نے کہا: ”تارڑ کےسفرنامےقدیم اور جدید سفرناموں کا سنگم ہیں!“

    اس کے علاوہ ”راکھ اورخس و خاشاک زمانے کو بھی شاہکار نہ کہنا نہ انصافی ہوگی۔تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گئے یہ ناول ان تاریخی حقائق کو بیان کرتے ہیں جن پی اب تک بات کرنا پسند نہیں کی جاتی ہے، “خس و خاشاک زمانے“” کو تو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے۔ جب کے ”پیار کا پہلا شہر“ اور ”قربت مرگ میں محبت“ مقبول عام ہیں۔ ادب سے لگاؤ رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے پیار کا پہلا شہر پڑھ نہ رکھا ہو۔ اس کے علاوہ ڈاکیا اور جولاہا، سیاہ آنکھ میں تصویر،جپسی، قلعہ جنگی، فاختہ اور اے غزال شب کے نام بھی ان کے ناولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بقول عبداللہ حسین اے غزال شب اُن کا پسندیدہ ترین ناول ہے۔