Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • علامہ نصیرالدین نصیرہنزائی روحانی سائنس کےمعروف دینی اسکالر،صوفی شاعر

    علامہ نصیرالدین نصیرہنزائی روحانی سائنس کےمعروف دینی اسکالر،صوفی شاعر

    نصیر ہنزائی

    روحانی سائنسدان، صوفی شاعر ، ماہر لسانیات
    "بروشسکی” زبان کے پہلے صاحب دیوان شاعر

    پیدائش:15 مئی 1917ء
    وفات:15 جنوری 2017ء
    آسٹن، ٹیکساس
    شہریت:پاکستان
    برطانوی ہند

    علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی روحانی سائنس کے میدان میں عالمی شہرت کے حامل ایک معروف دینی اسکالر، صوفی شاعر اور ماہرِ لسانیات تھے۔ اسماعیلیوں کی دانشگاہ خانہ حکمت گروپ کے سربراہ نصیر الدین نصیر ہنزائی 1335ھ/15 مئی 1917ء میں ریاست ہنزہ کے گاؤں حیدرآباد میں پیدا ہوئے، نصیر الدین نصیر ہنزائی کسی اسکول سے باضابطہ تعلیم حاصل کیے بغیر علم و حکمت کے بارے میں 100 سے بھی زیادہ ایسی نادر کتابیں اپنی زبان بروشسکی اور اردو زبان میں تحریر کیں جن کا مرکزی موضوع قرآن کے باطنی علوم اور روحانی سائنس رہا، بعد ازاں ان کتابوں میں سے کئی کتابوں کو ہنزہ کے معروف اسکالر ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور رشیدہ ہنزائی نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جبکہ دیگر اسکالروں نے ان میں سے متعدد کا عربی، فارسی، فرانسیسی، سویڈنی، اطالوی اور ترکی میں بھی ترجمہ کیا ہے۔ روحانی سائنس کے موضوع پر یہ کتابیں اوکسفرڈ سمیت مغرب کی یونورسٹیوں تک پہنچ گئیں تو محققین نے ان تخلیقات کو روحانیت اور تصوف کی دنیا میں عجیب انکشافات سے تعبیر کیا اور ان کتابوں پر ریسرچ شروع کی ہے۔” کلیات نصیری ” ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جس میں روحانیت، تصوف، تطہیرِ نفس اور عشقِ حقیقی کی تجلّیات ہیں جو ہر تہذیب و ثقافت کے لوگوں کے لیے ایک انمول خزانہ ہے۔ یہ شاعری اردو، فارسی، ترکی اور بروشسکی چار زبانوں پر مشتمل ہے۔ علامہ نصیر الدین کی منفرد کتابوں میں وحدتِ اسلامی، وحدتِ انسانی، محبت، امن و آشتی اور اسلام کے ہر مکتبِ فکر کے لیے محبت اور خیر خواہی کی تعلیمات ملتی ہیں۔ ان کا خاص موضوع اسماعیلیت سے متعلق تھا۔ ان میں اسماعیلیوں کے لیے اسماعیلی امام شناسی کی کتاب بھی بہت منفرد ہے۔ اس کے علاوہ بھی خاصی مذہبی معلومات ان کی کتابوں سے ملتے ہیں

    علاقائی زبان کے لیے خدمت
    نصیر الدین ہنزائی نے پہلی بار 1940ء میں دنیا کی قدیم ترین زندہ زبانوں میں سے ایک ”بروشسکی” کے حروفِ تہجی ترتیب دیے۔ وہ اس زبان کے پہلے صاحبِ دیوان صوفی شاعر ہیں۔ یہ ان کا بروشسکی زبان اور بروشو قوم پر احسان ہے کہ اس قدیم خطرہ زدہ زبان کی پہلی لغت تشکیل دی، جس میں تقریباََ چالیس ہزار الفاظ محفوظ ہیں۔ کراچی یونورسٹی نے بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کے تعاون سے اس لغت کو تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔ نصیر ہنزائی نے پہلی بروشسکی جرمن لغت کے لیے حقیقی الفاط مہیّا کیے اور جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے شائع شدہ لغت کے شریک مصنف قرار پائے۔ نیز وہ ہنزہ پرورب کتاب کے بھی شریک مصنف ہیں جسے کینیڈا کے اسکالر پروفیسر ٹیفو نے شائع کیا ہے۔ رموز روحانی ان کی تصنیف ہے.

    اعزازات
    نصیر الدین الدین نصیر ہنزائی کو بروشسکی زبان کی بہترین خدمت کی وجہ سے گلگت بلتستان کی حکومت نے 1993ء میں حکیم القلم اور سماجی اداروں نے لسان القوم اور بابائے بروشسکی کے اعزازات سے نوازا۔علاوہ ازیں ہنزائی کی حکمتِ قرآن کے میدان میں چشم کشا تحقیقات اور علم کی لازوال خدمت کے اعتراف میں 2001ء میں صدر مملکت پرویز مشرف کے زمانے میں وفاقی حکومت نے انہیں ستارہ امتیاز کے اعزاز سے بھی نوازا۔

    بیرونی ممالک کا سفر
    ََََََََََنصیر الدین نصیر ہنزائی نے پہلی بار 1943ء میں ہندوستان کا سفر کیا تھا۔ جس کا مقصد اسماعیلی امام سلطان محمد شاہ سے ملاقات تھی جو 1946ء میں ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کو اپنی روحانیت کی چابی یعنی کلید بابِ روحانیت کی عطائی قرار دیا ہے۔ پھر 1949ء کے اوائل میں علامہ نصیر کو چین جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کئی روحانی معجزے ان کے ساتھ ہوئے اور علامہ نے ایک دفعہ انٹرویو میں یوں بھی کہا تھا کہ جب وہ چین گئے تو ان کے پاس نورانی مظہر عجائب بھی آ گیا تھا۔ اور یہ روحانیت میں زمان خصر علیہ السلام کی صورت میں ممکن بھی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مغرب کے تین بڑے ملکوں کینیڈا، انگلستان اور امریکا کا سفر کیا۔ ایک دفعہ وہ روس کے جہاز میں لندن جا رہے تھے کہ جہاز معمول کے مطابق ماسکو میں اتر گیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک مسافروں کو بس پر سیر کرائی گئی۔
    وفات
    نصیر الدین نصیر ہنزائی نے 15 جنوری 2017ء کو امریکا کے شہر آسٹن میں ایک سو سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کے جسد خاکی کو ان کی خواہش اور وصیت کے مطابق آبائی علاقہ ہنزہ میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اگاتھا کرسٹی (  جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    اگاتھا کرسٹی ( جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    اگاتھا کرسٹی ( جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    12 جنوری 1976 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادب سے انتخاب : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی مشہور ترین ناول نگار اگاتھا کرسٹی کا پورا نام اگاتھا میری کلیرسا کرسٹی تھا اور وہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں اور انھوں نے 87 ناول تحریر کیے جن کا ترجمہ دنیا کی 103 زبانوں میں ہوا اور جن کی 30 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
    سنہ 1914 میں ان کی پہلی شادی آرچی بالڈ پیسٹی سے ہوئی مگر 1928 میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔ پھر سنہ 1930 میں اُن کی دوسری شادی میکس میلووان سے ہوئی جو آثار قدیمہ کے شعبے سے منسلک تھے اور انھیں مشرق وسطیٰ کی قدیم تاریخ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
    میکس میلووان کا اولین کام میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے دارالحکومت ’اُر‘ کو بازیافت کرنا تھا۔ وہیں ان کی ملاقات اگاتھا کرسٹی سے ہوئی تھی جن کے ساتھ بہت جلد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میکس میلووان کی تحقیق اور تحریر کا کام جاری رہا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کی بہت سارے قدیم مقامات پر تحقیقی کام کیا جن میں عراق اور شام کے بہت سے تہذیبی مراکز شامل تھے۔
    وہ عراق میں برٹش سکول آف آرکیالوجی کے ڈائریکٹر بھی رہے اور سنہ 1956 میں ان کی پہلی تصنیف ’25 ایئرز آف میسوپوٹیمین ڈسکوری’ منظر عام پر آئی۔

    آثار قدیمہ سے دلچسپی سنہ 1960 میں انھیں پاکستان کھینچ لائی۔ یہ دورہ میکس میلووان کا تھا اور جوڑے نے اس دوران کراچی، موئن جو دڑو، لاہور اور کئی دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔ مگر اخبارات نے زیادہ اہمیت اگاتھا کرسٹی کو دی جو اس 15 روزہ دورے میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔
    اس بات کا اندازہ اس فیچر سے ہوتا ہے جو چھ مارچ 1960 کو ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ میں شائع ہوا۔
    اگاتھا کرسٹی نے اس جریدے کے مدیر کو بتایا کہ وہ اور ان شوہر بہت عرصے سے اس خطے کی سیاحت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی پندرہ روز تک انڈیا کا دورہ بھی کر کے آئی ہوں مگر میں نے وہ دورہ مسز میلووان کے نام سے کیا اور وہاں کسی کو میری شناخت معلوم نہ ہو سکی۔‘
    شاید یہ اس پاکستانی صحافی کی ذہانت اور حاضر دماغی کی داد دے رہی تھیں جنھوں نے مسز میلووان کا راز بھانپ لیا تھا۔
    السٹریٹڈ ویکلی میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے بتایا کہ ان کے شوہر دس سال سے عراق میں میسوپوٹیمیا کی تہذیب پر کام کر رہے تھے اور اب وہ اس موضوع پر اپنی کتاب مکمل کرنے والے ہیں جس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے قدیم مقامات اور یہاں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔

    السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان کے مدیر نے اگاتھا کرسٹی سے پوچھا کہ وہ ناول لکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔ اگاتھا کرسٹی نے کہا کہ وہ پہلے کہانی کا اختتام سوچتی ہیں اور پھر ناول لکھنا شروع کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ناول لکھنے میں انھیں تقریباً تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔
    وہ اپنا ناول خود ٹائپ کرتی ہیں اور اس دوران کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس ناول کو پڑھ سکے۔ ان کے مطابق تحریر کا سب سے مناسب وقت رات کا پچھلا پہر ہے۔ اس وقت میں تحریر پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کا پسندیدہ ناول ’اینڈ دین دیئر ور نن‘ ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ناول اگاتھا کرسٹی کی سب سے مقبول کتاب ثابت ہوئی ہے اور اس کی دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
    اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار کون ہیں تو انھوں نے مائیکل گلبرٹ اور مارجوری ایلنگھم کے نام لیے جبکہ امریکی مصنّفین میں ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار الزبتھ ڈیلی اور ارل اسٹینلے گارڈنر تھے۔ انھوں نے کہا ’ان مصنفین کی کردار سازی لاجواب ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ برطانیہ کے مشہور سراغ رساں ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس پر جواب ملا کہ وہ صرف چند مرتبہ اس ادارے کے لوگوں سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے لوگ ان کے ناولوں کو دلچسپ ضرور تصور کرتے ہیں مگر حقیقت سے دور۔۔
    انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے کچھ قتل ایسے بھی تھے جن کی پولیس رپورٹ میں نے بڑی دلچسپی سے پڑہی مگر میں نے انھیں کبھی اپنے ناول کے قالب میں نہیں ڈھالا۔
    اس انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے اپنے مشہور کردار ہرکیول پویئرو کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مصنف کو جاسوسی ناول کا طویل سلسلہ لکھنا ہو تو اسے کچھ ’سٹاک کریکٹر‘ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔

    ’ہرکیول پویئرو بھی میرا ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ کردار میں نے پہلی جنگ عظیم میں بلجیم سے برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پولیس افسر کو سامنے رکھ کر تراشا تھا۔ وہ پولیس افسر تو کب کا وفات پا چکا مگر میرا کردار اب بھی زندہ ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر وہ پولیس افسر اس وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر 103 سال کے لگ بھگ ہوتی۔‘
    جب اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے پس منظر میں کوئی ناول تخلیق کرنا چاہیں گی تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کے پس منظر میں ناول لکھنا بہت مشکل ہے جسے وہ بہت کم جانتی ہیں۔ ’یہ کام صحافی تو کر سکتے ہیں مگر کوئی تخلیقی ادیب نہیں۔‘
    کہا جاتا ہے کہ سنہ 1960 کے اس دورے کے بعد اگاتھا کرسٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے گزریں۔ اس بات کے راوی سہیل اقبال ہیں۔
    انھوں نے اپنے ایک مضمون میں جو، ابن صفی میگزین میں شائع ہوا تھا، لکھا ہے کہ سنہ 1965 کے لگ بھگ اگاتھا کرسٹی نے کسی اور ملک جاتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج میں کچھ دیر قیام کیا تھا۔
    ان کے اس قیام کا کچھ لوگوں کو پہلے سے علم تھا جن میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رضی اختر شوق اور روزنامہ حریت سے منسلک صحافی اے آر ممتاز شامل تھے اور وہ اگاتھا کرسٹی سے ملنے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔
    انھوں نے دوران گفتگو پاکستانی جاسوسی ادب کا ذکر کیا تو اگاتھا کرسٹی مسکرائیں اور بولیں: ’مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔‘

  • انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا:ابن انشا کا یوم وفات

    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو
    اس شہر میں جی کو لگانا کیا
    11 جنوری 1978
    ممتاز ادیب، شاعر ، سیاح اور کالم نگار ابن انشا کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز ادیب، شاعر،کالم نویس ،سفر نامہ نگار اور سیاح ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔ ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے میں” اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔ جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔

    ابن انشاء کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
    وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

    اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
    ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا

    کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
    کچھ نے کہا چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

    ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی
    سیکڑوں در تھے مری جاں ترے در سے پہلے

    جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے
    کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہرجھانکی ہے

  • زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا،یوم پیدائش، ثاقب لکھنوی

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا،یوم پیدائش، ثاقب لکھنوی

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
    ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے

    ثاقب لکھنوی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوم پیدائش : 2 جنوری 1869
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کے ایک اہم ترین شاعر ثاقب لکھنوی جن کا اصل نام مرزا ذاکر حسین قزلباش ہے وہ 2 جنوری 1869ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 24 نومبر 1949 میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کر چکے ہیں ۔

    کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
    جوانی نہ رہتی تو پھر ہم نہ رہتے

    نشیمن نہ جلتا نشانی تو رہتی
    ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
    ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے

    کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
    زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے

    مری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقب
    کنارے پہ آہی گئی بہتے بہتے
    …..
    باغ باں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
    جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے
    ……
    مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
    زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے
    ……
    کہنے کو مشت پر کی اسیری تو تھی،
    مگر خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا

    دل کے قصے کہاں نہیں ہوتے ہاں،
    وہ سب سے بیاں نہیں ہوتے

  • چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر،یوم وفات خادم رزمی

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر،یوم وفات خادم رزمی

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
    مگر اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ

    خادم رزمی

    اصل نام:خادم حسین

    تاریخ ولادت:2 فروری 1932ء
    کبیر والا خانیوال، پاکستان
    تاریخ وفات:2 جنوری 2006ء
    خانیوال، پاکستان
    مذہب:اسلام

    خادم رزمی ضلع خانیوال کی تحصیل کبیر والا جنوبی پنجاب کے ایک مشہور شاعر ہیں۔ خادم رزمی کا اصل نام خادم حسین ہے۔
    ولادت
    ۔۔۔۔۔۔
    خادم رزمی کبیر والا کے ایک چھوٹے سے گاؤں محمود والا میں 02 فروری 1932ء کو پیدا ہوئے۔
    معلم
    ۔۔۔۔۔
    خادم رزمی ایک پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر کبیروالا کے مختلف قصبات میں تعینات رہے۔ سروس ریکارڈکے مطابق خادم رزمی 63 سال 8 ماہ ملازمت کرنے کے بعد 1991ء میں گورنمنٹ ماڈل مڈل اسکول دار العلوم کبیروالا میں ریٹائر ہوئے ۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    مولوی فضل دین اور لالہ رام لعل سرگباشی جیسے اساتذہ کی رہنمائی سے خادم رزمی کا شعری ذوق پروان چڑھا۔ ملازمت کا زیادہ تر عرصہ تاریخی شہر تلمبہ میں گزرا۔ جہاں کی اساطیری فضا نے ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے اور قدیم تہذیبوں سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ تلمبہ جیسے قدیم تاریخی حیثیت والے شہر میں بزمِ ادب تلمبہ کے زیرِاہتمام ایک ماہانہ مشاعرہ ہوتا تھا ،جس میں خادم رزمی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ غنضنفر روہتکی، صادق سرحدی ،جعفر علی خان، اسلام صابر دہلوی ،دلگیر جالندھری ،ڈاکٹر مہر عبدالحق، کیفی جامپوری ،وفا حجازی ،اسماعیل نور، بیدل حیدری، ساغر مشہدی، عاصی کرنالی ،جعفر طاہر، شیر افضل جعفری ،اور ضیغم شمیروی جیسے شعرا کی صحبت میسر آئی جنھوں نے ان کی علمی اور ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشی ۔
    مجموعہ کلام

    ان کا اردو شعری مجموعہ ”زرِخواب“ یکم فروری 1991ء اور پنجابی شاعری مجموعہ ”من ورتی“1994ء میں شائع ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ایک اور پنجابی شاعری مجموعہ ” اساں آپے اُڈن ہارے ہو“ کے نام سے چھپا۔ ان کا کافی غیر مطبوعہ کلام ہے جس میں آشوبِ سفر اور جزائے نعت شامل ہیں۔ طباعت کے مراحل میں ہے خادم رزمی کا زیادہ تر کلام اوراق، فنون ،سیپ، الکلام اور ادب لطیف میں شائع ہوتا رہا ہے۔ انہیں اکادمی ادبیات کی طرف سے پنجابی شعری مجموعہ ”من ورتی“ پر ”وارث شاہ ہجرہ ایوارڈ 1994ء “اور خواجہ فرید ایوارڈ 1998ء بھی مل چکا ہے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے 2008ء میں ڈاکٹر ممتاز کلیانی کی زیرِ نگرانی امتیاز احمد نے ”خادم رزمی۔ بحیثیت شاعر“” ایم۔ اے کے لیے مقالہ لکھا ۔2006ء میں قلندر عباس نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈاکٹر روبینہ ترین کی زیرِنگرانی ”خادم رزمی۔ شخصیت و فن“ کے نام سے ایم۔ فل کے لیے مقالہ لکھا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    خادم رزمی 02 جنوری 2006ء کو وفات پا گئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آن پہنچے ہیں یہ کہاں ہم لوگ
    اب زمیں ہیں نہ آسماں ہم لوگ

    کل یقیں بانٹتے تھے اوروں میں
    اب ہیں خود سے بھی بد گماں ہم لوگ

    کن ہواؤں کی زد میں آئے ہیں
    ہو گئے ہیں دھواں دھواں ہم لوگ

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
    اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ

    کب میسر کوئی کنارہ ہو
    کب سمیٹیں گے بادباں ہم لوگ

    بن گئے راکھ اب نجانے کیوں
    تھے کبھی شعلۂ تپاں ہم لوگ

    ہم کو جانا تھا کس طرف رزمیؔ!
    اور کس سمت ہیں رواں ہم لوگ

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہاتھ کٹتے ہیں جہاں سینہ و سر کھلتے ہیں
    ایسے ماحول میں ہم اہل ہنر کھلتے ہیں

    دن نکلتا ہو جہاں خوف کا نیزہ بن کر
    ایسی بستی میں کہاں رات کو در کھلتے ہیں

    کیسے آسیب کا سایہ ہے مرے رستے پر
    گرد چھٹتی ہے نہ اسرار سفر کھلتے ہیں

    ہم نے اک عمر گزاری ہے انہی خوابوں میں
    اب قفس ٹوٹتا ہے اور ابھی پر کھلتے ہیں

    رخ پہ گلشن کے کھلیں جس کے دریچے اکثر
    سوئے صحرا بھی اسی شہر کے در کھلتے ہیں

    جن زمینوں پہ کھرے لوگ بسا لیں خود کو
    راستے سیل بلا کے بھی ادھر کھلتے ہیں

    اہل ساحل سے کہو کشف کی صورت رزمیؔ
    موج کھلتی ہے کبھی ہم پہ بھنور کھلتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • محمودہ غازیہ پاکستان کی  ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ

    محمودہ غازیہ پاکستان کی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ

    جو راس آئی اسے مسند شہی تو سنو
    شکستہ چوڑیاں اب رزم گاہ میں رکھنا

    محمودہ غازیہ

    تاریخ پیدائش: 01 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:راولپنڈی
    سکونت : اسلام آباد
    زبان:اردو، پنجابی
    اصناف:شاعری، افسانہ
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خیابان
    ۔ (2)اعتبار کیوں نہیں کرتے
    ۔ (3)ورق ورق غزل
    ۔ (4)اکائی کی موت
    ۔ (5)اندھے شیشے
    مستقل پتا:بلاک ڈی، مکان نمبر653 ،سٹیلائٹ ٹائون، راولپنڈی

    محمودہ غازیہ پاکستان کی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ پاکستان آرٹس کونسل کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں اور فاطمہ جناح کالج برائے خواتین میں پڑھاتی تھیں۔ ان کے چار شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں:’’اکائی کی موت‘‘، ’’ورق ورق غزل‘‘ ، ’’اعتبار کیوں نہیں کرتے‘‘، ’’نیندکی ڈور ٹوٹ گئی‘‘ اور ’’بے سر کا گوتم‘‘ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تم اس سے دوری بھی مت خواہ مخواہ میں رکھنا
    بس احتیاط سی اک رسم و راہ میں رکھنا

    تم اپنے رنگ نہاؤ تم اپنی موج اڑاو
    مگر ہماری وفا بھی نگاہ میں رکھنا

    قبول گر نہ کرے وہ تو کیا ہمیں سر شام
    گلاب محفل ظل الہٰ میں رکھنا

    جو راس آئی اسے مسند شہی تو سنو
    شکستہ چوڑیاں اب رزم گاہ میں رکھنا

    بڑا عذاب ہے محمودہ غازیہؔ ہجرت
    مرے خدا مجھے اپنی پناہ میں رکھنا

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    بے طلب
    ۔۔۔۔۔۔
    میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی
    جب تک خواہشیں مجھ سے نہ کھینچ جائیں
    یہ کافی ہے اور میرے لیے سب
    میری گردن پر میرے محبوب کا چہرہ سجا دو
    یا میری روح کو آزاد ہو جانے دو
    یہ بھی کافی ہے اور میرے لیے بہت ہے
    میں اس کی خواہش سے کچھ کم ہوں یا ذرا زیادہ
    ظاہر ہے گرد مجھے چھپا لیتی ہے
    میری روح میرے ہونٹوں پر ہے
    اڑنے کے لیے بے تاب
    کیا اس کے ہونٹ مجھے امن کا سبق دیں گے؟
    اور یہ بھی میرے لیے بہت ہے

  • ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ

    ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ

    جو وقت تمھارے ہجر میں کاٹا وہ معتبر ٹھہرا
    جو لمحے ساتھ گزارے فریب دے کے گئے

    ڈاکٹر شاہدہ سردار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :شاہدہ شاہین خٹک
    تاریخ پیدائش:01 جنوری 1971ء
    جائے پیدائش:پشاور
    زبان:پشتو، اردو
    اصناف:شاعری، افسانہ
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مہکتی دھرتی سلگتی سانسیں (وطن سے محبت کے حوالے سے نظموں پر مشتمل)

    ۔ (2)حقیقی زندگی (خواتین کے سماجی مسائل پر مبنی)

    ۔ (3)ہوا کی سرگوشی (غزلیات پر مشتمل شععی مجموعہ)
    (4) کرب زیست (افسانوی مجموعہ)
    (5) چراغ آگہی ( شعری مجموعہ
    (6) دیوار کے اس پار ( ہندوستان کا سفرنامہ)

    مستقل سکونت: چارسدہ روڈ پشاور
    خیبر پختون خواہ کے علاقہ کرک سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ ، ڈاکٹر اور سماجی کارکن ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ یکم جنوری 1978 میں پشاور میں ڈاکٹر زر بادشاہ خٹک کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم پشاور شہر میں حاصل کی اور میڈیکل کے شعبے میں ایم بی بی ایس کا کورس مکمل کرنے کے بعد اسپیشل کورس کر کے ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر بن گئیں ۔

    وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود شعر و ادب اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ سماجی خدمات کی غرض سے 2011 سے MAPC کے نام سے ایک این جی او بھی چلا رہی ہیں جبکہ وہ ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے وطن میں ادبی تقریبات و مشاعروں میں بھرپور شرکت کے ساتھ بیرونی ممالک کا سفر بھی کرتی رہتی ہیں انہوں نے ہندوستان اور آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی ادبی تقریبات میں بھی شرکت کی ہے ۔ ہندوستان کے سفر کے حوالے سے انہوں نے ” دیوار کے اس پار ” کے نام سے ایک سفرنامہ بھی لکھا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہیں کہ تم کو سہارے فریب دے کے گئے
    ہمیں بھی دوست ہمارے فریب دے کے گئے

    پھر اس کے بعد سرابوں کا ایک صحرا تھا
    چمکتی رات کے تارے فریب دے کے گئے

    جو وقت ہجر میں کاٹا وہ معتبر ٹھہرا
    جولمحے ساتھ گزارے فریب دے کے گئے

    کوئی ستارا نہ ابھرا وفا کے ساحل پر
    سمندروں کے نظارے فریب دے کے گئے

    وہیں پہ راکھ تھے پھر خواب میری پلکوں کے
    کبھی جو اپنے سہارے فریب دے کے گئے

    نگہہ نے شوق سے دیکھا صبا کی آمد کو
    ہوا کے سارے اشارے فریب دے کے گئے

    پڑی نظر جو کتابوں میں خشک پھولوں پر
    وہیں پہ ضبط ہمارے فریب دے کے گئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے حسین سرسبز موسم میں
    تمھاری یاد اشکوں میں روانی چھوڑ جاتی ہے
    اترتی ہے تری تصویر آنکھوں کے دریچے پر
    تو دل میں پھر سے اک وحشت پرانی چھوڑ جاتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان پہ موسم کی ادائوں کا اثر کیسے ہو
    جن کی آنکھوں کا کوئی رنگ سہانا ہی نہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صرف یہ سوچ کے آئینے کو پھر جوڑ دیا
    وقت جتنا ہو محبت کے لیے تھوڑا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرا وطن کبھی آلودہ غبار نہ ہو
    خدایا اس پہ کبھی مشکلوں کا بار نہ ہو

  • فومیکو ہیاشی جاپانی ناول نگار اور شاعرہ کا آج جنم دن ہے

    فومیکو ہیاشی جاپانی ناول نگار اور شاعرہ کا آج جنم دن ہے

    فومیکو ہیاشی جاپانی ناول نگار اور شاعرہ کا آج جنم دن ہے

    آغا نیاز مگسی

    فومیکو ہیاشی کا جنم 31 دسمبر 1903 کو جاپان کے شہر شیمو نوسیکی میں ہوا۔ جب وہ سات برس کی تھیں اس کی ماں اپنے قانونی شوہر کی دکان کے منیجر کے ساتھ بھاگ گئی۔ بعد ازاں تینوں نے کیوشو میں خانہ بدوش تاجر کے طور پر کام کیا۔ سنہ 1922ء میں ہائی اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہیاشی اپنے عاشق کے ساتھ ٹوکیو منتقل ہوگئیں۔ وہ کئی اور مردوں کے ساتھ بھی رہیں۔ سنہ 1926ء میں روکوبِن تیزوکا نام کے مصور سے شادی کرلی۔

     ان کی اکثر تخلیقات آزاد حوصلہ افزا خواتین اور مسائل سے دوچار رشتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ ان کی تخلیقات میں سے شاہکار ”ہوروکی“ 1927ء (یعنی سیلانی کی ڈائری) ہے۔ ان کا آخری ناول اوکیگومو (بہتے بادل، 1951ء) تھا جس پر میکیو ناریوس نے سنہ 1955ء میں ایک فلم بنائی تھی۔ ناریوس نے ان کی کتابوں پر مزید فلمیں بھی بنائیں اور ان کے متعلق سنہ 1962ء میں ایک سوانحی فلم، ہوروکی (خانہ بدوش کا بیاض) کی ہدایت کاری بھی کی۔

     ہیاشی کا کام زیادہ تر نسوانی پسند موضوع کے لیے مشہور ہوا۔ انھوں نے جاپانی فوجی حکومت کی طرف سے مقبوضہ چین جانے کے لیے دورے قبول کیے، اس کی وجہ سے بعد میں اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 1942ء و1943ء میں وہ مصنفات کے بڑے حلقے کا حصہ بن گئیں، انھوں نے جنوب مشرقی ایشیا کا سفر بھی کیا، لگ بھگ آدھا سال وہاں رہیں بالخصوص جاوا اور سماترا میں۔ ان کی کچھ سرگرمیوں کو مقامی انڈونیشیائی کے ساتھ ساتھ جاپان کے پریسوں میں بھی رپورٹ کیا گیا۔

     جنگ عظیم دوم کے بعد انھوں نے خوب شہرت کمائی جب انھوں نے داون تاون (ڈاؤن ٹاؤن، 1948ء) اور اوکیگومو (بہتے بادل، 1949ء) لکھے۔ ہیاشی کی موت حد سے زیادہ کام سے دل پر تناؤ کی وجہ سے ہوئی تھی۔

  • جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریزمختصرکہانی نویس، شاعر اور ناول نگار

    جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریزمختصرکہانی نویس، شاعر اور ناول نگار

    پیدائش:30 دسمبر 1865ء
    ممبئی
    وفات:18 جنوری 1936ء
    لندن
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    شہریت: مملکت متحدہ ( انگلستان)
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    والد:جان لاکووڈ کپلنگ
    زبان:انگریزی
    ملازمت:یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    نوبل انعام برائے ادب (1907)
    فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر

    جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریز مختصر کہانی نویس، شاعر اور ناول نگار تھا۔ وہ بنیادی طور پر بھارت میں برطانوی فوجیوں کی کہانیوں اور نظموں اور بچوں کے لیے کہانیوں کے لیے مشہور ہے۔ وہ بمبئی میں برطانوی راج کے دوران پیدا ہوا۔ وہ پانچ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان چلا گیا۔ کپلنگ بہترین افسانوں میں دی جنگل بک (The Jungle Book)، جسٹ سو سٹوریز(Just So Stories)، کم (Kim)، دی مین ہو وڈ بی کنگ (The Man Who Would Be King) مشہور ہیں۔ لاہور میں1883ء تا 1889ء سول اینڈ ملٹری گزٹ کے لیے کام کرتے رہے۔

  • یوم وفات، شبنم رومانی

    یوم وفات، شبنم رومانی

    مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں
    انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے

    شبنم رومانی

    پیدائش: 30 دسمبر 1928ء
    وفات :17 فروری 2009ء

    نام مرزا عظیم احمد بیگ چغتائی اور تخلص شبنمؔ ہے۔ 30 دسمبر 1928ء کو شاہ جہاں پور(ہندستان) میں پیدا ہوئے۔ 1948ء میں بریلی کالج سے بی کام کا امتحان پاس کیا۔ 1949ء کوآپریٹوز کے اکاؤنٹنٹ اور پھر اسسٹنٹ سکریٹری رہے۔ اسی سال ہجرت کرکے پاکستان چلےگئے۔ انھوں نے غزل کے علاوہ نظمیں، افسانے، انشائیے سبھی کچھ لکھا ہے۔ 1973ء سے روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں ہائیڈ پارک کے عنوان سے پابندی سے ادبی کالم لکھتے رہے۔ سہ ماہی مجلہ ’’اقدار‘ کی ‘ خوبصورت ادارت کرتے رہے جبکہ وہ متعدد ادبی اور اشاعتی اداروں کے بانی اور مشیر بھی رہے۔ ۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
    ’مثنوی سیر کراچی‘،’جزیرہ‘ (شعری مجموعہ) ، ’حرفِ نسبت‘ (نعت)، ’ارمغانِ مجنوں‘ (جلد اول۔مرتب)، ’تہمت‘، ’دوسرا ہمالہ‘ (شعری مجموعہ)۔ ” عطر خیال” نعتیہ شعری مجموعہ

    شبنمؔ رومانی کی 17 فروری 2009ء کو کراچی میں وفات ہوئی اور عزیز آباد کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ۔ ان کے ایک فرزند فیصل عظیم بھی شاعری کرتے ہیں اور ان کا ایک شعری مجموعہ” میری آنکھوں سے دیکھو” شائع ہو چکا ہے۔ فیصل عظیم بسلسلہ روزگار کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں سکونت پذیر ہیں ۔ شبنم رومانی کی وفات کے وقت زیر طباعت کتب میں نظموں کا مجموعہ ” نفی برابر اثبات” تنقیدی مضامین کا مجموعہ” حریف ظریف” مزاحیہ و طنزیہ مضامین کا مجموعہ” کہتے ہیں جس کو عشق” اور مزاحیہ شاعری کا مجموعہ” فن ہمارا” شامل ہیں ۔

    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)
    ویکیپیڈیا
    تلاش و ترتیب : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
    شبنم رومانی صاحب کی شاعری چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    درد پیراہن بدلتا ہے یہ ہم پر اب کھلا
    صرف لفظوں کی شاعری کو دھنک سمجھتے تھے ہم

    اب کے بارش ایک ساتھی دے گئی
    ایک چہرہ بن گیا دیوار پر

    مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں
    انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے

    تمام عمر کی آوارگی پہ بھاری ہے
    وہ ایک شب جو تری یاد میں گزاری ہے

    ہر آن ایک نیا امتحان سر پر ہے
    زمین زیر قدم آسمان سر پر ہے

    یہ معرفتِ غزل تو دیکھو
    انجان کو جان لکھ رہا ہوں

    میں نے دیکھا ہے بہت غور سے اس دنیا کو
    اِک دلِ آزار مسیحا کے سوا کچھ بھی نہیں

    وہ دور افق میں اڑانیں ہیں کچھ پرندوں کی
    اتر رہے ہیں نئے لفظ آسمانوں سے

    لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار میں
    گھر جلتا چھوڑ آیا ہوں دریا کے اس پار

    اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے
    قید کا ساماں کیا اور اس کو گھر کہنے لگے