Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    پیدائش:25 ستمبر 1711ء
    بیجنگ
    وفات:07 فروری 1799ء
    بیجنگ
    مدفن:مشرقی چنگ مقابر
    شہریت:چنگ سلطنت
    اولاد:نسل
    مناصب
    شہنشاہ چین
    برسر عہدہ
    08 اکتوبر 1735- 9 فروری 1796ء

    چی این لونگ ایک شہنشاہ ہوتے ہوئے فاضل، ادیب، عالم اور نامور جرنیل تھا۔ اس کے عہد میں چین آزاد اور اقتدار کا ممتاز مظہر تھا۔ اس کا دور امن و امان کا حامل تھا۔ اس کی موت کے بعد شاہی کو ایسا زوال آیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور جمہوریت نے جنم لے لیا۔
    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ یونگ چینگ کا ولی عہد تھا جو حرم کے ایک خواص کی بطن سے پیدا ہوا تھا۔ اس کی ابتدائی زندگی مطالعہ اور تحقیقات میں گزری۔ اس کو امور سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ حکومت کے نظم و نسق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ اس کے علمی شوق اور افضیلت نے اسے دور دور تک مشہور کر رکھا تھا۔ وہ تصنیف، تالیف یا تحقیق میں اس قدر محو تھا کہ اسے عوام حالات تک معلوم نہیں تھے۔
    تخت نشینی
    ۔۔۔۔۔۔
    جب چی این لونگ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس کی عمر پچیس سال تھی۔ امرائے حکومت نے اسے مجبور کیا کہ وہ امور سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ اس نے جواب میں کہا کہ کسی ملک کی حکمرانی بڑی ذمہ داریوں کا کام ہے۔ جو اعلیٰ روایات ہمارے اسلاف نے قائم کی انہیں ایک آن کے ساتھ لیکر آگے بڑھنا تا کہ ملک ترقی کر سکے۔ عوام کے حقوق کی حفاظت اور بیرونی اقوام کے حملوں سے مادر وطن کا تحفظ ایسی ذمہ داریاں ہیں جسے شاید میں اچھی طرح سے انجام نہ دے سکوں۔ چی این لونگ کا یہ جواب وزرائے سلطنت کو اس قدر پسند آیا کہ وہ اس کی تخت نشینی پر زور دینے لگے۔ وزراء نے چی این لونگ کو آخر مجبور کر دیا کہ وہ تخت و تاج کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ چنانچہ لنگ 1735ء میں تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی کے بعد اس نے چار اتالیق مقرر کیے جو اسے امور سیاست سے واقف کراتے تھے۔
    یورپی مبلغین
    ۔۔۔۔۔۔
    علحدگی پسند چینی یہ نہ چاہتے تھے کہ مسیح اور دوسرے مذاہب کے داعی چین میں آ کر اپنے مذہب کا پرچار کریں جس وجہ سے چینی مذہب اور اس کی انفرادیت کو ٹھیس پہنچے۔ یہ نفرت انگیز اور کشیدہ جذبات چی این لونگ کے دادا کے زمانے سے پرورش پا رہے تھے۔ اس طویل عرصے میں یورپ کے مشزیز اپنے اثرات کو وسیع اور ہمہ گیر بنا رہے تھے۔ چی این لونگ نے امتناعی احکامات نافذ کر دیے کہ غیر مذاہب کی تبلیغ کو فوراً ختم کر دیا جائے۔ مبلغین جو تبلیغ کے علاوہ ایک سیاسی مقصد بھی رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ان پابندیوں کی پروا نہیں کی اور اپنا کام جاری رکھا۔ جب چی این لونگ کو قانون کی خلاف ورزی کی اطلاع ملی تو اس نے ان مبلغین کو سخت ترین سزائیں دلوایں جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ یہ کشمکش اس وقت شدید ترین ہو گئی جب جزائر فلپائن کے چینی باشندوں کو ہسپانوی باشندوں نے مسیحیت قبول نہ کرنے پر سخت سزائیں دیں گئی۔ اس کی خبر جب چین پہنچی تو چی این لونگ نے حکم دیا کہ ہسپانوی تبلیغ گھر جو چین میں تعمیر ہے سب کو مسمار کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ ہسپانوی مبلغین کو قتل کرنے کا حکم بھی دیا جس کی وجہ سے ہسپانوی مبلغین کو چن چن کر قتل کیا گیا۔
    یورپی تاجر
    ۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ مسیحیت اور مغربی اقوام کا سخت دشمن تھا اس نے تبلیغ مسیحیت کو حددود چین میں ممنوع قرار دیا تھا۔ بیرونی تاجروں پر کڑی نگرانی کا انتظام کر رکھا تھا۔ بندرگاہوں پر ایک خاص عہدہ دار جو ہوپو کے نام سے بھی مشہور ہے کا تقرر کیا گیا جو درآمدات اور برآمدات پر نگرانی کرتا۔ تاجروں پر سختیاں اور پابندیوں کو دیکھ کر جارج سوم شہنشاہ انگلستان نے چی این لونگ کے دربار میں اپنے قاصد میکارٹنی کو بھیجا۔ مگر چی این لونگ نے میکارٹنی کو بے نیل و مراد لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان ناکامیوں کا حل مغربی اقوام نے عجیب و غریب نکالا۔ ان لوگوں نے کثیر مقدار میں افیون کی درآمد شروع کر دی۔ چینیوں میں افیون کے اس شدید استعمال نے اخلاقی و مالی نقصانات پیدا کر دیے۔ مانچو حکمرانوں نے افیون کی تجارت ختم کرنے کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی تھی۔ جس کی انتہا یہ ہوئی کہ افیون کی تجارت کی وجہ سے بیرونی اقوام اور چین میں 1841ء میں جنگ بھی ہوئی جس میں چین کو شکست ہوئی۔
    وسط ایشیا کے جنگجو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرادر چین کی آزادی اور امن کے لیے مستقل خطرہ تھے۔ چین کی سیاست میں جب کبھی انحاط دیکھتے چین پر حملہ کر دیتے۔ چی این لونگ نے اس خطرے کو پوری طرح محسوس کیا اور یہ طے کیا کہ چین کے مستقل اس خطرے کے ارتفاع سے امن کی ایک ضمانت دلائی جائے۔ چنانچہ چی این لونگ نے کثیر ترفیت یافتہ فوج تیار کی اور مناسب موقع کا انتظار کیا۔ وقت کا انتظار اس لیے کیا جا رہا تھا کہ وسط ایشیا بے امنی، قتل اور غارت گری کا ایک خونی مرکز تھا۔ چی این لونگ سے بیشتر شاہان چین کی یہ جرات نہ ہو سکی تھی کہ وہ اس بارود خانے میں چنگاری پھینکیں۔ چی این لونگ نے موافق موسم میں مناسب حالات کے ساتھ ایک کثیر فوج لے کر وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں پر حملہ کر دیا۔ اس خون ریز لڑائی میں چی این لونگ کو فتح نصیب ہوئی اور تمام سرداروں کو اس نے زیر نگین کر لیا۔ اس مہم میں خاشگر، یارقند، خوقند اور سارا وسط ایشیا تسخیر کر لیا گیا۔
    سلطنت میں وسعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں کو زیر نگین کرنے کے بعد چی این لونگ نے 1768ء میں برما پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ جنگ چار سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں چینی فوجیں برما کے دار الحکومت تک تو نہیں پہنچ پائی لیکن چین کی سیادت کو حکومت برما نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس کے بعد 1792ء میں چینی افواج نے نیپال پر حملہ کیا تھا۔ اس لڑائی میں چین کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ شہنشاہ چی این لونگ کی سلطنت کی حدود افغانستان اور ہندوستان کے قریب قریب تک پھیلی ہوئی تھی۔
    دستبرداری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کو 1795ء میں دستبردار ہونا پڑا کیونکہ چینی قانونی کے لحاظ سے کوئی بھی بادشاہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ حکومت نہیں کر سکتا تھا۔دستبرداری کے بعد بھی چی این لونگ امور سلطنت کی نگرانی کرتا رہا۔
    دور حکومت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کا دور فتوحات سے قطع نظر اندرونی طور پر امن و امان کا حامل تھا۔ غریبوں اور کسانوں کی فلاح کے لیے کئی قوانین بنائے۔ چی این لونگ چین کا وہ عالم، مدبر، فن کار اور جنگجو فرمانروا ہے جس نے اپنی قابلیت سے چین کی علمی اور سیاسی زندگی میں بیش بہا اور گرانقد اضافے کیے۔ چی این لونگ چین کا آخری فرمانروا ہے جو چین کی عظمت و جلال کا ایک ممتاز مظہر تھا۔

  • چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    پیدائشی نام:Charles John Huffam Dickens
    پیدائش:07 فروری 1812ء
    وفات:09 جون 1870ء
    وجۂ وفات:دماغی جریان خون
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت متحدہ
    مادری زبان:انگریزی

    چارلس ڈکنز یا چارلز ڈکنز (انگریزی: Charles Dickens) انگلستان کا مشہور ناول نویس تھا۔ چارلس ڈکنز 07فروری 1812ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ بچپن میں نامساعد حالات سے گزرا۔ جس کی جھلک اس کے ناول اولیور ٹوسٹ اور ڈیوڈ کاپر فیلڈ میں ملتی ہے۔ عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے منشی کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں شارٹ ہینڈ سیکھ لی اور ایک اخبار کا رپورٹر ہو گیا۔ ان دونوں ملازمتوں میں ڈکنز کو وہ سب مواد دستیاب ہوا جو بعد میں اس نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ 1836ء میں ادبی زندگی کا آغاز کیا ماہنامے میں قسط وار داستان Pickwick Papeers لکھ کر کیا جو بہت مقبول ہوئی۔ 1842ء میں امریکا کا دورہ کیا۔
    ہندستان میں 1857ء کی جنگ آزادی (جسے برطانوی غدر کہتے ہیں) میں مقامی آبادی کو شکست کے بعد انگریزی تادیبی کارروائیوں پر ڈکنز کا بیان:
    I wish I were commander-in-chief in India … I should proclaim to them that I considered my holding that appointment by the leave of God, to mean that I should do my utmost to exterminate the race.
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    09 جون 1870ء کو اُس کا کینٹ برطانیہ میں انتقال ہو گیا۔

  • وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا،بشری رحمان بلبل پاکستان

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا،بشری رحمان بلبل پاکستان

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو جی چاہتا ہے

    بشری رحمان بلبل پاکستان

    7 فروری 2022 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ،ادیبہ،مصنفہ، شاعرہ ، ناول نگار ،افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،کالم نگار اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن 29 اگست 1944میں بہاولپور پنجاب میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاولپور سے اور ایم اے صحافت کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی ۔ 1960 میں لاہور کے ایک معروف صنعتکار میاں عبدالرحمن سے شادی ہوئی ۔ بشریٰ رحمن کی اب تک 14 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ناول،افسانے، شاعری، ڈرامے اور کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے لکھے ڈرامہ سیریل سے شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ ایک اخبار میں "چادر چار دیواری اور چاندنی” کے عنوان سے کالم نگاری بھی کرتی تھیں سائرہ ہاشمی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادبی تنظیم ” بزم ہم نفساں ” کا قیام عمل میں لایا جس کے زیر اہتمام وہ ہر ماہ اپنی رہائش گاہ پر ماہانہ مشاعرے کا انعقاد کرتی تھیں جس میں لاہور کے نامور شعراء اور شاعرات شریک ہو کر اپنا کلام پیش کرتے تھے بشری صاحبہ نے ایک ادبی ماہنامہ ” وطن دوست ” کا بھی اجراء کیا تھا ۔ انہوں نے ادب و سیاست اور صحافت کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ وہ دو بار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن اور دو بار قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں ۔ اسمبلی میں ان کی خوش گفتاری اور بہترین فقروں اور الفاظ کے استعمال کی بنا پر انہیں ” بلبل پاکستان” کے خطاب سے نوازا گیا تھا ۔ 7 فروری 2022 کو 78 برس کی عمر میں کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی نے ان کی وفات پر بڑے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا” خوب صورت شخصیت، دلفریب مسکراہٹ، غزالی آنکھوں اور رس بھرے لہجے کی مالک” ۔ بشری صاحبہ کی شائع ہونے والی کتابوں میں ،بت شکن، چپ، پشیمان ، پیاسی،چارہ گری ،خوب صورت ، عشق عشق، قلم کہانیاں ، مولانا ابوالکلام آزاد،ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو، بہشت،لازوال،دانا رسوائی ، صندل میں سانسیں چلتی ہیں ،بے ساختہ، کس موڑ پر ملے ہو، الله میاں جی اور ، تیرے سنگ در کی تلاش شامل ہیں ان کی آخری تصنیف "سیرت طیبہ صلی الله علیہ وسلم” ہے ۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے سیرت طیبہ کی کتاب مکمل کر کے وفات پائی ہے امید ہے کہ یہ تصنیف ان کی عاقبت سنوارنے کا باعث بنے گی جبکہ انہوں نے آخری افسانہ "_گیسو” دسمبر 2021 میں لکھا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مرد کو باغی بنانے میں عورت کا کردار زیادہ ہے شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کو بلا جواز شک کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ان کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں جس کی وحہ سے شوہر تنگ آ کر اپنے گھر سے باہر غیر محرم خواتین سے رابطہ استوار کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ بشریٰ رحمن صاحبہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے 2007 صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    چند منتخب اشعار

    تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
    آتش شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے

    ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
    دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
    نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو

    مرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
    معطر باوضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

  • نامور فلمی شاعر سیّد خورشید علی کا یوم پیدائش

    نامور فلمی شاعر سیّد خورشید علی کا یوم پیدائش

    اصل نام:سید خورشید علی
    قلمی نام:تنویر نقوی
    تاریخ ولادت:06 فروری 1919ء
    تاریخ وفات:01نومبر 1972ء

    اردو کے نامور فلمی شاعر تنویر نقوی کا اصل نام سیّد خورشید علی تھا اور وہ 6 فروری 1919ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا اور ان کے بڑے بھائی بھی نوا نقوی کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ تنویر نقوی نے 15 سال کی عمر میں شاعری شروع کی اور 21 سال کی عمر میں1940 ء میں ان کا پہلا مجموعہ سنہرے سپنے کے نام سے شائع ہوا اس سے قبل 1938ء میں وہ ہدایت کار نذیر کی فلم شاعر سے فلمی نغمہ نگاری کا آغاز کرچکے تھے۔
    قیام پاکستان کے بعد 1950ء میں تنویر نقوی پاکستان چلےگئے جہاں انھوں نے اپنے بے مثل گیتوں سے دھوم مچا دی تنویر نقوی کے مقبول نغمات کی فہرست بے حد طویل ہے جن میں زندگی ہے یا کسی کا انتظار (فلم سلمیٰ)‘ جان بہاراں‘ رشک چمن (فلم عذرا)‘ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائوں (فلم انارکلی)‘ رم جھم رم جھم پڑے پھوار (فلم کوئل)‘ زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نا (فلم ہم سفر)‘ رقص میں ہے سارا جہاں (فلم ایاز) اے دل تری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں ہے (فلم تاج محل) اور 1965ء کی جنگ میں نشرہونے والا نغمہ رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو سرفہرست ہیں۔

    تنویر نقوی نے کئی فلموں کے لیے کئی فلموں کے لیے کئی خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں جن میں فلم نور اسلام کی نعت شاہ مدینہ‘ یثرب کے والی اور فلم ایاز کی نعت بلغ العلیٰ بکمالہٖ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
    تنویرؔ نقوی کا انتقال یکم نومبر 1972ء کو لاہور میں ہوا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہمارے واسطے ہر آرزو کانٹوں کی مالا ہے
    ہمیں تو زندگی دے کر خدا نے مار ڈالا ہے

    ادھر قسمت ہے جو ہر دم نیا غم ہم کو دیتی ہے
    ادھر ہم ہیں کہ ہر غم کو ہمیشہ دل میں پالا ہے

    ابھی تک اک کھٹک سی ہے ابھی تک اک چبھن سی ہے
    اگرچہ ہم نے اپنے دل سے ہر کانٹا نکالا ہے

    غلط ہی لوگ کہتے ہیں بھلائی کر بھلا ہوگا
    ہمیں تو دکھ دیا اس نے جسے دکھ سے نکالا ہے

    تماشا دیکھنے آئے ہیں ہم اپنی تباہی کا
    بتا اے زندگی اب اور کیا کیا ہونے والا ہے

  • پاکستان  کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ  کا یوم وفات

    پاکستان کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ کا یوم وفات

    6 فروری 2018
    ۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ممتاز صحافی، مصنف اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ 10 فروری 1940 کو لیاری کراچی میں میر جنگیان خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے پر دادا ایران سے نقل مکانی کر کے کراچی میں آباد ہوئے تھے ۔ صدیق بلوچ نے ابتدائی تعلیم کراچی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول سے حاصل کی جبکہ میٹرک سندھ مدرستہ الاسلام سے کیا ، سندھ آرٹس اینڈ کامرس کالج سے ماسٹر اور کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی ۔ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی سیاسی سرگرمیوں میں فعال رہے تھے ، کامرس کالج میں طلبہ یونین کے صدر اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے فعال رہنما رہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے کراچی کے ایک نجی کالج میں کچھ عرصہ مدرس کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیے جہاں فیض احمد فیض پرنسپل تعینات تھے لیکن جلد ہی فیض احمد فیض اور صدیق بلوچ کالج کی ملازمت چھوڑ کر صحافت کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ صدیق بلوچ جوکہ اپنے قریبی حلقوں میں لالہ صدیق بلوچ کے نام سے پکارے جاتے تھے ،نے پاکستان کے سب بڑے انگریزی اخبار "ڈان” سے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا ۔ انہوں نے ڈان میں سب ایڈیٹر ،اسٹاف رپورٹر ،کرائم رپورٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے اپنی صحافتی خدمات انجام دیں ۔ صدیق بلوچ صاحب ایک سیاسی کارکن بھی تھے اس لیے انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی (نعپ) سے بھی وابستگی رکھی اور ملکی سیاست میں بہت فعال کردار ادا کرتے رہے اور ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما میر غوث بخش بزنجو،سردار عطاء اللہ خان مینگل اور نواب خیر بخش خان مری کے بہت قریب رہے۔ میر غوث بخش بزنجو جب بلوچستان کے پہلے سول گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صدیق بلوچ کو اپنا پی آر او مقرر کیا لیکن جب” نعپ” کی منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا تو سردار عطاء الله خان مینگل اور میر غوث بخش بزنجو سے قریبی تعلقات کی بنا پر صدیق بلوچ کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے پھر سے اپنی سیاسی اور صحافتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ کراچی میں انہوں نے اپنے والد صاحب کے نام سے منسوب "جنگیان ہوٹل”بھی کھول رکھا تھا اور وہ سیاسی کارکنوں کے لیے "لنگر خانہ” کا کام دے رہا تھا جس میں سیاسی کارکنان کو بلا امتیاز مفت کھانا فراہم کیا جاتا تھا دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے دور کے سیاسی اور صحافتی قلندر لالہ صدیق بلوچ جنگیان ہوٹل میں آنے والے سیاسی کارکننوں کو کھانا پیش کرنے کے لیے خود "ویٹر” کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔

    صدیق بلوچ نے انگریزی اخبار ڈان سے طویل وابستگی کے بعد علیحدگی اختیار کر کے کراچی سے ” سندھ ایکسپریس ” کے نام سے انگریزی اخبار جاری کیا لیکن مالی مشکلات کے باعث 2 سال بعد انہیں یہ اخبار بند کرنا پڑا۔ 1992 میں صدیق بلوچ نے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے "بلوچستان ایکسپریس ” کے نام سے ایک انگریزی اخبار جاری کیا اور 2002 میں کوئٹہ سے ہی اردو اخبار ” روزنامہ آزادی ” کا بھی اجرا کیا۔ لالہ صدیق بلوچ کے یہ دونوں اخبار بلوچستان میں صحافیوں کے لیے درسگاہ کی حیثیت رکھتے تھے جہاں صدیق بلوچ ایک استاد کی حیثیت سے صحافیوں کی خصوصی تربیت کرتے تھے۔ صدیق بلوچ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے دو بار صدر اور کراچی پریس کلب کے نائب صدر بھی رہ چکے تھے ۔ وہ اپنے دونوں اخبارات میں نہایت پابندی کے ساتھ صوبائی اور ملکی صورتحال پر کالم لکھتے تھے جن کی تحریروں کو عوام اور مقتدر حلقوں میں خصوصی توجہ کے ساتھ پڑھا جاتا تھا۔ وہ بلوچستان کا سیاسی مقدمہ بھی بڑی مضبوطی سے لڑتے تھے اس لیے انہیں ” بلوچستان کے حقوق کے سفیر” کے خطاب سے بھی پکارا جاتا تھا۔ ملک کے ایک نامور صحافی کی حیثیت سے ان کے مقتدر حلقوں خواہ حکومتی اکابرین صدر،وزیراعظم، گورنر ، وزیر اعلیٰ ،وفاقی اور صوبائی وزرا اور اعلیٰ سطح کے سول افسران کے ساتھ تعلقات تھے مگر انہوں نے کبھی بھی ان سے کوئی ناجائز فائدہ اور مراعات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ بلوچی زبان و ادب اور ثقافت کے ایک سب سے بڑے نجی ادارے "بلوچی اکیڈمی کوئٹہ ” کے چیئرمن بھی رہے۔ انہوں نے بلوچستان کے معاشی اور اقتصادی مسائل کے حوالے سے دو جلدوں پر مشتمل انگریزی میں ایک کتاب” پولیٹیکل اکانامی آف بلوچستان ” شائع کی ۔ صدیق بلوچ 4 زبانوں اردو،بلوچی،انگریزی اور سندھی پر عبور رکھتے تھے ۔ پاکستان کے یہ مایہ ناز صحافی 6 فروری 2018 میں علالت کے باعث دوران علاج کراچی میں انتقال کر گئے لیکن اپنی اعلیٰ صحافتی خدمات کے باعث وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ صدیق صاحب کے پسماندگان میں 5 فرزند محمد عارف، محمد آصف، محمد طارق ، محمد ظفر اور محمد صادق بلوچ شامل ہیں جنہوں نے اپنے عظیم باپ کے صحافتی ورثے کو سنبھال رکھا ہے۔ وہ کوئٹہ سے شائع ہونے والے دونوں اخبار ،بلوچستان ایکسپریس اور "آزادی” کو چلا رہے ہیں تاہم آجکل کے ناسازگار حالات کے باعث انہیں شدید مالی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اخبارات کو سرکاری اشتہارات کی مد میں نظرانداز کرنا ہے ۔ لالہ صدیق بلوچ صاحب کے صحافی شاگرد سندھ اور بلوچستان میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں میرے ہوم ڈسٹرکٹ نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی ڈیرہ مراد جمالی پریس کلب کے سابق صدر ولی محمد زہری سابق صدر نصیر احمد مستوئی اور کوئٹہ پریس کلب کے شیخ عبدالرزاق بھی شامل ہیں ۔

  • معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم  بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش

    معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش

    6 فروری 1985

    معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام اور تخلص . . بلقیس
    قبیلہ ۔ عمرانی بلوچ

    والد صاحب کا نام: غلام جان عمرانی بلوچ
    والدہ محترمہ کا نام: بی بی صفوری
    آبائی وطن : بلوچستان
    جائے ولادت: کراچی
    تاریخِ ولادت:06 فروری 1985ء
    تعلیم:ایم اے اردو
    پی ایچ ڈی اردو
    پیشہ: لیکچرار اردو
    گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، کراچی
    تلمذ: پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی
    سابق صدرنشیں شعبۂ اردو جامعہ کراچی
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلام میر میں بحورواوزان کا
    فنی اور موضوعی جائزہ
    (مقالہ پی ایچ ڈی
    تحقیقی مضمون بعنوان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)میرکی شاعرانہ عظمت اور
    ۔ بحر مضارع اخرب مکفوف
    ۔ محذوف مقصور تحقیقی جائزہ
    ۔ شائع شدہ شش ماہی مجلہ اردو
    ۔ جلد 95,شمارہ دوم
    ۔ 2019،انجمن ترقی اردو پاکستان
    ۔ کراچی۔
    ۔ (2)مرزا غالب کی فارسی کلیات
    ۔ جلداول تا سوم کا
    ۔ عروضی مطالعہ ۔زیر طبع
    (3) قدیم بلوچی داستانوں میں
    ۔ عورت کا کردار
    ۔ شائع شدہ زاویے(تانثی ادب)
    ۔ کتابی سلسلہ نمبر 3
    ۔ شعبہ اردو بریلی کالج،2018,دہلی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخبار فروش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کراچی کی کسی مشہور شاہراہ پر
    کوئی اخبار ہاتھوں میں لیے بچہ
    ہزاروں گاڑیوں کے درمیاں سگنل جہاں کچھ دیر کو ہی بند ہوتا ہے
    صدا وہ یہ لگاتا ہے
    ارے بابو!…..سنو گے آج کی تازہ خبر؟؟؟
    وزیرِ اعلیٰ نے تعلیم کردی مفت صوبے میں
    ارے بابو! سنو تو آج کی تازہ خبر!
    کہ آٹے دال کی اب قیمتوں میں اور اضافہ ہوگیا ہے
    آج کی تازہ خبر!
    اک باپ نے غربت کے ہاتھوں اپنے بچوں کو کھلا کر زہر خود بھی خودکشی کرلی!!
    یہی بچہ صدا دیتا ہوا اور آگے بڑھتا ہے
    اچانک…..
    اچانک دور سے اک چمچماتی کار گاڑی بند سگنل توڑ کر تیزی سے بچے کو کچل کر آگے بڑھتی ہے….
    لہو میں تر سڑک کے دو کناروں پر پڑے ہیں آج کے اخبار
    یہی ہے آج کی تازہ خبر۔۔۔۔۔

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ Goodbye2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وبا کے سال کی یہ آخری شب ہے
    چلو اس کو وداع کرلیں
    دعا کرلیں کہ آنے والا سورج اک نئی امید لے آئے
    گزرتے سال کے ان تین سو پینسٹھ دنوں کے دکھ
    کبھی نہ لوٹ کے آئیں
    بلائیں اور وبائیں آفتیں اس کی
    سبھی کو ڈھلتاسورج ساتھ لے ڈوبے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حیات بلوچ کی شہادت پر:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باپ کا لختِ جگر لیٹا زمیں پہ خوں میں تر
    موت کا منظر کبھی ایسا نہ دیکھا پیشتر
    باپ ماتھے پر دے بوسہ، بولے واری جائے ماں
    اٹھ ارے جانِ پدر سینا مرا چھلنی نہ کر
    ماں کرے فریاد ہاتھوں کو اٹھائے چیخ کر
    چپ ہے کیوں میری حیات، اس کو اٹھا جھنجھوڑ کر
    اور پکارے رب کو ”الباعث مرے المنتقم“
    تُو جگا بیٹے کو میرے، ظلم پر انصاف کر
    بے گنہ مارا گیا ہے، اس کی باقی تھی حیات
    تُو گراتا کیوں نہیں ہے آسماں اس قہر پر؟
    کھینچ اس قاتل کی رسی اور نہیں کرنا دراز
    دیکھ بڑھتا جارہا ہے آئے دن ظالم کا شر
    کیا یہ میداں کربلا ہے؟ یا ہے تربت کی زمیں؟
    ہے یہاں بلقیس بھی نوحہ کناں اس ظلم پر

  • مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی اپنے معاصرین میں اپنی شاعری کے نئے رنگوں اور دکھ درد کی بے شمار صورتوں میں لپٹی ہوئی زندگی کے سبب سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ یگانہ کا نام مرزا واجد حسین تھا پہلے یاس تخلص کرتے تھے بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا۔ ان کی پیدائش 17 اکتوبر 1884ء کو محلہ مغلپورہ عظیم آباد میں ہوئی۔

    1903 میں کلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تنگیِ حالات کے سبب تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ 1904ء میں واجد علی شاہ کے نواسے شہزادہ میرزا محمد مقمیم بہادر کے انگریزی کے اتالیق مقرر ہوئے۔ مگر یہاں کی آب وہوا یگانہ کو راس نہیں آئی اور وہ عظیم آباد لوٹ آئے۔

    عظیم آباد میں بھی ان کی بیماری کا سلسلہ جاری رہا اس لئے تبدیلی آب وہوا کے لئے 1905ء میں انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا۔ یہاں کی آب وہوا اور اس شہر کی رنگا رنگ دلچسپیوں نے یگانہ کو کچھ ایسا متأثر کیا کہ پھریہیں کے ہورہے، یہیں شادی کی اور یہیں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ تلاش معاش کیلئے لاہور اور حیدرآباد گئے بھی گئے لیکن لوٹ کر لکھنؤ ہی آئے۔

    ابتدائی کچھ برسوں تک تو یگانہ کے تعلقات لکھنؤ کے شعراء وادباء کے ساتھ خوشگوار رہے، انہیں مشاعروں میں بلایا جاتا اور یگانہ اپنی تہہ دار شاعری اور خوش الحانی کی بنا پر خوب داد وصول کرتے لیکن دھیرے دھیرے یگانہ کی مقبولیت لکھنوی شعراء کو کھلنے لگی۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی غیرلکھنوی لکھنؤ کے ادبی معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے۔ اس لیے یگانہ کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ ان کے لیے معاشی مشکلیں پیدا کی جانے لگیں۔ اس دشمنی کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب یگا نہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی رباعیاں کہہ دی تھیں جن کی وجہ سے سخت مذہبی خیالات رکھنے والوں کو تکلیف ہوئی۔

    اس موقع کا فائدہ اٹھا کریگانہ کے مخالفین نے ان کے خلاف ایسی فضا تیار کی کہ مذہبی جوش وجنون رکھنے والے یگانہ کو لکھنؤ کی گلیوں میں کھیچ لائے، چہرے پر سیاہی پوت کران کا جلوس نکالا اور طرح طرح کی غیرانسانی حرکتیں کیں۔لکھنؤ کے اس ادبی معاشرے میں یگانہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس سوچ کے خلاف لڑنا تھا جس کے تحت کوئی فرد یا گروہ زبان وادب اور علم کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔

    یگانہ کی شاعری کی داستان لکھنؤ میں کی جانے والی ایک ایسی شاعری کی داستان ہے جو وہاں کی گھسی پٹی اور روایتی شاعری کو رد کرکے فکر وخیال اور زبان کے نئے ذا ئقوں کو قائم کرنے کی طرف مائل تھی۔ لکھنؤ میں یگانہ کے معاصرین ایک خاص انداز اور ایک خاص روایت کی شاعری کی نقل اڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے یہاں نہ کوئی نیا خیال تھا اور نہ ہی زبان کا کوئی نیا ذائقہ وہ داغ و مصحفی کی بنائی ہوئی لکیروں پر چل رہے تھے۔

    لکھنؤ میں یگانہ کی آمد نے وہاں کے ادبی معاشرے میں ایک ہلچل سی پیدا کردی۔ یہ ہلچل صرف شاعری کی سطح پر ہی نہیں تھی بلکہ یگانہ نے اس وقت میں رائج بہت سے ادبی تصورات ومزعومات پر بھی ضرب لگائی اور ساتھ ہی لکھنو کے اہلِ زبان ہونے کے روایتی تصور کو بھی رد کیا۔ غالب کی شاعری پر یگا نہ کے سخت ترین اعتراضات بھی اس وقت کے ادبی ماحول میں حد سے بڑھی ہوئی غالب پرستی کا نتیجہ تھے۔

    یگانہ کی شاعری آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ وہ زبان اور خیالات کی سطح پر شاعری کو کن نئے تجربوں سے گزار رہے تھے۔ یگانہ نے بیسوی صدی کے تمام تر تہذیبی، سماجی اور فرد کے اپنے داخلی مسائل کوجس انداز میں چھوا اور ایک بڑے سیاق میں جس طور پرغزل کا حصہ بنایا، اس طرح ان کے عہد کے کسی اور شاعرکے یہاں نظر نہیں آتا۔ یہی تجربات آگے چل کر جدید اردو غزل کا پیش خیمہ بنے۔

    یگانہ کی کتابیں : شعری مجموعے : نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ، گنجینہ۔ دیگر : چراغ سخن، غالب شکن۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
    مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

    کشش لکھنؤ ارے توبہ
    پھر وہی ہم وہی امین آباد

    درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے
    وہم کی کیا دوا کرے کوئی

    کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی
    کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

    موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی
    لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

    واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا
    یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

    سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
    سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

    خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
    خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

    وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ
    مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

    خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گا
    گرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پر

    دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

    پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
    اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

    شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل
    غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا
    جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو
    کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے

    پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
    خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

    بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
    خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

    کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
    دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

    پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش
    اب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

    غالب اور میرزا یگانہؔ کا
    آج کیا فیصلہ کرے کوئی

    مفلسی میں مزاج شاہانہ
    کس مرض کی دوا کرے کوئی

    کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہو
    دل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیں

    نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے
    بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا

    مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
    پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

    جھانکنے تاکنے کا وقت گیا
    اب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے

    پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
    اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

    آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے
    کل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سے

    خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
    خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

    صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے
    اپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر

    دیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا
    سب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا

    مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
    بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

    باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آ
    ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

    دور سے دیکھنے کا یاسؔ گنہ گار ہوں میں
    آشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے

    دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں
    انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا

    مرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے
    حق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے

    نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس
    بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

    دنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں
    اللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا

    رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے
    پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

    کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
    اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

    حسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے
    سات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا

    یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں
    دل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے

    پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ
    سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

    ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
    عرش بریں میں اور ترے آستانے میں

    فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے
    دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا

    یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبار
    مہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا

    ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ
    بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

    بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں
    کہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے

    یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
    یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں

    امتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا
    آئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر

  • عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    3 فروی 1975
    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مصر سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ام کلثوم 31دسمبر 1898میں مصر کے ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام ابراہیم اور والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا۔ ان کے والد ابراہیم قرآن کے حافظ اور مسجد کے امام تھے اپنی بیٹی کلثوم کو بھی انہوں نے قرآن حفظ کرایا۔ بعد میں ان کے والد نے ہی ان کو گلوکاری کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے گلوکار ابوالعلا سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔

    انہوں نے سب سے زیادہ مصر کے عرب شاعر احمد راہی کے گیت گائے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی شعراء کے کلام بھی گائے۔ ام کلثوم کی آواز میں بلا کی مٹھاس اور سوز و سرو شامل تھا وہ اپنی آواز کا جادو جگا کر سامعین پر سحر طاری کر دیتی تھیں یہی وجہ ہے کہ انہیں مصر کی بلبل،کوکب المشرق یعنی مشرق کا ستارہ اور عرب موسیقی کی ملکہ کے خطاب سے نوازا گیا۔ مصر کے شاہ فاروق اور جمال ناصر بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے ۔

    شاہ فاروق نے ان کو مصر کے سب سے بڑے ایوارڈ "ذیشان الکمال” سے نوازا۔ جبکہ علامہ اقبال کا ترجمہ شدہ کلام عربی میں گانے پر حکومت پاکستان کی جانب سے ان کو ستارہ الہلال کا ایوارڈ عطا کیا گیا ۔ مصری حکومت نے ام کلثوم کی آواز میں قرآن کی تلاوت بھی ریکارڈ کروایا ۔ ام کلثوم 1923 میں اپنے آبائی گاؤں سے قاہرہ منتقل ہو گئیں ۔ 1954میں ام کلثوم کی ڈاکٹر حسن الخضری سے شادی ہوئی ۔ ام کلثوم پر گاتے وقت وجد طاری ہو جاتا تھا۔ اس لیے وہ وہ اپنے ہاتھ میں رومال رکھتی تھی وہ گانے کے دوران وجد میں آ کر اس رومال کو پھاڑ کر لیرا لیرا کر دیتی تھیں ۔

    ام کلثوم کا شمار عرب دنیا کی موسیقی کے 4 بڑے گلوکاروں میں ہوتا ہے جن میں عبدالحلیم حافظ، ام کلثوم ، محمد عبدالوہاب اور فرید الطرش شامل ہیں ۔ دنیائے عرب کی ملکہ موسیقی اور ستارہ مشرق ام کلثوم کا 3 فروری 1975 میں انتقال ہوا ان کے جنازہ نماز میں 40 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی جوکہ ایک عالمی ریکارڈ اور ان کی انتہا درجے کی مقبولیت کا ثبوت بھی ہے۔

  • حیا ہراریت   اسرائیلی   اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت

    اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    3 فروری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ اسرائیلی اداکارہ ، مصنفہ اور اسکرپٹ رائٹر حیا ہراریت 20 ستمبر 1931 میں ہائفہ فلسطین میں پیدا ہوئی۔ ہائفہ اس وقت اسرائیل کا حصہ ہے ۔ 1955 میں انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا انہوں نے بیحد متاثر کن اداکاری کے جوہر دکھائے اور اورفلمی کہانیاں لکھیں اور فلم اسکرپٹ لکھ کر بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی اور عالمی فلمی میلہ میں خصوصی ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے دو شادیاں کیں پہلی شادی اسرائیلی انجنیئر Nachman Zervanitzer سے کی چند برس بعد ان سے علیحدگی اختیار کی جبکہ دوسری شادی برطانوی فلم ڈائریکٹر Jack Clayton سے کی ۔ 3 فروری 2021 برطانیہ میں 90 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔

  • شوکت تھانوی:نامورمصنّف،مزاح نگار، شاعر اور صحافی

    شوکت تھانوی:نامورمصنّف،مزاح نگار، شاعر اور صحافی

    2 فروری : یوم پیدائش
    نامور مزاح نگار، شاعر اور صحافی شوکت تھانوی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر ہے اور وہ 2 فروری 1904ءکوبندرابن ضلع متھرا میں پیدا ہوئے ۔آبائی وطن تھانہ بھون ضلع مظفر نگر تھا اور اسی نسبت سے تھانوی کہلاتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک لکھنو میں مقیم رہے جہاں انہوں نے مزاح نگاری‘ شاعری اور صحافت کے میدانوں میں جھنڈے گاڑے۔ 1930ءمیں نیرنگ خیال کے سالنامے میں ان کا مشہور مزاحیہ افسانہ “ سود یشی ریل“ شائع ہوا جس کے بعد ان کا شمار اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہونے لگا۔

    قیام پاکستان کے بعد شوکت تھانوی پاکستان منتقل ہوگئے اور پہلے کراچی اور پھر راولپنڈی میں مقیم ہوئے جہاں وہ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے مدیر مقرر ہوئے ۔روزنامہ جنگ میں ان کے کالم ”وغیرہ وغیرہ“ اور پہاڑ تلے بھی قارئین میں بے حد مقبول تھے۔

    شوکت تھانوی کی تصانیف میں موج تبسم‘ بحر تبسم‘ دنیائے تبسم‘برق تبسم، سیلاب تبسم‘ سودیشی ریل‘ قاعدہ بے قاعدہ‘ نیلوفر‘ جوڑ توڑ‘ سنی سنائی‘ خدانخواستہ‘ بارخاطر ، ان کی خودنوشت سوانح ”مابدولت“ اور خاکوں کا مجموعہ شیش محل شامل ہیں۔

    شوکت تھانوی4 مئی 1963ءکو لاہور میں وفات پاگئے اور وہیں حضرت میاں میر کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔