Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

    حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

    موسیٰ نہیں جو تاب نظارہ نہ لاسکوں
    کچھ دیر اور رہنے دو پردہ اٹھا ہوا

    حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کے معروف ادیب و شاعر تحریک ختم نبوت اور تحریک آزادی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم کارکن حافظ محمد یوسف آزاد 1907 کو سکندرہ راو ضلع علیگڑھ ہندوستان ایک زمیندار گھرانے میں اہل قریش کے شیخ ظفر الدین کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ وہ فقط شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ پہلوان، موسیقار، تحریک خلافت، تحریک ختم نبوت، تحریک آزادی پاکستان کے فعال اور سرگرم رکن اور نعت خواں بھی تھے۔ انہوں نے عربی ، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی اور فارسی تعلیم میں الحاج سید محمد ابراہیم ان کے استاذ تھے اور ان ہی سے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ 21 برس کی عمر میں انہوں نے شاعری شروع کی استاد شاعر ” اللہ راضی رہبر” سے اصلاح اور رہنمائی لی جن کا سلسلہ حضرت امیر مینائی سے ملتا ہے ۔ حافظ محمد یوسف صاحب نے ابتدا میں یوسف تخلص استعمال کیا لیکن ہندوستان سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد انہوں نے آزاد تخلص اختیار کیا۔ انہوں حمد، نعت ، منقبت، غزل اور نظم سمیت اردو شاعری کی تمام اصناف میں بھرپور طبع آزمائی کی جبکہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے پسمنظر میں انہوں نے کافی جنگی ترانے بھی لکھے جو بہت مقبول ہوئے ۔ ۔ یوسف آزاد شہنشاہ تغزل حضرت جگر مراد آبادی، علامہ سیماب اکبر آبادی، استاد قمر جلالوی، زیبا ناروی اور احسن مارہروی کے ہم عصر شعراء میں سے تھے بلکہ انہوں نے اپنا پہلا مشاعرہ جگر مراد آبادی کے اصرار پر ان کے ساتھ سرگودھا میں پڑھا۔ سرگودھا میں انہوں نے ” بزم حریم ادب” قائم کی اور اس کے علاوہ دیگر دو ادبی تنظیموں کے بھی بانی اور سرگرم عہدیدار رہے ۔ انہیں ہندی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ چناں چہ اس ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے دو ہندی سوانگ (منظوم ڈرامے) ” جوگن کی عصمت” اور ” مہا رانی تارا” تصنیف کیے جنہیں بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ اردو زبان میں ان کی تصانیف ” مدح صحابہ کرام رضہ” ” بڑھیا نامہ” اور ” فضیلت ماہ رمضان” بہت مقبول ہوئیں۔ محمد یوسف آزاد صاحب 1950 میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جن میں ان کی اہلیہ محترمہ ایک بیٹی اور تین بیٹے محمد یونس ارشاد ، محمد یاسین اور محمد یامین شامل تھے ہندوستان سے ہجرت کر کے سرگودھا پاکستان میں آباد ہو گئے ان کے یہ تینوں فرزند بھی والد کی طرح شاعر بن گئے جبکہ پاکستان میں آنے کے بعد ان کے ہاں مزید ایک بیٹی اور 3 بیٹے پیدا ہوئے جن میں سے دو بیٹے بچپن میں ہی فوت ہو گئے ایک بیٹا خالد محمود یوسفی ماشاء اللہ بقید حیات ہیں اور یہ بھی ایک بہت اچھے شاعر ہیں۔ یوسف آزاد صاحب کی 30 دسمبر 1979 میں سرگودھا میں وفات ہوئی اور یہیں پہ آسودہ خاک ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند خالد یوسفی نے آزاد صاحب کا ایک خوب صورت شعری مجموعہ” آئینہ آزاد” کے نام سے شایع کروا دیا ہے ۔یوسف آزاد صاحب ہندوستان اور پاکستان میں موجود شاگر شعراء کی تعداد دو درجن کے قریب ہیں جن میں علاوالدین بیکل(انڈیا) عزیز انبالوی، صوفی فقیر محمد، اقبال منظر ، کریم بخش مضطر، رب بخش کلیار، حسن عباس زیدی ، مقصود احمد راہی، شفق بجنوری، محمد عمر عاصم جلیسری، کرنل فریدی، الحاج شیخ محمد یاسین، محمد یامین، محمد یونس ارشاد، خالد محمود یوسفی و دیگر شعراء شامل ہیں۔

    حافظ محمد یوسف آزاد کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "آزاد ” شب تنہائی میں ایسے بھی گزرتے ہیں لمحے
    دل درد سے بے کل ہوتا ہے اور درد چھپانا پڑتا ہے

    سبنھلنا یہاں شیخ جی میکدہ ہے
    بہک جاتے ہیں ہوشیار آتے آتے

    پھول غیروں کی وہ تربت پہ چڑھاکے آئے
    میری تربت پہ جب آئے تو چڑھائے کانٹے

    دیر و کعبہ میں نہ گلشن نہ بیاباں کے قریب
    میرے محبوب کا مسکن ہے رگ جاں کے قریب
    زندگی گزری ہے پرستش میں بتوں کی ” آزاد”
    شرم اب آتی ہے جاتے ہوئے یزداں کے قریب

    طور نے جل کے کہا غش میں پڑے ہو موسیٰ
    ہوش میں آئو تو پوچھیں کوئی دیدار کی بات

    ہر کوئی بسمل نظر آتا ہے بسمل کے قریب
    جتنے بھی بیٹھے ہوئے ہیں میرے قاتل کے قریب

    آزاد جو کٹ مرتے ہیں ناموس وطن پر
    پیچھے نہیں ہٹتے ہیں وہ انسان ہمی ہیں

    وہ تھامے ہوئے قلب و جگر آئے ہیں آزاد
    میں اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں

    میں وہ مے نوش ہوں ساقی تیرے مے خانے میں
    گھول کر توبہ کو پی لیتا ہوں پیمانے میں

  • معروف بھارتی فلمسازاور ہدایتکار رامانند ساگر کا یوم پیدائش

    معروف بھارتی فلمسازاور ہدایتکار رامانند ساگر کا یوم پیدائش

    ہندوستانی فلم انڈسٹری کے معروف فلمساز، ہدایت کار اور کہانی نویس۔ رامانند ساگر 29 دسمبر 1917ء میں پیدا ہوئے انھیں ہندستانی ٹی وی کی مشہور اساطیری سیریل رامائن کی تخلیق پر بہت شہرت حاصل ہوئی تھی رامانند ساگر نے اپنے کیرئر کا آغاز بطور فلم ٹیکنیشن کیا تھا اور ممبئی کی فلم نگری میں ترقی کرتے کرتے وہ ایک کہنہ مشق فلمساز بن گئے تھے۔

    رامانند نے پچیس سے زیادہ فلمیں اور ایک درجن سے زیادہ ٹی وی ڈرامے بنائے۔ ان کی چند یادگار فلموں میںانسانیت، کوہ نور، پیغام، گھونگھٹ، زندگی، آنکھیں، للکار، آرزو، گیت اور بغاوت کے نام آتے ہیں۔ انہوں نے ساگر جی کے ساتھ فلم سلمیٰ میں کام کیا جس میں ہیروئین پاکستانی اداکارہ سلمیٰ آغا اور ہیرو راج ببر تھے۔ اس فلم کے نغمے حسن کمال نے ہی لکھے تھے۔

    ساگر کو اردو زبان سے بہت لگا تھا۔وہ ایک اچھے ناول نگار اور افسانہ نگار بھی تھے۔ برصغیر کی تقسیم پر بھی رامانند ساگر نے ایک ناول ”اور انسان مرگیا“ لکھا۔ اس کے علاوہ ان کے کئی افسانے اردو کے رسائل اور جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ 12 دسمبر 2005ء کو ممبئی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔

  • سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر:دنیا بھرمیں مقبول

    سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر:دنیا بھرمیں مقبول

    پیدائش:20 مئی 1900
    ۔۔۔ Kausani، North-Western
    ۔۔۔ Provinces
    ۔۔۔ برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:28 دسمبر 1977ء
    الٰہ آباد، اتر پردیش، بھارت
    قومیت:Indian
    تعلیم:Hindi Literature
    موضوع:Sanskrit
    اہم اعزازات:پدم بھوشن (1961)
    گیان پیٹھ انعام (1968)

    سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر تھے۔ وہ 20ویں صدی کے ہندی زبان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور پسند کیے جانے والے شعرا میں سے ہیں۔ وہ رومانی شاعر تھے جنہوں نے فطرت، عوام اور ان کی خوبصورتی کو اپنا موضوع سخن بنایا۔
    پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔
    پنت کی ولادت اتراکھنڈ کے الموڑا ضلع کے کوسانی گاؤں میں ہوئی۔ وہ درمیانی درجہ کے براہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ولادت کے چند گھنٹوں بعد ہی والدہ چل بسیں۔ انھیں پھر کسی سے کبھی لگاؤ نہیں ہوا۔ انھوں نے والد، دادی/نانی یا بھائی سے والہانہ تعلق قائم نہیں کیا اور یہ ان کی تحریروں میں صاف جھلکتا ہے۔ گویاکہ یہی سوچ ان کے شاعر ہونے کا محرک ثابت ہوئی۔ ان کے والد چائے کے ایک باغ میں کام کرتے تھے۔ وہ وہاں منیجر تھے اور زمین میں بھی ان کی شراکت داری تھی۔ پنت گاؤں میں ہی پلے بڑھے اور وہیں سے انھیں فطرت میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور یہی دلچسپی ان کی شاعری کا موضوع بنی۔
    انہوں نے 1918ء میں کوینس کالج بنارس میں داخلہ لیا اور سروجنی نائڈو اور رابندر ناتھ ٹیگور کا مطالعہ شروع کیا۔ ان دو شخصیات نے پنت کو خوب متاثر کیا۔ انھوں کچھ انگریزی رومانی شاعروں کو بھی پڑھا۔ 1919ء میں وہ الہ آباد چلے گئے۔ 1926ء میں ان کا پہلا دیوان پلو شائع ہوا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ برج بھاشا اور گزرے زمانے کی بات ہوگئی۔ اگر شہرت حاصل کرنی ہے تو نئی زبان (ہندی) میں لکھنا ہوگا۔
    ادبی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پنت نے گرچہ ہندی میں لکھنا شروع کیا تھا مگر وہ سنسکرت سے متاثر ہندی لکھتے تھے۔ انھوں نے شاعری، مضمون نگاری اور ڈراما میں کل 28 کتابیں شائع کیں۔ وہ شاعری کے کئی مناہج سے متاثر تھے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    1968ء میں انہیں گیان پیٹھ انعام دیا گیا۔ “کالا اور بوڑھا چاند“ کے لیے انہیں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ انہیں 1961ء میں حکومت ہند نے پدم بھوشن سے نوازا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    28 دسمبر 1977ء کو الہ آباد میں ان کی وفات ہوگئی۔

  • پروفیسر سحر انصاری:اردوزبان کے معروف شاعراور ادیب بھی

    پروفیسر سحر انصاری:اردوزبان کے معروف شاعراور ادیب بھی

    عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل
    کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

    پروفیسر سحر انصاری

    27 دسمبر 1941 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو زبان کے معروف شاعر، ادیب ، نقاد ، ماہرِتعلیم اورمیرے استادِ محترم پروفیسر سحر انصاری 27 دسمبر 1941 کو اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے 1973 میں بلوچستان یونیورسٹی سے بطوراستاد پیشہ وارانہ سرگرمی کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں جامعہ کراچی کے شعبہ تدریس سے وابستگی اختیار کی ۔ پہلی کتاب نمود 1976 میں شایع ہوئی جسے بے حساب پزیرائی حاصل ہوئی۔ خدا سے بات کرتے ہیں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2015 میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
    ..
    جانے کیوں رنگ بغاوت نہیں چھپنے پاتا
    ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں
    ..
    صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں
    حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں
    ہجوم اپنی جگہ تاریک جنگل کے درختوں کا
    پرندے پھر بھی شاخ آشیانہ یاد رکھتے ہیں
    ہمیں اندازہ رہتا ہے ہمیشہ دوست دشمن کا
    نشانی یاد رکھتے ہیں نشانہ یاد رکھتے ہیں
    ہم انسانوں سے تو یہ سنگ و خشت بام و در اچھے
    مسافر کب ہوا گھر سے روانہ یاد رکھتے ہیں
    دعائے موسم گل ان کو راس آ ہی نہیں سکتی
    جو شاخ گل کے بدلے تازیانہ یاد رکھتے ہیں
    ہماری سمت اک موج طرب آئی تو یاد آیا
    کہ کچھ موسم ہمیں بھی غائبانہ یاد رکھتے ہیں
    غرور ان کو اگر رہتا ہے اپنی کامیابی کا
    سحرؔ ہم بھی شکست فاتحانہ یاد رکھتے ہیں

  • افسانہ نویس  و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    قیصر نذیر خاورؔ یکم اگست 1953ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ رہائش انارکلی میں تھی. 1976ء میں پنجاب یونیورسٹی سے جیالوجی اور 1983ء میں پبلک ایڈمنسٹریٹریشن میں ڈگریاں حاصل کیں. اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن میں ملازم ہوئے اور بطور ڈائریکٹر جنرل (ایجوکیشن) ، او پی ایف ریٹائر ہوئے ۔
    ترقی پسند لٹریچر کی اشاعت کیلئے دوستوں نے مل کر جو ادارہ مکتبہ فکر و دانش قائم کیا تھا، اس کے شرکاء نے اگرچہ الگ الگ کئی ادارے قائم کرلئے لیکن مکتبہ فکرودانش کا نام قیصر نذیر خاور نے زندہ رکھا. اپنی تمام کتابیں اسی ادارے کے نام سے شائع کیں.

    قیصر نذیر خاور کی تخلیقات و تراجم :

    انگولا سے زائر تک ، 1976
    یک سِنگھے ‘ ( بارہ افسانے )، جاپان کے مشہور ادیب ہاروکی موراکامی کے منتخب افسانوں کے اردو تراجم 2012
    حکایات ِ عالم‘ ( 101 حکایات کا انتخاب اور اردو ترجمہ، 2018ء،
    ۔جولیٹ اور دیگر کہانیاں، (نوبل انعام یافتہ ادیبہ ایلس منرو کے دس منتخب افسانوں کا ترجمہ، 2018ء،

    ۔عالمی ادب سے ایک انتخاب ، ( دنیا بھر سے 25 منتخب ادیبوں کے تعارف کے ساتھ ان کے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ 2018ء،

    ۔عالمی ادب اور افسانچہ، (196 افسانچے)، 2018ء،

    ۔”دوسری نسل کا المیہ”، برناڈ شیلنک (Bernhard Schlink) کے جرمن ناول Der Vorlese اور پر مبنی فلم The readerکے اسکرپٹ کا ترجمہ 2019ء

    ۔”وارفکشن: سرحد کے آس پاس کہیں اور دیگر افسانے”، (منتخب افسانوں کےاردو تراجم اور طبع زاد تحریریں) ، 2019ء،
    ۔”اپنی محفل سے مت نکال ہمیں”، کازُوا اِشیگورو کے ناول Never Let Me Go کا اردو ترجمہ اور مضامین، 2020ء،

    "جھوٹ کی سرزمین اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب 28 افسانوں کا اردو ترجمہ) ، 2020ء

    "انجان نگر میں کھلی کھڑکی اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ) ، 2020ء

    "مچھلیوں کی خودکشی اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ)، 2020ء

    "کیوں ھوئے خوار و زبوں”، جے ایشر (Jay Asher) کے ناول THIRTEEN REASONS WHY کا اردو ترجمہ، 2020ء،
    کلب نا آفریدہ ( کامریڈ کلب علی شیخ کے مضامین )، 2021ء

    "انُوکل اور دیگر کہانیاں”، مصنف: ستیہ جِت رے، قیصر نذیر خاور، 2021ء
    "دی فادر ، دی سَن اینڈ دی ہولی گھوسٹ”، (طبع زاد ناولٹ) 2022ء

    "ادھ کھلے دریچے”، (طبع زاد ناولٹ)، 2022ء
    "فائٹ کلب ” ، فینش ادب: افسانے، شاعری، بچوں کی کہانیاں ، (Finland Literature) ، قیصر نذیر خاور، غلام حسین غازی 2022ء

  • ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال،صحافی، مصنف یشپال ضلع کانگرا میں 03 دسمبر 1903ء میں پیدا ہوئے، یشپال ہندی کے مارکسی ناول نگار مانے جاتے ہیں۔ ادب کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے وہ ایک انقلابی تنظیم سے وابستہ تھے۔ ان کے ابتدائی ناولوں میں انقلابی رحجان کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ یشپال کے ناول تین رحجانات کے حامل ہیں۔ ”دادا کامریڈ“ رومانی انداز کا ناول ہے۔ اس کے کردار جذباتی اور تخیل پسند ہیں۔ اسے ہندی کا ایسا پہلا ناول قرار دیا گیا ہے جس میں سیاست اور رومانیت کا امتزاج ہے۔ دوسرا رحجان سماجی حقیقت نگاری کا ہے۔

    ”دیش دروہی“، ”دبیا“ اور ”پارٹی کامریڈ“ سماجی حقیقت نگاری کے ناول ہیں۔ ان میں ایسے سماج کی تمنا کی گئی ہے جس میں لوگ طبقوں میں بٹے ہوئے نہ ہوں۔ اس طرح کے ناولوں میں متوسط طبقے کی تصویر ملتی ہے۔ تیسرا رحجان فطرت پسندی کا ہے۔ ”منش کے روپ“ میں یشپال فطر پسندی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ ”پرتشٹھا کا بوجھ“ اور ”دھرم رکھشا“ یشپال کی ایسی کہانیاں ہیں جن میں فطرت پسندی کی طرف جھکاؤ ملتا ہے۔ لیکن یشپال کے جس ناول کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ "جھوٹا سچ” ہے۔ اس ناول میں کا پس منظر تقسیم کے بعد کے فسادات ہیں۔

    تقسیم نے دونوں ملکوں کے مختلف فرقوں اور مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان میں جو زہر گھولا اس کی موثر انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ یشپال اپنی تخلیقات میں سماجی برائیوں، اندھے عقائد اور سماجی ناانصافی کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 1976ء میں ”میری تیری اس کی بات“ پر ان کو ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا اور یہ پدم بھوشن وصول کنندہ بھی تھے۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یشپال 1903ء میں کانگڑا چوٹیوں میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کی اماں بہت غریب تھیں اور اپنے دو بچوں کی اکیلے پرورش کرنے کی ذمہ دار ان ہی کے کندھوں پر تھی۔ انھوں نے اس دور میں نشو و نما پائی جب برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے دعووں کی گونج میں اضافہ ہوچکا تھا اور ان کی اماں آریہ سماج کی کٹر حمایتی تھیں۔ انہوں نے غربت کے سبب ابتدائی تعلیم آریہ سماج کے گروکُل (روایتی مدرسہ) سے حاصل کی، جہاں مفت کھانے، کپڑوں اور ٹیوشن کی سہولت تھی۔

  • بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    25 دسمبر یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔ زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔ وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • 26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    مر بھی جائوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

    26 دسمبر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

    سیدہ پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق ہوئی ۔

    شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ 1977ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ آپ کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

    26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔
    پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔

    پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    منیر نیازی

    پیدائش:09اپریل 1928ء
    ہوشیار پور، ہندوستان
    وفات:26دسمبر 2006ء

    نام محمد منیر خاں قبیلہ نیازی پٹھان اور تخلص منیر ہے۔ 09اپریل 1928ء کو خان پور ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۷ء میں بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔مختلف اخبارات اور جرائد سے وابستہ رہے۔ فلمی نغمہ نگاری کی۔غزل ان کی بنیادی شناخت ہے۔پابند اور آزاد نظمیں بھی کافی تعداد میں لکھی ہیں۔ نثری نظمیں بھی لکھتے تھے۔پنجابی کے بھی بہت اچھے شاعر تھے۔وہ اردو اور پنجابی کے ۳۰؍ سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ اردو شاعری کے چند مجموعوں کے نام یہ ہیں : ’تیز ہوا اور تنہا پھول‘،’جنگل میں دھنک‘، ’دشمنوں کے درمیان شام‘، ’ماہ منیر‘، ’اس بے وفاکا شہر‘،’چھ رنگین دروازے‘۔ان کو یکجا کرکے ’’کلیات منیر‘، ’غزلیات منیر‘، اور ’نظم منیر‘، چھپ گئی ہے۔26؍دسمبر2006ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ’کمال فن‘ ایوارڈ دیا گیا۔ انھیں حسن کارکردگی ایوارڈ کے علاوہ دومرتبہ ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:221

    اشعار
    ۔۔۔۔۔

    کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
    سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

    آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
    ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

    اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
    شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

    خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
    ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

    یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
    تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

    خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
    سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

    اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
    چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

    غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
    تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

    عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
    جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

    آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
    بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

    محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
    گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

    مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
    اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

    وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن
    وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

    شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
    رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

    شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
    رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

    خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت
    شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

    کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیرؔ
    مزا تو جب ہے کہ اس شوخ کو پتا ہی نہ ہو

    جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
    غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

    میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
    یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

    کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا
    مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

    کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مری
    یہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھے

    وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ
    آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

    تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں
    میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
    میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

    تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہو
    میں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتا

    کسی اکیلی شام کی چپ میں
    گیت پرانے گا کے دیکھو

    منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو
    ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

    پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو
    حسن والوں کی سادگی نہ گئی

    اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیں
    ان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئے

    ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
    تخت خالی رہا نہیں کرتا

    جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
    اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر
    ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی

    میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں
    مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

    مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں
    میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

    میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
    عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

    بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
    اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

    غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا
    بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

    منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا
    کسی کے ہجر میں بیمار ہونا

    چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
    ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

    ہے منیرؔ تیری نگاہ میں
    کوئی بات گہرے ملال کی

    کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیرؔ
    اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

    زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی
    یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

    مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیرؔ
    پردہ سا کوئی میرے ترے درمیاں تو ہے

    جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
    کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

    کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہ
    جتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہے

    دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف
    یاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرف

    گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں
    چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

    میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ
    یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

    اس کو بھی تو جا کر دیکھو اس کا حال بھی مجھ سا ہے
    چپ چپ رہ کر دکھ سہنے سے تو انساں مر جاتا ہے

    کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے
    تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا

    تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سونا کر گئی
    دیر تک بیٹھا رہا میں اس ہوا کے سامنے

    اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
    پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

    کتنے یار ہیں پھر بھی منیرؔ اس آبادی میں اکیلا ہے
    اپنے ہی غم کے نشے سے اپنا جی بہلاتا ہے

    ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
    اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

    تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
    اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

    بیٹھ کر میں لکھ گیا ہوں درد دل کا ماجرا
    خون کی اک بوند کاغذ کو رنگیلا کر گئی

    اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو
    کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

    یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
    تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
    پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا

    لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میں
    خیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھا

    جنگلوں میں کوئی پیچھے سے بلائے تو منیرؔ
    مڑ کے رستے میں کبھی اس کی طرف مت دیکھو

    نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
    یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

    میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
    پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا

    میں خوش نہیں ہوں بہت دور اس سے ہونے پر
    جو میں نہیں تھا تو اس پر شباب کیوں آیا

    وہم یہ تجھ کو عجب ہے اے جمال کم نما
    جیسے سب کچھ ہو مگر تو دید کے قابل نہ ہو

    رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں
    میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا

    اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہماں تھا
    صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا

    ایسا سفر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں
    ایسا مکاں ہے جس میں کوئی ہم نفس نہیں

    دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
    دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

    غیر سے نفعت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی
    جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا

    گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے
    جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا

    وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر
    میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو

    ہم بھی منیرؔ اب دنیا داری کر کے وقت گزاریں گے
    ہوتے ہوتے جینے کے بھی لاکھ بہانے آ جاتے ہیں
    یہ نماز عصر کا وقت ہے
    یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

    بڑی مشکل سے یہ جانا کہ ہجر یار میں رہنا
    بہت مشکل ہے پر آخر میں آسانی بہت ہے

    ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
    زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
    آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
    عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
    ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

    دن بھر جو سورج کے ڈر سے گلیوں میں چھپ رہتے ہیں
    شام آتے ہی آنکھوں میں وہ رنگ پرانے آ جاتے ہیں

    اب کسی میں اگلے وقتوں کی وفا باقی نہیں
    سب قبیلے ایک ہیں اب ساری ذاتیں ایک سی

    وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
    ریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا

    مہک عجب سی ہو گئی پڑے پڑے صندوق میں
    رنگت پھیکی پڑ گئی ریشم کے رومال کی

    جن کے ہونے سے ہم بھی ہیں اے دل
    شہر میں ہیں وہ صورتیں باقی

    رات اک اجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی
    گونج اٹھے بام و در میری صدا کے سامنے

    خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
    جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

    شاید کوئی دیکھنے والا ہو جائے حیران
    کمرے کی دیواروں پر کوئی نقش بنا کر دیکھ

    اک تیز رعد جیسی صدا ہر مکان میں
    لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا دینا چاہئے

    منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

    تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
    عکس دیوار کے بدلتے ہی

    ایک دشت لا مکاں پھیلا ہے میرے ہر طرف
    دشت سے نکلوں تو جا کر کن ٹھکانوں میں رہوں

    یہ میرے گرد تماشا ہے آنکھ کھلنے تک
    میں خواب میں تو ہوں لیکن خیال بھی ہے مجھے

    چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیرؔ
    دیکھنا پھر بحر کو اس کی کشش سے جاگتا

    جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا دکھ ہوا
    اس پرانے بام پر وہ صورت زیبا نہ تھی

    دیکھے ہوئے سے لگتے ہیں رستے مکاں مکیں
    جس شہر میں بھٹک کے جدھر جائے آدمی

    ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
    اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے

    سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
    ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں

    لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
    برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں
    مردہ لوگوں کی عادتیں باقی

    دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیا
    میں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیا

    مرے پاس ایسا طلسم ہے جو کئی زمانوں کا اسم ہے
    اسے جب بھی سوچا بلا لیا اسے جو بھی چاہا بنا دیا

    جی خوش ہوا ہے گرتے مکانوں کو دیکھ کر
    یہ شہر خوف خود سے جگر چاک تو ہوا

    امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہت
    رنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہت

    یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیرؔ
    میں کہاں تک ان حدوں کے قید خانوں میں رہوں

    ہے منیرؔ حیرت مستقل
    میں کھڑا ہوں ایسے مقام پر

    کھڑا ہوں زیر فلک گنبد صدا میں منیرؔ
    کہ جیسے ہاتھ اٹھا ہو کوئی دعا کے لیے

    تنہا اجاڑ برجوں میں پھرتا ہے تو منیرؔ
    وہ زرفشانیاں ترے رخ کی کدھر گئیں

    چمک زر کی اسے آخر مکان خاک میں لائی
    بنایا سانپ نے جسموں میں گھر آہستہ آہستہ

    قبائے زرد پہن کر وہ بزم میں آیا
    گل حنا کو ہتھیلی میں تھام کر بیٹھا

    مکان زر لب گویا حد سپہر و زمیں
    دکھائی دیتا ہے سب کچھ یہاں خدا کے سوا

    کوئلیں کوکیں بہت دیوار گلشن کی طرف
    چاند دمکا حوض کے شفاف پانی میں بہت

    ہوں مکاں میں بند جیسے امتحاں میں آدمی
    سختیٔ دیوار و در ہے جھیلتا جاتا ہوں میں

    بہت ہی سست تھا منظر لہو کے رنگ لانے کا
    نشاں آخر ہوا یہ سرخ تر آہستہ آہستہ

    زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
    کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

  • پولستان، لتھیوپیا اور بیلاروس کے قومی شاعرایڈم میکیوچز کا یوم پیدائش

    پولستان، لتھیوپیا اور بیلاروس کے قومی شاعرایڈم میکیوچز کا یوم پیدائش

    ایڈم میکیوچز( پیدائش:24 دسمبر 1798ء ناواہروداک،وفات:26 نومبر 1855ء استنبول) پولینڈ کے شاعر، ڈراما نگار، مضمون نگار، مترجم، سلاوی ادب کے پروفیسر اور سیاسی کارکن تھے ۔ وہ بیک وقت پولستان، لتھیوپیا اور بیلاروس کے قومی شاعر ہیں۔

    پولش رومانیت میں انہیں خصوصی امتیاز حاصل ہے اور وہ پولینڈ کے تین بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان میں سے بھی ایڈم کو پولینڈ کا سب سے بڑا شاعر مانا جاتا ہے۔ وہ سلاوی ادب کے بھی سب سے بڑے شاعر کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔

    اسی وجہ سے انہیں سلاوی شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ رومانی ڈراما نگار، بھی ہیں اور انہیں لارڈ بائرن اور گوئٹے کی صف کا شاعر اور ڈراما نگار مانا جاتا ہے۔