Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    پیدائش… 21 اگست 1919ء(امرتسر، ھندوستان)
    وفات….. 12دسمبر 1994ء(لاہور ،پاکستان)

    👈حالات زندگی

    ظہیر کاشمیری 21 اگست،1919ء کو امرتسر، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام پیرزادہ غلام دستگیر تھا۔ انہوں نے میٹرک ایم اے او ہائی اسکول امرتسر سے اور پھر ایم اے او کالج امرتسر سے بی اے کیا اور خالصہ کالج امرتسر میں ایم اے (انگریزی) میں داخلہ لیا مگر اسے مکمل نہ کر سکے۔

    👈صحافت

    ظہیر کاشمیری نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبہ سے کیا۔ رسالہ سویرا کے ایڈیٹر رہے۔ کالم نگار کی حیثیت سے روزنامہ احسان، نوائے وقت اور پکار میں کالم لکھتے رہے۔ بعد ازاں روزنامہ مساوات اور روزنامہ حالات سے بھی وابستہ رہے۔

    👈ترقی پسند تحریک سے وابستگی

    ظہیر کاشمیری زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔ ان کا شمار ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے آغاز ہی سے وابستہ ہو گئے اور اس تحریک کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنے ترقی پسندانہ خیالات میں اضافہ کرتے رہے۔ ظہیر کاشمیری مزدوروں کے عالمی حقوق کے لیے بہت سی ٹریڈ یونین تحریکوں سے بھی وابستہ رہے جس کے سبب قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

    👈فلمی دنیا سے وابستگی

    قیام پاکستان سے قبل ظہیر کاشمیری لاہور آ گئے اور فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ کہانیاں لکھیں اور کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔

    👈شاعری
    ظہیر نے انسانی آزادی اور عظمت کی جدوجہد کو تاریخی تسلسل میں دیکھا ہے۔ انسانی تاریخی کی ابتدا سے لے کر آج تک انسانی جدوجہد کے فکر و کلام کا خاص موضوع رہی ہے۔ عصری تغیرات اور تاریخی عمل سے نہ صرف یہ کہ ان کا فکر و فن ہمیشہ ہم آہنگ رہا ہے بلکہ انسانی عز و شرف کی ان عظیم تحریکات سے عملی سطح پر بھی وہ وابستہ رہے ہیں۔ ہم عصر تاریخ کا کوئی واقعہ یا آزادی یا انسانی حقوق کی خاطر کی جانے والی کوئی ایسی جہد و پیکار نہیں جس نے ان کے فکر و جذبہ کو تحریک نہ دی ہو اور جسے انہوں نے فن کے سانچے میں نہ ڈھالا ہو۔ ظہیر کاشمیری کا شمار اُردو کے ان چند قد آور شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اُردو شاعری خصوصاً غزل کو نیا رنگ دیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں آدمی نامہ، جہان آگہی، چراغ آخر شب اور حرف سپاس کے نام شامل ہیں۔

    👈تصانیف
    آدمی نامہ
    رقصِ جنوں
    اُوراقِ مصور
    جہانِ آگہی
    چراغ آخرِ شب
    حرفِ سپاس
    ادب کے مادی نظریے
    عظمت ِ آدم
    تغزل

    👈اعزازات

    ظہیر کاشمیری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

    👈وفات.

    ظہیر کاشمیری 12 دسمبر، 1994ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے.

    موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے
    فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے

    گل بوٹوں کے رنگ اور نقشے اب تو یوں ہی مٹ جائیں گے
    ہم کہ فروغ صبح چمن تھے پابند فتراک ہوئے

    مہر تغیر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا
    صدیوں کے افتادہ ذرے ہم دوش افلاک ہوئے

    دل کے غم نے درد جہاں سے مل کے بڑا بے چین کیا
    پہلے پلکیں پر نم تھیں اب عارض بھی نمناک ہوئے

    کتنے الھڑ سپنے تھے جو دور سحر میں ٹوٹ گئے
    کتنے ہنس مکھ چہرے فصل بہاراں میں غم ناک ہوئے

    برق زمانہ دور تھی لیکن مشعل خانہ دور نہ تھی
    ہم تو ظہیرؔ اپنے ہی گھر کی آگ میں جل کر خاک ہوئے

  • بزرگ صحافی، ادیب اور براڈ کاسٹر ابوالحسن نغمی امریکہ میں انتقال کرگئے.

    بزرگ صحافی، ادیب اور براڈ کاسٹر ابوالحسن نغمی امریکہ میں انتقال کرگئے.

    بزرگ صحافی، ادیب اور براڈ کاسٹر ابوالحسن نغمی امریکہ میں انتقال کرگئے.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابوالحسن نغمی نے روزنامہ "زمیندار ” سے صحافت کا آغاز کیا. ریڈیو پاکستان لاہور کے بچوں کے پروگرام میں "بھائی جان” کے طور پر بہت مقبول ہوئے۔ روزنامہ "امروز” میں قطعہ بھی لکھتے رہے. پھر وائس آف امریکہ میں چلے گئے ۔ جس کے بعد ایک انشورنس کمپنی سے وابستہ رہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد SOUL ( سوسائٹی آف اُردو لٹریچر ) واشنگٹن کی بنیاد رکھی ۔ ان کی کتابوں میں یہ لاہور ہے، داستان جاری ہے،

    بتیس برس امریکہ میں، سعادت حسن منٹو (ذاتی یادداشتوں پر مبنی اوراق)، مادام کیوری، بچوں کی زندگی کے بحران اور شرمیلے پن کا نفسیاتی علاج شامل ہیں. اداکار نُور نغمی ان کے صاحبزادے ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک اور ریفرنس بھیج دیا گیا

    پروین رحمان قتل کیس ،سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی

  • یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    پیدائش:12 دسمبر 1928ء
    وفات:10 جون 2008ء
    نورنبرگ
    وجۂ وفات:نمونیا، گردے فیل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    مادر علمی:گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب
    پیشہ:سیاست داں، سفارت کار، صحافی، مترجم، ناول نگار، منظر نویس، سائنس فکشن مصنف
    مادری زبان:کرغیز زبان
    پیشہ ورانہ زبان:فرانسیسی

    چنگیز اعتماتوف (پیدائش: 12 دسمبر، 1928ء – وفات: 10 جون، 2008ء) سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول ”جمیلہ“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار پرودا کے لیے بطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں 1963ء سے حاصل ہوئی۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں دشوار راستہ 1958ء، روبرو 1957ء، جمیلہ 1958ء، پہلا استاد 1967ء، سفید دخانی کشتی 1970ء شامل ہیں۔
    سیاست و سفارت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ناول و افسانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دشوار راستہ
    ۔ 1956ء
    ۔ (2)1957ء
    ۔ روبرو
    ۔ (3)1958ء
    ۔ جمیلہ
    ۔ (4)1962ء
    ۔ پہلا استاد
    ۔ (5)1963ء
    ۔ پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں
    ۔ (6)1970ء
    ۔ سفید دخانی کشتی
    ۔ (7)1977ء
    ۔ سمندرکے کنارے دوڑتا ہوا چتکبری کتا
    ۔ (8)1986ء
    ۔ تختۂ دارا
    ۔ (9)1986ء
    ۔ جب پہاڑ گرتے ہیں
    انگریزی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Short Novels
    ۔ 1964ء
    ۔ (2)Farewell Gul’sary
    ۔ 1970ء
    ۔ (3)White Steamship
    ۔ 1972ء
    ۔ (4)The White Ship
    ۔ 1972ء
    ۔ (5)Tales of the Mountains
    ۔ and the Steppes
    ۔ 1973ء
    ۔ (6)Ascent of Mount Fuji
    ۔ 1975ء
    ۔ (7)Cranes Fly Early
    ۔ 1983ء
    ۔ (8)The Day Lasts More Than
    ۔ a Hundred Years
    ۔ 1988ء
    ۔ (9)The Place of the Skull
    ۔ 1989ء
    ۔ (10)Time to Speak
    ۔ 1989ء
    ۔ (11)The time to speak out
    ۔ 1988ء
    ۔ (12)Mother Earth and
    ۔ Other Stories
    ۔ 1990ء
    ۔ (13)Jamila
    ۔ 2008ء
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)اعزاز اکتوبر انقلاب (1988)
    ۔ (2)آرڈر آف لینن (1971)
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1966ء – رکن اعلیٰ سوویت برائے سوویت یونین
    ۔ (2)1967ء – رکن اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین
    ۔ (3)مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف
    سوویت سفیر برائے لکسمبرگ
    ۔ (4)1990ء -سفیر کرغیزستان برائے یورپی یونین
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون ،2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلسلہ عالمی ادبیات
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • گرو رجنیش کا یوم ولادت

    گرو رجنیش کا یوم ولادت

    گرو رجنیش 11 دسمبر 1931 میں مدھیہ پردیش کے ضلع ھوشنگ آباد کچ ودا میں پیدا ھوئے ۔ ان کے والد کپڑے کی تجارت کرتے تھے ۔ رجنیش کا اصل نام چندر موھن جین تھا ۔ ان کے بارے میں مشہور ھے کہ وہ بچپن سے ہی بحث مباحثے کیا کرتے تھے ۔ اس کو اکثر اساتذہ سے شکائتیں رھتی تھیں ۔ بچپن میں ان کے نانا شدید بیمار ہوئے تو رجنیش ان کو بیل گاڑی میں لئے شہر کے کسی ڈاکٹر کی طرف روانہ ہوئے ، راستے میں نانا فوت ہو گئے اس حادثے نے رجنیش کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا وہ اکثر کتھاؤں میں اس کا ذکر کیا کرتے تھے ۔

    1953 میں رجنیش نے جبل پورکے ڈی این جین کے کالج سے ایم اے فلسفہ کا امتحان فرسٹ کلاس میں پاس کیا 1958 میں اسے یونیورسٹی آف جبل پور میں فلسفے کا پروفیسر مقرر کردیا گیا ۔ انہوں نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں لیکچر دینے شروع کردئیے ۔ وہ زبردست فصاحت وبلاغت کے مالک تھے ان کی آواز لوگوں پر سحر طاری کردیتی تھی وہ صدیوں پرانے مذہبی عقیدوں کو اپنے فلسفی دلائل سے تہس نہس کردیتے تھے ۔ ھزاروں لوگ جن میں اکثریت تعلیم یافتہ لوگوں کی تھی انکے ھم خیال بن گئے ۔

    1974 میں انہوں نے اپنا پہلا کمیون سنٹر پونا میں کھولا ۔ دیس پردیس کے لوگ وہاں آناشروع ھوگئے اور رجنیش کے پیروکار بننا شروع ھوگئے ۔ وہ صوفیانہ رنگ کے کپڑے اور گلے میں رجنیش کی تصویریں لٹکائے پھرتے ۔

    جب اخباروں اور میگزینوں میں رجنیش کے چیلوں کی ننگے رقص کرتے ھوئے تصویریں چھپی تو وہ ہندوستان میں سیکس گرو (sex guru) کے نام سے مشہور ھوئے ۔ ان کے چیلے انکو بھگوان (خدا) ماننے لگے ۔

    1981 میں اوریگوں امریکہ میں ھزاروں ایکڑ رقبہ پر ایک کمیون رجنیش پورم کے نام سے قائم کیا گیا ۔ امریکی مشہور اور امیر شخصیات پورم میں شامل ھونے لگیں ۔ ایک وقت ایسا آیا جب رجنیش کے پاس کئی مرسڈیز گاڑیوں کے علاوہ 100 سے زیادہ رولز رائس کاریں بھی تھیں ۔

    1985 میں امریکی حکومت نے رجنیش پر دھوکہ دہی ، فراڈ اور چالبازی کے 35 مقدمات درج کئے اور سترہ روز اپنی تحویل میں رکھ کر پھر ملک بدر کردیا رجنیش واپس انڈیا آگئے اور کسی نئے مرکز کی تلاش میں دنیا کے سفر پر روانہ ھوگئے ۔

    دنیا کے 21 ملکوں نے اسے ویزا دینے سے انکار کردیا ، ان کا جہاز کئی ملکوں کے ائرپورٹ پر گھنٹوں کھڑے کھڑے واپس آگیا 1987 میں ایک بار پھر پونا میں کمیون سنٹر کھولا گیا جسے اب اوشو کمیون انٹرنیشنل کہا جانے لگا دراصل اب رجنیش نے اپنے نام سے بھگوان لفظ ختم کرکے جاپانی زبان کاخطاب لفظ اوشو لگادیا تھا ۔

    اوشو میں ,, او ,, کے معنی ھیں پیار محبت احترام ,, شو ,, کا مطلب شعور کا پھیلاؤ آخر میں وہ رجنیش کے نام کو بھی ترک کرکے صرف اوشو کہلوانے لگے ۔

    1988 میں اوشو سخت بیمار پڑ گئے ان کے اپنے خیال کے مطابق امریکہ میں حراست کے دوران انہیں زھر دیا گیا تھا ان کے پیرو بھی اس بات پر یقین رکھتے تھے ۔ وہ ذیابیطس اور دمے کے مریض بن گئے ۔ بہترین علاج کے باوجود ان کا جسم کمزور اور ماند پڑنے لگا اپریل 1989 کو انہوں نے اپنی زندگی کا آخری لیکچر دیا ۔ اپنے خاص اور قریبی چیلوں کو بلاکر کچھ ھدایتیں دیں ۔

    19 جنوری 1990 شام پانچ بجے اوشو نے مرنے سے پہلےآخری جملہ یہ کہا :
    ” I leave you my dream ”
    اوشو نے اپنے پیروکاروں پر سوگ اور رونے کی پابندی عائد کی تھی ، وہ ناچتے گاتے رقص کرتے ھوئے اوشو کی لاش لے کر تلسی رام گھاٹ پہنچے جہاں ان کا اگنی سنسکار ان کے چھوٹے بھائی سوامی وجے بھارتی نے کیا ۔

    اگلے روز انکی راکھ کمیون سنٹر لائی گئی اور اسکے آگے 9 ماہ پہلے اوشو کے اپنے ھاتھ کی لکھی تختی لگائی گئی اس تختی پہ تحریر تھا کہ :

    ” اوشو ۔۔۔۔۔۔۔۔ جونہ کبھی پیدا ھوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کبھی مرا “

  • نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامور افسانہ نگار خدیجہ مستور 11 دسمبر 1927 کو بلسر، بریلی میں پیدا ہوئیں۔ 26 جولائی 1982 کو لندن میں وفات پائی۔ گلبرگ لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کی گئیں۔

    ان کےافسانوں کے 5 مجموعےکھیل، بوچھاڑ، چند روز اور، تھکے ہارے، اور ٹھنڈا میٹھا پانی اور 2 ناول آنگن اور زمین شائع ہوئے۔ آنگن پر 1962 کا آدم جی ادبی انعام ملا۔ افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر اکادمی ادبیات پاکستان نے سال کی بہترین کتاب کا ہجرہ ایوارڈ دیا-

    خدیجہ مستور ممتاز صحافی اور افسانہ نگار ظہیر بابر کی اہلیہ اور ہاجرہ مسرور، اختر جمال، خالد احمد اور توصیف احمد خاں کی بہن تھیں۔خدیجہ اور ہاجرہ، احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بہنیں تو خط کتابت سے ہی بن چکی تھیں-

    قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان لاہور پہنچا تو احمد ندیم قاسمی پورے خاندان کے سرپرست بن گئے. خدیجہ کی شادی انہوں نے ہی اپنے بھانجے ظہیر بابر سے کرائی.

  • شاعر اور نثر نگار  نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    شاعر اور نثر نگار نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    نریش کمار شاد کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں وہ اچھے شاعر بھی تھے ، نثر نگار بھی انہوں نےترجمے بھی کئے اور کئی رسالوں کی ادارت بھی کی ۔ نریش جتنے پرگو شاعر تھے اتنے ہی بڑے بلا نوش بھی ، ان کیلئے شاعری اور شراب دونوں زندگی کی بدصورتیوں کو انگیز کرنے کا ایک ذریعہ تھیں ۔ نریش کی شراب یاد رکھی گئی اور ان کی شاعری بھلا دی گئی ۔ حالانکہ نریش کی غزلیں، نظمیں اور کئی نئی مغربی اصناف میں ان کے تخلیقی تجربے ان کی شاعرانہ اہمیت کو روشن کرتے ہیں ۔

    شاد کی پیدائش ۱۱ دسمبر ۱۹۲۷ کو ہوشیار پور پنجاب میں ہوئی ۔ ان کے والد درد نکودری بھی شاعر تھے اور حضرت جوش ملسیانی کے خاص شاگردوں میں سے تھے ۔ گھر کے شعری ماحول نے شاد کو بھی شاعری کی طرف مائل کردیا اور وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی شعر کہنے لگے ۔ شاد کی تعلیم لاہور میں ہوئی انہوں نے گورمینٹ ہائی اسکول چونیاں ضلع لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحام پاس کیا ۔ اس کے بعد بہ سلسلۂ ملازمت راولپنڈی اور جالندھر میں مقیم رہے لیکن جلد ہی سرکاری ملازمت ترک کرکے لاہور آگئے اور وہاں ماہنامہ’ شالیمار ‘ کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے ۔

    تقسیم کے بعد شاد کچھ مدت کانپور میں رہے اور یہاں حفیظ ہوشیارپوری کے ساتھ مل کر ’چندن‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالا ۔ اس رسالے کے بند ہو جانے کے بعد دلی اگئے اور بلدیو متر بجلی کے ماہنامہ ’ راہی ‘ سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک رسالہ ’ نقوش ‘ کے نام سے بھی نکالا ۔ آخر ہاؤسنگ اینڈ رینٹ آفس میں ملازمت اختیار کی ۔

    شعری مجموعے : بتکدہ ، فریاد ، دستک ، للکار ، آہٹیں ، قاشیں ، آیات جنوں ، پھوار ، سنگم ، میرا منتخب کلام ، میراکلام نو بہ نو ، وجدان ،
    نثری کتابیں: سرخ حاشیے ، راکھ تلے ، سرقہ اور توارد ، ڈارلنگ ، جان پہچان ، مطالعے ، غالب اور اس کی شاعری ، پانچ مقبول شاعر اور ان کی شاعری ، پانچ مقبول طنز ومزاح نگار ۔ ادب اطفال : شام نگر میں سنیما آیا، چینی بلبل اور سمندری شہزادی ۔

    ۲۰ مئی ۱۹۶۹ کو شاد جمنا کے کنارے پر مرے ہوئے پائے گئے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
    تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

    خدا سے کیا محبت کر سکے گا
    جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

    اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
    ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

    زندگی سے تو خیر شکوہ تھا
    مدتوں موت نے بھی ترسایا

    گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب
    تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

    زندگی نام ہے جدائی کا
    آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

    محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
    نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں

    محفل ان کی ساقی ان کا
    آنکھیں اپنی باقی ان کا

    خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے
    مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

    عقل سے صرف ذہن روشن تھا
    عشق نے دل میں روشنی کی ہے

    کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا
    ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا

    یہ سوچ کر بھی ہنس نہ سکے ہم شکستہ دل
    یاران غم گسار کا دل ٹوٹ جائے گا

    طوفان غم کی تند ہواؤں کے باوجود
    اک شمع آرزو ہے جو اب تک بجھی نہیں

    تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا
    میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے

  • روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن 11 دسمبر 1918ء کو کیسلووودسک میں پیدا ہوئے الیکزینڈر سلزینسٹائن (1918ء تا 2008ء )روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1970ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔

    انہیں ان کی خدمات پر متعدد اعزازتسے نوازا گیا جن میں میخائیل لومونوسف گولڈ میڈل (1998)، نوبل انعام برائے ادب (1970)، آرڈر آف ریڈ اسٹار (1944)، ٹیمپلٹن انعام، آرڈر آف اسٹار آف رومانیہ، آرڈر آف سینٹ اینڈریو سے نوازا گیا-

    2008 میں عارضہ قلب کی وجہ سے ماسکو میں وفات پا گئے تھے-

  • ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    عمیرہ احمد ایک نامور پاکستانی ادیبہ اور اسکرین لکھاری جو اپنی کتاب” پیر کامل” کی بدولت مشہور ہوئیں اور پھر اپنے متعدد ناولوں پر مبنی ٹی وی ڈراموں سے شہرۂ آفاق پر پہنچیں۔

    ان کے ناولوں پر بننے والے ڈراموں میں میری ذات ذرہ بے نشاں، دوراہا،پیر کامل، مٹھی بھر مٹی، شہرذات، میرا نصیب اور زندگی گلزار ہے شامل ہیں۔ عمیرہ احمد مرے کالج، سیالکوٹ سے انگریزی میں ماسٹرز کر کے آرمی پبلک کالج کے کیمبرج ونگ سے منسلک ہیں۔ اپنے تحریری سفر کا آغاز انھوں نے خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں آگئیں۔

    ان کا پہلا ڈراما ‘‘وجود لاریب‘‘ انڈس ویژن سے 2005 میں آیا جس کے لیے انہوں نے بیسٹ رائٹر کا ایوارڈ لیا۔ اس کے بعد ‘‘دام‘‘، ‘‘قید تنہائی‘‘ اور متعدد ڈرامے وہ لکھ چکی ہیں اور ان کے کئی ناول کی ڈرامائی تشکیل ہو چکی۔ ‘‘نور کا مسکن‘‘ کے نام سے ایک ریڈیو ڈراما بھی لکھا۔
    ناول اور کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پیر کامل
    ۔ (2)زندگی گلزار ہے
    ۔ (3)میری ذات ذرہ بے نشان
    ۔ (4)ایمان امید اور محبت
    ۔ (5)حسنہ اور حسن آرا
    ۔ (6)حرف سے لفظ تک
    ۔ (7)میرے 50 پسندیدہ سین
    ۔ (8)من و سلوا
    ۔ (9)حاصل
    ۔ (10)لا حاصل
    ۔ (11)واپسی
    ۔ (12)شیریں
    ۔ (13)میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے
    ۔ (14)سحر ایک استعارہ ہے
    ۔ (15)دربار دل
    ۔ (16)امبر بیل
    ۔ (17)عکس
    ۔ (18)آب حیات
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)وجود لاریب (2004)
    ۔ (2)دام محبت (2009)
    ۔ (3)ٹی وی ون گلوبل (2009)
    ۔ (4)میری ذات ذرہ بے نشاں (2009)
    ۔ (5)تھوڑا سا آسماں (2009)
    ۔ (6)عمیرہ احمد (2010)
    ۔ (7)اڑان (2010)
    ۔ (8)مات (2011)
    ۔ (9)شہر ذات (2012)
    ۔ (10)کنکر (2013)
    ۔ (11)بے حد (2013)
    ۔ (12)زندگی گلزار ہے (2013)
    ۔ (13)محبت صبح کا ستارہ ہے (2014)
    ۔ (14)ڈائجسٹ رائٹر (2014)

  • اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    لوئجی پیرآندیلو اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈراما نگار، افسانہ نگار اور ناول نگار اور 1934ء کے ادب کے نوبل انعام یافتہ مصنف ہیں۔

    حالات زندگی و ابتدائی تعلیم

    لوئجی پیرآندیلو 28 جون 1867ء کو سسلی، اٹلی میں گندھک کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1880ء میں پیآندیلو کے والدین سسلی کے صد مقام پالیرمو میں سکونت پزیر ہو گئے جہاں انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔

    اعلیٰ تعلیم

    1887ء میں روم یونیورسٹی اٹلی، 1888ء میں بون یونیورسٹی جرمنی میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    ادبی خدمات

    لوئجی پیرآندیلو بہت بڑا ڈراما نگار تھا۔ ڈراموں کی شہرت کی وجہ سے اس کے افسانے طویل عرصہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے حالانکہ پیرآندیلو بتنا بڑا ڈراما نگار تھا، اتنا بڑا افسانہ نگار بھی تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں 500 پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھیں جو تیرہ مجموعوں کی صورت میں شائع ہوچکی ہیں۔ لوئجی پیرآندیلو آفاقی تاثیر رکھنے والا مصنف ہے۔ اس کی کہانوں میں انسانی رشتوں کی ان سچائیوں کا معنی خیز اظہار ہے جن سے معاشرہ تعمیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ پیرآندیلو کا لازوال ڈراما ”چھ کردارخالق کی تلاش میں“ دنیائے ادب کے عظیم ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پیرآندیلو نے 50 سے زائد ڈرامے لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے شمار افسانے، ناول اور شاعری کے مجموعہ تخلیق کے۔

    اعزازات

    لوئجی پیرآندیلو کی ادبی خدمات کے صلے میں 1934ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔

    وفات

    دنیائے ادب کے عظیم ڈراما نگار اور افسانہ نگار لوئجی پیرآندیلو 10 دسمبر 1936ء کو روم، اٹلی میں انتقال کر گئے۔

  • مولانا محمد علی جوہر کا یوم پیدائش

    مولانا محمد علی جوہر کا یوم پیدائش

    رام پور کے معزز وممتاز خاندان میں مولانا محمد علی ۱۰؍ دسمبر 1878کو پیدا ہوئے، دو برس کی عمر میں ہی ان کے والد عبد العلی خاں کا انتقال ہوگیا، والدہ کی عمر بیوگی کے وقت ۲۷؍ برس تھی، انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد ۸؍سا ل علی گڑھ میں گزارکر بی اے کی ڈگری حاصل کی، میر محفوظ علی کے مطابق وہ کلاس میں لیکچر سنتے، فیلڈ میں کرکٹ کھیلتے اور یونین میں تقریر کرتے تھے، ان کے بڑے بھائی شوکت علی نے روپے کا انتظام کرکے انہیں آکسفورڈ یونیورسیٹی میں داخلہ دلوادیا، جہاں سے انہوں نے تاریخ جدید میں بی اے آنرز کی سند حاصل کی، ان کی ذھنی وفکری تربیت میں ان کی والدہ بی اماں کا بڑا رول تھا، مولانا محمد علی کے دل میں ملت اسلامیہ کا بڑا درد تھا، ان کی خدمات کئی لحاظ سے قابل قدر ہیں، ملک کی آزادی کی جد وجہد، تحریک خلافت، اشاعت تعلیم، فروغ اردو، عوامی بیداری بذریعہ صحافت، اور اپنی مخلصانہ کوشش وکاوش میں وہ بہت کامیاب رہے۔

    برطانوی حکومت نے جب کلکتہ کے بجائے دہلی کو ہندوستان کی راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا تو محمد علی نے ’’کامریڈ‘‘ کا دفتر بھی 14؍ستمبر 1912کو دہلی میں منتقل کرلیا، اور 12؍ اکتوبر کو یہیں سے ’’کامریڈ‘‘ کا پہلا شمارہ شائع کیا، انہوں نے مسلمانوں کی آسانی کے لئے ’’نقیب ہمدرد‘‘ نامی اردو پرچہ کا اجرا کیا، جو بعد میں روزنامہ ہمدرد کے نام سے مشہور ہوا، باشندگان ہند کو آزادی وطن کے لئے بیدار اور تیار کرنے کی غرض سے مولانا نے صحافت کو موثر ذریعہ بتایا، اس کے ساتھ ساتھ وہ تحریک خلافت کے لئے مسلسل اسفار کرتے رہے۔
    ۹؍ جنوری 1920کو مولانا ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے دہلی پہنچے تو چاندنی چوک پر ان کا شاندار استقبال ہوا، خواجہ حسن نظامی نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’۔۔۔ دہلی کی سر زمین پر کتنے ہی عظمت وجلال والے تاجدار اور شاہزادے اور حکام بلند مقام آئے اور چلے گئے لیکن سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد سے آج تک اس خلوص وعقیدت کے ساتھ شاید ہی کسی شخص کا خیر مقدم کیا گیا ہو-

    تحریک خلافت نے ملک میں آزادی کی تڑپ پیدا کردی ہر فرد کے دل میں علی برادران کے لئے محبت جاگزیں ہوگئی، اس تحریک نے انگریزی اسکولوں، کالجوں اور سرکار کی نگرانی میں چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کو چھوڑ دینا فرض قرار دے دیا، چنانچہ تعلیمی محاذ پر ترک موالات کے لئے مولانا محمد علی نے علی گڑھ کے ایم اے او کالج سے پہل کی۔

    بالآخر 29اکتوبر کو جمعہ کے دن ایم اے او کالج کی مسجد میں بعد نماز جمعہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘‘ کی رسم افتتاح شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن کے ہاتھوں ادا ہوئی۔ حکیم اجمل خاں اولیں امیر جامعہ، مولانا محمد علی پہلے شیخ الجامعہ، حاجی موسی خاں سکریٹری، اور تصدق احمد شیروانی جوائنٹ سکریٹری مقرر ہوئے۔

    مولانا محمد علی نے 22نومبر 1920کو فاؤنڈیشن کمیٹی کے جلسے میں یہ تجویز منظور کرالی کہ جب تک نیا نصاب تعلیم تیار ہوکر نہیں آجاتا مجوزہ نصاب ہی کو اصلاح وترمیم کے ساتھ جاری رکھا جائے اور اس میں دینیات کے مضمون کا اضافہ کردیا جائے۔

    اس موقع پر ایک نصاب کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مولانا محمد علی ، ڈاکٹر سر محمد اقبال، مولوی عبد الحق، مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا آزاد سبحانی، مولوی صدر الدین، ڈاکٹر انصاری، محی الدین، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولوی عنایت اللہ، پرنسپل ایس کے رودرا، پرنسپل گڈوانی، پروفیسر سہوانی، سی ایف اینہ ریوز، جواہر لال نہرو، راجندر پرشاد اور سید سلیمان شامل تھے۔
    اس عمومی نصاب پر غور وخوض کے بعد مولانا محمد علی جوہر کی خصوصی نگاہ دینیات کی طرف متوجہ ہوئی چونکہ محمد علی مسٹر سے مولانا ہوچکے تھے اور جدید وقدیم پر ان کی نگاہ ماہرانہ تھی، انہوں نے پھر دینیات کے نصاب کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل کی، جس میں مولانا آزاد سبحانی، مولانا سلامت اللہ، مولانا صدر الدین، مولانا عبد القیوم، مولانا داؤد غزنوی، مولانا عبد الماجد بدایونی، مولانا عبد القادر، مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر خود بھی شامل رہے۔

    ایام اسیری میں جھنڈوارہ میں قیام کے دوران وہ قرآن کریم کی تلاوت اورباقاعدہ تفسیر کے مطالعہ کی سعادت حاصل کرچکے تھے، اس لئے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، دینیات اور تاریخ کو فوقیت دینا چاہتے تھے اور اس ذہن کے ساتھ نصاب تیار کئے جانے پر ان کی توجہ تھی، مولانا محمد علی جوہر کا نظریہ تعلیم تجربات کی روشنی میں ان کے سامنے واضح ہو کر آ چکا تھا، وہ اس بات کو محسوس کرتے تھے کہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کا منفی اثر ہندوستان کے باشندوں پر پڑے گا اور ملت اسلامیہ کو اس معاملہ میں کچھ زیادہ ہی حساس رہنا چاہئے، چنانچہ مصروفیت کے باوجود وہ نصاب تعلیم پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اس کی جزئیات پر ان کی نگاہ بار بار جارہی ہے، اس لحاظ سے ان کی نگاہ میں ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘‘ کا تصور بہت ارفع اور اعلی تھا-

    یہی وجہ ہے کہ اسلامیات اور دینیات کے بلند پایہ عالم دین شیخ الہندحضرت مولانا محمود حسن کے ذریعہ جامعہ کا افتتاح عمل میں آیا اور نصاب کمیٹی میں عصری علوم کے ماہرین کے ساتھ نامور اور بالغ نظر علماء کی بڑی تعداد کو انہوں نے اس کمیٹی میں شامل رکھا، اس سے ان کے تعلیمی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر یوسف حسین اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:۔

    ’’مولانا محمد علی جوہر جب بولتے تھے تو فصاحت وبلاغت کا دریا بہادیتے، گھنٹہ دو گھنٹہ چارگھنٹے متواتر تقریر کا سلسلہ جاری رہتا، مولانا محمد علی کا بولتے بولتے گلا پڑ جاتا اور کبھی کبھی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے۔‘‘

    ان کی تاریخی تقریر کا یہ حصہ جو انہوں نے گول میز کانفرنس لندن میں کی تھی ملاحظہ فرمائیں’’میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا بشرطیکہ وہ آزاد ملک ہو پس اگر ہندوستان میں تم ہمیں آزادی نہ دوگے تو یہاں میرے لئے ایک قبر تو تمہیں دینی پڑے گی-

    ۴؍ جنوری 1931کو ساڑھے نو بجےصبح لندن کے ہائڈ پارک ہوٹل میں جہاں ان کا قیام تھاجامعہ ملیہ اسلامیہ کا اولین شیخ الجامعہ ، ہندوستان کے صف اول کا رہنما اپنے وطن سے دور دیار غیر میں ابدی نیند سوگیا، مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی خواہش کا احترام کیا گیا، جنہوں نے مولانا کے جسد خاکی کو بیت المقدس میں دفن کرنے کی تمنا ظاہر کی تھی اور اس طرح مولانا کے جسد خاکی کو پیغمبروں کے مدفن اور قبلۂ اول میں دفن کیا گیا، مولانا کی قبر پر انہیں کا ایک شعر آج بھی لکھا ہوا ہے۔

    جیتے جی تو کچھ نہ دکھلائی بہار
    مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کُھلے

    اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے فرمایا ’’محمد علی کی زندگی کابیان در اصل ایک قوم اور ایک ملت کے حال اور مستقبل کی تفسیر کرنا ہے کہ محمد علی اسلامی ملت اور ہندی قوم کے قائد تھے اور نمائندہ بھی۔

    برطانوی ادیب ایم جی ویلز کا محمد علی کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ ’’محمد علی نے برک کی زبان، میکالے کا قلم، اور نپولین کا دل پایا ہے، مولانا مناظر احسن گیلانی نے ان پر باضابطہ مرثیہ لکھا ہے۔

    بقول مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندویؒ ’’انہوں نے حق کہنے میں نہ اپنے شیخ طریقت مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی پرواکی نہ اپنے سب سے محترم ومحبوب شریک کار اور جنگ آزادی کے رفیق کار گاندھی جی کی، نہ اس وقت کی سب سے بڑی سلطنت (برطانیہ) کے وزیر اعظم کی، نہ سب سے زیادہ قابل احترام سرزمین کے فرمانروا اور بانئی سلطنت سلطان عبد العزیز ابن سعود کی، انہوں نے ہر جگہ حق بات کہی اور صاف وبے لاگ کہی۔

    مولانا محمد علی جوہر کی غیرت دینی اور حمیت اسلامی مسلمانان ہند کے لئے مشعل راہ ہے، انہوں نے وطن عزیز کے لئے جو قربانی دی وہ ناقابل فراموش اور ملت کی شیرازہ بندی، ان کی تعلیمی ترقی اور جدید وقدیم مواد پر مشتمل نصاب کی تیاری سے ان کے تعلیمی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے جدید اعلی تعلیم کے حصول کے بعد بھی اپنی مذہبی شناخت کو اہتمام کے ساتھ نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس کے داعی اورمبلغ ہوگئےہمیں ان کےاچھےکارناموں کو یادبھی رکھنا ہےاوران اچھائیوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کرناچاہیے مولانا محمد علی کی زبان سے نکلے بعض اشعار ان کے موقف کی پوری ترجمانی کرتے ہیں۔

    توحید تو یہ ہے کہ خداحشر میں کہہ دے
    یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لئے ہے

    کیا ڈر ہے جوہو ساری خدائی بھی مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے

    اشعار

    نہ نماز آتی ہے مجھ کو نہ وضو آتا ہے
    سجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہے

    توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
    یہ بندہ زمانے سے خفا میرے لیے ہے

    قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    وہی دن ہے ہماری عید کا دن
    جو تری یاد میں گزرتا ہے

    ساری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ سودائی ہے
    اب مرا ہوش میں آنا تری رسوائی ہے

    وقار خون شہیدان کربلا کی قسم
    یزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے

    ہر سینہ آہ ہے ترے پیکاں کا منتظر
    ہو انتخاب اے نگہ یار دیکھ کر

    شکوہ صیاد کا بے جا ہے قفس میں بلبل
    یاں تجھے آپ ترا طرز فغاں لایا ہے

    تجھ سے کیا صبح تلک ساتھ نبھے گا اے عمر
    شب فرقت کی جو گھڑیوں کا گزرنا ہے یہی