Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریوینیو اسلام آبا اور نامور شاعر رحمان فارس

    ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریوینیو اسلام آبا اور نامور شاعر رحمان فارس

    خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ میں
    کون پھرتا ہے در بدر مجھ میں

    رحمان فارس

    رحمان فارس :27 فروری 1976ء کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیدا ہوئے اور روزگار کے اعتبار سے سول سروس آف پاکستان سے مُنسلک ہیں۔ آج کل ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریوینیو اسلام آباد تعینات ہیں۔ شاعری کا اولین مجموعہ ”عشق بخیر“ کے نام سے اشاعت پذیر ھے۔ مُشاعروں کے حوالے سے دُنیا بھر میں مدعو کیے جاتے ہیں۔ ابھی تک امریکہ، یورپ کے متعدد ممالک، مشرقِ وُسطٰی کے بیشتر ممالک، ہندوستان، بنگلہ دیش، چین، تُرکی اور آسٹریلیا کے مشاعروں میں اپنا کلام پیش کرکے سامعین و حاضرین کی کثیر تعداد سے دادِ سُخن وصول کرچکے ہیں۔ امریکہ کے حالیہ ادبی دورے کا سفرنامہ زیرِ طبع ہے۔

    پاکستان ٹیلی ویژن کے ادبی پروگرامز کے اینکرپرسن ہیں۔ مؤقر انگریزی جرائد میں متعدد کالمز لکھ چُکے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ میں
    کون پھرتا ہے در بدر مجھ میں
    مجھ کو خود میں جگہ نہیں ملتی
    تو ہے موجود اس قدر مجھ میں
    موسم گریہ ایک گزارش ہے
    غم کے پکنے تلک ٹھہر مجھ میں
    بے گھری اب مرا مقدر ہے
    عشق نے کر لیا ہے گھر مجھ میں
    آپ کا دھیان خون کے مانند
    دوڑتا ہے ادھر ادھر مجھ میں
    حوصلہ ہو تو بات بن جائے
    حوصلہ ہی نہیں مگر مجھ میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں
    مگر اے یار تیرا یار ہوں میں
    جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا
    علاقے بھر میں عزت دار ہوں میں
    خود اپنی ذات کے سرمائے میں بھی
    صفر فیصد کا حصے دار ہوں میں
    اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں
    کہا تھا نا بہت بیمار ہوں میں
    مری تو ساری دنیا بس تمہی ہو
    غلط کیا ہے جو دنیا دار ہوں میں
    کہانی میں جو ہوتا ہی نہیں ہے
    کہانی کا وہی کردار ہوں میں
    یہ طے کرتا ہے دستک دینے والا
    کہاں در ہوں کہاں دیوار ہوں میں
    کوئی سمجھائے میرے دشمنوں کو
    ذرا سی دوستی کی مار ہوں میں
    مجھے پتھر سمجھ کر پیش مت آ
    ذرا سا رحم کر جاں دار ہوں میں
    بس اتنا سوچ کر کیجے کوئی حکم
    بڑا منہ زور خدمت گار ہوں میں
    کوئی شک ہے تو بے شک آزما لے
    ترا ہونے کا دعوے دار ہوں میں
    اگر ہر حال میں خوش رہنا فن ہے
    تو پھر سب سے بڑا فن کار ہوں میں
    زمانہ تو مجھے کہتا ہے فارسؔ
    مگر فارسؔ کا پردہ دار ہوں میں
    انہیں کھلنا سکھاتا ہوں میں فارسؔ
    گلابوں کا سہولت کار ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی
    کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی
    بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا
    پھر اک فقیر نے دے دی دعا اداسی کی
    امور دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں
    یہاں فقط تری چلتی ہے یا اداسی کی
    چراغ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا
    کہ آج رات چلے گی ہوا اداسی کی
    وہ امتزاج تھا ایسا کہ دنگ تھی ہر آنکھ
    جمال یار نے پہنی قبا اداسی کی
    اسی امید پہ آنکھیں برستی رہتی ہیں
    کہ ایک دن تو سنے گا خدا اداسی کی
    شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہے
    ہوائے شام الم نے کہا اداسی کی
    دل فسردہ کو میں نے تو مار ہی ڈالا
    سو میں تو ٹھیک ہوں اب تو سنا اداسی کی
    ذرا سا چھو لیں تو گھنٹوں دہکتی رہتی ہے
    ہمیں تو مار گئی یہ ادا اداسی کی
    بہت دنوں سے میں اس سے نہیں ملا فارسؔ
    کہیں سے خیر خبر لے کے آ اداسی کی

  • سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    25 فروری 1968

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے مشہور اور ہر دل عزیز شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے۔
    ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔

    1968ء میں شجاع آباد کے علاقے چاہ ٹبے والا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تخلص شاکر اور ذات سیال ہے۔ خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں۔
    شاکر شجاع آبادی کی پیدائش 25 فروری 1968ء کو شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام میں ہوئی جو ملتان سے ستر 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

    حکومت پاکستان کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے 14 اگست 2006ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ملا۔

    ہر چند کہ شاکر شجاع آبادی صاحب کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے لیکن
    اﻥ کا ﮐﻼﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞ
    ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺑﮩﺎﻟﭙﻮﺭ،،ﺑﮩﺎﺀﺍﻝﺩﯾﻦ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﻠﺘﺎﻥ،،ﺍﯾﮕﺮﯼ ﮐﻠﭽﺮﻝ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻭﭘﻦ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ..
    ﺟﻨﺎﺏ_ ﺷﺎﮐﺮ ﺷﺠﺎﻉ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ
    ﻏﺮﺑﺖ ﻧﮯ ﺁﻥ ﮔﮭﯿﺮﺍ
    ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﻮﺭﺍ
    ﮨﻮﺍ … ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯽ
    ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮑﯽ ﮐﻼﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻨﮯ
    ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ
    ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻼﻡ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺧﻄﮧ
    ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ …
    ____
    ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﺖ
    ﺩﯾﻨﺎ
    ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﭨﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺳﺘﻢ ﺟﺐ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﮯ
    ﮨﯿﮟ
    ﺳﺘﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻘﺎﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺖ
    ﺩﯾﻨﺎ
    ___
    ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﯾﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ
    ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ
    ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ
    ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ
    ﺑﭩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﺎﺯﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ
    ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮ
    ﮔﯿﺎ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﻣﮑﺮ ﮔﯿﺎ

    تصنیفات

    لہو دا عرق
    پیلے پتر
    بلدین ہنجو
    منافقاں تو خدا بچاوے
    روسیں تو ڈھاڑیں مار مار کے
    گلاب سارے تمہیں مبارک
    کلامِ شاکر
    خدا جانے
    شاکر دیاں غزلاں
    شاکر دے دوہڑے

    بشکریہ وکی پیڈیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر شجاع آبادی کا تعلق شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام سے ہے جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔۔ شاکر شجاع آبادی 25 فروری 1968 کو پیدا ہوئے ۔۔ وہ عصرِ حاضر میں سرائیکی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں ۔۔
    گزشتہ کئی سالوں سے وہ سرائیکی کے مظلوم عوام کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کو جذبات کی عکاسی کے لیے زبان دی ہے ۔۔ 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں ۔۔ نصابی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے ۔۔ ان کا شاعری سے متعلق تمام علم ریڈیو پروگراموں کا مرہون منت ہے ۔۔ غلام فرید اور وارث شاہ کو انھوں بہت سنا ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو ۔’’ 1994 تک بول سکتے تھے ۔۔ اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں ۔۔
    کہتے ہیں میں زیادہ سکول نہیں گیا ’’سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے‘‘ ۔۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘‘پاکستان کے زوال کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے ۔۔ اگر لوگوں کو شعور دیا جائے کہ ان کی غلامی سے کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ‘‘۔۔ موجودہ سیاسی نظام سے وہ منتفر ہیں ۔۔ماضی کے لیڈران میں سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں ۔۔ جنھوں نے عوام کو حقوق کا شعور دیا ۔۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار انھیں دو لاکھ کا چیک دیا تھا جو انھوں نے اپنے علاقے کے ایک سکول کی عمارت پر لگا دیا ۔۔ لیکن سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکول بند ہے ۔۔۔ وہ خود انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور روزمرّہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھی معلوم نہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔۔
    انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب ، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے نہیں لیا ۔۔ بلکہ جو انھوں نے دیکھا ، سوچا ، سمجھا اور جو ان پر بیتا اسے قلم بند کرتے رہے ۔۔

    ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ۔۔۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ۔۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکا ۔۔ جس کا افسوس ہوتا تھا ۔۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں ۔۔ اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔

    ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور ، کسان ، جھونپڑیوں میں رہنے والے اور مذہبی فرسودگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ آپ کو شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ہوئے ملیں گے ۔۔ اور ممکن ہے انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے ۔۔۔۔

    ان کی شاعری کا موضوع ، غربت ، پسماندگی ، غیر مساویانہ معاشی تقسیم ،
    بددیانتی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی رجعت پسندی ہے ۔۔۔۔
    بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شاعری ان کے ذاتی مسائل خطے کی صورتحال اور سرائیکی بیلٹ کی پسماندگی کا فطری ردِ عمل ہے ۔۔۔ لیکن اپنے طرزِ اظہار کے باعث انھوں نے اپنی شاعری کو عالمی صورتحال سے جوڑ دیا ہے ۔۔ اور جب تک یہ مسائل ہیں ۔۔ اس خطے کے لوگ شاکر شجاع آبادی کو نہیں بھول سکتے ۔۔ ان کی شاعری ان کے مسائل کی عکّاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تبدیلی کی تڑپ کو زندہ رکھے گی ۔۔۔

    ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔ کلامِ شاکر ، خدا جانے ، شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں ۔
    ان کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی شاعری کا انتخاب بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔۔۔۔ کسی بھی موجود شعر کو چھوڑنا گراں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا ۔۔ سو انتخاب حاضر ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

    مرے رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر دے
    کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی
    انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
    جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی
    میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
    قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    کیہندے کتّے کھیر پیون کیہندے بچّے بھکھ مرن
    رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
    غیر مسلم ہے اگر مظلوم کوں تاں چھوڑ دے
    اے جہنمی فیصلہ نہ کر اٹل کجھ غور کر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    اے پاکستان دے لوکو پلیتاں کوں مکا ڈیوو
    نتاں اے جے وی ناں رکھے اے ناں اوں کوں ولا ڈیوو
    جتھاں مفلس نمازی ہن او مسجد وی اے بیت اللہ
    جو ملاں دیاں دکاناں ہن مسیتاں کوں ڈھا ڈیوو
    اتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وکدا پئے
    ایہوجی ہر عدالت کوں بمعہ املاک اڈا ڈیوو
    پڑھو رحمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
    منافق توں تے بہتر ہے جے ناں کافر رکھا ڈیوو
    جے سچ آکھن بغاوت ہے بغات ناں اے شاکر دا
    چڑھا نیزے تے سر مینڈھا مینڈے خیمے جلا ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔

    میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
    جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
    جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
    جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
    ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
    سخاوتاں دے سنہرے پانڑیں ، دے نال جیہڑے مٹا ڈتے نیں
    او لفظ موئے بھی بول پوسن ، شرافتاں دی کتاب ڈیوو
    شراب دا رنگ لال کیوں اے ، کباب دے وچ اے ماس کیندا
    شباب کیندا ہے ، کئیں اُجاڑے حساب کر کے جناب ڈیوو
    زیادہ پھلدا اے کالا جیکوں ، خرید گھن دا اے اوہو کرسی
    الیکشناں دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈیوو
    قلم اے منکر نکیر شاکر ، جتھاں وی لکسو اے تاڑ گھن سی
    غلاف کعبے دا چھک کے بھانوں ، ناپاک منہ تے نقاب ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن

  • اداکارہ مدھوبالا کا یوم وفات

    اداکارہ مدھوبالا کا یوم وفات

    مدھوبالا (پیدائشی نام ممتاز جہاں بیگم دہلوی) ایک ہندوستانی فلمی اداکارہ تھی جس نے بالی ووڈ کی کلاسک فلموں میں کام کیا۔ اپنی خوبصورتی، شخصیت اور فلموں میں خواتین کی حساس تصویر کشی کے لیے جانی جانے والی، وہ "دی بیوٹی ود ٹریجڈی” اور "دی وینس آف انڈین سنیما” کے نام سے مشہور تھیں اور ان کا موازنہ ہالی ووڈ اداکارہ مارلن منرو سے کیا جاتا تھا اور وہ مارلن منرو کے نام سے مشہور تھیں۔ بالی ووڈ کی. وہ 1942 اور 1964 کے درمیان سرگرم تھیں۔

    مدھوبالا 14 فروری 1933 کو ممتاز جہاں بیگم دہلوی کے طور پر پیدا ہوئیں، جو برطانوی راج دہلی میں گیارہ بچوں میں سے پانچویں تھیں۔ ان کے والدین عطاء اللہ خان اور عائشہ بیگم تھے۔ اس کے دس بہن بھائی تھے جن میں سے صرف چار جوانی تک زندہ رہے۔ اس کے والد، پرانی وادی پشاور سے تعلق رکھنے والے عطاء اللہ خان پشتون، جس میں مردان اور صوابی کے موجودہ علاقے شامل ہیں جو اب پاکستان میں ہیں۔ ان کے والد کا تعلق پشتونوں کے یوسف زئی قبیلے سے تھا۔ پشاور میں امپیریل ٹوبیکو کمپنی میں ملازمت کھونے کے بعد اس نے خاندان کو دہلی اور پھر بمبئی منتقل کردیا۔ خاندان نے بہت سی مشکلات برداشت کیں۔ مدھوبالا کی تین بہنیں اور دو بھائی پانچ اور چھ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 14 اپریل 1944 کو گودی میں ہونے والے دھماکے اور آگ نے ان کے چھوٹے سے گھر کا صفایا کر دیا۔ یہ خاندان صرف اس لیے بچ گیا کہ وہ ایک مقامی تھیٹر میں فلم دیکھنے گئے تھے۔

    اپنی باقی چھ بیٹیوں کے ساتھ، خان، اور نوجوان مدھوبالا نے کام کی تلاش کے لیے بمبئی کے فلم اسٹوڈیوز کا اکثر دورہ کرنا شروع کر دیا۔ 9 سال کی عمر میں، یہ فلم انڈسٹری میں مدھوبالا کا تعارف تھا، جو اس کے خاندان کو مالی مدد فراہم کرے گی۔ گھر میں، مدھوبالا کا لقب مجلے آپا تھا کیونکہ وہ اپنے والدین کی پانچویں اولاد تھیں۔ مدھوبالا گھر میں اردو اور ہندی بولتی تھی۔ وہ انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتی تھی لیکن زبان سیکھنے کی خواہش رکھتی تھی۔

    مدھوبالا نے فلم بسنت (1942) سے 9 سال کی عمر میں ایک معمولی کردار میں اسکرین پر قدم رکھا۔ تاہم، ان کے اداکاری کا کیریئر دراصل 1947 میں شروع ہوا، جب اس نے 14 سال کی عمر میں راج کپور کے ساتھ فلم نیل کمل (1947) سے ڈیبیو کیا۔ 22 سال کے کیریئر کے دوران، مدھوبالا مختلف قسم کی 70 سے زیادہ فلموں جیسے کہ محل (1949)، دلاری (1949)، بے قصور (1950)، ترانہ (1951)، امر (1954)، میں اپنے کرداروں کے لیے جانی جاتی تھیں۔ مسٹر اینڈ مسز ’55 (1955)، چلتی کا نام گاڑی (1958)، ہاوڑہ برج (1958) اور مغل اعظم (1960)۔ وہ دلیپ کمار، گرو دت، اشوک کمار، دیو آنند، کشور جیسے اداکاروں کے ساتھ اور بہت سے دوسرے ان کے ساتھی اداکاروں کے طور پر۔ 73 ہندی فلموں میں سے صرف پندرہ ہی باکس آفس پر کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے مغل اعظم (1960) میں اپنی اداکاری کے لیے بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے واحد نامزدگی حاصل کی۔

    مدھوبالا کو محل (1949)، امر (1954)، مسٹر اینڈ مسز ’55 (1955)، چلتی کا نام گاڑی (1958)، مغل اعظم جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے لیے وسیع پیمانے پر پہچان ملی۔ مغل اعظم (1960) اور برسات کی رات (1960)۔ مغل اعظم میں ان کی اداکاری نے انہیں ہندی سنیما کی ایک مشہور اداکارہ کے طور پر قائم کیا۔ ان کی آخری فلم جوالا، اگرچہ 1950 کی دہائی میں شوٹ ہوئی تھی، 1971 میں ریلیز ہوئی تھی۔

    انہوں نے اپنے ساتھی اداکار کشور کمار سے 1960 میں شادی کی۔ دونوں نے ایک ساتھ فلموں میں کام کیا جیسے ڈھاکے کی ململ (1956)، چلتی کا نام گاڑی (1958)، جھمرو (1961)، ہاف ٹکٹ (1962)۔ مدھوبالا کی زندگی اور کیریئر اس وقت منقطع ہو گئی جب وہ 23 فروری 1969 کو 36 سال کی عمر میں طویل علالت کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔

  • بی بی مری اور اس کے 2بیٹوں کا بہیمانہ قتل، اجلاس میں اہم فیصلے

    بی بی مری اور اس کے 2بیٹوں کا بہیمانہ قتل، اجلاس میں اہم فیصلے

    واقعہ بارکھان ،گراں بی بی مری اور اس کے 2بیٹوں کا بہیمانہ قتل۔ وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی ہدایت پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں بارکھان واقعہ کے تمام پہلوؤں اور اور دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا
    ۔صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری اراکین اسمبلی ثناء بلوچ میر زابد ریکی ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ زاہد سلیم بھی شریک تھے۔کمشنر کوئٹہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور پولیس حکام بھی اجلاس میں موجود تھے ۔اے سی ایس داخلہ کی جانب سے اجلاس کو بارکھان میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعہ پر بریفنگ دی گئی۔ کمشنر کوئٹہ اور ایس ایس پی آپریشنز کی جانب سے اجلاس کو دھرنا شرکاء سے ہونے والی بات چیت پر بریفنگ دی گئی

    اجلاس میں دھرنے کی شرکاء کی جانب سے پیش کیۓ جانے والے چھ مطالبات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلئ کی ہدایت پر واقعہ کی تحقیقات کے لیۓ جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ سے واقعہ کے زمہ داروں کا تعین ہو سکے گا ۔۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مزمت ہے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاۓ گا وزیراعلئ نے یقین دلایا ہے کہ لواحقین کو انصاف فراہم کیا جاۓ گا ۔وزیر داخلہ

    وزیر داخلہ نے ہدایت کی خان محمد مری کے دیگر مغوی بچوں کی جلد از جلد باحفاظت بازیابی کی یقینی بنایا جاۓ۔وزیرِداخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ریاست مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے کی اپنی زمہ داری پوری کریگی۔اجلاس میں دھرنے کے شرکاء سے پر امن طور پر دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی گئی۔اجلاس میں دھرنے کے شرکاء سے حکومتی سطح پر مسلسل رابط رکھنے پر اتفاق کیا گیا

  • نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چند روز قبل سوشل میڈیا میں کوہلو بلوچستان کی ایک خاتون گراں بی بی مری کی ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ قرآن مجید ہاتھوں میں اٹھائے بلوچی زبان میں فریاد کر رپی تھی کہ میں اور میرے بچے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان خان کھیتران کی نجی جیل میں قید ہیں یہاں مجھ سمیت میری بیٹیوں سے جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور تشدد بھی کیا جاتا ہے ہمیں اس سردار کے مظالم اور قید سے نجات دلائی جائے لیکن افسوس صد افسوس کہ اس مظلوم خاتون کی فریاد پر متعلقہ اداروں نے کوئی توجہ نہیں دی اور آج ان کی اور ان کے دو بیٹوں کی ایک کنویں سے تشددزدہ نعشیں برآمد ہوئی ہیں ۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد شہید گراں بی بی کے خاوند جوکہ سردار عبدالرحمن کے خوف سے روپوش ہے اس کی ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں اس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سردار کی مبینہ نجی جیل میں قید میرے خاندان کے دیگر افراد کو بھی قتل کیا جائے گا جبکہ سردار عبدالرحمن نے اس واقعے کے حوالے سے خود پہ لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔

  • یوم پیدائش اور  یوم وفات   مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات

    مریم جناح سابقہ رتی جناح۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    20 فروری 1900

    20 فروری 1929 یوم وفات

    20 فروری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی مریم جناح المعروف رتی جناح کی سالگرہ بھی اور برسی کا بھی دن ہے۔

    قائداعظم سے شادی کے وقت مذہب تبدیل کرکےاسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔

    مریم جناح سرڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان کپڑے کی صنعت میں بہت بڑا نام تھا۔ مریم جناح 20 فروری 1900ء میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے پردادا سوات سے 1785ء میں بمبئی آئے تھے اور پھر وہیں بزنس کرنے لگے۔ اُنکے بیٹے ڈنشا مانک جی نے بمبئی میں برصغیر کی پہلی کاٹن مل کی بنیاد رکھی۔ 1900ء صدی کے اختتام تک مانک جی کا خاندان بمبئی کے امیر ترین خاندانوں میں جانا جانے لگا۔ ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل ڈن شا پٹیٹ کی اکلوتی خوبصورت اور خوب سیرت بچی جو بڑے ناز و نعم میں پل رہی تھی، اُس کا نام رتن بائی تھا۔ یہ بچی نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ بہت ذہین اور صاحب ذوق تھی۔ رتن، جنہیں گھر کے لوگ پیار سے "رتی” کہہ کر پکارتے تھے، شاعرانہ مزاج رکھتی تھی۔ رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا۔ 14-13 سال کی عمر میں وہ ٹینی سن کیٹس اور شیلے جیسا شعراء کا کلام پڑھ چکی تھیں اور سمجھ چکی تھیں۔ رتی ایک خوش لباس خاتون تھیں، بمبئی میں امتیازی خصوصیت رکھتی تھیں۔ گورنروں، وائسراؤں اور اُمراء کی بیگمات اسکی ملبوسات اور زیورات کو بہت پسند کرتی تھیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خواتین رشک کرتی تھیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ڈن شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پر قوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں سے تھے۔ سر ڈنشا پیٹٹ محمد علی جناح صاحب کی ذہانت، نفاست اور قابلیت کی وجہ سے ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ جناح صاحب (قائداعظم) اکثر ان کے گھر جاتے جہاں خوب بحثیں ہوتیں۔ سترہ سالہ رتن، لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹڈ بوٹڈ جناح کی پر مغز بحثوں کو غور سے سُنتی، آہستہ آہستہ وہ جناح صاحب کو پسند کرنے لگیں۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی۔ ان کی شخصیت نے رتن عرف رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی دوستی قربت اور پھر قربت محبت میں بدل گئی۔ اور پھر ایک دن یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔ جب رتی نے جناح صاحب سے اپنے دل کی بات کہہ دی اور شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔

    1917ء کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈن شا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہونی چاہئیں۔ عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈن شا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔ بس پھر کیا تھا ۔۔۔ آتش پرست ڈن شا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی۔ ڈنشا نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ محمد علی جناح ان کی بیٹی سے عمر میں بہت بڑے ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں کے مذہب الگ ہیں، رتی کا خاندان بمبئی کا مقبول ترین پارسی خاندان تھا۔ جناح صاحب نے رتی کو سمجھایا کہ ہماری شادی تمہاری 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو سکتی، ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ ڈن شا نے رتی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگ لگا دی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس سے ملاقات پر پابندی لگا دی، لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہو گی۔ جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ انتظار کیا، اس دوران جناح اور رتی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے۔ اس عرصہ میں رتی نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ مسلمان ہو کر قائداعظم محمد علی جناح صاحب سے شادی کریں گی۔

    20 فروری 1918ء کو پیٹیٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں۔ ڈن شا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈن شا نے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرا دی۔ اس کے بعد ڈن شا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا۔

    18 اپریل 1918ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن 19 اپریل 1918 کو وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آ گئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔ بمبئی میں ہوئی نکاح کی اس چھوٹی سی تقریب میں صرف قریبی احباب مدعو تھے۔ رتی جو اب مریم جناح بن گئی تھی، کو قائداعظم ؒ کی جانب سے شادی کی جو انگوٹھی ملی تھی وہ راجہ صاحب محمود آباد نے قائداعظم ؒ کو تحفے میں دی تھی۔ 19 اپریل 1918ء کے روزنامہ ” اسٹیٹ مین ” میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی۔

    شادی کے بعد جب مریم جناح نے گھریلو زندگی کا آغاز کیا تو وہاں بھی اپنی ذہانت اور قابلیت سے اپنے گھر کو انتہائی ذوق و شوق اور سلیقہ سے آراستہ کیا۔ مریم جناح نے گھر کی تزئین و آرائش سے فارغ ہو کر اپنے شوہر کے دفتر کی جانب بھی توجہ دینا شروع کی اور اسے بھی اعلیٰ ذوق کے مطابق ایک خوبصورت رنگ دے دیا۔ دونوں کی محبت ایک مثالی محبت تھی۔

    رتی جناح نفاست اور فہم کی مثال تھیں۔ آپ کو ڈرامے، ادب اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ آپ کی کتابوں کا ایک خزانہ ہوا کرتا تھا۔ قائد اعظم نے آپ کے جانے کے بعد بھی آپکی کتابیں سنبھال کر رکھی ۔ رتی جناح کو ادب، شاعری، لٹریچر، روحانیت اور جادو جیسے مضامین سے بہت دلچسپی تھی۔ انہی مضامین کی کتابیں رتی نے اکٹھی کر رکھی تھیں۔ رتی جناح اور محمد علی جناح دونوں کو شیکسپیئر بہت پسند تھا۔ رتی جناح گھڑ سواری میں بھی ماہر تھیں۔ آپ کو دیکھو تو لگتا تھا جیسے کوئی حسین پری ہو۔

    آپ کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرنلسٹ نے آپ سے پوچھا کہ اگر قائد اعظم کو اپنی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں نائیٹ شپ دی جائے اور سر کا خطاب دے دیا جائے تو آپ لیڈی جناح۔۔نائیٹ کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ رتی جناح کو انگریزوں سے اتنی نفرت تھی کہ آپ طیش میں آگئیں اور بولیں کہ اگر میرے خاوند نے نائٹ شپ قبول کر لی تو میں ان کو چھوڑ دوں گی۔انہیں انگریزوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کم عمر تھیں مگر بہت پڑھی لکھی تھیں۔ جس طرح محمد علی جناح تقریر کرتے تھے تو انگریزوں کو ڈکشنری کھولنی پڑ جاتی تھی اسی طرح رتی جناح بھی کتابی کیڑا تھیں اور اپنے علم کی وسعت کے باعث انگریزوں کی برتری کو نہیں مانتی تھیں۔ وہ انگریزوں سے بالکل امپریس نہیں ہوتی تھیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سیاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ آہستہ آہستہ قائداعظم کی مصروفیات میں اضافہ ہونے لگا۔ بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ لڑکی نے اسے شاید جناح کی بے التفاتی تصور کیا۔ شادی کے دس سال بعد تو مریم نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کر کے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی ہو گئی۔ رتی کی ماں ان کا علاج یورپ میں کرانے کے لئے مریم جناح کو لے کر پیرس چلی گئیں۔

    1928ء میں قائداعظم کو مریم جناح کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر پیرس پہنچ گئے اور انکی تیمار داری کرتے رہے۔ انکی محبت کا یہ عالم تھا کہ مریم جناح کیلئے جو پرہیزی کھانا بنتا وہ بھی وہی کھانا اپنی پیاری بیوی کے ساتھ کھاتے۔ کچھ عرصے بعد مریم جناح صحت یاب ہو کر بمبئی آ گئیں۔ مگر افسوس جنوری 1929ء میں پھر بیماری ہوئیں۔

    مریم جناح کا جناح کے نام آخری خط ایک یادگاراور امر بن گیا:

    ’’پیارے ! تم نے (میرے لئے) جوکچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حِسّوں نے میرے رویّئے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے ۔۔۔ پیارے ! ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے) جیسے کہ میں پہنچ چکی، تو تب انسان (اپنی زندگی) کے خوش کن اور مہربان لمحے ہی یاد رکھتا ہے، بقیہ لمحات موہومیت کی چھپی، اَن چھپی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کوشش کر کے مجھے ایسے پھول کی حیثیت سے یاد رکھنا جو تم نے شاخ سے توڑا، ویسا نہیں جو جوتے تلے کچل دیا جائے۔ ’’پیارے! (شاید) میں نے زیادہ تکالیف اس لئے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔ میرے غم و اندوہ کی پیمائش (اسی لئے) میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیئے۔ ’’پیارے! میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ مجھے تم سے پیار ہے ۔۔۔ اور اگر میں تم سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید تمھارے ساتھ ہی رہتی …جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کر لے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ’’میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے تم سے محبت کی ہے کہ کم ہی مردوں کو ایسا پیار ملا ہو گا۔ میری تم سے صرف یہی التجا ہے کہ (ہماری) محبت میں جس اَلم نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے۔ ’’پیارے ! شب بخیر اور خدا حافظ۔” ۔۔

    اور 20 فروری 1929ء کو اپنی 29ویں سالگرہ کی روز مریم جناح وفات پا گئیں۔ ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی۔ قائداعظم نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اپنے دکھ کو چھپا کر انکی تدفین اپنے ہاتھ سے کی۔ قائداعظم اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد 18 سال بمبئی میں رہتے ہوئے اپنا معمول بنا لیا تھا کہ ہر جمعرات بعض روایات کے مطابق ہر شام اپنی اہلیہ کی قبر پر حاضری دیتے۔

    فولادی اعصاب کے مالک قائد اعظم کو زندگی میں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا سوائے دو مقامات پر ۔۔۔ اور دونو مریم سے ہی جڑے ہیں۔ ایک تو مریم کو دفناتے وقت جونہی ان کو قبر میں اتارنے کے بعد جناح کر قبر پر مٹی ڈالنے کو کہا گیا، تو ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ آنسوؤں سے زار و قطار رونے لگے۔ دوسرے جب اگست 1947ء کو پاکستان آنے لگے تو آخری بار وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر گئے کافی دیر بیٹھے رہے اور آنسو بہاتے رہے۔

    قائداعظم نے مریم جناح کے بعد کوئی شادی نہیں کی وہ ٹوٹ چکے تھے، مگر ایسے وقت میں انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کو سنبھالا۔ اگر مادر ملت، بھائی کا خیال اس طرح نہ رکھتیں تو شاید قائداعظم کیلئے سیاست میں اتنا بڑا کردار ادا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ اس لیے اگر یہ کہیں کہ مادر ملت پاکستانی قوم کی محسنہ تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سہارا دیا اور انہوں (قائداعظم) نے ہمیں پاکستان دیا تو غلط نہ ہو گا

    محمد علی جناح کی رتی سے ایک بیٹی دینا جناح تھی ۔ یہ 14 اگست 1919 کی شام تھی جب قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اہلیہ رتن بائی کے ساتھ تھیٹر گئے ہوئے تھے کہ ڈرامہ کے دوران رتن بائی نے قائد کو مطلع کیا کہ وہ درد زہ محسوس کررہی ہیں اور انھیں فوراً میٹرنٹی ہوم پہنچایا جائے۔ قائد نے ایسا ہی کیا اور اسی رات 15 اگست 1919 کو ان کے گھر ایک خوب صورت بچی نے جنم لیا جس کا نام دینا رکھا گیا۔دینا جناح ابھی ساڑھے نو برس کی ہوئی تھیں کہ ماں کے سائے سے محروم ہوگئیں۔

    رتن بائی اپنی بیٹی کو اڈیار (مدراس) میں تھیوسیوفیکل اسکول میں داخل کروانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مکمل معلومات بھی حاصل کرلی تھیں مگر قائداعظم کی مداخلت کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔

    دینا جناح نے ابتدائی تعلیم بمبئی کے ایک کانوینٹ اسکول میں حاصل کی۔ دینا اگرچہ بیشتر اپنی نانی کے پاس رہتی تھیں اس کے باوجود محمد علی جناح نے دینا کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ایک گورنس کو ملازم رکھا تھا جس کا نام اسٹیلا تھا۔ وہ بمبئی کی رہنے والی کیتھولک تھی۔ محمد علی جناح کی پیشہ ورانہ اور سیاسی مصروفیات کی بنا پر ان کو دینا کے ساتھ رہنے کے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود دینا اپنے والدین سے شدید محبت کرتی تھیں اور ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے والدین کے پاس ہی رہیں۔ وہ ہر سال گرمیوں میں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کشمیر جاتی تھیں جبکہ دو مرتبہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ لندن بھی گئیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔ اس دوران میں دینا نے محمد علی جناح کی مرضی کے خلاف ایک پارسی نوجوان نیول واڈیاکے ساتھ شادی کر لی۔ قائد اعظم بہت دکھی ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد اپنی اس بیٹی سے قطعہ تعلق کر لیا تھا اوراس سب کے باوجود انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے دو لاکھ روپے مقرر کیے تھے۔

    دینا واڈیا 15 اگست 1919 کو پیدا ہوئیں اور 2 نومبر 2017 کو آپ کا انتقال ہوا۔آپ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی اور واحد اولاد تھی۔ دینا کی والدہ کا تعلق ممبئی کے دو اعلیٰ خاندانوں پیٹت برونیٹس اور ٹاٹا خاندان سے تھا۔

    1938ء میں دینا نے مشہور صنعت کار نیولی واڈیا سے شادی کی، نیولی واڈیا ممتاز واڈیا خاندان سے تھا، البتہ، شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور 1943ء میں طلاق ہو گئی۔دینا واڈیا 2 نومبر 2017ء کو 98 برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کرگئیں

  • بے وفا اور باغی مصنفہ

    بے وفا اور باغی مصنفہ

    بے وفا اور باغی مصنفہ

    آغا نیاز مگسی

    تہمینہ درانی پاکستان کے جاگیردارانہ سماج کی پہلی حوصلہ مند خاتون ہیں جنہوں نے اپنی سوانح حیات پر مشتمل تصنیف ” مائی فیوڈل لارڈ ” جس کا اردو ترجمہ ” میڈا سائیں ” کے عنوان سے کیا گیا ہے ، میں نہ صرف اپنے اس سنگین اخلاقی جرم کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے پہلے شوہر انیس احمد سے بیوفائی کر کے پنجاب کے سابق گورنر و سابق وزیر اعلیٰ ملک غلام مصطفیٰ کھر سے ناجائز تعلقات قائم کرتے ہوئے انیس سے طلاق لے کر ملک غلام مصطفیٰ کھر سے ان کی ساتویں بیوی کی حیثیت سے نکاح کیا اور پھر اپنے ہونے والے محبوب شوہر غلام مصطفیٰ کھر کے ہاتھوں نہ صرف جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی رہیں بلکہ اپنی چھوٹی بہن عدیلہ کے حوالے سے تذلیل اور تضحیک آمیز مناظر دیکھنا بھی گوارا کرتی رہیں ۔

    تہمینہ درانی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر اور پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر شاکر الله درانی کے گھر میں 18 فروری 1953 میں پیدا ہوئیں۔ 18سال کی عمر میں ان کی شادی لاہور کے انیس احمد سے ہوئی لیکن 3 برس کے مختصر عرصے کے بعد انہوں نے پنجاب کے ایک معروف جاگیردار اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ملک غلام مصطفیٰ کھر کو اپنا ” ہیرو” بنا لیا جن کے درمیان عمر کے لحاظ سے 20 سال کا فرق موجود تھا جس سے 1975 میں شادی کر لی لیکن تہمینہ درانی کو بہت جلد ہی معلوم ہو گیا بلکہ اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ وہ اپنے پہلے خاوند کو چھوڑ کر غلام مصطفےٰ کھر سے شادی کرنے کا غلط فیصلہ کر چکی ہے۔

    غلام مصطفیٰ کھر تہمینہ درانی سے شادی سے کچھ ہی عرصے بعد ان کی چھوٹی بہن عدیلہ درانی پر فریفتہ ہو گئے اور اس پر ڈورے ڈالنے لگے جس پر غلام مصطفی کھر اور تہمینہ درانی کے مابین شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور بالاآخر دونوں کے مابین علیحدگی ہو گئی۔ تہمینہ درانی نے ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئےملک غلام مصطفیٰ کھر کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کی غرض سے اپنی آپ بیتی پر مشتمل کتاب ” میڈا سائیں ” لکھ ڈالی جس میں انہوں نے بہت سے سنسنی خیز اور دلچسپ انکشافات کیے اور پاکستان میں جاگیرداروں اور سیاستدانوں کے ظاہری اور باطنی کردار کو عوام کے سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی جس سے تہمینہ درانی کو جاگیردارانہ سماج کے خلاف بلند حوصلہ عورت لکھاری کی حیثیت سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔

    ایک ایسی عورت جس نے اپنے محبوب شوہرکی خاطر کئی برس جلاوطنی اختیار کی اور بےشمارمسائل اور مشکلات کا سامنا کیا لیکن پھر بھی وہ اپنے جاگیردار خاوند کی اخلاقی اور جسمانی زیادتیوں کا نشانہ بنتی رہی ۔ ملک غلام مصطفی کھر سے علیحدگی کے کافی عرصے بعد افغان قبیلے کی عورت تہمینہ درانی نے 2018 میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے تیسری شادی کی اور وہ اس وقت پاکستان کی وزیر اعظم کی اہلیہ کا قابل فخر اعزاز کی حامل ہیں تاہم شریف خاندان نے تہمینہ درانی کو دل سے قبول نہیں کیا ہے ۔ تہمینہ درانی نے اپنی تصانیف کے ذریعے ایک معتبر و باغی مصنفہ اور ناول نگار کی حیثیت سے اہم مقام حاصل کر لیا ہے اور اب تک ان کی 4 کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

  • نکوس کزنتزاکس بیسویں صدی کاادیب و فلسفی

    نکوس کزنتزاکس بیسویں صدی کاادیب و فلسفی

    پیدائش:18 فروری 1883ء
    ایراکلیون
    وفات:26 اکتوبر 1957ء
    فری برگ
    وجۂ وفات:ابیضاض
    مدفن:ایراکلیون
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:یونان
    مادر علمی:جامعہ ایتھنز
    تخصص تعلیم:اُصول قانون
    تعلیمی اسناد:ڈاکٹریٹ
    پیشہ:منظر نویس، صحافی، شاعر، مترجم، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار، مصنف، سیاست داں
    مادری زبان:یونانی زبان
    شعبۂ عمل:سفر نامہ، ناول

    نکوس کزنتزاکس کو بیسویں صدی میں سب سے زیادہ ترجمہ کیے جانے والا ادیب و فلسفی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ تاہم انھیں حقیقی شہرت اپنے ناول زوربا پر 1964 میں مائکل کے کویانس کی فلم بننے کے بعد حاصل ہوئی۔

  • ہم لوگ تیرے شہر میں  خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے  ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    تسنیم کوثر

    پاکستان کی نامور ادیبہ اور شاعرہ

    18 فروری 1957 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ ،شاعرہ ،مصنفہ،افسانہ نگار، خواتین اور بچوں سمیت انسانی حقوق کی جدوجہد کی اہم رہنما محترمہ تسنیم کوثر صاحبہ 18 فروری 1957 میں ساہیوال پنجاب( پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام قاضی نسیم الدین اور والدہ محترمہ کا نام منور جہاں بیگم ہے ۔ وہ اپنے 8 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ۔ ان کے خاندان کے بڑے دہلی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ تسنیم کوثر نے پرائمری سے انٹر تک اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی جبکہ ایم فل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ تسنیم صاحبہ اپنے خاندان میں پہلی اور واحد ادیبہ اور شاعرہ ہیں ۔ شعر و ادب کا شوق انہیں زمانہ طالب علمی سے ہی پیدا ہوا اور اسکول و کالج کے زمانے سے لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا میں انہوں نے اپنے کلام محشر زیدی صاحب کو دکھائے۔ ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک شعری مجموعہ "سرگوشی” اور 4 نثری کتابیں ہیں۔ تسنیم کوثر صاحبہ ایک ترقی پسند خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں کی جانے والی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے 30سال تک پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی علمبردار عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے ساتھ مل کر کام کیا وہ اس دوران عاصمہ جہانگیر کے انسانی حقوق کے ادارے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کی میڈیا کو آرڈینیٹر رہیں۔ انہوں نے بچوں سے زیادتی اور خواتین پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں پر فیکٹ فائنڈنگ کیسز کیے اس کے علاوہ برن دکٹمز پر بھی فیکٹ فائنڈنگ کی اور اس موضوع پر آرٹیکلز بھی لکھے۔ جلسوں،جلوس، ورکشاپس اور سیمینارز میں بھی شرکت کی۔ سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کی ممبر کی حیثیت سے امن وفد کے ساتھ بھارت کا دورہ کیا اس کے علاوہ ملائیشیا، مصر اور سعودی عرب کے بھی دورے کیے۔ تسنیم صاحبہ اس وقت روٹری انٹر نیشنل کے ساتھ منسلک ہیں اور روٹری کلب شادمان لاہور کی صدر ہیں ۔ وہ وہ تعبیر ادبی فورم کی چیئرپرسن ہیں جس کے زیر اہتمام متعدد پروگراموں کا انعقاد کرا چکی ہیں۔ وہ اپنے ملک اور بیرون ممالک میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں ۔ وہ اہل زبان ہیں اردو ان کی مادری زبان ہے جبکہ پنجابی اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل ہے۔ تسنیم صاحبہ کی 1980 میں اپنے خالہ زاد آصف صدیقی صاحب سے شادی ہوئی جن سے انہیں ماشاء اللہ 3 بچے پیدا ہوئے جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ تسنیم صاحبہ کو ہر اچھا شعر پسند ہوتا ہے خواہ وہ کسی نوآموز شاعر یا شاعرہ کا ہی کیوں نہ ہو تاہم وہ میر تقی میر کی مداح ہیں۔
    تسنیم کوثر صاحبہ اب تک کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکی ہیں اور متعدد اداروں سے وابستگی ہے اور ان کی اب تک شائع شدہ تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تعلیم:ایم فل اردو
    ممبر:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
    ملازمت: اے جی ایچ ایس لیگل
    ۔ ایڈ سیل کوآرڈینیٹر
    ۔ پیرا لیگلز ،وائیلنس
    ۔ اگینسٹ وومن،چائلڈ ابیوز
    ۔ پریزیڈنٹ روٹری کلب آف
    ۔ لاہور شادمان لاہور
    ۔ 2021۔2022
    ۔ ورکنگ پولیو مانیٹرنگ ٹیم
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ
    ۔ (2)ساحر لدھیانوی ایوارڈ
    ۔ (3)قتیل شفائی ایوارڈ
    ۔ (4)روشن اسکول ایوارڈ
    ۔ (5)مادل ٹاؤن لیڈیز کلب ایوارڈ
    ۔ (6)حسان بن ثابت ایوارڈ
    زبان:اردو،پنجابی
    اصناف: سفرنامہ، شاعری، افسانے
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کہانی ان دنوں کی
    ۔ (سفرنامہ انڈیا)
    ۔ (2)سرگوشی
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (3)چبھن
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (4)جہاں رحمت برستی ہے
    ۔ (سفر نامۂ حجاز)
    ۔ (5)مجھے اس دیس جانا ہے
    ۔ (سفر نامۂ ملائیشیا)
    ۔ (6)چابی سے بندھی عورت
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (7)محبت کا دوسرا کنارہ
    ۔ (شعری مجموعہ)

    غزل

    معیار اپنا ہم نے گرایا نہیں کبھی
    جو گر گیا نظر سے وہ بھایا نہیں کبھی

    ہم آشنا تھے موجوں کے برہم مزاج سے
    پانی پہ کوئی نقش بنایا نہیں کبھی

    حرص و ہوس کو ہم نے بنایا نہیں شعار
    اور اپنا اعتبار گنوایا نہیں کبھی

    اک بار اس کی آنکھوں میں دیکھی تھی بے رخی
    پھر اس کے بعد یاد وہ آیا نہیں کبھی

    تنہائیوں کا راج ہے دل میں تمھارے بعد
    ہم نے کسی کو اس میں بسایا نہیں کبھی

    تسنیم جی رہے ہیں بڑے حوصلے کے ساتھ
    ناکامیوں پہ شور مچایا نہیں کبھی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھروعدہ نہیں کرنا
    یہ وعدے ہم نےدیکھا ہے کہ اکثرٹوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر ضِد بھی نہیں کرنا
    اِسی ضِد سے یہ دیکھا ہے کہ ساتھی چھوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر تحفہ نہیں دینا
    یہ تحفے ہم نے دیکھا ہے بہت مجبور کرتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر شکوہ نہیں کرنا
    کہ شکوے ہم نے دیکھا ہے دِلوں کو دورکرتے ہیں
    محبت کے حسیں لمحوں میں دل رنجور کرتے ہیں

    قطعہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھولوں کا چاندنی کا نگر یاد ہے ہمیں
    خوشیوں بھری تھی جس کی ڈگر یاد ہے ہمیں
    چاہت سے جس پہ لکھا تھا اِک دوسرے کا نام
    پیپل کا وہ گھنیرا شجر یاد ہے ہمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے کیسے گمان میں گزری
    زندگی امتحان میں گزری
    بند تھے جس کے سارے دروازے
    عمر ایسے مکان میں گزری

    تسنیم کوثر

  • پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل

    پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل

    نثار عزیز بٹ

    7 فروری 2020 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل جنوری 1927 میں مردان میں پیدا ہوئیں۔ ان کی مادری زبان پشتو تھی مگر وہ انگلش، اردو ، فارسی اور فرنچ زبان پر بھی عبور تھا۔ پشاور میں میٹرک کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن کیا ۔ والدین کی سختی اور مخالفت کے باوجود ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا 1951 میں برقعہ پہن کر ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن پہنچ گئیں اور ریڈیو کے پروگرام میں حصہ لیا۔ جس کے بعد وہ ریڈیو سمیت مختلف ادبی پروگرامز میں شریک ہوتی رہیں جبکہ ناول لکھنا بھی شروع کر دیا ۔

    1954 میں اپنے خاندانی روایات سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی برادری میں شادی کرنے کی بجائے صحافی اور ڈرامہ نگار اصغر بٹ سے لاہور میں شادی کی ۔ اصغر بٹ سے شادی کے بعد وہ نثار عزیز کاکا خیل کی جگہ نثار عزیز بٹ بن گئیں۔ وہ نامور پاکستانی سیاستداں سرتاج عزیز کی بڑی بہن تھیں۔ نثار عزیز بٹ کے 4 ناول اور ایک آپ بیتی کی کتاب شائع ہوئی۔ ان کی تصانیف درج ذیل ہیں ۔

    1: نگری نگری پھرا مسافر 2: نے چراغے نے گلے 3: کاروان وجود 4: دریا کے سنگ اور ایک آپ بیتی ” گئے دنوں کا سراغ ” شامل ہے ۔ نثار عزیز بٹ کی تمام عمر جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتے گزری ۔ 7 فروری 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔