Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ  بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات

    تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات

    تحریک پاکستان کی مشہور خاتون رہنما، سفارت کار اور معروف ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ 22جولائی 1915ء کوکلکتہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد حسان سہروری برطانوی وزیر ہند کے مشیر تھے۔1932ء میں ان کی شادی جناب اکرام اللہ سے ہوئی جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔

    بیگم شائستہ اکرام اللہ شادی سے پہلے ہی شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانہ لکھا کرتی تھیں اور ان کے افسانے اس زمانے کے اہم ادبی جرائد ہمایوں، ادبی دنیا، تہذیب نسواں اور عالمگیر وغیرہ میں شائع ہوتے تھے۔ 1940ء میں انہوں نے لندن یونیورسٹی سے ناول نگاری کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی، وہ اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھیں۔

    تحریک پاکستان کے دنوں میں انہوں نے جدوجہد آزادی میں بھی فعال حصہ لیا اور بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کی رکن رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور اسمبلی کی رکن بھی رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مراکش میں سفارتی خدمات انجام دیں۔

    ان کی تصانیف میں افسانوں کا مجموعہ کوشش ناتمام، دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے، فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ، لیٹرز ٹو نینا، بیہائینڈ دی ویل اور اے کریٹیکل سروے آف دی ڈیولپمنٹ آف دی اردو ناول اینڈ شارٹ اسٹوری شامل ہیں۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن اور بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ رحمن سبحان کی خوش دامن تھیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا۔

    A CRITICAL SURVEY OF THE DEVELOPMENT OF URDU NOVEL AND SHORT STORIES
    شائستہ کی دیگر تصنیفات حسب ذیل ہیں ؎
    LETTERS TO NEENA, published in 1951.
    BEHIND THE VEIL, published in 1953.
    FROM PURDAH TO PARLIAMENT,published in 1963.
    HUSEYN SHAHEED SUHARWARDY:A BIOGRAPHY:published in 1991.
    ENGLISH TRANSLATION OF MIR’ATUL UROOS
    KAHAVAT AUR MUHAVAREY
    انھوں نے FROM PURDAH TO PARLIAMENTکا اردو ترجمہ کیا تاکہ عام لوگ اسے پڑھ سکیں۔اس کے علاوہ سفرنامہ اور دلی کی بیگمات کی کہاوتیں اور محاورے اردو میں ہیں۔بیگم شائستہ اکرام شادی سے پہلے شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانے لکھا کرتی تھیں۔ان کے افسانے اس وقت کے موقر جریدوں جیسے ہمایوں، ادبی دنیا، عصمت، تہذیب ، عالمگیروغیرہ میں مستقل شائع ہوتے تھے۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’کوشش ناتمام ‘کےعنوان سے منظر عام پرآیا شائستہ سہروردی اکرام اللہ کی منتخب تحریریں ماہنامہ عصمت ، ۱۹۳۴ء ؁ سے ۱۹۸۸ء؁ تک ‘ان کے مضامین کا مجموعہ زیور طبع سے آراستہ ہوا۔

    شائستہ کا تعلق ایک متمول اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ان کے دادا بحر العلوم مولانا عبید اللہ عبیدی سہروردی مدناپور کے باشندے تھے ۔انھوں نے مدرسۃ العالیہ سے تعلیم حاصل کی ۔۱۸۸۵ء؁ میں ڈھاکہ میں آپ کا انتقال ہوا۔آپ اینگلو اسلامک اسٹڈیز کے حامی تھے۔آپ نے ہی بنگال میں تعلیم نسواں کے لئےموافق فضا تیار کی۔آپ کے دو بیٹے حسّان سہروردی ، عبد اللہ المامون سہروردی اور ایک بیٹی خجستہ اختر بانو تھیں۔

    پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی (۱۲؍ ستمبر ۱۹۵۶ء؁ تا ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء؁) بیگم خجستہ اختر بانو کے صاحبزادے تھے۔بیگم خجستہ اختر پہلی ہندوستانی خاتون تھیں جنھوں نے سینیر کیمبرج پاس کیا تھا۔ وہ اردو رسائل میں لکھا کرتی تھیں۔

    شائستہ کا نانہال نوابین کا گھرانہ تھا اور ان کی والدہ ایک روایتی خاتون تھیں۔شائستہ سہروردی محمد اکرام اللہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔محمد اکرام اللہ ہندوستان کے ایک معزز خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ان کے والد خان بہادر حافظ محمد ولایت اللہ کا تعلق بھوپال کے شاہی خاندان سے تھا۔ان کی پیدائش ۱۹۰۳ء؁ میں بھوپال میں ہوئی۔

    اکرام اللہ ۱۹۳۴ء؁ میں انڈین سول سروسیزمیں آ گئے۔ ۱۹۴۵ء؁ کے آس پاس انھوں نے اقوام متحدہ لندن اور سان فرانسسکو میں preparatory commissionمیں اہم خدمات انجام دیں۔پاکستان کے قیام کے بعد آپ بھوپال سے کراچی منتقل ہو گئے۔محمد علی جناح نے خارجہ سیکریٹری کا عہدہ آپ کے سپرد کیا۔آپ نے اقوام متحدہ میں کئی مرتبہ پاکستان کی قیادت کی۔ آپ کینیڈا اور یو کے میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہے اور پرتگال اور فرانس کے سفیر بھی بنائے گئے۔

    Common wealth Economic Committeeقائم کرنے میں اکرام اللہ پیش پیش رہے۔وہ کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل بھی منتخب ہوئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے ۱۹۶۳ء؁ میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔آپ کے چھوٹے بھائی محمد ہدایت اللہ 1968 سے 1970 ء تک ہندوستان کے چیف جسٹس اور ۱۹۷۹ء؁ سے ۱۹۸۴ء؁ تک نائب صدر جمہوریہ ہند رہے۔کچھ وقت تک آپ نے کار گذار صدر جمہوریہ کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیں۔

    ۸۶؍برس کی عمر میں ۱۹۹۲ء؁ میں ہدایت اللہ کا انتقال ہو گیا۔شائستہ اکرام اللہ کا ایک بیٹا انعام اکرام اللہ(۱۹۳۴ء؁ سے ۲۰۰۴ء؁) اور تین بیٹیاں ناز اشرف(۱۹۳۸ء؁)، سلمیٰ سبحان(۱۹۳۷ء؁ سے ۲۰۰۳ء؁) اور ثروت (۱۹۴۷ء؁)ہیں۔ناز اشرف مشہور آرٹسٹ ہیں جب کہ سلمیٰ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ رحمٰن سبحان کی ہمسر بنیں۔ثروت اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

    10 دسمبر 2000ء کو بیگم شائستہ اکرام اللہ متحدہ عرب امارات میں وفات پاگئیں۔وہ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • یوم وفات، ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی

    یوم وفات، ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی

    پیدائش:05 ستمبر 973ء
    کاث
    وفات:09 دسمبر 1048ء
    غزنی
    رہائش:خوارزم
    رے
    غزنی
    گرگان
    شہریت:سلطنت غزنویہ
    زبان:
    ۔۔۔۔۔
    فارسی، قدیم یونانی
    توراتی عبرانی
    سریانی زبان
    سنسکرت، عربی
    شعبۂ عمل:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    طبیعیات، ریاضی، فلکیات
    علوم فطریہ، تاریخ کی سائنس
    لسانيات، ہندویات، زمینیات
    جغرافیہ، فلسفہ، نقشہ نگاری
    انسانیات، نجوم، کیمیا
    طب، نفسیات، الٰہیات
    علم الادویہ، تاریخ مذاہب
    کارہائے نمایاں:آثار الباقیہ
    عن القرون الخالیہ

    ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی (پیدائش: 05 ستمبر 973ء، وفات: 9 0دسمبر 1048ء) ایک بہت بڑے محقق اور سائنس داں تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ البیرونی بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب ”آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ“ مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹے اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کاث شہر دریائے جیحون (دریائے آمو) کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ اس کے اردگرد کئی مضافاتی بستیاں تھیں جن میں ایک بستی کا نام بیرون تھا۔ اس مضافاتی بستی میں ایک یتیم بچہ پرورش پا رہا تھا جس کا نام محمد بن احمد تھا جو دنیا میں البیرونی کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ بچہ شروع ہی سے قدرتی مناظر کا دلدادہ تھا۔ وہ دن بھر باغات میں پھرتا، خوب صورت پہاڑوں پر چڑھ جاتا، صحرا میں دوڑتا بھاگتا اور شام کے وقت گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھ میں ریحان کی کونپلوں اور ٹہنیوں کا ایک گلدستہ ہوتا جسے وہ ایک پیالے میں سجا دیتا اور جب ہوا چلتی تو اس گلدستے کی خوشبو اس کے غریب خانی کو معطر کردیتی۔ اس کی ماں اس کو اسی لیے ابو ریحان کہہ کر پکارتی تھی۔ البیرونی کا باپ ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا تھا لیکن اس کی ناگہانی موت کی وجہ سے البیرونی کی ماں اپنے لیے اور اپنے بیٹے کے لیے جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے روزی کمانے پر مجبور ہوگئی۔ اس کام میں البرونی اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتا تھا۔
    ایک روز البرونی کی نباتات کے ایک یونانی عالم سے ملاقات ہو گئی۔ البرونی نے اسے ایک باغ میں پھول توڑنے اور جنگل کے درختوں کے نیچے پودوں کو کاٹتے دیکھا تو اس یونانی علم کے پاس پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہنے لگا: جناب آپ ان پھولوں کو کیوں توڑ رہے ہیں اور پودوں کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟ کیا آپ میری طرح ان کو کاٹے بغیر اور انھیں زندگی سے محروم کیے بغیر ان کی تصویریں نہیں بنا سکتے ہیں؟ یہ سن کر یونانی عالم ہنس پڑا اور کہنے لگا: بیٹے میں ان پھولوں اور پودوں کو علم کی خاطر جمع کر رہا ہوں، ان پودوں اور پھولوں سے ہم بیماریوں کے علاج کے لیے دوائیں تیار کر رہے ہیں۔ یہ سن کر البیرونی خوشی سے چلایا: تو آپ نباتات کے عالم ہیں؟ یونانی عالم نے پیار سے کہا: ہاں میرے بیٹے، میرا خیال ہے تمھیں پھولوں اور پودوں سے بہت محبت ہے۔ البیرونی نے کہا میں تو تمام قدرتی مناظر سے محبت کرتا ہوں۔ ستاروں، درختوں، پودوں، پھولوں، پہاڑوں، ٹیلوں اور وادیوں سب ہی مجھے پیار ہے۔ وہ یونانی عالم نے البیرونی کو روزانہ تعلیم دیتا رہااور نباتات کا علم سکھاتا رہا۔ اس وقت البیرونی کی عمر گیارہ سال تھی۔ تین سال گزر گئے اور ابو ریحان چودہ برس کا ہوگیا۔ اس عرصے میں اس نے یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت حاصل کرلی اور یونانی علم سے پودوں کی دنیا کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا۔ طبعی علوم کے بارے میں اس کا شوق اور بڑھ گیا۔ یونانی عالم اپنے وطن یونان لوٹنے سے پہلے البیرونی کو فلکیات و ریاضی کے عالم ابو نصر منصور علی کی خدمت میں جو خوارزمی خاندان کا شہزادہ تھا لے گیا۔ ابو نصر نے البیرونی کے لیے الگ گھر تعمیر کرایا اور وظیفہ بھی مقرر کیا۔ ابو نصر ہر روز فلکیات اور ریاضی کے علوم سکھاتا رہا۔ ابو نصر نے البیرونی کو مشہور ریاضی داں اور ماہر عبد الصمد کی شاگردی میں دے دیا۔

    کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں ”کتاب الہند“ ہے جس میں البیرونی نے ہندو‎ؤں کے مذہبی عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب سے ہندو‎ؤں کی تاریخ سے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں، ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں جو اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے۔ البیرونی کی ایک مشہور کتاب ”قانون مسعودی“ ہے جو اس نے محمود کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس داں اور ریاضی داں سمجھا جاتا ہے۔ البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور ”کتاب الہند“ تالیف کی۔ علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام ”البیرونی کریٹر“ رکھا گیا ہے۔
    تصنیفات و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    البیرونی نے تاریخ، ریاضی اور فلکیات پر کوئی سو سے زائد تصانیف چھوڑی ہیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں :
    کتاب الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کتاب البیرونی نے جرجان کے حکمران شمس المعالی قابوس بن دشمکیر کے نام پر تحریر کی۔ اس کا خاص موضوع علم نجوم اور ریاضی تھا لیکن اس میں بہت سی دیگر دلچسپ علمی، تاریخی اور مذہبی و فلسفیانہ باتیں بھی لکھی ہیں اور جگہ جگہ تنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ اس طرح کتاب اس دور کے اہم تاریخی، مذہبی اور علمی مسائل کی ایک تنقیدی تاریخ بن گئی ہے۔
    کتاب الہند
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہندویات پر عربی زبان میں پہلی شہرہ آفاق کتاب جس کا پورا نام تحقیق ما للھند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل او مرذولۃ ہے۔ یہ کتاب قدیم ہندوستان کی تاریخ، رسوم و رواج اور مذہبی روایات کے ذیل میں صدیوں سے مورخین کا ماخذ رہی ہے اور آج بھی اسے وہی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب الہند کا مواد حاصل کرنے کے لیے البیرونی نے سال ہا سال تک پنجاب میں مشہور ہندو مراکز کی سیاحت کی، سنسکرت جیسی مشکل زبان سیکھ کر قدیم سنسکرت ادب کا براہ راست خود مطالعہ کیا۔ پھر ہر قسم کی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی معلومات کو، جو اہل ہند کے بارے میں اسے حاصل ہوئیں اس کتاب میں قلم بند کر دیا۔ اس کتاب میں ہندو عقائد، رسم و رواج کا غیر جانبدرانہ اور تعصب سے پاک انداز میں انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس کے ذریعے عربی داں طبقہ تک ہندو مت کے عقائد و دیگر معلومات اپنے اصل مآخذ کے حوالے سے پہنچیں۔
    کتاب مقالید علم الہیئہ وما یحدث فی بسیط الکرہ۔
    قانون مسعودی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ البیرونی کی سب سے ضخیم تصنیف ہے جس کا نام اس نے سلطان محمود عزنوی کے نام پر رکھا ہے۔ پورا نام ہے۔ یہ 1030ء میں شائع ہوئی اور ان تمام کتابوں پر سبقت لے گئی جو ریاضی، نجوم، فلکیات اور سائنسی علوم کے موضوعات پر اس وقت میں لکھی جا چکی تھیں۔ اس کتاب کا علمی مقام بطلیموس کی کتاب المجسطی سے کسی طرح کم نہیں۔
    ۔ (1)کتاب استخراج
    ۔ الاوتار فی الدائرہ۔
    ۔ (2)کتاب استیعاب الوجوہ
    ۔ الممکنہ فی صفہ الاسطرلاب۔
    ۔ (3)کتاب العمل
    ۔ بالاسطرلاب۔
    ۔ (4)کتاب التطبیق
    ۔ الی حرکہ الشمس۔
    ۔ (5)کتاب کیفیہ رسوم
    ۔ الہند فی تعلم الحساب۔
    ۔ (6)کتاب فی تحقیق
    ۔ منازل القمر۔
    ۔ (7)کتاب جلاء الاذہان
    ۔ فی زیج البتانی۔
    ۔ (8)کتاب الصیدلہ
    ۔ فی الطب۔
    ۔ (9)کتاب رؤیہ الاہلہ
    (10)کتاب جدول
    ۔ التقویم
    ۔ (11)کتاب مفتاح
    ۔ علم الہیئہ۔
    ۔ (12)کتاب تہذیف
    ۔ فصول الفرغانی۔
    ۔ (13)کتاب ایضاح
    ۔ الادلہ علی کیفیہ
    ۔ سمت القبلہ۔
    ۔ (14)کتاب تصور امر
    ۔ لفجر والشفق فی
    ۔ جہہ الشرق والغرب
    ۔ من الافق۔
    ۔ (15)کتاب التفہیم
    ۔ لاوائل صناعہ التنجیم
    ۔ (16)کتاب المسائل
    ۔ الہندسیہ۔
    ۔ (17)مقالہ فی تصحیح الطول
    ۔ والعرض لمساکن المعمورہ
    ۔ من الارض۔

    البیرونی کی دریافتیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی دریافتوں کی فہرست خاصی طویل ہے، انہوں نے نوعیتی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا، زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا، نظری اور عملی طور پر مائع پر دباؤ اور ان کے توازن پر ریسرچ کی، انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکر برقرار رکھتا ہے، انہوں نے محیطِ ارض نکالنے کا نظریہ وضع کیا اور متنبہ کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔

  • یوم پیدائش، رقیہ سخاوت حسین

    یوم پیدائش، رقیہ سخاوت حسین

    بیگم رقیہ سخاوت حسین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیدائش:09 دسمبر 1880ء
    پیرابوندھ گاؤں
    مِیٹھاپُکُر اُپ ضلع، رنگ پور
    بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند
    (موجودہ بنگلہ دیش)
    وفات:09 دسمبر 1932ء
    کولکاتا، بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند
    (موجودہ بھارت)
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ ، مسلم نسوانیت پسند
    زبان:بنگلہ
    قومیت:بھارت
    نسل:بنگالی
    دور:برطانوی حکمرانی
    ادبی تحریک:حقوق نسواں
    نمایاں کام:سلطاناز ڈریم، پدما راگ
    والد ظہیر الدین ابو علی حیدر صابر
    والدہ :. راحت النساء چودھری
    2 بھائی : محمد ابراہیم صابر، ابو زیغم خلیل اللہ صابر
    بڑی بہن : قمر النساء

    شریک حیات:خان بہادر سخاوت حسین

    بیگم رقیہ سخاوت بنگالی مسلمان خواتین کی تعلیم کے لیے ان تھک کوشش کرنے والی پہلی خاتون تھی۔

    مختصر حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بیگم رقیہ کو پانچ سال کی عمر سے سخت پردے میں رکھا گیا۔ ان کی اسکولی تعلیم عملاً بعید از امکان تھی۔ رقیہ کے والد ان کے انگریزی یا بنگالی سیکھنے کے سخت خلاف تھے۔ اس وجہ سے بیگم رقیہ اور ان کی بہن کریم النساء اپنے ایک بھائی کو لے کر رات کے اندھیرے میں ان دو زبانوں کو پڑھتی تھیں ۔ بیگم رقیہ کی شادی 18 سال کی عمر میں کرائی گئی ۔ جلد شادی کی وجہ حصول تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ شادی کے بعد انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے متعدد اسکول قائم کیے ان کی اس کوشش میں ان کے شوہر کا بھرپور تعاون شامل تھا۔ کلکتہ میں آج بھی ان کا قائم کردہ ” سخاوت میموریل گرلز ہائی اسکول قائم ہے اور وہ ایک مثالی تعلیمی ادارہ ہے۔

  • زمانے میں رہ کے رہے ہم اکیلے

    زمانے میں رہ کے رہے ہم اکیلے

    زمانے میں رہ کے رہے ہم اکیلے
    ہمیں راس آئے نہ دنیا کے میلے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مشیر کاظمی ( شاعر پاکستان)
    یوم وفات : 8 دسمبر 1975
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی فلم انڈسٹری کے مقبول ترین نغمہ نگار اور قومی گیت” اے راہ حق کے شہیدو ” کے حوالے سے لازوال شہرت حاصل کرکے ” شاعر پاکستان ” کا خطاب حاصل کرنے والے شاعر سید شبیر حسین المعروف مشیر کاظمی 22 اپریل یا 9 مئی 1924 کو ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے قصبہ علی پور ضلع مظفر گڑھ پنجاب پاکستان میں آباد ہو گئے وہ پولیس میں بھرتی ہو گئے مگر وہاں معاشی اور سماجی حالات درست نہ ہونے کے باعث پولیس کی ملازمت چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے وہاں ابتدا میں صحافت کا شعبہ اپنا لیا وہ مختلف اخبارات اور رسائل کے مدیر بھی رہے ۔اسی دوران انہیں شاعری کا شوق ہوا ادیب فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1952 میں شاعری شروع کر دی ۔ انہوں نے پہلے پہل لاہور میں بننے والی اردو فلم ” دوپٹہ” کے لیے 8 گیت لکھے جن میں ” چاندنی راتیں ” سمیت تمام کے تمام گیت ہٹ ہو گئے جس سے مشیر کاظمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے اور وہ گیتوں اور نغموں کے حوالے سے پاکستان کی فلم انڈسٹری کی ضرورت بن گئے ۔ انہوں نے 76 اردو فلموں کے لیے 256 نغمے اور 8 پنجابی فلموں کے لیے 11 گیت لکھے ۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہوں نے

    اے راہ حق کے شہیدو تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کرتی ہیں

    لکھ کر پاکستانی قوم کے دلوں میں اپنے لیے بہت بڑا مقام بنا لیا۔ مشیر کاظمی نے ریڈیو کی مشہور گلوکارہ روبینہ شاہین سے شادی کی تھی ۔ 8 دسمبر 1975 میں سید مشیر کاظمی کا لاہور میں انتقال ہوا۔ مشیر کاظمی کی شاعری سے چند مشہور ترین گیتوں اور نغمات میں سے چند ایک نغموں کے بول درج ذیل ہیں ۔

    اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
    دل اس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا

    چاندنی راتیں سب جگ سوئے ہم جاگیں
    تاروں سے کریں باتیں

    اک مسافر تھا کچھ دیر ٹھہرا رہا
    اپنی منزل کو آخر روانہ ہوا

    تم زندگی کو غم کا فسانہ بنا گئے
    آنکھوں میں انتظار کی دنیا بسا گئے

    شکوہ نہ کر گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے
    یہاں غم کے مارے تڑپتے رہے

    زمانے میں رہ کر رہے ہم اکیلے
    ہمیں راس آئے نہ دنیا کے میلے

    ہم چلے اس جہاں سے
    دل اٹھ گیا یہاں سے

    دھمال :. لال مری پت رکھیو بھلا جھولے لعلن
    سنھڑی دا سہون دا سخی شہباز قلندر

  • یوم پیدائش،محمد تقی بہار ،ایرانی شاعر

    یوم پیدائش،محمد تقی بہار ،ایرانی شاعر

    پیدائش:09 دسمبر 1886ء
    مشہد
    وفات:21 اپریل 1951ء
    تہران
    وجۂ وفات:سل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:ایران
    عارضہ:سل
    زبان:فارسی

    محمد تقی بہار ایرانی شاعر تھے۔ بہار شاعر ہونے کے علاوہ محقق، ادیب، معلم، مدیر اخبار اور سیاسی شخص تھے۔ مشہد میں پیدا ہوئے۔ والد کی وفات کے بعد ادیب نیشاپوری سے اصلاح لی۔ آصف الدولہ غلام رضا خاں کے توسط سے مظفر الدین شاہ نے ملک الشعراء کا خطاب عطا کیا۔ اور سالانہ وظیفہ بھی متعین ہوا۔ 1906ء میں ایران میں مشروطیت کا آغاز ہوا۔ تو انقلابیوں کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ اور آزادی پر مقالات اور نظمیں لکھیں۔ نوبہار اور دانشکدہ جاری کیے۔ پانچ بار مجلس شوری ملی کے نمائندے منتخب ہوئے۔ رضا شاہ پہلوی کے عہد میں سیاست سے کنارہ کش ہوکر تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے۔ دارالمعلمین عالی اور تہران یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے۔ کچھ عرصہ وزارت تعلیمات کا قلمدان بھی سنبھا لا۔ بہت سی علمی و ادبی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف تھے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔
    مرزا محمد تقی نام، بہار تخلص، ملک الشعرا محمد کاظم صبوری کے صاحبزادے تھے۔ مشہد میں 9 0دسمبر 1886ء کو پیدا ہوئے اور عربی و فارسی کی تعلیم مشہد ہی میں حاصل کی۔ سترہ سال کے تھے کہ یتیم ہو گئے۔ تحصیل علم کے بعد غلام رضا خاں آصف الدولہ گورنر خراساں کے پاس پہنچے جنہوں نے مظفر الدین شاہ قاجار سے ملک الشعرا کا خطاب دلایا اور سالانہ وظیفہ مقرر کرا دیا۔
    سنہ 1906ء میں انقلاب ایران کے موقع پر ایک پرخلوص اور پرجوش انقلابی رکن رہے اور اپنی انقلابی نظموں سے مقبولیت حاصل کی۔ 1911ء میں "نوبہار” نامی روزنامہ جاری کیا۔ انقلابی ادب کی وجہ سے دوبار جلاوطنی ملی۔ حکومت نے اخبار بند کر دیا۔ حکومت کے دباؤ کیوجہ سے اکثر انقلابی اراکین تہران سے نکل گئے۔ بہار ان میں شریک تھے۔ جب واپس ہوئے تو دوبارہ اخبار جاری کیا۔ مجلس شعرا ملی کے رکن رہے اور پھر تصنیف و تالیف کو مشغلہ بنا لیا۔ اخباروں کے لیے کئی تحقیقی مقالات لکھے۔ ایک ناول "نیرنگ سیاہ پاکیزان سفید” کے نام سے لکھا۔
    تاریخ سیستان، مجمل التوائخ و القصص اور سبک شناسی ان کی اہم تالیفات میں شمار ہوتی ہیں۔ عبارت میں سلاست، جوش اور روانی ہے۔ قصیدہ کی طرز کے استاد تسلیم کیے جاتے ہیں اور ادبی تاریخ پر حاوی ہیں۔ مرض سل میں مبتلا ہو کر تہران میں 22 اپریل 1951ء کو انتقال کیا۔ مقبرہ ظہیر الدولہ، شمران میں دفن کیے گئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    منظومۂ چہار خطابہ، 1926ء
    اندرزہای آذرباد ماراسپندان
    (ترجمۂ منظوم از پہلوی)، 1933ء
    یادگار زریران
    (ترجمۂ منظوم از پہلوی)، 1933ء
    زندگانی مانی، 1934ء
    گلشن صبا، فتح علی خان صبا (تصحیح)، 1934ء
    احوال فردوسی، 1934ء
    تاریخ سیستان (تصحیح)، 1935ء
    رسالۂ نفس ارسطو
    ترجمۂ باباافضل کاشانی (تصحیح)، 1937ء
    مجمل‌التواریخ والقصص
    (تصحیح)، 1939ء
    منتخب جوامع‌الحکایات
    سدیدالدین عوفی (تصحیح)، 1945ء
    سبک شناسی، (تین جلد)
    ۔۔۔ 1942ء-1947ء
    تاریخ مختصر احزاب سیاسی
    (دو جلد)، 1942-1983ء
    دستور زبان فارسی پنج استاد
    (بہ ہمراہی قریب، فروزانفر
    رشید یاسمی، ہمایی)، 1950ء
    شعر در ایران، 1954ء
    تاریخ تطّور در شعر فارسی، 1955ء
    دیوان اشعار، تہران، 1956ء
    تاریخ بلعمی، ابوعلی محمدبن محمد بلعمی
    (تصحیح) (بہ کوشش محمد پروین گنابادی)، 1962ء
    فردوسی نامہ بہار
    (بہ کوشش محمد گلبن)، 1966ء
    رسالہ در احوال محمدبن جریر طبری
    بہار و ادب فارسی

  • تاریخ کے جھروکوں سے،رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی

    تاریخ کے جھروکوں سے،رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی

    تاریخ کے جھروکوں سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی
    9 دسمبر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوبل ادب کے انعام یافتہ بنگالی شاعر رابندرناتھ ٹیگور کی شادی 9 دسمبر 1883 عیسوی میں مرینالینی دیوی کے ساتھ ہوئی تھی.
    شادی کے وقت رابندر ناتھ ٹیگور کی عمر 22 سال تھی اور ان کی بیگم مرینالینی کی عمر صرف 9 یا 11 سال تھی.

    مرینالینی کے والد ٹیگور فارم ھاوس میں ملازم تھے.
    شادی سے پہلے مرینالینی دیوی کا نام بھباتارینی تھا شادی کے بعد ٹیگور فمیلی میں شامل ہونے کے بعد مرینالینی رکھا گیا اور مرینالینی کو جورا سانکو میں واقع مکان پر لایا گیا اور برہمو سماج کے رسم ورواج کے مطابق ان کی شادی رابندر ناتھ ٹیگور کے ساتھ کردی گئی.

  • یوم وفات، نصر غزالی، اردو کے ممتاز شاعر

    یوم وفات، نصر غزالی، اردو کے ممتاز شاعر

    رخ کماں تھا ادھر تیر کا نشاں ادھر
    ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پورا نام: ابونصر غزالی
    ولدیت: مولانا عبدالجبار
    آبائی وطن: میرغیاث چک،
    ضلع نالندہ، بہار
    جائے ولادت: میر غیاث چک
    ضلع نالندہ، بہار
    تاریخ ولادت: 04 اکتوبر 1938ء
    تاریخ وفات: 08 دسمبر 2011ء
    تعلیم: ایم اے
    پیشہ: درس و تدریس
    استاد، ریڈر شعبۂ اردو
    مولانا آزاد کالج، کلکتہ
    آغازِ شاعری: 1958ء
    تلمیذ: کسی سے اصلاح نہیں لی
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لہو کا درد-1982ء
    ۔ (نظموں اور غزلوں کا مجموعہ)
    ۔ (2)بنگالی شعراء-1982ء
    ۔ (تعارف و ترجمہ)
    ۔ (3)کوہِ فاراں سے آتی صدا
    ۔ (نظموں کا مجموعہ)
    ۔ (4)دور اک پیڑ
    ۔ (غزلوں کا مجموعہ)
    ۔ (5)میزانِ قدر
    ۔ ـ(تنقیدی مضامین کا مجموعہ)
    پتا: 37، امداد علی لین، فاراں ہاؤس
    کلکتہ-700016

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رخ بہار پہ عکس خزاں بھی کتنی دیر
    مخالفت پہ تلا آسماں بھی کتنی دیر
    کسی کا نام کسی کا نشاں بھی کتنی دیر
    ہو جسم خاک تو پھر استخواں بھی کتنی دیر
    شکست و ریخت کی اس منزل پریشاں میں
    یقیں کی عمر بھی کتنی گماں بھی کتنی دیر
    بندھا ہے عہد جو تیغ و گلو کے بیچ تو پھر
    لرزتی کانپتی ننھی سی جاں بھی کتنی دیر
    نکل چلو ہے ابھی سہل راستہ یارو
    کہ مہرباں ہے تو یہ مہرباں بھی کتنی دیر
    برائے شب بھی کشادہ ہے میرا دروازہ
    کہ صبح آئی تو یہ میہماں بھی کتنی دیر
    سخن وری نہ سہی معجزہ سہی لیکن
    یہ طرز فکر یہ حسن بیاں بھی کتنی دیر

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    برف‌ زار جاں کی تہہ میں کھولتے پانی کا ہے
    جو بھی قصہ ہے لہو کی شعلہ سامانی کا ہے
    آسماں سے روشنی اتری بھی دھندلا بھی چکی
    نام روشن ہے تو بس ظلمت کی تابانی کا ہے
    ریگزار لب کہ ہر سو اگ رہی ہے تشنگی
    آنکھ میں منظر اچھلتے کودتے پانی کا ہے
    بے سبب ہرگز نہیں دست کرم کم کم ادھر
    اس کو اندازہ ہماری تنگ دامانی کا ہے
    شہر ہو یا ہو بیاباں گھر ہو یا کوئی کھنڈر
    سلسلہ چاروں طرف غول بیابانی کا ہے
    موڑ پر پہنچے تو دیکھو گے کہ ہر منزل ہے سہل
    بس یہی اک راستہ ہے جو پریشانی کا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا
    صدائیں سہمی کچھ ایسی سخن کا یارا نہ تھا
    تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے
    چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا
    رخ کماں تھا ادھر تیر کا نشانہ ادھر
    ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا
    رفو طلب نظر آتا ہے دیکھیے جس کو
    لباس جاں تو کبھی اتنا پارہ پارہ نہ تھا
    خدا کرے کہ رہے مہرباں سدا تم پر
    عزیزو وقت کہ اک لمحہ بھی ہمارا نہ تھا
    اڑانیں بھرتے پرندوں کے پر کتر ڈالیں
    نظر کے سامنے ایسا کبھی نظارہ نہ تھا
    ہے دور حد نظر سے تو کیا قیامت ہے
    ہمارے پاس تھا جب تک وہ اتنا پیارا نہ تھا

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھ بھر آنسو تو دامن بھر لہو
    زندگی ہے بیسوا کا پیار کیا

    غزل کے شعروں میں رکھتا ہے وہ چھری کی دھار
    کہ تیکھے لہجے میں سچائیاں سناتا ہے

    تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے
    چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا

    پھول ، خوشبو ، ہوا ، روشنی ، جلترنگ اور تو
    خاک ، پتھر ، سیاہی ، سمندر ، بھنور اور میں

    باہر باہر دیکھ چکا تو اب کچھ اپنے اندر دیکھ
    نظارے کا لطف یہی ہے الگ الگ ہر منظر دیکھ

  • یوم وفات،امراؤ طارق،اردو کے نامور ناول نگار

    یوم وفات،امراؤ طارق،اردو کے نامور ناول نگار

    نام:سید امراؤ علی
    قلمی نام:امراؤ طارق
    پیدائش:24 مارچ 1932ء
    فتح پور چوراسی،
    اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
    وفات:08 دسمبر 2011ء
    کراچی،پاکستان
    پیشہ:افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد
    زبان:اردو

    شہریت:پاکستانی
    اصناف:ناول، افسانہ تنقید

    امراؤ طارق (پیدائش: 24 مارچ 1932ء – وفات:8 دسمبر 2011ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار اور نقاد تھے۔ انہیں ان کے افسانوں کے مجموعے بدن کا طواف پر آدم جی ادبی انعام ملا۔

    سوانحی خاکہ
    ۔۔۔۔۔۔
    امراؤ طارق 24 مارچ، 1932ء میں فتح پور چوراسی، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے مگر انہوں نے اپنا بچپن شاہ پور میں گزارا جہاں ان کے والد ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا اصل نام سید امراؤ علی تھا۔ انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے پہ امراؤ طارق حیدرآباد دکن منتقل ہو گئے جو اس وقت ایک آزاد ریاست تھی۔ اسی زمانے میں مولوی عبدالحق، جو بعد میں بابائے اردو کہلائے، بھی حیدرآباد دکن میں موجود تھے۔ 1948ء میں ہندوستانی فوج کے حیدرآباد پہ حملے اور ریاست حیدرآباد کے بھارت میں ضم ہونے کے بعد امراؤ طارق حیدرآباد چھوڑ کر ڈھاکہ چلے گئے جو اس وقت مشرقی پاکستان کا دار الحکومت تھا۔ 1952ء میں امراؤ طارق ڈھاکہ سے کراچی منتقل ہو گئے جہاں ان کے وسیع خاندان کے اور لوگ بھی ہندوستان سے ہجرت کر کے پہنچے تھے۔ اردو کے تین بڑے اکابرین مولوی عبدالحق، نیاز فتح پوری اور فرمان فتح پوری بھی کراچی میں موجود تھے۔ کراچی پہنچنے پہ امراؤ طارق نے مولوی عبد الحق اور فرمان فتحپوری کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔ امراؤ طارق نے شعبہ پولیس میں ملازمت کی اور 1992ء میں ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد امراؤ طارق نے کچھ عرصے وکالت بھی کی۔ امراؤ طارق بابائے اردو مولوی عبد الحق کے قائم کردہ ادارے انجمن ترقی اردو میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پہ کام کرتے رہے۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    گو کہ امراؤ طارق نے بچپن میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا مگر ان کی پہلی کہانی برگ گل نامی رسالے میں 1954ء میں شائع ہوئی
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)بدن کا طواف(افسانوں کا مجموعہ)
    ۔۔۔۔ 1979ء
    ۔۔۔۔ اس کتاب نے آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا
    (2)خشکی پہ جزیرے ( افسانوں کا مجموعہ)
    (3)تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
    افسانوں کا مجموعہ
    (4)معتوب، ناول
    (5)دھنک کے باقی ماندہ رنگ
    عصر حاضر کے ادیبوں کے خاکے
    (6)تاروں پہ لکھے نام
    عصر حاضر کے ادیبوں کے خاکے
    (7)فرمان فتح پوری، حیات و خدمات
    تین جلدوں پہ مشتمل
    امراؤ طارق کے فن پر تحقیق
    ۔۔۔۔۔۔
    سندھ یونیورسٹی میں ایم فل کی ایک طالبہ نے امراؤ طارق پہ تحقیق کی اور اپنا مقالہ امراؤ طارق، فن و شخصیت کے عنوان سے 1997ء میں شائع کیا۔ یہ کتاب امراؤ طارق کے ادبی سفر پہ سب سے مستند دستاویز ہے. بہاءالدین زکریا یو نیورسٹی ملتان کے ایم۔ اے اردو کے طالب علم آصف بلوچ نے 1998 میں امراؤ طارق پر تحقیقی مقالہ لکھا۔ جس کا عنوان”امراؤ طارق شخصیت اور فن“ ہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    امراؤ طارق 8 دسمبر 2011ء کو خون کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر کراچی میں انتقال کر گئے۔ پس ماندگان میں انہوں نے بیوی اور پانچ بچے چھوڑے ہیں۔

  • مصر کے معروف شاعر ،ادیب اور سیاستدان محمد حسین ہیکل  کا یوم وفات

    مصر کے معروف شاعر ،ادیب اور سیاستدان محمد حسین ہیکل کا یوم وفات

    محمد حسين ہيکل مصر کے ایک شاعر، ادیب اور سیاست داں تھے۔

    مصنف، صحافی، وزیر، سیاست داں محمد حسین ہیکل کی پیدائش20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر۔ میں پیدا ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909 میں گریجویشن مکمل کی 1912ءمیں فرانس میں سوربون یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا، صحافت میں بھی رہے احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیر تعلیم رہے جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے اس کے بعد 1940 سے 1942 تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945 میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔

    ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادی الاول 1376ھ بمطابق 8 دسمبر 1956ء میں ہوئی جب ان کی عمر68 سال تھی۔

    تالیفات

    ۔ (1)روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914ء
    ۔ (2)سير حياۃ شخصيات مصريۃ وغربيۃ
    ۔ – 1929ء
    ۔ (3)حياۃ محمد – 1933ء
    ۔ (4)فی منزل الوحی – 1939ء
    ۔ (5)مذکرات فی السياسۃ المصريہ
    ۔ – 1951 / 1953ء
    ۔ (6)الصديق ابو بکر
    ۔ (7)الفاروق عمر – 1944 / 1945ء
    ۔ (8)عثمان بن عفان – 1968ء
    ۔ (9)ولدی۔
    ۔ (10)يوميات باريس
    ۔ (11)الامبراطوريہ الإسلاميہ
    ۔ والأماکن المقدسہ – 1964ء
    ۔ (12)قصص سعوديہ قصيرہ – 1967ء
    ۔ (13)فی اوقات الفراغ
    ۔ (14)الشرق الجديد
    ۔ (15)روايۃ زينب

  • اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش

    اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش

    اردو زبان کے مایہ ناز شاعر، اردو غزل کو نیا پیرہن عطا کرنے والے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا.

    اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی 8 ، دسمبر، 1925ء کو بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے، 1945ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعرامیں لاکھڑاکیا۔ناصر کاظمی غزل کو زندگی بنا کر اسی کی دھن میں دن رات مست رہے۔

    ناصر نے غزل کی تجدید کی اور اپنی جیتی جاگتی شاعری سے غزل کا وقار بحال کیا جن میں میڈیم نور جہاں کی آواز میں گائی ہوئی غزل ’’دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا ‘‘ناصر کاظمی نے پیروی میر کرتے ہوئے ذاتی غموں کو شعروں میں سمویا لیکن ان کا اظہار غم پورے عہد کا عکاس بن گیا۔ ناصر کے اظہار میں شدت اور کرختگی نہیں بلکہ احساس کی ایک دھیمی جھلک ہے جو روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے اور جب ان کے اشعار سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں تو ایک خوشگوار احساس دلوں میں ہلکورے لیتا ہے۔

    ناصر کاظمی 2 مارچ، 1972ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے۔ دائم آباد رہے گی۔

    ناصر کاظمی کا یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطورِ خراج عقیدت.

    اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
    محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
    تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
    وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
    تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تیری مجبوریاں درست مگر
    تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
    جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
    جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
    تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
    خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
    بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
    تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
    آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل تو میرا اداس ہے ناصر
    شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
    آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
    مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
    یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
    پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
    ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دائم آباد رہے گی دنیا
    ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا.