Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید 1940 میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

    میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔

    پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران 1984میں انتقال کر گئے۔

    کشور ناہید کے چھ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو ۱۹۶۹ء میں ان کی کتاب ’’لب گویا‘‘ پر آدم جی ایوارڈ بھی ملا۔ انہوں نے فرانس کی مشہور ناول نگار سمعون ڈی بوار کی کتاب ’’سیکنڈ سیکس‘‘ کا اردو ترجمہ ۱۹۸۳ء میں ’’عورت‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ کشور ناہید کی متعدد نظموں کا انگلش اور ہسپانوی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

    کشور ناہید کو آدم جی ایوارڈ کے علاوہ یونیسکو پر اثر منڈیلا ایوارڈ، ستارئہ امتیاز اور کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
    .
    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے
    اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے

    دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی
    خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے

    پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا
    پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے

    آنکھ آئنوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک
    ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے

    کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہ
    کیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے

    عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھا
    فاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے

    ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہا
    کوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے

    اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیں
    جو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے

    اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبت
    وہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے

    وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کے
    جو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے

    غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھے
    کون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے

    اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظر
    دل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے

    میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پر
    ایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے

  • ڈینئل پرل امریکی صحافی

    ڈینئل پرل امریکی صحافی

    پیدائش:10 اکتوبر 1963ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    ریاستہائے متحدہ امریکا
    وفات:01 فروری 2002ء
    ۔ (عمر 38 سال)
    ۔ کراچی، سندھ، پاکستان
    وجہ وفات:سر قلم
    طرز وفات:قتل
    دریافت نعش:16 مئی 2002ء
    رہائش:واشنگٹن ڈی سی
    ریاستہائے متحدہ
    قومیت:ریاستہائے متحدہ
    اسرائیل
    دیگر نام:ڈینی
    نسل:یہودی
    آبائی علاقہ:اینسینو، لاس اینجلس
    کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ
    مذہب:یہودیت
    رکن:فی بیٹا کاپا سوسائٹی
    زوجہ:میرئین پرل
    ۔ (1999-2002ء
    ۔ اس کے سانحۂ انتقال تک)
    اولاد:ایڈم ڈانئیل پرل
    ولادت:28 مئی 2002ء
    والدین:جوڈیا پرل (والد)
    روتھ پرل (ماں)
    رشتے دار:میشیل اینڈ تمارا (بہنیں)
    تعلیم:مواصلات میں بی اے
    مادر علمی:اسٹینفورڈ یونیورسٹی
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    ملازمت:وال اسٹریٹ جرنل
    وجہ شہرت:وال اسٹریٹ صحافت

    ڈینئل پرل ایک امریکی صحافی تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈانئیل پرل کا اغوا اس وقت کیا گیا تھا جب وہ 2002ء میں ایک کہانی کی تحقیق کے لیے کراچی میں تھے۔ اغوا کے بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش کراچی کے باہری علاقے میں ملی تھی۔ اس وقت پولیس نے قتل کی تحقیقات کے بعد اس میں انتہا پسند مذہبی عناصر کے شامل ہونے کا شک ظاہر کیا تھا جسے بعد میں سچ پایا گیا تھا۔

  • جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار

    جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار

    جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار۔

    اصل نام آؤسیف ایلیکزینڈرووچ بروڈسکی تھا ایک روسی نژاد امریکی شاعر اور مضمون نگار تھے 24 مئی 1940 میں پیدا ہونے والے جوزف بروڈسکی{Joseph Brodsky} لینین گراڈ کے ایک روسی یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے ان کا تعلق ایک ممتاز اورقدامت پسند ربانی خاندان، شورر (شور) سے تھا۔ اس کے ددھیال کا تعلق جوزف بین اسحاق بیخور شور سے ہے۔ اس کے والد ، الیکزینڈر بروڈسکی ، سوویت بحریہ میں ایک پیشہ ور فوٹو گرافر تھے ، اور ان کی والدہ ، ماریہ والپرٹ بروڈسکایا ، ایک پیشہ ور ترجمان تھیں جن کے کام سے اکثراس خاندان کی کفالت میں مدد ملتی تھی۔ وہ فرقہ وارانہ اپارٹمنٹ میں رہتے تھے ، ان کی زندگی بچپن کا حصہ غربت اورپسماندگی میں گزرا۔ بچپن میں بروڈسکی لینین گراڈ کے محاصرے سے بچ گئے جہاں وہ اور اس کے والدین فاقوں اور بھوک سے مر گئے اور ان کی ایک خالہ بھوک سے مر گئی۔ بعد میں وہ محاصرے کی وجہ سے مختلف صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوگئے۔ بروڈسکی نے تبصرہ کیا کہ ان کے بہت سارے اساتذہ سامی { یہودی} مخالف ہیں اور انہیں ابتدائی عمر سے ہی اختلاف کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ “میں نے لینن کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ جب میں پہلی جماعت میں تھا ، اس کے سیاسی فلسفے یا عمل کی وجہ سے نہیں ۔۔ بلکہ ان کی ہر جگہ کی تصویروں کی وجہ سے۔”

    ایک نوجوان طالب علم کی حیثیت سے جوزف بروڈسکی “ایک غیر مہذب بچہ” تھا جو اپنے اسکول میں لڑنے جھگڑنے والا بچی جانا جاتا تھا۔ پندرہ سال کی عمر میں بروڈسکی نے اسکول چھوڑ دیا اور کامیابی کے بغیر سب میرینرز اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہ ملنگ مشین آپریٹر کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ بعدازاں ، معالج بننے کا فیصلہ کرنے کے بعد انہوں نے کرسٹی زندان میں اور سلائی کرنے کا کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہسپتالوں میں ، جہاز کے بوائلر روم میں ، اور ارضیاتی اسفار کی متعدد ملازمتیں رکھی۔ اسی وقت ، بروڈسکی نے خود تعلیم کے ایک پروگرام میں مشغول کیا۔ انہوں نے پولش بولنا سیکھا ،تاکہ وہ پولینڈ کے شعراء جیسے Cesesła Miłosz ، اور انگریزی کے کاموں کا ترجمہ کرسکیں تاکہ وہ جان ڈونی کا ترجمہ کرسکیں۔ راستے میں ، اس نے کلاسیکی فلسفہ ، مذہب ، خرافات ، اور انگریزی اور امریکی شاعری میں گہری دلچسپی حاصل کرلی۔

    جوزف بروڈسکی کو شمالی روس کے ایک مزدور کیمپ میں پانچ سال قید کی 18 ماہ قید کے بعد 1972 میں سوویت یونین سے جلاوطن کیا گیا تھا۔ جوزف بروڈسکی کے مطابق ادب نے اس کی زندگی کو گھیر لیا۔ انہوں نے کہا ، “میں ایک عام سوویت لڑکا تھا۔ “میں اس نظام کا آدمی بن سکتا تھا۔ لیکن کسی چیز نے مجھے الٹا کردیا: [فیوڈور دوستوفسکی] انڈر گراؤنڈ سے نوٹس پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں کیا ہوں۔ میں برا ہوں۔”

    بروڈسکی نے سوویت حکام کی سختیوں اور پابندیوں کے بعد امریکہ چلے گئے۔ اور 1972 میں سوویت یونین سے اور بقول ان کے “ہجرت کی” سختی سے نصیحت ہوئی ۔ ڈبلیو ایچ آڈن اور دوسرے حامیوں کی مدد سے ریاست ہائے متحدہ میں مقیم ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے ماؤنٹ ہولیوک کالج ، اور ییل ، ​​کولمبیا ، کیمبرج ، اور مشی گن سمیت یونیورسٹیوں میں تعلیم وتدریس کے پیشے سے منسلک ہو گئے۔

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر آندرے رنچین کے مطابق: “بروڈسکی وہ واحد جدید روسی شاعر ہے جس کے جسمانی کام کو پہلے ہی کانونائزڈ کلاسک کا اعزازی خطاب دیا گیا ہے ۔ بروڈسکی کا ادبی تخصیص ایک غیر معمولی رجحان ہے۔ کسی بھی دوسرے ہم عصر روسی مصنف کو اس طرح کی متعدد یادداشتوں کا ہیرو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ کسی اور کے پاس اتنی ساری کانفرنسیں ان کے لیے وقف نہیں تھیں”۔

    سوویت یونین چھوڑنے سے پہلے ، بروڈسکی نے اپنے پسندیدہ روسی شاعر انا اخماٹووا کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ جلاوطنی کے بعد وہ امریکہ چلے گئے۔ ، جہاں اس نے بروکلین اور میساچوسٹس میں قیام کیا۔ ۔ان کے دوست شاعر سیمس ہینی کے مطابق ، وہ “مبہوت ، محنتی اور ایک خاص مقدار میں خلوت میں رہتے تھے۔”

    بروڈسکی نے اپنی نسل کے سب سے بڑے روسی شاعر کے طور پراپنی ادبی حیثیت کو منوایا، نو شعری مجموعوں کے ساتھ ساتھ مضامین کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے ، اور 1987 میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ انگریزی ترجمے میں ان کی شاعری کی پہلی کتاب 1973 میں شائع ہوئی۔جو فکریہ اور شاعرانہ شدت کے ساتھ ایک نئی شاعرانہ حساسیت کا حامل تھا۔

    کولمبیا یونیورسٹی اور ماؤنٹ ہولیوک کالج میں درس و تدریس کے علاوہ ، جہاں انہوں نے پندرہ سال تک درس دیا ، بروڈسکی نے 1991 سے 1992 تک ریاستہائے متحدہ کے شاعر لاریوٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1993 میں ، انہوں نے امریکی شاعری اور خواندگی پروجیکٹ کو ڈھونڈنے کے لئے اینڈریو کیرول کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ ایک نان نفع تنظیم ، جوجوزف بروڈسکی کے الفاظ میں ، “ثقافت کو امریکی ثقافت کا ایک زیادہ مرکزی حصہ بنانے کے لئےہے “۔

    جوزف بروڈسکی، جان ڈون سے لے کر آڈن تک انگریزی مابعد الطبعیاتی شعرا سے بہت متاثر تھے۔ اس کے علاوہ بہت سارے دیگر مصنفین جیسے ٹامس وینکلووا ، آکٹیوو پاز ، رابرٹ لوئل ، ڈیرک والکوٹ ، اور بینیٹاٹا کریری کی تحریروں سے بھی استفادہ حاصل کرتے رہے۔

    جوزف بروڈسکی 28 جنوری 1996 کو اپنے بروکلین اپارٹمنٹ میں دل کا دورہ پڑنے سے 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ وینس اٹلی میں Isola di San Michele کے قبرستاں میں دفن ہوئے۔

    جوزف بروڈسکی کی ایک نظم

    بیلفاسٹ دھن {Belfast Tune}
    یہاں ایک خطرناک شہر کی لڑکی ہے
    وہ اپنے سیاہ بالوں کو مختصر تراشتی ہے
    تاکہ اس کی کم تعداد کو خوفزدہ کرنا پڑے
    جب کسی کو تکلیف ہو۔
    وہ اپنی یادوں کو پیراشوٹ کی طرح جوڑتی ہے۔
    اس نےاسے گرا دیا ، وہ کوئلےجمع کرتی ہے
    اور گھر میں سبزیوں کو پکاتی ہے: وہ گولی چلاتے ہیں
    یہاں وہ کھاتے ہیں جہاں
    آہ ، ان حصوں میں کہیں زیادہ آسمان ہے ، کہیں ،
    زمین۔۔ لہذا اس کی آواز کی آواز
    اور اس کے گھورنے سے آپ کی ریٹنا پر بھورے رنگ کی طرح داغ پڑتا ہے
    جب آپ سوئچ کرتے ہو تو بلب
    نصف کرہ ، اور اس کے گھٹنے کی لمبائی کا بٹیر
    اسکرٹ کو پکڑنے کے لئے اسکرٹ کا کٹ ،
    میں نے اس کو یا تو پیار کیا تھا یا قتل کیا ہے یا اس کا خواب دیکھا ہے
    کیونکہ یہ قصبہ بہت چھوٹا ہے۔

    ترجمہ احمد سہیل

  • جان اپڈائیک: امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری

    جان اپڈائیک: امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری

    پیدائش: 18 مارچ 1932
    انتقال: 27 جنوری 2009

    امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری۔ اپنے ناولوں میں انھوں نے عام امریکیوں اور خاص طور چھوٹے شہروں میں رہنے والے متوسط طبقات کی زندگیوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ انھیں کئی پلِٹزر پرائز سمیت کئی ادبی انعامات سے نوازا گیا۔ وہ 60 سے زیادہ کتابوں کے مصنف رہے۔

    جان اپڈائیک نے امریکا میں ایک ایسے شخص کی زندگی پر بھی ناول لکھا جس کا باپ مسلمان تھا مگر اپنی امریکی بیوی کو چھوڑ گیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے نیوجرسی کے پس منظر میں مذہبی انتہاپسندی کو بھی اپنے ایک ناول کا موضوع بنایا۔ پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

  • شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکر علی
    عظیم تجریدی مصور
    یوم وفات : 27 جنوری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L’Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

    پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ۔ شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے: چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون ہیں۔

  • پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا،ماہر اقبالیات اور شاعرہ جرمن  ڈاکٹر این میری شمل

    پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا،ماہر اقبالیات اور شاعرہ جرمن ڈاکٹر این میری شمل

    پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا

    ممتاز جرمن فلسفی ،مستشرق ، ماہر اقبالیات اور شاعرہ ڈاکٹر این میری شمل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ممتاز جرمن اسکالر‘ ماہر اقبالیات‘ مستشرق اور اردو زبان کی پرستار ڈاکٹر این میری شمل 7 اپریل 1922 کو جرمنی کے شہر ایفرٹ میں پیدا ہوئیں ان کے والد صاحب کا نام انا شمل اور والدہ محترمہ کا نام پاؤل تھا۔ انہوں نے جرمنی کے شہر بون میں اعلی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں ہاروڈ اور بون یونیورسٹی میں بطور پروفیسر اپنے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ انہیں انگریزی عربی فارسی ترکی اور اردو زبان پر عبور حاصل تھا۔

    تحقیق اور تصوف اور اسلامیات و اقبالیات سے گہری دلچسپی تھی جبکہ پاکستان کی علاقائی زبانوں سندھی، سرائیکی اور پنجابی زبانوں سے بھی گہری دلچسپی تھی وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی تھیں۔ وہ کئی بار پاکستان کا دورہ کر چکیں مختلف کالجز اور کانفرنسز اور یونیورسٹیز میں لیکچرز دیتی رہیں ۔

    انہوں نے علامہ اقبال کی تصانیف” بانگ درا، پیام مشرق اور جاوید نامہ کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے این میری شمل کو 3 ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں ہلال امتیاز ستارہ امتیاز اور عالمی صدارتی اقبال ایوارڈ شامل ہیں ۔

    ڈاکٹر شمل میری نے 19 سال کی عمر میں مملوک خاندان کے مصر میں خلیفہ اور قاضی کا مقام کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کیا۔ انہوں نے علامہ اقبال کی کتاب” جاوید نامہ” کا منظوم ترجمہ بھی کیا۔ وہ جرمن‘ انگریزی‘ عربی‘ فارسی‘ اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔ انہوں نے اقبال کے علاوہ سندھی زبان کی ممتاز علمی اور ادبی شخصیات پیر علی محمد راشدی‘ پیر حسام الدین راشدی‘ غلام ربانی آگرو اور جمال ابڑوکی تصانیف کو بھی جرمن زبان میں منتقل کیا۔

    ڈاکٹر این میری شمل کی زندگی میں ہی حکومت پاکستان نے لاہور میں ایک سڑک کو ان کے نام سے موسوم کر دیا تھا جس پر بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے متعدد بار مذاق میں کہا تھا کہ "پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا "۔ این میری شمل انگریزی اور جرمن زبان میں شاعری کرتی تھیں۔

    انگریزی اور جرمنی میں ان کے 2شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ تصوف اور اسلامیات سے انہیں خاص دلچسپی تھی۔ ان کی 100 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے علامہ اقبال کے مذہبی خیالات پر مبنی "جبرائیل کے پر” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی این میری شمل کا 26جنوری 2003 کو جرمنی کے شہر بون میں انتقال ہوا۔

  • ایک چہرے کے پس پشت کئی چہرے ہیں ، شاعرہ  فوزیہ تاج کا نیا شعری مجموعہ” سنگ زیرے”

    ایک چہرے کے پس پشت کئی چہرے ہیں ، شاعرہ فوزیہ تاج کا نیا شعری مجموعہ” سنگ زیرے”

    سب ہی مطلوب، حسن عشق یہاں
    کون، عورت کا حال لکھتا ہے

    ایبٹ آباد (خیبر پختونواہ) پاکستان سے تعلق رکھنے والی شاعرہ فوزیہ تاج صاحبہ کا بہت ممنون اور شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کوئٹہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف علمی، سیاسی و سماجی اور ادب دوست شخصیت فاروق مگسی صاحب کے توسط سے اپنا شعری مجموعہ ” سنگ زیرے ” میرے ذوق مطالعہ کے پیش نظر بطور تحفہ مجھے عنایت کیا۔

    خاکسار
    آغا نیاز مگسی

    فوزیہ تاج صاحبہ کے ارسال کردہ شعری مجموعہ ” سنگ زیرے” سے چند منتخب اشعار قارئین کی بصارتوں کی نذر ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اتنے چہرے ہیں یہاں جان نہ پاؤں گی کبھی
    میری ہستی کو مٹانے کا سبب کون بنا

    کتنی مضبوط عمارت کا گماں تھا مجھ کو
    پیار تو ریت گھروندا ہے بناؤں کیسے

    جو خود بڑے ہیں مگر ظرف ان کا چھوٹا ہے
    میں ان بڑوں کا بھلا کیسے احترام کروں

    غول مرغابیوں کے اڑتے گئے ساحل سے
    یہ اڑانیں کسی طوفان کا پتہ دیتی ہیں

    عمر ساری کے جمع خرچ سےپھر کیا حاصل
    آخری وقت فقط ، ایک کفن ہوتا ہے

    حل نہ ہو پائے جو تقدیر کے ہاتھوں پھر وہ
    فیصلہ مرگ مفاجات کیا کرتا ہے

    صرف موسیٰ ہی نہیں طور پہ بسمل کی طرح
    وہ ملاقات نظارہ تو میرے پاس بھی ہے

    ایک چہرے کے پس پشت کئی چہرے ہیں
    ہر ایک تن کا ہی اجلا ہے ، دل کا میلا ہے

    بستی جل کر راکھ ہوئی تو بادل برسا پھر
    راکھ کے ڈھیر پہ بیٹھ کے دریا بہتا دیکھے کون

    میرے دہقان کے پسینے کا قرض ہے مجھ پہ
    غریب شہر کو رتبہ دلا کے جائوں گی

    میں شہر بھر کے مکانوں کو دعا دیتی تھی
    میرے اس گھر کو گرانے کا سبب کون بنا

  • انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔

    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔

    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔

    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔ انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • یوم پیدائش،  انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    یوم پیدائش، انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔
    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔
    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔
    انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی

    فاطمہ حسن

    اصل نام: سیدہ انیس فاطمہ زیدی
    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:کراچی
    زبان:اردو
    اصناف:تحقیق، تنقید،شاعری
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بلوچستان کاادب اور خواتین-2006
    ۔ (2)فیمینزم اور ہم-2005
    ۔ (3)خاموشی کی آواز-2004
    ۔ (4)یادیں بھی اب خواب ہوئیں-2004
    ۔ (5)کہانیاں گم ہوجاتی ہیں-2000
    ۔ (6)دستک سے در کافاصلہ-1993
    ۔ (7)بہتے ہوئے پھول-1977
    مستقل پتا:ڈی41 بلاک7، گلشن اقبال ،کراچی

    نام سیدہ انیس فاطمہ،ڈاکٹر اور تخلص فاطمہ ہے۔ 25 جنوری 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کے آباء و اجداد کا وطن غازی پور(بھارت) تھا۔ سات برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ ڈھاکا چلی گئیں اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1971ء میں ڈھاکا یونیورسٹی میں آنرز کی طالبہ تھیں کہ سقوط ڈھاکا کا سانحہ پیش آیا۔ 1973ء میں بھارت اور نیپال سے ہوتی ہوئی کراچی پہنچیں۔ یہاں آکر جامعہ کراچی سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1977ء میں محکمۂ اطلاعات سندھ گورنمنٹ کے شعبۂ اشاعت سے وابستہ ہوئیں۔ پھرسوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں ڈپٹی ڈائرکٹر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ ترقی کرکے اس ادارے میں ڈائرکٹر ،تعلقات عامہ ترتیب وتحقیق کے عہدے پر فائز رہیں۔ فاطمہ حسن شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھتی ہیں۔ ماہ نامہ’’اظہار ‘‘کی نائب مدیرہ رہ چکی ہیں۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’بہتے ہوئے پھول‘‘، ’’دستک سے درکا فاصلہ‘‘(شعری مجموعے)،’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں‘‘(افسانے)، ’’یادیں بھی اب خواب ہوئیں‘‘(شعری مجموعہ)، ان تینوں شعری مجموعوں کو ملا کر ایک مجموعہ ’’یاد کی بارشیں‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ہے۔ ’زاہدہ خاتون شیروانیہ‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:415

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
    وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
    جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں
    وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا
    وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا
    خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا
    بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں
    وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا
    کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی
    میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں
    خواہشوں کے زاویے کچھ اور ہیں
    سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب
    لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں
    رہبری اب شرط منزل کب رہی
    آؤ ڈھونڈیں راستے کچھ اور ہیں
    یہ تو اک بستی تھکے لوگوں کی ہے
    راہ میں جو لٹ گئے کچھ اور ہیں
    مل رہے ہیں گرچہ پہلے کی طرح
    وہ مگر اب چاہتے کچھ اور ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی
    وہ ہم سفر تھا کشتی پہ مانجھی بھی تھا وہی
    دریا وہی ہے میں بھی ہوں کشتی نہیں رہی
    بدلا جو اس کا لہجہ تو سب کچھ بدل گیا
    چاہت میں ڈھل کے جیسی تھی ویسی نہیں رہی
    پیڑوں میں چھاؤں پھول میں خوشبو ہے اپنا رنگ
    ویرانی بڑھ گئی ہے کہ بستی نہیں رہی
    کچے مکان جیسے گھروندے سے کھیلتی
    پختہ ہوا جو صحن تو مٹی نہیں رہی
    اک اعتراف عشق تھا جو کر نہیں سکی
    خاموش اس لیے ہوں کہ سچی نہیں رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں
    اپنی بستی سے دور آ کر تنہا ہوں
    کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اور
    اپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں
    جتنے لوگ ہیں اتنی ہی آوازیں ہیں
    لہجوں کا طوفان اٹھا کر تنہا ہوں
    روشنیوں کے عادی کیسے جانیں گے
    آنکھوں میں دو دیپ جلا کر تنہا ہوں
    جس منظر سے گزری تھی میں اس کے ساتھ
    آج اسی منظر میں آ کر تنہا ہوں
    پانی کی لہروں پر بہتی آنکھوں میں
    کتنے بھولے خواب جگا کر تنہا ہوں
    میرا پیارا ساتھی کب یہ جانے گا
    دریا کی آغوش تک آ کر تنہا ہوں
    اپنا آپ بھی کھو دینے کی خواہش میں
    اس کا بھی اک نام بھلا کر تنہا ہوں