Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • انگریز ناول نویس ولیم تھیکرے کا یوم وفات

    انگریز ناول نویس ولیم تھیکرے کا یوم وفات

    انگریز ناول نویس۔ کلکتہ میں( پیدائش: 18 جولائی 1811ء،وفات: 24 دسمبر 1863ء ) پیدا ہوا جہاں اُس کا باپ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم تھا۔ کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ یورپ کے تمام ملکوں کا تفریحی سفر کیا۔

    پہلے پہل طنزیہ مزاحیہ مضامین اور خاکے لکھے۔ 1946ء میں اپنا شاہکار ناول vanity fair بالاقساط چھپوانا شروع کیا۔ اس میں اپنے دور کے دولت مند لوگوں کی پرتصنع زندگی کا خوب مذاق اڑایا۔

    1852ء میں تاریخی ناول Henry Esmond چھپا۔ اسی سال امریکا کا دورہ کیا اور یہاں کے بعض تعلیمی اداروں میں خطبے دیئے۔

  • روسی ناول نگار الیکساندرفادیئیف کا یوم پیدائش

    روسی ناول نگار الیکساندرفادیئیف کا یوم پیدائش

    الیکساندرالیکساندرووچ فادیئیف سوویت روسی ناول نگار، شریک بانی انجمنِ سوویت مصنفین ہیں۔

    پیدائش
    ۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف روسی سلطنت کے صوبے توور کے کمری نامی قصبے میں 24 دسمبر 1901ء کو پیدا ہوئے۔

    تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف کا شمار سوویت ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ میکسم گورکی کی موت کے بعد انھوں نے بہت برسوں تک ”سوویت ادیبوں کی انجمن“ کی رہنمائی کی۔ روپوش چھاپہ ماروں اور خانہ جنگی کی زندگی سے زبردست سبق حاصل کرکے انھوں نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں لکھنا شروع کیا۔ فادیئیف کے ناولوں ”شکست“، ”قافلہ شہیدوں کا“ اور ”اودے گے قوم کا آخری آدمی“ کو سوویت ادب کے بیش بہا خزانے میں جگہ ملی۔

    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)شکست
    ۔ (2)قافلہ شہیدوں کا (1945ء)
    ۔ (3)اودے گے قوم کا آخری آدمی

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف کو 1946ء میں ناول ”قافلہ شہیدوں کا“ پر سوویت ریاست ”اسٹالن انعام“ دیا گیا۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف نے 54 سال کی عمر میں 13 مئی 1956ء میں ماسکو اوبلاست، سویت یونین میں خودکشی کی۔

  • نوبل انعام یافتہ بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر ہیرالڈ پینٹر کا یوم وفات

    نوبل انعام یافتہ بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر ہیرالڈ پینٹر کا یوم وفات

    نوبل انعام یافتہ مصنف اور بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر۔(پیدائش:10 اکتوبر 1930ءلندن،وفات:24 دسمبر 2008ء لندن) ڈراما نگاری میں اپنے مخصوص اسٹائل ’پنٹریسک‘ سے پہچانے جاتے ہیں۔ پنٹر کے کرداروں کی ڈائیلاگ کی ادائیگی کے دوران لمبی خاموشی کو ’پینٹرسک اسٹائل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہیرالڈ پینٹر نے تیس سے زائد ڈرامے لکھے جن میں ’دی کیئر ٹیکر، ’ہوم کمنگ‘ اور ’بیٹریئل‘ بہت مشہور ہوئے۔ ہیرالڈ پینٹر ایک سیاسی سوچ کے حامل شخصیت تھے اور زندگی آخری برسوں میں وہ اپنی سیاسی تحریروں کے وجہ سے پہچانے جانے لگے۔لندن کے علاقے ہیکنی میں پیدا ہونے والے ہیرالڈ پینٹر بائیں بازو کی سوچ رکھتے تھے اور امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے بڑا نقادوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ انہوں نے زندگی صرف ایک بار دائیں بازو کی جماعت کنزویٹو پارٹی کی رہنما مارگریٹ تھیچر کے حق میں ووٹ ڈالا اور وہ ان کی ان کی زندگی کا سب سے ’شرمناک عمل‘ تھا۔

    عراق جنگ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہیرالڈ پینٹر نے سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکا اور برطانیہ کی جارحیت کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ انہوں نے 2005ء میں اپنی نوبل پرائز تقریب میں اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ صدر بش اور ٹونی بلیئر پر عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔ ہیرالڈ پینٹر نے کہا تھا کہ بیشتر سیاست دان ’طاقت اور طاقت پر اپنے کنٹرول کی بقا میں دلچسپی رکھتے ہیں، سچائی میں نہیں۔‘پِنٹر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سیاست دان سمجھتے ہیں کہ یہ ’ضروری ہے کہ لوگ لاعلم رہیں، سچائی سے بے خبر رہیں، یہاں تک کہ اپنی زندگی کی سچائی سے بھی۔ ہیرالڈ پنٹر مزید کہا کہ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے امریکا کا دعویٰ تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار تھے، جو سچ نہیں تھا۔

    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہیرالڈ پینٹر نہ صرف تیس سے زائد ڈرامے لکھے بلکہ بے شمار ڈارموں میں خود بھی اداکاری کی۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے۔

    ہیرالڈ پینٹر نے دو(2) شادیاں کیں۔ ان کے پہلی اہلیہ سے ان کا ایک بیٹا ہے۔ یہ بات بہت کم لوگوں معلوم ہو گی کہ انھیں کرکٹ سے بہت دلچسپی تھی ۔وہ اپنی ذاتی زندگی میں اپنی بذلہ سنجی کے لیے اپنے قریبی احباب کے حلقے میں پسند کیے جاتے تھے۔ انھوں نے شاعری، مضمون نگاری بھی کی مگر ان کا اصل میدان ڈرامہ نگاری تھا اور یہی ان کی شناخت ہے۔ ہیرالڈ پینٹر کا انتقال 78 سال کی عمر میں 24 دسمبر 2008 کو لندن میں ہوا۔
    انھوں نے بتیس (32) ڈرامے لکھے۔
    ۔ (1)The Room
    ۔ (1957)
    ۔ (2)Old Times
    ۔ (1970)
    ۔ (3)The Birthday Party
    ۔ (1957)
    ۔ (4)Monologue
    ۔ (1972)
    ۔ (5)The Dumb Waiter
    ۔ (1957)
    ۔ (6)No Man’s Land
    ۔ (1974)
    ۔ (7)A Slight Ache
    ۔ (1958)
    ۔ (8)Betrayal
    ۔ (1978)
    ۔ (9)The Hothouse
    ۔ (1958)
    ۔ (10)Family Voices
    ۔ (1980)
    ۔ (11)The Caretaker
    ۔ (1959)
    ۔ (12)Other Places
    ۔ (1982)
    ۔ (13)A Night Out
    ۔ (1959)
    ۔ (14)A Kind of Alaska
    ۔ (1982)
    ۔ (15)Night School
    ۔ (1960)
    ۔ (16)Victoria Station
    ۔ (1982)
    ۔ (17)The Dwarfs
    ۔ (1960)
    ۔ (18)One For The Road
    ۔ (1984)
    ۔ (19)The Collection
    ۔ (1961)
    ۔ (20)Mountain Language
    ۔ (1988)
    ۔ (21)The Lover
    ۔ (1962)
    ۔ (22)The New World Order
    ۔ (1991)
    ۔ (23)Tea Party
    ۔ (1964)
    ۔ (24)Party Time
    ۔ (1991)
    ۔ (25)The Homecoming
    ۔ (1964)
    ۔ (26)Moonlight
    ۔ (1993)
    ۔ (27)The Basement
    ۔ (1966)
    ۔ (28)Ashes to Ashes
    ۔ (1996)
    ۔ (29)Landscape
    ۔ (1967)
    ۔ (30)Celebration
    ۔ (1999)
    ۔ (31)Silence
    ۔ (1968)
    ۔ (32)Remembrance of
    ۔ Things past
    ۔ (2000

  • معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش

    معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش

    دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
    جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔ انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں امھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔

    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا-

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں
    اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تیری وفا صنم‘

    ’حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گِرتا
    ٹوٹے بھی جو تارہ تو زمیں پر نہیں گِرتا‘

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
    ۔۔۔
    ’اے دِل کسی کی یاد میں
    ہوتا ہے بے قرار کیوں‘

    سنہ 1946میں نذیر احمد نےآپ کو لاہور بلایا اورماہنامہ ’ ادبِ لطیف‘ میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کے کام کرنے کو کہا۔
    ’آ میرے پیار کی خوشبو
    منزل پہ تجھے پہنچائے
    آ میرے پیار کی خوشبو‘

    ہفت روزہ اسٹار میں آپ کی پہلی غزل چھپی، اِس کے بعد آپ کو ایک فلم کے گیت لکھنے کو کہا گیا۔
    آپ نے پہلی مرتبہ فلم ’تیری یاد‘ کے گیت لکھے۔ اِس کے بعد یہ سفر آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

    ’حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    اُن کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں‘

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
    جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہریالی
    گجر
    جلترنگ
    روزن
    جھومر
    مطربہ
    چھتنار
    گفتگو
    پیراہن
    آموختہ
    ابابیل
    برگد
    گھنگرو
    سمندر میں سیڑھی
    پھوار
    صنم
    پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : . آغا نیاز مگسی

  • پروفیسر اسٹینلے والپرٹ:کی ادبی زندگی

    پروفیسر اسٹینلے والپرٹ:کی ادبی زندگی

    پروفیسر اسٹینلے والپرٹ

    23 دسمبر یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنوبی ایشیا کی مستند تاریخ کے حوالے سے اتھارٹی تصور کیے جانے والی شخصیت امریکی ماہر تعلیم، محقق اور مصنف اور اسکالر پروفیسر اسٹینلے والپرٹ 23 دسمبر 1927 کو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ انہیں جنوبی ایشیا کی تاریخ سے گہری دلچسپی تھی چنانچہ برطانوی حکومت نے انہیں ہندوستان آ کر تحقیق کرنے کی پیشکش کی جس پر وہ ہندوستان آ گئے ۔

    اسٹینلے نے ہندوستان کی تاریخ کے علاوہ جنوبی ایشیا کی اہم ترین سیاسی شخصیات مہاتما گاندھی ، قائد اعظم محمد علی جناح ، جواہر لال نہرو اور ذوالفقار علی بھٹو کی سوانح حیات پر مبنی کتابیں تحریر کیں ۔ پاکستان میں قائد اعظم کے بارے میں ان کی تصنیف ” جناح آف پاکستان ” بہت مشہور ہوئی جبکہ ہندوستان پر برطانوی تسلط کے آخری دور کے اہم واقعات پر مبنی ان کی کتاب "شیم فل فلائیٹ ” کو بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ پروفیسر اسٹینلے والپرٹ کی 7 مارچ 2019 میں وفات ہوئی۔

  • زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں

    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں

    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
    شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں

    مظفر وارثی

    پیدائش:23دسمبر 1933ء
    میرٹھ، ہندوستان
    وفات:28جنوری 2011ء

    نام محمد مظفر الدین احمد صدیقی اور تخلص مظفر ہے۔23؍دسمبر 1933ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے اور لاہور میں بودوباش اختیار کی۔ بہترین نعت گو کا ایوارڈ پاکستان ٹیلی ویژن سے 1980ء میں حاصل کیا۔ غالب اکیڈمی دہلی کی جانب سے بہترین شاعر کا ’’افتخار غالب‘‘ ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ متعدد فلموں کے گانے بھی لکھ چکے ہیں مگر جب سے نعت کہنا شروع کی، فلمی گانوں کو خیر آباد کہہ دیا۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’برف کی ناؤ‘(مجموعۂ غزل)، ’باب حرم‘(نعت)، ’لہجہ‘(غزل)، ’نورازل‘(نعت) ، ’الحمد ‘(حمدوثنا)، ’حصار‘(نظم)، ’لہوکی ہریالی‘(گیت)، ’ستاروں کی آب جو‘(قطعات)، ’کھلے دریچے‘، ’بند ہوا‘ (غزل)،’کعبۂ عشق‘(نعت)، ’لاشریک‘، ’صاحب التاج‘، ’گئے دنوں کا سراغ‘، ’گہرے پانی‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:282

    نعتِ پاک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ میرے سخن کو سخن کہو
    نہ مری نوا کو نوا کہو
    میری جاں کو صحنِ حرم کہو
    مرے دل کو غارِ حرا کہو
    میں لکھوں جو مدحِ شہہِ اُمم
    اور جبرائیل بنیں قلم
    میں ہوں ایک ذرہء بےدرہم
    مگر آفتابِ ثناء کہو
    طلبِ شہہِ عربی کروں
    میں طوافِ حُبِ نبی کروں
    مگر ایک بےادبی کروں
    مجھے اُس گلی کا گدا کہو
    نہ دھنک، نہ تارا، نہ پھول ہوں
    قدمِ حضور کی دُھول ہوں
    میں شہیدِ عشقِ رسول ہوں
    میری موت کو بھی بقا کہو
    جو غریب عشق نورد ہو
    اُسے کیوں نہ خواہشِ درد ہو
    میرا چہرہ کتنا ہی زرد ہو
    میری زندگی کو ہرا کہو
    ملے آپ سے سندِ وفا
    ہوں بلند مرتبہء صفا
    میں کہوں محمدِ مصطفیٰ
    تم بھی صلے علیٰ کہو
    وہ پیام ہیں کہ پیامبر
    وہ ہمارے جیسا نہیں مگر
    وہ ہے ایک آئینہء بشر
    مگر اُس کو عکسِ خدا کہو
    یہ مظفر ایسا مکین ہے
    کہ فلک پہ جس کی زمین ہے
    یہ سگِ براق نشین ہے
    اسے شہسوارِ صبا کہو

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
    شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں

    لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
    تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

    پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نے
    اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے

    کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
    ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

    ہر شخص پر کیا نہ کرو اتنا اعتماد
    ہر سایہ دار شے کو شجر مت کہا کرو

    میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرح
    مرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا

    تو چلے ساتھ تو آہٹ بھی نہ آئے اپنی
    درمیاں ہم بھی نہ ہوں یوں تجھے تنہا چاہیں

    جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوں
    بڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا

    وعدہ معاوضے کا نہ کرتا اگر خدا
    خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو

    مجھے خود اپنی طلب کا نہیں ہے اندازہ
    یہ کائنات بھی تھوڑی ہے میرے کاسے میں

    ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا
    میں ڈوب کر ہی سہی پار اتر چکا ہوں گا

    خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
    آئینہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی

    زخم تنہائی میں خوشبوئے حنا کس کی تھی
    سایہ دیوار پہ میرا تھا صدا کس کی تھی

    سانس لیتا ہوں کہ پت جھڑ سی لگی ہے مجھ میں
    وقت سے ٹوٹ رہے ہیں مرے بندھن جیسے

  • اردو کی شاعرہ، یاسمین یاس کا یوم پیدائش

    اردو کی شاعرہ، یاسمین یاس کا یوم پیدائش

    نام:یاسمین یاس
    تاریخ پیدائش:23 دسمبر 1974ء
    زبان: اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    1 . میرا جلنا ضرور ہوگیا ہے
    ۔2. . میرے بے خبر
    3 ۔ رات گئے آنکھوں سے

    مستقل پتا:ای-3، فرزانہ بلڈنگ، بلاک 7 ینڈ8
    فرسٹ فلور، ایس،ایم روڈ کراچی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت سے بھی نفرت ہوگئی ہے
    عجب وحشت سی وحشت ہوگئی ہے

    فنا کرلو ڈالوں خود کو اور سب کو
    بتاؤں کیا جو حالت ہوگئی ہے

    جو رکھے یاد اس کو یاد رکھو
    محبت اب تجارت ہوگئی ہے

    زمانے بھر میں رسوا ہورہے ہیں
    یقیناً ہم سے غفلت ہوگئی ہے

    کسی پر زندگی قربان کردیں
    وہ چاہت ایک حسرت ہوگئی ہے

    کبھی وحشت تھی جس دیوانگی سے
    وہی اب میری قسمت ہوگئی ہے

  • معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے،عبدالغنی صراف کنڈے کے ہاں 20 دسمبر 1949ء کو قصبہ پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے انہوں نے اے لیول اردو، کامرس ، اکائونٹنگ، بیچلرزساوئتھ ایشن سٹڈیز اینڈ اردولندن، ماسٹر آف ہومیوپیتھی لندن (M.Hom) سے تعلیم حاصل کی اور پیشے کے طور پرہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے-

    ان کی پسندیدہ ادبی شخصیت:خواجہ الطاف حسین حالیؔ جن کی مسدس کی سحر انگیزی سے متاثر ہوکر میرا قیاس ہے شاعرِ مشرق کا قلم شکوہ جواب شکوہ لکھنے پر متحرک ہوا پسندیدہ غیر ادبی شخصیت ہومیوپیتھک طریقِ علاج کے بانی ڈاکٹر ہنی مین جن کی تحقیق و پیشکش کی بدولت دنیا کے کروڑوں انسان مستفید ہو رہے ہیں۔

    مرزا غالب نے بیدل کو اپنا معنوی استاد تسلیم کیا تھا۔ غالبؔ میر تقی میر کو اپنا پیش رو مانتے تھے۔ غالب کے یہاں ردّ ومقبول کے واقعات موجود ہیں۔ غالب کسی کی شخصیت کو قبول کر لیتے ہیں کسی کی شخصیت کو ردّ کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے غالب کی نفسیات کار فرما ہے جسے احساسِ برتری اور احساس کمتری کہا جاتا ہے۔ غالب اپنے آپ کو سب سے بڑا شاعر بھی مانتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے مثلاً

    ہیں یوں تو زمانے میں سخن ور بہت اچھّے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

    ہمارے عہد کے اہلِ قلم کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا شاعر تسلیم کریں۔ یہ کوئی عیب نہیں، نہ ہی اسے تعلّی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے آپ کی اہمیت کو تسلیم کرانے کا ایک طریقہ ہے۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے کے بعض اشعار میں یہ احساس موجود ہے۔ وہ جب تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں تو انھیں خیال گزرتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طریقے سے الگ سے ضرور ہیں۔ وہ ذرا دور سے، پردوں کے اس طرف سے۔ اس بات کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں۔

    جس کو ہوں دل میں چھپائے رات دن
    بس وہی موتی منورؔ اصل ہے

    اس کا مطلب ہے۔ دنیا کے سارے جواہر نقلی ہیں، سارے موتی پھیکے ہیں جو خزانہ میری تحویل میں اللہ تعالیٰ نے دے دیاہے ، اور جومیرے تصرف میں ہے وہی اصلی ہے، آب دار ہے، یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے موتی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہی خیال شاعر کو اپنی قیمت بڑھانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ شاعر کو اپنے مقابلے میں دنیا کی ہر کرنسی کم قیمت لگتی ہے :

    جہاں بھر کی کرنسی سے بالاتر ہوں میں
    فروخت کرنا ہو خود کو پانچ دس میں نہیں

    یہاں نفی اور اثبات کا معاملہ بھی ہے۔ کوئی اپنی ذات کا اثبات کرتا ہے تو خود بہ خود بہت سی چیزوں کی نفیہو جاتی ہے۔ یہ احساس اردو غزل کو غالب نے دیا ہے۔ غالب نے ہمیشہ اپنے آپ کو نایاب سمجھا۔ غالب آسانی سے کبھی کسی کو دستیاب نہیں ہوئے۔ منور احمد کے بعض اشعار میں ہمیں یہ احساس ملتا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں:

    طے کرے فاصلہ وہ بھی تو کچھ
    ہم سے ملنا ہے تو اِس پار آئے

    اُس پار سے اِس پار آنا جواں مردی کا کام ہے۔ سمندر کو پار کرنا ۔ لہروں سے نبرد آزمائی، طوفانوں سے دو دو ہاتھ۔ ان خطروں سے بچ گئے تو ہم سے مل پاؤگے۔ ورنہ ممکن نہیں۔ ہم وہ گوہرِ نایاب ہیں جو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔
    غالب نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کئی طرح کے اشعار کہے ہیں۔ ایک شعر اس طرح بھی کہا ہے :

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    تمنا کے دوسرے قدم کے متلاشی غالب کی نظر میں دنیا کبھی کبھی بہت حقیر ہو جاتی ہے۔ بچوں کا کھلونا، کھیلو اور توڑ دو۔ دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ منور احمد نے بھی اس طرح کی راہ سے گزرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے زمانے اور مزاج کے لحاظ سے ذرا سا بدلا ہوا مزاج ہے ان کا :

    میرے ماضی کے کھلونے ہیں منورؔ یہ تو سب
    تم نے بس قصّہ سنا ہے خنجر و شمشیر کا

    عالم انسانیت کی ایک مکمل تاریخ سمٹ آئی ہے اس شعر میں۔ یہ خنجر، یہ شمشیر، یہ تیر وتفنگ ایسے کھلونوں کی مانند ہیں جن سے میں ماضی میں کھیل چکا ہوں۔ یہاں موضوعات میں یکسانیت ضرور ہے۔ لیکن اظہار کا طریقہ بدل چکا ہے۔ماضی کے اللہ والوں کی جوانمردیاں شاعر کے احساسات کو گھیرے ہوئے ہیں ، منورؔ ابوابِ تاریخ کے بحور میں ڈوب چکا ہے، الفاظ بدل چکے ہیں۔ اسلوب نگارش میں تبدیلی آ چکی ہے۔ غالب کا زمانہ اور تھا اور منور کا زمانہ اور ہے۔ غالب کی زبان دوسری تھی منور کی زبان دوسری ہے۔ لیکن دنیا کی حقیقت جو دوسو سال پہلیغالب کی نظروں میں تھی آج دو سو سال بعد بھی دنیا کی حقیقت منورؔ احمد کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔دلّی کے اسد اللہ خان غالب ؔنے کہا تھا ؎
    ہوتا ہے شب و روز ہمیشہ مرے آگے

    پیرمحل کے پیرِ سخنوراں منورؔ احمد کنڈے کہتے ہیں تم جو آج خنجر وشمشیر کی باتیں کرتے ہو۔ میرے بازو کل ان کھلونوں سے کھیل چکے ہیں۔

    مرزا غالب اور منور احمد کے درمیان یہاں موازنے کی ہرگز کوئی بات نہیں۔ دو صدیاں بیت چکی ہیں۔۔۔ دونوں نے اپنے اپنے زمانوں کی عکاسی کی ہے۔ دردمندی اور تفکر کا احساس ہر زمانے میں ہر آدمی کو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ برتری کا جذبہ جب اذہان سے پھوٹ کر زبانوں پر آتا ہے تو ذرے بھی خود کو سورج کے پیکر میں ڈھال لیتے ہیں۔ انسان تو ان ذرّوں سے بالاتر ہے۔ منورؔ احمد کنڈے ایک شاعر کا نام ہے ، اورشاعر عام انسان سے بالاتر ہوتاہے۔ یہ حسن و عظمت خالقِ کائنات کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔

    نمونہ تحریر:
    ۔۔۔۔۔
    (نظم)
    ۔۔۔۔۔
    بُلبلے
    ۔۔۔۔۔
    تھا کنارہ وہ کسی تالاب کا
    محو تھا میں سوچ میں ڈوبا ہوا
    آ رہا تھا صاف پانی میں نظر
    بادلوں نے آسماں گھیرا ہوا
    پھر گھٹا سے اِک چمک پیدا ہوئی
    اور منور ہو گئی ساری زمیں
    ابر سے آئی گرج کی اِک صدا
    اور بارش کا سماں پیدا ہوا
    سطحِ پانی پر ابھرتے جا بجا
    بلبلے لگتے تھے کتنے خوشنما
    ایک لمحہ رُک کے مِٹ جاتے تھے وہ
    اِک پتے کی بات کہہ جاتے تھے وہ
    زندگی کی ہے حقیقت اس قدر
    کیوں نہیں آتا بشر کو یہ نظر
    موت کیا ہے اور کیا ہے زندگی
    ہم سے پاؤ اے منورؔ آگہی
    ہے ہماری اور تمھاری بات ایک
    اور قضا کے سامنے اوقات ایک
    بلبلے نے اک سبق سکھلا دیا
    رہ گیا میں سوچ میں ڈوبا ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آسماں سے زمین پر اُترا
    لفظ روحِ حسین پر اُترا
    دورِ قدما سے اِرتقا پا کر
    ذہنِ انساں مشین پر اُترا
    ہم ہیں شاہد کہ دورِ حاضِر میں
    رنگِ حِرفت ہے چین پر اُترا
    مارِ قاتِل ہے جس کا شیدائی
    وہ سپیرے کی بین پر اُترا
    ہم تو محکوم لاالہ کے رہے
    اُن کا ایماں ہے تین پر اُترا
    ایک سجدہ دعا کا مسکن تھا
    مہ جبیں کی جبین پر اُترا
    جس نے پائی قلم کی سُلطانی
    وہ ہی دل کے یقین پر اُترا
    راز ہر صدق کا منورؔ جی
    ہے محمدؐ کے دین پر اُترا

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1) پنجابی شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ ’باغاں دے وچکار‘ ۲۰۰۳ء
    ۔ (2) اردو شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ 2005ء ’بیداردل‘
    ۔ (3)طاقِ دل
    ۔ (اردو شاعری کا مجموعۂ دوم)
    ۔ (4)پنجابی شاعری کا مجموعۂ دوم
    ۔ ’پینگ ہُلارے‘
    ۔ (5)ابرِ قبلہ (مذہبی منظومات
    ۔ 2010ء)
    ۔ (6)حرفِ منورؔ منظومات
    ۔ 400 صفحات 2010ء
    ۔ (7)لختِ دل
    ۔ اردو وپنجابی کلام
    ۔ 2011ء
    ۔ (8)بحرِ خاموش
    ۔ اردو کلام غزلیات ومنظومات
    ۔ 2012ء
    ۔ (9)اوراقِ شفاء ہومیوپیتھی
    ۔ 2012ء
    ۔ (10)رودِ وفا
    ۔ شعری مجموعہ (اردو)
    ۔ 2012ء
    ۔ (11)برگِ شفاء
    ۔ ہربل ہومیوپیتھی 2012ء
    ۔ انگریزی زبان میںہربلزم
    ۔ او رہومیوپیتھی پرعلی الترتیب
    ۔ چار اور پانچ جلدوں پر
    ۔ مشتمل کار سپانڈس کورس)
    ۔ (12)بامِ دل
    ۔ (اردو شاعری)
    ۔ (13) دُرِ منور
    ۔ (مذہبی مثنوی منظومات)
    ۔ (14)شبیہِ دل
    ۔ (زیرِ ترتیب)

    ایوارڈ:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیلو آف دی چارٹرڈ سوسائٹی آف ہومیوپیتھی اینڈ نیچرل تھیراپیوٹکس لندن۔۔۔
    ۔ (2)پولنگ پرنسپیلیٹی سے متعدد اعزازات (نوبل بردہڈ ممبر شپ۔۔۔ نائٹ ہڈ۔
    ۔ (3)ڈاکٹر آنریز کوسا۔۔۔۔ اور مزید نوبیلیٹی ٹائٹلز

  • ہندوستان کے معروف شاعر سید ساغر مہدی بہرائچی

    ہندوستان کے معروف شاعر سید ساغر مہدی بہرائچی

    ہندوستان کے معروف شاعر سید ساغر مہدی بہرائچی 14؍جولائی 1936ء کو شہر بہرائچ کے محلہ سیدواڑہ قاضی پورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید خورشید حسن زیدی اور والدہ کا نام محترمہ رقیہ بیگم تھا۔ سید ساغرؔ مہدی کے والد کا انتقال آپ کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ آپ کے بڑے بھائی سید اصغر مہدی نجمیؔ 1954ء میں کراچی پاکستان گئے اور وہیں بس گئے۔

    والد کی وفات کے بعد آپ کی کفالت کی ذمہ داری آپ کے ماموں سید ہدایت حسین زیدی قمرؔ نے لی اور بہن اور بھانجوں کی کفالت مذہبی ذمہ داری کے ساتھ نبھائی۔ ساغرؔ مہدی کے ماموں سید ہدایت حسین زیدی کو شعر و شاعری کا شوق تھا،ان کی رہائش گاہ پر اکژ ادبی محفلیں ہوتی رہتی تھی۔ جس کی وجہ سے ساغرؔ مہدی کو بھی شعری ذوق پیدا ہوا۔

    بچپن میں آپ کی والدہ میر انیسؔ کے مرثیے انہیں یاد کراتی تھی اور سنا بھی کرتی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان طبعت میں ایک خاص قسم کی موزونیت اور سوزوگراز پیدا ہوا۔ 1958ء میں انٹر کا امتحان پاس کیا۔ 1967ء میں مقامی آزاد انٹر کالج سے تعلیم مکمل کی اوربعد میں مقامی مہاراج سنگھ انٹر کالج میں اردو کے استاد ہوئے۔

    ساغرؔ مہدی بہرائچی اپنے وقت میں ضلع بہرائچ میں سب سے زیادہ مشہور شاعر ہوئے۔ آپ کا ادبی حلقہ بہت وسیع تھا جس میں فراقؔ گورکھپوری، کیفیؔ اعظمی، ڈاکڑ عرفان عباسیؔ لکھنؤ، جمالؔ بابا، و صفیؔ بہرائچی، ڈاکٹر نعیم ﷲ خیالیؔ بہرائچی، شفیعؔ بہرائچی، محسنؔ زیدی، اثرؔ بہرائچی، حاجی لطیف نوری لطیفؔ بہرائچی، عمرؔ قریشی گورکھپوری، عبرتؔ بہرائچی، واصف القادری نانپاروی، ایمن چغتائی نانپاوری، محشرؔ نانپاروی، فناؔ نانپاروی، رفعتؔ بہرائچی، نعمتؔ بہرائچی، شاعرؔ جمالی، جون ایلیا، خماؔر بارہ بنکوی ملک زادہ منظورؔ احمد، پروفیسر احتشام حسین، رزمیؔ صاحب، اطہرؔ رحمانی وغیرہ سے آپ کے قریبی تعلوقات تھے۔

    ادبی کاوشیں
    ساغرؔ مہدی بہرائچی صاحب کے دو مجموعہ کلام کے دو شعری مجموعے ’حرف جاں‘ اور ’دیوانجلی‘ کے نام سے شائع ہو کر منظر عام پر آئے جبکہ نثری مضامین کا مجموعہ ’تحریر اور تحلیق‘ بھی شائع ہوا اور داد تحسین حاصل کی۔ دیوانجلی پر اردو اکادمی اتر پردیش اور صوبہ بہار نے انعام سے بھی نوازا تھا۔
    سید ساغرؔ مہدی 20؍دسمبر 1980ء کو بہرائچ میں انتقال کر گئے۔

    ویکیپیڈیا سے ماخوذ

    سید ساغرؔ مہدی بہرائچی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ تو وفا کا رنگ ہو دست جفا کے ساتھ
    سرخی مرے لہو کی ملا لو حنا کے ساتھ

    ہم وحشیوں سے ہوش کی باتیں فضول ہیں
    پیوند کیا لگائیں دریدہ قبا کے ساتھ

    صدیوں سے پھر رہا ہوں سکوں کی تلاش میں
    صدیوں کی بازگشت ہے اپنی صدا کے ساتھ

    پرواز کی امنگ نہ کنج قفس کا رنج
    فطرت مری بدل گئی آب و ہوا کے ساتھ

    کیا پتھروں کے شہر میں دوکان شیشہ گر
    اک شمع جل رہی ہے غضب کی ہوا کے ساتھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    طوفان تھم چکا ہے مگر جاگتے رہو
    کس وقت کی ہے کس کو خبر جاگتے رہو

    شعلے بجھا کے ہم سفرو مطمئن نہ ہو
    پوشیدہ راکھ میں ہے شرر جاگتے رہو

    اب روشنی میں بھی ہے اندھیروں کا مکر و فن
    کیا اعتبار شام و سحر جاگتے رہو

    ہر ذرۂ چمن میں ہے لعل و گہر کا رنگ
    لٹنے نہ پائیں لعل و گہر جاگتے رہو

    اب رات خود ہے اپنی سیاہی سے بیقرار
    آواز دے رہی ہے سحر جاگتے رہو

    ساغرؔ یہ غم کی رات یہ راہوں کے پیچ و خم
    دشمن بھی ہے شریک سفر جاگتے رہو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مرے غموں کا کسی نے خیال بھی نہ کیا
    کسی سے میں نے مگر عرض حال بھی نہ کیا

    میں دور تک اسے دیکھا کیا نہ جانے کیوں
    ٹھہر کے جس نے ذرا سا ملال بھی نہ کیا

    پھرا میں باغ میں مانند برگ آوارہ
    شمیم گل نے مگر پائمال بھی نہ کیا

    حریف ہو گئی دنیا یہ کیا کیا میں نے
    کسی ہنر میں کچھ ایسا کمال بھی نہ کیا

    شکست جام پہ میں پھوٹ پھوٹ کر رویا
    شکستہ شیشۂ دل کا خیال بھی نہ کیا

    مری سرشت میں وہ لا شریک تھا کہ مجھے
    خدائے صاحب اہل و عیال بھی نہ کیا

    ستم کشوں نے ہزاروں سوال سوچے تھے
    ستم شعار نے لیکن سوال بھی نہ کیا

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ  فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین مرحوم مشتاق انور اور امینہ خاتون کے ہاں کولکاتا میں 19 دسمبر 1999 پیدا ہوئیں، انہوں نے
    ایم-اے (اردو، بی-ایڈ اور ڈی-ایل-ایڈ تک تعلیم حاصل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں انہوں نے 2017 میں باقاعدی شاعری کا آغاز کیا-

    ان کے پسندیدہ شاعر میر تقی میر، مرزا غالب، احمد فراز، فیض احمد فیض، پروین شاکراور احمد کمال حشمی، خورشید طلب ہیں ان کا مشغلہ شعری و نثری کتب کا مطالعہ کرنا، سیر و تفریح کرنا، کلاسیکی شعرا کی غزلیں اور پرانے گانے سننا ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہوا
    دل اس کی بے رخی کا نشانہ بہت ہوا
    خوابوں کی گٹھری لاد کے کب تک جئیں گے ہم
    پلکوں پہ ان کا بار اٹھانا بہت ہوا
    ہوتا ہے درد، جب کبھی آ جائے اس کا ذکر
    گو زخمِ دل ہمارا پرانا بہت ہوا
    مجھ کو نہیں قبول تمہارا کوئی جواز
    اب روز روز کا یہ بہانہ بہت ہوا
    اوروں کے درد و غم کا پتا چل گیا ہے نا
    اب تو ہنسو کہ رونا رلانا بہت ہوا
    تعبیر چاہیے مجھے، تدبیر کیجئے
    آنکھوں کو خواب واب دکھانا بہت ہوا
    فرزاؔنہ کوئی بات غزل میں نئی کہو
    ذکرِ وصال و ہجر پرانا بہت ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
    گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
    میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
    میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
    پگھل نہ جاؤں ترے جذبوں کی تپش سے میں
    نگاہیں اپنی مرے چہرے سے ہٹا تو سہی
    لحاظ پچھلے تعلق کا اس نے کچھ تو کیا
    مری صدا پہ وہ پل بھر کو ہی رکا تو سہی
    میں اپنے شعروں کے پیکر میں ان کو ڈھالوں گی
    تو اپنا حالِ غمِ دل کبھی سنا تو سہی
    طلب نہیں نئے قول و قرار کی مجھ کو
    کیا تھا مجھ سے جو وعدہ کبھی، نبھا تو سہی
    میں کیسے کہہ دوں کہ الفت میں کچھ نہیں پایا
    ملا نہ وہ، نہ سہی، اس کا غم ملا تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے
    اس دور میں دیوانہ بھی دیوانہ نہیں ہے”
    تم یاد تو آتے ہو مگر آتے نہیں ہو
    یہ طور کسی طرح شریفانہ نہیں ہے
    ہے دور تلک پھیلا ہوا شورِ خموشی
    اس دل سے بڑا کوئی بھی ویرانہ نہیں ہے
    گہرائی کا اندازہ نہیں سطح سے ممکن
    جذبات کو جو ناپے وہ پیمانہ نہیں ہے
    اے شمع دوانے ترے ہیں کتنے پتنگے
    ہو جائے جو قربان وہ پروانہ نہیں ہے
    اندازِ سخاوت مرا شاہانہ ہے لیکن
    اندازِ طلب اُس کا فقیرانہ نہیں ہے
    دریافت کیا میں نے کہ ہے کیوں یہ اداسی
    لوگوں نے کہا بزم میں فرزاؔنہ نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
    اذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دھواں بھی ہر سو
    اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
    سارے زخموں کو ہرے کرتا ہے اک تیرا خیال
    یاد تیری مرے زخموں کی نگہبان ہے کیا
    زخم اب کوئی نیا دیتا نہیں ہے مجھ کو
    بے وفا اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہے کیا
    آشنائی کی جھلک اس کی نگاہوں میں نہیں
    آنے والے کسی خطرے کا یہ امکان ہے کیا
    ایک اک پل یہ جدائی کا ہے صدیوں پہ محیط
    اور اس طرح سے جینا کوئی آسان ہے کیا
    درد اتنا ترے لہجے میں کہاں سے آیا
    تیرے کمرے میں کہیں میر کا دیوان ہے کیا
    آندھی سی اٹھتی ہے فرزاؔنہ کے دل میں ہر پل
    اس کے سینے میں بھی برپا کوئی طوفان ہے کیا