Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    آخری شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے مجاہد آزادی اورانقلابی 11 جون 1897ء کو اتر پردیش کےگاؤں شاہ جہان پور میں پیدا ہوئے رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔

    وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔

    بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔

    11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔

    بنكم چندر چٹوپادھیائے نوشتہ وندے ماترم کے بعد رام پرساد بسمل کی تخلیق سرفروشی کی تمنا نے کارکنانِ تحریکِ آزادی میں بہت مقبولیت پائی۔

    بسمل ان کا تخلص تھا بسمل کے علاوہ رام اور نامعلوم کے نام سے مضمون وغیرہ لکھتے تھےرام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔

    كاكوری سانحہ کا مقدمہ لکھنؤ میں چل رہا تھا۔ پنڈت جگت نارائن ملا سرکاری وکیل کے ساتھ اردو کے شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ملزمان کے لئے ” ملازم ” لفظ بول دیا۔ پھر کیا تھا، پنڈت رام پرساد بسمل نے جھٹ سے ان پر یہ چٹیلی پھبتی کسی:

    ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے
    عدالت کے ادب سے ہم یہاں تشریف لائے ہیں
    پلٹ دیتے ہیں ہم موج حوادث اپنی جرات سے
    کہ ہم نے آندھیوں میں بھی چراغ اکثر جلائے ہیں

    جب بسمل کو شاہی كونسل سے اپیل مسترد ہو جانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی ایک غزل لکھ کر گورکھپور جیل سے باہر بھجوائی

    مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا !
    دل کی بربادی کے بعد انکا پیام آیا تو کیا !

    مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال ،
    اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا !

    اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں ،
    پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا !

    کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے ،
    یوں سرے تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا !

    آخری شب دید کے قابل تھی ‘بسمل’ کی تڑپ ،
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا !

  • بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول  نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرحین چوہدری صاحبہ ایک دبنگ قسم کی ممتاز پاکستانی ادیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس ، اسکرپٹ رائٹر ، سفر نامہ نگار اور شاعرہ ہیں جن کی شہرت بیرون ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ 19 دسمبر 1960 کو ، کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کےوالد انور مبشر صاحب ایک بینک آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ان کی مادری زبان ہندکو ہے مگر وہ اردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی زبانیں روانی سے بولتی ہیں-

    فرحین چوہدری کا اصل نام شہابہ انور ہے شادی کے بعد شہابہ گیلانی بنیں لیکن پی ٹی وی کراچی سینٹر کے ڈائریکٹر قاسم جلالی نے ان کا نام شہابہ انور سے تبدیل کر کے فرحین چوہدری رکھ دیا حالانکہ فرحین چوہدری بننے سے قبل ان کا بہت بڑا مواد شہابہ انور اور شہابہ گیلانی کے نام سے چھپ چکا ہے۔ فرحین چوہدری نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم اے کر رکھا ہے۔

    انہوں نے دوران تعلیم 7 سال کی عمر سے ہی اپنے ادبی سفر کا آغاز کر دیا۔ وہ بچپن سے اب تک ادب تخلیق کر رہی ہیں ۔افسانہ ، شاعری ، خاکے ، کالم نگاری اور سکرپٹ میں انہوں نے سخت محنت کی بدولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ لٹریری آرٹ اور کلچرل سنںڈیکیٹ کی بانی چئرپرسن کے طور پر بھی گزشتہ 12 سال سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں ۔

    وہ ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب جیسی دیوقامت ادبی اور روحانی شخصیات کے بہت قریب رہی ہیں اور ان کی تنظیم” رابطہ” کی پہلی کم عمر ترین رکن اور بعد میں خاتون سیکریٹی رہیں۔ وہ” حلقہ ارباب ذوق” کی دوسری خاتون سیکریٹری بھی منتخب ہوئیں۔ فرحین چوہدری نے سارک ممالک میں کئی سال تک ادبی و ثقافتی طائفوں کی سربراہی کرنے صوفی کانفرنسز کے سیشن کی صدارت کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے 2013 میں سنگارپور میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پہلی خاتون پاکستانی لکھاری کی حیثیت سے شرکت کی اور ” جنوبی ایشیا میں خواتین لکھاری اور ان کے موضوعات” کے عنوان سے انگریزی میں مقالہ پڑھا ۔

    لوک ورثہ میں پروگرام ایگزیکٹو ، مین ہیٹن انٹرنیشنل میں ڈائرکٹر پروڈکشن، ایورنیو کانسیپٹ میں ڈائرکٹر پروڈکشن اور ہنجاب اور سٹار ایشیا ٹی وی چینل کی سٹیشن ہیڈ اسلام آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ۔ پی ٹی وی کے لئے کئی مشہور سیریل سیریز اور ٹیلی فلمز لکھیں ۔ جن میں دام رسائی ، ماٹی کی گڑیا ، اشتہار لگانا منع ہے ، چاند میرا بھی تو ہے ، خوشبو ، خواب جو د یکھے آنکھوں نے وغیرہ شامل ہیں ۔

    "پانی پہ نام” سیریل لکس سٹائل انٹرنیشنل ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوا تھا۔ آئی ایس پی آر اور آئی او ایم کے لئے ڈاکومنٹریز کے علاوہ بھی کئی ڈاکومنٹریز اور ٹی وی پروگرامز بطور ڈائرکٹر بنائے ۔ چار افسانوی مجموعے ، سچے جھوٹ آدھا سچ میٹھا سچ ، شوگر کوٹڈ شعری مجموعہ، سورج پہ دستک اور یاداشتوں کی کتاب ، "مفتی جی اور میں ” چھپ چکی ہیں ۔

    2013 میں سارک لٹریری اور کلچرل ایوارڈ 2019 ممتاز مفتی گولڈ میڈل برائے ادب 2022 گولڈ میڈل منجانب امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 23 ایوارڈ مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں دیے گئے ان کی 4 نئی تصانیف جلد منظر عام پر آنے والی ہیں۔ فرحین صاحبہ گزشتہ طویل عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کے دو بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ ہیں۔ ان کے بڑے فرزند مسقط اومان میں مقیم ہیں جبکہ ان کے چھوٹے فرزند ان کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں مقیم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نمونہ کلام

    ہم سادہ دل تھے لوگ سکھی
    ہمیں دھوکہ دے گئے لوگ سکھی

    ہم ہنس کر بازی ہار گئے
    کیوں جیت بناتے روگ سکھی

    جو راہ ہمارا حصہ تھی
    اس راہ میں پڑگئے لوگ سکھی

    یہ جیون کھیل تماشا ہے
    ہمیں لینے پڑ گئے جوگ سکھی

    خود اپنے آپ کو مار دیا
    پھر ہم نے منایا سوگ سکھی

    اب کیا پرواہ کس حال میں ہیں
    اب کیا کہتے ہیں لوگ سکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا یے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے

    مجھ میں پھیلے ہوئے صحرائوں کی وسعت ہے عجب
    ایک درویش کی مٹھی میں سما جاتے ہیں

    وہاں کاغذوں کے گھر تھے
    جہاں آگ جل رہی تھی

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی

  • معروف شاعرہ امیتا پرسورام کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ امیتا پرسورام کا یوم پیدائش

    تو جتنا بھی انہیں اپنا سمجھ لے
    سیاسی ہستیاں تیری نہ میری

    معروف شاعرہ امیتا پرسورام کا قلمی نام امیتا پرسو رام میتا ہے امیتا 15دسمبر 1955ء میں پیدا ہوئیں-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    شدت شوق سے افسانے تو ہو جاتے ہیں
    پھر نہ جانے وہی عاشق کہاں کھو جاتے ہیں
    مجھ سے ارشاد یہ ہوتا ہے کہ سمجھوں ان کو
    اور پھر بھیڑ میں دنیا کی وہ کھو جاتے ہیں
    درد جب ضبط کی ہر حد سے گزر جاتا ہے
    خواب تنہائی کے آغوش میں سو جاتے ہیں
    بس یوں ہی کہتے ہیں وہ میرے ہیں میرے ہوں گے
    اور اک پل میں کسی اور کے ہو جاتے ہیں
    ہم تو پابند وفا پہلے بھی تھے آج بھی ہیں
    آپ ہی فاصلے لے آئے تو لو جاتے ہیں
    کوئی تدبیر نہ تقدیر سے لینا دینا
    بس یوں ہی فیصلے جو ہونے ہیں ہو جاتے ہیں
    کچھ تو احساس محبت سے ہوئیں نم آنکھیں
    کچھ تری یاد کے بادل بھی بھگو جاتے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بن گئے دل کے فسانے کیا کیا
    کھل گئے راز نہ جانے کیا کیا
    کون تھا میرے علاوہ اس کا
    اس نے ڈھونڈے تھے ٹھکانے کیا کیا
    رحمت عشق نے بخشے مجھ کو
    اس کی یادوں کے خزانے کیا کیا
    آج رہ رہ کے مجھے یاد آئے
    اس کے انداز پرانے کیا کیا
    رقص کرتی ہوئی یادیں ان کی
    اور دل گائے ترانے کیا کیا
    تیرا انداز نرالا سب سے
    تیر تو ایک نشانے کیا کیا
    آرزو میری وہی ہے لیکن
    اس کو آتے ہیں بہانے کیا کیا
    راز دل لاکھ چھپایا لیکن
    کہہ دیا اس کی ادا نے کیا کیا
    دل نے تو دل ہی کی مانی میتاؔ
    عقل دیتی رہی طعنے کیا کیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت مہرباں تیری نہ میری
    مکمل داستاں تیری نہ میری
    گنوا دی عمر جس کو جیتنے میں
    وہ دنیا میری جاں تیری نہ میری
    خدا جانے ہے کس کا درد کتنا
    یہ سانجھی سسکیاں تیری نہ میری
    ہیں نا انصافیاں ہر سمت لیکن
    کھلی اب تک زباں تیری نہ میری
    بچا ہے اور نہ کوئی بچ سکے گا
    غموں کی آندھیاں تیری نہ میری
    تو جتنا بھی انہیں اپنا سمجھ لے
    سیاسی ہستیاں تیری نہ میری
    صحافت کو خریدا اہل زر نے
    رہی اب سرخیاں تیری نہ میری
    اداکاری ریا کاری دکھاوا
    حقیقت کی زباں تیری نہ میری

  • ممتاز صحافی و کالم نگار ظفر عالم سرورکینیڈا میں وفات پا گئے

    ممتاز صحافی و کالم نگار ظفر عالم سرورکینیڈا میں وفات پا گئے

    ممتاز صحافی و کالم نگار ظفر عالم سرور (زیڈ اے سرور) کینیڈا میں وفات پا گئے-

    باغی ٹی وی : ضیاء الحق کے مارشل لاء میں آزادی صحافت کے لیے آواز بلند کرنے پر انہوں نے جیل کاٹی اور ملازمت سے بھی نکالے گئے. وہ پاکستان ٹائمز، ڈان اور فرنٹیئر پوسٹ سے وابستہ رہے .-

    ظفر عالم سرور نے کئی نیشنل اور انٹرنیشنل خبریں بریک کیں ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جو نیجو، ظفر اللہ جمالی، نواب اکبر خان بگٹی سمیت بے شمار سیاسی قائدین کے خصوصی انٹرویو کیے-

    ظفر عالم سرور امروز، پاکستان اور جنگ کے نیوز ایڈیٹر اکبر عالم مرحوم کے بڑے بھائی اور ایکسپریس نیوز کے سینئر رپورٹر طالب فریدی کے چچا تھے ان کی تدفین کینیڈا میں ہی ہوگی ان کے بیٹے وہیں رہتے ہیں.

  • معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک ‏نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن ‏اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پرکی انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طرازہیں۔‏

    ‏میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اورماجرہ پرور سال تھا اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے پہلاحادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا‏

    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

    ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔

    حضرت علی کی ذات مبارک سےانہیں خصوصی عقیدت تھی اورانہیں اپنی سیادت پربھی نازتھاسعید کہتے ہیں،جون کوزبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔

    جون ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر گزر چکے اب کئی سال ہوگئے

    جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اسوقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی اس قدر تاخیر سے اشاعت کی وجہ وہ اس شرمندگی کو قرار دیتے ہیں جو ان کو اپنے والد کی تصنافات کو نہ شائع کراسکنے کے سبب تھی۔

    میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
    اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

    ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

    جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اورفوضوی تھےان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

    ایک سایہ میرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا کیا تھا

    جون ایلیا تراجم، تدوین اور اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے لیکن ان کے تراجم اورنثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں ہیں۔ انہوں اسماعیلی طریقہ کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ کی حیثیت سے دسویں صدی کے شہرۂ آفاق رسائل اخوان الصفا کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن افسوس کے وہ شائع نہ ہوسکے۔

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

    میں اپنے شہر کا سب سے گرامی نام لڑکا تھا
    میں بے ہنگام لڑکا تھا ‘ میں صد ہنگام لڑکا تھا
    مرے دم سے غضب ہنگامہ رہتا تھا محلوں میں
    میں حشر آغاز لڑکا تھا ‘ میں حشر انجام لڑکا تھا
    مرمٹا ہوں خیال پر اپنے
    وجد آتا ہے حال پر اپنے

    جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔ زاہدہ حنااپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور مختلف اخبارات میں ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کردی۔

    کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
    وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آجاؤ
    جون ہی تو ہے جون کے درپے
    میرکو میر ہی سے خطرہ ہے

    کمال ِ فن کی معراج پرپہنچے جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔

    کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
    کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

    اب تم کبھی نہ آئوگے یعنی کبھی کبھی
    رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
    اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

  • پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    غریبِ شہر تو فاقے سے مرگیا عارفؔ
    امیرِ شہر نے ہیرے سے خود کشی کرلی

    عارف شفیق 31 اکتوبر 1956 کو کراچی میں پیدا ہوئے. عملی زندگی میں صحافت سے وابستہ رہے ان کی شاعری کے یہ مجموعے شائع ہوئے: آدھی سوچیں گونگے لفظ (1977) سیپ کے دیپ (1979) سر پھری ہوا (1985) جب زمین پر کوئی دیوار نہ تھی (1987) احتجاج (1988) یقین (1989) میں ہواؤں کا رخ بدل دوں گا (1991) مرا شہر جل رہا ہے(1997)

    ان کا کچھ کلام

    اس شخص پر بھی شہر کے کتے جھپٹ پڑے
    روٹی اٹھا رہا تھا جو کچرے کے ڈھیر سے

    عارف شفیق کوئی نہ آگے نکل سکا
    میں نے ہر آنیوالے کو خود راستہ دیا

    جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
    مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کرلی

    زندگی خوف کا سفر کیوں ہے
    کاش کیوں اگر مگر کیوں ہے

    مجھے خدا نے وہ بخشا ہے شاعری کا ہنر
    جو خواب دیکھتا ہوں وہ دکھا بھی سکتا ہوں

    ہر ایک ہاتھ میں ہتھیار ہوں جہاں عارفؔ
    مجھے قلم سے وہاں انقلاب لانا ہے

    اور کچھ نہ دے سکا میں اگر ورثے میں
    اپنی اولاد کو سچائی تو دے جاؤں گا

    عارف شفیق ورثے میں اولاد کے لئے
    میں جا رھا ھوں جرآت اظہار چھوڑ کر

    اک فتویٰ پھر آیا ہے یہ غاروں سے
    کافر کہہ کر مجھ کو مارا جاسکتا ہے

    ساری دنیا ہے آشنا مجھ سے
    اجنبی اپنے خاندان میں ہوں

    آنسو پونچھے، دکھ بانٹے انسانوں کے
    میں نے بھی تو ساری عمر عبادت کی

    آنکھوں میں جاگ اٹھے ہیں تنہا شجر کے دکھ
    گلدان میں جو پھول سجے دیکھتا ہوں میں

    موم کی صورت خود ہی پگھل جائے گا اک دن
    لفظ محبت لکھ دے تو دل کے پتھر پر

    کسی کی آنکھ سے آنسو بھی پونچھ لیتا کبھی
    غرور کرتا ہے جو شخص اپنے سجدوں پر

    وہی ہیں لفظ پرانے جو لکھ رہے ہیں سب
    معانی ان میں مری شاعری اتارتی ہے

    اکثر سب کو رستہ دینے والے لوگ
    میری طرح سے خود پیچھے رہ جاتے ہیں

    شہر سارا ہی ہوگیا روپوش
    کوئی ملتا نہیں ٹھکانے پر

    یقیں اب ہوگیا میں سچ ہوں عارف
    جبھی دنیا مجھے جھٹلا رہی ہے

    سولی پہ چڑھا کر مرے چاند اور مرے سورج
    اب شہر میں مٹی کے دیے بانٹ رہا ہے

    ایسا نہ ہو وہ خود کو سمجھنے لگے خدا
    اتنا بھی جھکنا ٹھیک نہیں التماس میں

    وہاں ہر چیز تھی اک جنس وفا تھی نایاب
    خاک ڈال آیا ترے شہر کے بازاروں پر

    جب کوئی اہم فیصلہ کرنا
    اپنے بچوں سے مشورہ کرنا

    میں نے سیکھا ہے اپنے بچوں سے
    سچ کا اظہار برملا کرنا

    وقت کرتا ہے خود فیصلہ ایک دن
    اب ہمیں وقت کا فیصلہ چاہیے

    چند سکے نہ دے ہم کو خیرات میں
    اپنی محنت کا پورا صلہ چاہیے

    عارف وہ فیصلے کی گھڑی بھی عجیب تھی
    دل کو سنبھالنا پڑا میزان کی طرح

    پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے کیوں میرا نام و نسب
    سوچ لیں پیغمبروں سے سلسلہ مل جائے گا

    تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر
    ترے بغیر بسر میں نے زندگی کرلی

    اپنے دروازے پہ خود ہی دستکیں دیتا ہے وہ
    اجنبی لہجے میں پھر وہ پوچھتا ہے کون ہے

    کوئی لشکر یہاں سے گزرا ہے
    اتنی اُجڑی یہ رہگزر کیوں ہے

    خوب ہے تیری عاجزی لیکن
    اونچا مسجد سے تیرا گھر کیوں ہے

    کیا کبھی تُو نے سچ نہیں بولا
    تیرے شانوں پر پھر یہ سر کیوں ہے

    نظمیں

    .. رابطہ..

    اپنی ذات
    اپنے گھر
    اپنے مذہب
    اپنی تہزیب
    اور اپنے قبیلے کی
    دیواریں اتنی بھی اونچی نہ کرو
    کہ ساری دنیا سے
    تمہارا رابطہ کٹ جائے

    .. زمینی کتاب..

    اب تک آسمانوں سے
    زمین پر کتابیں اتری ہیں
    میں اس زمین کا شاعر ہوں
    میری خواہش ہے کہ
    ایک کتاب زمین سے
    آسمانوں پر بھی اترے
    کیونکہ
    آسمان والے جان سکیں
    کہ
    قیامت سے پہلے
    زمین پر کتنی قیامتیں
    گزر چکی ہیں

    .. محرومی..

    میں ماں باپ کے ہوتے ہوئے
    یتیموں کی طرح
    زندگی گزار رہا ہوں
    تنہا کھڑا
    اس کتیا کو دیکھ رہا ہوں
    جو اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے
    پیار سے ان کو چاٹ رہی ہے
    اور
    میں بیٹھا سوچ رہا ہوں
    کاش میں پلا ہی ہوتا

  • برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    برصغیر کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر۔ 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔

    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔

    شیلیندر صاحب کے نغمے اورر اشعار

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند……

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند……

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند…….

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

  • یوم پیدائش، میگھنا گلزار

    یوم پیدائش، میگھنا گلزار

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔ میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔

  • ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    ڈاکٹرغلام علی_یاسر 13؍دسمبر 1976ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حبیب حیدر تھا۔ انہوں نے عمر کے ابتدائی سولہ سال گوجرانوالہ میں ہی گذارے اور وہ 1994ء میں اسلام آباد چلے گئے۔ علی یاسر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو ادب میں ایم فل اور پھر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    علی یاسر نے 1990ء میں شاعری کا آغاز کیا اور ابتدا میں اپنے دادا امیر علی ساتھی سے اصلاح لی۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی اردو کے حوالوں سے جاری رہیں اور یوں ان کا ادبی ذوق اور مہارت بڑھتی رہی۔ انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کیا۔ علی یاسر نے ادب کی سرپرستی کے لیے قائم حکومتی ادارے اکادمی ادبیات میں ملازمت اختیار کی اور یوں نہ صرف ملک بھر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گئے بلکہ شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا بھی اٹھایا۔

    وہ اکادمی ادبیات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور رہے۔شاعری میں اپنی پہچان رکھنے والے علی یاسر میڈیا سے بھی وابستہ رہے اور ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام میں شریک بھی ہوتے اور میزبانی بھی کرتے رہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور علامہ اقبال یونیورسٹی ایف ایم ریڈیو پر کئی پروگرامز کے میزبان رہے۔

    انہوں نے پی ٹی وی کے لیے بہت سی دستاویزی فلمیں، اسکرپٹس اور نغمے لکھے۔ بطور مترجم انہوں نے انگریزی اور پنجابی سے اردو میں تراجم کیے جن میں ”چین کی محبت کی نظمیں“ اور ”نوبل لیکچر“ وغیرہ شامل ہیں۔ علی یاسر علامہ اقبالؔ یونیورسٹی سے جُز وقتی استاد کے طور پر بھی وابستہ تھے۔

    علی یاسر تواتر سے مشاعروں میں شریک ہوتے تھے اور مشاعروں کی نظامت بھی کرتے تھے۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کے علاوہ دبئی، ابو ظہبی اور نئی دہلی میں مشاعروں میں بھی شریک ہو ئے۔ ”ارادہ“ کے نام سے علی یاسر کی غزلوں کا مجموعہ 2007ء میں منظر عام پر آیا جبکہ 2016ء میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ”غزل بتائے گی“ کے عنوان سے شائع ہوا۔

    علی یاسر نے 2008ء اور 2010ء میں اہلِ قلم ڈائری کو مرتب کیا۔ ”کلیاتِ منظور عارف“ اور ”اردو غزل میں تصورِ فنا و بقا“ کے عنوانات سے کتابیں زیرِ طبع ہیں۔ وہ اپنی نعتیں اور نیا مجموعہء غزل بھی مرتب کرنے میں منہمک تھے لیکن موت نے مہلت نہ دی۔

    ڈاکٹر علی یاسرؔ 17؍فروری 2020ء کو برین ہیمرج کے سبب اسلام آباد میں وفات پا گئے اور اپنے آبائی علاقے راہوالی ( گوجرانوالہ) میں مدفون ہوئے۔

    کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا
    مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا

    جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے
    جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا

    اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ
    غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا

    جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار
    یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا

    ہے زندگی بھی وہی جو ہو دوسروں کے لئے
    وہ محترم ہوا جو احترام کر کے گیا

    یہ سرزمیں ہے جلال و جمال و عظمت کی
    ہے خوش نصیب یہاں جو قیام کر کے گیا

    ہے کون شاعر خوش فکر کون ہے فن کار
    غزل بتائے گی اس میں نام کر کے گیا

    اثر ہوا نہ ہوا بزم پر علی یاسرؔ
    کلام کرنا تھا میں نے کلام کر کے گیا

    دور کرنے کو تری زلف کا خم اتریں گے
    آسمانوں کے ستارے کوئی دم اتریں گے

    حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست
    وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے

    ایک امید پہ تعمیر کیا ہے گھر کو
    اس کے آنگن میں کبھی تیرے قدم اتریں گے

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    اتنی آہیں نہ بھرو اشک نہ سارے بہہ جائیں
    طبع نازک پہ ابھی اور بھی غم اتریں گے

    جیسے ہم آنکھ ملا کر ترے دل میں آئے
    لوگ اس زینۂ دشوار سے کم اتریں گے

    شاد و شاداب اسی وقت رہوں گا یاسرؔ
    سر قرطاس جب اشعار کے یم اتریں گے

    ہے روشنی مرا عزم و یقیں چلا آیا
    ستارہ ہوں میں برائے زمیں چلا آیا

    میں سب سے قیمتی خلقت خدائے قدرت کی
    مرا جواز ہے یوں ہی نہیں چلا آیا

    ہے میری آہ مرے قہقہوں کی آہٹ میں
    عزائے زیست میں خندہ جبیں چلا آیا

    بساط دامن صد چاک تیری قسمت ہے
    ترے وصال کو ایسا نگیں چلا آیا

    عجب غضب ہے کہ دل ڈھونڈنے لگا خود کو
    ادھر جو آج وہی دل نشیں چلا آیا

    زمیں سے دادرسی کی امید ٹوٹ چکی
    سو نالہ جانب عرش بریں چلا آیا

    خیال تھا کہ مرے دوستوں کی محفل ہے
    سو دوستو یہ ہوا میں یہیں چلا آیا

    ہر ایک وقت ہے اس کا ہر ایک سر کومل
    غزل میں بن کے وہ اک بھیرویں چلا آیا

    یہ کہہ کے گور بھی مجھ پر کشادہ ہونے لگی
    خوش آمدید کہ میرا مکیں چلا آیا

    اب احتیاط سے مطلب نہیں علی یاسرؔ
    کہ سامنے وہ مرا نکتہ چیں چلا آیا

  • جدید فارسی شاعری کے منفرد نام احمد شاملو کا یوم پیدائش

    جدید فارسی شاعری کے منفرد نام احمد شاملو کا یوم پیدائش

    احمد شاملو جدید فارسی شاعری کا منفرد نام ،ان کا قلمی نام ”بامدار“ تھا۔ 12 دسمبر 1925 میں تہران میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کی پیدائش کابل / افغانستان میں ہوئی تھی۔ شاملو کا تعلق فوجی خاندان سے ہے۔ شاملو شاعر ہونے کے علاوہ قاموس دان، صحافی اور سیاسی کارکن بھی تھے۔ وہ کچھ عرصے نیو جرسی / امریکا میں بھی مقیم رہے۔

    وہ ایک عرصے تک پروفیسر اور مدیر بھی رہے۔ ان کی نظموں کے تراجم لٹریری رویو اور لٹریچر ایسٹ اینڈ ویسٹ میں چھپ چکے ہیں۔ ان کی بارہ/12 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں ،”آہنگ ھائی فراموش شدہ“، ”زن پشت در مقری“، ”ھوائی تازہ“ اور ”قطغامہ“ شامل ہیں۔ شاملو کی تحریروں پر حافظ، خیام، نیما، بیاگی، رلکے،مایاوسکی،آرگن،لانگسٹن ہیوز اور لورکا کے گہرے اثرات ہیں۔

    انھوں نے تین/3 شادیاں کیں۔ وہ ایران کی کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن رہے اور شاملو ایک سال سے زائد پابند سلاسل بھی رہے۔ زیباطیس / شوگر کے سبب ان کے دائیں پاوں کی جراحت ہوئی۔ اتوار 23 جولائی2000 میں انتقال ہوا۔ اور ”خراج“ /ایران میں پیوند زمین ہوئے۔