Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • شاعرو ادیب علی جواد زیدی کا یوم وفات

    شاعرو ادیب علی جواد زیدی کا یوم وفات

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال
    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    علی جواد زیدی کرہان اعظم گڑھ میں 10 مارچ 1916 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی کچھ بڑے ہوئے تو ریاست محمود آباد کے کالون اسکول میں داخلہ لیا۔ 1935 میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ 1937 میں انٹر اور 1939 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔

    یہ زمانہ وہ تھا جب آزادی کی جد وجہد تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی اور کمیونسٹ پارٹی نوجوانوں کے لئے خاص کشش رکھتی تھی۔ علی جواد زیدی بھی کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ ممبر بن گئے اور آزادی کی جد وجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس جد وجہد میں شریک ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور چھ مہینے کی سزا ہوئی۔

    ملک کی تقسیم اور آزادی کے بعد وہ سرکاری ملازمت میں آگئے اور مرکزی حکومت میں ذمے دار عہدوں پر فائز رہے۔ جب اندر کمار گجرال کی سربراہی میں اردو زبان کی ترقی کے لئے حکومت نے ایک کمیشن بنایا تو گجرال نے علی جواد زیدی کو کمیشن کے انتظامی امور کی ذمے داری سونپی۔

    علی جواد زیدی نے شاعری اور نثر دونوں صورتوں میں اہم ترین کارنامے انجام دئے۔ ان کی شاعری اور خاص کر نظمیں حب الوطنی اور قوم پرستانہ جذبات کی حامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ’تیشۂ آواز‘ اور ’رگ سنگ‘ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ علی جواد زیدی نے کئی اہم تنقیدی کتابیں بھی لکھیں۔ جنمیں ’ دو ادبی اسکول‘ ’قصیدہ نگاران اترپردیش‘ ’تاریخ اردو ادب کی تدوین‘ ’اردو میں قومی شاعری کے سو سال‘ اور دوسری کئی کتابیں شامل ہیں۔

    علی جواد زیدی کو ان کی ادبی اور سماجی خدمات کے لئے 1988 میں پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ 7 دسمبر 2004 کو انتقال ہوا۔

    اشعار

    جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا
    وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے

    یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی
    اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے

    لذت درد ملی عشرت احساس ملی
    کون کہتا ہے ہم اس بزم سے ناکام آئے

    ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا
    ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں

    ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے
    جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم

    اب درد میں وہ کیفیت درد نہیں ہے
    آیا ہوں جو اس بزم گل افشاں سے گزر کے

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال
    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    دل میں جو درد ہے وہ نگاہوں سے ہے عیاں
    یہ بات اور ہے نہ کہیں کچھ زباں سے ہم

    نظارۂ جمال کی فرصت کہاں ملی
    پہلی نظر نظر کی حدوں سے گزر گئی

    ایک تمہاری یاد نے لاکھ دیے جلائے ہیں
    آمد شب کے قبل بھی ختم سحر کے بعد بھی

    مونس شب رفیق تنہائی
    درد دل بھی کسی سے کم تو نہیں

    جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں
    وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کے

    دل کا لہو نگاہ سے ٹپکا ہے بارہا
    ہم راہ غم میں ایسی بھی منزل سے آئے ہیں

    غضب ہوا کہ ان آنکھوں میں اشک بھر آئے
    نگاہ یاس سے کچھ اور کام لینا تھا

    شوق منزل ہم سفر ہے جذبۂ دل راہبر
    مجھ پہ خود بھی کھل نہیں پاتا کدھر جاتا ہوں میں

    دیار سجدہ میں تقلید کا رواج بھی ہے
    جہاں جھکی ہے جبیں ان کا نقش پا تو نہیں

    مدتوں سے خلش جو تھی جیسے وہ کم سی ہو چلی
    آج مرے سوال کا مل ہی گیا جواب کیا

    دکھا دی میں نے وہ منزل جو ان دونوں کے آگے ہے
    پریشاں ہیں کہ آخر اب کہیں کیا کفر و دیں مجھ سے

    ہار کے بھی نہیں مٹی دل سے خلش حیات کی
    کتنے نظام مٹ گئے جشن ظفر کے بعد بھی

    پی تو لوں آنکھوں میں امڈے ہوئے آنسو لیکن
    دل پہ قابو بھی تو ہو ضبط کا یارا بھی تو ہو

    ہیں وجود شے میں پنہاں ازل و ابد کے رشتے
    یہاں کچھ نہیں دو روزہ کوئی شے نہیں ہے فانی

    جب کبھی دیکھا ہے اے زیدیؔ نگاہ غور سے
    ہر حقیقت میں ملے ہیں چند افسانے مجھے

    آنکھوں میں لیے جلوۂ نیرنگ تماشا
    آئی ہے خزاں جشن بہاراں سے گزر کے

    اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں
    ہم کہاں پھنس گئے یاران سبک گام کے ساتھ

  • دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    جلیں جب گھر تو یا رب تجھ سے اتنی التجا ہے
    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا

    رفیعہ شبنم عابدی

    پیدائش:07دسمبر 1943ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف :. آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رفیعہ شبنم عابدی صاحبہ کا شمار بیسویں اور اکیسویں صدی کی بہترین اردو خواتین شاعرات میں ہوتا ہے وہ شاعرہ بنت شاعر ہیں۔ ان کا تعلق اہل سادات و علمی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ ڈاکٹر شبنم عابدی صاحبہ 7 دسمبر 1943 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو کے ایک صاحب دیوان شاعر سید ساجد علی شاکر اور اعلی تعلیلم یافتہ خاتون سیدہ زینب کی صاحبزادی ہیں۔ سیدہ رفیعہ شبنم نے 1960 سے اپنا تخلیقی سفر افسانہ نگاری سے شروع کیا اس کے بعد شاعری شروع کی اس وقت وہ رفعیہ شبنم منچری کے نام سے لکھتی تھیں ۔ منچری وہ اپنے واکد صاحب کے پیدائشی قصبہ منچر کی نسبت سے کہلاتی تھیں مگر سید حسن عابدی سے شادی کے بعد رفیعہ شبنم عابدی کا قلمی نام اختیار کیا۔ رفیعہ شبنم نے تمام تر تعلیم ممبئی میں حاصل کی اور وہیں شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئیں ۔ وہ لیچرر سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے پر پہنچیں وہ کالج اور یونیورسٹی میں اردو اور فارسی پڑھاتی تھیں. ممبئی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی صدر کے عہدے پر فائز ہو کر 38 سال علمی خدمات سے 31 دسمبر 2003 میں سبکدوش ہوئیں۔ ان کی اولاد میں 2 بیٹیاں اور 3 بیٹے شامل ہیں اور سبھی بچے شادی شدہ ہیں۔ بڑی بیٹی سیدہ شاداب ممبئی میں مقیم ہیں دوسری بیٹی سیدہ سیماب دوبئی میں مقیم ہیں۔ دو بیٹے سید دانش رضا اور سید شارق رضا امریکہ میں مقیم ہیں اور سید کاشف رضا کینیڈا میں مقیم ہیں۔ رفیعہ شبنم عابدی نے شاعری کے علاوہ تنقید، تحقیق اور تراجم کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تعلیم بمبئی میں حاصل کی اوربمبئی یونیورسٹی میں ’کرشن چندر چیر‘سے وابستہ پروفیسر اور شعبہ اردو اور فارسی کی صدر رہیں۔ رفعیہ کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے۔

    شعری مجموعے : ’موسم بھیگی آنکھوں کا‘۔’اگلی رت کے آنے تک‘ ۔’آنگن آنگن پروائی‘۔’نئی گھٹائیں اتر رہی ہیں‘۔
    فکشن: افسانوی مجموعہ ’سپنے جاگے‘ اور دو ناول ’میں پاگل میرا منوا پاگل‘ ا ور ’دل ٹوٹے نا‘۔
    تنقید: ’نظر نظر کے چراغ‘۔ ’نظر و نقطۂ نظر‘۔
    تراجم: ’شاخ ِ بنات‘ حافظ کی غزلوں کا ترجمہ اور ’دھنک‘ مراٹھی نظموں کا ترجمہ۔
    اس کے علاوہ ان کے بہت سے تحقیقی مقالے مختلف رسائل میں شائع ہوئے ہیں
    ان کے فن و شخصیت پر کتابی سلسلہ ’تریاق‘بمبئی نے ایک خصوصی شمارہ ”رفیعہ شبنم عابدی نمبر‘‘، جون،2017 میں شائع کیا ہے۔ رفیعہ شبنم عابدی کی خوب صورت شاعری سے انتخاب قارئین کی نذر

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھا
    گھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھا
    بجا کہ تجھ سا رفوگر نہ مل سکا لیکن
    یہ تار تار وجود ایک دن تو سینا تھا
    اسے یہ ضد تھی کہ ہر سانس اس کی خاطر ہو
    مگر مجھے تو زمانے کے ساتھ جینا تھا
    یہ ہم ہی تھے جو بچا لائے اپنی جاں دے کر
    ہوا کی زد پہ تری یاد کا سفینہ تھا
    ندی خجل تھی کہ بھیگی ہوئی تھی پانی میں
    مگر پہاڑ کے ماتھے پہ کیوں پسینا تھا
    تم ان سلگتے ہوئے آنسوؤں کا غم نہ کرو
    ہمیں تو روز ہی یہ زہر ہنس کے پینا تھا
    تمام عمر کسی کا نہ بن سکا شبنمؔ
    وہ جس کو بات بنانے کا بھی قرینا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بسنتی رت ہے سب پھولوں کو تو محفوظ رکھنا
    میرے اللہ کھلی سرسوں کو تو محفوظ رکھنا
    سروں کو کاٹنے کی فصل پھر سے آ گئی ہے
    ان افشاں سے بھری مانگوں کو تو محفوظ رکھنا
    جلیں جب گھر تو یا رب تجھ سے اتنی التجا ہے
    دوپٹوں سے ڈھکے چہروں کو تو محفوظ رکھنا
    فضاؤں میں ہزاروں باز منڈلانے لگے ہیں
    ہر آنگن کی سبھی چڑیوں کو تو محفوظ رکھنا
    ابھی خیمے بھی ہیں کوزے بھی ہیں پانی نہیں ہے
    قسم عباس کی بچوں کو تو محفوظ رکھنا
    بزرگوں کی دعائیں آج کتنی لازمی ہیں
    جوانوں کے لئے بوڑھوں کو تو محفوظ رکھنا
    سوا نیزے پہ سورج آ رہا ہے آ نہ جائے
    ہواؤں کے خنک جھونکوں کو تو محفوظ رکھنا
    سلگتی رت میں شبنمؔ یہ ترا ہی فرض ٹھہرا
    چمن میں اب کے سب کلیوں کو تو محفوظ رکھنا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھا
    میز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھا
    تو نے اک شام جو آنے کا کیا تھا وعدہ
    میں نے دن رات چراغوں کو جلائے رکھا
    کس سلیقے سے خیالوں کو زباں دے دے کر
    مجھ کو اس شخص نے باتوں میں لگائے رکھا
    میں وہ سیتا کہ جو لچھمن کے حصاروں میں رہی
    ہم وہ جوگی کہ الکھ پھر بھی جگائے رکھا
    شاید آ جائے کسی روز وہ سجدہ کرنے
    اسی امید پہ آنچل کو بچھائے رکھا
    چوڑیاں رکھ نہ سکیں میری نمازوں کا بھرم
    پھر بھی ہاتھوں کو دعاؤں میں اٹھائے رکھا
    جانے کیوں آ گئی پھر یاد اسی موسم کی
    جس نے شبنمؔ کو ہواؤں سے بچائے رکھا

  • یوم ولادت،نوام چومسکی،ماہر لسانیات،فلسفی ادیب

    یوم ولادت،نوام چومسکی،ماہر لسانیات،فلسفی ادیب

    پیدائش: 07 دسمبر 1928ء
    رہائش:لیکسنگٹن، میساچوسٹس
    دیگر نام:اَورام نوام چومسکی
    رکن:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سربیائی اکادمی برائے سائنس و فنون
    ۔ قومی اکادمی برائے سائنس
    ۔ (2)امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    ۔ رائل سوسائٹی کینیڈا، امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی
    مادر علمی:جامعہ پنسلوانیا
    تخصص تعلیم:لسانیات
    تعلیمی اسناد:بی اے،ماسٹر آف آرٹس
    مادری زبان:امریکی انگریزی
    شعبۂ عمل:لسانيات، نفسیات، اخلاقیات، سیاسیات
    ملازمت:میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی
    کارہائے نمایاں:نحوی اجزاء (کتاب)
    اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)تمغا بنجمن فرینکلن (1999)
    ۔ (2)ہیلمولٹز میڈل (1996)
    ۔ (3)فیلو رائل سوسائٹی کینیڈا

    اَورام نوام چومسکی (پیدائش 7 دسمبر 1928) ایک یہودی امریکی ماہر لسانیات، فلسفی، مؤرخ، سیاسی مصنف اور لیکچرر ہیں۔ ان کے نام کا اولین حصہ اَورام دراصل ابراہیم کا عبرانی متبادل ہے۔ وہ مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ لسانیات میں پروفیسر ہیں اور اس ادارے میں پچھلے 50 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ چومسکی کو لسانیات میں جینیریٹو گرامر کے اصول اور بیسویں صدی کے لسانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے کام سے کمپیوٹر سائنس، ریاضی اور نفسیات کے شعبے میں ترقی ہوئی۔ چومسکی کی خاص وجہ شہرت ان کی امریکی خارجہ پالیسی اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید رہی ہے۔ وہ 100 سے زیادہ کتابوں کے خالق ہیں۔ دنیا بھر میں انہیں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ ان کی ایک کتاب دنیا کس طرح کام کرتی ہے نے بڑی شہرت پائی۔
    1967ء میں انہوں نے نفسیات کے شہرت یافتہ سائنسی کتاب بی ایف سکينر کی وربل بی یوير کی تنقید لکھی جس نے 1950 کی دہائی میں وسیع قبولیت حاصل ہوئی نظریہ کردار Behaviorism کے اصولوں کو چیلنج کیا، تو اس سے اگنيٹو نفسیات میں ایک طرح کے انقلاب کا آغاز ہوا، جس سے نہ صرف نفسیات کا مطالعہ اور تحقیق متاثر ہوئی۔ بلکہ لسانیات، سوشیالوجی، انسانی نفسیات جیسے کئی شعبوں میں تبدیلی آئی۔

    آرٹس اینڈ يومنٹج ساٹیشن انڈیکس کے مطابق 1980-92 کے دوران جتنے محققین اور علما کرام نے چومسکی کا حوالہ دیا ہے، اتنا شاید ہی کسی زندہ مصنف سے متعلق کیا گیا ہو اور اتنا ہی نہیں، وہ کسی بھی مدت میں آٹھویں سب سے بڑے حوالہ کیے جانے والے مصنف ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار سائنٹیفک انفارمیشن کے ایک حالیہ سروے کے مطابق تعلیمی کتب، تحقیق خطوط وغیرہ میں مارکس، لینن، شیکسپیئر، ارسطو، بائبل، افلاطون اور فرائیڈ وغیرہ کے بعد چامسکی سب سے زیادہ حوالہ کیے جانے والے عالم ہیں جو ہیگل اور سسرو وغیرہ کو بھی شکست دیتے ہیں۔
    نوام چومسکی کی پہلی پہچان یہ ہے کہ وہ ماہر لسانیات ہیں۔ انھوں نے 1950ء کی دہائی میں یہ انقلابی نظریہ پیش کیا تھا کہ تمام زبانوں کی بنیاد ایک ہی ہے۔ انھیں بجا طور پر اپنے شعبے کا آئن سٹائن کہا جاتا ہے۔ تا ہم نوام چومسکی کی سیاسیات کے موضوع پر تحریروں نے بھی عالمی توجہ حاصل کی۔ نوام چومسکی اس عالمی جدوجہد کے ایک مفکر اورایکٹوسٹ ہیں جو نہ صرف ریاستی دہشت گردی بلکہ اقتصادی دہشت گردی کے بھی مخالف ہیں۔
    1960 کی دہائی کے ویت نام کی جنگ کی تنقید میں لکھی کتاب دی رسپانس بلٹي آف اینٹلی چولز (خرد مندوں کی ذمہ داری) کے بعد چومسکی خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر میڈیا کے ناقدین اور سیاست کے عالم کے طور پر جانے جانے لگے، بائیں بازو اور امریکہ کی سیاست میں آج وہ ایک متحرک دانشور کے طور میں جانے اور تصورکیے جاتے ہیں۔ اپنے سیاسی ایکٹوزم اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کی تنقید کے لیے آج انھیں پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔

    چومسکی نے اکثر موقعوں پر امریکی کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسامہ بن لادن کی موت پر چومسکی کہتے ہیں
    ”ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہم کیا محسوس کرتے اگر عراقی کمانڈوز جارج ڈبلیو بش کے احاطے میں اترتے، اسے قتل کرتے اور اس کی لاش اٹلانٹک سمندر میں پھینک دیتے۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں کہ بش کے جرائم بن لادن کے جرائم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اور بش مشتبہ نہیں بلکہ یقینی طور پر فیصلہ کرنے والا اور وہ احکام دینے والا رہا ہے جس سے بدترین بین الاقوامی جرائم کیے گئے۔ ایسے ہی جرائم میں نازیوں کو پھانسی دی گئی تھی یعنی لاکھوں کی موت، کروڑوں کی ملک بدری، ملک کے بیشتر حصے کی تباہی اور بد ترین فسادات۔“

  • یوم ولادت،ہومین بورگوہن، معروف آسامی ادیب ،ناول نگار

    یوم ولادت،ہومین بورگوہن، معروف آسامی ادیب ،ناول نگار

    تاریخ ولادت:07 دسمبر 1932ء
    آسام
    تاریخ وفات:12 مئی 2021ء
    گواہاٹی، آسام
    پیشہ:سماجی خدمات گار، صحافی
    شاعر اور مدیر
    قومیت:ہندستانی
    اصناف:آسامی ادب
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Saudor Puteke
    ۔ Nu Meli Jay
    ۔ (2)Halodhiya Soraye
    ۔ Baudhan Khai
    ۔ (3)Astarag
    ۔ (4)Pita Putra
    ۔ (5)Timir Tirtha
    ۔ (6)Kushilab
    ۔ (7)Edinar Diary
    ۔ (8)Bisannata
    ۔ (9)Nisongota
    ۔ (10)Subala
    ۔ (11)Matshyagandhaa
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Sahitya Akademi Award
    ۔ (2)Assam Valley Literary Award
    ۔ (3)Nilamoni Phukan Award from
    Asom Sahitya Sabha
    ۔ (4)Srimanta Sankardev Award
    ۔ (5)Matshendra Nath Award

    معروف اسمیا مصنف، قدآور صحافی اور روزنامہ اسمیا کے سابق ڈپٹی ایڈیٹر مسٹر بورگوہن نیومیا بارٹا کے سابق چیف ایڈیٹر تھے۔ ”باپ بیٹے“ کے لیے انھیں اسمیا زبان کے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 1978ء سے نوازا گیا تھا۔

  • یوم وفات، الی ڈوکمن، معروف سوئس صحافی

    یوم وفات، الی ڈوکمن، معروف سوئس صحافی

    پیدائش:19 فروری 1833ء
    جنیوا
    وفات:07 دسمبر 1906ء
    برن
    شہریت: سویٹزرلینڈ
    زبان:فرانسیسی
    شعبۂ عمل:نظریاتی صحافت
    اعزازات:
    نوبل امن انعام (1902)

    الی ڈوکمن(1833ء-1906ء) کو امن کے حوالے سے کام کرنے پر جانا جاتا ہے۔ انھوں نے 1902ء میں نوبل امن انعام کا اعزاز حاصل کیا۔ انھوں نے امن کے اس نوبل انعام کو ایلبرٹالبرٹ گوباٹ (1843ء -1914ء)،سوئس وکیل، تعلیمی منتظم،اور سیاست داں کے ساتھ مشترکہ طور پر جیتا تھا۔ الی ڈوکمن جنیوا میں پیدا ہوئے تھے اورانھوں نے بطور استاد اور صحافی کے بھی کام کیا۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

  • معروف نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید کا یوم پیدائش

    معروف نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید کا یوم پیدائش

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    وہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    6 دسمبر 1929ء اردو کے معروف نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید کی تاریخ پیدائش ہے۔

    مظفر علی سید امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں تنقید کی آزادی اور تراجم میں فکشن، فن اور فلسفہ اور پاک فضائیہ کی تاریخ کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے خامہ بگوش کے قلم سے، سخن در سخن اور سخن ہائے گفتنی کے نام سے مرتب کئے۔

    مظفر علی سید نے 28 جنوری 2000ء کو لاہور میں وفات پائی۔وہ لاہور میں کیولری گرائونڈ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو
    نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو

    دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول
    مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو

    نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ
    یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو

    نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے
    جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو

    اگر یہ تختۂ گل زہر ہے نظر کے لیے
    تو پھر ملازمت گلستاں بدل ڈالو

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    تمہارا کیا ہے مصیبت ہے لکھنے والوں کی
    جو دے چکے ہو وہ سارے بیاں بدل ڈالو

    مجھے بتایا ہے سیدؔ نے نسخۂ آساں
    جو تنگ ہو تو زمیں آسماں بدل ڈالو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    جوانی مگر اس قدر مستیاں
    شب و روز شام و سحر مستیاں
    نہ دل میں ذرا بھی ندامت ہوئی
    مچاتے رہے رات بھر مستیاں
    ہواؤں میں لو تھرتھراتی رہی
    ادھر تھی حیا اور ادھر مستیاں
    ہوس کاریوں کو مسرت نہ کہہ
    محبت میں اتنی نہ کر مستیاں
    جوانی گنواتے ہیں جو زہد میں
    بڑھاپے میں کرتے ہیں خر مستیاں
    کبھی خلوتوں میں تکلف بہم
    کبھی ہیں سر رہ گزر مستیاں
    بڑی مشکلوں سے شب احتیاط
    جو گزری تو پچھلے پہر مستیاں
    وہیں دوستی ہے جہاں عشق ہے
    جدھر خواریاں ہیں ادھر مستیاں
    اداؤں کو الفت سمجھتا ہے تو
    نہیں اے مرے بے خبر مستیاں
    ثوابوں سے ان کا سہی فاصلہ
    گناہوں سے ہیں دور تر مستیاں
    یہاں حکمتیں بھی اترتی رہیں
    اچھلتی رہی ہیں اگر مستیاں
    پیاپے ترے نام پر گردشیں
    دما دم ترے نام پر مستیاں
    کوئی کام سیدؔ نے چھوڑا نہیں
    کمالات سیر و سفر مستیاں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سنیے پیام شمس و قمر رقص کیجیے
    اس دائرے میں شام و سحر رقص کیجیے
    پاکیزگی فضا کی ترنم نسیم کا
    کیا چاندنی ہے پچھلے پہر رقص کیجیے
    تالی بجا رہے ہیں شگوفے نئے نئے
    آواز دے رہے ہیں شجر رقص کیجیے
    کیا چھپ چھپا کے چھت کے تلے ناچ میں مزا
    عریاں نکل کے در سے بدر رقص کیجیے
    جی چاہتا ہے آج فرشتوں سے بھی کہوں
    پرواز کیا ہے کھینچ کے پر رقص کیجیے
    فرصت نہیں فقیہ کو زر کی تلاش سے
    مطلق نہ کیجے خوف و خطر رقص کیجیے
    گر اضطرار قابل تعزیر ہے تو ہو
    ہے اپنے بس میں خیر نہ شر رقص کیجیے
    دوزخ جلا کے درد کا اور آگہی کی آگ
    دونوں کے درمیان اتر رقص کیجیے
    تنہائیوں کے گیت نہ سب کو سنائیے
    پاؤں ملا کے جوڑ کے سر رقص کیجیے
    مت پوچھیے کہ پیار کا انجام کیا ہوا
    پیارا چلا گیا ہے کدھر رقص کیجیے
    مانند قیس ریت نہ صحرا کی چھانیے
    کس کو ملی ہے کس کی خبر رقص کیجیے
    کیجے طواف کوچۂ جاناں کو تیز تر
    مضمر ہے اس میں سیر و سفر رقص کیجیے
    سیدؔ قرار کو تو پڑی ہے تمام عمر
    اک اور بھی غزل ہے اگر رقص کیجیے

  • یوم ولادت،  نارائن وامن تِلک

    یوم ولادت، نارائن وامن تِلک

    پیدائش:06 دسمبر 1861ء
    تاریخ وفات:09 مئی 1919ء
    شہریت:برطانوی ہند
    زوجہ:لکشمی بائی تلک
    زبان:مراٹھی

    نارائن وامن تِلک (06 دسمبر 1861 – 09 مئی 1919) برطانوی ہندوستان میں بمبئی پریزیڈنسی کے علاقے کوکن کے ایک مراٹھی شاعر تھے۔ وہ ہندو مت چھوڑ کر پروٹسٹنٹ مسیحیت قبول کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
    ناراین وامن تلک کی پیدائش بمبئی پریزیڈینسی کے رتناگری ضلع کے کرج گاؤں میں سنہ 1861ء کو ہوئی۔
    1869ء-1873ء کے دوران میں انھوں نے ممبئی کے قریب کے قصبے کلیان سے تعلیم حاصل کی اور ناسک کے قصبے میں اگلے چار برسوںکے دوران میں سنسکرت ادب کا علم حاصل کیا۔ 1877 – 1889ء کے دوران میں انگریزی اور دوسرے مضامین سیکھنے کے بعد انھوں اپنا تعلیمی سلسلہ ختم کر دیا اور ایک ٹیچر کی نوکری کرنا شروع کر دی تاکہ خود اور اپنی بیوی منکرنیکا گھوکلے کو سہارا دے سکے۔ منکرنیکا گھوکلے سے انھوں نے سنہ 1880ء میں شادی کی تھی، شاید خاندان اور اس وقت کی سماجی رسم کے مطابق ہوئی تھی۔ شادی کے بعد منکرنیا کو لکشمی بائی کا نام دیا گیا۔ وہ کبھی اسکول نہیں گئی تھی؛ تاہم، ناراین وامن تلک کے زور دینے پر وہ مراٹھی پڑھنا اور لکھنا سیکھ گئی، منکرنیکا نے زبان پر مہارت حاصل کر لی اور بعد میں خود کی آپ بیتی ”سمرتی چترے“ بھی تحریر کی جو مراٹھی میں ایک شاہکار آپ بیتی ثابت ہوئی۔
    ناراین وامن تلک نے اپنی زندگی میں کئی اتار چڑاؤ دیکھے اور انھوں نے اپنی زندگی میں مہاراشٹر کے مختلف قصبات میں مختلف اقسام کی نوکریاں کیں جن میں ٹیچر، پنڈت اور پرنٹنگ پریس کمپوزیٹر کی نوکری شامل ہے۔
    سنہ 1891ء میں ان کو ناگپور میں سنسکرت ادب کے مترجم کے طور پر نوکری ملی (اسی سال انھوں نے سنسکرت میں خود ہی کچھ نظمیں لکھیں)۔ اپا صاحب بھوتی کی سرپرستی میں انھوں نے مراٹھی زبان کے جریدہ ”رشی“ (ऋषि) میں ایڈیٹنگ کی، اس جریدے میں ہندو مذہبی معاملات پر بات کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

    سنہ 1893ء میں ملازمت کی تلاش کے لیے ناراین وامن تلک نے ٹرین کے ذریعے راج نان گاؤں کا سفر طے کیا۔ راج نان گاؤں پر اس زمانے میں ایک نوابی ریاست تھی جس کا حکمران ایک ہندو پنڈت تھا اور جو ہندوستان کے وسطی اضلاع میں واقع تھا۔ سفر کے دوران میں ان کی ملاقات ایک پروٹسٹنٹ مبلع فری میتھوڈسٹ چرچ کے ارنسٹ ورڈ سے ہوئی، جو جوش سے مسیحیت کی بات کرتا تھا۔ اس مبلغ نے بائبل کی ایک نقل انھیں پیش کی اور ان مشورہ دیا کہ ان کو دو برسوں میں مسیحی بن جانا چاہیے۔ ان کا ہندومت ترک کر کے مسیحیت قبول کرنے تک کا سفر درد ناک تھا۔ انھوں نے ایک مسیحی تبلیغی جریدے میں نامعلوم مصنف کے طور پر کام کیا اور اس بیچ انھوں نے کئی دفعہ سوتے ہوئے خواب دیکھے جس میں کوئی غیبی قوت ان کو مسیحیت قبول کرنے کا کہہ رہی تھی جس کے بعد انھوں نے بپتسمہ لینے کا فیصلہ کیا۔ 10 فروری 1895ء کو ممبئی میں ان کو بپتسمہ دیا جس سے علم ان کے رشتے دار اور بیوی لاعلم تھے۔ اس کی بیوی لکشمی بائی کی آزمائش ایک قابل ذکر کہانی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے الگ ہو گئی تھی اور چار سالوں تک طویل کشمکش رہنے کے بعد دوبارہ اپنے شوہر سے مل گئی اور مسیحیت بھی قبول کر لی۔

    اس کے فوری بعد سنہ 1094ء میں ناراین وامن تلک نے احمد نگر کی سیمینری (تربیت گاہ) میں پڑھانا شروع کیا اور کانگریگشنل چرچ میں ایک خادم دین کے طور پر ان کا نفاذ فرمان ہوا۔ وہ 1912ء میں مسیحی تبلیغی جریدے ”گیان ادے“ کے ایڈیٹر اور معاون بنے اور اپنی وفات تک اسی منصب فائز رہے۔ مسیحی ہونے کے تقریباً دس سالوں بعد انھوں نے مراٹھی زبان کے مہاوروں، خاص کر مہاراشٹر کے وارکری ہندو سمپردائے کے شاعرانہ انداز میں اپنے عقیدے کو بیان کرنا شروع کیا۔ ان کے بنائے کئی گانے مراٹھی بولنے والے مسیحیوں میں اب تک انتہائی مقبول ہیں۔ وہ روایتی مسیحیت کے نقاد تھے اور اپنی وفات سے دو سال قبل وہ چرچ کے قریب ہوگئے تاکہ یسوع کے بپتسمہ یافتہ اور غیر بپتسمہ یافتہ شاگردوں کو اکھٹا کر کے ایک جماعت بنا سکیں۔ ان کا یہ مقصد کامیاب نہ ہو سکا اور وہ 09 مئی 1919ء کو ممبئی میں وفات پا گئے۔
    ناراین وامن تلک کے بیٹے دیو دت ناراین تلک رزمی نظم ”کرست یان“ کے مدیر اور ناشر تھے۔ ان کے پوتے اشوک دیو دت تلک ایک مؤرخ تھے جنھوں نے ”سمرتی چترے“ کی ایڈیٹنگ کی اور ناراین وامن تلک کے بارے میں ایک سوانحی ناول ”چلتا بولتا چمتکار“ لکھا۔

  • یوم وفات،  میر گل خان نصیر

    یوم وفات، میر گل خان نصیر

    من شبیہہ این جوان ہائے شجاعی ہستم
    کہ در کمین گاہ دشمنان گرفتار شدہ اند
    میر گل خان نصیر

    پیدائش:14 مئی 1914ء
    کراچی
    وفات:06 دسمبر 1983ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان

    نسل:بلوچ
    مذہب:Sunni Muslim
    زبان: براہوی / بلوچی

    ۔۔۔ 1st Education Minister
    ۔۔۔ of Balochistan
    ۔۔۔ 1972 – 1973

    میر گل خان نصیر بلوچستان کی ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ آپ کو ملک الشعرا کا خطا ب دیا گیا تھا۔ آپ1914ء کو نوشکی، بلوچستان میں پیداہوئے۔ آپ ایک مقبول سیاستداں، ایک قوم پرست شاعر، ایک تاریخ داں اور صحافی کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ نے فارسی،اردو اور بلوچی زبانوں میں شاعری کی۔ 06 دسمبر1983ء کو یہ مڈ ایسٹ ہسپتال کراچی میں کینسر کے موذی مرض کے ہاتھوں چل بسے۔
    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر گل خان نصیر 14 مئی 1914ء کو بلوچستان کے شہر نوشکی میں مینگل قبیلے کی ایک شاخ پائیند خیل کے میر حبیب خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ درجہ چہارم تک اپنے گاؤں میں تعلیم حاصل کی پھر گورنمنٹ سنڈیمن ہائی اسکول کوئٹہ چلے گئے میٹرک کے بعدآپ نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا، بارہویں جماعت میں انگیٹھی سے ایک کوئلہ کا ذرہ آپ کی آنکھ میں چلا گیا جس کے باعث آپ واپس گھر آ گئے۔ اسلامیہ کالج لاہور ادبی و سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا اس دور میں بلوچستان مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا ایک حصہ چیف کمشنر کے ماتحت تھا ،باقی صوبہ ریاستوں میں تقسیم تھا جنہیں انگریز مقامی قبائلی رہنماؤں کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے۔

    سیاسی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور سے واپس آکر آپ نے ”انجمن اتحاد بلوچستان“ کی تنظیم میں شرکت اختیار کی یہ تنظیم1921ءمیں قائم ہوئی تھی 1936ء میں یہ تنظیم جب غیر فعال ہو گئی تو بلوچستان کے نوجوانوں نے ”انجمن اسلامیہ ریاست قلات ” کے نام سے تنظیم بنائی۔ میر گل خان نصیر صدر اور عبد الرحیم خواجہ خیل اس کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے مشرقی پاکستان کے سانحہ کے بعد میر عطا اللہ مینگل کی وزارت عظمیٰ کے دوران آپ صوبائی وزیر تعلیم، صحت اور انفارمیشن کے صوبائی وزیر تھے آپ کے دور میں بولان میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس دوران بلوچستان حکومت کے اکبر بگٹی سے اختلافات بہت بڑھ گئے۔ پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹونیشنل عوامی پارٹی ( عدالتی حکم پر غدار قرار دئے جانے کے بعد موجودہ عوامی نیشنل پارٹی) سے جان چھڑانا چاہتے تھے انھوں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خیبر پختونخوا(اس وقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا ) اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت ختم کر دی اور ان کے رہنماؤں کو جیل میں ڈا ل دیا اور دونوں صوبوں میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں ملٹر ی آپریشن شروع کر دیا۔ جب پاک آرمی میر گل خان نصیر کے 72 سالہ بھائی میر لونگ خان کو گرفتار کرنے دشت گوران میں داخل ہوئی تو میر لونگ خان نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا پاک آرمی کے ساتھ مقابلہ ہوا پاک آرمی جدید ترین اسلحہ سے لیس تھی جبکہ میر لونگ خان کے ساتھ مینگل بیرل بندوقوں سے مسلح چند افراد تھے اس لڑائی میں میر لونگ خان جان بحق ہوئے جبکہ پاک آرمی کے 29 جوان اللہ کو پیارے ہوئے۔ میر گل خان نصیر، ان کے چھوٹے بھائی کرنل (ر) سلطان محمود خان، غوث بخش بزنجو اورخیر بخش مری کو گرفتار کر لیا گیا۔ میر گل خان نصیر نے ایام اسیری میں بہت کلام لکھا۔ یہ سب کچھ اکبر بگٹی مرحوم کے دور حکومت میں ہوا عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں خان عبدالولی خان، سردار عطا اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، سید قصور گردیزی، حبیب جالب، غوث بخش بزنجو پر ٹریبونل کے سامنے غدار ی کا مقدمہ چلا ضیا الحق کے دور حکومت میں ان رہنماؤں کو رہائی ملی جس کے بعد غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل، گل خان نصیر، نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان میں پناہ لی جبکہ خیر بخش مری اور شیرو مری مستقل طور پر افغانستان منتقل ہوگئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)تاریخ بلوچستان
    ۔ (2)کوچ و بلوچ
    ۔ (3)گرند (شاعری)
    ۔ (4)بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار (ترجمہ)
    ۔ (5)گل بانگ(1951/بلوچی شاعری)
    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    من شبیہہ این جوان ہائے شجاعی ہستم
    کہ در کمین گاہ دشمنان گرفتار شدہ اند

  • یوم ولادت، سعود عثمانی

    یوم ولادت، سعود عثمانی

    رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
    جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نام:سعود عثمانی
    اصل نام:سعود اشرف عثمانی
    تاریخ پیدائش:06دسمبر 1958ء
    جائے پیدائش:لاہور
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری، تحقیق
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بارش-2007
    ۔ (2)قوس-1997
    ۔ (3)جل پری
    مستقل پتا:14۔دیناناتھ مینشن مال روڈ،لاہور

    ۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعود عثمانی کا تعلق ایک ایسے ادبی و علمی گھرانے سے ہے جس میں بہت عمدہ شاعر جناب ذکی کیفی (والد) اور مولانا جسٹس (ریٹائرڈ) تقی عثمانی (چچا) جیسے بڑے بڑے نام شامل ہیں۔
    سعود عثمانی، 6 دسمبر 1961ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں ہی مستقل سکونت ہے۔ بی ایس سی (فزکس) اسلامیہ کالج سول لائینز اور ایم بی اے (پنجاب یونیورسٹی) سے مکمل کیے اور اس وقت سے پبلشنگ اینڈ ایکسپورٹ کو سنبھال رہے ہیں ۔
    سعود عثمانی کی شاعری کی 2 کتب بالترتیب ”قوس“ 1997 میں اور ”بارش“ 2007 میں منظر عام پر آئیں اور اپنی فکری جہتوں، اسلوب، جدید لہجے اور عمدہ پیرایۂ اظہار کے باعث ہر خاص و عام میں مقبول ہوئیں۔
    سعود عثمانی کی ان کتب کے اعلی و عمدہ معیار کی وجہ سے ”قوس“ کو ”وزیر اعظم ادبی ایوارڈ“ اور ”بارش“ کو ”احمد ندیم قاسمی ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    ان 2 کتب کے علاوہ سعود عثمانی نے کچھ کتابوں کے تراجم بھی کیے، جس پر انہیں "میاں محمد بخش ایوارڈ” اور "حسن قلم ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    سعود عثمانی پاکستان اور بیرون ملک میں متعدد اقوامی و بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں ۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    سفر سے پہلے پرکھ لینا ہم سفر کا خلوص
    پھر آگے اپنا مقدر ہے، جو مقدر ہو

    یہ زہر خون کے ہمراہ رقص کرتا ہے
    بہت چکھا ہے محبت کا ذائقہ میں نے

    اے عشق ِ سینہ سوز مرے دل سے دل ملا
    اور یوں کہ بس کلام ہو اور گفتگو نہ ہو

    رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
    جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

    حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
    کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

    میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا
    مرے لیے تو کوئی اور راستہ بھی نہیں

    یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
    دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی

    یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں
    خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے

    تیری شکست اصل میں میری شکست ہے
    تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا

    ہر اک افق پہ مسلسل طلوع ہوتا ہوا
    میں آفتاب کے مانند رہ گزار میں تھا

    وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے
    سو اس کا جشن بصدِ اہتمام میں نے کیا

    مزاجِ درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے
    کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا

    نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے
    کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی

    اتنی سیاہ رات میں اتنی سی روشنی
    یہ چاند وہ نہیں مرا مہتاب اور ہے

    تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے
    تمام عمر مرا کون انتظار کرے گا

    بچھڑ کے جاتے ہوئے عشق ! فی امان اللہ
    تو میرے ساتھ رہے گا ‘مگر خدا حافظ

    عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی
    اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

    حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

    کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

    ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا
    تیرا تو کچھ نہیں گیا مارا تو میں گیا

    نمو پذیر ہے اک دشت بے نمو مجھ میں
    ظہور کرنے کو ہے شہرِ آرزو مجھ میں

    نظروں کی طرح لوگ نظارے کی طرح ہم
    بھیگی ہوئی پلکوں کے کنارے کی طرح ہم

    عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا
    کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارہ کیا

  • بھارتی  ٹی وی اینکر، مصنف اور صحافی رویش کمار کا یوم پیدائش

    بھارتی ٹی وی اینکر، مصنف اور صحافی رویش کمار کا یوم پیدائش

    رویش کمار (پیدائش 5 دسمبر 1974ء) ایک ٹی وی اینکر، مصنف اور صحافی ہیں جو ان موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں جو بھارت کی سیاست اور سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ این ڈی ٹی وی انڈیا کے سینیر ایگزیکیٹیو ایڈیٹر ہیں جو این ڈی ٹی وی کا ہندی زبان کا چینل ہے۔

    وہ کئی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے ہیں جن میں چینل کے خاص ہفتے کے کام کے دنوں کے شو پرائم ٹائم، ہم لوگ اور رویش کی رپورٹ شامل ہیں۔ انھیں 2019ء میں رامن میگ سیسے انعام سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں صحافت کے میدان میں ان کی بے باکی اور سچائی کے لیے دیا گیا ہے۔

    ان کے پروگراموں میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ معاصر موضوعات اور عام آدمی کے مسائل کو خاص جگہ دیتے ہیں۔ وہ اپنے شو میں یہ ثابت کر چکے ہیں سرکاری دفتروں میں موجود لال فیتے سے کافی نقصانات ہوتے ہیں۔ اس میں بطور خاص انہوں نے ایک سیریز کے دوران میں بتایا تھا کہ جہاں بھارتی ریلویز میں ملازمت ملنا بے حد مشکل ہے، وہاں چنے گئے امید وار بھی کم سے کم تین سال اس بات کے لیے ٹھہرنے مجبور ہیں کہ انہیں کہیں پوسٹنگ دی جائے۔ رویش کے مطابق یہی حال کئی دیگر سرکاری دفاتر کا بھی ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم:
    رویش کی پیدائش موتیہاری، بہار میں ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی گئے۔ وہ دیش بندھو کالج، دہلی یونیورسٹی سے گریجویٹ بنے۔ اس کے بعد وہ مواصلات عامہ کی تعلیم آئی آئی ایم سی، دہلی سے حاصل کیے۔

    اعزازات:
    رویش نے 2010ء میں باوقار گنیش شنکر ودیارتھی اعزاز برائے ہندی صحافت اور تخلیقی ادب صدر جمہوریہ سے حاصل کیا (یہ 2014ء میں دیا گیا)۔ اس کے علاوہ انہیں دو بار یعنی 2013ء اور 2017ء میں رامناتھ گوئنکا ایکسیلنس ان جرنلزم ایوارڈ ہندی زبان میں نشریات کے زمرے میں حاصل کیا۔ 2016ء میں دی انڈین ایکسپریس نے انہیں سو سب سے بااثر شخصیات میں شامل کیا۔ رویش کو ممبئی پریس کلب کی جانب سے 2015ء کا بہترین صحافی قرار دیا گیا۔ مارچ 2017ء میں کمار کو پہلا کلدیپ نیر صحافتی ایوارڈ اپنے تعاون کی وجہ سے حاصل کیا۔ انہیں 2019ء میں رامن میگ سیسے انعام سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں صحافت کے میدان میں ان کی بیباکی اور سچائی کے لیے دیا گیا ہے۔

    شخصی زندگی:
    رویش کمار نے ناینا داس گپتا سے شادی کی جو لیڈی شری رام کالج میں شعبۂ تاریخ کی صدر ہے۔ اس شادی سے دو بیٹیاں پیدا ہوئی ہیں۔

    تصنیفات:

    ۔ (1)عشق میں شہر ہونا
    ۔ (2)دکھاتے رہیے
    ۔ (3)رویش پنتی
    ۔ (4)دی فری وائس
    ۔ آن ڈیموکریسی، کلچر اینڈ دی نیشن