Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • کوئٹہ میں ادارہ ثقافت کے زیر اہتمام ” خواتین مشاعرہ“ کا انعقاد

    کوئٹہ میں ادارہ ثقافت کے زیر اہتمام ” خواتین مشاعرہ“ کا انعقاد

    رپورٹ : آغا نیاز مگسی

    ادارہ ثقافت بلوچستان کے زیر اہتمام نوری نصیر خان کمپلیکس ہال کوئٹہ میں سینیئر شاعرہ طاہرہ احساس جتک کے زیر صدارت خواتین کی محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی سیکریٹری کلچرل ڈپارٹمنٹ بلوچستان نور محمد جوگیزئی اور ان کی اہلیہ محترہ تھیں جبکہ سینیئر شاعرہ تسنیم صنم اعزای مہمان تھیں نظامت کے فرائض انعم جاوید نے ادا کیے ۔

    جن شاعرات نے اپنا کلام اور اشعار پیش کیے ان میں طاہرہ احساس جتک، تسنیم صنم ، جہاں آراء تبسم، غزالہ تبسم ، غزالہ بٹ ، حمیرہ سدوزئی، سکینہ بابر ، آرزو زیارت والہ ، زیب لونی ، زکیہ بہروز ، فاریہ بتول، روما ہاشمی اور انعم جاوید شامل ہیں ۔ طاہرہ احساس نے اردو، بلوچی اور براہوی زبان میں اشعار پیش کیے جبکہ آرزو زیارت والہ نے پشتو شاعری پیش کی غزالہ تبسم نے ترنم میں گیت پیش کیا تسنیم صنم ، جہاں آراء تبسم اور غزالہ بٹ نے اردو میں اپنے خوبصورت کلام اور اشعار سے محفل کو خوب گرما دیا جس پر سامعین نے انہیں بھرپور داد وتحسین پیش کیا۔

    صدر مشاعرہ طاہرہ احساس جتک ، انجمن ادب بلوچستان کی صدر تسنیم صنم اور جہاں آراء تبسم نے خواتین مشاعرہ کےانعقاد پر سیکرٹری کلچرل ڈپارٹمنٹ نور محمد جوگیزئی کا شکریہ ادا کیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا جبکہ تسنیم صنم نے اپنے خطاب میں معروف محقق، شاعر و کالم نگار آغا نیاز مگسی و دیگر تمام شرکائے تقریب کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے خواتین کی محفل مشاعرہ میں شریک ہو کر ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے ۔ تقریب میں ڈائریکٹر کلچر داؤد ترین، میجر” ر“ نذر حسین ، پروفیسر جوہر بنگلزئی ، شاہین بارانزئی ، سائر عزیز ، احمد وقاص کاشی ، علی اکبر ساسولی و خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس سے قبل نور محمد جوگیزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامت کر رہی ہے.

  • سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے

    سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے

    سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے
    اس کی جانب جانے کا پھر کوئی نہ رستہ یاد رہا

    ڈاکٹر نزہت عباسی (شاعرہ بنت شاعر)

    27 جون 1971: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی نامور ادیبہ اورشاعرہ ڈاکٹر نزہت عباسی صاحبہ 27 جون 1971 میں کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا اصل نام نزہت سلطانہ ہے ۔ محمد حسین عباسی صاحب (ظفر انجمی) ان کے والد اور وقار النساءصاحبہ ان کی والدہ محترمہ ہیں۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں۔ اردو ان کی مادری زبان ہے ۔ 1994 میں ڈاکٹر نزہت صاحبہ کی ظفر اقبال عباسی صاحب سے شادی ہوئی ماشاء اللہ ان کے دو بچے فاکہہ عباسی اور اعتزاز عباسی ہیں ۔

    نزہت عباسی شاعرہ محقق اور نقاد ہیں۔ ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے والد محمد حسین عباسی ظفر انجمی صاحبِ دیوان شاعر تھے، ڈاکٹر نزہت عباسی زمانہ طالب علمی سے ہی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال رہیں، ابتدا بچوں کے لیے نظمیں اور کہانیاں لکھنے سے ہوئی، اسی دور میں مشاعروں میں شرکت کی، کالج اور یونیورسٹی کے مجلوں کی ادارت کی، بزم ادب کی صدر رہیں، اردو ادبیات میں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسی سال تدریس کا آغاز کیا۔
    2005 میں پہلا شعری مجموعہ ’سکوت‘ کے نام سے شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ 2015 میں ’وقت کی دستک‘ کے نام سےمنظرِعام پر آچکا ہے۔ 2011 میں جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی، ان کا تحقیقی مقالہ ’اردو کے افسانوی ادب میں نسائی لب و لہجہ‘ انجمن ترقی اردو نے 2013 میں شائع کیا۔ تحقیقی و تنقیدی مقالات کا مجموعہ ’نسخہ ہائے فکر‘ 2019 میں شائع ہوا۔
    ایک مقامی کالج میں شعبہ اردو کی صدر ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے اردو افسانے پر 100 سے زیادہ پروگرام کیے ہیں، مشاعروں اور ادبی تقاریب کی نظامت کے لیے بھی مشہور ہیں، کئی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں، ادبی تنظیم دبستانِ غزل کی صدر ہیں جس کے تحت ہر مہینے نشست ہوتی ہے۔

    تصانیف
    ڈاکٹر صاحبہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی ترتیب درج ذیل ہے۔
    1. اردو کے ادب میں نسائی لب و لہجہ
    2 دستک
    3 سکوت
    4. نسخہ ہائے فکر

    نزہت عباسی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    موج دریا کے لبوں پر تشنگی ہے کربلا
    ریگ ساحل پر تڑپتی زندگی ہے کربلا

    صبر کی اور ضبط کی یہ منزلیں ہیں آخری
    عزم اہل بیت کا کیا دیکھتی ہے کربلا

    حق کبھی جھکتا نہیں ہے سر بھی کٹ جائے اگر
    ذہن و دل کے واسطے اک آگہی ہے کربلا

    کیوں سکینہ اور زینب اس قدر خاموش ہیں
    دور تک صحرا میں دیکھو خامشی ہے کربلا

    مٹ گیا ہے فرق سب فردا میں اور دیروز میں
    مات دے کر رخش دوراں کو چلی ہے کربلا

    تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں
    ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا

    اے غم شام غریباں اے شب تار الم
    اہل دل کو روز و شب تڑپا رہی ہے کربلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں کمی سی رہ گئی ہے
    کہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہے

    نہ جانے کیوں ہمارے درمیاں اب
    فقط اک برہمی سی رہ گئی ہے

    عجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پر
    ترے غم کی خوشی سی رہ گئی ہے

    سمندر کتنے آنکھوں میں اتارے
    تو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہے

    نہیں چڑھتا ہے اب یادوں کا دریا
    مگر اک بیکلی سی رہ گئی ہے

    خلش دل میں کوئی باقی ہے اب تک
    کہ آنکھوں میں نمی سی رہ گئی ہے

    وہی اک بات جو کہنی تھی تم سے
    وہی تو ان کہی سی رہ گئی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود کو اس طرح آج شاد کریں
    تم کو بھولیں تمہیں کو یاد کریں

    تم سے ملنا نہیں قیامت تک
    فیصلہ یہ بھی آج صاد کریں

    رنگ کتنے ہیں تیرے چہرے کے
    کس حوالے سے تجھ کو یاد کریں

    کر کے احسان ہم پہ ناحق ہی
    ہم سے وابستہ وہ مفاد کریں

    آگ گھر کی انہیں بھی یاد رہے
    شہر میں جو کبھی فساد کریں

    آج خود سے ذرا سی دیر ملیں
    آج پوری چلو مراد کریں

    یاد میں ایک مرنے والے کی
    آج محفل کا انعقاد کریں

  • نصیر آباد کے ارب پتی  سیاستدانوں کے مہمان خانے سرکاری خرچے پر چل  رہے

    نصیر آباد کے ارب پتی سیاستدانوں کے مہمان خانے سرکاری خرچے پر چل رہے

    ڈیرہ مراد جمالی(آغا نیاز مگسی) نصیر آباد ڈویزن کے اکثر ارب پتی سیاستدانوں،عوامی نمائندوں جن میں موجودہ و سابق وزراء اور ارکان اسمبلی کے مہمان خانے مختلف سرکاری محکموں اور بلدیاتی اداروں کے خرچے پر چل رہے ہیں تاہم قومی خزانہ امیر و مخصوص طبقات سے تعلق رکھنے والوں کی بھرپور خاطر مدارت میں خرچ ہو رہا ہے اور نام ”صاحب “ کا روشن ہو رہا ہے جبکہ عید کے موقع پر صاحب لوگوں سے دور دراز سے عید ملنے کےلیے آنے والے عام شہریوں کو سادہ پانی بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے اس کے باوجود سادہ لوح غریب شہری صاحب لوگوں کے ساتھ سیلفی بنوا کر بہت خوش اور مطمئن ہو کر واپس چلے جاتے ہیں ۔

  • بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالد شریف

    ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک

    18 جون 1947: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز پاکستانی شاعر خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں آگئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کا محکمہ جوائن کر لیا اور مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں لیکن کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا اور 1970ء میں انہوں نے اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ خالد شریف نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کئے۔اس وقت یہ کالج کے طالب علم تھے اور کالجوں کے بین الکلیاتی مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔
    خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کے درجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں۔ اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    کاش ایسا ہو کہ اب کے بےوفائی میں کروں
    تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لئے
    میں تو لامحدود ہوجاؤں سمندر کی طرح
    تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لئے

    آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
    کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

    آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ
    سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

    آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں
    تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں

    آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
    چاند کمرے میں مرے اترا ہے

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
    وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
    ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
    دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

    وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
    اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

    زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
    یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
    ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے

  • مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا
    مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    بشری اعجاز

    18 جون 1959: یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس اور کالم نگار بشری اعجاز صاحبہ 18 جون 1959 سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں کوٹ فضل احمد میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک روایتی زمیندار گھرانے سے ہے ان کے والد صاحب کا نام میاں نوازش علی رانجھا اور خاوند محترم کا نام اعجاز احمد ہے ۔ اولاد میں انہیں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں اور ماشاء اللہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے ان کا بیٹا اپنی والدہ محترمہ کی تقلید کرتے ہوئے شاعری میں طبع آزمائی کر رہے ہیں ۔ بشری صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے اور وہ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کرتی ہیں ان کا شمار پاکستان کی مقبول و معروف شاعرات اور لکھاریوں میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے شادی کے بعد شعر و شاعری اور لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا 1989 میں کی۔ ان کی اب تک نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 بارہ آنے کی عورت 2 پباں بھار 3 آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں 4 بھلیکھا اور دو سفرنامے ہیں ایک حج پر اور دوسرا بھارت کے سفر پر لکھا گیا ہے۔ بشری صاحبہ آجکل روزنامہ نئی بات میں ” تیسرا کنارہ” کے مستقل عنوان سے کالم لکھ رہی ہیں اور وہ لاہور کینٹ میں رہائش پذیر ہیں ۔ ان کی ایک غزل قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہئے
    رہ نورد شوق کو رستہ دکھانا چاہئے

    اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر
    منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہئے

    سوچنا یہ ہے کہ اس کی جستجو ہونے تلک
    ساتھ اپنے خود رہیں ہم یا زمانا چاہئے

    تیری میری داستاں اتنی ضروری تو نہیں
    دنیا کو کہنے کی خاطر بس فسانا چاہئے

    پھول کی پتی پہ لکھوں نظم جیسی اک دعا
    ہاتھ اٹھانے کے لیے مجھ کو بہانا چاہئے

    وصل کی کوئی نشانی ہجر کے باہم رہے
    اب کے سادہ ہاتھ پر مہندی لگانا چاہئے

    پھول خوشبو رنگ جگنو روشنی کے واسطے
    گھر کی دیواروں میں اک روزن بنانا چاہئے

    شام کو واپس پلٹتے طائروں کو دیکھ کر
    سوچتی ہوں لوٹ کر اب گھر بھی جانا چاہئے

    بشریٰ اعجاز

  • عبدالقدوس مینگل  کے خلاف کروڑوں روپے کی کرپشن کا مقدمہ درج

    عبدالقدوس مینگل کے خلاف کروڑوں روپے کی کرپشن کا مقدمہ درج

    کوئٹہ (آغا نیاز مگسی) ڈائریکٹر انٹی کرپشن بلوچستان عبدالواحد کاکڑ کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی نصیر آباد ڈویژن میں واٹر کورسز اور واٹر اسٹوریج ٹینک پراجیکٹ فیز ٹو میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کی تحقیقات مکمل،واٹر مینجمنٹ کےڈپٹی ڈائریکٹر عبدالقدوس مینگل اور ٹھیکیدار نے ملی بھگت سے کام مکمل کئے بغیر ہی 10 کروڑروپے کی رقم نکلوائی،زمین پر ترقیاتی منصوبوں کا وجود ہی نہیں،تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ اور ٹھیکیدار عبدالمجید کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا کارروائی جاری جلد گرفتاریوں کا امکان،اینٹی کرپشن بلوچستان نے سیکرٹری زراعت سے گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

  • یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    عباس تابش

    تاریخ پیدائش:15 جون 1961ء

    اردو کے مشہور شاعر عباس تابش 15جون 1961ء کو میلسی ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1977ء میں میلسی سے میٹرک کیا اور مختلف مقامی اخبارات کے لیے کام کرنے لگے۔ 1981ء میں پرائیویٹ طور پر ایف اے کیا اور لاہور آ کر روزنامہ جنگ میں ملازمت اختیار کر لی۔ انھوں نے دوران ملازمت 1984ء میں بی اے کیا۔ 1986ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کرنے کے بعد بطور لیکچرار ملازمت کا آغاز کیا۔ آپ مختلف کالجز میں فرائض انجام دیتے رہے اور آج کل گورنمنٹ کالج گلبرگ لاہور کے شعبہ اردو کے سربراہ ہیں۔ آپ دوران تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور میں رسالہ ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ آپ دوبئی‘ ناروے‘ آسٹریلیا، مسقط، شارجہ، برطانیہ، ہندستان، امریکا کے متعدد مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں۔ اردو میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ اب تک پانچ شعری تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں اور ایک شعری انتخاب آ چکا ہے۔ تصانیف میں1۔ تمہید 2۔ آسمان 3۔ مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا 4۔ پروں میں شام ڈھلتی ہے 5۔ عشق آباد (کلیات) 6۔ جب تیرا ذکر غزل میں آئے (انتخاب) شامل ہیں۔ اب تک مختلف ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ عباس تابش آج کی غزل کے نمائندہ شعرا ء میں سے ہیں۔ عباس تابش کی شاعری کا انتخاب ’’سلسلہ دلداری کا‘‘شکیل جاذب نے کیا ہے۔ دیباچہ معروف نقاد اور ڈراما نگار اصغر ندیم سید نے لکھا ہے۔ کتاب میں شامل شاعری عباس تابش کی کتابوں تمہید، آسمان، مجھے دعائوں میں یاد رکھنا، پروں میں شام ڈھلتی ہے اور رقص درویش‘‘ سے لی گئی ہے۔

    جناب احمد ندیم قاسمی صاحب عباس تابش کے بارے میں لکھتے ہیں۔
    ’’عباس تابش کے نزدیک شعر ایک ذاتی واردات کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ اسے کوئی نظریہ یا کوئی فلسفہ نہیں سمجھتا‘ اگر اس کے اشعار پڑھتے ہوئے آپ پر بھی وہی کیفیات وارد ہوتی چلی جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری صورت میں عباس تابش آپ کو مجبور تامل نہیں کرے گا کہ یہ اس کا مسلک نہیں۔ وہ تو اپنی بات اپنے انداز میں کرتا چلا جاتا ہے۔ کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار ٹھہرتا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار نہیں بن پاتا تو بھی ٹھیک ہے کہ عباس تابش اپنی طبیعت میں نیاز رکھتے ہوئے بھی ذرا ہٹ دھرم واقع ہوا ہے۔‘‘
    ان کا ایک شعر عوام الناس میں بہت مشہور ہوا۔
    ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    معروف کالم نگار فرخ شہباز وڑائچ لکھتے ہیں کہ عباس تابش کی ہر غزل میں زندہ شعر ملتا ہے،بلاشبہ عباس تابش موجودہ غزل کا نمائندہ شاعر ہے۔ عباس تابش کا ماں جیسی عظیم ہستی پر لکھا گیا ایک شعر کئی شعرا کی کلیات پر بھاری ہے۔ عباس تابش میرے دکھ درد کے ساتھی ہیں اور مجھے ان کی شاگردی پر فخر ہے۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
    جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    تیری روح میں سناٹا ہے اور مری آواز میں چپ
    تو اپنے انداز میں چپ ہے میں اپنے انداز میں چپ

    فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا
    جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

    ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار
    اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

    آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر
    یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

    گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
    ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا
    تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

    اگر یونہی مجھے رکھا گیا اکیلے میں
    بر آمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا

    بس ایک موڑ مری زندگی میں آیا تھا
    پھر اس کے بعد الجھتی گئی کہانی میری

    میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید
    مرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری

    اک محبت ہی پہ موقوف نہیں ہے تابشؔ
    کچھ بڑے فیصلے ہو جاتے ہیں نادانی میں

    جھونکے کے ساتھ چھت گئی دستک کے ساتھ در گیا
    تازہ ہوا کے شوق میں میرا تو سارا گھر گیا

    عشق کر کے بھی کھل نہیں پایا
    تیرا میرا معاملہ کیا ہے

    مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت
    آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

    تری محبت میں گمرہی کا عجب نشہ تھا
    کہ تجھ تک آتے ہوئے خدا تک پہنچ گئے ہیں

    محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی
    یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ

    ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو
    یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

    مدت کے باد خواب میں آیا تھا میرا باپ
    اور اوس نے مجھ حب الوطنی اتنا کہا خوش رہا کرو

    ابھی تو گھر میں نہ بیٹھیں کہو بزرگوں سے
    ابھی تو شہر کے بچے سلام کرتے ہیں

    تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے
    بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

    بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں
    اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی

    نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا
    ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو

    میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
    سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

    رات کمرے میں نہ تھا میرے علاوہ کوئی
    میں نے اس خوف سے خنجر نہ سرہانے رکھا

    ہم جڑے رہتے تھے آباد مکانوں کی طرح
    اب یہ باتیں ہمیں لگتی ہیں فسانوں کی طرح

    بیٹھے رہنے سے تو لو دیتے نہیں یہ جسم و جاں
    جگنوؤں کی چال چلیے روشنی بن جائیے

    پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
    خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

    جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہے
    خوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

    پہلے تو ہم چھان آئے خاک سارے شہر کی
    تب کہیں جا کر کھلا اس کا مکاں ہے سامنے

    وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا
    اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے

    پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا
    ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

    التجائیں کر کے مانگی تھی محبت کی کسک
    بے دلی نے یوں غم نایاب واپس کر دیا

    ان آنکھوں میں کودنے والو تم کو اتنا دھیان رہے
    وہ جھیلیں پایاب ہیں لیکن ان کی تہہ پتھریلی ہے

    رات کو جب یاد آئے تیری خوشبوئے قبا
    تیرے قصے چھیڑتے ہیں رات کی رانی سے ہم

    میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر
    سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

    ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے
    کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

    میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص
    مجھ کو اک اور زمانے میں بڑی دیر لگی

    یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو
    کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

    ملتی نہیں ہے ناؤ تو درویش کی طرح
    خود میں اتر کے پار اتر جانا چاہئے

    یہ موج موج بنی کس کی شکل سی تابشؔ
    یہ کون ڈوب کے بھی لہر لہر پھیل گیا

    ہمیں تو اس لیے جائے نماز چاہئے ہے
    کہ ہم وجود سے باہر قیام کرتے ہیں

    طلسم خواب سے میرا بدن پتھر نہیں ہوتا
    مری جب آنکھ کھلتی ہے میں بستر پر نہیں ہوتا

    دے اسے بھی فروغ حسن کی بھیک
    دل بھی لگ کر قطار میں آیا

    یہ زمیں تو ہے کسی کاغذی کشتی جیسی
    بیٹھ جاتا ہوں اگر بار نہ سمجھا جائے

    مکیں جب نیند کے سائے میں سستانے لگیں تابشؔ
    سفر کرتے ہیں بستی کے مکاں آہستہ آہستہ

    کچھ تو اپنی گردنیں کج ہیں ہوا کے زور سے
    اور کچھ اپنی طبیعت میں اثر مٹی کا ہے

    موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا
    تم آئے اور بور نہ آیا درخت پر

    یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ
    اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں

    اس کا مطلب ہے یہاں اب کوئی آئے گا ضرور
    دم نکلنا چاہتا ہے خیر مقدم کے لیے

    نہال درد یہ دن تجھ پہ کیوں اترتا نہیں
    یہ نیل کنٹھ کہیں تجھ سے بد گماں ہی نہ ہو

    شب کی شب کوئی نہ شرمندۂ رخصت ٹھہرے
    جانے والوں کے لیے شمعیں بجھا دی جائیں

    میرا رنج مستقل بھی جیسے کم سا ہو گیا
    میں کسی کو یاد کر کے تازہ دم سا ہو گیا

    سن رہا ہوں ابھی تک میں اپنی ہی آواز کی بازگشت
    یعنی اس دشت میں زور سے بولنا بھی اکارت گیا

    خوب اتنا تھا کہ دیوار پکڑ کر نکلا
    اس سے ملنے کے لیے صورت سایہ گیا میں

  • عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    منصورہ احمد
    یکم جون 1958: یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    اردو کی معروف شاعرہ اور ادیبہ منصورہ احمد یکم جون 1958 کو حافظ آباد میں معروف قانون دان مرزا حبیب احمد کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے پرائمری سے انٹر تک حافظ آباد میں تعلیم حاصل کی جبکہ گریجویشن لاہور میں کیا۔ شاعری کا انہیں بچپن میں شوق تھا ۔ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ 1998 میں انہیں ان کے شعری مجموعے "طلوع” پر اکادمی ادبیات پاکستان نے وزیراعظم ادبی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ وہ ادبی جریدے” مونتاج” کی مدیرہ بھی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی تھیں. وہ 1986 سے 2006 تک ادبی جریدہ "فنون” سے وابستہ رہیں ۔ انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ 8 جون 2011 کو لاہور میں وفات پاگئیں اور حافظ آباد میں آسودہ خاک ہوئیں۔

    منصورہ احمد کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا
    یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    میں سب سمجھتی رہی اورمسکراتی رہی
    مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی
    کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں گل پرست بھی گل سے نباہ کر نہ سکی
    شعور ذات کا کانٹا بہت نکیلا تھا

    سب احتساب میں گم تھے ہجوم یاراں میں
    خدا کی طرح مرا جرم عشق تنہا تھا

    وہ تیرے قرب کا لمحہ تھا یا کوئی الہام
    کہ اس کے لمس سے دل میں گلاب کھلتا تھا

    مجھے بھی میرے خدا کلفتوں کا اجر ملے
    تجھے زمیں پہ بڑے کرب سے اتارا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
    گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں
    بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے

  • بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    قصے اور کہانیاں \ آغا نیاز مگسی

    بلوچستان کے محکمہ پولیس میں کرپشن کے انداز ہی نرالے ہیں ۔ ویسے اگر اس کا دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو اخلاقیات کے لحاظ سے سندھ اور پنجاب پولیس کی نسبت بلوچستان پولیس بہت بہتر بلکہ قابل ستائش فورس ہے ۔ سندھ اور پنجاب پولیس کا عام شہریوں کے ساتھ رویہ انتہائی غیر مناسب ہوتا ہے جبکہ گرفتار یا زیر حراست ملزمان کے ساتھ ان کا رویہ غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی سلوک ہوتا ہے گالی گلوچ اور کرپشن تو ان کے منشور کا حصہ ہوتا ہے زیر حراست یا گرفتار ملزمان کو بدترین تشدد کے علاوہ” ہاف فرائی اور فل فرائی “کی اصطلاح کے تحت زخمی اور ہلاک کرنے کے عمل کو پولیس کے ساتھ مقابلہ قرار دینا ان کے معمول کا حصہ ہے لیکن اس کی نسبت بلوچستان پولیس کا عام شہریوں خواہ ملزمان دونوں کے ساتھ دوستانہ رویہ ہوتا ہے ہاف فرائی اور فل فرائی کا یہاں تصور ہی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کرپشن کے حوالے سے بلوچستان پولیس بھی کسی سے کم نہیں ہے ۔ چیک پوسٹ ، قومی شاہراہ ، اسمگلنگ اور تھانوں ، منشیات و قماربازی اور فحاشی کے اڈوں سے روزانہ یا ماہانہ بھتہ وغیرہ ان کے روز و شب کے معمولات کا حصہ ہیں ۔ قومی شاہراہ پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی چاندی ہوتی ہے وہ دن رات پیسہ بٹورنے میں مشغول رہتے ہیں منشیات ، ایرانی پیٹرول و دیگر اشیاء اور گاڑیوں کے اسمگلرز سے ان کا لین دین ہوتا ہے ایک اندازے کے مطابق بلوچستان بھر کی قومی شاہراہوں اور چیک پوسٹوں سے پولیس کو مجوعی طور پر روزانہ کروڑوں روپے کی آمدن ہوتی ہے اور یہی صورتحال صوبے کے شہروں اور قصبات میں قائم منشیات اور قمار بازی کے اڈوں کی ہے جہاں پولیس اور مذکورہ اڈہ مالکان کے درمیان معاملات طے شدہ ہوتے ہیں جن کے خاموش معاہدے کے نتیجے میں معاشرے میں مختلف قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں جن کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے ۔ مشیات کے کاروبار اور استعمال سے ہماری نئی نسل بری طرح متاثر ہو کر اپنے خاندان اور ملک و قوم پر بوجھ بن جاتا ہے جس سے وہ اخلاقی پستی میں داخل ہو جاتی ہے جس سے بےشمار برائیوں کو فروغ مل رہا ہوتا ہے ۔

    بلوچستان کا صوبہ کافی عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے جس میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد نشانہ بنتی ہے جس کے نتیجے میں وہ شہید اور زخمی بن جاتے ہیں اور دہشت گردی کے اکثر واقعات سیکورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث پیش آتے ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان کے چار اضلاع کوئٹہ ، گوادر ، حب اور لسبیلہ 2020 سے 2600 پولیس اہلکار سرکاری ڈیوٹی دینے کے بجائے بااثر سیاسی و قبائلی شخصیات گن مین یا سیکورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور تنخواہ سرکار سے وصول کر رہے ہیں ان کی تخواہوں کی مد میں سالانہ ڈھائی ارب روپے کی رقم قومی خزانے سے جاری ہوتی ہے یہ وہ اہلکار ہیں جو پہلے لیویز فورس میں تھے 2020 میں بلوچستان پولیس میں ضم کر دیئے گئے اور اس وقت سے اب تک کھاتے پہ چل رہے ہیں جن کی تنخواہوں کا بڑا حصہ ان کے افسران کی جیب میں چلا جاتا ہے لیکن اس کا نقصان بلوچستان پولیس میں نفری کی کمی کے باعث چوری ،ڈکیتی اور دہشت گردی کے واقعات کی صورت میں بلوچستان کے شہریوں کا ہوتا ہے۔ یہ تو صرف چار اضلاع کے 2600 پولیس اہلکار ہیں جو کھاتے پر چل رہے ہیں صوبے کے باقی اضلاع کی کھاتے پر چلنے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن میں سے نصف تعداد سیاسی و قبائلی شخصیات کے ذاتی محافظ بنے ہوئے ہیں اور نصف تعداد اپنے ذاتی کاروبار میں مشغول رہتی ہے ۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے بلوچستان پولیس کا محکمہ نفری کی کمی کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی جان و مال اور قومی املاک کا مناسب تحفظ نہیں ہو رہا ہے چناں چہ بلوچستان کو ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کی ضروت ہے جو حقیقی معنوں میں بااختیار اور اپنے صوبے اور مخلص و دیانتدار ہو تب ہی بلوچستان پولیس میں اصلاحات ممکن ہو سکیں جس سے کرپشن میں کمی اور سیکورٹی کی صورتحال بھی بہتر ہو سکے گی ۔

  • حب میونسپل کارپوریشن بھوتانی گروپ کو بڑا دھچکہ،11 کونسلران  پیپلز پارٹی میں شامل

    حب میونسپل کارپوریشن بھوتانی گروپ کو بڑا دھچکہ،11 کونسلران پیپلز پارٹی میں شامل

    کوئٹہ ( آغا نیاز مگسی ) بھوتانی گروپ سے تعلق رکھنے والے حب میونسپل کارپوریشن کے گل حسن محمد حسنی سمیت 11 کونسلرز نے بھوتانی گروپ کا ساتھ چھوڑ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ، صدر آصف علی زرداری کے ترجمان اور صوبائی مشیر میر علی حسن زہری کے ساتھ کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا انہوں نے کہا کہ موجودہ میئر نے حب کی ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے کچھ نہیں کیا ہے میر علی حسن زہری نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے کونسلرز کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہم جام کمال خان اور رجب علی رند کے ساتھ مشورہ کر کے جلد ہی نیا میئر لائیں گے اور حب میں اربوں روپے کے میگا پراجیکٹس کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کریں گے انہوں نے کہا کہ بھوتانی گروپ کے 11 کونسلرز کا ساتھ چھوڑنے کے بعد حب میونسپل کارپوریشن کے موجودہ میئر کو اخلاقی طور پر خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہئے

    محکمہ مواصلات و تعمیرات نصیر آباد ، آباد نہیں ہو سکا
    ڈیرہ مراد جمالی (آغا نیاز مگسی) بلوچستان کی نئی صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد نصیر آباد میں اب تک دیگر کئی محکموں کی طرح مواصلات و تعمیرات بھی جو کہ بی اینڈ آر اور سی اینڈ ڈبلیو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ان کے دفاتر کے در و دیوار اور اسٹاف بھی اپنے افسران ، سپرنٹنڈنگ انجنیئر اور ایگزیکٹو انجنیئرز کی بڑی بیتابی کے ساتھ راہ تکتے رہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ کئی سینیئر صحافی بھی نصیر آباد میں تعینات ہونے والے افسران سے تعارفی ملاقات اور ان سے محکمانہ کارکردگی کے بارے میں معلومات کی غرض سے ان کے دفاتر کے پھیرے لگاتے رہتے ہیں مگر وہ بھی ان افسران کی ملاقات کا ”شرف“حاصل کرنے سے محروم ہیں بھلا ہو جدید دور کی ٹیکنالوجی کا کہ اس کی بدولت سرکاری افسران ملک یا ملک سے باہر رہ کر بھی اپنی کاغذی کارروائیاں مکمل کر لیتے ہیں جو کہ ” رند کے رند رہتے ہیں اور ہاتھ سے جنت بھی جانے نہیں دیتے“۔

    محکمہ ریونیو نصیر آباد کے ”خوش قسمت “ تحصیلدار اور پٹواری صاحبان،ڈیرہ مرادجمالی اور منجھو شوری کے پٹوار خانے ”کروڑوں کے خزانے “ بنے ہوئے ہیں
    ڈیرہ مراد (آغا نیاز مگسی) بلوچستان کے زرعی علاقہ نصیر آباد کے محکمہ روینیو میں تعینات ہونے والے تحصیلدار اور پٹواری حضرات انتہائی ”خوشقسمت “ سمجھے جاتے ہیں یہاں کے لیے مشہور ہے کہ باہر سے آنے والے تحصیلدار اور پٹواریوں کی اکثریت نئی تعیناتی کے وقت کنگال ہوتی ہے لیکن جب یہاں سے جاتے ہیں تو کروڑ پتی بن کر جاتے ہیں ڈیرہ مراد جمالی اور منجھو شوری کے پٹوارخانے کروڑوں روپے کے خزانےبنے ہوئے ہیں جہاں اراضیات کی فردات حاصل کرنے کے لیے اکثر زمیندار خوشی خوشی سے پٹوارہوں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں اور اف تک نہیں کرتے شام کو اپنے گھروں کو لوٹ کر جانے والے متعلقہ افسران اور اور پٹواری صاحبان اپنے وقت کے ” امیر ترین “ شخص نظر آتے ہیں جن کو اپنی تنخواہ وصول کرنے کی ضررت ہی نہیں رہتی اور یہ صورتحال صرف نصیر آباد کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے زرعی علاقوں میں یہی کچھ ہوتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہونے کا قوی امکان ہے